Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir

Ayahs 151–160 of 206

151

قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِأَخِى وَأَدْخِلْنَا فِى رَحْمَتِكَ ۖ وَأَنتَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ

تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کو چونکہ طور پر ہی اپنی قوم کا یہ کفر معلوم ہو چکا تھا، اس لیے سخت غضبناک ہو کر واپس آئے اور فرمانے لگے کہ تم نے تو میرے بعد سخت نالائقی کی۔ تم نے میرا انتظار بھی نہ کیا، میری ذرا سی تاخیر میں یہ ظلم ڈھایا۔ غصے کے مارے تختیاں ہاتھ سے پھینک دیں۔

کہا گیا ہے کہ یہ زمرد یا یاقوت یا کسی اور چیز کی تھیں۔ سچ ہے، جو حدیث میں ہے کہ دیکھنا سننا برابر نہیں۔ [مستدرک حاکم:321/2] ‏

اپنی قوم پر غصے ہو کر الواح ہاتھ سے گرا دیں۔ ٹھیک بات یہی ہے اور جمہور سلف کا قول بھی یہی ہے لیکن ابن جریر نے قتادہ سے ایک عجیب قول نقل کیا ہے جس کی سند بھی صحیح نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15142-15143:باطل] ‏

ابن عطیہ وغیرہ نے اس کی بہت تردید کی ہے اور وہ واقعی تردید کے قابل بھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ قتادہ نے یہ اہل کتاب سے لیا ہو اور ان کا کیا اعتبار ہے؟ ان میں جھوٹے، بناوٹ کرنے والے، گھڑ لینے والے، بددین، بےدین طرح کے لوگ ہیں۔ اس خوف سے کہ کہیں ہارون علیہ السلام نے انہیں باز رکھنے کی پوری کوشش نہ کی ہو، آپ نے ان کے سر کے بالوں کے بل انہیں گھسیٹ لیا اور فرمانے لگے: انہیں گمراہ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی تو نے میری ماتحتی میں انہیں کیوں نہ روکا؟ کیا تو بھی میرے فرمان کا منکر بن گیا؟

صفحہ نمبر3070

اس پر ہارون علیہ السلام نے جواب دیا کہ بھائی جان! میرے سر کے اور داڑھی کے بال نہ پکڑیں۔ میں نے تو ہر ممکن طریقے سے انہیں روکا، زیادہ اس لیے نہ الجھا کہ کہیں آپ یہ نہ فرما دیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفریق ڈال دی؟ تو نے میرا انتظار کیوں نہ کیا؟ ورنہ میں تو ان گمراہوں سے اب تک زمین کو پاک کر چکا ہوتا۔ انہوں نے تو مجھے کچھ بھی نہ سمجھا بلکہ میرے قتل کے درپے ہو گئے۔ آپ مجھے ان ہی کی طرح نہ سمجھیں، نہ ان میں ملائیں۔

ہارون علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ اے میرے ماں جائے بھائی! یہ صرف اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو رحم آ جائے، ماں باپ دونوں کے ایک ہی تھے۔ جب آپ کو اپنے بھائی ہارون کی برات کی تحقیق ہو گئی اور اللہ کی طرف سے بھی ان کی پاک دامنی اور بےقصوری معلوم ہو گئی کہ انہوں نے اپنی قوم سے پہلے ہی یہ فرما دیا تھا کہ افسوس! تم فتنے میں پڑ گئے، اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ پروردگار بڑا ہی رحیم و کریم ہے، تم میری مان لو اور پھر سے میرے تابع دار بن جاؤ تو آپ اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، واقعی دیکھنے والے میں اور خبر سننے والے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ قوم کی گمراہی کی خبر سنی تو تختیاں ہاتھ سے نہ گرائیں لیکن اسی منظر کو دیکھ کر قابو میں نہ رہے، تختیاں پھینک دیں۔ [مسند احمد:271/1:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3071

Al-A'raaf 7:151Listen in Qur'an →
152

إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌۭ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُفْتَرِينَ

(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

باہم قتل کی سزا ٭٭

ان گوسالہ پرستوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ جب تک ان لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کر لیا، ان کی توبہ قبول نہ ہوئی۔ جیسے کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں تفصیل وار بیان ہو چکا ہے کہ انہیں حکم ہوا تھا کہ اپنے خالق سے توبہ کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو۔ یہی تمہارے حق میں ٹھیک ہے پھر وہ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم والا ہے۔

