Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir

Ayahs 131–140 of 206

131

فَإِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلْحَسَنَةُ قَالُوا۟ لَنَا هَٰذِهِۦ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۭ يَطَّيَّرُوا۟ بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ ۗ أَلَآ إِنَّمَا طَٰٓئِرُهُمْ عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے

اعمال کا خمیازہ ٭٭

اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں۔ کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑ گئیں، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی۔ یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ہو جائیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی ہو گئی۔ شادابی اور فراخی دیکھ کر تو اکڑ کر کہتے کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور خشک سالی اور تنگی دیکھ کر آواز لگاتے کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور مومنوں کی وجہ سے ہے۔

غلط خیال تھا۔ جب کہ مصیبتیں اور راحتیں اللہ کی جانب سے ہیں لیکن بےعملی کی باتیں بناتے رہے۔ ان کی بدشگونی ان کے بد اعمال تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر مصیبتیں لاتے تھے۔

صفحہ نمبر3041

Al-A'raaf 7:131Listen in Qur'an →
132

وَقَالُوا۟ مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِۦ مِنْ ءَايَةٍۢ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ

اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس (خواہ) کوئی ہی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو۔ مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭

ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی معجزے بتائیں، ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہو گئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لیے بعض مفسرین نے کہا ہے: ”طوفان سے مراد موت ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:15005] ‏

بعض کہتے ہیں: کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اونی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: سات غزوے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے۔ [صحیح بخاری:5495] ‏

مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دو مردے اور دو خون ہمارے لیے حلال ہیں، مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ [سنن ابن ماجه:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابوداؤد میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ میں کھاتا ہوں، نہ حرام کہتا ہوں۔ [سنن ابوداود:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے گوہ آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے۔ اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔

صفحہ نمبر3043

لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو۔ [ضعیف الجامع الصغیر:3392] ‏ پھر یہ روایت بھی غریب ہے، صرف یہی ایک سند ہے۔

امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چنانچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے؟ آپ نے فرمایا کہ کاش کہ ایک دو لپیں مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ [موطا:30:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں ہے کہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه:3220، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مریم بنت عمران علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ [بیہقی فی السنن الکبری:258/9:ضعیف] ‏

ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے: ٹڈیوں کو مارو نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ [طبرانی کبیر:297/22:حسن] ‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں۔“

اوزاعی کہتے ہیں: ”میں ایک دن جنگل میں تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے، ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔“

صفحہ نمبر3044

شریح قاضی فرماتے ہیں: ”اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے: اس کا سر گھوڑے جیسا ہے، گردن بیل جیسی ہے، سینہ شیر جیسا ہے، پر گدھ جیسے ہیں، پیر اونٹ جیسے ہیں، دم سانپ کی طرح کی ہے، پیٹ بچھو جیسا ہے۔“

آیت «أُحِلَّ لَكُمْ …

Al-A'raaf 7:132Listen in Qur'an →
133

فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلطُّوفَانَ وَٱلْجَرَادَ وَٱلْقُمَّلَ وَٱلضَّفَادِعَ وَٱلدَّمَ ءَايَٰتٍۢ مُّفَصَّلَٰتٍۢ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًۭا مُّجْرِمِينَ

تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں۔ مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی گنہگار

سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭

ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی معجزے بتائیں، ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہو گئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لیے بعض مفسرین نے کہا ہے: ”طوفان سے مراد موت ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:15005] ‏

بعض کہتے ہیں: کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اونی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: سات غزوے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے۔ [صحیح بخاری:5495] ‏

مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دو مردے اور دو خون ہمارے لیے حلال ہیں، مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ [سنن ابن ماجه:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابوداؤد میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ میں کھاتا ہوں، نہ حرام کہتا ہوں۔ [سنن ابوداود:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے گوہ آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے۔ اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔

صفحہ نمبر3043

لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو۔ [ضعیف الجامع الصغیر:3392] ‏ پھر یہ روایت بھی غریب ہے، صرف یہی ایک سند ہے۔

امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چنانچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے؟ آپ نے فرمایا کہ کاش کہ ایک دو لپیں مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ [موطا:30:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں ہے کہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه:3220، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مریم بنت عمران علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ [بیہقی فی السنن الکبری:258/9:ضعیف] ‏

ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے: ٹڈیوں کو مارو نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ [طبرانی کبیر:297/22:حسن] ‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں۔“

اوزاعی کہتے ہیں: ”میں ایک دن جنگل میں تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے، ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔“

صفحہ نمبر3044

شریح قاضی فرماتے ہیں: ”اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے: اس کا سر گھوڑے جیسا ہے، گردن بیل جیسی ہے، سینہ شیر جیسا ہے، پر گدھ جیسے ہیں، پیر اونٹ جیسے ہیں، دم سانپ کی طرح کی ہے، پیٹ بچھو جیسا ہے۔“

آیت «أُحِلَّ لَكُمْ …

Al-A'raaf 7:133Listen in Qur'an →
134

وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ ٱلرِّجْزُ قَالُوا۟ يَٰمُوسَى ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ ۖ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا ٱلرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ

اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے

سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭

ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی معجزے بتائیں، ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہو گئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لیے بعض مفسرین نے کہا ہے: ”طوفان سے مراد موت ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:15005] ‏

بعض کہتے ہیں: کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اونی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: سات غزوے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے۔ [صحیح بخاری:5495] ‏

مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دو مردے اور دو خون ہمارے لیے حلال ہیں، مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ [سنن ابن ماجه:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابوداؤد میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ میں کھاتا ہوں، نہ حرام کہتا ہوں۔ [سنن ابوداود:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے گوہ آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے۔ اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔

صفحہ نمبر3043

لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو۔ [ضعیف الجامع الصغیر:3392] ‏ پھر یہ روایت بھی غریب ہے، صرف یہی ایک سند ہے۔

امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چنانچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے؟ آپ نے فرمایا کہ کاش کہ ایک دو لپیں مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ [موطا:30:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں ہے کہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه:3220، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مریم بنت عمران علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ [بیہقی فی السنن الکبری:258/9:ضعیف] ‏

ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے: ٹڈیوں کو مارو نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ [طبرانی کبیر:297/22:حسن] ‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں۔“

اوزاعی کہتے ہیں: ”میں ایک دن جنگل میں تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے، ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔“

صفحہ نمبر3044

شریح قاضی فرماتے ہیں: ”اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے: اس کا سر گھوڑے جیسا ہے، گردن بیل جیسی ہے، سینہ شیر جیسا ہے، پر گدھ جیسے ہیں، پیر اونٹ جیسے ہیں، دم سانپ کی طرح کی ہے، پیٹ بچھو جیسا ہے۔“

آیت «أُحِلَّ لَكُمْ …

Al-A'raaf 7:134Listen in Qur'an →
135

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ ٱلرِّجْزَ إِلَىٰٓ أَجَلٍ هُم بَٰلِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ

پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے

سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭

ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی معجزے بتائیں، ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہو گئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لیے بعض مفسرین نے کہا ہے: ”طوفان سے مراد موت ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:15005] ‏

بعض کہتے ہیں: کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اونی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: سات غزوے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے۔ [صحیح بخاری:5495] ‏

مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دو مردے اور دو خون ہمارے لیے حلال ہیں، مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ [سنن ابن ماجه:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابوداؤد میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ میں کھاتا ہوں، نہ حرام کہتا ہوں۔ [سنن ابوداود:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے گوہ آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے۔ اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔

صفحہ نمبر3043

لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو۔ [ضعیف الجامع الصغیر:3392] ‏ پھر یہ روایت بھی غریب ہے، صرف یہی ایک سند ہے۔

امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چنانچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے؟ آپ نے فرمایا کہ کاش کہ ایک دو لپیں مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ [موطا:30:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں ہے کہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه:3220، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مریم بنت عمران علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ [بیہقی فی السنن الکبری:258/9:ضعیف] ‏

ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے: ٹڈیوں کو مارو نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ [طبرانی کبیر:297/22:حسن] ‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں۔“

اوزاعی کہتے ہیں: ”میں ایک دن جنگل میں تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے، ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔“

صفحہ نمبر3044

شریح قاضی فرماتے ہیں: ”اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے: اس کا سر گھوڑے جیسا ہے، گردن بیل جیسی ہے، سینہ شیر جیسا ہے، پر گدھ جیسے ہیں، پیر اونٹ جیسے ہیں، دم سانپ کی طرح کی ہے، پیٹ بچھو جیسا ہے۔“

