Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 161–170 of 206

161

وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ ٱسْكُنُوا۟ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةَ وَكُلُوا۟ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا۟ حِطَّةٌۭ وَٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًۭا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيٓـَٰٔتِكُمْ ۚ سَنَزِيدُ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطّتہٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے

مصر کی مشرکانہ فضا سے نکال کر خدا نے بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں پہنچایا۔ یہاں ان کی تنظیم قائم کی گئی۔ ان کو بارہ جماعتوں میں بانٹ دیا گیا۔ ہر جماعت کے اوپر ایک نگراں تھا اور حضرت موسیٰ سب کے اوپر نگراں تھے۔

پھر بنی اسرائیل کو خصوصی طورپر تمام ضروریات زندگی عطا کی گئیں۔ پہاڑی چشمے نکال کر ان کے ليے پانی فراہم کیا گیا۔ کھلے صحرا میں سایہ کے ليے ان پر مسلسل بدلیاں بھیجی گئیں۔ ان کی خوراک کے ليے من وسلویٰ اترا جو به آسانی انھیں اپنے خیموں کے سامنے مل جاتاتھا۔ ان کی باقاعدہ سکونت کے ليے ایک پورا شہر اریحا (وادیٔ یردن میں) ان کے حوالے کردیا گیا۔

اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ تمھاری تمام ضرو ریات کا ہم نے انتظام کردیا ہے۔ اب حرص اور لذت پرستی میں مبتلا ہو کر ناپاک چیزوں کی طرف نہ دوڑو۔ اس کے بجائے قناعت اور اللہ کے آگے شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرو۔

’’باب (دروازہ) میں جھکے ہوئے داخل ہو‘‘ —یہاں باب سے مراد بستی کا دروازہ نہیں ہے بلکہ ہیکل سلیمانی کا دروازہ ہے۔ زمین میں اقتدار دینے کے بعد بنی اسرائیل سے کہاگیا کہ اپنی عبادت گاہ میں خاشع بن کر جاؤ اور گناہوں سے مغفرت مانگو۔ مسلمانوں کے یہاں جس طرح کعبہ کو بیت اللہ (خدا کاگھر) کہاجاتا ہے اسی طرح یہود کے یہاں ہیکل کو باب اللہ (خدا کا پھاٹک) کہاجاتاہے۔ یہود کو حکم دیاگیا تھا کہ اپنے عبادت خانہ میں عجزوتواضع کے ساتھ داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرو اور اللہ کی عظمت وجلال کو یاد کرکے اس کے آگے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے رہو۔ مگر یہود خدا کی نصیحتوں کو بھول گئے۔ وہ خدا کی بتائی ہوئی راہ پر چلنے کے بجائے خدا کے نام پر خود ساختہ راہوں کی طرف چلنے لگے۔ انھوں نے عجز کے بجائے سرکشی کا طریقہ اپنایا۔ شکر کا کلمہ بولنے کے بجائے وہ بے صبری کے کلمات بولنے لگے۔

یہود جب بگاڑ کی اس حد کو پہنچ گئے تو خدا نے اپنی عنایات ان سے واپس لے لیں۔ رحمت کے بجائے ان کو مختلف قسم کے عذابوں نے گھیر لیا۔

Al-A'raaf 7:161Listen in Qur'an →
162

فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ ٱلَّذِى قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا۟ يَظْلِمُونَ

مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ ظلم کرتے تھے

مصر کی مشرکانہ فضا سے نکال کر خدا نے بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں پہنچایا۔ یہاں ان کی تنظیم قائم کی گئی۔ ان کو بارہ جماعتوں میں بانٹ دیا گیا۔ ہر جماعت کے اوپر ایک نگراں تھا اور حضرت موسیٰ سب کے اوپر نگراں تھے۔

پھر بنی اسرائیل کو خصوصی طورپر تمام ضروریات زندگی عطا کی گئیں۔ پہاڑی چشمے نکال کر ان کے ليے پانی فراہم کیا گیا۔ کھلے صحرا میں سایہ کے ليے ان پر مسلسل بدلیاں بھیجی گئیں۔ ان کی خوراک کے ليے من وسلویٰ اترا جو به آسانی انھیں اپنے خیموں کے سامنے مل جاتاتھا۔ ان کی باقاعدہ سکونت کے ليے ایک پورا شہر اریحا (وادیٔ یردن میں) ان کے حوالے کردیا گیا۔

اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ تمھاری تمام ضرو ریات کا ہم نے انتظام کردیا ہے۔ اب حرص اور لذت پرستی میں مبتلا ہو کر ناپاک چیزوں کی طرف نہ دوڑو۔ اس کے بجائے قناعت اور اللہ کے آگے شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرو۔

’’باب (دروازہ) میں جھکے ہوئے داخل ہو‘‘ —یہاں باب سے مراد بستی کا دروازہ نہیں ہے بلکہ ہیکل سلیمانی کا دروازہ ہے۔ زمین میں اقتدار دینے کے بعد بنی اسرائیل سے کہاگیا کہ اپنی عبادت گاہ میں خاشع بن کر جاؤ اور گناہوں سے مغفرت مانگو۔ مسلمانوں کے یہاں جس طرح کعبہ کو بیت اللہ (خدا کاگھر) کہاجاتا ہے اسی طرح یہود کے یہاں ہیکل کو باب اللہ (خدا کا پھاٹک) کہاجاتاہے۔ یہود کو حکم دیاگیا تھا کہ اپنے عبادت خانہ میں عجزوتواضع کے ساتھ داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرو اور اللہ کی عظمت وجلال کو یاد کرکے اس کے آگے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے رہو۔ مگر یہود خدا کی نصیحتوں کو بھول گئے۔ وہ خدا کی بتائی ہوئی راہ پر چلنے کے بجائے خدا کے نام پر خود ساختہ راہوں کی طرف چلنے لگے۔ انھوں نے عجز کے بجائے سرکشی کا طریقہ اپنایا۔ شکر کا کلمہ بولنے کے بجائے وہ بے صبری کے کلمات بولنے لگے۔

یہود جب بگاڑ کی اس حد کو پہنچ گئے تو خدا نے اپنی عنایات ان سے واپس لے لیں۔ رحمت کے بجائے ان کو مختلف قسم کے عذابوں نے گھیر لیا۔

Al-A'raaf 7:162Listen in Qur'an →
163

وَسْـَٔلْهُمْ عَنِ ٱلْقَرْيَةِ ٱلَّتِى كَانَتْ حَاضِرَةَ ٱلْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِى ٱلسَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًۭا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ ۙ لَا تَأْتِيهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جب لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے

یہود کو یہ تلقین کی گئی تھی کہ وہ ہفتہ کا ایک دن (سنیچر) عبادت اور ذکرِ خداکے ليے خاص رکھیں۔ اس دن کوئی معاشی کام نہ کریں۔ بائبل کے مطابق حکم یہ تھا کہ جو شخص سبت کے قانون کی خلاف ورزی کرے وہ مار ڈالا جائے (خروج 31:14 )۔ مگر جب یہود میں بگاڑ آیا تو وہ اس کی خلاف ورزی کرنے لگے۔ ان کے مصلحین نے متوجہ کیا تو وہ نہ مانے۔ تاہم مصلحین نے اپنی کوشش مسلسل جاری رکھی۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی اصلاح کا کام اگر چہ بظاہر دوسروں کے ليے ہوتاہے مگر وہ خود اپنے ليے کیا جاتاہے۔ اس کا اصل محرک اپنے آپ کو اللہ کے یہاں بری الذمہ ٹھہرانا ہے۔ اگر یہ محرک زندہ نہ ہو تو آدمی درمیان میں ٹھهر جائے گا، وہ اپني اصلاح اور تبلیغ کے عمل کو آخر وقت تک جاری نہیں رکھ سکتا۔

یہود کی سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاملہ کو ان کے ليے اور سخت کردیاگیا۔ بحر قلزم کی مشرقي خلیج کے کنارے ایلہ شہر میں یہود کی آبادیاں تھیں۔ ان کی معیشت کا انحصار زیادہ تر مچھلیوں کے شکار پر تھا۔ خدا کے حکم سے یہ ہوا کہ سنیچر کے دن ان کے ساحل پر مچھلیوں کی آمد بہت بڑھ گئی۔ بقیہ چھ دنوں میں مچھلیاں بہت کم آتیں۔ مگر ممنوعہ دن (سنیچر) کو وہ کثرت سے پانی کی سطح کے اوپر تیرتی ہوئی دکھائی دیتیں۔

یہ یہود کے ليے بڑی سخت آزمائش تھی۔ گویا پہلے اگر یہ نوعیت تھی کہ سنیچر کے علاوہ چھ جائز دنوں میں شکار کرنے کا پورا موقع تھا تو اب صرف ایک حرام دن ہی شکار کرنے کا موقع ان کے ليے باقی رہ گیا۔ اب یہود نے یہ کیا کہ وہ حیلہ کے ذریعہ حرام کو حلال کرنے لگے۔ وہ سنیچر کے دن شکار نہ کرتے۔ البتہ وہ سمندر کا پانی کاٹ کر باہر بنے ہوئے حوضوں میں لاتے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں چڑھتیں تو وہ نالی کے راستہ سے ان کے بنائے ہوئے حوض میں آجاتیں۔ اس کے بعد وہ حوض کا منھ بند کرکے مچھلیوں کے دریا میں لوٹنے کا راستہ روک دیتے۔ پھر اگلے دن اتوار کو جاکر ان کو پکڑ لیتے۔ اس طرح وہ ایک ناجائز فعل کو جواز کی صورت دینے کی کوشش کرتے تاکہ ان پر یہ حکم صادق نہ آئے کہ انھوں نے سنیچر کے دن شکار کیا ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص جائز ذرائع سے اپنی ضروریات فراہم کرنے پر قناعت نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو اس خطرہ میں ڈالتا ہے کہ اس کے ليے جائز ذرائع کا دروازہ سرے سے بند کردیا جائے اور نا جائز ذریعہ کے سوا اس کے ليے حصول معاش کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔

Al-A'raaf 7:163Listen in Qur'an →
164

وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌۭ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ ٱللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًۭا شَدِيدًۭا ۖ قَالُوا۟ مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو الله ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں

یہود کو یہ تلقین کی گئی تھی کہ وہ ہفتہ کا ایک دن (سنیچر) عبادت اور ذکرِ خداکے ليے خاص رکھیں۔ اس دن کوئی معاشی کام نہ کریں۔ بائبل کے مطابق حکم یہ تھا کہ جو شخص سبت کے قانون کی خلاف ورزی کرے وہ مار ڈالا جائے (خروج 31:14 )۔ مگر جب یہود میں بگاڑ آیا تو وہ اس کی خلاف ورزی کرنے لگے۔ ان کے مصلحین نے متوجہ کیا تو وہ نہ مانے۔ تاہم مصلحین نے اپنی کوشش مسلسل جاری رکھی۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی اصلاح کا کام اگر چہ بظاہر دوسروں کے ليے ہوتاہے مگر وہ خود اپنے ليے کیا جاتاہے۔ اس کا اصل محرک اپنے آپ کو اللہ کے یہاں بری الذمہ ٹھہرانا ہے۔ اگر یہ محرک زندہ نہ ہو تو آدمی درمیان میں ٹھهر جائے گا، وہ اپني اصلاح اور تبلیغ کے عمل کو آخر وقت تک جاری نہیں رکھ سکتا۔

یہود کی سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاملہ کو ان کے ليے اور سخت کردیاگیا۔ بحر قلزم کی مشرقي خلیج کے کنارے ایلہ شہر میں یہود کی آبادیاں تھیں۔ ان کی معیشت کا انحصار زیادہ تر مچھلیوں کے شکار پر تھا۔ خدا کے حکم سے یہ ہوا کہ سنیچر کے دن ان کے ساحل پر مچھلیوں کی آمد بہت بڑھ گئی۔ بقیہ چھ دنوں میں مچھلیاں بہت کم آتیں۔ مگر ممنوعہ دن (سنیچر) کو وہ کثرت سے پانی کی سطح کے اوپر تیرتی ہوئی دکھائی دیتیں۔

یہ یہود کے ليے بڑی سخت آزمائش تھی۔ گویا پہلے اگر یہ نوعیت تھی کہ سنیچر کے علاوہ چھ جائز دنوں میں شکار کرنے کا پورا موقع تھا تو اب صرف ایک حرام دن ہی شکار کرنے کا موقع ان کے ليے باقی رہ گیا۔ اب یہود نے یہ کیا کہ وہ حیلہ کے ذریعہ حرام کو حلال کرنے لگے۔ وہ سنیچر کے دن شکار نہ کرتے۔ البتہ وہ سمندر کا پانی کاٹ کر باہر بنے ہوئے حوضوں میں لاتے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں چڑھتیں تو وہ نالی کے راستہ سے ان کے بنائے ہوئے حوض میں آجاتیں۔ اس کے بعد وہ حوض کا منھ بند کرکے مچھلیوں کے دریا میں لوٹنے کا راستہ روک دیتے۔ پھر اگلے دن اتوار کو جاکر ان کو پکڑ لیتے۔ اس طرح وہ ایک ناجائز فعل کو جواز کی صورت دینے کی کوشش کرتے تاکہ ان پر یہ حکم صادق نہ آئے کہ انھوں نے سنیچر کے دن شکار کیا ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص جائز ذرائع سے اپنی ضروریات فراہم کرنے پر قناعت نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو اس خطرہ میں ڈالتا ہے کہ اس کے ليے جائز ذرائع کا دروازہ سرے سے بند کردیا جائے اور نا جائز ذریعہ کے سوا اس کے ليے حصول معاش کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔

Al-A'raaf 7:164Listen in Qur'an →
165

فَلَمَّا نَسُوا۟ مَا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦٓ أَنجَيْنَا ٱلَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلسُّوٓءِ وَأَخَذْنَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ بِعَذَابٍۭ بَـِٔيسٍۭ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے

ایک کام جس سے خدا نے منع کیا ہو اس کو کرنا گناہ ہے اور حیلہ کے ذریعہ ناجائز کو جائز بنا کر کرنا گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ قانون سبت کی خلاف ورزی کرکے یہود اسی قسم کے مجرم بن گئے تھے۔ ایسے لوگ خدا کی لعنت کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ یعنی وہ خدا کی ان عنایتوں سے محروم ہوجاتے ہیں جو اس نے اس دنیا میں صرف انسان کے ليے مخصوص کی ہیں۔ ایسے لوگ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آجاتے ہیں۔

قانون سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ یہی معاملہ کیاگیا۔ ’’اللہ نے ان کو بندر بنادیا‘‘ کا مطلب یہ نہیںہے کہ ان کی صورت بندروں کی صورت ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کااخلاق بندروں جیسا ہوگیا۔ ان کا دل اور ان کی سوچ انسانوں کے بجائے بندر جیسے ہوگئے۔ قيل بل جعل أخلاقهم كأخلاقها وإن لم تكن صورتهم كصورتها (المفردات للراغب الأصفہانى، صفحہ 666 )۔ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ أَنَّهُ إِنَّمَا مُسِخَتْ قُلُوبُهُمْ فَقَطْ، وَرُدَّتْ أَفْهَامُهُمْ كَأَفْهَامِ الْقِرَدَةِ (تفسیر القرطبی، جلد1، صفحہ 443 )

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے اندر اس کے خالق نے عقل اور ضمیر رکھ دیا ہے۔ اس کے اندر جب کوئی خواہش اٹھتی ہے تو اس کی عقل وضمیر متحرک ہو کر فوراً اس کے سامنے یہ سوال کھڑا کردیتے ہیں کہ ایسا کرنا تمھارے ليے درست ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس، بندر کا حال یہ ہے ا س کی خواہش اور اس کے عمل کے درمیان کوئی تیسری چیز حائل نہیں۔ جو بات بھی اس کے جی میں آجائے وہ فوراً اس کو كر ڈالتا ہے۔ اس کو نه اپنی خواہش کے بارے میں میں سوچنے کی ضرورت ہوتی اور نہ اس پر عمل کرنے کے بعد اس پر شرمندہ ہونے کی۔

اب انسان کا بندر ہوجانا یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اپنے ضمیر کے خلاف عمل کرتے کرتے اتنا بے حس ہوجائے کہ اس قسم کے نازک احساسات اس کے اندر سے جاتے رہیں۔ اس کے دل میں جو بھی خواہش پیدا ہو اس کو وہ کرگزرے۔ جب بھی کوئی شخص اس کی زد میں آجائے تو وہ اس کی عزت اور اس کے مال پر حملہ کردے۔ کسی سے شکایت پیدا ہو تو فوراً اس کو ذلیل کرنے کے ليے کھڑا ہوجائے۔ کسی سے اختلاف ہوجائے تو اس پر غرانے لگے۔ کوئی اس کو اپنی راہ میں رکاوٹ نظر آئے تو فوراً اس سے لڑنا شروع کردے۔ سچا انسان وہ ہے جو اپنے آپ پر خدا کی لگام لگالے۔ اور بندر انسان وہ ہے جو بے قید ہو کر وہ سب کچھ کرنے لگے جو اس کا نفس اس سے کرنے کے ليے کہے۔

برائی سے روکنا ایک قسم کا اعلانِ برأت ہے۔ اس ليے کسی گروہ پر جب خدا کی یہ سزا آتی ہے تو اس کی زد میں آنے سے وہ لوگ بچا ليے جاتے ہیں جو برائی سے اس حد تک بے زار ہوں کہ وہ اس کے روکنے والے بن جائیں۔

Al-A'raaf 7:165Listen in Qur'an →
166

فَلَمَّا عَتَوْا۟ عَن مَّا نُهُوا۟ عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا۟ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ

غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ

ایک کام جس سے خدا نے منع کیا ہو اس کو کرنا گناہ ہے اور حیلہ کے ذریعہ ناجائز کو جائز بنا کر کرنا گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ قانون سبت کی خلاف ورزی کرکے یہود اسی قسم کے مجرم بن گئے تھے۔ ایسے لوگ خدا کی لعنت کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ یعنی وہ خدا کی ان عنایتوں سے محروم ہوجاتے ہیں جو اس نے اس دنیا میں صرف انسان کے ليے مخصوص کی ہیں۔ ایسے لوگ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آجاتے ہیں۔

قانون سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ یہی معاملہ کیاگیا۔ ’’اللہ نے ان کو بندر بنادیا‘‘ کا مطلب یہ نہیںہے کہ ان کی صورت بندروں کی صورت ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کااخلاق بندروں جیسا ہوگیا۔ ان کا دل اور ان کی سوچ انسانوں کے بجائے بندر جیسے ہوگئے۔ قيل بل جعل أخلاقهم كأخلاقها وإن لم تكن صورتهم كصورتها (المفردات للراغب الأصفہانى، صفحہ 666 )۔ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ أَنَّهُ إِنَّمَا مُسِخَتْ قُلُوبُهُمْ فَقَطْ، وَرُدَّتْ أَفْهَامُهُمْ كَأَفْهَامِ الْقِرَدَةِ (تفسیر القرطبی، جلد1، صفحہ 443 )

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے اندر اس کے خالق نے عقل اور ضمیر رکھ دیا ہے۔ اس کے اندر جب کوئی خواہش اٹھتی ہے تو اس کی عقل وضمیر متحرک ہو کر فوراً اس کے سامنے یہ سوال کھڑا کردیتے ہیں کہ ایسا کرنا تمھارے ليے درست ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس، بندر کا حال یہ ہے ا س کی خواہش اور اس کے عمل کے درمیان کوئی تیسری چیز حائل نہیں۔ جو بات بھی اس کے جی میں آجائے وہ فوراً اس کو كر ڈالتا ہے۔ اس کو نه اپنی خواہش کے بارے میں میں سوچنے کی ضرورت ہوتی اور نہ اس پر عمل کرنے کے بعد اس پر شرمندہ ہونے کی۔

اب انسان کا بندر ہوجانا یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اپنے ضمیر کے خلاف عمل کرتے کرتے اتنا بے حس ہوجائے کہ اس قسم کے نازک احساسات اس کے اندر سے جاتے رہیں۔ اس کے دل میں جو بھی خواہش پیدا ہو اس کو وہ کرگزرے۔ جب بھی کوئی شخص اس کی زد میں آجائے تو وہ اس کی عزت اور اس کے مال پر حملہ کردے۔ کسی سے شکایت پیدا ہو تو فوراً اس کو ذلیل کرنے کے ليے کھڑا ہوجائے۔ کسی سے اختلاف ہوجائے تو اس پر غرانے لگے۔ کوئی اس کو اپنی راہ میں رکاوٹ نظر آئے تو فوراً اس سے لڑنا شروع کردے۔ سچا انسان وہ ہے جو اپنے آپ پر خدا کی لگام لگالے۔ اور بندر انسان وہ ہے جو بے قید ہو کر وہ سب کچھ کرنے لگے جو اس کا نفس اس سے کرنے کے ليے کہے۔

برائی سے روکنا ایک قسم کا اعلانِ برأت ہے۔ اس ليے کسی گروہ پر جب خدا کی یہ سزا آتی ہے تو اس کی زد میں آنے سے وہ لوگ بچا ليے جاتے ہیں جو برائی سے اس حد تک بے زار ہوں کہ وہ اس کے روکنے والے بن جائیں۔

Al-A'raaf 7:166Listen in Qur'an →
167

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ مَن يَسُومُهُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ ٱلْعِقَابِ ۖ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

(اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انہیں بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے

ان آیات میں یہود کے ليے جس سزا کا اعلان ہے اس کے ساتھ الیٰ یوم القیامہ (قیامت کے دن تک) کی شرط لگی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سزا وہ ہے جس کا تعلق دنیا سے ہے۔ آخرت کے انجام کا معاملہ اس سے الگ ہے جس کا ذکر دوسرے مقامات پر آیا ہے۔