اسی طرح دنیا میں بھی ان یہودیوں پر ذلت نازل ہوئی۔ ہر بدعتی کی جو اللہ کے دین میں جھوٹا طوفان اٹھائے، یہی سزا ہے۔ رسول کی مخالفت اور بدعت کا بوجھ اس کے دل سے نکل کر اس کے کندھوں پر آ پڑتا ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”گو وہ دنیوی ٹھاٹھ رکھتا ہو لیکن ذلت اس کے چہرے پر برستی ہے۔ قیامت تک یہی سزا ہر جھوٹے، افترا باز کی اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔“

سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ہر بدعتی ذلیل ہے۔“

صفحہ نمبر3073

پھر فرماتا ہے کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے خواہ کیسا ہی گناہ ہو لیکن توبہ کے بعد وہ معاف فرما دیتا ہے، گو کفر و شرک اور نفاق و شفاق ہی کیوں نہ ہو۔ فرمان ہے کہ جو لوگ برائیوں کے بعد توبہ کر لیں اور ایمان لائیں تو اے رسول رحمت اور اے نبی کریم! تیرا رب اس فعل کے بعد بھی غفور و رحیم ہے۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زناکاری کرے۔ پھر اس سے نکاح کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ کوئی دس مرتبہ اسے تلاوت کیا اور کوئی حکم یا منع نہیں کیا۔

صفحہ نمبر3074

Al-A'raaf 7:152Listen in Qur'an →
153

وَٱلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ثُمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِهَا وَءَامَنُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور جنہوں نے برے کام کیے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دے گا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے

باہم قتل کی سزا ٭٭

ان گوسالہ پرستوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ جب تک ان لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کر لیا، ان کی توبہ قبول نہ ہوئی۔ جیسے کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں تفصیل وار بیان ہو چکا ہے کہ انہیں حکم ہوا تھا کہ اپنے خالق سے توبہ کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو۔ یہی تمہارے حق میں ٹھیک ہے پھر وہ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم والا ہے۔

اسی طرح دنیا میں بھی ان یہودیوں پر ذلت نازل ہوئی۔ ہر بدعتی کی جو اللہ کے دین میں جھوٹا طوفان اٹھائے، یہی سزا ہے۔ رسول کی مخالفت اور بدعت کا بوجھ اس کے دل سے نکل کر اس کے کندھوں پر آ پڑتا ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”گو وہ دنیوی ٹھاٹھ رکھتا ہو لیکن ذلت اس کے چہرے پر برستی ہے۔ قیامت تک یہی سزا ہر جھوٹے، افترا باز کی اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔“

سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ہر بدعتی ذلیل ہے۔“

صفحہ نمبر3073

پھر فرماتا ہے کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے خواہ کیسا ہی گناہ ہو لیکن توبہ کے بعد وہ معاف فرما دیتا ہے، گو کفر و شرک اور نفاق و شفاق ہی کیوں نہ ہو۔ فرمان ہے کہ جو لوگ برائیوں کے بعد توبہ کر لیں اور ایمان لائیں تو اے رسول رحمت اور اے نبی کریم! تیرا رب اس فعل کے بعد بھی غفور و رحیم ہے۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زناکاری کرے۔ پھر اس سے نکاح کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ کوئی دس مرتبہ اسے تلاوت کیا اور کوئی حکم یا منع نہیں کیا۔

صفحہ نمبر3074

Al-A'raaf 7:153Listen in Qur'an →
154

وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى ٱلْغَضَبُ أَخَذَ ٱلْأَلْوَاحَ ۖ وَفِى نُسْخَتِهَا هُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ

اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات) کی تختیاں اٹھالیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لیے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں۔ ہدایت اور رحمت تھی

باب

موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم پر جو غصہ تھا جب وہ جاتا رہا تو سخت غصے کی حالت میں جن تختیوں کو انہوں نے زمین پر ڈال دیا تھا، اب اٹھا لیں۔ یہ غصہ صرف اللہ کی راہ میں تھا کیونکہ آپ کی قوم نے بچھڑے کی پوجا کی تھی۔ ان تختیوں میں ہدایت و رحمت تھی۔

