Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 131–140 of 206

131

فَإِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلْحَسَنَةُ قَالُوا۟ لَنَا هَٰذِهِۦ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۭ يَطَّيَّرُوا۟ بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ ۗ أَلَآ إِنَّمَا طَٰٓئِرُهُمْ عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے

کسی بات کو غلط کہنا ہو تو اس کا غلط ہونا لفظوں کی صورت میں بتایا جاتاہے اور کسی بات کو صحیح کہنا ہو تو اس کو بھی لفظوں ہی کے ذریعہ صحیح کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی کو مجرم قرار دینا ہو تو اس کو لفظوں کے ذریعہ مجرم قرار دیا جاتاہے اور اگر کسی کو برسرِ حق ظاہرکرنا ہو تو اس کا برسرِ حق ہونا بھی لفظوں میں بتایا جاتاہے۔ مگر الفاظ کا استعمال کرنے والا انسان ہے اور موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ الفاظ کو جس طرح چاہے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔

امتحان کی اس دنیا میں آدمی کو جو آزادی دی گئی ہے اس میں سب سے زیادہ نازک آزادی یہ ہے کہ وہ حق کو باطل کہنے کے لیے بھی الفاظ پالیتاہے اور باطل کو حق کہنے کے لیے بھی۔ وہ ایک کھلے ہوئے پیغمبرانہ معجزے کو جادو کہہ کر نظر انداز کرسکتاہے۔ خدا اس کو کوئی نعمت دے تو وہ اس کو ایسے الفاظ میں بیان کرسکتاہے گویا کہ اس کو جو کچھ ملا ہے اپنی صلاحیتوں اور کوششوں کی بدولت ملا ہے۔ حق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے خدا اس کے اوپر کوئی تنبیہی سزا بھیجے تو وہ آزاد ہے کہ اس کو وہ انھیں خدا پرست بندوں کی نحوست کا نتیجہ قرار دے دے جن کے ساتھ برا رویہ اختیار کرنے ہی کی وجہ سے اس پر یہ تنبیہ آئی ہے۔ خدا کی طرف سے ہر بات اس ليے آتی ہے کہ آدمی اس سے نصیحت پکڑے۔ مگر الفاظ کے ذریعے آدمی ہر نصیحت کو ایک الٹا رخ دے دیتاہے اور اس کے اندر جو سبق کا پہلو ہے اس کو پانے سے محروم رہ جاتاہے۔

’’تم خواہ کوئی بھی نشانی دکھاؤ ہم ایمان نہیں لائیں گے‘‘۔ فرعون کا یہ جملہ بتاتا ہے کہ حق اپنی مکمل صورت میں موجود ہونے کے باوجود صرف اسی کو ملتا ہے جو اس کو پانا چاہے۔ بالفاظ دیگر، جو شخص حق کے معاملے میں سنجیدہ ہو، جس کے اندر فی الواقع یہ آمادگی ہو کہ حق خواہ جہاں اور جس صورت میں بھی ملے وہ اس کو لے لے گا، اُس پر حق کا حق ہونا کھلتاہے۔ اِس کے برعکس، جو شخص اس معاملے میں سنجیدہ نہ ہو، جس کا حال یہ ہو کہ جو کچھ اس کے پاس ہے بس اسی پر وہ مطمئن ہے، وہ حق کو حق کی صورت میں دیکھنے سے عاجز رہے گا اور اسی ليے وہ اس کو اختیار بھی نہ کرسکے گا۔ اپنے حال پر مگن رہنا آدمی کو اپنے باہر کی چیزوں کے ليے بے خبر بنادیتاہے۔ وہ جان کر بھی نہیں جانتا، وہ سن کر بھی نہیں سنتا۔

آدمی اگر غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے تو وہ ضرور حقیقت کو پالے گا۔ مگر اکثر لوگ اپنے نفسیات کے زیر اثر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حقیقت کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔

Al-A'raaf 7:131Listen in Qur'an →
132

وَقَالُوا۟ مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِۦ مِنْ ءَايَةٍۢ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ

اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس (خواہ) کوئی ہی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو۔ مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

کسی بات کو غلط کہنا ہو تو اس کا غلط ہونا لفظوں کی صورت میں بتایا جاتاہے اور کسی بات کو صحیح کہنا ہو تو اس کو بھی لفظوں ہی کے ذریعہ صحیح کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی کو مجرم قرار دینا ہو تو اس کو لفظوں کے ذریعہ مجرم قرار دیا جاتاہے اور اگر کسی کو برسرِ حق ظاہرکرنا ہو تو اس کا برسرِ حق ہونا بھی لفظوں میں بتایا جاتاہے۔ مگر الفاظ کا استعمال کرنے والا انسان ہے اور موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ الفاظ کو جس طرح چاہے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔

