Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 141–150 of 206

141

وَإِذْ أَنجَيْنَٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۖ يُقَتِّلُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ

(اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی

تقریباً یہی الفاظ سورة البقرۃ آیت 49 میں بھی گزر چکے ہیں۔

Al-A'raaf 7:141Listen in Qur'an →
142

۞ وَوَٰعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَٰثِينَ لَيْلَةًۭ وَأَتْمَمْنَٰهَا بِعَشْرٍۢ فَتَمَّ مِيقَٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةًۭ ۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَٰرُونَ ٱخْلُفْنِى فِى قَوْمِى وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ ٱلْمُفْسِدِينَ

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور اس دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلّہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہِٰ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا ٹھیک اور شریروں کے رستے نہ چلنا

آیت 142 وَوٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَۃً یعنی کوہ سینا طور پر طلب کیا۔ عام طور پر اس طرح کہنے سے دن رات ہی مراد ہوتے ہیں ‘ لیکن عربی محاورہ میں رات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔وَّاَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّہٖٓ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ج۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے طور پر چلہ مکمل کیا ‘ جس کے دوران آپ نے لگاتار روزے بھی رکھے۔ ہمارے ہاں صوفیاء نے چلہ کاٹنے کا تصور غالباً یہیں سے لیا ہے۔

Al-A'raaf 7:142Listen in Qur'an →
143

وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِىٓ أَنظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِى وَلَٰكِنِ ٱنظُرْ إِلَى ٱلْجَبَلِ فَإِنِ ٱسْتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوْفَ تَرَىٰنِى ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكًّۭا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًۭا ۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَٰنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں

فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا جَلَا یَجْلُو جَلَاءً کے معنی ہیں ظاہر کرنا ‘ روشن کرنا۔ اس سے تجلّی باب تفعل ہے ‘ یعنی کسی چیز کا خود روشن ہوجانا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی تجلی تھی جو پہاڑ پر ڈالی گئی جس سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا۔وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا ج تجلئ باری تعالیٰ کے اس بالواسطہ مشاہدے کو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام برداشت نہ کرسکے۔ پہاڑ پر تجلی کا پڑنا تھا کہ آپ علیہ السلام بےہوش ہو کر گرپڑے۔فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہوش آیا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے سوال کی جسارت پر توبہ کی اور عرض کیا کہ اے اللہ ! میں تجھے دیکھے بغیر سب سے پہلے تجھ پر ایمان لانے والا ہوں۔

Al-A'raaf 7:143Listen in Qur'an →
144

قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّى ٱصْطَفَيْتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ بِرِسَٰلَٰتِى وَبِكَلَٰمِى فَخُذْ مَآ ءَاتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ ٱلشَّٰكِرِينَ

(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ

آیت 144 قَالَ یٰمُوْسٰٓی اِنِّی اصْطَفَیْتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَبِکَلاَمِیْ ز۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا امتیازی مقام تھا ‘ جیسے سورة النساء میں فرمایا : وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا ۔فَخُذْ مَآ اٰتَیْتُکَ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ یعنی یہ الواح جو ہم آپ علیہ السلام کو دے رہے ہیں انہیں لے لو اور ان میں جو احکام لکھے ہوئے ہیں ان کا حق ادا کرو۔

Al-A'raaf 7:144Listen in Qur'an →
145

وَكَتَبْنَا لَهُۥ فِى ٱلْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْعِظَةًۭ وَتَفْصِيلًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍۢ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا۟ بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُو۟رِيكُمْ دَارَ ٱلْفَٰسِقِينَ

اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا

آیت 145 وَکَتَبْنَا لَہٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَۃً وَّتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْءٍ ج۔ یعنی شریعت کے تمام بنیادی احکام ان الواح میں درج کردیے گئے تھے۔ اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے بنیادی احکام شاہراہ حیات پر انسان کے لیے گویا danger signals کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسے کسی پر پیچ پہاڑی سڑک پر سفر کو محفوظ بنانے کے لیے جگہ جگہ danger cautions نصب کیے جاتے ہیں اسی طرح انسانی تمدن کے پیچیدہ راستے پر آسمانی شریعت اپنے احکامات کے ذریعے caution نصب کر کے انسانی تگ و دو کے لیے ایک محفوظ دائرہ مقرر کردیتی ہے تاکہ انسان اس دائرے کے اندر رہتے ہوئے ‘ اپنی عقل کو بروئے کار لاکر اپنی مرضی اور پسند ناپسند کے مطابق زندگی گزارے۔ اس دائرے کے باہر محرمات ہوتے ہیں جن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے کہ ان کے قریب بھی مت جانا : تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَقْرَبُوْہَا ط البقرۃ : 187۔فَخُذْہَا بِقُوَّۃٍ وَّاْمُرْ قَوْمَکَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِہَا ط۔ کسی بھی حکم پر عمل درآمد کے لیے مختلف درجے ہوتے ہیں۔ یہ عمل درآمد ادنیٰ درجے میں بھی ہوسکتا ہے ‘ اوسط درجے میں بھی اور اعلیٰ درجے میں بھی۔ لہٰذا یہاں مطلب یہ ہے کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم کو ترغیب دیں کہ وہ احکام شریعت پر عمل کرتے ہوئے اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کی طرف بڑھنے کی کوشش کریں۔ یہی نکتہ ہم مسلمانوں کو بھی قرآن میں بتایا گیا : الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ ط الزمر : 18 یعنی وہ لوگ کلام اللہ کو سنتے ہیں پھر جو اس کی بہترین بات ہوتی ہے اس کو اختیار کرتے ہیں۔ ایک طرز عمل یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں ڈھیل اور رعایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ امتیازی پوزیشن نہ سہی ‘ فرسٹ یا سیکنڈڈویژن بھی نہ سہی ‘ بس pass marks کافی ہیں ‘ لیکن یہ معاملہ دین میں نہیں ہونا چاہیے۔ دینی امور میں عمل کا اچھے سے اچھا اور اعلیٰ سے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی کوشش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جیسا کہ ہم سورة المائدۃ میں بھی پڑھ آئے ہیں : اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ دنیوی امور میں تو ہر شخص ع ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں ! کے نظریے کا حامل نظر آتا ہی ہے ‘ لیکن دین کے سلسلے میں بھی ہر مسلمان کی کوشش ہونی چاہیے کہ اس کا آج اس کے کل سے بہتر ہو۔ دینی امور میں بھی وہ ترقی کے لیے حتی الامکان ہر گھڑی کوشاں رہے۔سَاُورِیْکُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ ۔ اس سے مرادفلسطین کا علاقہ ہے جس پر حملہ آور ہونے کا حکم حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملنے والا تھا۔ بنی اسرائیل کا قافلہ مصر سے نکلنے کے بعد خلیج سویز کو عبور کر کے صحرائے سینا میں داخل ہوا تو خلیج سویز کے ساتھ ساتھ سفر کرتا رہا ‘ یہاں تک کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی کونے میں پہنچ گیا جہاں کوہ طور واقع ہے۔ یہاں پر اس قافلے کا طویل عرصے تک قیام رہا۔ یہیں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر طلب کیا گیا اور جب آپ علیہ السلام تورات لے کر واپس آئے تو آپ علیہ السلام کو فلسطین پر حملہ آور ہونے کا حکم ملا۔ چناچہ یہاں سے یہ قافلہ خلیج عقبہ کے ساتھ ساتھ شمال کی طرف عازم سفر ہوا۔ بنی اسرائیل سات آٹھ سو سال قبل حضرت یوسف علیہ السلام کی دعوت پر فلسطین چھوڑ کر مصر میں آب سے تھے۔ اب فلسطین میں وہ مشرک اور فاسق قوم قابض تھی جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ سخت اور زور آور لوگ ہیں۔ چناچہ جب ان کو حکم ملا کہ جا کر اس قوم سے جہاد کرو تو انہوں نے یہ کہہ کر معذوری ظاہر کردی کہ ایسے طاقتور لوگوں سے جنگ کرنا ان کے بس کی بات نہیں : قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّ فِیْہَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَق المائدۃ : 22 اس واقعے کی تفصیل سورة المائدۃ میں گزر …

