Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 21–30 of 165

21

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۗ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ

اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ افتراء کیا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا۔ کچھ شک نہیں کہ ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے

Explained together with ayah 20

Al-An'aam 6:21Listen in Qur'an →
22

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوٓا۟ أَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ

اور جس دن ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ (آج) وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تمہیں دعویٰ تھا

خلاصہ تفسیر - کیفیت عدم فلاح مشرکین - اور وہ وقت بھی یاد رکھنے کے قابل ہے جس روز ہم تمام خلائق کو (میدان حشر میں) جمع کریں گے، پھر مشرکین سے (بواسطہ یا بلا واسطہ بطور زجر و توبیخ کے) کہیں گے کہ (بتلاؤ) تمہارے وہ شرکاء جن کے معبود ہونے کا تم دعویٰ کرتے تھے کہاں گئے (کہ تمہاری سفارش نہیں کرتے جس پر تم کو بھروسہ تھا) پھر ان کے شرک کا انجام اس کے سوا اور کچھ بھی (ظاہر) نہ ہوگا کہ وہ (اس شرک سے خود بیزاری اور نفرت کا اظہار کریں گے اور بدحواسی کے عالم میں) یوں کہیں گے قسم اللہ کی اپنے پروردگار کی کہ ہم مشرک نہیں تھے (حق تعالیٰ نے فرمایا تعجب کی نظر سے) ذرا دیکھو تو کس طرح ( صریح) جھوٹ بولا اپنی جانوں پر اور جن چیزوں کو وہ جھوٹ موٹ تراشا کرتے تھے (یعنی ان کے بت اور جن کو وہ خدا کا شریک ٹھہراتے تھے) وہ سب غائب ہوگئے (تشنیع بر انکار قرآن وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ ) اور ان (مشرکین) میں بعضے ایسے ہیں کہ (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قرآن پڑھنے کے وقت اس کے سننے کے لئے) آپ کی طرف کان لگاتے ہیں اور (چونکہ یہ سننا طلب حق کیلئے نہیں محض تماشے یا تمسخر کی نیت سے ہوتا ہے اس لئے اس سے ان کو کچھ نفع نہیں ہوتا، چنانچہ) ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں اس سے کہ وہ اس (قرآن کے مقصود) کو سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ بھر دیا ہے (کہ وہ اس کو ہدایت کے لئے نہیں سنتے، یہ تو ان کے دلوں اور کانوں کی حالت تھی، اب ان کی بصارت اور نگاہ کو دیکھو) اگر وہ لوگ (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صدق نبوت کے) تمام دلائل کو (بھی) دیکھ لیں ان پر بھی ایمان نہ لاویں (ان کے عناد کی نوبت) یہاں تک (پہنچی ہے) کہ جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے خواہ مخواہ جھگڑتے ہیں (اس طور پر کہ) یہ لوگ جو کافر ہیں یوں کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) تو کچھ بھی نہیں صرف بےسند باتیں ہیں جو پچھلے لوگوں سے (منقول) چلی آرہی ہیں (یعنی مذہب والے پہلے سے ایسی باتیں کرتے چلے آئے ہیں کہ معبود ایک ہی ہے اور یہ کہ انسان خدا کا پیغمبر ہوسکتا ہے، قیامت میں پھر زندہ ہونا ہے، جس کا حاصل عناد اور تکذیب ہے آگے اس سے ترقی کرکے جدال اور دوسروں کو بھی ہدایت سے روکنے کا کام شروع کیا) اور پھر یہ لوگ اس (قرآن) سے اوروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی (اس سے نفرت ظاہر کرنے کے لئے) دور دور رہتے ہیں اور (ان حرکتوں سے) یہ لوگ اپنے ہی کو تباہ کر رہے ہیں اور (حماقت اور غایت بغض سے) کچھ خبر نہیں رکھتے (کہ ہم کس کا نقصان کر رہے ہیں، ہمارے اس فعل سے رسول اور قرآن کا تو اس سے کچھ بگڑتا نہیں) ۔- معارف و مسائل - پچھلی آیت میں یہ مذکور تھا کہ ظالموں کافروں کو فلاح نصیب نہ ہوگی، متذکرہ آیات میں اس کی تفصیل و تشریح ہے، پہلی اور دوسری آیت میں اس سب سے بڑے امتحان کا ذکر ہے جو محشر میں رب الارباب کے سامنے ہونے والا ہے، ارشاد فرمایا (آیت) وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا، یعنی وہ دن یاد رکھنے کے قابل ہے جس میں ہم ان سب کو یعنی ان مشرکین کو اور ان کے بنائے ہوئے معبودوں کو جمع کریں گے۔ ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْٓا اَيْنَ شُرَكَاۗؤ ُ كُمُ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ، یعنی پھر ہم ان سے یہ سوال کریں گے کہ تم جن معبودوں کو ہمارا سہیم و شریک اور اپنا حاجت روا مشکل کشا سمجھا کرتے تھے آج وہ کہاں ہیں ؟ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے ؟- اس میں لفظ ثم اختیار فرمایا گیا ہے جو تراخی اور دیر کے لئے استعمال ہوتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ محشر میں جمع ہونے کے بعد فوراً ہی سوال جواب نہیں ہوگا، بلکہ عرصہ دراز تک حیرت و تذبذب کے عالم میں کھڑے رہیں گے، مدّت کے بعد حساب کتاب اور سوالات شروع ہوں گے۔- ایک حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ اللہ تعالیٰ تم کو میدان حشر میں ایسی طرح جمع …

