Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 101–110 of 206

101

تِلْكَ ٱلْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآئِهَا ۚ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْكَٰفِرِينَ

یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سناتے ہیں۔ اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں اسی طرح خدا کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے

یہ قصے اللہ کی جانب سے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو ان کا کوئی علم نہ تھا۔ آپ کو یہ قصے بذریعہ وحی تعلیم کئے گئے تھے۔

وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ " ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے " لیکن ان نشانیوں کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ بدستور رسولوں کو جھٹلاتے رہے جس طرح وہ ان نشانیوں سے پہلے بھی جھٹلاتے تھے۔ یہ نشانیاں اور معجزات بھی ان کو ایمان تک نہ پہنچا سکے۔ یہ نہ تھا کہ ان کے سامنے دلائل کی کمی تھی بلکہ حقیقی صورت حالات یہ تھی کہ ان کے دلوں کو تالے لگے ہوئے تھے ، ان کا احساس مردہ ہوگیا تھا ، اور ہدایت کی طرف وہ متوجہ ہی نہ تھے۔ جس چیز کی کمی تھی وہ یہ تھی کہ ان کی فطرت مر چکی تھی ، وہ متاثر ہی نہ ہوتے تھے ، لہذا وہ دعوت کو قبول ہی نہ کرتے تھے۔ جب ان کے دل دلائل ایمان کی طرف متوجہ ہی نہ تھے اور ہدایت کے اشارات ان تک پہنچ ہی نہ پا رہے تھے تو اللہ نے بھی انہیں اس حال پر چھوڑ کر ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے لئے قبولیت حق کے تمام راستے بند ہوگئے۔

كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ " دیکھو اس طرح اللہ تعالیٰ منکرین حق کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں "۔ یہ مزاج ان میں سے اکثریت کا تھا۔

Al-A'raaf 7:101Listen in Qur'an →
102

وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍۢ ۖ وَإِن وَجَدْنَآ أَكْثَرَهُمْ لَفَٰسِقِينَ

اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں (عہد کا نباہ) نہیں دیکھا۔ اور ان میں اکثروں کو (دیکھا تو) بدکار ہی دیکھا

یہاں جس عہد کا ذکر ہے وہ فطرت انسانی کا عہد بھی ہوسکتا ہے جس کا ذکر اس سورة کے آخر میں ہوا ہے (واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظہورہم ذریتہم واشہدہم علی انفسہم الست بربکم قالوا بلی شہدنا) " اے نبی لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی ادم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا : " کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ " انہوں نے کہا : " ضرور آپ ہمارے رب ہیں۔ " ہم اس پر گواہی دیتے ہیں "۔

اس عہد سے وہ عہد بھی مراد ہوسکتا ہے جو ان لوگوں کے اسلاف نے اپنے رسولوں سے کیا تھا کہ وہ ایمان لائیں گے مگر بعد میں آنے والے لوگ اس سے منحرف ہوگئے جیسا کہ ہر جاہلیت میں یہی ہوتا رہا ہے کہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ اہل ایمان جاہلیت کی طرف بڑھتے رہتے ہیں اور آخر کار پوری طرح جاہلیت میں داخل ہوجاتے ہیں۔

بہرحال عہد سے مراد جو بھی ہو ، لیکن ہلاک ہونے والوں کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ کسی عہد و پیمان کے پابند نہ تھے ، نہ وہ کسی بات پر قائم رہتے تھے۔ یہ لوگ اپنی ذاتی خواہشات کے ساتھ بدلتے رہتے تھے۔ ان کا مزاج بھی ایسا ہوگیا تھا کہ وہ اپنی بات پر جمتے نہ تھے اور نہ سچا طرز عمل اختیار کرتے تھے۔ بلکہ اکثر کو فاسق پایا گیا یعنی اپنے دین سے منحرف پایا گیا۔ اور یہ اس لئے کہ وہ ہر وقت بدلتے رہتے تھے اور کسی عہد کا پاس نہ رکھتے تھے بلکہ وہ اغراض کے بندے ہوگئے تھے جو قوم اللہ کے ساتھ اپنے وعدے پر قائم نہیں رہتی اور اپنے دین اور راہ ہدایت پر قائم نہیں رہتی اور اللہ سے ہدایت اخذ نہیں کرتی تو ظاہر ہے کہ ایسی قوم تتر بتر ہوجاتی ہے۔ راہ حق سے منحرف ہوجاتی ہے اور ظاہر ہے کہ وہ فاسق بن جاتی ہے چناچہ ان بستیوں والوں کی یہی حالت ہوگئی تھی اس لئے ان کا یہ انجام ہوا۔