امتحان کی اس دنیا میں آدمی کو جو آزادی دی گئی ہے اس میں سب سے زیادہ نازک آزادی یہ ہے کہ وہ حق کو باطل کہنے کے لیے بھی الفاظ پالیتاہے اور باطل کو حق کہنے کے لیے بھی۔ وہ ایک کھلے ہوئے پیغمبرانہ معجزے کو جادو کہہ کر نظر انداز کرسکتاہے۔ خدا اس کو کوئی نعمت دے تو وہ اس کو ایسے الفاظ میں بیان کرسکتاہے گویا کہ اس کو جو کچھ ملا ہے اپنی صلاحیتوں اور کوششوں کی بدولت ملا ہے۔ حق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے خدا اس کے اوپر کوئی تنبیہی سزا بھیجے تو وہ آزاد ہے کہ اس کو وہ انھیں خدا پرست بندوں کی نحوست کا نتیجہ قرار دے دے جن کے ساتھ برا رویہ اختیار کرنے ہی کی وجہ سے اس پر یہ تنبیہ آئی ہے۔ خدا کی طرف سے ہر بات اس ليے آتی ہے کہ آدمی اس سے نصیحت پکڑے۔ مگر الفاظ کے ذریعے آدمی ہر نصیحت کو ایک الٹا رخ دے دیتاہے اور اس کے اندر جو سبق کا پہلو ہے اس کو پانے سے محروم رہ جاتاہے۔

’’تم خواہ کوئی بھی نشانی دکھاؤ ہم ایمان نہیں لائیں گے‘‘۔ فرعون کا یہ جملہ بتاتا ہے کہ حق اپنی مکمل صورت میں موجود ہونے کے باوجود صرف اسی کو ملتا ہے جو اس کو پانا چاہے۔ بالفاظ دیگر، جو شخص حق کے معاملے میں سنجیدہ ہو، جس کے اندر فی الواقع یہ آمادگی ہو کہ حق خواہ جہاں اور جس صورت میں بھی ملے وہ اس کو لے لے گا، اُس پر حق کا حق ہونا کھلتاہے۔ اِس کے برعکس، جو شخص اس معاملے میں سنجیدہ نہ ہو، جس کا حال یہ ہو کہ جو کچھ اس کے پاس ہے بس اسی پر وہ مطمئن ہے، وہ حق کو حق کی صورت میں دیکھنے سے عاجز رہے گا اور اسی ليے وہ اس کو اختیار بھی نہ کرسکے گا۔ اپنے حال پر مگن رہنا آدمی کو اپنے باہر کی چیزوں کے ليے بے خبر بنادیتاہے۔ وہ جان کر بھی نہیں جانتا، وہ سن کر بھی نہیں سنتا۔

آدمی اگر غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے تو وہ ضرور حقیقت کو پالے گا۔ مگر اکثر لوگ اپنے نفسیات کے زیر اثر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حقیقت کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔

Al-A'raaf 7:132Listen in Qur'an →
133

فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلطُّوفَانَ وَٱلْجَرَادَ وَٱلْقُمَّلَ وَٱلضَّفَادِعَ وَٱلدَّمَ ءَايَٰتٍۢ مُّفَصَّلَٰتٍۢ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًۭا مُّجْرِمِينَ

تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں۔ مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی گنہگار

حضرت موسیٰ نے مصر میں تقریباً 40 سال تک پیغمبر ی کی۔ آپ کے مشن کے دو اجزاء تھے۔ ایک، فرعون کو توحید کا پیغام دینا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے جانا اور وہاں آزادانہ فضا میں ان کی دینی تربیت کرنا۔ بنی اسرائیل (حضرت یعقوب کی اولاد) اس وقت شدید طورپر قبطی بادشاہ (فرعون) کی گرفت میں تھے۔ قبطی قوم ان کو اپنے زراعتی اور تعمیری کاموں میں بطور مزدور استعمال کرتی تھی۔ اس ليے قبطی حکمراں نہیں چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل مصر سے باہر چلے جائیں۔

