Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir

Ayahs 171–180 of 206

171

۞ وَإِذْ نَتَقْنَا ٱلْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُۥ ظُلَّةٌۭ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُۥ وَاقِعٌۢ بِهِمْ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَٰكُم بِقُوَّةٍۢ وَٱذْكُرُوا۟ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ

باب

اسی طرح کی آیت «وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ» [4-النساء:154] ‏ ہے یعنی ” ہم نے ان کے سروں پر طور پہاڑ لا کھڑا کیا۔ “ اسے فرشتے اٹھا لائے تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”جب موسیٰ علیہ السلام انہیں ارض مقدس کی طرف لے چلے اور غصہ اتر جانے کے بعد تختیاں اٹھا لیں اور ان میں جو حکم احکام تھے، وہ انہیں سنائے تو انہیں وہ سخت معلوم ہوئے اور تسلیم و تعمیل سے صاف انکار کر دیا تو بحکم الٰہی فرشتوں نے پہاڑ اٹھا کر ان کے سروں پر لا کھڑا کر دیا۔“ (‏نسائی)

مروی ہے کہ جب کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ لو اللہ کی کتاب کے احکام قبول کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں سناؤ، اس میں کیا احکام ہیں؟ اگر آسان ہوئے تو ہم منظور کر لیں گے۔ ورنہ نہ مانیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام کے باربار کے اصرار پر بھی یہ لوگ کہتے رہے۔ آخر اسی وقت اللہ کے حکم سے پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے سروں پر معلق کھڑا ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر نے فرمایا: بولو اب مانتے ہو یا اللہ تعالیٰ تم پر پہاڑ گرا کر تمہیں فنا کر دے؟ اسی وقت یہ سب کے سب مارے ڈر کے سجدے میں گر پڑے لیکن بائیں آنکھ سجدے میں تھی اور دائیں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ گر نہ پڑے۔ چنانچہ یہودیوں میں اب تک سجدے کا طریقہ یہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسی طرح کے سجدے نے ہم پر سے عذاب الٰہی دور کر دیا ہے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام نے ان تختیوں کو کھولا تو ان میں کتاب تھی جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ اسی وقت تمام پہاڑ، درخت، پتھر سب کانپ اٹھے۔ آج بھی یہودی تلاوت تورات کے وقت کانپ اٹھتے ہیں اور ان کے سر جھک جاتے ہیں۔

صفحہ نمبر3119

Al-A'raaf 7:171Listen in Qur'an →
172

وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِىٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَآ ۛ أَن تَقُولُوا۟ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَٰذَا غَٰفِلِينَ

اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) ۔ یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن (کہیں یوں نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی

ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭

اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی نا ممکن ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:1385] ‏

ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں۔ [صحیح بخاری:4775] ‏

حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا۔ پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ [صحیح مسلم:2865] ‏

قبیلہ بنو سعد کے ایک صحابی سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار غزوے کئے۔ لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بچوں کو بھی پکڑ لیا، جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں؟ فرمایا: سنو! تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں۔ یاد رکھو! ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ اس کے راوی حسن فرماتے ہیں: اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے۔ (‏ابن جریر) [مسند احمد:435/3:ضعیف] ‏

اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔

صفحہ نمبر3120

مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا: اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو اس سے بہت ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے۔ لیکن تو اسے توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ [صحیح بخاری:3334] ‏

مسند میں ہے: نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی۔ سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا: کیا میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں! ہم گواہ ہیں۔ پھر آپ نے «مُبْطِلُوْنَ» تک آیت تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد:272/1:صحیح] ‏ یہ روایت موقوف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ ضحاک بن مزاحم کے چھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا۔ جابر نے حکم کی بجا آوری کی۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بچے سے کیا سوال ہو گا؟ اور کون سوال کرے گا؟ فرمایا: اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے، سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ میثاق کیا ہے؟ فرمایا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں، سب کی روحیں آ گئیں۔ اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے۔ خود ان کے رزق کا کفیل بنا، پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔

صفحہ نمبر3121

پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا، اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور …

Al-A'raaf 7:172Listen in Qur'an →
173

أَوْ تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أَشْرَكَ ءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةًۭ مِّنۢ بَعْدِهِمْ ۖ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلْمُبْطِلُونَ

یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کی اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) ۔ تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے

ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭

اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی نا ممکن ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:1385] ‏

ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں۔ [صحیح بخاری:4775] ‏

حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا۔ پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ [صحیح مسلم:2865] ‏

قبیلہ بنو سعد کے ایک صحابی سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار غزوے کئے۔ لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بچوں کو بھی پکڑ لیا، جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں؟ فرمایا: سنو! تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں۔ یاد رکھو! ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ اس کے راوی حسن فرماتے ہیں: اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے۔ (‏ابن جریر) [مسند احمد:435/3:ضعیف] ‏

اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔

صفحہ نمبر3120

مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا: اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو اس سے بہت ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے۔ لیکن تو اسے توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ [صحیح بخاری:3334] ‏

مسند میں ہے: نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی۔ سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا: کیا میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں! ہم گواہ ہیں۔ پھر آپ نے «مُبْطِلُوْنَ» تک آیت تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد:272/1:صحیح] ‏ یہ روایت موقوف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ ضحاک بن مزاحم کے چھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا۔ جابر نے حکم کی بجا آوری کی۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بچے سے کیا سوال ہو گا؟ اور کون سوال کرے گا؟ فرمایا: اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے، سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ میثاق کیا ہے؟ فرمایا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں، سب کی روحیں آ گئیں۔ اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے۔ خود ان کے رزق کا کفیل بنا، پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔

صفحہ نمبر3121

پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا، اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور …

Al-A'raaf 7:173Listen in Qur'an →
174

وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں

ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭

اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی نا ممکن ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:1385] ‏

ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں۔ [صحیح بخاری:4775] ‏

حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا۔ پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ [صحیح مسلم:2865] ‏

قبیلہ بنو سعد کے ایک صحابی سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار غزوے کئے۔ لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بچوں کو بھی پکڑ لیا، جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں؟ فرمایا: سنو! تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں۔ یاد رکھو! ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ اس کے راوی حسن فرماتے ہیں: اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے۔ (‏ابن جریر) [مسند احمد:435/3:ضعیف] ‏

اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔

صفحہ نمبر3120

مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا: اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو اس سے بہت ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے۔ لیکن تو اسے توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ [صحیح بخاری:3334] ‏

مسند میں ہے: نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی۔ سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا: کیا میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں! ہم گواہ ہیں۔ پھر آپ نے «مُبْطِلُوْنَ» تک آیت تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد:272/1:صحیح] ‏ یہ روایت موقوف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ ضحاک بن مزاحم کے چھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا۔ جابر نے حکم کی بجا آوری کی۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بچے سے کیا سوال ہو گا؟ اور کون سوال کرے گا؟ فرمایا: اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے، سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ میثاق کیا ہے؟ فرمایا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں، سب کی روحیں آ گئیں۔ اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے۔ خود ان کے رزق کا کفیل بنا، پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔

صفحہ نمبر3121

پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا، اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور …

Al-A'raaf 7:174Listen in Qur'an →
175

وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ٱلَّذِىٓ ءَاتَيْنَٰهُ ءَايَٰتِنَا فَٱنسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ ٱلشَّيْطَٰنُ فَكَانَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ

اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہٴ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا

بلعم بن باعورا ٭٭

مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام ”بلعم بن باعوراء“ ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”صیفی بن راہب“ تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کر دیا تھا۔ یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہو جایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کر دیا کرتے تھے، اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ اس عقلمند بادشاہ نے اسے مکر و فریب سے اپنا کر لیا، اس کے نام کئی گاؤں کر دیئے اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا۔ یہ بد نصیب دین موسوی کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں جا ملا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”بلعام“ تھا۔ یہ بھی ہے کہ یہ ”امیہ بن ابوصلت“ ہے۔ ممکن ہے کہ یہ کہنے والے کی یہ مراد ہو کہ یہ امیہ بھی اسی کے مشابہ تھا، اسے بھی اگلی شریعتوں کا علم تھا لیکن یہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو بھی اس نے پایا، آپ کی آیات و بینات دیکھیں، معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے، ہزارہا کو دین حق میں داخل ہوتے دیکھا، لیکن مشرکین کے میل جول، ان میں امتیاز، ان میں دوستی اور وہاں کی سرداری کی ہوس نے اسے اسلام اور قبول حق سے روک دیا۔ اسی نے بدری کافروں کے ماتم میں مرثیے کہے، «لعنتہ اللہ» ۔