Al-An'aam 6:22Listen in Qur'an →
23

ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ وَٱللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ

تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز اس کے (کچھ چارہ نہ ہوگا) کہ کہیں خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے

خلاصہ یہ ہے کہ اس سب سے بڑی امتحان گاہ میں اول تو ایک عرصہ دراز ایسا گزرے گا کہ امتحان شروع ہی نہ ہوگا، یہاں تک کہ یہ لوگ تمنا کرنے لگیں گے کہ کسی طرح امتحان اور حساب جلد ہوجائے، انجام کچھ بھی ہو، یہ تردّد اور تذبذب کی تکلیف تو جائے، اسی طول قیام اور عرصہ دراز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لفظ ثُمَّ کے ساتھ فرمایا ثُمَّ نَقُولُ ، اسی طرح دوسری آیت میں مشرکین کی طرف سے جو جواب مذکور ہے وہ بھی لفظ ثُمَّ کے ساتھ آیا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ بھی بڑے وقفہ کے بعد بہت غور و فکر اور سوچ بچار کرکے یہ جواب دیں گے کہ واللّٰہ ربنا ما کنا مشرکین ” یعنی اللہ رب العالمین کی قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم تو مشرک نہ تھے “۔ اس آیت میں ان کے جواب کو لفظ فتنة سے تعبیر فرمایا ہے، اور یہ لفظ امتحان و آزمائش کے لئے بھی بولا جاتا ہے، اور کسی پر فریفتہ و مفتون ہوجانے کے لئے بھی۔ اور یہاں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں پہلی صورت میں ان کے جواب امتحان کو امتحان سے تعبیر کردیا گیا ہے، اور دوسری صورت میں مراد یہ ہوگی کہ یہ لوگ دنیا میں ان بتوں اور خود ساختہ معبودوں پر مفتون تھے، اپنے جان و مال ان پر قربان کرتے تھے، مگر آج وہ ساری محبت و فریفتگی ختم ہوگئی، اور ان کا جواب بجز اس کے کچھ نہ ہوا کہ ان سے برات اور علیحدگی کا دعویٰ کریں۔- ان کے جواب میں ایک عجیب چیز یہ ہے کہ میدان قیامت کے ہولناک مناظر اور ربُّ الارباب کی قدرت کاملہ کے عجیب و غریب واقعات دیکھنے کے بعد ان کو یہ جرأت کیسے ہوئی کہ ربُّ العالمین کے سامنے کھڑے ہو کر جھوٹ بولیں اور وہ بھی اس شر ومد کے ساتھ کہ اسی کی ذات کبریاء کی قسم بھی کھا کر کہہ رہے ہیں کہ ہم مشرک نہیں تھے۔- عامہ مفسرین نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ان کا یہ جواب کچھ عقل و ہوش اور انجام بینی پر مبنی نہیں، بلکہ فرط ہیبت سے بوکھلاہٹ کی بناء پر ہے، اور ایسی حالت میں آدمی جو کچھ منہ میں آئے بالا کرتا ہے، لیکن میدان حشر کے عام واقعات و حالات میں غور کرنے کے بعد یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی ان کی پوری کیفیت اور حالت کو سامنے لانے کے لئے ان کو یہ قدرت بھی دے دی کہ وہ آزادانہ جو چاہیں کہیں جس طرح دنیا میں کہا کرتے تھے، تاکہ کفر و شرک کے گناہ عظیم کے ساتھ ان کا یہ عیب بھی اہل محشر کے سامنے آجائے کہ یہ جھوٹ بولنے میں بھی یکتا ہیں کہ اس ہولناک موقع پر بھی جھوٹ بولنے سے نہیں جھجکتے، قرآن مجید کی ایک دوسری (آیت) فیحلفون لہ کما یحلفون لکم سے اسی کی طرف اشارہ ہوتا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ جس طرح مسلمانوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں اسی طرح خود رب العالمین کے سامنے بھی دروغ حلفی سے نہ چوکیں گے۔- محشر میں جب یہ قسمیں کھا کر اپنے شرک و کفر سے انکاری ہوجائیں گے تو اس وقت قادر مطلق ان کے مونہوں پر مہر سکوت لگا دیں گے اور ان کے اعضاء وجوارح ہاتھ پاؤں کو حکم دیں گے کہ تم شہادت دو کہ یہ لوگ کیا کیا کرتے تھے، اس وقت ثابت ہوگا کہ ہمارے ہاتھ پاؤں، آنکھ، کان یہ سب کے سب خدا تعالیٰ کی خفیہ پولیس تھی، وہ تمام اعمال و افعال کو ایک ایک کرکے سامنے رکھ دیں گے، اسی کے متعلق سورة یسین میں ارشاد ہے :۔- (آیت) الیوم نختم علی افواھھم، اس مشاہدہ قدرت کے بعد کسی کو یہ جرأت نہ رہے گی کہ پھر کوئی بات چھپائے یا جھوٹ بولے۔- قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہے : (آیت) ولا یکتمون اللّٰہ حدیثا، ” یعنی اس روز وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے “۔ اس کا مطلب حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے یہی بتلایا کہ پہلے پہلے تو خوب جھوٹ بولیں گے اور جھوٹی قسمیں کھائیں گے، لیکن جب خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے تو اس وقت کوئی غلط بات کہنے کی جرأت نہ رہے گی۔- غرض احکم الحاکمین کی عدالت میں مجرم کو اپنا بیان دینے کا پورا موقع آزادی کے ساتھ دیا جائے گا، اور جس طرح وہ دنیا میں …

