Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 121–130 of 206

121

قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور کہنے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان لائے

کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔

فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔

مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔

جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

Al-A'raaf 7:121Listen in Qur'an →
122

رَبِّ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ

یعنی موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر

کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔

فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔

مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔

جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

Al-A'raaf 7:122Listen in Qur'an →
123

قَالَ فِرْعَوْنُ ءَامَنتُم بِهِۦ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌۭ مَّكَرْتُمُوهُ فِى ٱلْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا۟ مِنْهَآ أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

فرعون نے کہا کہ پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے؟ بےشک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہلِ شہر کو یہاں سے نکال دو۔ سو عنقریب (اس کا نتیجہ) معلوم کرلو گے

حق کے ليے جان قربان کرنا حق کے حق ہونے کی آخری گواہی دینا ہے۔جادوگروں کو خدا کی مدد سے اسی کی توفیق حاصل ہوئی۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو سخت ترین سزا کے ليے پیش کرکے یہ ثابت کردیا کہ ان کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا کوئی حیلہ اور سازش کا معاملہ نہیں، یہ سچے اعترافِ حق کا معاملہ ہے۔ مگر جادو گروں کا سب سے بڑا عمل فرعون کی متکبرانہ نفسیات کے ليے سب سے بڑا تازیانہ تھا۔ انھوںنے فرعون کے مقابلہ میں موسیٰ کا ساتھ دے کر فرعون کو ساری قوم کے سامنے رسوا کردیاتھا۔ چنانچہ فرعون ان کے خلاف غصہ سے بھر گیا۔ اس نے جادوگروں کے ساتھ اسی ظالمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا جو ہر وہ متکبر شخص کرتاہے جس کو زمین پر کسی قسم کا اختیار حاصل ہوجائے۔ جادوگر بھی دلیل کے میدان میں ہارے اور فرعون بھی۔ مگر جادو گر اپنی شکست کا اعتراف کرکے خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق بن گئے اور فرعون نے اس کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا۔ اس کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ اپنی جھوٹی انانیت کی تسکین کے ليے دنیا میں وہ حق پرستوں پر ظلم کرے اورآخرت میں خدا کے ابدی عذاب میں ڈال دیا جائے۔

فرعون نے موسیٰ کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے کو اپنی ’’اجازت‘‘ کا مسئلہ سمجھا۔ اور جادوگروں نے ’’نشانی‘‘ کا۔ متکبر آدمی کا مزاج ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ وہ اپنی مرضی کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے، نہ کہ دلیل او ر ثبوت کو۔ ایسے لوگ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔

اس نازک ترین موقع پر جادو گروں نے جو کامل استقامت دکھائی وہ سراسر خدا کی مدد سے تھی اور ان کی زبان سے جو دعا نکلی وہ بھی تمام تر الہامی دعا تھی۔ جب کوئی بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن خداکے حوالے کر دیتا ہے تو اس وقت وہ خدا کے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اس کو خدا کا خصوصی فیضان پہنچنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو خدا کے القا كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ وہی دعا کرتا ہے جس کے متعلق اس کا خدا پہلے ہی فیصلہ کرچکا ہوتا ہے کہ وہ اس کے ليے قبول کرلی گئی ہے۔

جادوگروں کا یہ کہنا کہ خدایا ہمارے اوپر صبر انڈیل دے اور ہماری موت آئے تو اسلام پر آئے، دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بس بھر اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیاہے۔ اب جو کچھ ہمارے بس سے باہر ہے اس کے واسطے تو ہمارے ليے کافی ہوجا۔ جب بھی کوئی بندہ دین کی راہ میں دل سے یہ دعا کرتاہے تو خدا یقیناً اس کی مشکلات میں اس کے ليے کافی ہوجاتاہے۔

Al-A'raaf 7:123Listen in Qur'an →
124

لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَٰفٍۢ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ

میں (پہلے تو) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا

حق کے ليے جان قربان کرنا حق کے حق ہونے کی آخری گواہی دینا ہے۔جادوگروں کو خدا کی مدد سے اسی کی توفیق حاصل ہوئی۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو سخت ترین سزا کے ليے پیش کرکے یہ ثابت کردیا کہ ان کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا کوئی حیلہ اور سازش کا معاملہ نہیں، یہ سچے اعترافِ حق کا معاملہ ہے۔ مگر جادو گروں کا سب سے بڑا عمل فرعون کی متکبرانہ نفسیات کے ليے سب سے بڑا تازیانہ تھا۔ انھوںنے فرعون کے مقابلہ میں موسیٰ کا ساتھ دے کر فرعون کو ساری قوم کے سامنے رسوا کردیاتھا۔ چنانچہ فرعون ان کے خلاف غصہ سے بھر گیا۔ اس نے جادوگروں کے ساتھ اسی ظالمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا جو ہر وہ متکبر شخص کرتاہے جس کو زمین پر کسی قسم کا اختیار حاصل ہوجائے۔ جادوگر بھی دلیل کے میدان میں ہارے اور فرعون بھی۔ مگر جادو گر اپنی شکست کا اعتراف کرکے خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق بن گئے اور فرعون نے اس کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا۔ اس کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ اپنی جھوٹی انانیت کی تسکین کے ليے دنیا میں وہ حق پرستوں پر ظلم کرے اورآخرت میں خدا کے ابدی عذاب میں ڈال دیا جائے۔

فرعون نے موسیٰ کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے کو اپنی ’’اجازت‘‘ کا مسئلہ سمجھا۔ اور جادوگروں نے ’’نشانی‘‘ کا۔ متکبر آدمی کا مزاج ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ وہ اپنی مرضی کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے، نہ کہ دلیل او ر ثبوت کو۔ ایسے لوگ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔

اس نازک ترین موقع پر جادو گروں نے جو کامل استقامت دکھائی وہ سراسر خدا کی مدد سے تھی اور ان کی زبان سے جو دعا نکلی وہ بھی تمام تر الہامی دعا تھی۔ جب کوئی بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن خداکے حوالے کر دیتا ہے تو اس وقت وہ خدا کے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اس کو خدا کا خصوصی فیضان پہنچنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو خدا کے القا كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ وہی دعا کرتا ہے جس کے متعلق اس کا خدا پہلے ہی فیصلہ کرچکا ہوتا ہے کہ وہ اس کے ليے قبول کرلی گئی ہے۔

جادوگروں کا یہ کہنا کہ خدایا ہمارے اوپر صبر انڈیل دے اور ہماری موت آئے تو اسلام پر آئے، دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بس بھر اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیاہے۔ اب جو کچھ ہمارے بس سے باہر ہے اس کے واسطے تو ہمارے ليے کافی ہوجا۔ جب بھی کوئی بندہ دین کی راہ میں دل سے یہ دعا کرتاہے تو خدا یقیناً اس کی مشکلات میں اس کے ليے کافی ہوجاتاہے۔

Al-A'raaf 7:124Listen in Qur'an →
125

قَالُوٓا۟ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ

وہ بولے کہ ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

حق کے ليے جان قربان کرنا حق کے حق ہونے کی آخری گواہی دینا ہے۔جادوگروں کو خدا کی مدد سے اسی کی توفیق حاصل ہوئی۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو سخت ترین سزا کے ليے پیش کرکے یہ ثابت کردیا کہ ان کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا کوئی حیلہ اور سازش کا معاملہ نہیں، یہ سچے اعترافِ حق کا معاملہ ہے۔ مگر جادو گروں کا سب سے بڑا عمل فرعون کی متکبرانہ نفسیات کے ليے سب سے بڑا تازیانہ تھا۔ انھوںنے فرعون کے مقابلہ میں موسیٰ کا ساتھ دے کر فرعون کو ساری قوم کے سامنے رسوا کردیاتھا۔ چنانچہ فرعون ان کے خلاف غصہ سے بھر گیا۔ اس نے جادوگروں کے ساتھ اسی ظالمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا جو ہر وہ متکبر شخص کرتاہے جس کو زمین پر کسی قسم کا اختیار حاصل ہوجائے۔ جادوگر بھی دلیل کے میدان میں ہارے اور فرعون بھی۔ مگر جادو گر اپنی شکست کا اعتراف کرکے خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق بن گئے اور فرعون نے اس کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا۔ اس کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ اپنی جھوٹی انانیت کی تسکین کے ليے دنیا میں وہ حق پرستوں پر ظلم کرے اورآخرت میں خدا کے ابدی عذاب میں ڈال دیا جائے۔

فرعون نے موسیٰ کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے کو اپنی ’’اجازت‘‘ کا مسئلہ سمجھا۔ اور جادوگروں نے ’’نشانی‘‘ کا۔ متکبر آدمی کا مزاج ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ وہ اپنی مرضی کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے، نہ کہ دلیل او ر ثبوت کو۔ ایسے لوگ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔

اس نازک ترین موقع پر جادو گروں نے جو کامل استقامت دکھائی وہ سراسر خدا کی مدد سے تھی اور ان کی زبان سے جو دعا نکلی وہ بھی تمام تر الہامی دعا تھی۔ جب کوئی بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن خداکے حوالے کر دیتا ہے تو اس وقت وہ خدا کے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اس کو خدا کا خصوصی فیضان پہنچنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو خدا کے القا كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ وہی دعا کرتا ہے جس کے متعلق اس کا خدا پہلے ہی فیصلہ کرچکا ہوتا ہے کہ وہ اس کے ليے قبول کرلی گئی ہے۔

جادوگروں کا یہ کہنا کہ خدایا ہمارے اوپر صبر انڈیل دے اور ہماری موت آئے تو اسلام پر آئے، دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بس بھر اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیاہے۔ اب جو کچھ ہمارے بس سے باہر ہے اس کے واسطے تو ہمارے ليے کافی ہوجا۔ جب بھی کوئی بندہ دین کی راہ میں دل سے یہ دعا کرتاہے تو خدا یقیناً اس کی مشکلات میں اس کے ليے کافی ہوجاتاہے۔

Al-A'raaf 7:125Listen in Qur'an →
126

وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنْ ءَامَنَّا بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا ۚ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًۭا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ

اور اس کے سوا تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے کہ جب ہمارے پروردگار کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے پروردگار ہم پر صبرواستقامت کے دہانے کھول دے اور ہمیں (ماریو تو) مسلمان ہی ماریو

حق کے ليے جان قربان کرنا حق کے حق ہونے کی آخری گواہی دینا ہے۔جادوگروں کو خدا کی مدد سے اسی کی توفیق حاصل ہوئی۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو سخت ترین سزا کے ليے پیش کرکے یہ ثابت کردیا کہ ان کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا کوئی حیلہ اور سازش کا معاملہ نہیں، یہ سچے اعترافِ حق کا معاملہ ہے۔ مگر جادو گروں کا سب سے بڑا عمل فرعون کی متکبرانہ نفسیات کے ليے سب سے بڑا تازیانہ تھا۔ انھوںنے فرعون کے مقابلہ میں موسیٰ کا ساتھ دے کر فرعون کو ساری قوم کے سامنے رسوا کردیاتھا۔ چنانچہ فرعون ان کے خلاف غصہ سے بھر گیا۔ اس نے جادوگروں کے ساتھ اسی ظالمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا جو ہر وہ متکبر شخص کرتاہے جس کو زمین پر کسی قسم کا اختیار حاصل ہوجائے۔ جادوگر بھی دلیل کے میدان میں ہارے اور فرعون بھی۔ مگر جادو گر اپنی شکست کا اعتراف کرکے خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق بن گئے اور فرعون نے اس کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا۔ اس کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ اپنی جھوٹی انانیت کی تسکین کے ليے دنیا میں وہ حق پرستوں پر ظلم کرے اورآخرت میں خدا کے ابدی عذاب میں ڈال دیا جائے۔

فرعون نے موسیٰ کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے کو اپنی ’’اجازت‘‘ کا مسئلہ سمجھا۔ اور جادوگروں نے ’’نشانی‘‘ کا۔ متکبر آدمی کا مزاج ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ وہ اپنی مرضی کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے، نہ کہ دلیل او ر ثبوت کو۔ ایسے لوگ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔

اس نازک ترین موقع پر جادو گروں نے جو کامل استقامت دکھائی وہ سراسر خدا کی مدد سے تھی اور ان کی زبان سے جو دعا نکلی وہ بھی تمام تر الہامی دعا تھی۔ جب کوئی بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن خداکے حوالے کر دیتا ہے تو اس وقت وہ خدا کے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اس کو خدا کا خصوصی فیضان پہنچنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو خدا کے القا كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ وہی دعا کرتا ہے جس کے متعلق اس کا خدا پہلے ہی فیصلہ کرچکا ہوتا ہے کہ وہ اس کے ليے قبول کرلی گئی ہے۔

جادوگروں کا یہ کہنا کہ خدایا ہمارے اوپر صبر انڈیل دے اور ہماری موت آئے تو اسلام پر آئے، دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بس بھر اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیاہے۔ اب جو کچھ ہمارے بس سے باہر ہے اس کے واسطے تو ہمارے ليے کافی ہوجا۔ جب بھی کوئی بندہ دین کی راہ میں دل سے یہ دعا کرتاہے تو خدا یقیناً اس کی مشکلات میں اس کے ليے کافی ہوجاتاہے۔