بعض احادیث میں وارد ہے کہ اس کی زبان تو ایمان لا چکی تھی لیکن دل مومن نہیں ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی تین دعائیں جو بھی یہ کرے گا، مقبول ہوں گی۔ اس کی بیوی نے ایک مرتبہ اس سے کہا کہ ان تین دعاؤں میں سے ایک دعا میرے لیے کر۔ اس نے منظور کر لیا اور پوچھا: کیا دعا کرانا چاہتی ہو؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر حسن و خوبصورتی عطا فرمائے کہ مجھ سے زیادہ حسین عورت بنی اسرائیل میں کوئی نہ ہو۔

صفحہ نمبر3129

اس نے دعا کی اور وہ ایسی ہی حسین ہو گئی۔ اب تو اس نے پر نکالے اور اپنے میاں کو محض بے حقیقت سمجھنے لگی، بڑے بڑے لوگ اس کی طرف جھکنے لگے اور یہ بھی ان کی طرف مائل ہو گئی۔ اس سے یہ بہت کڑھا اور اللہ سے دعا کی کہ یااللہ! اسے کتیا بنا دے۔ یہ بھی منظور ہوئی، وہ کتیا بن گئی۔ اب اس کے بچے آئے، انہوں نے گھیر لیا کہ آپ نے غضب کیا۔ لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہیں اور ہم کتیا کے بچے مشہور ہو رہے ہیں۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ اسے اس کی اصلی حالت میں پھر سے لا دے۔ اس نے وہ تیسری دعا بھی کر لی، تینوں دعائیں یوں ہی ضائع ہو گئیں اور یہ خالی ہاتھ بےخیر رہ گیا۔ [الدر المنشور للسیوطی:266/3:ضعیف] ‏

مشہور بات تو یہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے یہ ایک شخص تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نبی تھا۔ یہ محض غلط ہے، بالکل جھوٹ ہے اور کھلا افترا ہے۔ مروی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جب قوم جبارین سے لڑائی کے لیے بنی اسرائیل کی ہمراہی میں گئے، انہی جبارین میں بلعام نامی یہ شخص تھا، اس کی قوم اور اس کے قرابت دار چچا وغیرہ سب اس کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم کے لیے آپ بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: یہ نہیں ہو سکتا، اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا و آخرت دونوں خراب ہو جائیں گی لیکن قوم سر ہو گئی۔ یہ بھی لحاظ مروت میں آ گیا۔ بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے کرامت چھین لی اور اسے اس کے مرتبے سے گرا دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:122/6] ‏

صفحہ نمبر3130

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو وادی تیہ میں چالیس سال گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے یوشع بن نون علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں …

Al-A'raaf 7:175Listen in Qur'an →
176

وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَٰهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُۥٓ أَخْلَدَ إِلَى ٱلْأَرْضِ وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ ۚ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ ٱلْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ۚ ذَّٰلِكَ مَثَلُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا ۚ فَٱقْصُصِ ٱلْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کر دیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا۔ تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر سختی کرو تو زبان نکالے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو ان سے یہ قصہ بیان کردو۔ تاکہ وہ فکر کریں

بلعم بن باعورا ٭٭

مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام ”بلعم بن باعوراء“ ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”صیفی بن راہب“ تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کر دیا تھا۔ یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہو جایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کر دیا کرتے تھے، اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ اس عقلمند بادشاہ نے اسے مکر و فریب سے اپنا کر لیا، اس کے نام کئی گاؤں کر دیئے اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا۔ یہ بد نصیب دین موسوی کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں جا ملا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”بلعام“ تھا۔ یہ بھی ہے کہ یہ ”امیہ بن ابوصلت“ ہے۔ ممکن ہے کہ یہ کہنے والے کی یہ مراد ہو کہ یہ امیہ بھی اسی کے مشابہ تھا، اسے بھی اگلی شریعتوں کا علم تھا لیکن یہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو بھی اس نے پایا، آپ کی آیات و بینات دیکھیں، معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے، ہزارہا کو دین حق میں داخل ہوتے دیکھا، لیکن مشرکین کے میل جول، ان میں امتیاز، ان میں دوستی اور وہاں کی سرداری کی ہوس نے اسے اسلام اور قبول حق سے روک دیا۔ اسی نے بدری کافروں کے ماتم میں مرثیے کہے، «لعنتہ اللہ» ۔