حضرت موسیٰ نے ابتداء ً جب فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ مصر سے باہر جانے دو تو فرعون اور اس كے درباریوں نے اس کو سیاسی معنی پہنا کر آنجناب پر یہ الزام لگایا کہ وہ قبطی قوم کو مصر سے نکال دینا چاہتے ہیں(الاعراف، 7:110 )۔یہ بات سراسر بے معنی تھی۔کیوں کہ حضرت موسیٰ کا منصوبہ تو خود اپنے آپ کو مصر سے باہر لے جانے کا تھا، اور فرعون نے یہ الٹا الزام لگایا کہ وہ قبطیوں کو ان کے ملک سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔ اس وقت فرعون اور اس کے ساتھی اقتدار کے گھمنڈ میں تھے اس ليے سیدھی بات بھی ان کو ٹیڑھی نظر آئی۔

مگر بعد کے مرحلہ میں خدا نے فرعون اور اس کی قوم پر ہر طرح کی بلائیں نازل کیں۔ ان پر کئی سال تک مسلسل قحط پڑے۔ شدید گرج چمک کے ساتھ اولوں کا طوفان آیا۔ ٹڈیوں کے دل آئے جو فصل اور باغ کو کھا گئے اور ہر قسم کی سبزی کا خاتمہ کردیا۔ جوئیں اور مینڈک اس کثرت سے ہوگئے کہ کپڑوں اور بستروں میں جوئیں ہی جوئیں تھیں اور گھروں اور راستوں میں ہر طرف مینڈک ہی مینڈک کودنے لگے۔ دریاؤں اور تالابوں کا پانی خون ہوگیا۔ فرعون اور اس کی قوم جب ان عجیب وغریب مصیبتوں میں مبتلا ہوئے تو وہ کہہ اٹھے کہ خدا اگر ان مصیبتوں کو ہم سے ٹال دے تو ہم بنی اسرائیل کو موسی کے ساتھ جانے دیں گے — حضرت موسیٰ کے جس مطالبہ میں پہلے قبطیوں کے اخراج کی سیاسی سازش دکھائی دی تھی وہ اب خود بنی اسرائیل کی ہجرت کے ہم معنیٰ نظر آنے لگی۔

آدمی اپنے کو محفوظ حالت میں پارہا ہو تو وہ طرح طرح کی باتیں بناتاہے۔ مگر جب اس سے حفاظت چھین لی جائے اور اس کو عجز اور بے بسی کے مقام پر کھڑا کردیا جائے تو اچانک وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ اب وہ بات خود ہی اس کی سمجھ میں آجاتی ہے جو پہلے سمجھانے کے بعد بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ مگر انکار کی طاقت رکھتے ہوئے اقرار کرنے کانام اقرار ہے۔ الفاظ چھن جانے کے بعد کوئی اقرار اقرار نہیں۔

Al-A'raaf 7:133Listen in Qur'an →
134

وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ ٱلرِّجْزُ قَالُوا۟ يَٰمُوسَى ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ ۖ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا ٱلرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ

اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے

حضرت موسیٰ نے مصر میں تقریباً 40 سال تک پیغمبر ی کی۔ آپ کے مشن کے دو اجزاء تھے۔ ایک، فرعون کو توحید کا پیغام دینا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے جانا اور وہاں آزادانہ فضا میں ان کی دینی تربیت کرنا۔ بنی اسرائیل (حضرت یعقوب کی اولاد) اس وقت شدید طورپر قبطی بادشاہ (فرعون) کی گرفت میں تھے۔ قبطی قوم ان کو اپنے زراعتی اور تعمیری کاموں میں بطور مزدور استعمال کرتی تھی۔ اس ليے قبطی حکمراں نہیں چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل مصر سے باہر چلے جائیں۔

حضرت موسیٰ نے ابتداء ً جب فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ مصر سے باہر جانے دو تو فرعون اور اس كے درباریوں نے اس کو سیاسی معنی پہنا کر آنجناب پر یہ الزام لگایا کہ وہ قبطی قوم کو مصر سے نکال دینا چاہتے ہیں(الاعراف، 7:110 )۔یہ بات سراسر بے معنی تھی۔کیوں کہ حضرت موسیٰ کا منصوبہ تو خود اپنے آپ کو مصر سے باہر لے جانے کا تھا، اور فرعون نے یہ الٹا الزام لگایا کہ وہ قبطیوں کو ان کے ملک سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔ اس وقت فرعون اور اس کے ساتھی اقتدار کے گھمنڈ میں تھے اس ليے سیدھی بات بھی ان کو ٹیڑھی نظر آئی۔