کہتے ہیں کہ جب کلیم اللہ نے تختیاں زمین پر ڈال دیں تو وہ ٹوٹ گئیں، پھر انہیں جمع کیا۔ تو ان میں رہبری اور رحم پایا اور تفصیل اٹھا لی گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ ان تختیوں کے ٹکڑے شاہی خزانوں میں بنی اسرائیل کے پاس دولت اسلامیہ کے ابتدائی زمانے تک محفوظ رہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس کی صحت کا کوئی پتہ نہیں حالانکہ یہ بات مشہور ہے کہ وہ تختیاں جنتی جوہر کی تھیں اور اس آیت میں ہے کہ پھر موسیٰ علیہ السلام نے خود ہی انہیں اٹھا لیا اور ان میں رحمت و ہدایت پائی چونکہ رہبت متضمن ہے خشوع و خضوع کو، اس لیے اسے لام سے متعدی کیا۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ان میں آپ نے لکھا دیکھا کہ ایک امت تمام امتوں سے بہتر ہو گی جو لوگوں کے لیے قائم کی جائے گی جو بھلی باتوں کا حکم کرے گی اور برائیوں سے روکے گی تو موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ! میری امت کو یہی امت بنا دے۔ جواب ملا کہ یہ امت امت احمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پھر پڑھا کہ ایک امت ہو گی جو دنیا میں سب سے آخر آئے گی اور جنت میں سب سے پہلے جائے گی تو بھی آپ نے یہی درخواست کی اور یہی جواب پایا۔ پھر پڑھا کہ ایک امت ہو گی جن کی کتاب ان کے سینوں میں ہو گی جس کی وہ تلاوت کریں گے یعنی حفظ کریں گے اور دوسرے لوگ دیکھ کر پڑھتے ہیں۔

صفحہ نمبر3076

اگر ان کی کتابیں اٹھ جائیں تو علم جاتا رہے کیونکہ انہیں حفظ نہیں۔ اس طرح کا حافظہ اسی امت کے لئے مخصوص ہے، کسی اور امت کو نہیں ملا۔ اس پر بھی آپ نے یہی درخواست کی اور یہی جواب پایا۔ پھر دیکھا کہ اس میں لکھا ہوا ہے کہ ایک امت ہو گی جو اگلی پچھلی تمام کتابوں پر ایمان لائے گی اور گمراہوں سے جہاد کرے گی یہاں تک کہ کانے دجال سے جہاد کرے گی۔ اس پر بھی آپ نے یہی دعا کی اور یہی جواب پایا۔

پھر دیکھا کہ ایک امت ہو گی جو اپنے صدقے آپ کھائے گی اور اجر بھی پائے گی حالانکہ اور امتیں جو صدقہ کرتی رہیں، اگر قبول ہوا تو آگ آ کر اسے کھا گئی اور اگر نامقبول ہوا تو اسے درندوں پرندوں نے کھا لیا۔ اللہ نے تمہارے صدقے تمہارے مالداروں سے تمہارے مفلسوں کے لیے لیے ہیں۔ اس پر بھی کلیم اللہ نے یہی دعا کی اور یہی جواب ملا۔ پھر پڑھا کہ ایک امت ہو گی جو اگر نیکی کا ارادہ کر لے پھر نہ کرے تو بھی نیکی لکھ لی جائے گی اور اگر کر بھی لی تو دس نیکیاں لکھی جائیں گی، سات سو تک اسی طرح بڑھتی چلی جائیں گی اس پر بھی آپ نے یہی دعا کی اور یہی جواب پایا۔ پھر ان تختیوں میں آپ نے پڑھا کہ ایک امت ہو گی جو خود بھی شفاعت کرے گی اور ان کی شفاعت دوسرے بھی کریں گے۔ آپ نے پھر یہی دعا کی کہ اے اللہ! یہ مرتبہ میری امت کو دے۔ جواب ملا: یہ امت امت احمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اس پر آپ نے تختیاں لے لیں اور کہنے لگے: اے اللہ! مجھے امت احمد میں کر دے۔“

صفحہ نمبر3077

Al-A'raaf 7:154Listen in Qur'an →
155

وَٱخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُۥ سَبْعِينَ رَجُلًۭا لِّمِيقَٰتِنَا ۖ فَلَمَّآ أَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّٰىَ ۖ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَّآ ۖ إِنْ هِىَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَآءُ وَتَهْدِى مَن تَشَآءُ ۖ أَنتَ وَلِيُّنَا فَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَا ۖ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْغَٰفِرِينَ

اور موسیٰ نے اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کرکے کوہ طور پر حاضر) ٹل کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے پروردگار تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کر دیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کردے گا۔ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے

موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭

موسیٰ علیہ السلام نے حسب فرمان الٰہی اپنی قوم میں سے ستر شخصوں کو منتخب کیا اور جناب باری سے دعائیں مانگنا شروع کیں۔ لیکن یہ لوگ اپنی دعا میں حد سے تجاوز کر گئے۔ کہنے لگے: اللہ تو ہمیں وہ دے جو نہ ہم سے پہلے کسی کو دیا ہو، نہ ہمارے بعد کسی کو دے۔ یہ دعا اللہ تعالیٰ کو ناپسند آئی اور ان پر بھونچال آ گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:74/6] ‏ جس سے گھبرا کر موسیٰ علیہ السلام اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”انہیں لے کر آپ اللہ تعالیٰ سے بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کی معذرت کرنے کے لئے گئے تھے۔ یہاں جب وہ پہنچے تو کہنے لگے: ہم تو جب تک خود اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں، ایمان نہ لائیں گے۔ ہم کلام سن رہے ہیں لیکن دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس پر کڑاکے کی آواز ہوئی اور یہ سب مر کھپ گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے رونا شروع کیا کہ میں بنی اسرائیل کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ ان کے یہ بہترین لوگ تھے۔ اگر یہی منشاء تھی تو اس سے پہلے ہی ہمیں ہلاک کر دیا ہوتا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:73/6] ‏

امام محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ انہیں اس بت پرستی سے توبہ کرنے کیلئے بطور وفد کے آپ لے چلے تھے۔ ان سے فرما دیا تھا کہ پاک صاف ہو جاؤ، پاک کپڑے پہن لو اور روزے سے چلو۔ یہ اللہ کے بتائے ہوئے وقت پر طور سینا پہنچے۔ مناجات میں مشعول ہوئے تو انہوں نے خواہش کی کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ ہم بھی اللہ کا کلام سنیں۔ آپ نے دعا کی، جب حسب عادت بادل آیا اور موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ گئے اور بادل میں چھپ گئے۔ قوم سے فرمایا: تم بھی قریب آ جاؤ، یہ بھی اندر چلے گئے اور حسب عادت موسیٰ علیہ السلام کی پیشانی پر ایک نور چمکنے لگا جو اللہ کے کلام کے وقت برابر چمکتا رہتا تھا۔ اس وقت کوئی انسان آپ کے چہرے پر نگاہ نہیں ڈال سکتا تھا۔ آپ نے حجاب کر لیا، لوگ سب سجدے میں گر پڑے اور اللہ کا کلام شروع ہوا جو یہ لوگ بھی سن رہے تھے کہ فرمان ہو رہا ہے، یہ نہ کر وغیرہ۔

صفحہ نمبر3078

جب باتیں ہو چکیں اور ابر اٹھ گیا تو ان لوگوں نے کہا: ہم تو جب تک اللہ کو خوب ظاہر نہ دیکھ لیں، ایمان نہیں لائیں گے تو ان پر کڑاکا نازل ہوا اور سب کے سب ایک ساتھ مر گئے۔ موسیٰ علیہ السلام بہت گھبرائے اور مناجات شروع کر دی۔ اس میں یہاں تک کہا کہ اگر ہلاک ہی کرنا تھا تو اس سے پہلے ہلاک کیا ہوتا۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام کو اور شبر، شبیر کو لے کر پہار کی گھاٹی میں گئے۔ ہارون ایک بلند جگہ کھڑے تھے کہ ان کی روح قبض کر لی گئی۔ جب آپ واپس بنی اسرائیل کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا کہ چونکہ آپ کے بھائی بڑے ملنسار اور نرم آدمی تھے آپ نے ہی انہیں الگ لے جا کر قتل کر دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: اچھا تم اپنے میں سے ستر آدمی چھانٹ کر میرے ساتھ کر دو۔ انہوں نے کر دیئے جنہیں لے کر آپ گئے اور ہارون علیہ السلام کی لاش سے پوچھا کہ آپ کو کس نے قتل کیا؟ اللہ کی قدرت سے وہ بولے: کسی نے نہیں بلکہ میں اپنی موت مرا ہوں۔ انہوں نے کہا: بس موسیٰ علیہ السلام، اب سے آپ کی نافرمانی ہرگز نہ کی جائے گی۔ اسی وقت زلزلہ آیا جس سے وہ سب مر گئے۔ اب تو موسیٰ علیہ السلام بہت گھبرائے، دائیں بائیں گھومنے لگے اور وہ عرض کرنے لگے جو قرآن میں مذکور ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی التجا قبول کر لی۔ ان سب کو زندہ کر دیا اور بعد میں وہ سب انبیاء بنے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:74/6] ‏ لیکن یہ اثر بہت ہی غریب ہے۔ اس کا ایک راوی عمارہ بن عبد غیر معروف ہے۔

یہ بھی مروی ہے کہ ان پر اس زلزلے کے آنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ بچھڑے کی پرستش کے وقت خاموش تھے۔ ان پجاریوں کو روکتے نہ تھے۔ اس قول کی دلیل میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بالکل ٹھیک اترتا ہے کہ اے اللہ! ہم میں سے چند بیوقوفوں کے فعل کی وجہ سے …