آیت «أُحِلَّ لَكُمْ …

Al-A'raaf 7:135Listen in Qur'an →
136

فَٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ

تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے

انجام سرکشی ٭٭

جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے رہے تو قدرت نے اپنے زبردست انتقام میں انہیں پھانس لیا اور سب کو دریا برد کر دیا۔

بنی اسرائیل بحکم الٰہی ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا ان کے لیے خشک ہو گیا۔ پھر فرعون اور اس کے ساتھی اس میں اترے تو دریا میں پھر روانی آ گئی اور پانی کا ریلہ آیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ یہ تھا انجام اللہ کی باتوں کو جھوٹ سمجھنے اور ان سے غافل رہنے کا۔ پھر پروردگار نے بنو اسرائیل جیسے کمزور، ناتواں لوگوں کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ مشرق و مغرب ان کے قبضے میں آ گیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے ان بے بسوں پر احسان کرنا چاہا اور انہیں امام اور وارث بنانا چاہا۔ انہیں حکومت سونپ دی اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکریوں کو وہ نتیجہ دکھایا جس سے وہ بھاگ رہے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ فرعونیوں سے ہرے بھرے باغات، چشمے، کھیتیاں، عمدہ مقامات، فراواں نعمتیں چھڑوا کر ہم نے دوسری قوم کے سپرد کر دیں۔ سرزمین شام برکت والی ہے۔ یہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ بنی اسرائیل کا صبر نیک نتیجہ لایا، فرعون اور اس کی قوم کی بنی بنائی چیزیں غارت ہوئیں۔

صفحہ نمبر3052

Al-A'raaf 7:136Listen in Qur'an →
137

وَأَوْرَثْنَا ٱلْقَوْمَ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَٰرِقَ ٱلْأَرْضِ وَمَغَٰرِبَهَا ٱلَّتِى بَٰرَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ ٱلْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ بِمَا صَبَرُوا۟ ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُۥ وَمَا كَانُوا۟ يَعْرِشُونَ

اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہٴ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا

انجام سرکشی ٭٭

جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے رہے تو قدرت نے اپنے زبردست انتقام میں انہیں پھانس لیا اور سب کو دریا برد کر دیا۔

بنی اسرائیل بحکم الٰہی ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا ان کے لیے خشک ہو گیا۔ پھر فرعون اور اس کے ساتھی اس میں اترے تو دریا میں پھر روانی آ گئی اور پانی کا ریلہ آیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ یہ تھا انجام اللہ کی باتوں کو جھوٹ سمجھنے اور ان سے غافل رہنے کا۔ پھر پروردگار نے بنو اسرائیل جیسے کمزور، ناتواں لوگوں کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ مشرق و مغرب ان کے قبضے میں آ گیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے ان بے بسوں پر احسان کرنا چاہا اور انہیں امام اور وارث بنانا چاہا۔ انہیں حکومت سونپ دی اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکریوں کو وہ نتیجہ دکھایا جس سے وہ بھاگ رہے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ فرعونیوں سے ہرے بھرے باغات، چشمے، کھیتیاں، عمدہ مقامات، فراواں نعمتیں چھڑوا کر ہم نے دوسری قوم کے سپرد کر دیں۔ سرزمین شام برکت والی ہے۔ یہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ بنی اسرائیل کا صبر نیک نتیجہ لایا، فرعون اور اس کی قوم کی بنی بنائی چیزیں غارت ہوئیں۔

صفحہ نمبر3052

Al-A'raaf 7:137Listen in Qur'an →
138

وَجَٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتَوْا۟ عَلَىٰ قَوْمٍۢ يَعْكُفُونَ عَلَىٰٓ أَصْنَامٍۢ لَّهُمْ ۚ قَالُوا۟ يَٰمُوسَى ٱجْعَل لَّنَآ إِلَٰهًۭا كَمَا لَهُمْ ءَالِهَةٌۭ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌۭ تَجْهَلُونَ

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔ موسیٰ نے کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو

شوق بت پرستی ٭٭

اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں بنی اسرائیل دیکھ چکے لیکن دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں بیٹھے دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی کوئی چیز مقرر کر دیجئے تاکہ ہم بھی اس کی عبادت کریں جیسے کہ ان کے معبود ان کے سامنے ہیں۔ یہ کافر لوگ کنعانی تھے۔ ایک قول ہے کہ لحم قبیلہ کے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:46/6] ‏