Al-A'raaf 7:102Listen in Qur'an →
103

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِم مُّوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَظَلَمُوا۟ بِهَا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ

پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا۔ سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا

درس نمبر 79 ایک نظر میں

اس سبق میں فرعون اور اس کے درباریوں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات و واقعات بیان کئے گئے ہیں ، ان واقعات کی وہ کڑیاں جو اس کے دعوائے ربوبیت اور اس کے لشکر سمیت اس کی غرق یابی کے واقعات پر مشتمل ہیں۔ ان کڑیوں کی درمیانی کڑیاں مثلاً جادوگروں کے ساتھ مقابلہ اور حق کا باطل پر غالب آنا ، جادوگروں کا ایمان لانا ، اور ان کے الفاظ کے ساتھ کہ ہم رب موسیٰ اور رب ہارون پر ایمان لاتے ہیں ، پھر فرعون کی جانب سے انہیں سخت عذاب کی دھمکی ، اور ان کے دل و دماغ میں ایمان و اسلام کی سر بلندی کا مظاہرہ اور ان کی جانب سے اپنی زندگی کے مقابلے میں ایمان و اسلام کو ترجیح دینا ، اس کے بعد بنی اسرائیل پر فرعون کی جانب سے مظالم کا ذکر ، پھر اللہ کی جانب سے آل فرعون اور اہل مصر پر خشک سالی وغیرہ کے عذاب کا نزول اور ہر قسم کی پیداوار کی تباہی ، پھر طوفان ، پسوؤں اور مینڈکوں کے حملے اور خون کی بارش اور ہر باران کی کی جانب سے حضرت موسیٰ کی روحانی قوت کے سامنے جھکنا کہ وہ رب العالمین سے سوال کریں تاکہ انہیں اس عذاب سے نجات ملے۔ لیکن جب ان پر سے یہ مصیبت دور کی جاتی تو جلد ہی وہ لوگ دوبارہ اپنی اصلی حالت کی طرف لوٹ جاتے اور اعلان کردیتے کہ جس قدر آیات و معجزات بھی وہ دکھائیں ہم اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ چناچہ ان بار بار کی بدعملیوں کی وجہ سے ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور وہ غرق کردئیے جاتے ہیں کیونکہ وہ معجزات کو جھٹلاتے ہیں اور اس آزمائش میں غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ تمام امور سنت جاریہ کے مطابق انجام پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان پر سختی کرکے اور مصائب میں مبتلا کرکے بھی آزماتے ہیں اور ان کو خوشحالی اور فراوانی عطا کرکے بھی آزماتے ہیں۔ اس کے بعد وہ واقعات آتے ہیں کہ جب قوم موسیٰ ان آزمائشوں میں پوری اترتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو خلافت فی الارض عطا فرماتے ہیں اور غلامی کی اس شدت اور مصیبت کے بعد خلافت فی الارض عطا کرکے پھر ان کو آزمایا جاتا ہے اور فراوانی عطا کی جاتی ہے۔

ہم نے مذکورہ بالا واقعات پر مشتمل ایک سبق تجویز کیا ہے اور اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی جانب سے جو واقعات درپیش ہوئے اسے دوسرا درس بنایا ہے کیونکہ دونوں کا موضوع مختلف ہے۔

یہ قصہ یہاں جس انداز سے شروع کیا جاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس قصے کو لانے کے مقاصد کیا ہیں ؟ اس کا آغاز ان الفاظ سے کیا جاتا ہے۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰي بِاٰيٰتِنَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ ۔ " پھر ان قوموں کے بعد (جن کا ذکر اوپر کیا گیا) ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا۔ مگر انہوں نے ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا ، پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا ؟ "

یہ تصریح کی جاتی ہے کہ یہاں اس قصے کو لانے کی غرض وغایت کیا ہے۔ یعنی یہ کہ اس دنیا میں ہمیشہ مفسدین کا انجام ایک ہی جیسا ہوتا رہا ہے۔ چناچہ قصے کی غرض وغایت کے اظہار کے بعد اس کے ضروری مضمون و موضوع کے ساتھ مناسب حلقے پے در پے لائے جاتے ہیں۔

