Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 81–90 of 165

81

وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ عَلَيْكُمْ سُلْطَٰنًۭا ۚ فَأَىُّ ٱلْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِٱلْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکرڈروں جب کہ تم اس سے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)

Explained together with ayah 76

Al-An'aam 6:81Listen in Qur'an →
82

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَمْ يَلْبِسُوٓا۟ إِيمَٰنَهُم بِظُلْمٍ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے امن (اور جمعیت خاطر) ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں

خلاصہ تفسیر - جو لوگ (اللہ پر) ایمان رکھتے ہیں اور اپنے (اس) ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لئے (قیامت میں) امن ہے اور وہی (دنیا میں) راہ (راست) پر چل رہے ہیں (اور وہ صرف موحدین ہیں بخلاف مشرکین کے کہ گو بالمعنی اللغوی خدا پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ خدا کے قائل ہیں، لیکن شرک بھی کرتے ہیں جس سے ایمان شرعی منفی ہوجاتا ہے، جب موحدین قابل امن ہیں سو اس صورت میں خود تم ڈرو نہ کہ مجھ کو ڈراتے رہو، حالانکہ نہ تمہارے آلہہ ڈرنے کے قابل نہ میں نے کوئی کام ڈر کا کیا اور نہ دنیا کا خوف قابل اعتبار، اور تمہاری حالت تینوں اعتبار سے محل خوف ہے) اور یہ (حجت جو ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید پر قائم کی تھی) ہماری (دی ہوئی) حجت تھی وہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے مقابلہ میں دی تھی (جب ہماری دی ہوئی تھی تو یقینا اعلیٰ درجہ کی تھی اور ابراہیم (علیہ السلام) کی کیا تخصیص ہے) ہم (تو) جس کو چاہتے ہیں (علمی و عملی) مرتبوں میں بڑھا دیتے ہیں (چنانچہ سب انبیاء کو یہ رفعت درجات عطا فرمائی) بیشک آپ کا رب بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے (کہ ہر ایک کا حال اور استعداد جانتا ہے اور ہر ایک کے مناسب اس کو کمال عطا فرماتا ہے) اور (ہم نے جیسا ابراہیم (علیہ السلام) کو کمال ذاتی علم و عمل دیا، اسی طرح کمال اضافی بھی دیا کہ ان کے اصول اور فروع سے بہتوں کو کمال دیا چنانچہ) ہم نے ان کو ( ایک بیٹا) اسحاق دیا اور (ایک پوتا) یعقوب (دیا اور اس سے دوسری اولاد کی نفی نہیں ہوتی اور دونوں صاحبوں میں سے) ہر ایک کو (طریقِ حق کی) ہم نے ہدایت کی، اور (ابراہیم سے) پہلے زمانہ میں ہم نے نوح (علیہ السلام) کو (جن کا ابراہیم (علیہ السلام) کے اجداد میں ہونا مشہور ہے اور اصل کی فضیلت فرع میں بھی مؤ ثر ہوتی ہے طریق حق کی) ہدایت کی اور ان (ابراہیم علیہ السلام) کی اولاد (لغوی یا عرفی یا شرعی) میں سے (اخیر تک جتنے مذکور ہیں سب کو طریق حق کی ہدایت کی یعنی) داؤد (علیہ السلام) کو اور (ان کے صاحبزادہ) سلیمان (علیہ السلام) کو اور ایوب (علیہ السلام) کو اور یوسف (علیہ السلام) کو اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ہارون (علیہ السلام) کو (طریقِ حق کی ہدایت کی) اور (جب یہ ہدایت پر چلے تو ہم نے ان کو جزائے خیر بھی دی مثل ثواب و زیادہ قرب کے اور جس طرح نیک کاموں پر ان کو جزاء دی) اسی طرح (ہماری عادت ہے کہ) ہم نیک کام کرنے والوں کو (مناسب) جزاء دیا کرتے ہیں اور نیز (ہم نے طریق حق کی ہدایت کی) زکریا (علیہ السلام) کو اور (ان کے صاحبزادہ) یحییٰ (علیہ السلام) کو اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور الیاس (علیہ السلام) کو (اور یہ) سب (حضرات) پورے شائستہ لوگوں میں تھے اور نیز (ہم نے طریق حق کی ہدایت کی) اسماعیل (علیہ السلام) کو اور یسع (علیہ السلام) کو اور یونس (علیہ السلام) کو اور لوط (علیہ السلام) کو اور (ان میں سے) ہر ایک کو (ان زمانوں کے) تمام جہان والوں پر (نبوت سے) ہم نے فضیلت دی اور نیز ان (حضرات مذکورین) کے کچھ باپ داداوں کو اور کچھ اولاد کو اور کچھ بھائیوں کو، (طریقِ حق کی ہم نے ہدایت کی) اور ہم نے ان (سب) کو راہ راست (یعنی دین حق) کی ہدایت کی (اور وہ دین جس کی ان سب کو ہدایت ہوئی تھی) اللہ کی (جانب سے جو) ہدایت (ہوتی ہے) وہ یہی (دین) ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت (یعنی منزل پر پہنچانے کی صورت میں) کرتا ہے (چنانچہ اب جو لوگ موجود ہیں ان کو بھی اسی کی ہدایت اس معنی سے ہوئی کہ ان کو صحیح راستہ دکھا دیا، پھر منزل پر پہنچانا نہ پہنچنا ان کا کام ہے، مگر ان میں سے بعض نے اس کو چھوڑ کر شرک اختیار کرلیا) اور (شرک اس قدر ناپسند چیز ہے کہ غیر انبیاء تو کس شمار میں ہیں) اگر فرضاً یہ حضرات (انبیاء مذکورین) بھی (نعوذ باللہ) شرک کرتے تو جو کچھ یہ (نیک) اعمال کیا کرتے تھے ان میں سب اکارت ہوجاتے …