بعض احادیث میں وارد ہے کہ اس کی زبان تو ایمان لا چکی تھی لیکن دل مومن نہیں ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی تین دعائیں جو بھی یہ کرے گا، مقبول ہوں گی۔ اس کی بیوی نے ایک مرتبہ اس سے کہا کہ ان تین دعاؤں میں سے ایک دعا میرے لیے کر۔ اس نے منظور کر لیا اور پوچھا: کیا دعا کرانا چاہتی ہو؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر حسن و خوبصورتی عطا فرمائے کہ مجھ سے زیادہ حسین عورت بنی اسرائیل میں کوئی نہ ہو۔

صفحہ نمبر3129

اس نے دعا کی اور وہ ایسی ہی حسین ہو گئی۔ اب تو اس نے پر نکالے اور اپنے میاں کو محض بے حقیقت سمجھنے لگی، بڑے بڑے لوگ اس کی طرف جھکنے لگے اور یہ بھی ان کی طرف مائل ہو گئی۔ اس سے یہ بہت کڑھا اور اللہ سے دعا کی کہ یااللہ! اسے کتیا بنا دے۔ یہ بھی منظور ہوئی، وہ کتیا بن گئی۔ اب اس کے بچے آئے، انہوں نے گھیر لیا کہ آپ نے غضب کیا۔ لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہیں اور ہم کتیا کے بچے مشہور ہو رہے ہیں۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ اسے اس کی اصلی حالت میں پھر سے لا دے۔ اس نے وہ تیسری دعا بھی کر لی، تینوں دعائیں یوں ہی ضائع ہو گئیں اور یہ خالی ہاتھ بےخیر رہ گیا۔ [الدر المنشور للسیوطی:266/3:ضعیف] ‏

مشہور بات تو یہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے یہ ایک شخص تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نبی تھا۔ یہ محض غلط ہے، بالکل جھوٹ ہے اور کھلا افترا ہے۔ مروی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جب قوم جبارین سے لڑائی کے لیے بنی اسرائیل کی ہمراہی میں گئے، انہی جبارین میں بلعام نامی یہ شخص تھا، اس کی قوم اور اس کے قرابت دار چچا وغیرہ سب اس کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم کے لیے آپ بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: یہ نہیں ہو سکتا، اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا و آخرت دونوں خراب ہو جائیں گی لیکن قوم سر ہو گئی۔ یہ بھی لحاظ مروت میں آ گیا۔ بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے کرامت چھین لی اور اسے اس کے مرتبے سے گرا دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:122/6] ‏

صفحہ نمبر3130

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو وادی تیہ میں چالیس سال گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے یوشع بن نون علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں …

Al-A'raaf 7:176Listen in Qur'an →
177

سَآءَ مَثَلًا ٱلْقَوْمُ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَأَنفُسَهُمْ كَانُوا۟ يَظْلِمُونَ

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا

بلعم بن باعورا ٭٭

مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام ”بلعم بن باعوراء“ ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”صیفی بن راہب“ تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کر دیا تھا۔ یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہو جایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کر دیا کرتے تھے، اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ اس عقلمند بادشاہ نے اسے مکر و فریب سے اپنا کر لیا، اس کے نام کئی گاؤں کر دیئے اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا۔ یہ بد نصیب دین موسوی کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں جا ملا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”بلعام“ تھا۔ یہ بھی ہے کہ یہ ”امیہ بن ابوصلت“ ہے۔ ممکن ہے کہ یہ کہنے والے کی یہ مراد ہو کہ یہ امیہ بھی اسی کے مشابہ تھا، اسے بھی اگلی شریعتوں کا علم تھا لیکن یہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو بھی اس نے پایا، آپ کی آیات و بینات دیکھیں، معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے، ہزارہا کو دین حق میں داخل ہوتے دیکھا، لیکن مشرکین کے میل جول، ان میں امتیاز، ان میں دوستی اور وہاں کی سرداری کی ہوس نے اسے اسلام اور قبول حق سے روک دیا۔ اسی نے بدری کافروں کے ماتم میں مرثیے کہے، «لعنتہ اللہ» ۔