اس قصے میں زندہ اور متحرک مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔ ان میں حرکت بھی ہے اور مکالمات بھی ہیں۔ تاثرات بھی ہیں اور مختلف لوگوں اور کرداروں کے خدوخال اور ان کی شناخت بھی ہے۔ اس کے درمیان جگہ جگہ ہدایات و اشارات بھی ہیں اور عبرت آموزی بھی ہے اور اس بات کی صفائی بھی ہے کہ دعوت الی اللہ کے خدوخال کیا ہوتے ہیں اور دعوت الی الطاغوت کا مزاج کیا ہوتا ہے اور یہ کہ تمام طاغوتی قوتیں در اصل ربوبیت اور حاکمیت کی مدعی ہوتی ہیں اور دعوت الی رب العالمین کی تڑپ جس نفس میں گہرائی تک بیٹھ جاتی ہے ، اس نفس سے طاغوتی قوتوں کا خوف یکسر غائب …

Al-A'raaf 7:103Listen in Qur'an →
104

وَقَالَ مُوسَىٰ يَٰفِرْعَوْنُ إِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان پہلی ملاقات میں جو مکالمات ہوئے اور واقعات پیش آئے تھے وہ اس طرح تھے۔

" موسیٰ نے کہا " اے فرعون ، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں۔ میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں ، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیل ماموریت لے کر آیا ہوں ، لہذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔ فرعون نے کہا " اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو اسے پیش کر "۔ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔ اور اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔ اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ " یقینا یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے "۔ تمہیں تمہاری زمین سے بےدخل کرنا چاہتا ہے۔ اب کہو کیا کہتے ہو ؟ "۔ پھر ان سب نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اسے اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھیے اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیجئے۔ کہ ہر ماہر فن جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں "۔

حق و باطل اور ایمان و کفر کے مابین یہ پہلا معرکہ ہے ، اس منظر میں ایک جانب رب العالمین کی طرف سے دعوت دی جار رہی ہے مد بالمقابل وہ طاغوتی طاقت ہے جس نے ربوبیت کے تمام حقوق اپنے لیے خاص کیے ہوئے ہیں اور زندگی کے ان معاملات میں رب العالمین کی اطاعت نہیں کی جاتی۔

وَقَالَ مُوْسٰي يٰفِرْعَوْنُ اِنِّىْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ

موسیٰ نے کہا " اے فرعون ، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں

ذرا انداز خطاب ملاحظہ ہو۔ " اے فرعون !" آپ نے اسے مائی لارڈ سے خطاب نہیں فرمایا۔ جس طرح عموماً لوگ اس لفظ کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ فی الحقیقت لارڈ اور مولیٰ کون ہے ؟ ہاں آپ نے بادشاہ کو بڑی عزت سے اس کے لقب سے پکارا ، اس لفظ کے استعمال کے ذریعہ آپ نے فرعون کو بتا دیا کہ آپ صرف فرعون ہیں اور دوسری یہ حقیقت بھی اس کے سامنے کھول دی کہ اِنِّىْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، " میں اس کائنات کے مالک کا نمائندہ ہوں " حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو حقیقت پیش کی یہی حقیقت آپ سے پہلے آنے والے تمام رسولوں نے بھی پیش کی تھی اور وہ یہ تھی کہ تمام جہانوں کا اب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ ایک ہی حاکم ہے اور پوری زندگی میں اس کی اطاعت ضروری ہے۔ آج کل کے ماہرین ادیان جو کچھ کہتے ہیں عقائد میں بھی تغیر اور ارتقاء کا عمل ہوتا رہا ہے اور وہ سماوی ادیان کو بھی اس اصول سے مستثنی نہیں کرتے تو ان حضرات کا یہ نظریہ باطل ہے ، کیونکہ ادم (علیہ السلام) سے نبی آخر الزماں تک تمام رسولوں کا عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، اس میں صرف اللہ حاکم اور مطاع رہا ہے ، اور یہ نہیں رہا کہ پہلے متعدد الٰہوں کے نظریات تھے پھر تین خداؤں اور پھر ایک خدا کا عقیدہ جاری ہوگیا۔ یہ تو تھی صورت اسلام کی۔ رہی جاہلیت تو اس کے اندر جو اختلاف و اضطراب رہا ہے اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ روح پرستی ، متعدد الہوں کی پرستش ، سورج کی پرستش ، دو خداؤں کی پرستش ، ایک خدا کی مشرکانہ پرستش اور بے خدا جاہلیت وغیرہ۔ لہذا سماوی ادیان رسولوں کی تعلیمات اور جاہلی ادیان کے افکار کو ایک ہی اصول پر نہیں پرکھا جاسکتا۔

