Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir

Ayahs 111–120 of 206

111

قَالُوٓا۟ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَأَرْسِلْ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ

انہوں نے (فرعون سے) کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے اور شہروں میں نقیب روانہ کر دیجیے

درباریوں کا مشورہ ٭٭

درباریوں نے مشورہ دیا کہ ان دونوں بھائیوں کا معاملہ تو اس وقت رفع دفع کرو، اسے ملتوی رکھو اور ملک کے ہر حصے میں ہرکارے بھیج دو جو جادوگروں کو جمع کر کے آپ کے دربار میں لائیں۔

تو جب تمام استادان فن جادوگر آ جائیں، ان سے مقابلہ کرایا جائے تو یہ ہار جائے گا اور منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا، یہ اگر جادو جانتا ہے تو ہماری رعایا میں جادوگروں کی کیا کمی ہے؟ بڑے بڑے ماہر جادوگر ہم میں موجود ہیں جو اپنے فن میں بےنظیر ہیں اور بہت چست و چالاک ہیں۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا کہ ہم سمجھ گئے کہ تو جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دینے کے ارادے سے آیا ہے تو اگر تجھ میں کوئی سکت ہے تو آ ہاتھ ملا، ہم تجھ سے مقابلہ کا دن اور جگہ مقرر کرتے ہیں اور جب جگہ مقرر ہو جائے، پھر جو بھاگے وہی ہارا۔ آپ نے فرمایا: اچھا یہ ہوس بھی نکال لو۔ جاؤ تمہارا عید کا دن مجھے منظور ہے اور دن چڑھے اجالے کا وقت اور شرط یہ کہ یہ مقابلہ مجمع عام میں ہو۔ چنانچہ فرعون اس تیاری میں مصروف ہو گیا۔

صفحہ نمبر3017

Al-A'raaf 7:111Listen in Qur'an →
112

يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٍۢ

کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں

درباریوں کا مشورہ ٭٭

درباریوں نے مشورہ دیا کہ ان دونوں بھائیوں کا معاملہ تو اس وقت رفع دفع کرو، اسے ملتوی رکھو اور ملک کے ہر حصے میں ہرکارے بھیج دو جو جادوگروں کو جمع کر کے آپ کے دربار میں لائیں۔

تو جب تمام استادان فن جادوگر آ جائیں، ان سے مقابلہ کرایا جائے تو یہ ہار جائے گا اور منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا، یہ اگر جادو جانتا ہے تو ہماری رعایا میں جادوگروں کی کیا کمی ہے؟ بڑے بڑے ماہر جادوگر ہم میں موجود ہیں جو اپنے فن میں بےنظیر ہیں اور بہت چست و چالاک ہیں۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا کہ ہم سمجھ گئے کہ تو جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دینے کے ارادے سے آیا ہے تو اگر تجھ میں کوئی سکت ہے تو آ ہاتھ ملا، ہم تجھ سے مقابلہ کا دن اور جگہ مقرر کرتے ہیں اور جب جگہ مقرر ہو جائے، پھر جو بھاگے وہی ہارا۔ آپ نے فرمایا: اچھا یہ ہوس بھی نکال لو۔ جاؤ تمہارا عید کا دن مجھے منظور ہے اور دن چڑھے اجالے کا وقت اور شرط یہ کہ یہ مقابلہ مجمع عام میں ہو۔ چنانچہ فرعون اس تیاری میں مصروف ہو گیا۔

صفحہ نمبر3017

Al-A'raaf 7:112Listen in Qur'an →
113

وَجَآءَ ٱلسَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوٓا۟ إِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ ٱلْغَٰلِبِينَ

(چنانچہ ایسا ہی کیا گیا) اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے

باب

جادوگروں نے پہلے ہی فرعون سے قول و قرار لے لیا تاکہ محنت خالی نہ جائے اور اگر ہم جیت جائیں تو خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔

فرعون نے وعدہ کیا کہ منہ مانگا انعام اور ہمیشہ کے لئے خاص درباریوں میں داخلہ دوں گا۔ جادوگر یہ قول و قرار لے کر میدان میں اتر آئے۔

صفحہ نمبر3019

Al-A'raaf 7:113Listen in Qur'an →
114

قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ

(فرعون نے) کہا ہاں (ضرور) اور (اس کے علاوہ) تم مقربوں میں داخل کرلیے جاؤ گے

باب

جادوگروں نے پہلے ہی فرعون سے قول و قرار لے لیا تاکہ محنت خالی نہ جائے اور اگر ہم جیت جائیں تو خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔

فرعون نے وعدہ کیا کہ منہ مانگا انعام اور ہمیشہ کے لئے خاص درباریوں میں داخلہ دوں گا۔ جادوگر یہ قول و قرار لے کر میدان میں اتر آئے۔

صفحہ نمبر3019

Al-A'raaf 7:114Listen in Qur'an →
115

قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ نَحْنُ ٱلْمُلْقِينَ

(جب فریقین روزِ مقررہ پر جمع ہوئے تو) جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم (جادو کی چیز) ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں

جادوگروں سے مقابلہ ٭٭

جادوگروں کو اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ سب فی الحقیقت اپنے اس فن کے لاجواب استاد تھے۔ اس لیے انہوں نے آتے ہی موسیٰ علیہ السلام کو چیلنج دیا کہ لو ہوشیار ہو جاؤ۔ تمہیں اختیار ہے کہ میدان میں اپنے کرتب پہلے دکھاؤ اور اگر کہو تو پہل ہم کر دیں۔

آپ نے فرمایا: بہتر ہے کہ تمہارے حوصلے نکل جائیں اور لوگ تمہارا کمال فن دیکھ لیں اور پھر اللہ کی قدرت کو بھی دیکھ لیں اور حق و باطل میں دیکھ بھال کر فیصلہ کر سکیں۔ وہ تو یہ چاہتے ہی تھے، انہوں نے جھٹ سے اپنی رسیاں اور لکڑیاں نکال نکال کر میدان میں ڈالنی شروع کر دیں۔ ادھر وہ میدان میں پڑتے ہی چلتی پھرتی اور بنی بنائی سانپ معلوم ہونے لگیں۔ یہ صرف نظر بندی تھی۔ فی الواقع خارج میں ان کا وجود بدل نہیں گیا تھا بلکہ اس طرح لوگوں کو دکھائی دیتی تھیں کہ گویا زندہ ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام اپنے دل میں خطرہ محسوس کرنے لگے۔ اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ خوف نہ کر، تو ہی غالب رہے گا۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی ڈال تو سہی! ان کا کیا دھرا یہ تو سب کو ہڑپ کر جائے گی۔

صفحہ نمبر3021

یہ سب تو جادوگری کا کرشمہ ہے۔ بھلا جادو والے بھی کبھی کامیاب ہوئے ہیں؟ بڑی موٹی موٹی رسیاں اور لمبی لمبی لکڑیاں انہوں نے ڈالی تھیں جو سب چلتی پھرتی، دوڑتی بھاگتی معلوم ہو رہی تھیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21/6] ‏

یہ جادوگر پندرہ ہزار یا تیس ہزار سے اوپر اوپر تھے یا ستر ہزار کی تعداد میں تھے۔ ہر ایک اپنے ساتھ رسیاں اور لکڑیاں لایا تھا۔ صف بستہ کھڑے تھے اور لوگ چاروں طرف موجود تھے۔ ہر ایک ہمہ تن شوق بنا ہوا تھا۔ فرعون اپنے لاؤ لشکر اور درباریوں سمیت بڑے رعب سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ ادھر وقت ہوا، ادھر سب کی نگاہوں نے دیکھا کہ ایک درویش صفت اللہ کا نبی علیہ السلام اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لیے ہوئے لکڑی ٹکاتے ہوئے آ رہا ہے۔ یہ تھے جن کے مقابلے کی یہ دھوم دھام تھی۔ آپ کے آتے ہی جادوگروں نے صرف یہ دریافت کر کے کہ ابتداء کس کی طرف سے ہونی چاہیئے، خود ابتداء کر دی۔ موسیٰ علیہ السلام کی، پھر فرعون کی، پھر تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کر کے سب کو ہیبت زدہ کر دیا۔ اب جو انہوں نے اپنی اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو ہزارہا کی تعداد میں پہاڑوں کے برابر سانپ نظر آنے لگے جو اوپر تلے ایک دوسرے سے لپٹ رہے ہیں۔ ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں، میدان بھر گیا ہے۔ انہوں نے اپنے فن کا پورا مظاہرہ کر دکھایا۔

صفحہ نمبر3022

Al-A'raaf 7:115Listen in Qur'an →
116

قَالَ أَلْقُوا۟ ۖ فَلَمَّآ أَلْقَوْا۟ سَحَرُوٓا۟ أَعْيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍۢ

(موسیٰ نے) کہا تم ہی ڈالو۔ جب انہوں نے (جادو کی چیزیں) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (یعنی نظربندی کردی) اور (لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا

جادوگروں سے مقابلہ ٭٭

جادوگروں کو اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ سب فی الحقیقت اپنے اس فن کے لاجواب استاد تھے۔ اس لیے انہوں نے آتے ہی موسیٰ علیہ السلام کو چیلنج دیا کہ لو ہوشیار ہو جاؤ۔ تمہیں اختیار ہے کہ میدان میں اپنے کرتب پہلے دکھاؤ اور اگر کہو تو پہل ہم کر دیں۔

آپ نے فرمایا: بہتر ہے کہ تمہارے حوصلے نکل جائیں اور لوگ تمہارا کمال فن دیکھ لیں اور پھر اللہ کی قدرت کو بھی دیکھ لیں اور حق و باطل میں دیکھ بھال کر فیصلہ کر سکیں۔ وہ تو یہ چاہتے ہی تھے، انہوں نے جھٹ سے اپنی رسیاں اور لکڑیاں نکال نکال کر میدان میں ڈالنی شروع کر دیں۔ ادھر وہ میدان میں پڑتے ہی چلتی پھرتی اور بنی بنائی سانپ معلوم ہونے لگیں۔ یہ صرف نظر بندی تھی۔ فی الواقع خارج میں ان کا وجود بدل نہیں گیا تھا بلکہ اس طرح لوگوں کو دکھائی دیتی تھیں کہ گویا زندہ ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام اپنے دل میں خطرہ محسوس کرنے لگے۔ اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ خوف نہ کر، تو ہی غالب رہے گا۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی ڈال تو سہی! ان کا کیا دھرا یہ تو سب کو ہڑپ کر جائے گی۔

صفحہ نمبر3021

یہ سب تو جادوگری کا کرشمہ ہے۔ بھلا جادو والے بھی کبھی کامیاب ہوئے ہیں؟ بڑی موٹی موٹی رسیاں اور لمبی لمبی لکڑیاں انہوں نے ڈالی تھیں جو سب چلتی پھرتی، دوڑتی بھاگتی معلوم ہو رہی تھیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21/6] ‏

یہ جادوگر پندرہ ہزار یا تیس ہزار سے اوپر اوپر تھے یا ستر ہزار کی تعداد میں تھے۔ ہر ایک اپنے ساتھ رسیاں اور لکڑیاں لایا تھا۔ صف بستہ کھڑے تھے اور لوگ چاروں طرف موجود تھے۔ ہر ایک ہمہ تن شوق بنا ہوا تھا۔ فرعون اپنے لاؤ لشکر اور درباریوں سمیت بڑے رعب سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ ادھر وقت ہوا، ادھر سب کی نگاہوں نے دیکھا کہ ایک درویش صفت اللہ کا نبی علیہ السلام اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لیے ہوئے لکڑی ٹکاتے ہوئے آ رہا ہے۔ یہ تھے جن کے مقابلے کی یہ دھوم دھام تھی۔ آپ کے آتے ہی جادوگروں نے صرف یہ دریافت کر کے کہ ابتداء کس کی طرف سے ہونی چاہیئے، خود ابتداء کر دی۔ موسیٰ علیہ السلام کی، پھر فرعون کی، پھر تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کر کے سب کو ہیبت زدہ کر دیا۔ اب جو انہوں نے اپنی اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو ہزارہا کی تعداد میں پہاڑوں کے برابر سانپ نظر آنے لگے جو اوپر تلے ایک دوسرے سے لپٹ رہے ہیں۔ ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں، میدان بھر گیا ہے۔ انہوں نے اپنے فن کا پورا مظاہرہ کر دکھایا۔

صفحہ نمبر3022

Al-A'raaf 7:116Listen in Qur'an →
117

۞ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ

(اس وقت) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو۔ وہ فوراً (سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو (ایک ایک کرکے) نگل جائے گی

جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭

اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔

پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏

پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔

صفحہ نمبر3024

Al-A'raaf 7:117Listen in Qur'an →
118

فَوَقَعَ ٱلْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

(پھر) تو حق ثابت ہوگیا اور جو کچھ فرعونی کرتے تھے، باطل ہوگیا

جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭

اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔

پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏

پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔

صفحہ نمبر3024

Al-A'raaf 7:118Listen in Qur'an →
119

فَغُلِبُوا۟ هُنَالِكَ وَٱنقَلَبُوا۟ صَٰغِرِينَ

اور وہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہوکر رہ گئے

جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭

اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔

پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏

پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔

صفحہ نمبر3024

Al-A'raaf 7:119Listen in Qur'an →
120

وَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ

(یہ کیفیت دیکھ کر) جادوگر سجدے میں گر پڑے

جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭

اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔

پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏

پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔

صفحہ نمبر3024

Al-A'raaf 7:120Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.