بعض احادیث میں وارد ہے کہ اس کی زبان تو ایمان لا چکی تھی لیکن دل مومن نہیں ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی تین دعائیں جو بھی یہ کرے گا، مقبول ہوں گی۔ اس کی بیوی نے ایک مرتبہ اس سے کہا کہ ان تین دعاؤں میں سے ایک دعا میرے لیے کر۔ اس نے منظور کر لیا اور پوچھا: کیا دعا کرانا چاہتی ہو؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر حسن و خوبصورتی عطا فرمائے کہ مجھ سے زیادہ حسین عورت بنی اسرائیل میں کوئی نہ ہو۔

صفحہ نمبر3129

اس نے دعا کی اور وہ ایسی ہی حسین ہو گئی۔ اب تو اس نے پر نکالے اور اپنے میاں کو محض بے حقیقت سمجھنے لگی، بڑے بڑے لوگ اس کی طرف جھکنے لگے اور یہ بھی ان کی طرف مائل ہو گئی۔ اس سے یہ بہت کڑھا اور اللہ سے دعا کی کہ یااللہ! اسے کتیا بنا دے۔ یہ بھی منظور ہوئی، وہ کتیا بن گئی۔ اب اس کے بچے آئے، انہوں نے گھیر لیا کہ آپ نے غضب کیا۔ لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہیں اور ہم کتیا کے بچے مشہور ہو رہے ہیں۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ اسے اس کی اصلی حالت میں پھر سے لا دے۔ اس نے وہ تیسری دعا بھی کر لی، تینوں دعائیں یوں ہی ضائع ہو گئیں اور یہ خالی ہاتھ بےخیر رہ گیا۔ [الدر المنشور للسیوطی:266/3:ضعیف] ‏

مشہور بات تو یہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے یہ ایک شخص تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نبی تھا۔ یہ محض غلط ہے، بالکل جھوٹ ہے اور کھلا افترا ہے۔ مروی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جب قوم جبارین سے لڑائی کے لیے بنی اسرائیل کی ہمراہی میں گئے، انہی جبارین میں بلعام نامی یہ شخص تھا، اس کی قوم اور اس کے قرابت دار چچا وغیرہ سب اس کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم کے لیے آپ بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: یہ نہیں ہو سکتا، اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا و آخرت دونوں خراب ہو جائیں گی لیکن قوم سر ہو گئی۔ یہ بھی لحاظ مروت میں آ گیا۔ بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے کرامت چھین لی اور اسے اس کے مرتبے سے گرا دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:122/6] ‏

صفحہ نمبر3130

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو وادی تیہ میں چالیس سال گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے یوشع بن نون علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں …

Al-A'raaf 7:177Listen in Qur'an →
178

مَن يَهْدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلْمُهْتَدِى ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

بہترین دعا ٭٭

رب جنہیں راہ دکھائے، انہیں کوئی بےراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہی غلط راہ پر ڈال دے، اس کی شومی قسمت میں کیا شک ہے؟ اللہ کا چاہا ہوتا ہے، اس کا نہ چاہا کبھی نہیں ہو سکتا۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ہم اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں اور اسی سے بخشش مانگتے ہیں۔ ہم اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے بھی۔ اللہ کے راہ دکھائے ہوئے کو کوئی بہکا نہیں سکتا اور اس کے گمراہ کئے ہوئے کو کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ معبود صرف اللہ ہی ہے۔ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میری گواہی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں الخ۔ [سنن ابوداود:2118، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ (‏مسند احمد وغیرہ)

صفحہ نمبر3140

Al-A'raaf 7:178Listen in Qur'an →
179

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌۭ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ ءَاذَانٌۭ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَآ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ كَٱلْأَنْعَٰمِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَٰفِلُونَ

اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

اللہ تعالٰی عالم الغیب ہے ٭٭

بہت سے انسان اور جن جہنمی ہونے والے ہیں اور ان سے ویسے ہی اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ مخلوق میں سے کون کیسے عمل کرے گا؟ یہ علام الغیوب کو ان کی پیدائش سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے، پس اپنے علم کے مطابق اپنی کتاب میں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے ہی لکھ لیا۔ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ یہ صحیح مسلم شریف کی حدیث ہے۔ [صحیح مسلم:2653] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری نابالغ بچے کے جنازے پر بلوائے گئے تو میں نے کہا: مبارک ہو اس کو، یہ تو جنت کی چڑیا ہے۔ نہ برائی کی، نہ برائی کا وقت پایا۔ آپ نے فرمایا: کچھ اور بھی؟ سن! اللہ تعالیٰ نے جنت اور جنت والوں کو پیدا کیا ہے اور انہیں جنتی مقرر کر دیا ہے حالانکہ وہ ابھی تو اپنے باپوں کی پیٹھوں میں ہی تھے۔ اسی طرح اس نے جہنم بنائی ہے اور اس کے رہنے والے پیدا کئے ہیں۔ انہیں اسی لیے مقرر کر دیا۔ درآں حالیکہ اب تک وہ اپنے باپوں کی پشت میں ہی ہیں۔ [صحیح مسلم:2662] ‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: ماں کے رحم میں اللہ تعالیٰ اپنا فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے حکم سے چاروں چیزوں یعنی روزی، عمل، عمر اور نیکی یا بدی لکھ لیتا ہے۔ [صحیح بخاری:3208] ‏

یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو پشت آدم سے نکالا تو ان کے دو حصے کر دیئے، دائیں والے اور بائیں والے۔ اور فرما دیا: یہ جنتی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں اور تقدیر کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں کہ یہاں پورا بیان ہو جائے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ ایسے خالی از خیر محروم قسمت لوگ کسی چیز سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ تمام اعضاء ہوتے ہیں لیکن قوتیں سب سے چھن جاتی ہیں۔ اندھے، بہرے، گونگے بن کر زندگی گڑھے میں ہی گزار دیتے ہیں۔ اگر ان میں خیر باقی ہوتی تو اللہ اپنی باتیں انہیں سناتا بھی۔ یہ تو خیر سے بالکل خالی ہو گئے، سنتے ہیں اور ان سنی کر جاتے ہیں۔ آنکھیں ہی نہیں بلکہ دل کی آنکھیں اندھی ہو گئی ہیں۔ رحمان کے ذکر سے منہ موڑنے کی سزا یہ ملی ہے کہ شیطان کے بھائی بن گئے ہیں، راہ حق سے دور جا پڑے ہیں مگر سمجھ یہی رہے ہیں کہ ہم سچے اور صحیح راستے پر ہیں۔ ان میں اور چوپائے جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ نہ یہ حق کو دیکھیں، نہ ہدایت کو دیکھیں، نہ اللہ کی باتوں کو سوچیں۔

صفحہ نمبر3141

چوپائے بھی تو اپنے حواس کو دنیا کے کام میں لاتے ہیں، اسی طرح یہ بھی فکر عقبیٰ سے، ذکر رب سے، راہ مولا سے غافل، گونگے اور اندھے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» [2-البقرة:171] ‏ یعنی ” ان کافروں کی مثال تو اس شخص کی سی ہے جو اس کے پیچھے چلا رہا ہے جو درحقیقت سنتی ونتی خاک بھی نہیں۔ ہاں! صرف شور و غل تو اس کے کان میں پڑتا ہے۔ “

چوپائے آواز تو سنتے ہیں لیکن کیا کہا؟ اسے سمجھے ان کی بلا۔ پھر ترقی کر کے فرماتا ہے کہ یہ ظالم تو چوپایوں سے بھی بدترین ہیں کہ چوپائے گو نہ سمجھیں لیکن آواز پر کان تو کھڑے کر دیتے ہیں، اشاروں پر حرکت تو کرتے ہیں، یہ تو اپنے مالک کو اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ اپنی پیدائش کی غایت کو آج تک معلوم ہی نہیں کیا، جبھی تو اللہ سے کفر کرتے ہیں اور غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف جو اللہ کا مطیع انسان ہو، وہ اللہ کے اطاعت گزار فرشتے سے بہتر ہے اور کفار انسان سے چوپائے جانور بہتر ہیں، ایسے لوگ پورے غافل ہیں۔

صفحہ نمبر3142

Al-A'raaf 7:179Listen in Qur'an →
180

وَلِلَّهِ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ فَٱدْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا۟ ٱلَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِىٓ أَسْمَٰٓئِهِۦ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے

اسماء الحسنیٰ ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں۔ انہیں جو محفوظ کر لے، وہ جنتی ہے۔ وہ وتر ہے، طاق کو ہی پسند فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:4610] ‏ (‏بخاری وغیرہ)

