Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 141–150 of 206

141

وَإِذْ أَنجَيْنَٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۖ يُقَتِّلُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ

(اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی

قرآن کا یہ انداز کلام ہے کہ انبیاء کے کلام کے ساتھ متصلاً اللہ کے کلام کو بھی ذکر کردیا جاتا ہے۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کی حکایت کے ساتھ متصلاً اللہ کا کلام بھی آجاتا ہے۔

وَاِذْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ۚ يُقَتِّلُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَ يَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ۭوَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ ۔ اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی ، جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔

اللہ کے کلام اور اللہ کے نبیوں کے کلام کو یجا کرنے سے در اصل نبیوں کی تکریم مقصود ہے اور یہ در اصل اعزازو تکریم کا یہ نہایت ہی بہترین انداز ہے۔

یہ احسان جو بنی اسرائیل پر کیے گئے اور یہاں جتلائے گئے وہ ان کے دل و دماغ میں موجود تھے۔ اور ان کا مشاہدہ تازہ تھا۔ محض ان احسانات کی یاد دہانی ہی اس بات کے لیے کافی تھی کہ وہ سجدہ شکر بجا لاتے۔ اللہ تعالیٰ ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ یہ عبرت کا مقام ہے اور انسانوں پر مشکلات اور اس کے بعد مشکلات سے نجات سب کچھ انسان کے لیے ایک آزمائش ہے۔ وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ " اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش ہے "۔ اس لیے کہ ان میں سے کوئی واقعہ بھی اتفاقی نہ تھا۔ سب کچھ تقدیر الہی کے مطابق تھا اور آزمائش تھی اور آزمائش سے مقصد عبرت آموزی تھی اور مسلمانوں کو تجربات سے دوچار کرکے کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنا مطلوب تھا اور یہ مقصد تھا کہ جب ان کو سزا دی جائے تو ان کے لیے گلے شکوے کا کوئی موقعہ نہ رہے ، اس وقت جب یہ تمام آزمائشیں ان پر کارگر نہ ہوں۔

اب یہ منظر بھی ختم ہوجاتا ہے ، اس سے بڑا دلچسپ دوسرا منظر سامنے آتا ہے۔

Al-A'raaf 7:141Listen in Qur'an →
142

۞ وَوَٰعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَٰثِينَ لَيْلَةًۭ وَأَتْمَمْنَٰهَا بِعَشْرٍۢ فَتَمَّ مِيقَٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةًۭ ۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَٰرُونَ ٱخْلُفْنِى فِى قَوْمِى وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ ٱلْمُفْسِدِينَ

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور اس دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلّہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہِٰ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا ٹھیک اور شریروں کے رستے نہ چلنا

یہ آٹھواں منظر ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ اور آپ کے رب العالمین کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے۔ حضرت موسیٰ اس عظیم تقریب کے لیے بڑا اہتمام کرتے ہیں۔ حضرت ہارون کو وصیت کرکے اپنا قائم مقام بناتے ہیں اور اس کے بعد آپ اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھتے ہیں۔

حضرت موسیٰ کی مہم کا پہلا مرحلہ اب مکمل ہوگیا ہے ، اس مرحلے میں بنی اسرائیل کو ذلت اور زبردستی کی زندگی سے نکال دیا گیا ہے۔ اب وہ قوم فرعون کی ایذا رسانیوں اور تشدد کے دائرے سے باہر نکل آتے ہیں۔ ذلت اور غلامی کی شہری زندگی کو ترک کرکے اب وہ صحرا کی آزاد فضاؤں میں گھوم رہے ہیں۔ اور ارض مقدس کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ابھی تک وہ ارض مقدس کی بازیابی کی عظیم اور اصلی مہم کے اہل ہی نہیں بنے۔ یہ تو نہایت ہی عظیم اور کانٹوں سے پر راہ ہے کہ کوئی کرہ ارض پر اقتدار کے مناصب حاصل کرکے فریضہ خلافت ارضی کا منصب سنبھال لے۔ اس سے قتبل کے منظر میں ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ان کے دلوں میں بت پرستی اور شرک نے کس طرح گھر کرلیا ہے کہ ایک بت پرست قوم کو دوران سفر دیکھتے ہی اپنے لیے بتوں کا مطالبہ کردیا۔ ان کے اذہان و قلوب سے عقیدہ توحید متزلزل ہوگیا جس کے لیے حضرت موسیٰ کو خاص طور پر رسول بنا کر بھیجا گیا اور اس پر کچھ زیادہ عرصہ بھی نہ گزرا تھا۔ لہذا اس بات کی ضرورت تھی کہ حضرت موسیٰ کو تفصیلی ہدایات دے کر ان کے پاس واپس بھیجا جائے اور آپ نئی ہدایات کے تحت اس قوم کی تنظیم و تربیت کریں تاکہ وہ ارض مقدس کی آزادی کا عظیم فریضہ ادا کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقررہ وقت و مقام میں ملاقات کی دعوت دی تاکہ آپ اللہ تعالیٰ سے براہ راست کوئی ہدایات لیں۔ اور اس ملاقات میں خود حضرت موسیٰ کی بھی مزید تربیت مقصود تھی تاکہ آپ بھی آنے والے مشکل حالات اور مشکل مہمات کے لیے تیار ہوجائیں۔ آپ کی تربیت کا کورس تیس دن مقرر ہوا تھا۔ اس میں دس دن کا مزید اضافہ کردیا گیا۔ یوں چالیس دن تک یہ سلسلہ چلا۔ حضرت موسیٰ نے اس عرصے میں ملاقات الٰہی کے لیے ریاض کیا۔ آپ اس دنیا کی دلچسپیوں سے دور ہوگئے۔ اور عالم بالا کی طرف قریب ہوگئے ، لوگوں سے دور اور رب العالمین سے قرب حاصل کیا۔ آپ کی روح صاف ہوگئی اور آپ کا اندرون روشن ہوگیا اور یوں آپ کو براہ راست رب العالمین کی تربیت میں آنے والے فرائض منصب رسالت کے لیے تیار کردیا گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی روانگی سے قبل اپنے بھائی اور جانشین حضرت ہارون کو ان الفاظ میں وصیت کی۔