مگر بعد کے مرحلہ میں خدا نے فرعون اور اس کی قوم پر ہر طرح کی بلائیں نازل کیں۔ ان پر کئی سال تک مسلسل قحط پڑے۔ شدید گرج چمک کے ساتھ اولوں کا طوفان آیا۔ ٹڈیوں کے دل آئے جو فصل اور باغ کو کھا گئے اور ہر قسم کی سبزی کا خاتمہ کردیا۔ جوئیں اور مینڈک اس کثرت سے ہوگئے کہ کپڑوں اور بستروں میں جوئیں ہی جوئیں تھیں اور گھروں اور راستوں میں ہر طرف مینڈک ہی مینڈک کودنے لگے۔ دریاؤں اور تالابوں کا پانی خون ہوگیا۔ فرعون اور اس کی قوم جب ان عجیب وغریب مصیبتوں میں مبتلا ہوئے تو وہ کہہ اٹھے کہ خدا اگر ان مصیبتوں کو ہم سے ٹال دے تو ہم بنی اسرائیل کو موسی کے ساتھ جانے دیں گے — حضرت موسیٰ کے جس مطالبہ میں پہلے قبطیوں کے اخراج کی سیاسی سازش دکھائی دی تھی وہ اب خود بنی اسرائیل کی ہجرت کے ہم معنیٰ نظر آنے لگی۔

آدمی اپنے کو محفوظ حالت میں پارہا ہو تو وہ طرح طرح کی باتیں بناتاہے۔ مگر جب اس سے حفاظت چھین لی جائے اور اس کو عجز اور بے بسی کے مقام پر کھڑا کردیا جائے تو اچانک وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ اب وہ بات خود ہی اس کی سمجھ میں آجاتی ہے جو پہلے سمجھانے کے بعد بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ مگر انکار کی طاقت رکھتے ہوئے اقرار کرنے کانام اقرار ہے۔ الفاظ چھن جانے کے بعد کوئی اقرار اقرار نہیں۔

Al-A'raaf 7:134Listen in Qur'an →
135

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ ٱلرِّجْزَ إِلَىٰٓ أَجَلٍ هُم بَٰلِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ

پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے

حضرت موسیٰ نے مصر میں تقریباً 40 سال تک پیغمبر ی کی۔ آپ کے مشن کے دو اجزاء تھے۔ ایک، فرعون کو توحید کا پیغام دینا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے جانا اور وہاں آزادانہ فضا میں ان کی دینی تربیت کرنا۔ بنی اسرائیل (حضرت یعقوب کی اولاد) اس وقت شدید طورپر قبطی بادشاہ (فرعون) کی گرفت میں تھے۔ قبطی قوم ان کو اپنے زراعتی اور تعمیری کاموں میں بطور مزدور استعمال کرتی تھی۔ اس ليے قبطی حکمراں نہیں چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل مصر سے باہر چلے جائیں۔

حضرت موسیٰ نے ابتداء ً جب فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ مصر سے باہر جانے دو تو فرعون اور اس كے درباریوں نے اس کو سیاسی معنی پہنا کر آنجناب پر یہ الزام لگایا کہ وہ قبطی قوم کو مصر سے نکال دینا چاہتے ہیں(الاعراف، 7:110 )۔یہ بات سراسر بے معنی تھی۔کیوں کہ حضرت موسیٰ کا منصوبہ تو خود اپنے آپ کو مصر سے باہر لے جانے کا تھا، اور فرعون نے یہ الٹا الزام لگایا کہ وہ قبطیوں کو ان کے ملک سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔ اس وقت فرعون اور اس کے ساتھی اقتدار کے گھمنڈ میں تھے اس ليے سیدھی بات بھی ان کو ٹیڑھی نظر آئی۔

مگر بعد کے مرحلہ میں خدا نے فرعون اور اس کی قوم پر ہر طرح کی بلائیں نازل کیں۔ ان پر کئی سال تک مسلسل قحط پڑے۔ شدید گرج چمک کے ساتھ اولوں کا طوفان آیا۔ ٹڈیوں کے دل آئے جو فصل اور باغ کو کھا گئے اور ہر قسم کی سبزی کا خاتمہ کردیا۔ جوئیں اور مینڈک اس کثرت سے ہوگئے کہ کپڑوں اور بستروں میں جوئیں ہی جوئیں تھیں اور گھروں اور راستوں میں ہر طرف مینڈک ہی مینڈک کودنے لگے۔ دریاؤں اور تالابوں کا پانی خون ہوگیا۔ فرعون اور اس کی قوم جب ان عجیب وغریب مصیبتوں میں مبتلا ہوئے تو وہ کہہ اٹھے کہ خدا اگر ان مصیبتوں کو ہم سے ٹال دے تو ہم بنی اسرائیل کو موسی کے ساتھ جانے دیں گے — حضرت موسیٰ کے جس مطالبہ میں پہلے قبطیوں کے اخراج کی سیاسی سازش دکھائی دی تھی وہ اب خود بنی اسرائیل کی ہجرت کے ہم معنیٰ نظر آنے لگی۔

