Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 21–30 of 165

21

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۗ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ

اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ افتراء کیا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا۔ کچھ شک نہیں کہ ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي۔۔ : یعنی اگر میں نے جھوٹ بولا تو مجھ سے بڑا ظالم کوئی نہیں اور اگر میں نے سچ پہنچایا اور تم نے جھٹلایا تو تم سے زیادہ گناہ گار کوئی نہیں، پس اپنی فکر کرو۔ (موضح) اب اس آیت میں ان کے خسارے کا سبب بیان فرمایا۔ (رازی) خسارے کا پہلا سبب افتراء علی اللہ، یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا قرار دیا ہے اور اہل علم جانتے ہیں کہ کفار مکہ کے دین کی بنیاد ہی جھوٹ گھڑنے پر تھی۔ بتوں کو اللہ کا شریک قرار دینا، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہنا اور بحیرہ و سائبہ وغیرہ کو حرام قرار دینا، یہ سب چیزیں جھوٹ گھڑنے پر مبنی تھیں۔ اسی طرح یہود و نصاریٰ کے دین میں بہت سے افترا شامل ہوگئے تھے، مثلاً وہ تورات و انجیل کو ناقابل نسخ قرار دیتے، اپنے آپ کو اللہ کے بیٹے اور اس کے حبیب کہتے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کے متعلق بہت سی جہالت کی باتیں کرتے تھے۔ خسارے کا دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانا ہے، جس میں معجزات و احکام کو جھٹلانا بھی شامل ہے۔ - اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والوں میں نبوت کے جھوٹے دعوے دار وہ تیس کذاب بھی شامل ہیں جن کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیش گوئی فرمائی تھی۔ [ مسلم، الفتن، باب لا تقوم الساعۃ ۔۔ : ٨٤؍٢٩٢٣ ] جن میں مرزا قادیانی اور اسے نبی کہنے والے بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمے کوئی جھوٹی حدیث لگانے والے بھی، کیونکہ آپ کے ذمے کوئی بات لگانے والا درحقیقت وہ بات اللہ کے ذمے لگا رہا ہوتا ہے۔

Al-An'aam 6:21Listen in Qur'an →
22

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوٓا۟ أَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ

اور جس دن ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ (آج) وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تمہیں دعویٰ تھا

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا۔۔ : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے دن جب ان سے ان کے بنائے ہوئے شریکوں سے متعلق باز پرس ہوگی تو ان کے پاس کوئی بہانہ یا فریب اس کے سوا نہ ہوگا کہ وہ قسم کھا کر اپنے شرک کرنے ہی سے انکار کردیں گے۔ دیکھیے سورة مجادلہ (١٨) ۔ - دوسری آیت میں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے۔ دیکھیے سورة نساء (٤٢) دونوں باتوں میں تطبیق یہ ہے کہ پہلے وہ اہل توحید کو جنت میں داخل ہوتا دیکھیں گے تو اپنے شرک کا انکار کریں گے، پھر جب ان کے مونہوں پر مہر لگے گی اور ان کے ہاتھ، پاؤں اور جسم کا ہر حصہ بول کر گواہی دے گا تو پھر ان کی کوئی بات چھپ نہیں سکے گی۔

Al-An'aam 6:22Listen in Qur'an →
23

ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ وَٱللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ

تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز اس کے (کچھ چارہ نہ ہوگا) کہ کہیں خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے

Explained together with ayah 22

Al-An'aam 6:23Listen in Qur'an →
24

ٱنظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ ۚ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

دیکھو انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہا

اُنْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوْا۔۔ : یعنی وہاں ان کا شرک ان کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کے بنائے ہوئے حاجت روا اور مشکل کشا کہیں نظر آئیں گے۔

Al-An'aam 6:24Listen in Qur'an →
25

وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ ۖ وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرًۭا ۚ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍۢ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوكَ يُجَٰدِلُونَكَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری (باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر تو پردے ڈال دیئے ہیں کہ ان کو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے (کہ سن نہ سکیں) اور اگر یہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ جب تمہارے پاس تم سے بحث کرنے کو آتے ہیں تو جو کافر ہیں کہتے ہیں یہ (قرآن) اور کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ ۚ ۔۔ : یعنی کان لگا لگا کر سنتے ہیں، جب قیامت کے دن گزشتہ کافروں پر گزرنے والے کچھ احوال بیان فرمائے تو موجودہ کافروں کا بھی کچھ حال بیان فرمایا۔ ( رازی) فرمایا کہ مشرکین آپ کے پاس آکر بڑے غور سے قرآن سنتے ہیں، لیکن ضد اور عناد کی وجہ سے ہدایت حاصل کرنا ان کا مقصد ہی نہیں ہوتا، اس لیے انھیں سننے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، کیونکہ ان کے حق کو پہچان کر نہ ماننے اور ان کی بدنیتی کی وجہ سے ہم نے انھیں یہ سزا دی ہے کہ ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دیے ہیں، جن کی وجہ سے وہ کان لگا کر سننے کے باوجود نہ سمجھتے ہیں، نہ سنتے ہیں۔ دیکھیے سورة اعراف (١٧٩) اب قرآن جیسا عظیم معجزہ دیکھ کر وہ ایمان نہیں لائے تو یہ امید مت رکھیں کہ وہ کوئی بھی معجزہ دیکھ کر ایمان لے آئیں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کو برحق جاننے کے باوجود ان کی ضد اور عناد یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ آپ کے پاس آکر جب وہ آپ سے جھگڑتے ہیں اور ان انکار کرنے والوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واضح دلائل کا کوئی جواب نہیں سوجھتا تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کی فرضی کہانیاں ہیں، حالانکہ قرآن مجید میں اخلاق، حکمت اور شریعت کی باتیں ہیں اور اس میں جو قصے بیان کیے گئے ہیں، وہ سب سچے واقعات ہیں اور صرف عبرت و نصیحت کے لیے بیان کیے گئے ہیں۔