Al-An'aam 6:82Listen in Qur'an →
83

وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيْنَٰهَآ إِبْرَٰهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِۦ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے

دوسری آیت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اپنی قوم کے مناظرہ میں کھلی فتح پائی، اور ان کو لاجواب کردیا، یہ ہمارا ہی انعام تھا کہ ان کو صحیح نظریہ عطا کیا پھر اس کے واضح دلائل بتلا دئیے، کسی کو اپنی عقل و فہم یا تقریر اور زور خطابت پر ناز نہ ہونا چاہئے بغیر خدا تعالیٰ کی امداد و اعانت کے کسی کا بیڑا پار نہیں ہوتا، نری عقل انسانی ادراک حقائق کیلئے کافی نہیں جس کا مشاہدہ ہر دور میں ہوتا رہتا ہے، کہ بڑے بڑے ماہر فلاسفر گمراہی کے راستہ پر پڑجاتے ہیں اور بہت سے اَن پڑھ جاہل صحیح عقیدہ اور نظریہ کے پابند ہوجاتے ہیں، مولانا رومی رحمة اللہ علیہ نے خوب فرمایا - بے عنایاتِ حق و خاصانِ حق - گر ملک باشدسیہ ہستش ورق - آخر آیت میں فرمایا نرفع درجت من نشآء یعنی ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کردیتے ہیں، اس میں اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو پورے عالم میں اور قیامت تک آنے والی نسلوں میں خاص عزت و مقام عطا ہوا کہ یہودی، نصرانی، مسلمان، بُدھ مت وغیرہ سب کے سب ان کے تقدس کے قائل اور ان کی تعظیم کرتے چلے آئے ہیں، یہ بھی ہمارا ہی فضل و انعام ہے کسی کے کسب و اکتساب کا اس میں دخل نہیں۔

Al-An'aam 6:83Listen in Qur'an →
84

وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے۔ (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں

اس کے بعد کی چھ آیتوں میں سترہ انبیاء (علیہم السلام) کی فہرست شمار کی گئی ہے جن میں سے بعض حضرات ابراہیم (علیہ السلام) کے آباء و اجداد ہیں، اور اکثر ان کی اولاد ہیں، اور بعض ان کے بھائی بھتیجے ہیں، ان آیتوں میں ایک طرف تو ان حضرات کا ہدایت پر ہونا، صالحین ہونا، صراط مستقیم پر ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ اور یہ بتلایا گیا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ہی اپنے دین کی خدمت کے لئے منتخب اور قبول فرما لیا ہے، اور دوسری طرف یہ جتلایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی راہ میں اپنے باپ اور برادری اور وطن کو چھوڑ دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آخرت کے درجات عالیہ اور دائمی اور بےمثال راحتوں سے پہلے دنیا میں بھی ان کو اپنی برادری سے بہتر برادری اور وطن سے بہتر وطن عطا فرمایا، اور یہ شرف عظیم عطا فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد قیامت تک جتنے انبیاء و رسل مبعوث فرمائے گئے وہ سب ان کی اولاد میں ہیں، ایک شاخ جو حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے چلی اس میں سید الاولین و الآخرین نبی الانبیاء خاتم النبین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا ہوئے، اور یہ سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریّت ہیں، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرچہ عزت و ذلت اور نجات و عذاب کا اصل مدار انسان کے اپنے ذاتی اعمال پر ہے، لیکن آباء و اجداد میں کسی نبی، ولی کا ہونا یا اولاد میں علماء صلحاء کا ہونا بھی ایک بڑی نعمت ہے، اور اس سے بھی انسان کو فائدہ پہنچتا ہے۔- ان سترہ انبیاء (علیہم السلام) میں جن کی فہرست آیات مذکورہ میں دی گئی ہے ایک حضرت نوح (علیہ السلام) تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جد امجد ہیں، باقی سب کو ان کی ذریت فرمایا ہے۔ (آیت) ومن ذریتہ داود و سلیمٰن الآیة، اس میں ایک اشکال تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں ہوسکتا ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دختری اولاد میں سے ہیں، یعنی پوتے نہیں بلکہ نواسے ہیں، تو ان کو ذریت کہنا کیسے صحیح ہوگا ؟ اس کا جواب عامہ علماء و فقہاء نے یہ دیا ہے کہ لفظ ذریت پوتوں اور نواسوں دونوں کو شامل ہے، اور اسی سے استدلال کیا ہے کہ حضرات حسنین (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذریت میں داخل ہیں۔- دوسرا اشکال حضرت لوط (علیہ السلام) کے متعلق ہے کہ وہ اولاد میں نہیں بلکہ بھتیجے ہیں، لیکن اس کا جواب بھی واضح ہے کہ عرب میں چچا کو باپ اور بھتیجے کو بیٹا کہنا بہت ہی متعارف ہے۔- آیات مذکورہ میں حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام پر انعامات الٓہیہ بیان فرما کر ایک طرف تو یہ قانون قدرت بتلا دیا گیا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی محبوب چیزوں کو قربان کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں بھی اس سے بہتر چیزیں عطا فرما دیتے ہیں، دوسری طرف مشرکین مکہ کو یہ حالات سنا کر اس طرف ہدایت کرنا مقصود ہے کہ تم لوگ محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات نہیں مانتے تو دیکھو جن کو تم بھی سب بڑا مانتے ہو یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کا پورا خاندان وہ سب یہی کہتے چلے آئے ہیں کہ قابل عبادت صرف ایک ذات حق تعالیٰ ہے، اس کے ساتھ کسی کو عبادت میں شریک کرنا یا اس کی مخصوص صفات کا ساجھی بتلانا کفر و گمراہی ہے، تم لوگ خود اپنے مسلمات کی رو سے بھی ملزم ہو۔