Al-A'raaf 7:155Listen in Qur'an →
156

۞ وَٱكْتُبْ لَنَا فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ إِنَّا هُدْنَآ إِلَيْكَ ۚ قَالَ عَذَابِىٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنْ أَشَآءُ ۖ وَرَحْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍۢ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِنَا يُؤْمِنُونَ

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

اللہ تعالٰی کی رحمت اور انسان ٭٭

چونکہ کلیم اللہ علیہ السلام نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ یہ محض تیری طرف سے آزمائش ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ عذاب تو صرف گنہگاروں کو ہی ہوتا ہے اور گنہگاروں میں سے بھی انہی کو جو میری نگاہ میں گنہگار ہیں، نہ کہ ہر گنہگار کو۔ میں اپنی حکمت، عدل اور پورے علم کے ذریعے سے جانتا ہوں کہ مستحق عذاب کون ہے؟ صرف اسی کو عذاب پہنچاتا ہوں۔ ہاں البتہ میری رحمت بڑی وسیع چیز ہے جو سب کو شامل، سب پر حاوی اور سب پر محیط ہے۔

چنانچہ عرش کے اٹھانے والے اور اس کے اردگرد رہنے والے فرشتے فرماتے رہتے ہیں کہ اے رب! تو نے اپنی رحمت اور اپنے علم سے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے۔ مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی آیا۔ اونٹ بٹھا کر، اسے باندھ کر نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہو کر اونٹ کو کھول کر اس پر سوار ہو کر اونچی آواز سے دعا کرنے لگا کہ اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور اپنی رحمت میں کسی اور کو ہم دونوں کا شریک نہ کر۔ آپ یہ سن کر فرمانے لگے: بتاؤ یہ خود راہ گم کردہ ہونے میں بڑھا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟ تم نے سنا بھی، اس نے کیا کہا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سن لیا۔ آپ نے فرمایا: اے شخص! تو نے اللہ کی بہت ہی کشادہ رحمت کو بہت تنگ چیز سمجھ لیا۔ سن! اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے کئے جن میں سے صرف ایک حصہ مخلوق میں اتارا جو تمام مخلوق میں تقسیم ہوا یعنی انسان، حیوان، جنات سب میں اور ننانوے حصے اپنے لیے باقی رکھے۔ لوگو! بتاؤ یہ زیادہ راہ بہکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟ [مسند احمد:312/4:ضعیف] ‏

مسند کی اور حدیث میں ہے: اللہ عز و جل نے اپنی رحمت کے سو حصے کئے جن میں سے صرف ایک ہی حصہ دنیا میں اتارا۔ اسی سے مخلوق ایک دوسرے پر ترس کھاتی ہے اور رحم کرتی ہے، اسی سے حیوان بھی اپنی اولاد کے ساتھ نرمی اور رحم کا برتاؤ کرتے ہیں۔ باقی کے ننانوے حصے تو اس کے پاس ہی ہیں جن کا اظہار قیامت کے دن ہو گا۔ [صحیح مسلم:2753] ‏

صفحہ نمبر3081

اور روایت میں ہے کہ بروز قیامت اسی حصے کے ساتھ اور ننانوے حصے جو مؤخر ہیں، ملا دیئے جایں گے۔ [صحیح مسلم:2742] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ اسی نازل کردہ ایک حصے میں پرند بھی شریک ہیں۔ [سنن ابن ماجه:4294، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

طبری میں ہے: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو اپنے دین میں فاجر ہے، جو اپنی معاش میں احمق ہے وہ بھی اس میں داخل ہے۔ اس کی قسم جو میری جان اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے! وہ بھی جنت میں جائے گا جو مستحق جہنم ہو گا۔ اس کی قسم جس کے قبضے میں میری روح ہے! قیامت کے دن اللہ کی رحمت کے کرشمے دیکھ کر ابلیس بھی امیدوار ہو کر ہاتھ پھیلا دے گا۔ [طبرانی کبیر:3022:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کا راوی سعد غیر معروف ہے۔

پس میں اپنی اس رحمت کو ان کے لیے واجب کر دوں گا اور یہ بھی محض اپنے فضل و کرم سے۔ جیسے فرمان ہے: ” تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔ “ [6-الأنعام:12] ‏