غرض حضرت موسیٰ اور فرعون اور اس کے ٹولے کے درمیان جو آمنا سامنا ہوا ، یہی صورت ہر نبی کو اپنے اپنے دور میں پیش آئی۔ حضرت موسیٰ سے پہلے آنے والوں کو بھی اور ان کے بعد آنے والوں کو بھی۔ ہر دور میں حکمرانوں نے یہ سمجھا کہ یہ دعوت ان کے اقتدار کے خلاف سازش ہے جس طرح فرعون نے یہ سمجھا کہ یہ درحقیقت ان کے اقتدار اعلی کے خلاف ایک تحریک ہے۔ جب کوئی یہ عقیدہ پیش کرتا ہے کہ اللہ وحدہ رب العالمین ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی حاکمیت کے سوا تمام دوسری حاکمیتیں باطل …

Al-A'raaf 7:104Listen in Qur'an →
105

حَقِيقٌ عَلَىٰٓ أَن لَّآ أَقُولَ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ ۚ قَدْ جِئْتُكُم بِبَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَرْسِلْ مَعِىَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ

مجھ پر واجب ہے کہ خدا کی طرف سے جو کچھ کہوں سچ ہی کہوں۔ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کی رخصت دے دیجیے

حَقِيْقٌ عَلٰٓي اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ ۔ " میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں " اس لئے کہ جو رسول حقیقت الوہیت سے خبردار ہے وہ اللہ کے بارے میں سچ کے سوا اور کہہ بھی کیا سکتا ہے کیونکہ وہ مقام خدائی اور مرتبہ کبریائی سے خبردار ہوتا ہے۔

" میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیل ماموریت لے کر آیا ہوں " اور یہ ایسی دلیل ہے جو میری بات کی صداقت پر بین دلیل ہے کہ میں رب العالمین کی طرف سے ہوں "۔

اب اس عظیم حقیقت کے عنوان سے اور اللہ کی ربوبیت عامہ اور حاکمیت شاملہ کے نظریہ کے تحت حضرت موسیٰ نے یہ مطالبہ کیا کہ فرعون بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ کے ساتھ واپس اپنے وطن جانے کی اجازت دے دے۔

بنی اسرائیل صرف اللہ کے بندے اور غلام تھے۔ لہذا فرعون کو یہ حق نہ پہنچتا تھا کہ وہ انہیں اپنا بندہ اور غلام بنا لے کیونکہ کوئی بھی انسان دو آقاؤں کا غلام نہیں بن سکتا۔ نہ وہ دو الہوں کا معبود بن سکتا ہے ، جو شخص عبداللہ ہو وہ کسی اور کا عبد نہیں ہوسکتا۔ ایک طرف فرعون بنی اسرائیل کو اپنی خواہشات کا غلام بنا رہا تھا اور دوسری جانب حضرت موسیٰ یہ اعلان کر رہے تھے کہ صرف اللہ ہی رب العالمین ہے صرف ربوبیت الہیہ کے اعلان ہی سے اس بات کی نفی ہوجاتی ہے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کو جو غلام بنا رکھا ہے وہ کالعدم ہے۔

یہ اعلان کہ صرف اللہ رب العالمین ہی ہمارا حاکم اور رب ہے ، بذات خود ہی انسان کی آزادی کا چارٹر ہے اور اس اعلان کے ساتھ ہی ایک انسان غیر اللہ کی غلامی ، اطاعت اور قانون سے آزاد ہوجاتا ہے۔ وہ انسانی غلامی ، اپنی خواہشات کی غلامی ، انسانی رسومات کی غلامی اور انسانی قانون و حرکت کی غلامی سے آزاد ہوجاتا ہے۔

لہذا یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی اللہ کی رب العالمینی کا اعلان بھی کرے اور پھر غیر اللہ میں سے کسی کی غلامی کا دم بھی بھرے۔ اس اعلان کے ساتھ کسی غیر اللہ کی حکومت و اقتدار جمع ہوسکتا اور نہ کسی اور کا قانون جمع ہوسکتا ہے۔ جو لوگ یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور اس کے بعد وہ اپنے ہاں وہ قوانین جاری کئے ہوئے ہیں جو انہی جیسے انسانوں نے بنائے ہیں یا خود انہوں نے بنائے ہیں اور ان کے ہاں اللہ کے سوا کسی اور کی حاکمیت رہی ہے تو یہ لوگ ایک بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں اور وہ ایک لحظہ کے لئے بھی مسلمان نہیں ہوسکتے۔ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ان پر حاکمیت غیر اللہ کی ہو اور وہ دین اللہ میں داخل ہوں۔ ان کے ہاں رائج قانون ، قانون شریعت نہ ہو اور وہ مسلمان بھی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حالات میں وہ اپنے ملوک اور حکام کے دین پر تو ہوتے ہیں لیکن اللہ کے دین پر نہیں ہوتے۔