وَقَالَ مُوْسٰي لِاَخِيْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ ۔ موسیٰ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ " میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا "

حضرت موسیٰ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضرت ہارون بھی اللہ کی جانب سے نبی مسل ہیں۔ لیکن ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کو نصیحت کرے بلکہ نصیحت ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر فرض ہے۔ پھر حضرت موسیٰ کو ان بھاری ذمہ داریوں کا اچھی طرح احساس تھا اور آپ اپنی قوم بنی اسرائیل کو بھی اچھی طرح جانتے تھے۔ حضرت ہارون نے کشادہ دلی سے نصیحت کو سنا اور قبول کیا۔ انہوں نے اس پر برا نہ منایا ، کیونکہ نصیحت برے لوگوں کو اچھی معلوم نہیں ہوتی ، کیونکہ یہ لوگ بھلائی سے چھٹکارا چاہتنے والے ہوتے ہیں اور ان چھوٹے قد والوں پر بھی نصیحت گراں گزرتی ہے جو اپنے آپ کو بہت ہی بڑی چیز سمجھتے ہیں اور ان کو نصیحت کی جائے تو یہ چھوٹے قد کے لوگ اس میں اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ چھوٹے قد والے متکبر وہ ہوتے ہیں کہ تم ان کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہو کہ ان کی امداد کرو اور وہ تمہارے ہاتھکو جھٹک دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو بڑا دکھا سکیں۔ یہ تیس راتیں اور پھر ان میں دس …

Al-A'raaf 7:142Listen in Qur'an →
143

وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِىٓ أَنظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِى وَلَٰكِنِ ٱنظُرْ إِلَى ٱلْجَبَلِ فَإِنِ ٱسْتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوْفَ تَرَىٰنِى ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكًّۭا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًۭا ۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَٰنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں

اب تو یہ منظر آپ کے سامنے ہے۔ یہ منظر ایک منفرد منظر ہے اور یہ حضرت موسیٰ کا خاصہ ہے اس میں رب ذوالجلال اور رب العالمین براہ راست اپنے بندے سے مخاطب ہیں۔ اس منظر میں ایک ذرہ ، ایک محدود ذرہ اور ایک فانی وجود ایک ازلی اور ابدی ذات کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر ایک بندہ اپنے خالق سے براہ راست ہدایت اخذ کرتا ہے جبکہ خالق ابدی و ازلی وراء الوراء ہے اور بندہ زمین پر ہے۔ لیکن اس التقاء کی کیفیت کیا تھی ؟ اس کے ادراک سے ہم عاجز ہیں۔ اللہ کے ساتھ ہمکلام ہونے کی کیفیت کیا تھی ، اس کے بارے میں ہم نہیں بتا سکتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کن ذرائع ادراک سے یہاں ہدایات اخذ کرتے تھے ، کلمات کس طرح تے ؟ یہ سب تصورات ہم بندوں اور محدود قوت کے مالک انسان کے لیے ناقابل تصور ہیں۔ اس لیے کہ ہماری قوت مدرکہ محدود ہے۔ ہمارا سرمایہ ادراک محدود ہے۔ ہمارے تجربے واقعاتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر جو لطیف راز اور جو لطیف شعور و دیعت کر رکھا ہے اس کے ذریعے ہم معلوم کرتے ہیں کہ یہ ہمکلامی واقع ہوئی اور ہمیں اس کا یقین ہے اور شعوری یقین ہے لیکن کیفیت کے بارے میں سوال کرتے ہمیں اپنے یقین کو گدلا نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ تعلق ، محدود اور لامحدود کا تعلق ہمارے محدود پیمانہ ادراک میں سما نہیں سکتا۔

ہمیں چاہیے کہ اس منفرد منظر کو ہم اپنے خیال ، اپنے اعصاب اور اپنے وجود میں پوری طرح مستحضر کرلیں۔ اپنی پوری قوتوں ، فہم و ادراک کی پوری قوتوں کو مستحضر کرکے اور اس کا منظر کے تصورات کے قریب جانے کی کوشش کریں۔ اور حضرت موسیٰ جس حقیقت کا ادراک کرتے تھے اور اس کا شعور پاتے تھے ، اس میں ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہوسکیں۔

(وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ ) " جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ " اے رب ! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں "

یہ ایک خوفناک منظر ہے۔ حضرت موسیٰ اللہ کی طرف سے کلمات سن رہے ہیں اور ان کو جس بات کا شوق ہے اور جس طرف وہ کھنچے چلے جا رہے ہیں اور ان کی روح جس سمت میں بلند ہو رہی ہے ایسے حالات میں حضرت موسیٰ بھول جاتے ہیں کہ ان کی بساط کیا ہے اور ان کی روح جس سمت میں بلند ہو رہی ہے ایسے حالات میں حضرت موسیٰ بھول جاتے ہیں کہ ان کی بساط کیا ہے اور یہ کہ اللہ کی جلالت شان کیا ہے ، وہ مطالبہ کردیتے ہیں ، ایک ایسے امر کا جوا اس کرۂ کی بشریت کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔ اور اگر اسے ممکن بنا دیا جائے تو کسی انسان کی طاقت ہی میں یہ نہیں ہے۔ یعنی آپ رویت ذات باری کا مطالبہ فرماتے ہیں۔ شوق وامید کے ان حالات میں اور محبت و وصال کے اس ماحول میں وہ عالم شہود میں ذات باری کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن جواب میں دو ٹوک بات آتی ہے۔ قَالَ لَنْ تَرٰىنِيْ ، فرمایا " تو مجھے نہیں دیکھ سکتا "۔ اور اس کے بعد اللہ کی شفقت سامنے آتی ہے۔ اور آپ کو یہ بات پڑھا دی جاتی ہے کہ لَنْ تَرٰىنِيْ کی وجہ کیا ہے یہ کہ آپ کے اندر اس کی طاقت ہی نہیں ہے۔ وَلٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْـتَــقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِيْ ۔ " ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا " اس لیے کہ پہاڑ انسان کے مقابلے میں زیادہ جمنے والا ہے۔ پھر وہ متاثر ہونے والا بھی نہیں ہے اور وہ انسان کے مقابلے میں قبولیت کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ لیکن اس کے باوجود جو واقعہ ہوا وہ یہ تھا۔ فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ " چناچہ ان کے رب نے جب پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ غش کھا کر گر پڑا "۔

سوال یہ ہے کہ یہ تجلی کیسی تھی ، ہم اس پر قدرت نہیں رکھتے کہ اس کی کوئی صفت …

Al-A'raaf 7:143Listen in Qur'an →
144

قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّى ٱصْطَفَيْتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ بِرِسَٰلَٰتِى وَبِكَلَٰمِى فَخُذْ مَآ ءَاتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ ٱلشَّٰكِرِينَ

(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ

حضرت موسیٰ نے دوسری بار رحمت الہیہ کا یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ، اب انہیں خوشخبری مل رہی ہے کہ وہ منتخب روزگار ہیں۔ آپ میرے کلام اور پیغام کے حامل ہیں۔ فرعون سے مطالبہ یہ تھا کہ میری قوم کو رہا کرو ، اب آپ نے اپنی قوم میں کام کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتایا " میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا ہے کہ میری پیغمبری کرے " اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے زمانے کے سب لوگوں میں سے آپ کو رسول بنانے کے لیے منتخب کیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں اور بعد میں بھی۔ لہذا انتخاب اور اصطفاء سے مراد ہے ، قرائن کے مطابق اس دور کے لوگوں کے مقابلے میں ہے۔ رہی صفت ہم کلامی باری تعالیٰ تو اس صفت میں حضرت موسیٰ منفرد ہیں۔ وہی یہ بات کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو یہ حکم دیا کہ آپ وہ ہدایات پکڑیں اور شکر ادا کریں تو یہ اللہ کی جانب سے ہدایت اور راہنمائی اور یہ تذکیر ہے کہ اللہ کے ان انعامات کا جواب ایک ہی ہے یعنی شکر ادا کرنا۔ رسول چونکہ قائد ہوتے ہیں اور قائدین لوگوں کے لیے نمونہ ہوتے ہیں ، اس لئے لوگوں کا بھی فرض بن جاتا ہے کہ وہ بھی اللہ کی ہدایات کو لیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ یوں ان پر اللہ کے مزید انعامات نازل ہوں گے ، ان کی اصلاح ہوگی اور وہ اللہ سے جڑ کر سرکشی سے بچ جائیں گے۔

Al-A'raaf 7:144Listen in Qur'an →
145

وَكَتَبْنَا لَهُۥ فِى ٱلْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْعِظَةًۭ وَتَفْصِيلًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍۢ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا۟ بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُو۟رِيكُمْ دَارَ ٱلْفَٰسِقِينَ

اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا

اب چند الفاظ اس رسالت کے مضمون اور طریقہ کار کے بارے میں ہیں کہ یہ رسالت کس طرح دی گئی :

(وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ) " اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو ہر شعبہ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی "

روایات اور مفسرین کے درمیان ان تختیوں کے بارے میں اختلافات ہیں ، بعض نے ان کے بارے میں تفصیلات دی ہیں۔ ان تفصیلات کا بیشتر حصہ ان اسرائیلی روایات پر مشتمل ہے جو اسلامی تفاسیر کے اندر داخل ہوگئی ہیں۔ ان روایات میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات مرفوع نہیں ہے۔ چناچہ ہم اس آیت کو پڑھ کر آگے جانے سے رک جاتے ہیں۔ اس لئے کہ ان روایات میں جو تفصیلات ہیں ان سے ان الواح کی حقیقت میں نہ اضافہ ہوتا ہے اور نہ کمی۔ یہ تختیاں کیسی تھیں ، کس چیز کی بنی ہوئی تھیں۔ ان پر کس انداز کی تحریر درج تھی ، اس کے بارے میں ہمارے پاس تفصیلات نہیں ہیں ، نہ ان کی کوئی ضرورت ہے ، کیونکہ اصل مقصد تو یہ تھا کہ ان تختیوں میں لکھا ہوا کیا ہے اور کیا تھا ؟ ان میں وہ تمام تفصیلات تھیں جن کا تعلق حضرت موسیٰ کی رسالت سے تھا۔ مثلاً اللہ کا بیان ، اللہ کی شریعت کے احکام ، لوگوں کی اصلاح کے لیے مزید ہدایات ، امت کے حالات اور جن امور کی وجہ سے ان کے اندر بگاڑ پیدا ہوگیا تھا ، یعنی ان کی تاریخ وغیرہ۔

فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا۔ اور اس سے کہا " ان ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں "

اللہ کی جانب سے اہم حکم یہ تھا کہ آپ نہایت ہی قوت اور عزم سے ان الواح و ہدایات کو لیں اور اپنی قوم کو سختی سے حکم دیں کہ وہ ان ہدایات پر عمل کریں۔ اگرچہ وہ مشکل ہوں اس لیے کہ وہ ان کی اصلاح حال کے لیے نہایت ہی موزوں تھیں اور احسن تھیں۔

حضرت موسیٰ کو اس انداز میں ہدایات لینے کا حکم دینے کے دو مقصد ہیں۔ ایک یہ ، بنی اسرائیل نے ایک طویل عرصہ تک غلامی کی زندگی بسر کی تھی ، ایک طویل عرصہ تک غلامی کی زندگی بسر کرتے کرتے ان کے اندر اخلاقی بگاڑ پیدا ہوگیا تھا ، لہذا ان کے ساتھ معاملہ کرتے وقت سختی اور سنجیدگی کی اشد ضرور تھی ، تاکہ وہ ان کے اندر فرائض رسالت اچھی طرح ادا کرسکیں اور پھر فرائض منصب خلافت ادا کرسکیں اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ تمام وہ لوگ جو نظریہ حیات کی اساس پر کام کرتے ہوں ان کو اپنے نظریات پر صحیح طرح جم جانا چاہیے۔

اللہ کے نزدیک عقیدہ بہت ہی اہم ہوتا ہے۔ اس پوری کائنات کے نقطہ نظر سے بھی نظریہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یعنی اس کائنات کے تصرفات اور انسانی تاریخ کے بارے میں انسان کا صاف ستھرا نقطہ نظر ہونا چاہیے۔ اسی طرح اس دنیاوی زندگی اور اخروی زندگی کے بارے میں انسان کے افکار صاف ہونے ضروری ہیں۔ یوں انسان کی بندگی صرف اللہ وحدہ کی الوہیت کے لیے مخصوص ہو۔ اس کے بعد اس نظریہ پر مبنی ایک ایسا نظام زندگی قائم ہو جو انسانی زندگی کو یکسر تبدیل کردے اور زندگی کے لیے بالکل ایک نیا انداز مقرر کردے۔ وہ نظام ایسا نہ ہو جس کے تحت جاہلیت چلتی ہے ، جس میں اللہ کے سوا کسی اور کی الوہیت قائم ہوتی ہو۔ غرض پوری زندگی کا ایک ایسا تفصیلی اور جامع نظام جو اس نظریہ حیات پر مبنی ہو۔ ایسے نظام کا قیام ضروری ہے۔ اللہ کے نزدیک واضح عقیدہ اور اس پر مبنی نظام کی بڑی اہمیت ہے۔ اس پوری کائنات کی تخلیق ، اس کے اندر انسان کے وجود اور پھر اس انسان کی تاریخ کے بارے اسلامی نظریہ حیات پر انسان کو بڑی سختی سے جم جانا چاہئے۔ انسان کو اس کے بارے میں سنجیدہ ہونا چاہئے واضح طور پر وہ اپنے نظریات کا اعلان کرے اور دو ٹوک الفاظ میں کرے۔ اس معاملے میں سہل انگاری سے کام نہ لے۔ نرمی اختیار نہ کرے ، رخصتیں تلاش نہ کرے۔ اس لیے کہ یہ بہت ہی اہم اور بنیادی معاملہ ہے۔ اس …

Al-A'raaf 7:145Listen in Qur'an →
146

سَأَصْرِفُ عَنْ ءَايَٰتِىَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍۢ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلْغَىِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ

جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے

اب اس منظر کے آخر میں اور موسیٰ اور رب موسیٰ کے مکالمے کے اختتام پر ان لوگوں کے انجام کے بارے میں بتایا جاتا ہے جو متکبر ہیں ، جو اللہ کے معجزات و ہدایات سے منہ موڑتے ہیں۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں اور ان لوگوں کی تصویر کشی بڑے واضح رنگ اور قرآن کریم کے انداز تصویر کشی کے عین مطابق۔

