وَأَنذِرْ بِهِ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُوٓا۟ إِلَىٰ رَبِّهِمْ ۙ لَيْسَ لَهُم مِّن دُونِهِۦ وَلِىٌّۭ وَلَا شَفِيعٌۭ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
اور جو لوگ جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا، ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کر دو تاکہ پرہیزگار بنیں
دوسری آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ان واضح بیانات کے بعد بھی اگر یہ لوگ اپنی ضد سے باز نہ آئیں تو ان سے بحث و مباحثہ کو موقوف کر دیجئے اور جو اصلی کام ہے رسالت کا یعنی تبلیغ اس میں مشغول ہوجائیے، اور تبلیغ و انذار کا رخ ان لوگوں کی طرف پھیر دیجئے، جو قیامت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی اور حساب کتاب کا عقیدہ رکھتے ہیں، جیسے مسلمان یا وہ جو کم از کم اس کے منکر نہیں، بطور احتمال کے ہی سہی، کم از کم ان کو خطرہ تو ہے کہ شاید ہمارے اعمال کا ہم سے حساب لیا جائے۔- خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے متعلق تین طرح کے آدمی ہیں، ایک وہ جو یقینی طور پر اس کے معتقد ہیں، دوسرے وہ جو متردد ہیں، تیسرے وہ جو بالکل منکر ہیں، اور تبلیغ و انذار کا حکم انبیاء (علیہم السلام) کو اگرچہ ان تینوں طبقوں کے لئے عام ہے، جیسا کہ بہت سے ارشادات قرآنی سے واضح ہے، لیکن پہلے دو طبقوں میں چونکہ اثر قبول کرنے کی توقع زیادہ ہے، اس لئے اس آیت میں خاص طور پر ان کی طرف توجہ کرنے کی ہدایت فرمائی گئی، وَاَنْذِرْ بِهِ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْ يُّحْشَرُوْٓا اِلٰى رَبِّهِمْ ۔