پس جن پر رحمت رب واجب ہو جائے گی، ان کے جو اوصاف بیان فرمائے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد اس سے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو تقویٰ کریں یعنی شرک سے اور کبیرہ گناہوں سے بچیں، زکوٰۃ دیں یعنی اپنے ضمیر کو پاک رکھیں اور مال کی زکوٰۃ بھی ادا کریں۔ (‏کیونکہ یہ آیت مکی ہے) اور ہماری آیتوں کو مان لیں، ان پر ایمان لائیں اور انہیں سچ سمجھیں۔

صفحہ نمبر3082

Al-A'raaf 7:156Listen in Qur'an →
157

ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَىٰهُمْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَٱلْأَغْلَٰلَ ٱلَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُوا۟ ٱلنُّورَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں

باب

سابقہ کتابوں میں آخری پیغمبر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اوصاف بیان ہوئے تھے جس سے ان نبیوں کی امت آپ کو پہچان جائے , وہ بیان ہو رہے ہیں۔ سب کو حکم تھا کہ ان صفات کا پیغمبر اگر تمہارے زمانے میں ظاہر ہو تو تم سب ان کی تابعداری میں لگ جانا۔

مسند احمد میں ہے: ایک صاحب فرماتے ہیں: میں کچھ خرید و فروخت کا سامان لے کر مدینے آیا۔ جب اپنی تجارت سے فارغ ہوا تو میں نے کہا: اس شخص سے بھی مل لوں۔ میں چلا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کہیں جا رہے ہیں۔ میں بھی پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ آپ ایک یہودی عالم کے گھر گئے، اس کا نوجوان تنومند بیٹا نزع کی حالت میں تھا اور وہ اپنے دل کو تسکین دینے کیلئے تورات کھولے ہوئے اس کے پاس بیٹھا ہوا تلاوت کر رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ تجھے اس کی قسم جس نے یہ تورات نازل فرمائی ہے، کیا میری صفت اور میرے معبوث ہونے کی خبر اس میں تمہارے پاس ہے یا نہیں؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ اسی وقت اس کا بچہ بول اٹھا کہ اس کی قسم جس نے تورات نازل فرمائی ہے! ہم آپ کی صفات اور آپ کے آنے کا پورا حال اس تورات میں موجود پاتے ہیں اور میری تہہ دل سے گواہی ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور آپ اس کے سچے رسول ہیں۔

صفحہ نمبر3083

آپ نے فرمایا: اس یہودی کو اپنے بھائی کے پاس سے ہٹاؤ۔ پھر آپ ہی اس کے کفن دفن کے والی بنے اور اس کے جنازے کی نماز پڑھائی۔ [مسند احمد:411/5:ضعیف] ‏

مستدرک حاکم میں ہے: ہشام بن عاص اموی فرماتے ہیں کہ میں اور ایک صاحب روم کے بادشاہ ہرقل کو دعوت اسلام دینے کے لئے روانہ ہوئے۔ غوطہ دمشق میں پہنچ کر ہم جبلہ بن ایہم غسانی کے گھر گئے۔ اس نے اپنا قاصد بھیجا کہ ہم اس سے باتیں کر لیں۔ ہم نے کہا: واللہ! ہم تم سے کوئی بات نہ کریں گے۔ ہم بادشاہ کے پاس بھیجے گئے ہیں، اگر وہ چاہیں تو ہم سے خود سنیں اور خود جواب دیں ورنہ ہم قاصدوں سے گفتگو کرنا نہیں چاہتے۔ قاصدوں نے یہ خبر بادشاہ کو پہنچائی، اس نے اجازت دی اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا چنانچہ میں نے اس سے باتیں کیں اور اسلام کی دعوت دی۔ وہ اس وقت سیاہ لباس پہنے ہوئے تھا۔ کہنے لگا کہ دیکھ میں نے یہ لباس پہن رکھا ہے اور حلف اٹھایا ہے کہ جب تک تم لوگوں کو شام سے نہ نکال دوں گا، اس سیاہ لبادے کو نہ اتاروں گا۔ قاصد اسلام نے یہ سن کر پھر کہا: بادشاہ ہوش سنبھالو۔ اللہ کی قسم! یہ آپ کے تخت کی جگہ اور آپ کے بڑے بادشاہ کا پائے تخت بھی ان شاءاللہ ہم اپنے قبضے میں کر لیں گے۔ یہ کوئی ہماری ہوس نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں یہ پختہ خبر مل چکی ہے۔

اس نے کہا: تم وہ لوگ نہیں۔ ہاں ہم سے ہمارا یہ تخت و تاج و قوم چھینے گی جو دنوں کو روزے سے رہتے ہوں اور راتوں کو تہجد پڑھتے ہوں۔