آدمی اپنے کو محفوظ حالت میں پارہا ہو تو وہ طرح طرح کی باتیں بناتاہے۔ مگر جب اس سے حفاظت چھین لی جائے اور اس کو عجز اور بے بسی کے مقام پر کھڑا کردیا جائے تو اچانک وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ اب وہ بات خود ہی اس کی سمجھ میں آجاتی ہے جو پہلے سمجھانے کے بعد بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ مگر انکار کی طاقت رکھتے ہوئے اقرار کرنے کانام اقرار ہے۔ الفاظ چھن جانے کے بعد کوئی اقرار اقرار نہیں۔

Al-A'raaf 7:135Listen in Qur'an →
136

فَٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ

تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے

انبیاء کی مخاطب قوموں پر جو عذاب آتاہے وہ تکذیب آیات کی بنا پر آتاہے۔ یعنی نشانیوں کو جھٹلانا۔ اس کے مقابلہ میں انبیاء کے ساتھیوں پر جو خصوصی نصرت اترتی ہے اس کا استحقاق ان کو صبر کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے، یعنی اپنے جذبات کو تھام کر اللہ کے طریقہ پر ثابت قدم رہنا۔

نشانیوں سے مراد وہ دلائل ہیں جو حق کو حق ثابت کرنے والے ہوتے ہیں مگرآدمی اپنی متکبرانہ نفسیات کی وجہ سے ان کو ماننے پر قادر نہیں ہوتا۔ وہ دلیل کے معاملہ کو دلیل پیش کرنے والے کا معاملہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ اگر میں نے دلیل مان لی تو فلاں شخص کے مقابلہ میں میرا مرتبہ گھٹ جائے گا۔ وہ دلیل پیش کرنے والے كے مقابلہ میں اپنے آپ كو اونچا رکھنے کی خاطر دلیل کی برتري کو تسلیم نہیں کرتا۔ مگر یہی انسان کی آزمائش کا اصل مقام ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا نشانیوں یا دلائل کے پردہ میں ظاہر ہوتا ہے، آخرت ميں وہ بے حجاب ہو کر ظاہر ہوجائے گا۔ مگر ایمان وہی معتبر هے جب کہ آدمی غيب ميں چھپے هوئے حق کو پالے۔ اس كے برعكس، قيامت كے دن حق كو سامنے ديكھ كر اس كو ماننا صرف آدمی کے جرم کو ثابت کرے گا، نہ کہ وہ اس کو انعام کا مستحق بنائے گا۔ ایسا اقرار صرف اس بات کا ثبوت ہوگا کہ آدمی نے اپنی بے پروائی کی وجہ سے حق کو نہ جانا۔ اگر وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہوتا تو یقینا ًوہ اس کو جان لیتا۔

اس کے مقابلہ میں خدا کے وفادار بندے وه ہیں جن کی سب سے نمایاں خصوصیت صبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی زندگی سراسر صبر کی زندگی ہے۔ اپنے جیسے ایک انسان کی زبان سے حق کا اعلان سن کر اس کو مان لینا، عادتوں اور مصلحتوں پر قائم شدہ زندگی کو حق اور اصولوں کی بنیاد پر قائم کرنا، لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی ایذاؤں کو خدا کی خاطر نظر انداز کرنا، حق کے مخالفین کی ڈالی ہوئی مصیبتوں سے پست ہمت نہ ہونا، یہ سب ایمان کے لازمی مراحل ہیں اور آدمی صبر کے بغیر ان مراحل سے کامیابی کے ساتھ گزر نہیں سکتا۔

فرعون کو اپنے اقتدار پر اور اپنے باغوں اور عمارتوں پر گھمنڈ تھا۔ حضرت موسیٰ کی ہجرت کے بعد فرعون اور اس کا لشکر سمندر میں غرق کردیا گیا۔ اولوں اور ٹڈیوں نے مصر کے سرسبز وشاداب باغات کو اجاڑ دیا اور زلزلوں نے ان کی شان دار عمارتیں ڈھادیں۔ دوسری طرف حضرت موسی کی چند نسلوں کے بعد حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے زمانہ میں بنی اسرائیل اطراف مصر (شام وفلسطین) پر قابض ہوگئے۔ نشانیوں کو جھٹلانے والے ہمیشہ خدا کے غضب کے مستحق ہوتے ہیںاور صبر کرنے والے ہمیشہ خدا کی نصرت کے۔