Al-An'aam 6:23Listen in Qur'an →
24

ٱنظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ ۚ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

دیکھو انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہا

آخر آیت میں ارشاد فرمایا : اُنْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ، اس میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیکھئے کہ ان لوگوں نے اپنی جانوں پر کیسا جھوٹ بولا ہے، اور جو کچھ وہ اللہ پر افتراء کیا کرتے تھے آج سب غائب ہوگیا، اپنی جانوں پر جھوٹ بولنے سے مراد یہ ہے کہ وبال اس جھوٹ کا انہی کی جانوں پر پڑنے والا ہے، اور افتراء سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا میں ان کو اللہ کا سہیم و شریک ٹھہرانا ایک افتراء تھا، آج حقیقت سامنے آکر اس افتراء کی قلعی کھل گئی، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ افتراء سے مراد جھوٹی قسم ہے جو محشر میں کھائی تھی، پھر ہاتھوں پیروں اور اعضاء کی گواہی سے وہ جھوٹ کھل گیا۔- اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ افتراء سے مراد مشرکین کی وہ تاویلیں ہیں جو اپنے معبودات باطلہ کے بارے میں دنیا میں کیا کرتے تھے، مثلاً مانعبدھم الا لیقربونا الی اللّٰہ زلفی، ” یعنی ہم ان بتوں کو خدا سمجھ کر ان کی عبادات نہیں کرتے، بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے سفارش کرکے قریب کردیں گے “۔ محشر میں یہ افتراء اس طرح کھل گیا کہ ان کی سب سے بڑی مصیبت کے وقت کسی نے نہ ان کی سفارش کی، نہ ان کے عذاب میں کچھ کمی کا ذریعہ بنے۔- یہاں ایک سوال یہ ہے کہ اس آیت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت یہ سوال و جواب ہوں گے معبودات باطلہ سب غائب ہوں گے، کوئی سامنے نہ ہوگا، اور قرآن مجید کی ایک آیت میں یہ ارشاد ہے (آیت) احشروا الذین ظلموا وازواجھم وما کانوا یعبدون، ” یعنی قیامت میں حق تعالیٰ کا حکم یہ ہوگا کہ جمع کردو ظالموں کو اور ان کے ساتھیوں کو اور ان کو جن کی یہ لوگ عبادت کیا کرتے تھے “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محشر میں معبودات باطلہ بھی حاضر و موجود ہوں گے۔- جواب یہ ہے کہ اس آیت میں ان کے غائب ہونے سے مراد یہ ہے کہ بحیثیت سہیم و شریک یا سفارش کرنے کے یہ غائب ہوں گے کہ ان لوگوں کو کوئی نفع نہ پہنچا سکیں گے ویسے حاضر و موجود ہوں گے، اس طرح دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہ رہا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک وقت میں یہ سب ایک جگہ جمع کردیئے جائیں، پھر متفرق ہوجائیں، اور یہ سوال تفریق کے بعد کیا جائے۔- ان دونوں آیتوں میں یہ بات خصوصیت کے ساتھ یاد رکھنے کی ہے کہ اللہ جل شانہ، نے مشرکین کو حشر کے ہولناک میدان میں جو یہ اختیار دیا کہ وہ آزادانہ جو چاہیں کہہ سکیں یہاں تک کہ جھوٹی قسم کھا کر انہوں نے شرک سے انکار کردیا، اس میں شاید اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جھوٹ بولنے کی عادت ایک ایسی خبیث عادت ہے جو چھوٹتی نہیں، یہاں تک کہ یہ لوگ جو دنیا میں مسلمانوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھالیا کرتے تھے یہاں بھی باز نہ آئے اور پوری خلق خدا کے سامنے ان کی رسوائی ہوئی، اسی لئے قرآن و حدیث میں جھوٹ بولنے پر شدید وعید اور مذمت فرمائی گئی ہے، قرآن میں جا بجا کاذب پر لعنت کے الفاظ آئے ہیں، اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ فجور کا ساتھی ہے، اور جھوٹ اور فجور دونوں جہنم میں جائیں گے (ابن حبان فی صحیحہ)- اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا گیا کہ وہ عمل کیا ہے جس سے آدمی دوزخ میں جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ عمل جھوٹ ہے (مسند احمد) اور شب معراج میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کی دونوں باچھیں چیر دی جاتی ہیں۔ وہ پھر درست ہوجاتی ہیں، پھر چیر دی جاتی ہیں، اسی طرح یہ عمل اس کے ساتھ قیامت تک ہوتا رہے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرئیل امین سے دریافت کیا کہ یہ کون ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ جھوٹ بولنے والا ہے۔- اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ …

Al-An'aam 6:24Listen in Qur'an →
25

وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ ۖ وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرًۭا ۚ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍۢ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوكَ يُجَٰدِلُونَكَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری (باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر تو پردے ڈال دیئے ہیں کہ ان کو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے (کہ سن نہ سکیں) اور اگر یہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ جب تمہارے پاس تم سے بحث کرنے کو آتے ہیں تو جو کافر ہیں کہتے ہیں یہ (قرآن) اور کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

Explained together with ayah 24

Al-An'aam 6:25Listen in Qur'an →
26

وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْـَٔوْنَ عَنْهُ ۖ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

وہ اس سے (اوروں کو بھی) روکتے ہیں اور خود بھی پرے رہتے ہیں مگر (ان باتوں سے) اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور (اس سے) بےخبر ہیں

وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْــــَٔـوْنَ عَنْهُ عائمہ مفسرین ضحاک رحمة اللہ علیہ، قتادہ رحمة اللہ علیہ، محمد بن حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نزدیک یہ آیت عام کفار مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جو لوگوں کو قرآن سننے اور اس کا اتباع کرنے سے منع کرتے تھے۔ اور خود بھی اس سے دور دور رہتے تھے، اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ آیت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابو طالب اور دوسرے ان چچاؤں کے متعلق ہے جو لوگوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایذاء رسانی سے روکتے اور آپ کی حمایت کرتے تھے، مگر نہ قرآن پر ایمان لاتے نہ اس پر عمل کرتے، اس صورت میں يَنْهَوْنَ عَنْهُ کی ضمیر بجائے قرآن کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف راجع ہوگی (مظہری بروایت ابن ابی حاتم عن سعید بن ابی ہلال)

Al-An'aam 6:26Listen in Qur'an →
27

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ وُقِفُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ فَقَالُوا۟ يَٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ اے کاش ہم پھر (دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور مومن ہوجائیں

خلاصہ تفسیر - اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان کو) اس وقت دیکھیں (تو بڑا ہولناک واقعہ نظر آئے) جب کہ (منکرین) دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے (اور قریب ہوگا کہ جہنم میں ڈال دئیے جاویں) تو (ہزاروں تمناؤں کے ساتھ) کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہوتی کہ ہم (دنیا میں) پھر واپس بھیج دیئے جاویں اور اگر ایسا ہوجاوے تو ہم (پھر) اپنے رب کی آیات (مثل قرآن وغیرہ) کو کبھی جھوٹا نہ بتادیں اور ہم (ضرور) ایمان والوں میں سے ہوجاویں (حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی یہ تمنا اور وعدہ سچی رغبت اور قصد اطاعت سے نہیں) بلکہ (اس وقت ایک مصیبت میں پھنس رہے ہیں کہ) جس چیز کو اس سے پہلے (دنیا میں) دبایا (اور مٹایا) کرتے تھے، وہ آج ان کے سامنے آگئی ہے (مراد اس چیز سے آخرت کا عذاب ہے جس کی وعید کفرو معصیت پر دنیا میں ان کو کی جاتی تھی، اور دبانے سے مراد انکار ہے، مطلب یہ ہے کہ اس وقت جان کو بن رہی ہے، اس لئے جان بچانے کو یہ سارے وعدے ہو رہے ہیں، اور دل سے ہرگز وعدہ پورا کرنے کا ارادہ نہیں یہاں تک کہ) اگر (بالفرض) یہ لوگ پھر واپس بھی بھیج دیئے جاویں تب بھی یہ ہی کام کریں جس سے ان کو منع کیا گیا تھا (یعنی کفر و نافرمانی) اور یقیناً یہ ( ان وعدوں میں) بالکل جھوٹے