Al-A'raaf 7:145Listen in Qur'an →
146

سَأَصْرِفُ عَنْ ءَايَٰتِىَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍۢ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلْغَىِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ

جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے

آیت 146 سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ط۔ یہاں ایک اصول بیان فرما دیا گیا کہ جن لوگوں کے اندر تکبر ہوتا ہے ہم خود ان کا رخ اپنی آیات کی طرف سے پھیر دیتے ہیں ‘ چناچہ وہ ہماری آیات کو سمجھ ہی نہیں سکتے ‘ ان پر غور کر ہی نہیں سکتے۔ اس لیے کہ تکبر اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اَلْکِبْرِیَاءُ رِدَاءِیْ 1 یعنی تکبر میری چادر ہے ‘ اگر کوئی انسان تکبر کرتا ہے تو وہ گویا میری چادر میرے شانے سے گھسیٹ رہا ہے ‘ لہٰذا ایسے ہر انسان کے خلاف میرا اعلان جنگ ہے۔ ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ 2 وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہے۔ چناچہ آیت زیر نظر کا مفہوم یہ ہے کہ جن لوگوں کے اندر تکبر ہے ہم خود انہیں اپنی آیات سے برگشتہ کردیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ہم اس لائق ہی نہیں سمجھتے کہ وہ ہماری آیات کو دیکھیں اور سمجھیں۔ ایسے مغرور لوگوں کو ہم سیدھی راہ کی طرف توجہ مرکوز کرنے ہی نہیں دیتے۔

Al-A'raaf 7:146Listen in Qur'an →
147

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلْءَاخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا

آیت 147 وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَلِقَآءِ الْاٰخِرَۃِ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ ط۔ ایسے لوگ اپنے تئیں بڑی بڑی نیکیاں کمار ہے ہوں گے ‘ مگر اللہ کے ہاں ان کی ان نیکیوں کا کوئی صلہ نہیں ہوگا۔ جیسا کہ قریش مکہ خود کو خادمین کعبہ سمجھتے تھے ‘ وہ کعبہ کی صفائی اور ستھرائی کا خصوصی اہتمام کرتے ‘ حاجیوں کی خدمت کرتے ‘ ان کے لیے دودھ اور پانی کی سبیلیں لگاتے ‘ مگر محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر ایمان لائے بغیر ان کے ان سارے اعمال کی اللہ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی۔

Al-A'raaf 7:147Listen in Qur'an →
148

وَٱتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًۭا جَسَدًۭا لَّهُۥ خُوَارٌ ۚ أَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّهُۥ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ ٱتَّخَذُوهُ وَكَانُوا۟ ظَٰلِمِينَ

اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا

آیت 148 وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰی مِنْم بَعْدِہٖ مِنْ حُلِیِّہِمْ عِجْلاً جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ ط۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر چلے گئے تو آپ علیہ السلام کی قوم کے ایک فرد نے یہ فتنہ اٹھایا ‘ جس کا نام سامری تھا۔ اس نے سونے کا ایک مجسمہ بنانے کا منصوبہ بنایا اور اس غرض سے اس نے سب لوگوں سے زیورات اکٹھے کرلیے۔ روایات کے مطابق یہ زیورات زیادہ تر مصر کے مقامی لوگوں قبطیوں کے تھے جو انہوں نے بنی اسرائیل کے لوگوں کے پاس امانتاً رکھوائے ہوئے تھے۔ فرعونیوں کے ہاتھوں اپنی تمام تر ذلت و خواری کے باوجود معاشرے میں بنی اسرائیل کی اخلاقی ساکھ ابھی تک کسی نہ کسی سطح پر اس وجہ سے موجود تھی کہ یہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے مقامی لوگ اپنی قیمتی چیزیں ان کے ہاں بطور امانت رکھ دیا کرتے تھے۔ جب یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مصر سے نکلے تو اس وقت بھی ان کے بہت سے لوگوں کے پاس قبطیوں کے بہت سے زیورات امانتوں کے طور پر موجود تھے۔ چناچہ وہ زیورات ان کے مالکوں کو واپس کرنے کی بجائے اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ سامری نے ایک منصوبے کے تحت سارے قافلے سے وہ زیورات اکٹھے کیے۔ باقاعدہ ایک بھٹی بناکر ان زیورات کو گلایا اور بچھڑے کی شکل اور جسامت کا ایک مجسمہ تیار کردیا۔ اس نے ایک ماہر کاریگر کی طرح اس مجسمے کو بنایا ‘ سنوارا اور اس میں کچھ سوراخ اس طرح سے رکھے کہ جب ان میں سے ہوا گزرتی تھی تو گائے کے ڈکارنے جیسی آواز سنائی دیتی۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد سامری نے اعلان کردیا کہ یہ بچھڑا تم لوگوں کا خدا ہے اور موسیٰ علیہ السلام کو دراصل مغالطہ ہوگیا ہے جو خدا سے ملنے کوہ طور پر چلے گئے ہیں۔ اس میں ایک اور نکتہ قابل توجہ ہے ‘ وہ یہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام محبت اور جذبہ اشتیاق میں وقت مقررہ سے پہلے ہی کوہ طور پر چلے گئے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب طلبی بھی ہوئی تھی ‘ جس کے بارے میں ہمیں کچھ اشارہ سورة طٰہٰ میں ملتا ہے : وَمَآ اَعْجَلَکَ عَنْ قَوْمِکَ یٰمُوْسٰی۔ اے موسیٰ ! تم اپنی قوم کو چھوڑ کر قبل از وقت کیوں آگئے ہو ؟ اس پر آپ علیہ السلام نے جواب دیا : وَعَجِلْتُ اِلَیْکَ رَبِّ لِتَرْضٰی۔ کہ پروردگار ! میں تو تیری محبت اور تجھ سے گفتگو کرنے کے شوق میں اس لیے جلدی آیا تھا کہ تو اس سے خوش ہوگا۔ گویا آپ علیہ السلام تو فرط اشتیاق میں شاباش کی توقع رکھتے تھے۔ لیکن یہاں ڈانٹ پڑگئی : قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَکَ مِنْم بَعْدِکَ وَاَضَلَّہُمُ السَّامِرِیُّ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تو آپ علیہ السلام کی اس عجلت کی وجہ سے آپ علیہ السلام کے بعد ہم نے آپ علیہ السلام کی قوم کو فتنے میں ڈال دیا ہے اور سامری نے انہیں گمراہ کردیا ہے۔ گویا خیر اور بھلائی کے معاملے میں بھی جلد بازی نہیں کرنی چاہیے اور ہر کام قاعدے ‘ کلیے کے مطابق ہی کرنا چاہیے۔ اسی لیے مثل مشہور ہے : سہج پکے سو میٹھا ہو ! اَلَمْ یَرَوْا اَنَّہٗ لاَ یُکَلِّمُہُمْ وَلاَ یَہْدِیْہِمْ سَبِیْلاً 7 اگرچہ اس مجسمے سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی لیکن انہوں نے یہ نہ سوچا کہ وہ کوئی بامعنی بات کرنے کے قابل نہیں ہے اور نہ ہی کسی انداز میں وہ ان کی راہنمائی کرسکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود : اِتَّخَذُوْہُ وَکَانُوْا ظٰلِمِیْنَ بنی اسرائیل نے اسی بچھڑے کو اپنا معبود مان کر اس کی پرستش شروع کردی اور اس طرح شرک جیسے ظلم عظیم کے مرتکب ہوئے۔ ظالم سے یہ بھی مراد ہے کہ وہ اپنے اوپر بڑے ظلم ڈھانے والے تھے۔

Al-A'raaf 7:148Listen in Qur'an →
149

وَلَمَّا سُقِطَ فِىٓ أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْا۟ أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا۟ قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے

آیت 149 وَلَمَّا سُقِطَ فِیْٓ اَیْدِیْہِمْ وَرَاَوْا اَنَّہُمْ قَدْ ضَلُّوْالا قَالُوْا لَءِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَیَغْفِرْ لَنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ اس معاملے میں وہ لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔ قوم کا ایک بڑا حصہ وہ تھا جو اس گناہ میں بالکل شریک نہیں ہوا۔ دوسرے گروہ میں وہ لوگ تھے جو کچھ دیر کے لیے اس گناہ میں شریک ہوئے ‘ لیکن فوراً انہیں احساس ہوگیا کہ ان سے غلطی ہوگئی ہے۔ تیسراگروہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی تک اس شرک پر اڑا رہا۔ یہاں درمیانی گروہ کے لوگوں کا ذکر ہے کہ غلطی کے بعد وہ نادم ہوئے اور انہیں سمجھ آگئی کہ وہ گمراہی کا ارتکاب کر بیٹھے ہیں۔

Al-A'raaf 7:149Listen in Qur'an →
150

وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَٰنَ أَسِفًۭا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِى مِنۢ بَعْدِىٓ ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى ٱلْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُۥٓ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ٱبْنَ أُمَّ إِنَّ ٱلْقَوْمَ ٱسْتَضْعَفُونِى وَكَادُوا۟ يَقْتُلُونَنِى فَلَا تُشْمِتْ بِىَ ٱلْأَعْدَآءَ وَلَا تَجْعَلْنِى مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔ تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) جلد چاہا (یہ کہا) اور (شدت غضب سے تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجیے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایئے

آیت 150 وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓی اِلٰی قَوْمِہٖ غَضْبَانَ اَسِفًالا غَضْبَان ‘ رَحْمٰنکی طرح فعلان کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے۔ یعنی آپ علیہ السلام نہایت غضبناک تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مزاج بھی جلالی تھا اور قوم کے جرم اور گمراہی کی نوعیت بھی بہت شدید تھی۔ پھرا للہ تعالیٰ نے کوہ طور پر ہی بتادیا تھا کہ تمہاری قوم فتنہ میں پڑچکی ہے لہٰذا ان کا غم و غصہ اور رنج و افسوس بالکل بجا تھا۔قَالَ بِءْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْم بَعْدِیْ ج۔ یہ خطاب حضرت ہارون علیہ السلام سے بھی ہوسکتا ہے اور اپنی پوری قوم سے بھی۔ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّکُمْ ج یعنی اگر سامری نے فتنہ کھڑا کر ہی دیا تھا تو تم لوگ اس قدر جلد بغیر سوچے سمجھے اس کے کہنے میں آگئے ؟ کم از کم میرے واپس آنے کا ہی انتظار کرلیتے !وَاَلْقَی الْاَلْوَاحَ کوہ طور سے جو تورات کی تختیاں لے کر آئے تھے وہ ابھی تک آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں ہی تھیں ‘ تو آپ علیہ السلام نے ان تخیتوں کو ایک طرف زمین پر رکھ دیا۔وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْہِ یَجُرُّہٗٓ اِلَیْہِ ط۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غصے میں حضرت ہارون علیہ السلام کو سر کے بالوں سے پکڑکر اپنی طرف کھینچا اور کہا کہ میں تمہیں اپنا خلیفہ بنا کر گیا تھا ‘ میرے پیچھے تم نے یہ کیا کیا ؟ تم نے قوم کے لوگوں کو اس بچھڑے کی پوجا کرنے سے روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَکَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ ز میں نے تو ان لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا تھا ‘ لیکن انہوں نے مجھے بالکل بےبس کردیا تھا۔ اس معاملے میں ان لوگوں نے اس حد تک جسارت کی تھی کہ وہ میری جان کے درپے ہوگئے تھے۔ فَلاَ تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ شماتتِ اَعداء کا محاورہ ہمارے ہاں اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے ‘ یعنی کسی کی توہین اور بےعزتی پر اس کے دشمنوں کا خوش ہونا اور ہنسنا۔ حضرت ہارون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ اب اس طرح میرے بال کھینچ کر آپ دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیں۔وَلاَ تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ آپ مجھے ان ظالموں کے ساتھ شمار نہ کیجیے۔ میں اس معاملے میں ہرگز ان کے ساتھ نہیں ہوں۔ میں تو انہیں اس حرکت سے منع کرتا رہا تھا۔

Al-A'raaf 7:150Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.