Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 181–190 of 206

181

وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ

اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا رستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں

سچائی ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر آدمی کو خود پانا پڑتاہے۔ خدا نے ہر آدمی کو دل اور آنکھ او رکان ديے ہیں۔ آدمی انھیں صلاحیتوں کو استعمال کرکے سچائی کو پاتا ہے۔ اور جو شخص ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے وہ یقیناً سچائی کو پانے سے محروم رہے گا،خواہ سچائی اس سے کتنا ہی زیادہ قریب موجود ہو۔

سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے ليے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے ہوں۔ اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگارکھے ہوں۔ ایسے لوگ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنا رہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے ليے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلّیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے ليے کوئی سچائی سچائی نہیں۔

خدا کے بارے میںانسان کے بے راہ ہونے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے كه وه خدا كو مانتے هوئے اپنے ذهن ميں خدا كي غلط تصوير بنا ليتا هے۔ وه خدا كي طرف ايسي باتيں منسوب كرديتا هے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ مثلاً انسانوں کے حالات پر قیاس کرکے خدا کے مقربین کا عقیدہ بنالینا۔ بادشاہوں کو دیکھ کر یہ فرض کرلینا کہ جس طرح بادشاہوں کے نائب اور مددگار ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی نائب اور مددگار ہیں۔ خدائی فیصلہ کے بارے میں ایسا خیال قائم کرلینا جس میں آدمی کی اپنی خواہشیں تو پوری ہورہی ہوں مگر وہ خداوندی عدل سے مطابقت نہ رکھتاہو۔ یہ خدا کے ناموں میں کجی کرنا ہے کہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں۔

خدا کسی آدمی کی کج روی پر فوراً اس کو نہیں پکڑتا۔ اس طرح اس کو موقع دیاجاتاہے کہ وہ یا تو خدا کی تنبیہات کو دیکھ کر سنبھل جائے یا مزید ڈھیٹ ہوکر اپنے جرم کو پوری طرح ثابت شدہ بنادے۔

Al-A'raaf 7:181Listen in Qur'an →
182

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا

سچائی ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر آدمی کو خود پانا پڑتاہے۔ خدا نے ہر آدمی کو دل اور آنکھ او رکان ديے ہیں۔ آدمی انھیں صلاحیتوں کو استعمال کرکے سچائی کو پاتا ہے۔ اور جو شخص ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے وہ یقیناً سچائی کو پانے سے محروم رہے گا،خواہ سچائی اس سے کتنا ہی زیادہ قریب موجود ہو۔

سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے ليے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے ہوں۔ اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگارکھے ہوں۔ ایسے لوگ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنا رہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے ليے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلّیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے ليے کوئی سچائی سچائی نہیں۔

خدا کے بارے میںانسان کے بے راہ ہونے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے كه وه خدا كو مانتے هوئے اپنے ذهن ميں خدا كي غلط تصوير بنا ليتا هے۔ وه خدا كي طرف ايسي باتيں منسوب كرديتا هے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ مثلاً انسانوں کے حالات پر قیاس کرکے خدا کے مقربین کا عقیدہ بنالینا۔ بادشاہوں کو دیکھ کر یہ فرض کرلینا کہ جس طرح بادشاہوں کے نائب اور مددگار ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی نائب اور مددگار ہیں۔ خدائی فیصلہ کے بارے میں ایسا خیال قائم کرلینا جس میں آدمی کی اپنی خواہشیں تو پوری ہورہی ہوں مگر وہ خداوندی عدل سے مطابقت نہ رکھتاہو۔ یہ خدا کے ناموں میں کجی کرنا ہے کہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں۔

خدا کسی آدمی کی کج روی پر فوراً اس کو نہیں پکڑتا۔ اس طرح اس کو موقع دیاجاتاہے کہ وہ یا تو خدا کی تنبیہات کو دیکھ کر سنبھل جائے یا مزید ڈھیٹ ہوکر اپنے جرم کو پوری طرح ثابت شدہ بنادے۔

Al-A'raaf 7:182Listen in Qur'an →
183

وَأُمْلِى لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ

اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے

سچائی ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر آدمی کو خود پانا پڑتاہے۔ خدا نے ہر آدمی کو دل اور آنکھ او رکان ديے ہیں۔ آدمی انھیں صلاحیتوں کو استعمال کرکے سچائی کو پاتا ہے۔ اور جو شخص ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے وہ یقیناً سچائی کو پانے سے محروم رہے گا،خواہ سچائی اس سے کتنا ہی زیادہ قریب موجود ہو۔

سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے ليے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے ہوں۔ اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگارکھے ہوں۔ ایسے لوگ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنا رہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے ليے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلّیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے ليے کوئی سچائی سچائی نہیں۔