اللہ تعالیٰ یہاں ان لوگوں کے بارے میں اپنی مشیت کا اعلان فرماتے ہیں جو اس زمین میں بغیر جواز کے تکبر کرتے ہیں اور بڑے بنتے ہیں۔ یہ لوگ کس قسم کے ہوتے ہیں ؟ ایسے کہ چاہے جو معجزانہ استدلال ان کے سامنے پیش کیا جائے وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ ان کو کسی اچھے کام کی دعوت دی جائے تو اس پر لبیک نہیں کہتے ، اگر وہ برائی کا کوئی کام بھی دیکھیں اس کی طرف لپکیں لہذا ایسے لوگوں کا صحیح علاج یہ ہے کہ انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ایسے لوگوں پر کام کیا جائے جو مانتے ہیں ، یہ تو ماننے والے نہیں ، آیات و دلائل جو اس کائنات میں ظاہر و باہر ہیں اور وہ آیات و دلائل جو اللہ کی کتابوں میں ہیں ، اس لیے کہ انہوں نے پہلے سے تکذیب کا فیصلہ کرلیا ہے اور اعراض کا فیصلہ کرلیا ہے۔

قرآن کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ لوگ کیسے ہوں گے ان کی حرکات اور ان کی صفات یہ ہیں : الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۔ جو بغیر کسی حق کے زمین پر بڑے بنتے ہیں۔

اس لیے کہ اللہ کے بندوں میں سے کسی بندے کا حق نہیں ہے کہ وہ اللہ کی زمین پر خود بڑا بنے۔ بڑائی تو اللہ کی صفت ہے ، اور کبریائی میں اللہ کسی کو شریک نہیں کرتا کیونکہ یہ اللہ کی چادر ہے۔ لہذا کوئی انسان جو اس کرہ ارض پر بڑا بنتا ہے وہ بغیر جواز کے تکبر کرتا ہے اور سب سے بڑا تکبر یہ ہے کہ کوئی اس سرزمین پر قانون سازی کا حق اپنے لیے مخصوص کرلے اور اللہ کے بندوں پر اللہ کے بجائے اپنا اقتدار اعلیٰ استعمال کرے۔ اور لوگوں سے اپنے قوانین پر عمل کرائے۔ اس تکبر اور بڑائی سے تمام دوسری برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ تمام شرارتوں کی بنیاد ہے اور ہر قسم کا فساد اس سے برپا ہوتا ہے اور اس کے بعد دوسری صفات ایسے لوگوں کی یہ آتی ہیں۔ وَاِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِهَا ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ۔ اگر سیدھا راستہ سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں۔ ان کی یہ فطرت ہے کہ سیدھے راستے کو دیکھ کر ہی اس سے ایک طرف ہوجاتے ہیں اور ٹیڑھے راستے کو دیکھتے ہی اس پر روانہ ہوجاتے ہیں اور یہ ان کی فطرت کا حصہ ہے۔ اور اس کے خلاف وہ نہیں جاسکتے۔ یہ ہے ان کی صفت۔ قرآن کریم اس انداز میں اس کی تعبیر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اللہ کی مشیت نے ایسے لوگوں کو سزا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور وہ سزا یہ ہے کہ ہدایت کے دروازے ان کے لیے بند کردیے گئے ہمیشہ کے لیے۔

اس قسم کے لوگ ہمیں ہر معاشرے میں ملتے رہتے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ لوگ حق سے اجتناب کرتے ہیں اور باطل کی طرف سخت میلان رکھتے ہیں اور بغیر تدبیر اور بغیر سوچے باطل کی طرف لپکتے ہیں۔ سچائی کا مستقیم راستہ ان کو مشکل اور باطل کا ٹیڑھا راستہ ان کو آسان نظر آتا ہے اور ایسے لوگ اللہ کی آیات و دلائل اور معجزات سے دور بھاگتے ہیں ، ان پر غور و فکر نہیں کرتے ، ان کے ذرائع فہم و ادراک پر ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اور نہ فطرت اور حق کے اشارات ان پر اثر کرتے ہیں۔

سبحان اللہ ، اس عجیب قرآنی ہدایات کی ان جھلکیوں سے اس قسم کے لوگ ممتاز طور پر نظر آتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو اپنے ماحول اور معاشرے میں دیکھتے ہی ایک قاری کہہ اٹھتا ہے۔ ہاں ہاں اس قسم کے لوگوں کو میں جانتا ہوں۔ فلاں فلاں شخص ان قرآنی کلمات کا مصداق ہے۔

اس قسم کے لوگوں کو ایسی ایسی تباہ …

Al-A'raaf 7:146Listen in Qur'an →
147

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلْءَاخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا

ور یہ کہ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا " ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھٹلایا آخرت کی ہستی کا انکار کیا اور اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے ، کیا لوگ اس کے سوا کچھ اور جزا پا سکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں۔

حبطت کا لفظ حبوط سے ہے۔ کہتے ہیں حبطت اعمالہم۔ جب وہ زہریلی گھاس چرے اور اس کا پیٹ پھول جائے اور پھر اس سے گیس نکل جائے۔ اس لفظ کو باطل کی قوت کے لیے اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ باطل کے اعمال بظاہر بہت ہی پھلتے پھولتے نظر آتے ہیں لیکن ان کی حقیقت کچھ نہیں ہوتی جب غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے تو پھر کچھ نہیں رہتا۔

یہ تو مناسب سزا ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اور آخرت کی جوابدہی سے انکار کیا لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے اعمال کس طرح ختم ہوجاتے ہیں اور برباد ہوجاتے ہیں ؟

