Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Ahsan ul Bayan by Hafiz Salahuddin Yusuf

Ayahs 121–130 of 206

121

قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور کہنے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان لائے

121۔ 1 جادوگر جادو کے فن اور اس کی اصل حقیقت جانتے تھے یہ دیکھا تو سمجھ گئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ یہاں پیش کیا، جادو نہیں ہے، یہ واقع ہی اللہ کا نمائندہ ہے اور اللہ کی مدد سے ہی اس نے یہ معجزہ پیش کیا ہے جس نے آن واحد میں ہم سب کے کرتبوں پر پانی پھیر دیا۔ چناچہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اعلان کردیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ باطل باطل ہے چاہے اس پر کتنے ہی حسین غلاف چڑھا لئے جائیں اور حق حق ہے چاہے اس پر کتنے ہی پردے ڈال دیئے جائیں تاہم حق کا ڈنکا بج کر رہتا ہے۔

Al-A'raaf 7:121Listen in Qur'an →
122

رَبِّ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ

یعنی موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر

122۔ 1 سجدے میں گر کر انہوں نے رب العالمین پر ایمان لانے اعلان دیا جس سے فرعونیوں کو مغالطہ ہوسکتا تھا کہ یہ سجدہ فرعون کو کیا گیا ہے جس کی الوہیت کے وہ قائل تھے اس لئے انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا رب کہہ کر واضح کردیا کہ یہ سجدہ ہم جہانوں کے رب کو ہی کر رہے ہیں۔ لوگوں کے خود ساختہ کسی رب کو نہیں۔

Al-A'raaf 7:122Listen in Qur'an →
123

قَالَ فِرْعَوْنُ ءَامَنتُم بِهِۦ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌۭ مَّكَرْتُمُوهُ فِى ٱلْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا۟ مِنْهَآ أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

فرعون نے کہا کہ پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے؟ بےشک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہلِ شہر کو یہاں سے نکال دو۔ سو عنقریب (اس کا نتیجہ) معلوم کرلو گے

123۔ 1 یہ جو کچھ ہوا فرعون کے لئے بڑا حیران کن اور تعجب خیز تھا اس لئے اسے اور تو کچھ نہیں سوجھا، اس نے یہی کہہ دیا کہ تم سب آپس میں ملے ہوئے ہو اور اس کا مقصد ہمارے اقتدار کا خاتمہ ہے۔ اچھا اس کا انجام عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔

Al-A'raaf 7:123Listen in Qur'an →
124

لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَٰفٍۢ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ

میں (پہلے تو) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا

124۔ 1 یعنی دایاں پاؤں اور بایاں ہاتھ پھر یہی نہیں سولی پر چڑھا کر تمہیں نشان عبرت بھی بنا دونگا۔

Al-A'raaf 7:124Listen in Qur'an →
125

قَالُوٓا۟ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ

وہ بولے کہ ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

125۔ 1 اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اگر ہمارے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا تو تجھے بھی اس بات کے لئے تیار رہنا چاہیے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تجھے اس جرم کی سخت سزا دے گا اس لئے کہ ہم سب کو مر کر اس کے پاس جانا ہے اس کی سزا سے کون بچ سکتا ہے ؟ گویا فرعون کے عذاب دنیا کے مقابلے میں اسے عذاب آخرت سے ڈرایا گیا ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ موت تو ہمیں آنی ہی آنی ہے اس سے کیا فرق پڑے گا کہ موت سولی پر بھی آئے یا کسی اور طریقے سے۔

Al-A'raaf 7:125Listen in Qur'an →
126

وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنْ ءَامَنَّا بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا ۚ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًۭا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ

اور اس کے سوا تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے کہ جب ہمارے پروردگار کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے پروردگار ہم پر صبرواستقامت کے دہانے کھول دے اور ہمیں (ماریو تو) مسلمان ہی ماریو

126۔ 1 یعنی تیرے نزدیک ہمارا یہ عیب ہے۔ جس پر تو ہم سے ناراض ہوگیا ہے اور ہمیں سزا دینے پر تل گیا ہے۔ درآنحالیکہ یہ سرے سے عیب ہی نہیں یہ تو خوبی ہے بہت بڑی خوبی کہ جب حقیقت ہمارے سامنے واضح ہو کر آگئی تو ہم نے اس کے مقابلے میں تمام دنیاوی مفادات ٹھکرا دیئے اور حقیقت کو اپنا لیا۔ پھر انہوں نے اپنا روئے سخن فرعون سے پھیر کر اللہ کی طرف کرلیا اور اس کی بارگاہ میں دست دعا ہوگئے۔