Al-An'aam 6:25Listen in Qur'an →
26

وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْـَٔوْنَ عَنْهُ ۖ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

وہ اس سے (اوروں کو بھی) روکتے ہیں اور خود بھی پرے رہتے ہیں مگر (ان باتوں سے) اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور (اس سے) بےخبر ہیں

وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْــــَٔـوْنَ عَنْهُ ۚ: یعنی صرف قرآن پر طعن کرنے ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ قرآن سننے سے اور لوگوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانے سے بھی روکتے ہیں اور خود بھی دور رہتے ہیں۔ آج کل مسلمانوں میں سے بہت سے شرک و بدعت میں مبتلا مولوی بھی اہل توحید کی تقریریں سننے سے لوگوں کو منع کرتے ہیں اور خود بھی نہیں سنتے، بلکہ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے سے لوگوں کو روکتے ہیں کہ کہیں حق واضح ہوجانے کے بعد اسے قبول کر کے ہمارے چنگل سے نہ نکل جائیں۔ - وَاِنْ يُّهْلِكُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَهُمْ : یعنی ایسا کرنے سے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، بلکہ اپنی ہی ہلاکت کا سامان کر رہے ہیں اور یہ سمجھتے ہی نہیں کہ ایسا کرنے سے ہم اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔

Al-An'aam 6:26Listen in Qur'an →
27

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ وُقِفُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ فَقَالُوا۟ يَٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ اے کاش ہم پھر (دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور مومن ہوجائیں

وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ ۔۔ : جب قیامت کا عذاب دیکھ لیں گے تو اس کی ہلاکت اور تباہی سے بچنے کے لیے اس خواہش کا اظہار کریں گے کہ اے کاش ہمیں دنیا میں دوبارہ جانے کا موقع ملے تو ہم اس تکذیب سے جس کی بنا پر ہم عذاب سے دو چار ہو رہے ہیں، باز آجائیں اور توحید و نبوت پر یقین کرلیں، لیکن یہ ان کی محض ایک خواہش ہوگی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ اس لیے اگلی آیت میں بتادیا کہ وہ اس خواہش میں جھوٹ بول رہے ہیں۔

Al-An'aam 6:27Listen in Qur'an →
28

بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا۟ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا۟ لَعَادُوا۟ لِمَا نُهُوا۟ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ

ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیا ہے اور اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں) سے ان کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا۔۔ : اس سے پہلے ( اللہ تعالیٰ کے سامنے) جس کفر و شرک اور نفاق کو وہ جھوٹی قسمیں کھا کر چھپانے کی کوشش کر رہے تھے، اس کی حقیقت کھل جائے گی۔ بعض نے ” مِنْ قَبْلُ “ سے دنیا میں چھپانا مراد لیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے، یا پھر اس سے کفار کے سردار مراد ہیں، یعنی وہ قرآن اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سچا ہونا جانتے تھے، مگر اپنے پیروکاروں سے چھپاتے تھے۔ قیامت کے دن یہ حقیقت ان کے پیروکاروں پر کھل جائے گی اور انھیں معلوم ہوجائے گا کہ یہ ہمیں دھوکا دیتے رہے ہیں۔- وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ : یعنی پھر کفر و شرک اور نفاق کی راہ اختیار کریں گے، کیونکہ ان کی یہ آرزو ایمان لے آنے کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی طرح جہنم سے بچنے کے لیے ہے۔ - وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ : اس لیے آخرت میں اس آرزو کے اظہار میں بھی جھوٹ ہی سے کام لیں گے۔

Al-An'aam 6:28Listen in Qur'an →
29

وَقَالُوٓا۟ إِنْ هِىَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ

اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے

وَقَالُوْٓا اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا۔۔ : یعنی زندگی بس وہی ہے جو دنیا میں ہم گزار رہے ہیں، کوئی آخرت نہیں، نہ کچھ ثواب و عذاب ہے، یہ محض لوگوں کو الّو بنانے کے لیے ڈھکوسلا ہے۔

Al-An'aam 6:29Listen in Qur'an →
30

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ وُقِفُوا۟ عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ قَالَ أَلَيْسَ هَٰذَا بِٱلْحَقِّ ۚ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو

وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا ۔۔ : پچھلی آیت میں کفار کا وہ قول بیان کیا ہے جو وہ دنیا میں کہا کرتے تھے اور اب آخرت میں ان کی حالت کا ذکر ہے۔ - ۭقَالَ اَلَيْسَ هٰذَا بالْحَقِّ ۭ۔۔ : کاش آپ وہ منظر دیکھیں جب انھیں آگ کے سامنے کھڑا کر کے ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا یہ (آخرت اور جزا و سزا) حق نہیں ہے۔ اب وہ اپنا قول بالکل ہی بدل لیں گے اور قسم کھا کر قیامت کے دن کے حق ہونے کا اقرار کریں گے، مگر اس وقت کا اقرار انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ پھر اپنے کفر کی وجہ سے عذاب کا مزہ چکھو۔ قرآن مجید میں قیامت کے دن ان کی اس خواہش کا اور اسے ٹھکرا دیے جانے کا کئی جگہ ذکر ہے۔ دیکھیے سورة مومنون (١٠٧، ١٠٨) اور سورة سجدہ (١٢) ۔

Al-An'aam 6:30Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.