Al-A'raaf 7:126Listen in Qur'an →
127

وَقَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُۥ لِيُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَءَالِهَتَكَ ۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَآءَهُمْ وَنَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَٰهِرُونَ

اور قومِ فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجیے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں۔ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشک ہم ان پر غالب ہیں

بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر کے سامنے جو مسئلہ پیش کیا وہ حکومت کا پیدا کیا ہوا تھا۔ مگر پیغمبر نے اس کا جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ قومی مسائل کے بارے میں دنیا دار لیڈروں کے سوچنے کے انداز اور پیغمبر کے سوچنے کے انداز میں کیا فرق ہے۔ دنیا دار لیڈر اس قسم کے مسئلہ کا حل حکومت کی سطح پر تلاش کرتا ہے، خواہ وہ حکومت سے مصالحت کی صورت میں ہو یا حکومت سے تصادم کی صورت میں۔ مگر پیغمبر نے جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ جو کچھ ہورہا ہو اس کو برداشت کرتے ہوئے خدا سے مدد کے طالب بنو، حکومت کی طرف سے بے نیاز ہو کر خداکی طرف رجوع کرو۔

پھر پیغمبر نے یہ بھی بتادیا کہ وہ عام قومی ذوق کے خلاف جو حل پیش کررہا ہے وہ کیوں پیش کررہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسائل اگر چہ بظاہر اقتدار کی طرف سے پیش آرہے ہیں او ربظاہر اقتدار ہی کے ذریعہ ان کا حل بھی نکلے۔ مگر خود اقتدار کیسے کسی کو ملتاہے۔ وہ محض اپنی تدبیروں سے کسی کو نہیں مل جاتا بلکہ براہِ راست خدا کی طرف سے کسی کو ديے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے اور کسی سے چھینے جانے کا۔ جب اقتدار کا تعلق خدا سے ہے تو مسئلہ کے حل کی جڑ بھی یقینا ًخدا ہی کے پاس ہوسکتی ہے۔

پھر یہ کہ یہ اقتدار جس کو بھی دیا جائے وہ حقیقۃً اس کے حق میں آزمائش ہوتاہے۔ اس دنیا میں بے طاقتی بھی آزمائش ہے اور طاقت ور ہونا بھی آزمائش۔ آج جس کے پاس اقتدار ہے، اس کے پاس بھی اس ليے ہے کہ اس کو آزمایا جائے کہ وہ ظالم اور متکبر بنتا ہے یا انصاف اور تواضع کی روش اختیار کرتا ہے۔ اس کے بعد جب اقتدار کا فیصلہ تمھارے حق میں کیا جائے گا اس وقت بھی اس کا مقصد تم کو جانچنا ہی ہوگا جس طرح ایک گروہ کی نااہلی کی بنا پر اس سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے گروہ کو دیا جاتا ہے اسی طرح دوسرا گروہ اگر نااہل ثابت ہو تو اس سے بھی چھین کر دوبارہ کسی اور کو دے دیا جائے گا۔

خوش حالی اور اقتدار جس کو آدمی دنیا میں چاہتاہے وہ حقیقت میںآخرت میں ملنے والی چیز ہے۔ کیوں کہ دنیا میں یہ چیز بطور آزمائش ملتی ہے اور آخرت میں وہ بطور انعام خداکے صالح بندوں کو دی جائیں گی۔

Al-A'raaf 7:127Listen in Qur'an →
128

قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۖ إِنَّ ٱلْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ وَٱلْعَٰقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو۔ زمین تو خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے

بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر کے سامنے جو مسئلہ پیش کیا وہ حکومت کا پیدا کیا ہوا تھا۔ مگر پیغمبر نے اس کا جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ قومی مسائل کے بارے میں دنیا دار لیڈروں کے سوچنے کے انداز اور پیغمبر کے سوچنے کے انداز میں کیا فرق ہے۔ دنیا دار لیڈر اس قسم کے مسئلہ کا حل حکومت کی سطح پر تلاش کرتا ہے، خواہ وہ حکومت سے مصالحت کی صورت میں ہو یا حکومت سے تصادم کی صورت میں۔ مگر پیغمبر نے جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ جو کچھ ہورہا ہو اس کو برداشت کرتے ہوئے خدا سے مدد کے طالب بنو، حکومت کی طرف سے بے نیاز ہو کر خداکی طرف رجوع کرو۔