صفحہ نمبر3084

اچھا تم بتاؤ! تمہارے روزے کے احکام کیا ہیں؟ اب جو ہم نے بتائے تو اس کا منہ کالا ہو گیا۔ اس نے اسی وقت ہمارے ساتھ اپنا ایک آدمی کر دیا اور کہا: انہیں شاہ روم کے پاس لے جاؤ۔ جب ہم اس کے پائے تخت کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا: تم اس حال میں تو اس شہر میں نہیں جا سکتے، اگر تم کہو تو میں تمہارے لیے عمدہ سواریاں لا دوں، ان پر سوار ہو کر تم شہر میں چلو۔ ہم نے کہا: نا ممکن ہے، ہم تو اسی حالت میں انہی سواریوں پر چلیں گے۔ انہوں نے بادشاہ سے کہلوا بھیجا۔ وہاں سے اجازت آئی کہ اچھا! انہیں اونٹوں پر ہی لے آؤ۔ ہم اپنے اونٹوں پر سوار، گلے میں تلواریں لٹکائے شاہی محل کے پاس پہنچے۔ وہاں ہم نے اپنی سواریاں بٹھائیں۔ بادشاہ دریچے میں سے ہمیں دیکھ رہا تھا، ہمارے منہ سے بےساختہ «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اللہُ اَکْبَرُ» کا نعرہ نکل گیا۔

اللہ خوب جانتا ہے کہ اسی وقت شاہ روم کا محل تھرا اٹھا، اس طرح جس طرح کسی خوشے …

Al-A'raaf 7:157Listen in Qur'an →
158

قُلْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِىِّ ٱلْأُمِّىِّ ٱلَّذِى يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

(اے محمدﷺ) کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا (یعنی اس کا رسول) ہوں۔ (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ تو خدا پر اور اس کے رسول پیغمبر اُمی پر جو خدا پر اور اس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ

النبی العالم اور النبی الخاتم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی و رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ تمام عرب، عجم، گوروں، کالوں سے کہہ دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ آپ کی شرافت و عظمت ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور تمام دنیا کے لیے صرف آپ ہی نبی ہیں۔

جیسے فرمان قرآن ہے «قُلِ اللَّـهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَـٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ‏ یعنی ” اعلان کر دے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہ ہے۔ اس پاک قرآن کی وحی میری جانب اس لیے اتاری گئی ہے کہ میں اس سے تمہیں اور جن لوگوں تک یہ پہنچے سب کو ہوشیار کر دوں۔ “

اور آیت میں ہے «وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» [11-هود:17] ‏ یعنی ” مخلوق کے مختلف گروہ میں سے جو بھی آپ کا انکار کرے، اس کی وعدہ گاہ جہنم ہے۔ “

اور آیت میں ہے «وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ» [3-آل عمران:20] ‏ یعنی ” اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سے کہہ دو کہ کیا تم مانتے ہو؟ اگر تسلیم کر لیں، مسلمان ہو جائیں تو راہ پر ہیں ورنہ تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہی ہے۔ “

اس مضمون کی اور بھی قرآنی آیتیں بکثرت ہیں اور حدیثیں تو اس بارے میں بےشمار ہیں۔ دین اسلام کی ذرا سی بھی سمجھ جسے ہے، وہ بالیقین جانتا اور مانتا ہے کہ آپ تمام جہان کے لوگوں کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں ہے کہ اتفاق سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میں کچھ چشمک ہو گئی۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ کو ناراض کر دیا۔ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ اسی حالت میں چلے گئے۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ آپ معاف فرمائیں اور اللہ سے میرے لیے بخشش چاہیں لیکن عمر رضی اللہ عنہ راضی نہ ہوئے بلکہ کواڑ بند کر لیے۔ آپ لوٹ کر دربار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں آئے اور اس وقت اور صحابہ رضی اللہ عنہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں موجود تھے۔ آپ نے فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے انہیں ناراض اور غضبناک کر دیا۔

صفحہ نمبر3096

عمر رضی اللہ عنہ صدیق رضی اللہ عنہ کی واپسی کے بعد بہت ہی نادم ہوئے اور اسی وقت دربار رسالت مآب میں حاضر ہو کر تمام بات کہہ سنائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ باربار کہتے جاتے تھے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! زیادہ ظلم تو مجھ سے سرزد ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میرے ساتھی کو میری وجہ سے چھوڑتے نہیں؟ سنو! جب میں نے اس آواز حق کو اٹھایا کہ لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں تو تم نے کہا: تو جھوٹا ہے لیکن اس ابوبکر نے کہا: آپ سچے ہیں۔ [صحیح بخاری:4640] ‏