Al-A'raaf 7:136Listen in Qur'an →
137

وَأَوْرَثْنَا ٱلْقَوْمَ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَٰرِقَ ٱلْأَرْضِ وَمَغَٰرِبَهَا ٱلَّتِى بَٰرَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ ٱلْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ بِمَا صَبَرُوا۟ ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُۥ وَمَا كَانُوا۟ يَعْرِشُونَ

اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہٴ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا

انبیاء کی مخاطب قوموں پر جو عذاب آتاہے وہ تکذیب آیات کی بنا پر آتاہے۔ یعنی نشانیوں کو جھٹلانا۔ اس کے مقابلہ میں انبیاء کے ساتھیوں پر جو خصوصی نصرت اترتی ہے اس کا استحقاق ان کو صبر کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے، یعنی اپنے جذبات کو تھام کر اللہ کے طریقہ پر ثابت قدم رہنا۔

نشانیوں سے مراد وہ دلائل ہیں جو حق کو حق ثابت کرنے والے ہوتے ہیں مگرآدمی اپنی متکبرانہ نفسیات کی وجہ سے ان کو ماننے پر قادر نہیں ہوتا۔ وہ دلیل کے معاملہ کو دلیل پیش کرنے والے کا معاملہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ اگر میں نے دلیل مان لی تو فلاں شخص کے مقابلہ میں میرا مرتبہ گھٹ جائے گا۔ وہ دلیل پیش کرنے والے كے مقابلہ میں اپنے آپ كو اونچا رکھنے کی خاطر دلیل کی برتري کو تسلیم نہیں کرتا۔ مگر یہی انسان کی آزمائش کا اصل مقام ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا نشانیوں یا دلائل کے پردہ میں ظاہر ہوتا ہے، آخرت ميں وہ بے حجاب ہو کر ظاہر ہوجائے گا۔ مگر ایمان وہی معتبر هے جب کہ آدمی غيب ميں چھپے هوئے حق کو پالے۔ اس كے برعكس، قيامت كے دن حق كو سامنے ديكھ كر اس كو ماننا صرف آدمی کے جرم کو ثابت کرے گا، نہ کہ وہ اس کو انعام کا مستحق بنائے گا۔ ایسا اقرار صرف اس بات کا ثبوت ہوگا کہ آدمی نے اپنی بے پروائی کی وجہ سے حق کو نہ جانا۔ اگر وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہوتا تو یقینا ًوہ اس کو جان لیتا۔

اس کے مقابلہ میں خدا کے وفادار بندے وه ہیں جن کی سب سے نمایاں خصوصیت صبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی زندگی سراسر صبر کی زندگی ہے۔ اپنے جیسے ایک انسان کی زبان سے حق کا اعلان سن کر اس کو مان لینا، عادتوں اور مصلحتوں پر قائم شدہ زندگی کو حق اور اصولوں کی بنیاد پر قائم کرنا، لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی ایذاؤں کو خدا کی خاطر نظر انداز کرنا، حق کے مخالفین کی ڈالی ہوئی مصیبتوں سے پست ہمت نہ ہونا، یہ سب ایمان کے لازمی مراحل ہیں اور آدمی صبر کے بغیر ان مراحل سے کامیابی کے ساتھ گزر نہیں سکتا۔

فرعون کو اپنے اقتدار پر اور اپنے باغوں اور عمارتوں پر گھمنڈ تھا۔ حضرت موسیٰ کی ہجرت کے بعد فرعون اور اس کا لشکر سمندر میں غرق کردیا گیا۔ اولوں اور ٹڈیوں نے مصر کے سرسبز وشاداب باغات کو اجاڑ دیا اور زلزلوں نے ان کی شان دار عمارتیں ڈھادیں۔ دوسری طرف حضرت موسی کی چند نسلوں کے بعد حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے زمانہ میں بنی اسرائیل اطراف مصر (شام وفلسطین) پر قابض ہوگئے۔ نشانیوں کو جھٹلانے والے ہمیشہ خدا کے غضب کے مستحق ہوتے ہیںاور صبر کرنے والے ہمیشہ خدا کی نصرت کے۔