ترمذی میں یہ ننانوے نام اس طرح ہیں: «هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ، الْمَلِکُ، الْقُدُّوْسُ، السَّلَامُ، الْمُؤْمِنُ، الْمُھَیْمِنُ، الْعَزِیْزُ، الْجَبَّارُ، الْمُتَکَبِّرُ، الْخَالِقُ، الْبَارِیُٔ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْقَھَّارُ، الْوَھَّابُ، الرَّزَّاقُ، الْفَتَّاحُ، الْعَلِیْمُ، الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الْخَافِضُ، الرَّافِعُ، الْمُعِزُّ، الْمُذِلُّ، السَّمِیْعُ، الْبَصِیْرُ، الْحَکَمُ، الْعَدْلُ، اللَّطِیْفُ، الْخَبِیْرُ، الْحَلِیْمُ، الْعَظِیْمُ، الْغَفُوْرُ، الشَّکُوْرُ، الْعَلِیُّ، الْکَبِیْرُ، الْحَفِیْظُ، الْمُقِیْتُ، الْحَسِیْبُ، الْجَلِیْلُ، الْکَرِیْمُ، الرَّقِیْبُ، الْمُجِیْبُ، الْوَاسِعُ، الْحَکِیْمُ، الْوَدُوْدُ، الْمَجِیْدُ، الْبَاعِثُ، الشَّھِیْدُ، الْحَقُّ، الْوَکِیْلُ، الْقَوِیُّ، الْمَتِیْنُ، الْوَلِیُّ، الْحَمِیْدُ، الْمُحْصِی، الْمُبْدِیُٔ، الْمُعِیْدُ، الْمُحْییِ، الْمُمِیْتُ، الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ، الْوَاجِدُ، الْمَاجِدُ، الْوَاحِدُ، الصَّمَدُ، الْقَادِرُ، الْمُقْتَدِرُ، الْمُقَدِّمُ، الْمُؤَخِّرُ، الْاَوَّلُ الْاٰخِرُ، الظَّاھِرُ، الْبَاطِنُ، الْوَالِیُ، الْمُتَعَالُ، الْبَرُّ، التَّوَّابُ، الْمُنْتَقِمُ، الْعَفُوُّ، الرَّئُوْفُ، مَالِکُ، الْمُلْکِ، ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَا مِ، الْمُقْسِطُ، الْجَامِعُ، الْغَنِیُّ، الْمُغْنِی، الْمَانِعُ، الضَّآرُّ، النَّافِعُ، النُّوْرُ، الْھَادِیُ، الْبَدِیْعُ، الْبَاقِی، الْوَارِثُ، الرَّشِیْدُ، الصَّبُوْرُ» ۔ [سنن ترمذي:3507، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3143

یہ حدیث غریب ہے۔ کچھ کمی، زیادتی کے ساتھ اسی طرح یہ نام ابن ماجہ کی حدیث میں بھی وارد ہیں۔ بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ یہ نام راویوں نے قرآن میں چھانٹ لیے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ یاد رہے کہ یہی ننانوے نام اللہ کے ہوں، اور نہ ہوں، یہ بات نہیں۔

مسند احمد میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جسے کبھی بھی کوئی غم و رنج پہنچے اور وہ یہ دعا کرے: «اللَّهُمَّ إنِّي عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَداً مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ: أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ العظیم رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدرِي، وَجلاَءَ حزنِي، وَذَهَابَ هَمِّي» ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے غم و رنج کو دور کر دے گا اور اس کی جگہ راحت و خوشی عطا فرمائے گا۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ پھر کیا ہم اسے اوروں کو بھی سکھائیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! بیشک جو اسے سنے، اسے چاہیئے کہ دوسروں کو بھی سکھائے۔ [صحیح ابن حبان:972:صحیح بالشواھد] ‏

امام ابوحاتم بن حبان بستی رحمہ اللہ بھی اس روایت کو اسی طرح اپنی صحیح میں لائے ہیں۔ امام ابوبکر بن عربی رحمہ اللہ بھی اپنی کتاب الاحوذی فی شرح الترمذی میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی کتاب و سنت سے جمع کئے ہیں جن کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اللہ کے ناموں سے الحاد کرنے والوں کو چھوڑ دو۔ جیسے کہ لفظ اللہ سے کافروں نے اپنے بت کا نام لات رکھا اور عزیز سے مشتق کر کے عزیٰ نام رکھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ جو اللہ کے ناموں میں شریک کرتے ہیں، انہیں چھوڑو۔ جو انہیں جھٹلاتے ہیں، ان سے منہ موڑ لو۔ «الحاد» کے لفظی معنی ہیں: …

Al-A'raaf 7:180Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.