ہیں (یعنی نہ اس وقت ایفائے وعدہ کا قصد نہ دنیا میں جا کر ایفائے وعدہ کا ان سے احتمال ہے) اور یہ (منکرین) کہتے ہیں کہ زندگی اور کہیں نہیں، بس یہی دنیا کی زندگی اور ہم (اس زندگی کے ختم ہونے کے بعد پھر) زندہ نہ کئے جاویں گے، (جیسا کہ انبیاء (علیہم السلام) فرماتے ہیں) اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان کو) اس وقت دیکھیں (تو بڑا عجیب واقعہ نظر آوے) جب کہ یہ اپنے رب کے سامنے حساب کے لئے کھڑے کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے فرماوے گا کہ (کہو) کیا یہ (قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونا) امر واقعی نہیں وہ کہیں گے بیشک (واقعی ہے) قسم اپنے رب کی اللہ تعالیٰ فرمادے گا تو اب اپنے کفر کا مزہ چھکو (اس کے بعد دوزخ میں بھیج دیئے جاویں گے) بیشک (سخت) خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے ملنے کی (یعنی قیامت کے روز زندہ ہو کر خدا تعالیٰ کے سامنے پیشی کی) تکذیب کی (اور یہ تکذیب تھوڑے دنوں رہے گی) یہاں تک کہ جب وہ معین وقت (یعنی قیامت کا دن مع مقدمات) ان پر دفعتہ (بلا اطلاع) آپہنچے گا (اس وقت سارے دعوے اور تکذیب ختم ہوجاویں گے اور) کہنے لگیں گے ہائے افسوس ہماری کوتاہی (اور غفلت) پر جو اس (قیامت) کے بارے میں (ہم سے) ہوئی اور حالت ان کی یہ ہوگی کہ وہ اپنے (کفر و نافرمانی کا) بھار اپنی کمر پر لادے ہوئے ہوں گے، خوب سن لو کہ بری ہوگی وہ چیز جس کو اپنے اوپر لادیں گے، اور دنیوی زندگانی تو کچھ بھی نہیں بجز لعب و لہو کے (بوجہ غیر نافع اور غیر باقی ہونے کے) اور پچھلا گھر پرہیزگاروں کے لئے بہتر ہے، کیا تم سوچتے نہیں۔- معارف و مسائل - اسلام کے تین بنیادی اصول ہیں : توحید، رسالت، عقیدہ آخرت، باقی سب عقائد انہی تین کے تحت داخل ہیں، اور یہ وہ اصول ہیں جو انسان کو اس کی اپنی حقیقت اور مقصد زندگی سے روشناس کرکے اس کی زندگی میں انقلاب پیدا کرتے ہیں اور اس کو ایک سیدھی اور صاف راہ پر کھڑا کردیتے ہیں، ان میں بھی عملی طور پر عقیدہ آخرت اور اس میں حساب جزاء و سزاء کا عقیدہ ایک ایسا انقلابی عقیدہ ہے جو انسان کے ہر عمل کا رخ ایک خاص طرف پھیر دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے تمام مضامین انہی تین میں دائر رہتے ہیں مذکورہ آیات میں خصوصیت کے ساتھ آخرت کے سوال و جواب، وہاں کے شدید و مدید ثواب و عذاب کا اور دنیائے ناپائیدار کی حقیقت کا بیان ہے۔ پہلی آیت میں مجرمین منکرین کا یہ حال بیان فرمایا گیا ہے کہ آخرت میں جب ان کو دوزخ کے کنارے کھڑا کیا جائے گا اور وہ وہم و خیال سے بھی زیادہ ہولناک عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو وہ یہ تمنا ظاہر کریں گے کہ کاش ہمیں پھر …

Al-An'aam 6:27Listen in Qur'an →
28

بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا۟ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا۟ لَعَادُوا۟ لِمَا نُهُوا۟ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ

ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیا ہے اور اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں) سے ان کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

دوسری آیت میں علیم وخبیر احکم الحاکمین نے ان کی اس گھبرائی ہوئی تمنا کا پول اس طرح کھولا کہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ جیسے ہمیشہ سے جھوٹ کے عادی تھے وہ اپنے اس قول اور تمنا میں بھی جھوٹے ہیں، اور بات اس کے سوا نہیں ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ جو حقائق ان کے سامنے لائے گئے تھے اور یہ لوگ ان کو جاننے پہچاننے کے باوجود محض ہٹ دھرمی سے یا دنیا کی طمع خام کی وجہ سے ان حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کیا کرتے تھے آج وہ سب ایک ایک کرکے ان کے سامنے آگئے، اللہ جل شانہ، کی یکتائی اور قدرت کاملہ کے مظاہر آنکھوں سے دیکھے، انبیاء (علیہم السلام) کی سچائی کا مشاہدہ کیا۔ آخرت میں دوبارہ زندہ ہونے کا مسئلہ جس کا ہمیشہ انکار رہتا تھا اب حقیقت بن کر سامنے آگیا۔ جزاء و سزاء کا مظاہرہ دیکھا، دوزخ کا مشاہدہ کیا تو اب ان کے پاس کوئی حجت مخالفت کی باقی نہ رہی۔ اس لئے یوں ہی کہنے لگے کہ کاش ہم پھر دنیا میں واپس ہوجاتے، تو مومن ہو کر لوٹتے۔- لیکن ان کے پیدا کرنے والے علیم وخبیر مالک نے فرمایا کہ اب تو یہ ایسا کہہ رہے ہیں، لیکن بالفرض ان کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہ پھر اپنے اس قول وقرار کو بھول جائیں گے اور پھر سب کچھ وہی کریں گے جو پہلے کیا تھا، اور جن حرام چیزوں سے ان کو روکا گیا تھا یہ پھر ان میں مبتلا ہوجائیں گے، اس لئے ان کا یہ کہنا بھی ایک جھوٹ اور فریب ہے۔- ان کے اس قول کو جھوٹ فرمانا مآل کار کے لحاظ سے بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جو اب وعدہ کر رہے ہیں کہ اگر دوبارہ دنیا میں لوٹائے جائیں تو تکذیب نہ کریں گے، مگر ایسا ہوگا نہیں، یہ وہاں جاکر پھر بھی تکذیب ہی کریں گے، اور اس کذب کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس وقت بھی جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں سچے ارادہ سے نہیں بلکہ محض دفع الوقتی کے طور پر عذاب سے بچنے کے لئے کہہ رہے ہیں، دل میں اب بھی ان کا ارادہ نہیں۔

