Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 111–120 of 206

111

قَالُوٓا۟ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَأَرْسِلْ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ

انہوں نے (فرعون سے) کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے اور شہروں میں نقیب روانہ کر دیجیے

پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔

خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔

حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج 5:1 ) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

Al-A'raaf 7:111Listen in Qur'an →
112

يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٍۢ

کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں

پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔

خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔

حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج 5:1 ) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

Al-A'raaf 7:112Listen in Qur'an →
113

وَجَآءَ ٱلسَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوٓا۟ إِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ ٱلْغَٰلِبِينَ

(چنانچہ ایسا ہی کیا گیا) اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے

کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔

فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔

مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔

جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

Al-A'raaf 7:113Listen in Qur'an →
114

قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ

(فرعون نے) کہا ہاں (ضرور) اور (اس کے علاوہ) تم مقربوں میں داخل کرلیے جاؤ گے

کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔

فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔

مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔

جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

Al-A'raaf 7:114Listen in Qur'an →
115

قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ نَحْنُ ٱلْمُلْقِينَ

(جب فریقین روزِ مقررہ پر جمع ہوئے تو) جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم (جادو کی چیز) ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں

کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔

فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔

مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔

جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

Al-A'raaf 7:115Listen in Qur'an →
116

قَالَ أَلْقُوا۟ ۖ فَلَمَّآ أَلْقَوْا۟ سَحَرُوٓا۟ أَعْيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍۢ

(موسیٰ نے) کہا تم ہی ڈالو۔ جب انہوں نے (جادو کی چیزیں) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (یعنی نظربندی کردی) اور (لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا

کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔

فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔

مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔

جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

Al-A'raaf 7:116Listen in Qur'an →
117

۞ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ

(اس وقت) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو۔ وہ فوراً (سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو (ایک ایک کرکے) نگل جائے گی

کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔

فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔

مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔

جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

Al-A'raaf 7:117Listen in Qur'an →
118

فَوَقَعَ ٱلْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

(پھر) تو حق ثابت ہوگیا اور جو کچھ فرعونی کرتے تھے، باطل ہوگیا

کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔

فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔

مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔

جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

Al-A'raaf 7:118Listen in Qur'an →
119

فَغُلِبُوا۟ هُنَالِكَ وَٱنقَلَبُوا۟ صَٰغِرِينَ

اور وہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہوکر رہ گئے

کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔

فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔

مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔

جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

Al-A'raaf 7:119Listen in Qur'an →
120

وَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ

(یہ کیفیت دیکھ کر) جادوگر سجدے میں گر پڑے

کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔

فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔

مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔

جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

Al-A'raaf 7:120Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.