ایک ہی باپ ایک ہی ماں اور تمام نسل آدم ٭٭
تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے صرف آدم علیہ السلام سے ہی پیدا کیا , انہی سے ان کی بیوی حواء کو پیدا کیا . پھر ان دونوں سے نسل انسان جاری کی۔
جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ» [49-الحجرات:13] ” لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے , پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیئے تاکہ آپس میں ایک وسرے کو پہچانتے رہو۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ذی عزت وہ ہے جو پرہیزگاری میں سب سے آگے ہے۔ “
سورۃ نساء کے شروع میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً» [4-النساء:1] ” اے لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک ہی شخص یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے۔ انہی سے ان کی بیوی کو پیدا کیا، پھر ان دونوں میاں بیوی سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے۔ “
یہاں فرماتا ہے کہ انہی سے ان کی بیوی کو بنایا تاکہ یہ آرام اٹھائیں۔ چنانچہ ایک اور آیت میں ہے: «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً» [30-الروم:21] ” لوگو! یہ بھی اللہ کی ایک مہربانی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں بنا دیں تاکہ تم ان سے سکون و آرام حاصل کرو اور اس نے تم میں باہم محبت و الفت پیدا کر دی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چاہت ہے جو میاں بیوی میں وہ پیدا کر دیتا ہے۔ “
اسی لیے جادوگروں کی برائی بیان کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا کہ وہ اپنی مکاریوں سے میاں بیوی میں جدائی ڈلوا دیتے ہیں۔ عورت مرد کے ملاپ سے بحکم الٰہی عورت کو حمل ٹھہر جاتا ہے۔ جب تک وہ نطفے، خون اور لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے ہلکا سا رہتا ہے، وہ برابر اپنے کام کاج میں آمد و رفت میں لگی رہتی ہے، کوئی ایسی زیادہ تکلیف اور بار نہیں معلوم ہوتا اور اندر ہی اندر وہ برابر بڑھتا رہتا ہے۔ اسے تو یونہی کبھی کچھ وہم سا ہوتا ہے کہ شاید کچھ ہو۔ کچھ وقت یونہی گزر جانے کے بعد بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے، حمل ظاہر ہو جاتا ہے، بچہ پیٹ میں بڑا ہو جاتا ہے، طبیعت تھکنے لگتی ہے، اب ماں باپ دونوں اللہ سے دعائیں کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں صحیح سالم بیٹا عطا فرمائے تو ہم شکر گزاری کریں گے۔
صفحہ نمبر3159
ڈر لگتا ہے کہ کہیں کچھ اور بات نہ ہو جائے۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی اور صحیح سالم انسانی شکل و صورت کا بچہ عطا فرمایا تو اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔
مفسرین نے اس جگہ بہت سے آثار و احادیث بیان کئے ہیں جنہیں میں یہاں نقل کرتا ہوں اور ان میں جو بات ہے، وہ بھی بیان کروں گا۔ پھر جو بات صحیح ہے، اسے بتاؤں گا۔ ان شاءاللہ۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حواء کو اولاد ہوئی تو ابلیس گھومنے لگا، ان کے بچے زندہ نہیں رہتے تھے۔ شیطان نے سکھایا کہ اب اس کا نام عبدالحارث رکھ دے تو یہ زندہ رہے گا چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور یہی ہوا اور اصل میں یہ شیطانی حرکت تھی اور اسی کا حکم تھا۔ [سنن ترمذي:3077، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اسے نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ میں کہتا ہوں، اس حدیث میں کئی کمزوریاں ہیں: ایک تو یہ کہ اس کے ایک راوی عمر بن ابراہیم مصری کی بابت امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ راوی ایسا نہیں کہ اس سے حجت پکڑی جائے، گو امام ابن معین رحمہ اللہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ لیکن ابن مردویہ رحمہ اللہ نے اسے معمر سے، اس نے اپنے باپ سے، اس نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ …