Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 151–160 of 206

151

قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِأَخِى وَأَدْخِلْنَا فِى رَحْمَتِكَ ۖ وَأَنتَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ

تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

آیت 151 قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِاَخِیْ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ ز وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا :

Al-A'raaf 7:151Listen in Qur'an →
152

إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌۭ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُفْتَرِينَ

(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

آیت 152 اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُہُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَذِلَّۃٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ط۔ غضب سے آخرت کا غضب بھی مراد ہے اور قتل مرتد کی وہ سزا بھی جس کا ذکر ہم سورة البقرۃ کی آیت 54 میں پڑھ آئے ہیں۔

Al-A'raaf 7:152Listen in Qur'an →
153

وَٱلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ثُمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِهَا وَءَامَنُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور جنہوں نے برے کام کیے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دے گا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے

آیت 153 وَالَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْم بَعْدِہَا وَاٰمَنُوْٓاز اِنَّ رَبَّکَ مِنْم بَعْدِہَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ وہ لوگ جن سے اس غلطی کا ارتکاب تو ہوا مگر انہوں نے اس سے توبہ کر کے اپنے ایمان کی تجدید کرلی ‘ ایسے تمام لوگوں کا معاملہ اس اللہ کے سپرد ہے جو بخشنے والا اور انسانوں پر رحم کرنے والا ہے۔ البتہ جو لوگ اس جرم پر اڑے رہے ان پر آخرت سے پہلے دنیا کی زندگی میں بھی اللہ کا غضب مسلط ہوا۔ اس کی تفصیل سورة البقرۃ کی آیت 54 کے تحت گزر چکی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہر قبیلہ کے مؤمنین مخلصین کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے قبیلہ کے ان مجرمین کو قتل کردیں جنہوں نے گوسالہ پرستی کا ارتکاب کیا۔ صرف وہ لوگ قتل سے بچے جنہوں نے توبہ کرلی تھی۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سورة المائدۃ میں آیات محاربہ آیات 33 اور 34 میں ہم نے پڑھا کہ اگر ڈاکو ‘ راہزن وغیرہ ملک میں فساد مچا رہے ہوں ‘ لیکن متعلقہ حکام کے قابو میں آنے سے پہلے وہ توبہ کرلیں تو ایسی صورت میں ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ ہوسکتا ہے بلکہ انہیں معاف بھی کیا جاسکتا ہے ‘ لیکن اگر انہیں اسی بغاوت کی کیفیت میں گرفتار کرلیا جائے تو پھر ان کی سزا بہت سخت ہے۔

Al-A'raaf 7:153Listen in Qur'an →
154

وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى ٱلْغَضَبُ أَخَذَ ٱلْأَلْوَاحَ ۖ وَفِى نُسْخَتِهَا هُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ

اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات) کی تختیاں اٹھالیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لیے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں۔ ہدایت اور رحمت تھی

آیت 153 وَالَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْم بَعْدِہَا وَاٰمَنُوْٓاز اِنَّ رَبَّکَ مِنْم بَعْدِہَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ وہ لوگ جن سے اس غلطی کا ارتکاب تو ہوا مگر انہوں نے اس سے توبہ کر کے اپنے ایمان کی تجدید کرلی ‘ ایسے تمام لوگوں کا معاملہ اس اللہ کے سپرد ہے جو بخشنے والا اور انسانوں پر رحم کرنے والا ہے۔ البتہ جو لوگ اس جرم پر اڑے رہے ان پر آخرت سے پہلے دنیا کی زندگی میں بھی اللہ کا غضب مسلط ہوا۔ اس کی تفصیل سورة البقرۃ کی آیت 54 کے تحت گزر چکی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہر قبیلہ کے مؤمنین مخلصین کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے قبیلہ کے ان مجرمین کو قتل کردیں جنہوں نے گوسالہ پرستی کا ارتکاب کیا۔ صرف وہ لوگ قتل سے بچے جنہوں نے توبہ کرلی تھی۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سورة المائدۃ میں آیات محاربہ آیات 33 اور 34 میں ہم نے پڑھا کہ اگر ڈاکو ‘ راہزن وغیرہ ملک میں فساد مچا رہے ہوں ‘ لیکن متعلقہ حکام کے قابو میں آنے سے پہلے وہ توبہ کرلیں تو ایسی صورت میں ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ ہوسکتا ہے بلکہ انہیں معاف بھی کیا جاسکتا ہے ‘ لیکن اگر انہیں اسی بغاوت کی کیفیت میں گرفتار کرلیا جائے تو پھر ان کی سزا بہت سخت ہے۔

