سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭
ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی معجزے بتائیں، ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہو گئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لیے بعض مفسرین نے کہا ہے: ”طوفان سے مراد موت ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:15005]
بعض کہتے ہیں: کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اونی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: سات غزوے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے۔ [صحیح بخاری:5495]
مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دو مردے اور دو خون ہمارے لیے حلال ہیں، مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ [سنن ابن ماجه:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ میں کھاتا ہوں، نہ حرام کہتا ہوں۔ [سنن ابوداود:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے گوہ آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔
حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے۔ اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔
صفحہ نمبر3043
لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو۔ [ضعیف الجامع الصغیر:3392] پھر یہ روایت بھی غریب ہے، صرف یہی ایک سند ہے۔
امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چنانچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے؟ آپ نے فرمایا کہ کاش کہ ایک دو لپیں مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ [موطا:30:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے کہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه:3220، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مریم بنت عمران علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ [بیہقی فی السنن الکبری:258/9:ضعیف]
ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے: ٹڈیوں کو مارو نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ [طبرانی کبیر:297/22:حسن]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں۔“
اوزاعی کہتے ہیں: ”میں ایک دن جنگل میں تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے، ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔“
صفحہ نمبر3044
شریح قاضی فرماتے ہیں: ”اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے: اس کا سر گھوڑے جیسا ہے، گردن بیل جیسی ہے، سینہ شیر جیسا ہے، پر گدھ جیسے ہیں، پیر اونٹ جیسے ہیں، دم سانپ کی طرح کی ہے، پیٹ بچھو جیسا ہے۔“
آیت «أُحِلَّ لَكُمْ …