خدا کے بارے میںانسان کے بے راہ ہونے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے كه وه خدا كو مانتے هوئے اپنے ذهن ميں خدا كي غلط تصوير بنا ليتا هے۔ وه خدا كي طرف ايسي باتيں منسوب كرديتا هے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ مثلاً انسانوں کے حالات پر قیاس کرکے خدا کے مقربین کا عقیدہ بنالینا۔ بادشاہوں کو دیکھ کر یہ فرض کرلینا کہ جس طرح بادشاہوں کے نائب اور مددگار ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی نائب اور مددگار ہیں۔ خدائی فیصلہ کے بارے میں ایسا خیال قائم کرلینا جس میں آدمی کی اپنی خواہشیں تو پوری ہورہی ہوں مگر وہ خداوندی عدل سے مطابقت نہ رکھتاہو۔ یہ خدا کے ناموں میں کجی کرنا ہے کہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں۔

خدا کسی آدمی کی کج روی پر فوراً اس کو نہیں پکڑتا۔ اس طرح اس کو موقع دیاجاتاہے کہ وہ یا تو خدا کی تنبیہات کو دیکھ کر سنبھل جائے یا مزید ڈھیٹ ہوکر اپنے جرم کو پوری طرح ثابت شدہ بنادے۔

Al-A'raaf 7:183Listen in Qur'an →
184

أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا۟ ۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ

کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد (ﷺ) کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ وہ تو ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں

با مقصد آدمی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر مصلحت پسند انسان ہوتاہے۔ وہ وقت کے رواج سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔ وہ ماحول میں جمے ہوئے مصالح سے بے پروا ہو کر اپنا کام کرتاہے۔ وہ ایک ایسے نشانہ کی خاطر اپنا جان ومال سب کچھ قربان کردیتاہے جس کا کوئی نتیجہ بظاہر اس دنیا میں ملنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بامقصد آدمی کو اکثر اپنے معاصرین کی طرف سے جو سب سے بڑا خطاب ملتاہے وہ ’’مجنون‘‘ ہے۔ خدا کا پیغمبر اپنے وقت کا سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتاہے۔ اس ليے خداکے پیغمبروں کو ہر زمانہ کے لوگوں نے یہی کہا کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔

خدا کے دین کے داعی کو مجنون کہنا تمام ظلموں میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ کیوں کہ وہ جس پیغام کو لے کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی تصدیق تمام زمین و آسمان کررہے ہیں۔ وہ ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جو اپنی کائناتی تخلیقات میں ہر طرف انتہائی حد تک نمایاں ہے۔ وہ ایسی آخرت کی خبر دیتاہے جو زمین وآسمان میں اس طرح سنگین حقیقت بنی ہوئی ہے جس طرح کسی ماں کے پیٹ میں پورا حمل۔ لوگ حق کے بارے میں سنجیدہ نہیں، اس ليے حق کی خاطر جان کھپانے والا انھیں مجنون دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ حق کی قدر وقیمت کو جانتے تو کبھی ایسا نہ کہتے۔

’’قیامت کس تاریخ کو آئے گی‘‘۔ اس قسم کے سوالات غیر سنجیدہ ذہن سے نکلے ہوئے سوالات ہیں۔ قیامت کو ماننے کا انحصار قیامت کے حق میں اصولی دلیل پر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ قیامت کی تاریخ متعین صورت میں بتادی جائے۔ جب یہ دنیا دارالامتحان ہے تو یہاں قیامت کو تنبیہہ کی زبان میں بتایا جائے گا ، نہ کہ حسابی تعینات کی زبان میں۔

Al-A'raaf 7:184Listen in Qur'an →
185

أَوَلَمْ يَنظُرُوا۟ فِى مَلَكُوتِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍۢ وَأَنْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ

کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں جو چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی اور اس بات پر (خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو۔ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے

با مقصد آدمی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر مصلحت پسند انسان ہوتاہے۔ وہ وقت کے رواج سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔ وہ ماحول میں جمے ہوئے مصالح سے بے پروا ہو کر اپنا کام کرتاہے۔ وہ ایک ایسے نشانہ کی خاطر اپنا جان ومال سب کچھ قربان کردیتاہے جس کا کوئی نتیجہ بظاہر اس دنیا میں ملنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بامقصد آدمی کو اکثر اپنے معاصرین کی طرف سے جو سب سے بڑا خطاب ملتاہے وہ ’’مجنون‘‘ ہے۔ خدا کا پیغمبر اپنے وقت کا سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتاہے۔ اس ليے خداکے پیغمبروں کو ہر زمانہ کے لوگوں نے یہی کہا کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔

خدا کے دین کے داعی کو مجنون کہنا تمام ظلموں میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ کیوں کہ وہ جس پیغام کو لے کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی تصدیق تمام زمین و آسمان کررہے ہیں۔ وہ ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جو اپنی کائناتی تخلیقات میں ہر طرف انتہائی حد تک نمایاں ہے۔ وہ ایسی آخرت کی خبر دیتاہے جو زمین وآسمان میں اس طرح سنگین حقیقت بنی ہوئی ہے جس طرح کسی ماں کے پیٹ میں پورا حمل۔ لوگ حق کے بارے میں سنجیدہ نہیں، اس ليے حق کی خاطر جان کھپانے والا انھیں مجنون دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ حق کی قدر وقیمت کو جانتے تو کبھی ایسا نہ کہتے۔

’’قیامت کس تاریخ کو آئے گی‘‘۔ اس قسم کے سوالات غیر سنجیدہ ذہن سے نکلے ہوئے سوالات ہیں۔ قیامت کو ماننے کا انحصار قیامت کے حق میں اصولی دلیل پر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ قیامت کی تاریخ متعین صورت میں بتادی جائے۔ جب یہ دنیا دارالامتحان ہے تو یہاں قیامت کو تنبیہہ کی زبان میں بتایا جائے گا ، نہ کہ حسابی تعینات کی زبان میں۔

Al-A'raaf 7:185Listen in Qur'an →
186

مَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَا هَادِىَ لَهُۥ ۚ وَيَذَرُهُمْ فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ

جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں

با مقصد آدمی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر مصلحت پسند انسان ہوتاہے۔ وہ وقت کے رواج سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔ وہ ماحول میں جمے ہوئے مصالح سے بے پروا ہو کر اپنا کام کرتاہے۔ وہ ایک ایسے نشانہ کی خاطر اپنا جان ومال سب کچھ قربان کردیتاہے جس کا کوئی نتیجہ بظاہر اس دنیا میں ملنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بامقصد آدمی کو اکثر اپنے معاصرین کی طرف سے جو سب سے بڑا خطاب ملتاہے وہ ’’مجنون‘‘ ہے۔ خدا کا پیغمبر اپنے وقت کا سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتاہے۔ اس ليے خداکے پیغمبروں کو ہر زمانہ کے لوگوں نے یہی کہا کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔

خدا کے دین کے داعی کو مجنون کہنا تمام ظلموں میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ کیوں کہ وہ جس پیغام کو لے کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی تصدیق تمام زمین و آسمان کررہے ہیں۔ وہ ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جو اپنی کائناتی تخلیقات میں ہر طرف انتہائی حد تک نمایاں ہے۔ وہ ایسی آخرت کی خبر دیتاہے جو زمین وآسمان میں اس طرح سنگین حقیقت بنی ہوئی ہے جس طرح کسی ماں کے پیٹ میں پورا حمل۔ لوگ حق کے بارے میں سنجیدہ نہیں، اس ليے حق کی خاطر جان کھپانے والا انھیں مجنون دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ حق کی قدر وقیمت کو جانتے تو کبھی ایسا نہ کہتے۔

’’قیامت کس تاریخ کو آئے گی‘‘۔ اس قسم کے سوالات غیر سنجیدہ ذہن سے نکلے ہوئے سوالات ہیں۔ قیامت کو ماننے کا انحصار قیامت کے حق میں اصولی دلیل پر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ قیامت کی تاریخ متعین صورت میں بتادی جائے۔ جب یہ دنیا دارالامتحان ہے تو یہاں قیامت کو تنبیہہ کی زبان میں بتایا جائے گا ، نہ کہ حسابی تعینات کی زبان میں۔

Al-A'raaf 7:186Listen in Qur'an →
187

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّى ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَآ إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةًۭ ۗ يَسْـَٔلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِىٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے

با مقصد آدمی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر مصلحت پسند انسان ہوتاہے۔ وہ وقت کے رواج سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔ وہ ماحول میں جمے ہوئے مصالح سے بے پروا ہو کر اپنا کام کرتاہے۔ وہ ایک ایسے نشانہ کی خاطر اپنا جان ومال سب کچھ قربان کردیتاہے جس کا کوئی نتیجہ بظاہر اس دنیا میں ملنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بامقصد آدمی کو اکثر اپنے معاصرین کی طرف سے جو سب سے بڑا خطاب ملتاہے وہ ’’مجنون‘‘ ہے۔ خدا کا پیغمبر اپنے وقت کا سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتاہے۔ اس ليے خداکے پیغمبروں کو ہر زمانہ کے لوگوں نے یہی کہا کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔

خدا کے دین کے داعی کو مجنون کہنا تمام ظلموں میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ کیوں کہ وہ جس پیغام کو لے کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی تصدیق تمام زمین و آسمان کررہے ہیں۔ وہ ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جو اپنی کائناتی تخلیقات میں ہر طرف انتہائی حد تک نمایاں ہے۔ وہ ایسی آخرت کی خبر دیتاہے جو زمین وآسمان میں اس طرح سنگین حقیقت بنی ہوئی ہے جس طرح کسی ماں کے پیٹ میں پورا حمل۔ لوگ حق کے بارے میں سنجیدہ نہیں، اس ليے حق کی خاطر جان کھپانے والا انھیں مجنون دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ حق کی قدر وقیمت کو جانتے تو کبھی ایسا نہ کہتے۔

’’قیامت کس تاریخ کو آئے گی‘‘۔ اس قسم کے سوالات غیر سنجیدہ ذہن سے نکلے ہوئے سوالات ہیں۔ قیامت کو ماننے کا انحصار قیامت کے حق میں اصولی دلیل پر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ قیامت کی تاریخ متعین صورت میں بتادی جائے۔ جب یہ دنیا دارالامتحان ہے تو یہاں قیامت کو تنبیہہ کی زبان میں بتایا جائے گا ، نہ کہ حسابی تعینات کی زبان میں۔

Al-A'raaf 7:187Listen in Qur'an →
188

قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ لَٱسْتَكْثَرْتُ مِنَ ٱلْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِىَ ٱلسُّوٓءُ ۚ إِنْ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌۭ وَبَشِيرٌۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں

با مقصد آدمی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر مصلحت پسند انسان ہوتاہے۔ وہ وقت کے رواج سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔ وہ ماحول میں جمے ہوئے مصالح سے بے پروا ہو کر اپنا کام کرتاہے۔ وہ ایک ایسے نشانہ کی خاطر اپنا جان ومال سب کچھ قربان کردیتاہے جس کا کوئی نتیجہ بظاہر اس دنیا میں ملنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بامقصد آدمی کو اکثر اپنے معاصرین کی طرف سے جو سب سے بڑا خطاب ملتاہے وہ ’’مجنون‘‘ ہے۔ خدا کا پیغمبر اپنے وقت کا سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتاہے۔ اس ليے خداکے پیغمبروں کو ہر زمانہ کے لوگوں نے یہی کہا کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔

خدا کے دین کے داعی کو مجنون کہنا تمام ظلموں میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ کیوں کہ وہ جس پیغام کو لے کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی تصدیق تمام زمین و آسمان کررہے ہیں۔ وہ ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جو اپنی کائناتی تخلیقات میں ہر طرف انتہائی حد تک نمایاں ہے۔ وہ ایسی آخرت کی خبر دیتاہے جو زمین وآسمان میں اس طرح سنگین حقیقت بنی ہوئی ہے جس طرح کسی ماں کے پیٹ میں پورا حمل۔ لوگ حق کے بارے میں سنجیدہ نہیں، اس ليے حق کی خاطر جان کھپانے والا انھیں مجنون دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ حق کی قدر وقیمت کو جانتے تو کبھی ایسا نہ کہتے۔

’’قیامت کس تاریخ کو آئے گی‘‘۔ اس قسم کے سوالات غیر سنجیدہ ذہن سے نکلے ہوئے سوالات ہیں۔ قیامت کو ماننے کا انحصار قیامت کے حق میں اصولی دلیل پر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ قیامت کی تاریخ متعین صورت میں بتادی جائے۔ جب یہ دنیا دارالامتحان ہے تو یہاں قیامت کو تنبیہہ کی زبان میں بتایا جائے گا ، نہ کہ حسابی تعینات کی زبان میں۔

Al-A'raaf 7:188Listen in Qur'an →
189

۞ هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ۖ فَلَمَّا تَغَشَّىٰهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًۭا فَمَرَّتْ بِهِۦ ۖ فَلَمَّآ أَثْقَلَت دَّعَوَا ٱللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ ءَاتَيْتَنَا صَٰلِحًۭا لَّنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ

وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے

کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ کائنات میں بے شمار اجزاء الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کُل بن جاتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔

مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھيے۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتاہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ میں اُس کے ليے پیدا کیاگیا ہوں اور وہ میرے ليے ۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔

مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں ’’وحدت‘‘ کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہوگیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کردیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصوت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔

Al-A'raaf 7:189Listen in Qur'an →
190

فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُمَا صَٰلِحًۭا جَعَلَا لَهُۥ شُرَكَآءَ فِيمَآ ءَاتَىٰهُمَا ۚ فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ

جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔ جو وہ شرک کرتے ہیں (خدا کا رتبہ) اس سے بلند ہے

کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ کائنات میں بے شمار اجزاء الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کُل بن جاتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔

مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھيے۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتاہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ میں اُس کے ليے پیدا کیاگیا ہوں اور وہ میرے ليے ۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔

مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں ’’وحدت‘‘ کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہوگیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کردیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصوت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔

Al-A'raaf 7:190Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.