Al-A'raaf 7:154Listen in Qur'an →
155

وَٱخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُۥ سَبْعِينَ رَجُلًۭا لِّمِيقَٰتِنَا ۖ فَلَمَّآ أَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّٰىَ ۖ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَّآ ۖ إِنْ هِىَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَآءُ وَتَهْدِى مَن تَشَآءُ ۖ أَنتَ وَلِيُّنَا فَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَا ۖ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْغَٰفِرِينَ

اور موسیٰ نے اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کرکے کوہ طور پر حاضر) ٹل کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے پروردگار تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کر دیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کردے گا۔ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے

آیت 155 وَاخْتَارَ مُوْسٰی قَوْمَہٗ سَبْعِیْنَ رَجُلاً لِّمِیْقَاتِنَا ج وہ لوگ جو آخری وقت تک اس مشرکانہ فعل پر قائم رہے انہیں قتل کردیا گیا۔ اب اس تطہیر purge کے بعد اجتماعی توبہ کا مرحلہ تھا ‘ جس کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کے ستر 70 سرکردہ افراد کو ساتھ لے کر کوہ طور پر حاضری کے لیے روانہ ہوگئے۔فَلَمَّآ اَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ کوہ طور پر یا اس کے مضافات میں ان لوگوں کے لیے جسمانی کپکپی یا زمینی زلزلے جیسی خوفناک کیفیت پیدا کردی گئی۔قَالَ رَبِّ لَوْ شِءْتَ اَہْلَکْتَہُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِیَّایَ ط اَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَآءُ مِنَّا ج قوم کے کچھ جاہل لوگوں نے جو حرکت کی تھی انہیں اس کی سزا بھی مل گئی ہے۔ ہم نے اتنا بڑا کفارہ دے دیا ہے کہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل بھی کردیا ہے۔ تو کیا ان کی وجہ سے تو پوری قوم کو ہلاک کر دے گا ؟اِنْ ہِیَ الاَّ فِتْنَتُکَط تُضِلُّ بِہَا مَنْ تَشَآءَ وَتَہْدِیْ مَنْ تَشَآءُ ط مگر یہ تیری طرف سے ایک آزمائش ہے ‘ تو گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔

Al-A'raaf 7:155Listen in Qur'an →
156

۞ وَٱكْتُبْ لَنَا فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ إِنَّا هُدْنَآ إِلَيْكَ ۚ قَالَ عَذَابِىٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنْ أَشَآءُ ۖ وَرَحْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍۢ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِنَا يُؤْمِنُونَ

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

آیت 156 وَاکْتُبْ لَنَا فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لیے جو دعا کی ‘ یہ وہی الفاظ ہیں جو سورة البقرۃ میں مسلمانوں کو سکھائے گئے ہیں : رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَاحَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ اِنَّا ہُدْنَآ اِلَیْکَ ط۔ یعنی ہم سے جو خطا ہوگئی ہے اس کا اعتراف کرتے ہوئے ہم معافی چاہتے ہیں۔ قَالَ عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآءُج وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ ط rٰ علیہ السلام ٰ علیہ السلام یعنی میری ایک رحمت تو وہ ہے جو ہر شے کے شامل حال ہے ‘ ہر شے پر محیط ہے۔ ہر شے کا وجود اور بقا میری رحمت ہی سے ممکن ہے۔ یہ پوری کائنات اور اس کا تسلسل میری رحمت ہی کا مرہون منت ہے۔ میری اس رحمت عامہ سے میری تمام مخلوقات حصہ پا رہی ہیں ‘ لیکن جہاں تک میری رحمت خاصہ کا تعلق ہے جس کے لیے تم لوگ ابھی سوال کر رہے ہو :