یہی وہ نظریہ تھا جس کی بنا پر حضرت موسیٰ نے فرعون سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان کے ساتھ بنی اسرائیل کو واپس جانے دے۔ ذرا ان فقرات کو دوبارہ پڑھئے " اے فرعون میں رب العالمین کا رسول ہوں ""۔۔۔ " لہذا میرے ساتھ بنی اسرائیل کو رخصت کیجئے "۔ بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ اس اساس پر ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور رسالت کا یہ منطقی نتیجہ ہے کہ لوگوں کو غلامی سے رہا کیا جائے۔ یہ لازم و ملزوم امور ہیں۔

Al-A'raaf 7:105Listen in Qur'an →
106

قَالَ إِن كُنتَ جِئْتَ بِـَٔايَةٍۢ فَأْتِ بِهَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

فرعون نے کہا اگر تم نشانی لے کر آئے ہو تو اگر سچے ہو تو لاؤ (دکھاؤ)

فرعون اور اس کے ٹولے نے بھی اس اعلان کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ اللہ کی ربوبیت کے اعلان کا مفہوم کیا ہے ؟ یہ بات ان کی نظروں سے اوجھل نہ تھی۔ وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اس دعوت کے نتیجے میں ان کی حکومت خاتمہ یقینی ہے۔ اس دعوت سے ایک عظیم انقلاب برپا ہوجائے گا۔ اس کی حکومت کے قانونی جواز کے لیے یہ اعلان ایک چیلنج ہے اور یہ کھلی بغاوت اور مخالفت ہے۔ لیکن انہوں نے سوچا کہ وہ موسیٰ کو جھوٹا ثابت کرسکتے ہیں کہ وہ رسول رب العالمین ہیں اس لئے انہوں نے فی الفور معجزات کا مطالبہ کردیا۔

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰيَةٍ فَاْتِ بِهَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ ۔ فرعون نے کہا " اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو اسے پیش کر "

فرعون نے مطالبہ معجزات کا راستہ اس لئے اختیار کیا کہ اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ حضرت موسیٰ رب العالمین کے رسول نہیں اور جھوٹا دعویٰ کر رہے ہیں تو آپ کی دعوت یہاں ہی ختم ہوجائے گی اور آپ کی ہوا اکھڑ جائے گی اور جن لوگوں کو یقین ہی نہ رہے گا تو پھر جو چاہیں کہتے پھریں۔ وہ ایک بےدلیل دعویٰ کے مدعی ہوں گے اور اس کے لئے کوئی خطرہ نہ ہوں گے۔

Al-A'raaf 7:106Listen in Qur'an →
107

فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌۭ مُّبِينٌۭ

موسیٰ نے اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دی تو وہ اسی وقت صریح اژدھا (ہوگیا)

حضرت موسیٰ کا جواب یہ تھا = فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ۔ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا ھِىَ بَيْضَاۗءُ لِلنّٰظِرِيْنَ ۔ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔ اور اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔

حضرت موسیٰ کے ہاتھوں اچانک عظیم معجزات کے صدور سے وہ لوگ ششدر رہ گئے۔ عصا ایک سانپ بن گیا تھا اور اس کی حقیقت یوں بدل گئئی تھی کہ اب اس کے سانپ ہونے میں شک ہی نہ رہا تھا۔

(مُّبِيْنٌ) کے معنی واضح طور پر ، جیتا جاگتا۔ دوسری صورت میں کہا گیا (فاذا ھی حیۃ تسعی) " تو وہ اچانک چلنے پھرنے والا سانپ بن گیا "۔ حضرت موسیٰ سرخ رنگ والے تھے۔ انہوں نے اپنا گندم گوں ہاتھ نکالا تو وہ بلب کی طرح چمکتا ہوا باہر آیا۔ لیکن یہ سفیدی بوجہ بیماری نہ تھی بلکہ معجزانہ سفیدی تھی۔ جب آپ نے ہاتھ دوبارہ اپنے کپڑوں میں چھپایا تو دوبارہ اپنی اصلی حالت میں چلا گیا یعنی گندم گوں رنگ کا ہوگیا۔