Al-A'raaf 7:137Listen in Qur'an →
138

وَجَٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتَوْا۟ عَلَىٰ قَوْمٍۢ يَعْكُفُونَ عَلَىٰٓ أَصْنَامٍۢ لَّهُمْ ۚ قَالُوا۟ يَٰمُوسَى ٱجْعَل لَّنَآ إِلَٰهًۭا كَمَا لَهُمْ ءَالِهَةٌۭ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌۭ تَجْهَلُونَ

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔ موسیٰ نے کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو

بنی اسرائیل بحر احمر کے شمالی سرے کو پار کرکے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے۔ پھر شمال سے جنوب کی طرف سمندر کے کنارے کنارے اپنا سفر شروع کیا۔ اس درمیان میں کسی مقام سے گزرتے ہوئے بنی اسرائیل نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بت کی پرستش میں مشغول ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے (نہ کہ سارے بنی اسرائیل نے) یہ تقاضا کیا کہ ان کے ليے ایک بت بنادیا جائے۔

آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ظاہر پرستی ہے۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا پر اپنا ذہن پوری طرح جما نہیں پاتا۔ اس ليے وہ کسی نہ کسی ظاہری چیز میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔ کچھ بے شعور لوگ پتھر اور دھات کے بنے ہوئے بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اور جو لوگ زیادہ مہذب ہیں وہ کسی شخصیت، کسی قوم یا کسی تمدنی ڈھانچہ کو اپنا مرکز توجہ بنالیتے ہیں۔

بنی اسرائیل کے کچھ افراد نے جب حضرت موسیٰ سے ظاہری بت گھڑنے کی فرمائش کی تو آپ نے فرمایا كه یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ سب برباد کیا جانے والا ہے۔ یعنی ہمارا مشن تویہ ہے کہ ہم ان ظاہری خداؤں کو توڑ کر ختم کردیں اور آدمی کو پوری طرح صرف ایک خدا کا پرستار بنائیں۔ پھرکیسے ممکن ہے کہ ہم خود ہی اس قسم کا ایک ظاہری خدا اپنے ليے گھڑ لیں۔

’’بنی اسرائیل کو تمام اہل عالم پر فضیلت دی‘‘سے مراد کسی قسم کی نسلی فضیلت نہیں ہے بلکہ منصبی فضیلت ہے۔ یہ اسی معنی میں ہے جس میں امت محمدی کے بارے میں کہاگیا ہے کہ ’’تم خیر امت ہو‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو اپنی کتاب کا حامل بناتا ہے اور اس کے ذریعہ دوسری اقوام تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ منصب بنی اسرائیل (یہود) کو حاصل تھا، ختم نبوت کے بعد یہ منصب امت محمدی کو دیاگیا ہے۔

فرعون کو یہ موقع ملنا کہ وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرے۔ یہ بنی اسرائیل کے ليے بطور آزمائش تھا، نہ کہ بطور عذاب۔ اس طرح کی آزمائش اس ليے ہوتی ہے کہ اہلِ ایمان کو جھنجھوڑ کر بیدار کیا جائے۔ یہ معلوم کیا جائے کہ کون مشکل حالات میں خدا کے دین سے پھر جاتاہے اور کون ہے جو صبر کی حد تک خدا کے دین پر قائم رہنے والا ہے۔

Al-A'raaf 7:138Listen in Qur'an →
139

إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ مُتَبَّرٌۭ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَٰطِلٌۭ مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ لوگ جس (شغل) میں (پھنسے ہوئے) ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بیہودہ ہیں

بنی اسرائیل بحر احمر کے شمالی سرے کو پار کرکے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے۔ پھر شمال سے جنوب کی طرف سمندر کے کنارے کنارے اپنا سفر شروع کیا۔ اس درمیان میں کسی مقام سے گزرتے ہوئے بنی اسرائیل نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بت کی پرستش میں مشغول ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے (نہ کہ سارے بنی اسرائیل نے) یہ تقاضا کیا کہ ان کے ليے ایک بت بنادیا جائے۔

آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ظاہر پرستی ہے۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا پر اپنا ذہن پوری طرح جما نہیں پاتا۔ اس ليے وہ کسی نہ کسی ظاہری چیز میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔ کچھ بے شعور لوگ پتھر اور دھات کے بنے ہوئے بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اور جو لوگ زیادہ مہذب ہیں وہ کسی شخصیت، کسی قوم یا کسی تمدنی ڈھانچہ کو اپنا مرکز توجہ بنالیتے ہیں۔