کسی کام کے کرنے پر جب بڑا انعام رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کو نہ کرنے پر اتنی ہی بڑی سزا بھی ہوگی۔ یہی معاملہ اس قوم کا ہے جو کتاب آسمانی کی حامل بنائی گئی ہو۔ یہود کو خدا نے اسی منصب پر فائز کیا تھا۔ چنانچه آخرت کے وعدے کے علاوہ دنیا میں بھی ان کو غیر معمولی انعامات ديے گئے۔ مگر یہود نے مسلسل نافرمانی کی۔ وہ دین کے نام پر بے دینی کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدانے ان کو منصبِ فضیلت سے ہٹا دیا۔ ان کے ليے یہ فیصلہ ہوا کہ جب تک دنیا قائم ہے وہ خدا کی سزا کامزہ چکھتے رہیں گے اور آخرت میں جو کچھ ہونا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب قیامت تک ان پر کبھی اچھے حالات نہیں آئیں گے۔ جیسا کہ خود ان آیات میں صراحت ہے۔ ان پر ’’حسنات‘‘ کے وقفے بھی پڑیں گے۔ مگر یہ حسنہ کا وقفہ بھی ان کے ليے ایک قسم کا عتاب ہوگا تاکہ وہ مزید سرکشی کرکے اور زیادہ سزا کے مستحق بنیں۔

ان آیات میں یہود کے ليے دو سزاؤں کا ذکر ہے۔ ایک یہ کہ ان پر ایسی قومیں مسلّط کی جائیں گی جو ان کو ظلم کا نشانہ بنائیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہود کبھی بنو كدنصر اورکبھی ٹائٹس رومی کے شدائد کا نشانہ بنے۔ کبھی وہ مسلمانوں کی ماتحتی میں ديے گئے۔ موجودہ زمانہ میں انھوں نے مشرقی یورپ میں اپنا زبردست اقتصادی جال پھیلا لیا تو ہٹلر نے انھیں تباہ وبرباد کرڈالا۔ اب ارض مقدس میں ان کا اجتماع بظاہر اس کی علامت ہے کہ ان کی پوری قوت شاید اجتماعی طورپر ہلاک کی جانے والی ہے۔

دوسری سزا جس کا یہاں ذکر ہے وہ’’تقطیع‘‘ ہے۔ یعنی ان کی جمعیت کو مختلف حصوں میں بانٹ کر منتشر کردینا۔ یہ دوسرا واقعہ بھی تاریخ میں بار بار ان کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔

اللہ کا یہ قانون صرف یہود کے ليے نہیں تھا۔ وہ بعد کے اس گروہ کے ليے بھی ہے جس کو یہود کی معزولی کے بعد خدا کی گواہی کے منصب پر فائز کیاگیا ہے۔ مسلمان اگر اپنے کو اس حال میں پائیں کہ کفار ومشرکین نے ان پر غلبہ پالیا ہو اور ان کی جمعیت چھوٹے چھوٹے جغرافیوں میں بٹ کر متفرق ہوگئی ہو تو ان کو خدا کی طرف لوٹناچاہيے۔ کیوںکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ احتساب الٰہی کی زد میں آگئے ہیں۔

Al-A'raaf 7:167Listen in Qur'an →
168

وَقَطَّعْنَٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ أُمَمًۭا ۖ مِّنْهُمُ ٱلصَّٰلِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَبَلَوْنَٰهُم بِٱلْحَسَنَٰتِ وَٱلسَّيِّـَٔاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں، تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں

ان آیات میں یہود کے ليے جس سزا کا اعلان ہے اس کے ساتھ الیٰ یوم القیامہ (قیامت کے دن تک) کی شرط لگی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سزا وہ ہے جس کا تعلق دنیا سے ہے۔ آخرت کے انجام کا معاملہ اس سے الگ ہے جس کا ذکر دوسرے مقامات پر آیا ہے۔

کسی کام کے کرنے پر جب بڑا انعام رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کو نہ کرنے پر اتنی ہی بڑی سزا بھی ہوگی۔ یہی معاملہ اس قوم کا ہے جو کتاب آسمانی کی حامل بنائی گئی ہو۔ یہود کو خدا نے اسی منصب پر فائز کیا تھا۔ چنانچه آخرت کے وعدے کے علاوہ دنیا میں بھی ان کو غیر معمولی انعامات ديے گئے۔ مگر یہود نے مسلسل نافرمانی کی۔ وہ دین کے نام پر بے دینی کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدانے ان کو منصبِ فضیلت سے ہٹا دیا۔ ان کے ليے یہ فیصلہ ہوا کہ جب تک دنیا قائم ہے وہ خدا کی سزا کامزہ چکھتے رہیں گے اور آخرت میں جو کچھ ہونا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب قیامت تک ان پر کبھی اچھے حالات نہیں آئیں گے۔ جیسا کہ خود ان آیات میں صراحت ہے۔ ان پر ’’حسنات‘‘ کے وقفے بھی پڑیں گے۔ مگر یہ حسنہ کا وقفہ بھی ان کے ليے ایک قسم کا عتاب ہوگا تاکہ وہ مزید سرکشی کرکے اور زیادہ سزا کے مستحق بنیں۔

ان آیات میں یہود کے ليے دو سزاؤں کا ذکر ہے۔ ایک یہ کہ ان پر ایسی قومیں مسلّط کی جائیں گی جو ان کو ظلم کا نشانہ بنائیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہود کبھی بنو كدنصر اورکبھی ٹائٹس رومی کے شدائد کا نشانہ بنے۔ کبھی وہ مسلمانوں کی ماتحتی میں ديے گئے۔ موجودہ زمانہ میں انھوں نے مشرقی یورپ میں اپنا زبردست اقتصادی جال پھیلا لیا تو ہٹلر نے انھیں تباہ وبرباد کرڈالا۔ اب ارض مقدس میں ان کا اجتماع بظاہر اس کی علامت ہے کہ ان کی پوری قوت شاید اجتماعی طورپر ہلاک کی جانے والی ہے۔

دوسری سزا جس کا یہاں ذکر ہے وہ’’تقطیع‘‘ ہے۔ یعنی ان کی جمعیت کو مختلف حصوں میں بانٹ کر منتشر کردینا۔ یہ دوسرا واقعہ بھی تاریخ میں بار بار ان کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔

اللہ کا یہ قانون صرف یہود کے ليے نہیں تھا۔ وہ بعد کے اس گروہ کے ليے بھی ہے جس کو یہود کی معزولی کے بعد خدا کی گواہی کے منصب پر فائز کیاگیا ہے۔ مسلمان اگر اپنے کو اس حال میں پائیں کہ کفار ومشرکین نے ان پر غلبہ پالیا ہو اور ان کی جمعیت چھوٹے چھوٹے جغرافیوں میں بٹ کر متفرق ہوگئی ہو تو ان کو خدا کی طرف لوٹناچاہيے۔ کیوںکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ احتساب الٰہی کی زد میں آگئے ہیں۔

Al-A'raaf 7:168Listen in Qur'an →
169

فَخَلَفَ مِنۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌۭ وَرِثُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا ٱلْأَدْنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِن يَأْتِهِمْ عَرَضٌۭ مِّثْلُهُۥ يَأْخُذُوهُ ۚ أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِم مِّيثَٰقُ ٱلْكِتَٰبِ أَن لَّا يَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ وَدَرَسُوا۟ مَا فِيهِ ۗ وَٱلدَّارُ ٱلْءَاخِرَةُ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں

حضرت موسیٰ کے زمانہ میں یہود کو جب خدائی احکام ديے گئے تو اس کی کارروائی پہاڑ کے دامن میں ہوئی تھی۔اس وقت ایسے حالات پیدا كيے گئے کہ یہود کو محسوس ہوا کہ پہاڑ ان کے اوپر گرا چاہتاہے۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ خدا سے عہد باندھنے کا معاملہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اگر تم نے اس کے تقاضوں کو پورا نہ کیا تو یاد رکھو کہ اس عہد کا دوسرا فریق وہ عظیم ہستی ہے جو چاہے تو پہاڑ کو تمھارے اوپر گرا کر تمھیں ہلاک کردے۔

اس وقت یہود میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اللہ سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے تھے۔ مگر بعد کو دھیرے دھیرے انھوںنے دنیا کو اپنا مقصود بنا لیا۔ وہ جائز ناجائز کا فرق كيے بغیر مال جمع کرنے میں لگ گئے۔ آسمانی کتاب کو اب بھی وہ پڑھتے تھے مگر اس کی تعلیمات کی خود ساختہ تاویلیں کرکے اس کو انھوںنے ایسا بنا لیا کہ خدا بھی ان کو اپنی باغیانہ زندگی کا حامی نظرآنے لگا۔ ان کی بے حسی یہاں تک بڑھی کہ وہ یہ کہہ کر مطمئن ہوگئے کہ ہم برگزیدہ امت ہیں ۔ ہم نبیوں کی اولاد ہیں۔ خدا اپنے محبوب بندوں کے صدقے میں ہم کو ضرور بخش دے گا۔