Al-An'aam 6:28Listen in Qur'an →
29

وَقَالُوٓا۟ إِنْ هِىَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ

اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے

تیسری آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا وَقَالُوْٓا اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ ، اس کا عطف عادوا پر ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ان کو دوبارہ بھی دنیا میں لوٹا دیا جائے تو پھر دنیا میں پہنچ کر یہی کہیں گے کہ ہم تو اس دنیا کی زندگی کے سوا کسی دوسری زندگی کو نہیں مانتے بس یہیں کی زندگی زندگی ہے، دوبارہ ہم کو زندہ نہیں کیا جائے گا۔- یہاں ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ جب قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کو اور پھر حساب کتاب و جزاء و سزاء کو آنکھوں سے دیکھ چکیں گے تو یہ کیسے ممکن ہوگا کہ پھر یہاں آکر اس کا انکار کردیں۔- جواب یہ ہے کہ انکار کرنے کے لئے یہ لازم نہیں ہے کہ واقع میں ان کو ان واقعات اور حقائق کا یقین نہ رہے، بلکہ جس طرح آج بہت سے کفار و مجرمین اسلامی حقائق کا پورا یقین رکھے ہوئے محض عناد سے انکار و تکذیب پر جمے ہوئے ہیں، اسی طرح یہ لوگ دنیا میں واپس آنے کے بعد قیام قیامت اور دوبارہ زندگی اور آخرت کے تمام حالات کا پورا یقین رکھنے کے باوجود محض شرارت اور عناد سے پھر تکذیب پر اتر آئیں گے جیسا کہ قرآن کریم نے اسی موجودہ زندگی میں بعض کفار کے متعلق ارشاد فرمایا ہے :- وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم ظلما وعلوا - ” یعنی یہ لوگ ہماری آیات کا انکار تو کر رہے ہیں مگر ان کے دلوں میں اس کے حق ہونے کا پورا یقین ہے “۔- جیسے یہود کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے لوگ اپنے بیٹوں کا پہچانا کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔- خلاصہ یہ ہے کہ خالق کائنات اپنے علم ازلی سے جانتے ہیں کہ ان لوگوں کا یہ کہنا کہ دوبارہ دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو مومن صالح ہوجائیں گے بالکل جھوٹ اور فریب ہے، اگر ان کے کہنے کے مطابق دوبارہ دنیا کو پیدا کرکے ان کو اس میں چھوڑ دیا جائے تو یہ پھر وہی سب کچھ کریں گے جو پہلی زندگی میں کیا تھا۔- تفسیر مظہری میں بحوالہ طبرانی یہ روایت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل ہے کہ حساب کتاب کے وقت حق تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کو میزان عدل کے پاس کھڑا کرکے فرما دیں گے کہ اپنی اولاد کے اعمال کا خود معائنہ کریں اور جس شخص کے اعمال صالحہ اس کے گناہوں سے ایک ذرہ بھی بڑھ جائیں تو اس کو آپ جنت میں پہنچا سکتے ہیں، اور حق تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ میں جہنم کے عذاب میں صرف اسی شخص کو داخل کروں گا، جس کے بارے میں میں جانتا ہوں، کہ وہ اگر دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے، تو پھر بھی وہی حرکتیں کرے گا جو پہلے کر گیا ہے۔

Al-An'aam 6:29Listen in Qur'an →
30

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ وُقِفُوا۟ عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ قَالَ أَلَيْسَ هَٰذَا بِٱلْحَقِّ ۚ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو

Explained together with ayah 29

Al-An'aam 6:30Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.