یہ تھی حضرت موسیٰ کے دعوائے نبوت پر دلیل۔ آپ کا دعویٰ یہ تھا کہ آپ رب العالمین کے نمائندے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ درعون اور اس کے ٹولے نے ان معجزانہ دلائل کو تسلیم کیا ؟ کیا انہوں نے رب العالمین کی ربوبیت اور اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرلیا ؟ اگر وہ ایسا کرتے تو پھر فرعون کی ربوبیت ، اقتدار اور تاج و تخت کا جواز کیا رہ جاتا اور اس کے ٹولے کے لئے مراکز و مناصب پر مقتدر رہنے کا کیا جواز رہ جاتا جو ان کو فرعون نے عطا کئے تھے اور وہ فرعون کی حکومت کے کل پرزے تھے۔ اگر وہ اللہ کو رب العالمین تسلیم کرتا تو عملاً اس کا اقتدار ختم ہوجاتا۔

اگر اللہ کو رب العالمین تسلیم کیا جائے تو اس کا منطقی تقاضا یہ وہتا ہے کہ پھر ملک کے اندر اللہ کی شریعت اور قانون نافذ ہو ، کیونکہ اسلامی نظریہ حیات کے مطابق اللہ کے سوا کسی اور کے احکام کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ اس لئے اس نظریہ کے مطابق فرعون کا قانون اور اس کے احکام بےاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ احکام جو شریعت کے خلاف ہوں اور نہ شریعت پر مبنی ہوں۔ اگر لوگوں کے رب اللہ رب العالمین قرار پائیں تو پھر ان کا کوئی اور رب نہیں رہتا جس کے احکام اور قوانین کے وہ مطیع ہوں اور لوگ فرعون کے احکام اور شریعت کی جو اطاعت کرتے ہیں تو اس لئے کرتے ہیں کہ انہوں نے اسے اپنا رب تسلیم کرلیا ہے۔ لوگوں کا رب وہ شخص ہوتا ہے جس کے قوانین کی وہ اطاعت کرتے ہیں اور یہ لوگ اس رب کے دین میں ہوتے ہیں۔

لیکن یہ بات تو اس قدر جلدی سے نہیں مانی جاسکتی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ طاغوت ٹھنڈے پیٹوں اپنے اقتدار اعلیٰ سے دست بردار ہوجائے اور اس کا نظام باطل اور کالعدم قرار پاجائے ؟

Al-A'raaf 7:107Listen in Qur'an →
108

وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّٰظِرِينَ

اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کی نگاہوں میں سفید براق (تھا)

حضرت موسیٰ کا جواب یہ تھا = فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ۔ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا ھِىَ بَيْضَاۗءُ لِلنّٰظِرِيْنَ ۔ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔ اور اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔

حضرت موسیٰ کے ہاتھوں اچانک عظیم معجزات کے صدور سے وہ لوگ ششدر رہ گئے۔ عصا ایک سانپ بن گیا تھا اور اس کی حقیقت یوں بدل گئئی تھی کہ اب اس کے سانپ ہونے میں شک ہی نہ رہا تھا۔

(مُّبِيْنٌ) کے معنی واضح طور پر ، جیتا جاگتا۔ دوسری صورت میں کہا گیا (فاذا ھی حیۃ تسعی) " تو وہ اچانک چلنے پھرنے والا سانپ بن گیا "۔ حضرت موسیٰ سرخ رنگ والے تھے۔ انہوں نے اپنا گندم گوں ہاتھ نکالا تو وہ بلب کی طرح چمکتا ہوا باہر آیا۔ لیکن یہ سفیدی بوجہ بیماری نہ تھی بلکہ معجزانہ سفیدی تھی۔ جب آپ نے ہاتھ دوبارہ اپنے کپڑوں میں چھپایا تو دوبارہ اپنی اصلی حالت میں چلا گیا یعنی گندم گوں رنگ کا ہوگیا۔

یہ تھی حضرت موسیٰ کے دعوائے نبوت پر دلیل۔ آپ کا دعویٰ یہ تھا کہ آپ رب العالمین کے نمائندے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ درعون اور اس کے ٹولے نے ان معجزانہ دلائل کو تسلیم کیا ؟ کیا انہوں نے رب العالمین کی ربوبیت اور اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرلیا ؟ اگر وہ ایسا کرتے تو پھر فرعون کی ربوبیت ، اقتدار اور تاج و تخت کا جواز کیا رہ جاتا اور اس کے ٹولے کے لئے مراکز و مناصب پر مقتدر رہنے کا کیا جواز رہ جاتا جو ان کو فرعون نے عطا کئے تھے اور وہ فرعون کی حکومت کے کل پرزے تھے۔ اگر وہ اللہ کو رب العالمین تسلیم کرتا تو عملاً اس کا اقتدار ختم ہوجاتا۔