Al-A'raaf 7:156Listen in Qur'an →
157

ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَىٰهُمْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَٱلْأَغْلَٰلَ ٱلَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُوا۟ ٱلنُّورَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں

آیت 157 اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ یعنی ہمارے نبی امی ﷺ کا اتباع کریں گے جن کو رسول بنا کر بھیجا جائے گا۔ محمد عربی ﷺ نے دنیوی اعتبار سے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور نہ آپ ﷺ دنیوی معیار کے مطابق پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ اس لحاظ سے آپ ﷺ بھی امی تھے اور جن لوگوں میں آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا وہ بھی امی تھے ‘ کیونکہ ان لوگوں کے پاس اس سے پہلے کوئی کتاب تھی نہ کوئی شریعت۔الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِی التَّوْرٰٹۃِ وَالْاِنْجِیْلِ ز یعنی آخری نبی ﷺ کے بارے میں پیشین گوئیاں ‘ آپ ﷺ کے حالات ‘ اور آپ ﷺ کے بارے میں واضح علامات ان کو تورات اور انجیل دونوں میں ملیں گی۔یَاْمُرُہُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہٰٹہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ بنی اسرائیل پر کچھ چیزیں ان کی شرارتوں کی وجہ سے بھی حرام کردی گئی تھیں ‘ جیسا کہ سورة النساء آیت 160 میں ہم پڑھ آئے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ نبی امی ﷺ ان پر سے ایسی تمام بندشیں اٹھا دیں گے اور تمام پاکیزہ چیزوں کو ان کے لیے حلال کردیں گے۔وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبآءِثَ وَیَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْہِمْ ط یہ بوجھ اور طوق وہ بےجا اور خود ساختہ پابندیاں اور رسومات بھی ہیں جو معاشرے کے اندر کسی خاص طبقہ کے مفادات یا نمود و نمائش کی خواہش کی وجہ سے رواج پاتی ہیں ‘ بعد میں غریب لوگوں کو انہیں نبھانا پڑتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے جب ان کی وجہ سے ایک عام آدمی کی زندگی انتہائی مشکل ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے کی بلند ترین سطح پر بھی بڑی بڑی قباحتیں اور لعنتیں جنم لیتی ہیں جن کے بوجھ تلے مختلف اقوام بری طرح پس جاتی ہیں۔ مثلاً بادشاہت کا جبر ‘ جاگیرداری کا استحاصلی نظام ‘ سیاسی و معاشی غلامی ‘ رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانیت میں تفریق وغیرہ۔ تو اس آیت میں بشارت دی جا رہی ہے کہ نبی آخر الزماں ﷺ آئیں گے اور انسانیت کو غلط رسومات ‘ خود ساختہ عقائد اور نظام ہائے باطلہ کے بوجھوں سے نجات دلاکر عدل اور قسط کا نظام قائم کریں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کے ساتھ تعلق کی شرائط مذکور ہیں جن میں سے ہر شرط پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موضوع کو تفصیلی طور پر سمجھنے کے لیے میرے کتابچے بعنوان : نبی اکرم ﷺ سے ہمارے تعلق کی بنیادیں کا مطالعہ مفید رہے گا۔فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ یہ پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ آپ ﷺ پر ایمان لانے کے دو بنیادی تقاضے ہیں ‘ پہلا تقاضا ہے آپ ﷺ کی اطاعت اور دوسرا تقاضا ہے آپ ﷺ کی محبت۔ ان دونوں تقاضوں کے بارے میں دو احادیث ملاحظہ کیجیے۔ پہلی حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رض ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِمَا جِءْتُ بِہٖ 1 تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہے جب تک کہ اس کی خواہش نفس تابع نہ ہوجائے اس چیز کے جو میں ﷺ لے کر آیا ہوں۔ یعنی جو احکام اور شریعت حضور ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ‘ اگر کوئی شخص ایمان رکھتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اس سب کچھ کو تسلیم کر کے اس پر عمل کرنا ہوگا۔ دوسری حدیث متفق علیہ ہے اور اس کے راوی حضرت انس بن مالک رض ہیں۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لَا یُوؤمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ 1 تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسے محبوب ترنہ ہوجاؤں اس کے باپ ‘ بیٹے اور تمام انسانوں سے۔ چناچہ یہ دونوں تقاضے پورے ہوں گے تو آپ ﷺ پر ایمان کا دعویٰ حقیقت بنے گا۔ ایک غایت درجہ میں آپ ﷺ کا اتباع اور اطاعت ‘ دوسرے غایت درجے میں آپ ﷺ کی محبت۔وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ جب مذکورہ بالا دو تقاضے پورے ہوں گے تو ان کے لازمی نتیجے کے طور پر …