یہی واقعہ ہر نبی کی امت کے ساتھ پیش آتاہے۔ ابتدائی دور میں اس کے افراد خدا سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ مگر اگلی نسلوںمیں یہ روح (spirit)نکل جاتی ہے۔ وہ دوسرے دنیا دار لوگوں کی طرح ہوجاتے ہیں۔ ان کے درمیان اب بھی دین موجود ہوتا ہے۔ خدا کی کتاب اب بھی ان کے یہاں پڑھی پڑھائی جاتی ہے۔ مگر یہ سب قومی وراثت کے طورپر ہوتاہے، نہ کہ حقیقۃً عہد خداوندی کے طورپر۔ وہ عملاً آخرت کو بھول کر دنیا پرستی کی راہ میں چل پڑتے ہیں۔ وہ صحیح اور غلط سے بے نیاز ہو کر اپنی خواہشوں کو اپنا مذہب بنا لیتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ان کو یہ بھی فخر ہوتا ہے کہ وہ افضل الامم ہیں۔ وہ محبوبِ خدا کے امتی ہیں۔ وہ آسمانی کتاب کے وارث ہیں۔ کلمہ توحید کی برکت سے وہ ضرور بخش ديے جائیں گے۔

مگر اصل چیز یہ ہے کہ آدمی خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے، وہ نماز کو قائم کرے۔ اور کتاب الٰہی کو پکڑنے اور نماز کو قائم کرنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی ’’مصلح‘‘ بن گیا ہو۔ خدا کی کتاب سے تعلق اور خدا کی عبادت کرنا آدمی کو مصلح بناتا ہے، نہ کہ مفسد۔

Al-A'raaf 7:169Listen in Qur'an →
170

وَٱلَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِٱلْكِتَٰبِ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُصْلِحِينَ

اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز کا التزام رکھتے ہیں (ان کو ہم اجر دیں گے کہ) ہم نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے

حضرت موسیٰ کے زمانہ میں یہود کو جب خدائی احکام ديے گئے تو اس کی کارروائی پہاڑ کے دامن میں ہوئی تھی۔اس وقت ایسے حالات پیدا كيے گئے کہ یہود کو محسوس ہوا کہ پہاڑ ان کے اوپر گرا چاہتاہے۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ خدا سے عہد باندھنے کا معاملہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اگر تم نے اس کے تقاضوں کو پورا نہ کیا تو یاد رکھو کہ اس عہد کا دوسرا فریق وہ عظیم ہستی ہے جو چاہے تو پہاڑ کو تمھارے اوپر گرا کر تمھیں ہلاک کردے۔

اس وقت یہود میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اللہ سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے تھے۔ مگر بعد کو دھیرے دھیرے انھوںنے دنیا کو اپنا مقصود بنا لیا۔ وہ جائز ناجائز کا فرق كيے بغیر مال جمع کرنے میں لگ گئے۔ آسمانی کتاب کو اب بھی وہ پڑھتے تھے مگر اس کی تعلیمات کی خود ساختہ تاویلیں کرکے اس کو انھوںنے ایسا بنا لیا کہ خدا بھی ان کو اپنی باغیانہ زندگی کا حامی نظرآنے لگا۔ ان کی بے حسی یہاں تک بڑھی کہ وہ یہ کہہ کر مطمئن ہوگئے کہ ہم برگزیدہ امت ہیں ۔ ہم نبیوں کی اولاد ہیں۔ خدا اپنے محبوب بندوں کے صدقے میں ہم کو ضرور بخش دے گا۔

یہی واقعہ ہر نبی کی امت کے ساتھ پیش آتاہے۔ ابتدائی دور میں اس کے افراد خدا سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ مگر اگلی نسلوںمیں یہ روح (spirit)نکل جاتی ہے۔ وہ دوسرے دنیا دار لوگوں کی طرح ہوجاتے ہیں۔ ان کے درمیان اب بھی دین موجود ہوتا ہے۔ خدا کی کتاب اب بھی ان کے یہاں پڑھی پڑھائی جاتی ہے۔ مگر یہ سب قومی وراثت کے طورپر ہوتاہے، نہ کہ حقیقۃً عہد خداوندی کے طورپر۔ وہ عملاً آخرت کو بھول کر دنیا پرستی کی راہ میں چل پڑتے ہیں۔ وہ صحیح اور غلط سے بے نیاز ہو کر اپنی خواہشوں کو اپنا مذہب بنا لیتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ان کو یہ بھی فخر ہوتا ہے کہ وہ افضل الامم ہیں۔ وہ محبوبِ خدا کے امتی ہیں۔ وہ آسمانی کتاب کے وارث ہیں۔ کلمہ توحید کی برکت سے وہ ضرور بخش ديے جائیں گے۔

مگر اصل چیز یہ ہے کہ آدمی خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے، وہ نماز کو قائم کرے۔ اور کتاب الٰہی کو پکڑنے اور نماز کو قائم کرنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی ’’مصلح‘‘ بن گیا ہو۔ خدا کی کتاب سے تعلق اور خدا کی عبادت کرنا آدمی کو مصلح بناتا ہے، نہ کہ مفسد۔

Al-A'raaf 7:170Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.