نظریاتی اور اعتقادی لحاظ سے تو ہمارا ایمان ہے کہ ان کے اعمال ضائع ہوں گے ، اگرچہ ظاہری حالات ایسے نظر آئیں کہ ان میں ، ان لوگوں کے اعمال کا یہ انجام متوقع نہ نظر آتا ہو۔ لیکن جو کوئی بھی اللہ کی آیات کی تکذیب کرے اور آخرت کی جوابدہی کا یقین نہ رکھے اس کے اعمال آخر کار ضائع اور برباد ہوں گے اور ان کی حیثیت اسی ہوگی جیسے کہ وہ کچھ نہیں ہیں۔

لیکن نظری پہلو سے بھی یہ بات واضح ہے کہ جو لوگ ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں جو اس پوری کائنات کے صفحات میں بکھرے پڑے ہیں اور ان کی تائید میں وہ آیات و دلائل بھی موجود ہیں جو اللہ کے پیغمبروں نے پیش کیے ، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ آخرت کی جوابدہی کا بھی انکار کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کی روح در اصل مسخ شدہ ہے اور ایسے لوگ اس کائنات کے مزاج اور اس کے قوانین سے سرکش ہیں۔ اس کائنات سے ایسے شخص کا کوئی حقیقی رابطہ نہیں ہوتا اور نہ اس قسم کے لوگ اس سچی جدوجہد کی راہ سے ہم آہنگ ہیں۔ ایسے لوگوں کے اعمال چونکہ کائنات کے رخ ، اس کے مقاصد اور اللہ کے قوانین کے خلاف ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ اعمال اگرچہ بظاہر خیرہ کن ہوں بےحقیقت ہیں۔ اگرچہ بظاہر وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہوں ، اس لئے کہ یہ اعمال ان دائمی مضبوط دواعی اور نظریات پر مبنی نہیں ہوتے جو اس پوری کائنات کی بنیاد ہیں۔ ان اعمال کا ہدف اور نصب العین وہ نہیں ہوتا جو اس پوری کائنات کا ہدف اور نصب العین ہے۔ ان کی مثال اس نہر جیسی ہے جو اپنے سرچشمے سے کٹ گئی ہو اور اس نے جلد یا بدیر لامحالہ خشک ہونا ہے۔

جو لوگ ان ایمانی اقدار اور انسانی تاریخ کے درمیان گہرے رابطے کا ادراک نہیں کرسکتے اور جو لوگ تقدیر کے اس اٹل فیصلے کو نہیں پا سکتے جو ان لوگوں کے حق میں صاد ہوچکا ہے جو ان ایمانی اقدار کے منکر ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ غافل ہیں۔ اور انہی کے بارے میں یہ سزا سنائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی سنت جاریہ اور ناموس کلی کو نہ پا سکیں گے۔ کیونکہ ان کا رخ پھر گیا ہے اور اب ان کے بارے میں آخری فیصلے کا ظہور باقی ہے۔

جن لوگوں کو اس دنیا کی عمر مختصر نے غرے میں ڈال دیا ہے اور وہ یہ دیکھتے ہیں کہ آخرت سے غافل لوگ بظاہر اس دنیا میں بڑی کامیابی سے زندگی بسر کر رہے ہیں ، ان کو یہ دھوکہ اس سو جن سے ہوگیا جو کسی جانور کو مسوم گھاس کھانے کی وجہ سے لاحق ہوجاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جانور تازہ اور موٹا ہوگیا اور وہ بہت ہی صحت مند ہے۔ حالانکہ در حقیقت وہ مرنے والا ہوتا ہے۔

اس دنیا میں جو اقوام نابود ہوکر مٹ چکی ہیں ، اور ان کی جگہ جو دوسری اقوام آکر آباد ہوگئی ہیں۔ وہ ان سابقہ اقوام سے عبرت نہیں لیتیں۔ وہ اللہ کی اس سنت کو نہیں دیکھ رہی ہیں کہ وہ کس طرح اس کائنات میں کام کرتی ہے۔ اللہ کی یہ تقدیر اور اس کا نظام جاری وساری ہے۔ اسی میں کسی وقت بھی ٹھہراؤ نہیں آتا۔ اللہ سب لوگوں پر احاطہ کیے ہوئے۔

Al-A'raaf 7:147Listen in Qur'an →
148

وَٱتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًۭا جَسَدًۭا لَّهُۥ خُوَارٌ ۚ أَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّهُۥ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ ٱتَّخَذُوهُ وَكَانُوا۟ ظَٰلِمِينَ

اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا

جس دوران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دربار میں تھے ، یہ ایک منفرد ملاقات تھی اور ہماری محدود آنکھوں کے لیے ظاہر ہے کہ اس منظر کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں نہ ہماری روح اس منظر کو دیکھ سکتی ہے اور ہماری فکر اور قوت مدرکہ اس کے بارے میں حیران ہے۔ حضرت موسیٰ کی عدم موجودگی میں ان کی قوم نے گمراہی اختیار کرلی۔ وہ دوبارہ مصری بیماریوں میں مبتلا ہوگئے اور بت پرستی کے گڑھے میں گر گئے۔ انہوں نے ایک بولتے ہوئے بچھڑے کے بت کو اپنا الہ بنا لیا اور اس کی عبادت شروع کردی۔

ان حالات میں اب اس قصے کے نویں منظر سے ہم آگے بڑھتے ہیں اور ہمارے سامنے اس کا دسواں منظر آتا ہے۔ نواں منظر بلند عالم بالا میں ہے ، جس کے مناظر میں خوشی اور روشنی کا ماحول ہے ، محبتوں اور بہار کے مکالمات ہمارے سامنے تھے ، لیکن اچانک ایسا منظر نظر آتا ہے کہ لوگ سربلندیوں سے پستیوں میں گرتے ہیں ، وہ صحت مندی کے بعد وہ دوبارہ بیمار بیمار نظر آتے ہیں۔ واضح سوچ کے بجائے خرافات کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔

۔۔۔۔

وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰي مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ۔ موسیٰ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنایا جس میں بیل کی سی آواز نکلتی تھی

یہ ہے بنی اسرائیل کا مزاج ، وہ قدم قدم پر بےراوہ روی اختیار کرتے ہیں۔ وہ ظاہری اور معنوی کسی بھی اعتبار سے بلندی کی طرف نہیں جاتے بلکہ ان کی فطرت میں پستی کی طرف گرنا ہی لکھا ہے۔ جونہی ہدایت و راہنمائی کا سلسلہ منقطع ہوتا ہے وہ غلط راہوں پر چل پڑتے ہیں۔

انہوں نے بحر قلزم کو معجزانہ طور پر پار کرتے ہی دیکھا کہ ایک قوم بت پرستی میں مشغول ہے تو انہوں نے پیغمبر سے مطالبہ کردیا کہ ہمارے لیے بھی ایسا ہی الہ بنا دیا جائے۔ اس پر حضرت موسیٰ نے انہیں روکا اور ان کے اس خیال کو سختی سے رد کردیا۔ جب حضرت موسیٰ طور پر گئے اور انہوں نے دیکھا کہ ایک سنہری بچھڑا آواز نکال رہا ہے اور اس میں زندگی کے آثار بھی نہیں محض ایک جسد ہے ، یہ سامری کی مصنوعات میں سے ایک عجیب صنعت تھی۔ یہ شخص سامرہ کا رہنے والا تھا ، اس کے بارے میں سورت طلہ میں تفصیلات درج ہیں۔ اس نے اس بچھڑے کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ اس سے بیلوں جیسی آواز نکل رہی تھی۔ جب انہوں نے اسے دیکھا تو ہر طرف سے امنڈ آئے اور جب سامری نے ازروئے شیطنت یہ کہا کہ یہ تمہارے موسیٰ اور تمہارا الہ ہے تو یہ اس پر ٹوٹ پڑے۔

اس نے کہا کہ موسیٰ جس الہ کی ملاقات کے لیے گئے ہیں وہ تو یہ رہا۔ موسیٰ نے مقام اور وقت کے تعین میں غلطی کی ہے۔ انہوں نے خصوصاً اس لیے بھی یقین کرلیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزار لیا۔ جب حضرت موسیٰ تیس دنوں کے بعد بھی نہ لوٹے تو سامری نے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) غلطی کر گئے ہیں الہ تو یہ رہا۔ حالانکہ حضرت موسیٰ نے ان کو ایک ایسے رب کی عبادت کی تعلیم دی تھی جو نظر نہیں آتا تھا ، جو رب العالمین تھا۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ جسد تو ان میں سے ایک شخص سامری کی صنعت ہے۔ بنی اسرائیل اپنے کردار کا جو نقشہ پیش کر رہے تھے وہ انسانیت کی ایک نہایت ہی بھونڈی تصویر تھی ، قرآن کریم اس تصویر پر تعجب کا اظہار کرکے مشرکین مکہ کو یہ تصور دیتا ہے کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو ان کی حالت کیا ہے ؟

اَلَمْ يَرَوْا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيْهِمْ سَبِيْلًا ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَكَانُوْا ظٰلِمِيْنَ ۔ کیا انہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ؟ مگر پھر بھی انہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے۔

اس سے بڑا ظالم کون ہے جو ایک ایسے جسد کی عبادت کرتا ہے جسے خود اس نے بنایا ہو ، حالانکہ خود انسانوں کو اور ان کی مصنوعات کو اللہ بناتا ہے ، حقیقی خالق اللہ ہے۔

ان میں حضرت ہارون …

Al-A'raaf 7:148Listen in Qur'an →
149

وَلَمَّا سُقِطَ فِىٓ أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْا۟ أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا۟ قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے

آخر میں جب جوش و خروش ختم ہوا اور لوگوں کے حواس بحال ہوئے اور حقیقت سامنے آگئی اور انہوں نے جان لیا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے اور انہوں نے کھلے شرک کا ارتکاب کرلیا تو وَلَمَّا سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ وَرَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا ۙ قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ۔ پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ درحقیقت وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ " اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے "

سقط فی یدہ اس وقت کہا جاتا ہے جب کسی کا حیلہ اور تدبیر اس کے سامنے فیل ہوجائے۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ وہ جس گمراہی میں ملوث ہوگئے اب تو وہ اس سے صاف نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ جو ہونا تھا وہ ہوچکا ، تو ایسے حالات میں ببے بس ہو کر انہوں نے کہا :" اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے "

اس بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک ان میں اصلاح پذیری کا مادہ بہرحال موجود تھا۔ اور ان کے دل اس قدرت سخت نہ ہوگئے تھے جس طرح بعد میں ہوئے کہ قرآن مجید کو کہنا پڑا کہ وہ پتھر بن گئے یا پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ بہرحال اس وقت جب انہیں معلوم ہوگیا کہ وہ غلطی پر ہیں اور اللہ کی رحمت اور مغفرت کے سوا ان کے لیے فلاح کا اور کوئی راستہ نہیں ہے تو انہوں نے اس طرح توبہ کی اور اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ اس دور میں یہ لوگ قابل اصلاح تھے۔