Al-A'raaf 7:157Listen in Qur'an →
158

قُلْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِىِّ ٱلْأُمِّىِّ ٱلَّذِى يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

(اے محمدﷺ) کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا (یعنی اس کا رسول) ہوں۔ (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ تو خدا پر اور اس کے رسول پیغمبر اُمی پر جو خدا پر اور اس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ

اب اگلی آیت کا مطالعہ کرنے سے پہلے دو باتیں اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ ایک تو گزشتہ آیات کے مضمون کا اس آیت کے ساتھ ربط کا معاملہ ہے۔ اس ربط کو یوں سمجھنا چاہیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے بعد انباء الرسل کے اس سلسلے کو نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت تک لانے میں بہت تفصیل درکار تھی۔ اس تفصیل کو چھوڑ کر اب براہ راست آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کو بتادیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمام بنی نوع انسان کی طرف۔ چناچہ پچھلی آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر اور تورات و انجیل میں نبی آخرالزماں کے بارے میں بشارتوں کے حوالے سے اس آیت کا سیاق وسباق گویا یوں ہوگا کہ اے محمد ﷺ اب آپ علی الاعلان کہہ دیجیے کہ میں ہی وہ رسول ہوں جس کا ذکر تھا تورات اور انجیل میں ‘ مجھ پر ہی ایمان لانے کی تاکید ہوئی تھی موسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کو ‘ میری ہی دعوت پر لبیک کہنے والوں کے لیے وعدہ ہے اللہ کی خصوصی رحمت کا ‘ اور اب میری ہی نصرت اور اطاعت کا حق ادا کرنے والوں کو ضمانت ملے گی ابدی و اخروی فلاح کی !دوسری اہم بات یہاں یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ اس سورة میں ہم نے اب تک جتنے رسولوں کا تذکرہ پڑھا ہے ‘ ان کا خطاب یَا قَوْمِ اے میری قوم کے لوگو ! کے الفاظ سے شروع ہوتا تھا ‘ مگر محمد عربی ﷺ کی یہ امتیازی شان ہے کہ آپ ﷺ کسی مخصوص قوم کی طرف مبعوث نہیں ہوئے بلکہ آپ ﷺ کی رسالت آفاقی اور عالمی سطح کی رسالت ہے اور آپ ﷺ پوری بنی نوع انسانی کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ سورة البقرۃ کی آیت 21 میں عبادتِ رب کا حکم جس آفاقی انداز میں دیا گیا ہے اس میں بھی اسی حقیقت کی جھلک نظر آتی ہے : یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ اس پس منظر کو سمجھ لینے کے بعد اب ہم اس آیت کا مطالعہ کرتے ہیں : آیت 158 قُلْ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا یہ بات مختلف الفاظ اور مختلف انداز میں قرآن حکیم کے پانچ مقامات پر دہرائی گئی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت پوری نوع انسانی کے لیے ہے۔ ان میں سورة سبا کی آیت 28 سب سے نمایاں ہے : وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا ہم نے نہیں بھیجا ہے اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو مگر پوری نوع انسانی کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر۔ فَاٰمِنُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَکَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ ۔ یہ گویا اعلان عام ہے محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کہ میری بعثت اس وعدے کے مطابق ہوئی ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے بعد کی یہ آیات گویا اس خطاب کی تمہید ہے جو یہود مدینہ سے ہونے والا تھا۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ یہ سورت ہجرت سے قبل نازل ہوئی تھی اور اس کے نزول کے فوراً بعد ہجرت کا حکم آنے کو تھا ‘ جس کے بعد دعوت کے سلسلے میں حضور ﷺ کا مدینہ کے یہودی قبائل سے براہ راست سابقہ پیش آنے والا تھا۔ مکی قرآن میں ابھی تک یہود سے براہ راست خطاب نہیں ہوا تھا ‘ ابھی تک یا تو اہل مکہ مخاطب تھے یا حضور ﷺ ‘ یا پھر آپ ﷺ کی وساطت سے اہل ایمان۔ لیکن اب انداز بیان میں جو تبدیلی آرہی ہے اس کا اصل محل ہجرت کے بعد کا ماحول تھا۔