اگر اللہ کو رب العالمین تسلیم کیا جائے تو اس کا منطقی تقاضا یہ وہتا ہے کہ پھر ملک کے اندر اللہ کی شریعت اور قانون نافذ ہو ، کیونکہ اسلامی نظریہ حیات کے مطابق اللہ کے سوا کسی اور کے احکام کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ اس لئے اس نظریہ کے مطابق فرعون کا قانون اور اس کے احکام بےاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ احکام جو شریعت کے خلاف ہوں اور نہ شریعت پر مبنی ہوں۔ اگر لوگوں کے رب اللہ رب العالمین قرار پائیں تو پھر ان کا کوئی اور رب نہیں رہتا جس کے احکام اور قوانین کے وہ مطیع ہوں اور لوگ فرعون کے احکام اور شریعت کی جو اطاعت کرتے ہیں تو اس لئے کرتے ہیں کہ انہوں نے اسے اپنا رب تسلیم کرلیا ہے۔ لوگوں کا رب وہ شخص ہوتا ہے جس کے قوانین کی وہ اطاعت کرتے ہیں اور یہ لوگ اس رب کے دین میں ہوتے ہیں۔

لیکن یہ بات تو اس قدر جلدی سے نہیں مانی جاسکتی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ طاغوت ٹھنڈے پیٹوں اپنے اقتدار اعلیٰ سے دست بردار ہوجائے اور اس کا نظام باطل اور کالعدم قرار پاجائے ؟

Al-A'raaf 7:108Listen in Qur'an →
109

قَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌ عَلِيمٌۭ

تو قوم فرعون میں جو سردار تھے وہ کہنے لگے کہ یہ بڑا علامہ جادوگر ہے

فرعون اور اس کا ٹولہ اس قدر بیوقوف نہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان اور مطالبے کے نتائج سے با خبر نہ ہو بلکہ وہ واضح طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان کو سمجھ جاتے ہیں اور اس کا اعلان کردیتے ہیں۔ لیکن اس انداز میں کہ لوگوں کی نظریں حضرت موسیٰ کے معجزانہ دلائل سے پھرجائیں۔ چناچہ فرعوان اور اس کے ٹولے نے حضرت موسیٰ پر یہ الزام لگایا کہ وہ ایک عظیم جادوگر ہیں۔ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ۔ يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ ۚ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ ۔ اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ " یقینا یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے " تمہیں تمہاری زمین سے بےدخل کرنا چاہتا ہے۔ اب کہو کیا کہتے ہو ؟ "۔

وہ چلا چلا کر کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے جو دعوی کیا ہے وہ کس قدر دور رس نتائج کا حامل ہے اور کس قدر خطرناک ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ہمیں سرزمین مصر سے نکالنا چاہتا ہے ، حکومت چھیننا اس کا مطلب ہے۔ وہ ہمارے نظام حکومت کے خلاف سازش کر رہا ہے بلکہ وہ انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے۔ دور جدید میں اسے یہی کہا جاسکتا ہے۔

یہ زمین اللہ کی ہے ، عوام الناس اللہ کے پیدا کردہ ہیں ، اگر اللہ کی سرزمین پر اللہ کے بندوں پر حکومت بھی اللہ کی قائم ہوجائے تو وہ تمام طاغوتی حکمرانیاں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں جو اللہ کی شریعت کے برعکس قائم ہوں۔ اور ان لوگوں کا اقتدار خود بخود ختم ہوجاتا ہے جو از خود لوگوں کے خدا بنے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کا اقتدار بھی خود بخود ختم ہوجاتا ہے جنہیں ان طاغوتی حکمرانوں نے صاحب منصب اور اہلکار بنا رکھا ہے۔

اس طرح فرعون اور اس کے ٹولے نے معلوم کرلیا کہ حضرت موسیٰ کی دعوت کس قدر خطرناک ہے۔ اور یہی بات تمام طاغوتی قوتیں ہر دور میں اچھی طرح جان لیتی ہیں۔