126۔ 2 تاکہ ہم تیرے اس دشمن کے عذاب کو برداشت کرلیں، اور حق اور ایمان پر ثابت قدم رہیں۔

126۔ 3 اس دنیاوی آزمائش سے ہمارے اندر ایمان سے انحراف آئے نہ کسی اور فتنے میں ہم مبتلا ہوں۔

Al-A'raaf 7:126Listen in Qur'an →
127

وَقَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُۥ لِيُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَءَالِهَتَكَ ۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَآءَهُمْ وَنَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَٰهِرُونَ

اور قومِ فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجیے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں۔ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشک ہم ان پر غالب ہیں

127۔ 1 یہ ہر دور کے مفسدین کا شیوا رہا ہے کہ وہ اللہ والوں کو فسادی اور ان کی دعوت ایمان و توحید کو فساد سے تعبیر کرتے ہیں فرعون نے بھی یہی کہا۔

127۔ 2 فرعون کو بھی اگرچہ دعویٰ ربوبیت تھا (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) 79 ۔ الزاریات :24) میں تمہارا بڑا رب ہوں وہ کہا کرتا تھا لیکن دوسرے چھوٹے چھوٹے معبود بھی تھے جن کے ذریعے سے لوگ فرعون کا تقرب حاصل کرتے تھے۔

127۔ 3 ہمارے اس انتظام میں یہ رکاوٹ نہیں ڈال سکتے قتل انبیاء کا یہ پروگرام فرعونیوں کے کہنے پر بنایا گیا اس سے قبل بھی جب موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت نہیں ہوئی تھی موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد از ولادت خاتمے کے لئے اس نے بنی اسرائیل کے نوملود بچوں کو قتل کرنا شروع کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے بعد ان کو بچانے کی یہ تدبیر کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو خود فرعون کے محل میں پہنچوا کر اس کی گود میں ان کی پرورش کروائی۔ (فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِيْعًا) 13 ۔ الرعد :42) ۔

Al-A'raaf 7:127Listen in Qur'an →
128

قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۖ إِنَّ ٱلْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ وَٱلْعَٰقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو۔ زمین تو خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے

128۔ 1 جب فرعون کی طرف سے دوبارہ اس ظلم کا آغاز ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ سے مدد حاصل کرنے اور صبر کرنے کی تلقین کی اور تسلی دی کہ اگر تم صحیح رہے تو زمین کا اقتدار بالآخر

تمہیں ہی ملے گا

Al-A'raaf 7:128Listen in Qur'an →
129

قَالُوٓا۟ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِنۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ

وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو

129۔ 1 یہ اشارہ ہے ان مظالم کی طرف جو ولادت موسیٰ (علیہ السلام) سے قبل ان پر ہوتے رہے۔

129۔ 2 جادوگروں کے واقعہ کے بعد ظلم و ستم کا یہ نیا دور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے کے بعد شروع ہوا۔

129۔ 3 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا، زمین میں تمہیں اقتدار عطا فرمائے گا پھر تمہاری آزمائش کا نیا دور شروع ہوگا۔ ابھی تو تکلیفوں کے ذریعے سے آزمائے جا رہے ہو، پھر انعام و اکرام کی بارش کرکے اور اختیار اور اقتدار سے بہرہ مند کرکے تمہیں آزمایا جائے گا۔

Al-A'raaf 7:129Listen in Qur'an →
130

وَلَقَدْ أَخَذْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں

130۔ 1 آل فرعون سے مراد فرعون کی قوم ہے۔ اور سنین سے قحط سالی۔ یعنی بارش کے فقدان اور درختوں میں کیڑے وغیرہ لگ جانے سے پیداوار میں کمی۔ مقصد آزمائش سے یہ تھا کہ اس ظلم اور استکبار سے باز آجائیں جس میں وہ مبتلا تھے۔

Al-A'raaf 7:130Listen in Qur'an →

Commentary: Ahsan ul Bayan by Hafiz Salahuddin Yusuf. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.