Al-A'raaf 7:158Listen in Qur'an →
159

وَمِن قَوْمِ مُوسَىٰٓ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ

اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں

آیت 159 وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓی اُمَّۃٌ یَّہْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِہٖ یَعْدِلُوْنَ ۔ اگرچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی اکثریت نافرمانوں پر مشتمل تھی مگر آپ علیہ السلام کے پیروکاروں میں حق پرست اور انصاف پسند افراد بھی موجود تھے جو لوگوں کو حق بات کی تلقین کرتے تھے اور ان کے فیصلے بھی عدل و انصاف پر مبنی ہوتے تھے۔

Al-A'raaf 7:159Listen in Qur'an →
160

وَقَطَّعْنَٰهُمُ ٱثْنَتَىْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًۭا ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ إِذِ ٱسْتَسْقَىٰهُ قَوْمُهُۥٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ ۖ فَٱنۢبَجَسَتْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًۭا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍۢ مَّشْرَبَهُمْ ۚ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْغَمَٰمَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ ۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کرکے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنا دیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور (ان سے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان کیا اپنا ہی کیا

آیت 160 وَقَطَّعْنٰہُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَۃَ اَسْبَاطًا اُمَمًاط۔ ان کی نسل حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں سے چلی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لحاظ سے ان میں ایک مضبوط قبائلی نظام کو قائم رکھا۔ ہر بیٹے کی اولاد سے ایک قبیلہ وجود میں آیا اور یہ الگ الگ بارہ جماعتیں بن گئیں۔فَانْبَجَسَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْنًاط قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَہُمْ ط۔ مَشرب اسم ظرف ہے ‘ یعنی پانی پینے کی جگہ۔ ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ معین کرلیا تاکہ پانی کی تقسیم میں کسی قسم کا کوئی تنازعہ جنم نہ لے۔وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ وہ اللہ کا کچھ نقصان کر بھی کیسے سکتے تھے۔ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے تھے ؟ ایک حدیث قدسی کا مفہوم اس طرح سے ہے : اے میرے بندو ‘ اگر تمہارے اوّلین بھی اور آخرین بھی ‘ انسان بھی اور جن بھی ‘ سب کے سب اتنے متقی ہوجائیں جتنا کہ تم میں کوئی بڑے سے بڑا متقی ہوسکتا ہے ‘ تب بھی میری سلطنت اور میرے کارخانۂ قدرت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔۔ اور اگر تمہارے اوّلین و آخرین اور انس و جن سب کے سب ایسے ہوجائیں جتنا کہ تم میں کوئی زیادہ سے زیادہ سرکش و نافرمان ہوسکتا ہے ‘ تب بھی میری سلطنت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ 1

Al-A'raaf 7:160Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.