ایک عرب نے اپنے فطری فہم و ادراک کی اساس پر یہ کہا کہ حضور ﷺ جو لوگوں کو (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) کی دعوت دیتے ہیں یہ ایک ایسی دعوت ہے جسے بادشاہ پسند نہیں کرتے۔ اور ایک دوسرے عرب دانشور نے اپنی فطری معاملہ فہمی کی اساس پر یہ کہا اگر تم نے اس دعوت کو جاری رکھا تو عرب و عجم تمہارے ساتھ برسر پیکار ہوجائیں گے۔ یہ دونوں عرب دانشور در اصل عربی زبان کے مفاہم کو اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ (لا الہ الا اللہ) کا اعلان حکمرانوں کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔ کیونکہ وہ عربی کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ جانتے کہ ایک دل میں ایک سرزمین پر کلمہ طیبہ کی شہادت اور پھر غیر اللہ کی اور خلاف شریعت حکمرانی قائم نہیں ہوسکتی۔ اس وقت کے عرب کلمہ شہادت کو اس طرح نہ سمجھتے تھے جس طرح آج کے نام نہاد مسلمان اسے سمجھتے ہیں۔ آج کے لوگوں کا مفہوم کلمہ شہادت بہت ہی ناقص ، کم درجے کا اور کمزور درجے کا ہے۔

Al-A'raaf 7:109Listen in Qur'an →
110

يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُمْ ۖ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ

اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھلا تمہاری کیا صلاح ہے؟

فرعون اور اس کا ٹولہ اس قدر بیوقوف نہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان اور مطالبے کے نتائج سے با خبر نہ ہو بلکہ وہ واضح طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان کو سمجھ جاتے ہیں اور اس کا اعلان کردیتے ہیں۔ لیکن اس انداز میں کہ لوگوں کی نظریں حضرت موسیٰ کے معجزانہ دلائل سے پھرجائیں۔ چناچہ فرعوان اور اس کے ٹولے نے حضرت موسیٰ پر یہ الزام لگایا کہ وہ ایک عظیم جادوگر ہیں۔ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ۔ يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ ۚ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ ۔ اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ " یقینا یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے " تمہیں تمہاری زمین سے بےدخل کرنا چاہتا ہے۔ اب کہو کیا کہتے ہو ؟ "۔

وہ چلا چلا کر کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے جو دعوی کیا ہے وہ کس قدر دور رس نتائج کا حامل ہے اور کس قدر خطرناک ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ہمیں سرزمین مصر سے نکالنا چاہتا ہے ، حکومت چھیننا اس کا مطلب ہے۔ وہ ہمارے نظام حکومت کے خلاف سازش کر رہا ہے بلکہ وہ انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے۔ دور جدید میں اسے یہی کہا جاسکتا ہے۔

یہ زمین اللہ کی ہے ، عوام الناس اللہ کے پیدا کردہ ہیں ، اگر اللہ کی سرزمین پر اللہ کے بندوں پر حکومت بھی اللہ کی قائم ہوجائے تو وہ تمام طاغوتی حکمرانیاں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں جو اللہ کی شریعت کے برعکس قائم ہوں۔ اور ان لوگوں کا اقتدار خود بخود ختم ہوجاتا ہے جو از خود لوگوں کے خدا بنے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کا اقتدار بھی خود بخود ختم ہوجاتا ہے جنہیں ان طاغوتی حکمرانوں نے صاحب منصب اور اہلکار بنا رکھا ہے۔

اس طرح فرعون اور اس کے ٹولے نے معلوم کرلیا کہ حضرت موسیٰ کی دعوت کس قدر خطرناک ہے۔ اور یہی بات تمام طاغوتی قوتیں ہر دور میں اچھی طرح جان لیتی ہیں۔

ایک عرب نے اپنے فطری فہم و ادراک کی اساس پر یہ کہا کہ حضور ﷺ جو لوگوں کو (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) کی دعوت دیتے ہیں یہ ایک ایسی دعوت ہے جسے بادشاہ پسند نہیں کرتے۔ اور ایک دوسرے عرب دانشور نے اپنی فطری معاملہ فہمی کی اساس پر یہ کہا اگر تم نے اس دعوت کو جاری رکھا تو عرب و عجم تمہارے ساتھ برسر پیکار ہوجائیں گے۔ یہ دونوں عرب دانشور در اصل عربی زبان کے مفاہم کو اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ (لا الہ الا اللہ) کا اعلان حکمرانوں کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔ کیونکہ وہ عربی کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ جانتے کہ ایک دل میں ایک سرزمین پر کلمہ طیبہ کی شہادت اور پھر غیر اللہ کی اور خلاف شریعت حکمرانی قائم نہیں ہوسکتی۔ اس وقت کے عرب کلمہ شہادت کو اس طرح نہ سمجھتے تھے جس طرح آج کے نام نہاد مسلمان اسے سمجھتے ہیں۔ آج کے لوگوں کا مفہوم کلمہ شہادت بہت ہی ناقص ، کم درجے کا اور کمزور درجے کا ہے۔

Al-A'raaf 7:110Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.