پھر پیغمبر نے یہ بھی بتادیا کہ وہ عام قومی ذوق کے خلاف جو حل پیش کررہا ہے وہ کیوں پیش کررہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسائل اگر چہ بظاہر اقتدار کی طرف سے پیش آرہے ہیں او ربظاہر اقتدار ہی کے ذریعہ ان کا حل بھی نکلے۔ مگر خود اقتدار کیسے کسی کو ملتاہے۔ وہ محض اپنی تدبیروں سے کسی کو نہیں مل جاتا بلکہ براہِ راست خدا کی طرف سے کسی کو ديے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے اور کسی سے چھینے جانے کا۔ جب اقتدار کا تعلق خدا سے ہے تو مسئلہ کے حل کی جڑ بھی یقینا ًخدا ہی کے پاس ہوسکتی ہے۔

پھر یہ کہ یہ اقتدار جس کو بھی دیا جائے وہ حقیقۃً اس کے حق میں آزمائش ہوتاہے۔ اس دنیا میں بے طاقتی بھی آزمائش ہے اور طاقت ور ہونا بھی آزمائش۔ آج جس کے پاس اقتدار ہے، اس کے پاس بھی اس ليے ہے کہ اس کو آزمایا جائے کہ وہ ظالم اور متکبر بنتا ہے یا انصاف اور تواضع کی روش اختیار کرتا ہے۔ اس کے بعد جب اقتدار کا فیصلہ تمھارے حق میں کیا جائے گا اس وقت بھی اس کا مقصد تم کو جانچنا ہی ہوگا جس طرح ایک گروہ کی نااہلی کی بنا پر اس سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے گروہ کو دیا جاتا ہے اسی طرح دوسرا گروہ اگر نااہل ثابت ہو تو اس سے بھی چھین کر دوبارہ کسی اور کو دے دیا جائے گا۔

خوش حالی اور اقتدار جس کو آدمی دنیا میں چاہتاہے وہ حقیقت میںآخرت میں ملنے والی چیز ہے۔ کیوں کہ دنیا میں یہ چیز بطور آزمائش ملتی ہے اور آخرت میں وہ بطور انعام خداکے صالح بندوں کو دی جائیں گی۔

Al-A'raaf 7:128Listen in Qur'an →
129

قَالُوٓا۟ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِنۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ

وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو

بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر کے سامنے جو مسئلہ پیش کیا وہ حکومت کا پیدا کیا ہوا تھا۔ مگر پیغمبر نے اس کا جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ قومی مسائل کے بارے میں دنیا دار لیڈروں کے سوچنے کے انداز اور پیغمبر کے سوچنے کے انداز میں کیا فرق ہے۔ دنیا دار لیڈر اس قسم کے مسئلہ کا حل حکومت کی سطح پر تلاش کرتا ہے، خواہ وہ حکومت سے مصالحت کی صورت میں ہو یا حکومت سے تصادم کی صورت میں۔ مگر پیغمبر نے جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ جو کچھ ہورہا ہو اس کو برداشت کرتے ہوئے خدا سے مدد کے طالب بنو، حکومت کی طرف سے بے نیاز ہو کر خداکی طرف رجوع کرو۔

پھر پیغمبر نے یہ بھی بتادیا کہ وہ عام قومی ذوق کے خلاف جو حل پیش کررہا ہے وہ کیوں پیش کررہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسائل اگر چہ بظاہر اقتدار کی طرف سے پیش آرہے ہیں او ربظاہر اقتدار ہی کے ذریعہ ان کا حل بھی نکلے۔ مگر خود اقتدار کیسے کسی کو ملتاہے۔ وہ محض اپنی تدبیروں سے کسی کو نہیں مل جاتا بلکہ براہِ راست خدا کی طرف سے کسی کو ديے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے اور کسی سے چھینے جانے کا۔ جب اقتدار کا تعلق خدا سے ہے تو مسئلہ کے حل کی جڑ بھی یقینا ًخدا ہی کے پاس ہوسکتی ہے۔

پھر یہ کہ یہ اقتدار جس کو بھی دیا جائے وہ حقیقۃً اس کے حق میں آزمائش ہوتاہے۔ اس دنیا میں بے طاقتی بھی آزمائش ہے اور طاقت ور ہونا بھی آزمائش۔ آج جس کے پاس اقتدار ہے، اس کے پاس بھی اس ليے ہے کہ اس کو آزمایا جائے کہ وہ ظالم اور متکبر بنتا ہے یا انصاف اور تواضع کی روش اختیار کرتا ہے۔ اس کے بعد جب اقتدار کا فیصلہ تمھارے حق میں کیا جائے گا اس وقت بھی اس کا مقصد تم کو جانچنا ہی ہوگا جس طرح ایک گروہ کی نااہلی کی بنا پر اس سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے گروہ کو دیا جاتا ہے اسی طرح دوسرا گروہ اگر نااہل ثابت ہو تو اس سے بھی چھین کر دوبارہ کسی اور کو دے دیا جائے گا۔

خوش حالی اور اقتدار جس کو آدمی دنیا میں چاہتاہے وہ حقیقت میںآخرت میں ملنے والی چیز ہے۔ کیوں کہ دنیا میں یہ چیز بطور آزمائش ملتی ہے اور آخرت میں وہ بطور انعام خداکے صالح بندوں کو دی جائیں گی۔

Al-A'raaf 7:129Listen in Qur'an →
130

وَلَقَدْ أَخَذْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں

کسی بات کو غلط کہنا ہو تو اس کا غلط ہونا لفظوں کی صورت میں بتایا جاتاہے اور کسی بات کو صحیح کہنا ہو تو اس کو بھی لفظوں ہی کے ذریعہ صحیح کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی کو مجرم قرار دینا ہو تو اس کو لفظوں کے ذریعہ مجرم قرار دیا جاتاہے اور اگر کسی کو برسرِ حق ظاہرکرنا ہو تو اس کا برسرِ حق ہونا بھی لفظوں میں بتایا جاتاہے۔ مگر الفاظ کا استعمال کرنے والا انسان ہے اور موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ الفاظ کو جس طرح چاہے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔

امتحان کی اس دنیا میں آدمی کو جو آزادی دی گئی ہے اس میں سب سے زیادہ نازک آزادی یہ ہے کہ وہ حق کو باطل کہنے کے لیے بھی الفاظ پالیتاہے اور باطل کو حق کہنے کے لیے بھی۔ وہ ایک کھلے ہوئے پیغمبرانہ معجزے کو جادو کہہ کر نظر انداز کرسکتاہے۔ خدا اس کو کوئی نعمت دے تو وہ اس کو ایسے الفاظ میں بیان کرسکتاہے گویا کہ اس کو جو کچھ ملا ہے اپنی صلاحیتوں اور کوششوں کی بدولت ملا ہے۔ حق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے خدا اس کے اوپر کوئی تنبیہی سزا بھیجے تو وہ آزاد ہے کہ اس کو وہ انھیں خدا پرست بندوں کی نحوست کا نتیجہ قرار دے دے جن کے ساتھ برا رویہ اختیار کرنے ہی کی وجہ سے اس پر یہ تنبیہ آئی ہے۔ خدا کی طرف سے ہر بات اس ليے آتی ہے کہ آدمی اس سے نصیحت پکڑے۔ مگر الفاظ کے ذریعے آدمی ہر نصیحت کو ایک الٹا رخ دے دیتاہے اور اس کے اندر جو سبق کا پہلو ہے اس کو پانے سے محروم رہ جاتاہے۔

’’تم خواہ کوئی بھی نشانی دکھاؤ ہم ایمان نہیں لائیں گے‘‘۔ فرعون کا یہ جملہ بتاتا ہے کہ حق اپنی مکمل صورت میں موجود ہونے کے باوجود صرف اسی کو ملتا ہے جو اس کو پانا چاہے۔ بالفاظ دیگر، جو شخص حق کے معاملے میں سنجیدہ ہو، جس کے اندر فی الواقع یہ آمادگی ہو کہ حق خواہ جہاں اور جس صورت میں بھی ملے وہ اس کو لے لے گا، اُس پر حق کا حق ہونا کھلتاہے۔ اِس کے برعکس، جو شخص اس معاملے میں سنجیدہ نہ ہو، جس کا حال یہ ہو کہ جو کچھ اس کے پاس ہے بس اسی پر وہ مطمئن ہے، وہ حق کو حق کی صورت میں دیکھنے سے عاجز رہے گا اور اسی ليے وہ اس کو اختیار بھی نہ کرسکے گا۔ اپنے حال پر مگن رہنا آدمی کو اپنے باہر کی چیزوں کے ليے بے خبر بنادیتاہے۔ وہ جان کر بھی نہیں جانتا، وہ سن کر بھی نہیں سنتا۔

آدمی اگر غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے تو وہ ضرور حقیقت کو پالے گا۔ مگر اکثر لوگ اپنے نفسیات کے زیر اثر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حقیقت کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔

Al-A'raaf 7:130Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.