Al-An'aam 6:84Listen in Qur'an →
85

وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّۭ مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی۔ یہ سب نیکوکار تھے

Explained together with ayah 84

Al-An'aam 6:85Listen in Qur'an →
86

وَإِسْمَٰعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًۭا ۚ وَكُلًّۭا فَضَّلْنَا عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضلیت بخشی تھی

Explained together with ayah 84

Al-An'aam 6:86Listen in Qur'an →
87

وَمِنْ ءَابَآئِهِمْ وَذُرِّيَّٰتِهِمْ وَإِخْوَٰنِهِمْ ۖ وَٱجْتَبَيْنَٰهُمْ وَهَدَيْنَٰهُمْ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور بعض بعض کو ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا اور سیدھا رستہ بھی دکھایا تھا

Explained together with ayah 84

Al-An'aam 6:87Listen in Qur'an →
88

ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهْدِى بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا۟ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے۔ اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے

Explained together with ayah 84

Al-An'aam 6:88Listen in Qur'an →
89

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ۚ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَٰٓؤُلَآءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًۭا لَّيْسُوا۟ بِهَا بِكَٰفِرِينَ

یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم (شریعت) اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کے لئے) ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں

آٹھویں آیت میں یہی مضمون ارشاد فرمایا گیا اور اس کے آخر میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے لئے ارشاد فرمایا کہ : فَاِنْ يَّكْفُرْ بِهَا هٰٓؤ ُ لَاۗءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا، یعنی اگر آپ کے کچھ مخاطب آپ کی بات نہیں مانتے اور تمام انبیاء سابقین کی ہدایات پیش کردینے کے باوجود وہ انکار ہی پر تلے ہوئے ہیں تو آپ غم نہ کریں، کیونکہ ہم نے آپ کی دعوت و ہدایت کو ماننے اور اپنانے کے لئے ایک بڑی قوم کو مقدر کر رکھا ہے، وہ کفر و انکار کے پاس نہ جائیں گے، اس میں عہد مبارک کے موجودین مہاجرین و انصار بھی داخل ہیں، اور قیامت تک آنے والے مسلمان بھی، اور یہ آیت ان سب لوگوں کے لئے مایہ فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مقام مدح میں ذکر فرمایا ہے، اللہم اجعلنا منھم واحشرنا فی زمرتھم۔

Al-An'aam 6:89Listen in Qur'an →
90

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ ۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقْتَدِهْ ۗ قُل لَّآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَٰلَمِينَ

یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لئےمحض نصیحت ہے

خلاصہ تفسیر - (اور ہم جو غم نہ کرنے کو اور صبر کرنے کو کہتے ہیں تو وجہ یہ ہے کہ سب انبیاء نے ایسا ہی کیا ہے چنانچہ) یہ حضرات (مذکورین) ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے (اس صبر کی) ہدایت کی تھی سو (اس باب میں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی انہی کے طریق (صبر) پر چلئے (چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اس کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ ان میں سے نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہ نفع نہ کوئی ضرر ہے جس کی وجہ سے غم اور بےصبری ہو اور اس مضمون کے اظہار کے واسطے ان سے تبلیغ کے وقت) آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ میں تم سے (اس تبلیغ قرآن) پر کچھ معاوضہ نہیں چاہتا (جس کے ملنے سے نفع اور نہ ملنے سے ضرر ہو، بےغرض نصیحت کرتا ہوں) یہ (قرآن) تو صرف تمام جہانوں کے واسطے ایک نصیحت ہے (جس کو ماننے سے تمہارا ہی نفع اور نہ ماننے سے تمہارا ہی نقصان ہے) اور ان (منکر) لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی جیسی قدر پہچاننا واجب تھی، ویسی قدر نہ پہچانی جبکہ (منہ بھر کر) یوں کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی چیز (یعنی کوئی کتاب) ابھی نازل نہیں کی (یہ کہنا ناقدر شناسی اس لئے ہے کہ اس سے مسئلہ نبوت کا انکار لازم آتا ہے، اور نبوت کا منکر اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرتا ہے، اور تصدیق حق واجب ہے، پس اس میں قدر شناسی واجب میں اخلال ہوا، یہ تو تحقیقی جواب تھا، اور الزامی مسکت جواب دینے کے لئے) آپ (ان سے) یہ کہئے کہ (یہ تو بتلاؤ کہ) وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے (یعنی توریت جس کو تم بھی مانتے ہو) جس کی یہ کیفیت ہے کہ وہ (خود مثل) نور (کے واضح) ہے اور (جن کی ہدایت کے لئے وہ آئی تھی ان) لوگوں کے لئے وہ (بوجہ بیان شرائع کے ذریعہ) ہدایت ہے جس کو تم نے (اپنی اغراض نفسانیہ کے لئے) متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے جن (میں جتنے اوراق کو چاہا ان) کو ظاہر کردیتے ہو (جس میں تمہارے مطلب کے خلاف کوئی بات نہ ہوئی) اور بہت سی باتوں کو (جو اپنے مطلب کے خلاف ہیں، یعنی جن اوراق میں وہ لکھی ہوئی ہیں ان کو) چھپاتے ہو اور (اس کتاب کی بدولت) تم کو بہت سی ایسی باتیں تعلیم کی گئیں جن کو (قبل کتاب ملنے کے) نہ تم (یعنی قوم بنی اسرائیل جو کہ وقت نزول آیت موجود تھی) جانتے تھے اور نہ تمہارے (قریب سلسلہ کے) بڑے (جانتے تھے، مطلب یہ کہ جس توریت کی یہ حالت ہے کہ اس کو اولا تو تم مانتے ہو، دوسرے بوجہ نور و ہدیٰ ہونے کے ماننے کے قابل بھی ہے، تیسرے ہر وقت تمہارے استعمال میں ہے، گو وہ استعمال شرمناک ہے، لیکن اس کی وجہ سے گنجائش انکار تو نہیں رہی، چوتھے تمہارے حق میں وہ بڑی نعمت اور منت کی چیز ہے، اسی کی بدولت عالم بنے بیٹھے ہو، اس حیثیت سے بھی اس میں گنجائش انکار نہیں، یہ بتلاؤ کہ اس کو کس نے نازل کیا ہے، اور چونکہ اس سوال کا جواب ایسا متعین ہے کہ وہ لوگ بھی اس کے سوا کوئی جواب نہ دیتے، اس لئے خود ہی جواب دینے کے لئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہے کہ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وہی) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے (کتاب مذکور کو) نازل فرمایا ہے (اور اس سے ان کا دعویٰ عام باطل ہوگیا) پھر (یہ جواب سنا کر) ان کو ان کے مشغلہ میں بیہودگی کے ساتھ لگا رہنے دیجئے (یعنی آپ کا منصبی کام ختم ہوگیا، نہ مانیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فکر میں نہ پڑیں ہم آپ ہی سمجھ لیں گے) اور (جس طرح توریت ہماری نازل کی ہوئی کتاب تھی اسی طرح) یہ (قرآن) بھی (جس کی تکذیب یہود کے قول مذکور سے اصل مقصود ہے) ایسی ہی کتاب ہے جس کو ہم نے (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر) نازل کیا ہے جو بڑی (خیرو) برکت والی ہے (چنانچہ اس پر ایمان لانا اور عمل کرنا موجب فلاح و نفع دارین ہے اور) اپنے سے پہلے (نازل شدہ) کتابوں (کے منزل من اللہ ہونے) کی تصدیق کرنے والی ہے (سو ہم نے اس قرآن کو نفع خلائق اور تصدیق کتب الٓہیہ کے لئے نازل …

Al-An'aam 6:90Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.