بنی اسرائیل کے کچھ افراد نے جب حضرت موسیٰ سے ظاہری بت گھڑنے کی فرمائش کی تو آپ نے فرمایا كه یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ سب برباد کیا جانے والا ہے۔ یعنی ہمارا مشن تویہ ہے کہ ہم ان ظاہری خداؤں کو توڑ کر ختم کردیں اور آدمی کو پوری طرح صرف ایک خدا کا پرستار بنائیں۔ پھرکیسے ممکن ہے کہ ہم خود ہی اس قسم کا ایک ظاہری خدا اپنے ليے گھڑ لیں۔

’’بنی اسرائیل کو تمام اہل عالم پر فضیلت دی‘‘سے مراد کسی قسم کی نسلی فضیلت نہیں ہے بلکہ منصبی فضیلت ہے۔ یہ اسی معنی میں ہے جس میں امت محمدی کے بارے میں کہاگیا ہے کہ ’’تم خیر امت ہو‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو اپنی کتاب کا حامل بناتا ہے اور اس کے ذریعہ دوسری اقوام تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ منصب بنی اسرائیل (یہود) کو حاصل تھا، ختم نبوت کے بعد یہ منصب امت محمدی کو دیاگیا ہے۔

فرعون کو یہ موقع ملنا کہ وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرے۔ یہ بنی اسرائیل کے ليے بطور آزمائش تھا، نہ کہ بطور عذاب۔ اس طرح کی آزمائش اس ليے ہوتی ہے کہ اہلِ ایمان کو جھنجھوڑ کر بیدار کیا جائے۔ یہ معلوم کیا جائے کہ کون مشکل حالات میں خدا کے دین سے پھر جاتاہے اور کون ہے جو صبر کی حد تک خدا کے دین پر قائم رہنے والا ہے۔

Al-A'raaf 7:139Listen in Qur'an →
140

قَالَ أَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْغِيكُمْ إِلَٰهًۭا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

(اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے

بنی اسرائیل بحر احمر کے شمالی سرے کو پار کرکے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے۔ پھر شمال سے جنوب کی طرف سمندر کے کنارے کنارے اپنا سفر شروع کیا۔ اس درمیان میں کسی مقام سے گزرتے ہوئے بنی اسرائیل نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بت کی پرستش میں مشغول ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے (نہ کہ سارے بنی اسرائیل نے) یہ تقاضا کیا کہ ان کے ليے ایک بت بنادیا جائے۔

آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ظاہر پرستی ہے۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا پر اپنا ذہن پوری طرح جما نہیں پاتا۔ اس ليے وہ کسی نہ کسی ظاہری چیز میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔ کچھ بے شعور لوگ پتھر اور دھات کے بنے ہوئے بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اور جو لوگ زیادہ مہذب ہیں وہ کسی شخصیت، کسی قوم یا کسی تمدنی ڈھانچہ کو اپنا مرکز توجہ بنالیتے ہیں۔

بنی اسرائیل کے کچھ افراد نے جب حضرت موسیٰ سے ظاہری بت گھڑنے کی فرمائش کی تو آپ نے فرمایا كه یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ سب برباد کیا جانے والا ہے۔ یعنی ہمارا مشن تویہ ہے کہ ہم ان ظاہری خداؤں کو توڑ کر ختم کردیں اور آدمی کو پوری طرح صرف ایک خدا کا پرستار بنائیں۔ پھرکیسے ممکن ہے کہ ہم خود ہی اس قسم کا ایک ظاہری خدا اپنے ليے گھڑ لیں۔

’’بنی اسرائیل کو تمام اہل عالم پر فضیلت دی‘‘سے مراد کسی قسم کی نسلی فضیلت نہیں ہے بلکہ منصبی فضیلت ہے۔ یہ اسی معنی میں ہے جس میں امت محمدی کے بارے میں کہاگیا ہے کہ ’’تم خیر امت ہو‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو اپنی کتاب کا حامل بناتا ہے اور اس کے ذریعہ دوسری اقوام تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ منصب بنی اسرائیل (یہود) کو حاصل تھا، ختم نبوت کے بعد یہ منصب امت محمدی کو دیاگیا ہے۔

فرعون کو یہ موقع ملنا کہ وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرے۔ یہ بنی اسرائیل کے ليے بطور آزمائش تھا، نہ کہ بطور عذاب۔ اس طرح کی آزمائش اس ليے ہوتی ہے کہ اہلِ ایمان کو جھنجھوڑ کر بیدار کیا جائے۔ یہ معلوم کیا جائے کہ کون مشکل حالات میں خدا کے دین سے پھر جاتاہے اور کون ہے جو صبر کی حد تک خدا کے دین پر قائم رہنے والا ہے۔

Al-A'raaf 7:140Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.