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ یاد رہے کہ میں اسے فخراً نہیں کہتا۔ میں تمام سرخ و سیاہ لوگوں کی جانب بھیجا گیا ہوں اور میری مدد مہینے بھر کے فاصلے سے صرف رعب کے ساتھ کی گئی ہے اور میرے لیے غنیمتوں کے مال حلال کر دیئے گئے ہیں حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لئے حلال نہیں کئے گئے تھے اور میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو کے لیے حلال کر دی گئی ہے اور مجھے اپنی امت کی شفاعت عطا فرمائی گئی ہے جسے میں نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ (‏مسند امام احمد) [مسند احمد:301/1:حسن] ‏

عمرو بن شعیب اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ …

Al-A'raaf 7:158Listen in Qur'an →
159

وَمِن قَوْمِ مُوسَىٰٓ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ

اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں

انبیاء کا قاتل گروہ ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتے ہیں کہ امت موسیٰ میں بھی ایک گروہ حق کا ماننے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے «مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّـهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ» [3-آل عمران:113] ‏ ” اہل کتاب میں سے ایک جماعت حق پر قائم ہے، راتوں کو اللہ کے کلام کی تلاوت کرتی رہتی ہے اور برابر سجدے کیا کرتی ہے۔ “

اور آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَـٰئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّـهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [3-آل عمران:199] ‏ یعنی ” اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس پر جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اور اس پر جو ان کی طرف اتارا گیا ہے، ایمان لاتے ہیں، اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اللہ کی باتوں کو دنیوی نفع کی خاطر فروخت نہیں کرتے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ “

اور آیت میں ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ أُولَـٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» [28-القصص:52-54] ‏ ” جنہیں ہم نے اس قرآن سے پہلے اپنی کتاب دی ہے، وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی آیتیں سن کر اپنے ایمان کا اور اس کی حقانیت کا اعلان کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ام اس سے پہلے ہی مسلمان تھے۔ انہیں ان کے صبر کا اجر ہے۔ “

اور آیت میں ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ» [2-البقرة:121] ‏ ” جو لوگ ہماری کتاب پائے ہوئے ہیں اور اسے حق تلاوت کی ادائیگی کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ “

اور فرمان ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ۩» [17-الإسراء:107-109] ‏ ” جو لوگ پہلے علم دیئے گئے ہیں، وہ ہمارے پاک قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گر پڑتے ہیں۔ ہماری پاکیزگی کا اظہار کر کے ہمارے وعدوں کی سچائی بیان کرتے ہیں۔ اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجدے کرتے ہیں اور عاجزی اور اللہ سے خوف کھانے میں سبقت لے جاتے ہیں۔ “

امام ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس جگہ ایک عجیب خبر لکھی ہے کہ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب بنی اسرائیل نے کفر کیا اور اپنے نبیوں کو قتل کیا، ان کے بارہ گروہ تھے۔ ان میں سے ایک گروہ اس نالائق گروہ سے الگ رہا۔ اللہ تعالیٰ سے معذورت کی اور دعا کی کہ ان میں اور ان گیارہ گروہوں میں وہ تفریق کر دے۔ چنانچہ زمین میں ایک سرنگ ہو گئی۔ یہ اس میں چلے گئے اور چین کے پرلے پار نکل گئے۔ وہاں پر سچے سیدھے مسلمان انہیں ملے جو ہمارے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے۔ کہتے ہیں کہ آیت «وَقُلْنَا مِن بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا» [17-الإسراء:104] ‏ کا یہی مطلب ہے۔

اس آیت میں جس دوسرے وعدے کا ذکر ہے، یہ آخرت کا وعدہ ہے۔ کہتے ہیں: اس سرنگ میں ڈیڑھ سال تک وہ چلتے رہے۔ کہتے ہیں: اس قوم کے اور تمہارے درمیان ایک نہر ہے

صفحہ نمبر3100

Al-A'raaf 7:159Listen in Qur'an →
160

وَقَطَّعْنَٰهُمُ ٱثْنَتَىْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًۭا ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ إِذِ ٱسْتَسْقَىٰهُ قَوْمُهُۥٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ ۖ فَٱنۢبَجَسَتْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًۭا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍۢ مَّشْرَبَهُمْ ۚ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْغَمَٰمَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ ۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کرکے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنا دیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور (ان سے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان کیا اپنا ہی کیا

باب

یہ سب آیتیں سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کر دی ہے۔ وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے، ہم نے وہیں ذکر کر دیا ہے۔ دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔

صفحہ نمبر3101

Al-A'raaf 7:160Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.