یہ گائے کی شکل بنائے ہوئے اس کی پوجا کر رہے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے محض ناواقف ہو۔ تم نہیں جانتے کہ اللہ شریک و مثیل سے پاک اور بلند تر ہے۔ یہ لوگ جس کام میں مبتلا ہیں، وہ تباہ کن ہے اور ان کا عمل باطل ہے۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکے شریف سے حنین کو روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں بیری کا وہ درخت ملا جہاں مشرکین مجاور بن کر بیٹھا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار وہاں لٹکایا کرتے تھے، اس کا نام ذات انواط تھا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ایک ذات انواط ہمارے لیے بھی مقرر کر دیں۔ آپ نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم نے قوم موسیٰ علیہ السلام جیسی بات کہہ دی کہ ہمارے لیے بھی معبود مقرر کر دیجئے جیسا ان کا معبود ہے۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا: تم جاہل لوگ ہو، یہ لوگ جس شغل میں ہیں، وہ ہلاکت خیز ہے اور جس کام میں ہیں، وہ باطل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15065] ‏ (‏ابن جریر)

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ یہ درخواست کرنے والے ابوواقد لیثی تھے۔ جواب سے پہلے یہ سوال سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ اکبر کہنا بھی مروی ہے اور یہ بھی کہ آپ نے فرمایا کہ تم بھی اپنے اگلوں کی سی چال چلنے لگے۔ [سنن ترمذي:2180،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3054

Al-A'raaf 7:138Listen in Qur'an →
139

إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ مُتَبَّرٌۭ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَٰطِلٌۭ مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ لوگ جس (شغل) میں (پھنسے ہوئے) ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بیہودہ ہیں

شوق بت پرستی ٭٭

اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں بنی اسرائیل دیکھ چکے لیکن دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں بیٹھے دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی کوئی چیز مقرر کر دیجئے تاکہ ہم بھی اس کی عبادت کریں جیسے کہ ان کے معبود ان کے سامنے ہیں۔ یہ کافر لوگ کنعانی تھے۔ ایک قول ہے کہ لحم قبیلہ کے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:46/6] ‏

یہ گائے کی شکل بنائے ہوئے اس کی پوجا کر رہے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے محض ناواقف ہو۔ تم نہیں جانتے کہ اللہ شریک و مثیل سے پاک اور بلند تر ہے۔ یہ لوگ جس کام میں مبتلا ہیں، وہ تباہ کن ہے اور ان کا عمل باطل ہے۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکے شریف سے حنین کو روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں بیری کا وہ درخت ملا جہاں مشرکین مجاور بن کر بیٹھا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار وہاں لٹکایا کرتے تھے، اس کا نام ذات انواط تھا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ایک ذات انواط ہمارے لیے بھی مقرر کر دیں۔ آپ نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم نے قوم موسیٰ علیہ السلام جیسی بات کہہ دی کہ ہمارے لیے بھی معبود مقرر کر دیجئے جیسا ان کا معبود ہے۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا: تم جاہل لوگ ہو، یہ لوگ جس شغل میں ہیں، وہ ہلاکت خیز ہے اور جس کام میں ہیں، وہ باطل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15065] ‏ (‏ابن جریر)

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ یہ درخواست کرنے والے ابوواقد لیثی تھے۔ جواب سے پہلے یہ سوال سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ اکبر کہنا بھی مروی ہے اور یہ بھی کہ آپ نے فرمایا کہ تم بھی اپنے اگلوں کی سی چال چلنے لگے۔ [سنن ترمذي:2180،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3054

Al-A'raaf 7:139Listen in Qur'an →
140

قَالَ أَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْغِيكُمْ إِلَٰهًۭا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

(اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے

ماضی کی یاد دہانی ٭٭

انہیں اس گمراہ خیالی سے روکنے کے لئے آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا رہے ہیں کہ فرعونیوں کی غلامی سے اللہ نے تمہیں آزادی دلوائی، ذلت و رسوائی سے چھٹکارا دیا۔ پھر اوج و عزت عطا فرمائی، تمہارے دیکھتے ہوئے تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا۔ ایسے رب کے سوا اور کون لائق عبادت ہو سکتا ہے؟

فرعون کے وقت کی اپنی ابتری کو بھول گئے جس سے اللہ نے نجات دی۔ اس کی پوری تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر3056

Al-A'raaf 7:140Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.