Al-A'raaf 7:149Listen in Qur'an →
150

وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَٰنَ أَسِفًۭا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِى مِنۢ بَعْدِىٓ ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى ٱلْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُۥٓ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ٱبْنَ أُمَّ إِنَّ ٱلْقَوْمَ ٱسْتَضْعَفُونِى وَكَادُوا۟ يَقْتُلُونَنِى فَلَا تُشْمِتْ بِىَ ٱلْأَعْدَآءَ وَلَا تَجْعَلْنِى مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔ تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) جلد چاہا (یہ کہا) اور (شدت غضب سے تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجیے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایئے

یہ واقعات اس وقت ہوئے جب حضرت موسیٰ رب ذوالجلال کے دربار میں کھڑے تھے ، اور اللہ سے ہمکلام تھے۔ آپ کو معلوم نہ تھا کہ ان کے پیچھے ان کی قوم کیا کر رہی ہے۔ اگر اللہ ان کو بتاتے تو انہیں اس وقت علم ہوجاتا ، بہرحال اب حضرت موسیٰ کی واپسی پر گیا ہواں منظر سامنے آتا ہے۔

۔۔۔

وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓي اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا۔ ادھر سے موسیٰ غصے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس آئے تو ان حالات کو دیکھ کر آگ بگولا ہوگئے۔ آپ کے اقوال اور آپ کے اقدامات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سخت غصے میں تھے۔ اور آپ کے غصے کا اظہار ان الفاظ سے ہوتا ہے۔ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِيْ مِنْۢ بَعْدِيْ ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ ۔ آتے ہی اس نے کہا " بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد ! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے " اسی طرح آپ کے اقدامات سے بھی غصہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے بھائی کو داڑھی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔

وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِيْهِ يَجُرُّهٗٓ اِلَيْهِ. اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا۔

حضرت موسیٰ کا یہ غصہ بالکل برحق تھا۔ اس لیے کہ وہ اچانک ایسی صورت حال سے دوچار ہوگئے تھے جن کی انہیں توقع نہ تھی۔ یہ ایک انقلابی صورت حالات تھی۔ بئسما خلفتمونی من بعدی۔ بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد۔ میں تمہیں ٹھیک راستے پر چھوڑ کر گیا تھا ، تم نے اسے ضلالت سے بدل دیا۔ میں تمہیں اس حال میں چھوڑ کر گیا کہ تم خدا کی عبادت کر رہے تھے اور جب واپس ہوا تو تم بچھڑے کی عبادت کر رہے تھے حالانکہ وہ صرف ایک جس تھا اور بیل جیسی آواز نکال رہا تھا۔ اعجلتم امر ربکم۔ کیا تم سے اس قدر صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے۔ یعنی تم نے اپنے رب کے فیصلے کا انتظار نہ کیا ، اس کے عذاب کا انتظار نہ کیا اور اس نے جس عرصے کے لیے مجمع بلایا تھا اس کا انتظار نہ کیا۔ والقی الالواح واخذ براس اخیہ یجرہ الیہ۔ اس نے تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا۔ اس اقدام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سخت مشتعل تھے۔ اس لیے کہ ان تختیوں میں اللہ کا کلام تھا ، اور ان کے پاس ادب کا تقاضا یہ تھا کہ آپ ان کو زمین پر نہ پھینکتے لیکن اس وقت آپ سخت غصے میں تھے اور آپ ضبط نہ کرسکے۔ بھائی کو بھی بالوں سے پکڑ کر کھینچا حالانکہ ان کے بھائی عبد صالح اور پیغمبر تھے۔ حضرت ہارون نے برادرانہ جذبات سے اپیل کی تاکہ آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے اور آپ موافقانہ رویہ اختیار کریں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی صفائی پیش کی اور یہ بتایا کہ انہوں نے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ قال ابن امر ان القوم استضعفونی وکادوا یقتلوننی۔ ہارون نے کہا " اے میری ماں کے بیٹے ، ان لوگوں نے مجے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے۔

اب میری ماں کے بیٹے کے الفاظ استعمال کرکے حضرت ہارون ان کے جذبہ کی طرف نہایت ہی جوش و خروش سے لپک رہے تھے۔ اور ایسے حالات موجود تھے کہ اگر حضرت ہارون ان کی زیادہ مزاحمت کرتے تو وہ تشدد پر اتر آتے اور اس صورت حال کی تصویر وہ اس طرح کھینچتے ہیں " قریب تھا کہ وہ مجھے مار ڈالتے " اس لیے وہ بےقصور تھے۔

فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْاَعْدَاۗءَ وَلَا تَجْعَلْنِيْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ۔ پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر "

اس دوسرے فقرے سے بھی حضرت ہارون اپنے بھائی کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر دونوں بھائیوں کے مشترکہ دشمن ہوں تو بھائی ایک دوسرے کی پوزیشن کا خیال رکھتے ہیں۔ اور تیسری بات یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ آپ مجھے اور ظالموں کو ایک صف میں کھڑا نہ کریں۔ ظالم وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور میں نے تو ان کے ساتھ ظلم میں شرکت نہیں کی۔ میں تو بری الذمہ ہوں۔

Al-A'raaf 7:150Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.