Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 121–130 of 165

121

وَلَا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسْقٌۭ ۗ وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَٰدِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ

اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے

Explained together with ayah 118

Al-An'aam 6:121Listen in Qur'an →
122

أَوَمَن كَانَ مَيْتًۭا فَأَحْيَيْنَٰهُ وَجَعَلْنَا لَهُۥ نُورًۭا يَمْشِى بِهِۦ فِى ٱلنَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُۥ فِى ٱلظُّلُمَٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍۢ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَٰفِرِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں

خلاصہ تفسیر - ایسا شخص جو کہ پہلے مردہ (یعنی گمراہ) تھا ہم نے اس کو زندہ (یعنی مسلمان) بنادیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور (یعنی ایمان) دے دیا کہ وہ اس کو لئے ہوئے آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے (یعنی ہر وقت وہ اس کے ساتھ رہتا ہے، جس سے وہ سب مضرتوں سے مثل گمراہی وغیرہ محفوظ اور مامون دبے فکر پھرتا ہے تو) کیا ایسا شخص (بدحالی میں) اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کی حالت یہ ہو کہ وہ (گمراہی کی) تاریکیوں میں (گھرا ہوا) ہے (اور) ان سے نکلنے ہی نہیں پاتا (مراد یہ کہ وہ مسلمان نہیں ہوا، اور اس کا تعجب نہ کیا جاوے کہ کفر پر باوجود اس کے ظلمت ہونے کے وہ کیوں قائم رہا، وجہ یہ کہ جس طرح مومنین کو ان کا ایمان اچھا معلوم ہوتا ہے) اسی طرح کافروں کو ان کے اعمال (کفر وغیرہ) مستحسن معلوم ہوا کرتے ہیں (چنانچہ اسی وجہ سے یہ روسائے مکہ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مہمل فرمائشیں اور شبہات و مجادلات پیش کرتے رہتے ہیں اپنے کفر کو مستحسن ہی سمجھ کر اس پر مصر ہیں) ۔ - معارف و مسائل - پچھلی آیتوں میں پہلے اس کا ذکر آیا تھا کہ مخالفین اسلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کے کھلے کھلے معجزات دیکھنے کے باوجود ضد اور ہٹ دھرمی سے نئے نئے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں، اس کے بعد قرآن نے بتلایا کہ اگر یہ لوگ واقعی حق طلب ہوتے تو جو معجزات ان کی آنکھوں کے سامنے آچکے ہیں وہ ان کو راہ حق دکھانے کے لئے کافی سے بھی زیادہ تھے، پھر ان معجزات کا بیان آیا۔- مذکورہ آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن پر ایمان لانے والوں اور کفر و انکار کرنے والوں کے کچھ حالات و خیالات اور دونوں کے نیک و بد انجام کا بیان اور مومن و کافر اور ایمان و کفر کی حقیقت کو مثالوں میں سمجھایا گیا ہے، مومن اور کافر کی مثال زندہ اور مردہ سے اور ایمان و کفر کی مثال روشنی اور اندھیرے سے دی گئی ہے، یہ قرآنی تمثیلات ہیں جن میں کوئی شاعری نہیں ایک حقیقت کا اظہار ہے۔- مومن زندہ ہے اور کافر مردہ - اس تمثیل میں مومن کو زندہ اور کافر کو مردہ بتلایا گیا ہے، وجہ یہ ہے کہ انسان اور حیوانات اور نباتات وغیرہ میں اگرچہ حیات اور زندگی کی قسمیں اور شکلیں مختلف ہیں، لیکن اتنی بات سے کوئی سمجھدار انسان انکار نہیں کرسکتا کہ ان میں سے ہر ایک کی زندگی کسی خاص مقصد کے لئے ہے، اور قدرت نے اس میں اس مقصد کو حاصل کرنے کی پوری اہلیت اور صلاحیت رکھی ہے، ارشاد قرآنی (آیت) اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی۔ میں اسی کا بیان ہے کہ اللہ جل شانہ نے کائنات عالم کی ہر چیز کو پیدا فرمایا اور اس کو جس مقصد کے لئے پیدا فرمایا تھا اس تک پہنچنے کی اس کو پوری ہدایت دیدی، جن کے ماتحت ہر مخلوق اپنے اپنے وظیفہ زندگی اور اپنی اپنی ڈیوٹی کا حق ادا کر رہی ہے، اس عالم میں زمین، پانی اور ہوا اور آگ، اسی طرح آسمانی مخلوقات اور چاند، سورج اور کل ستارے اپنی اپنی ڈیوٹی پوری طرح پہچان کر اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں، اور یہی اداء فرائض ان میں سے ہر چیز کی زندگی کا ثبوت ہے، اور جس وقت جس حال میں ان میں سے کوئی چیز اپنی ڈیوٹی ادا کرنا چھوڑ دے تو وہ زندہ نہیں بلکہ مردہ ہے، پانی اگر اپنا کام پیاس بجھا دینا اور میل کچیل دور کرنا وغیرہ چھوڑ دے تو وہ پانی نہیں کہلائے گا، آگ جلنا اور جلانا چھوڑ دے تو وہ آگ نہیں رہے گی، درخت اور گھاس اگنا اور بڑھنا پھر پھل پھول لانا چھوڑ دے تو وہ درخت اور نبات نہیں رہے گی، کیونکہ اس نے اپنے مقصد زندگی کو چھوڑ دیا، تو وہ ایک بےجان مردہ کی طرح ہوگئی۔- تمام کائنات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایک انسان جس میں کچھ عقل و شعور ہو اس بات پر غور کرنے کے لئے مجبور ہوگا کہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور اس کی ڈیوٹی کیا ہے، اور یہ کہ اگر وہ اپنے مقصد زندگی کو پورا کر رہا ہے، تو وہ زندہ کہلانے کا مستحق ہے، اور اس کو پورا نہیں کرتا …

Al-An'aam 6:122Listen in Qur'an →
123

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِى كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَٰبِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا۟ فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہیں کو ہے اور (اس سے) بےخبر ہیں

خلاصہ تفسیر - اور (یہ کوئی نئی بات نہیں، جس طرح مکہ کے روساء ان جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ان کے اثر سے دوسرے لوگ شامل ہوجاتے ہیں) اسی طرح ہم نے (پہلی امتوں میں بھی) ہر بستی میں وہاں کے رئیس ہی کو (اول) جرائم کا مرتکب بنایا، (پھر ان کے اثر سے اور عوام بھی ان سے مل گئے) تاکہ وہ لوگ وہاں (انبیاء کو ضرر پہنچانے کے لئے) شرارتیں کیا کریں، (جن سے ان کا مستحق سزا ہونا خوب ثابت ہوجاوے) اور وہ لوگ (گو اپنے خیال میں دوسروں کو ضرر پہنچاتے ہیں لیکن واقع میں) اپنے ہی ساتھ شرارت کر رہے ہیں (کیونکہ اس کا وبال تو انہی کو بھگتا پڑے گا) اور (غایت جہل سے) ان کو (اس کی) ذرا خبر نہیں اور (ان کفار مکہ کا جرم یہاں تک بڑھ گیا ہے کہ) جب ان کو کوئی آیت پہنچتی ہے تو (باوجود اس کے کہ وہ اپنے اعجاز کی وجہ سے دلالة علی النبوة میں کافی ہوتی، مگر یہ لوگ پھر بھی) یوں کہتے ہیں کہ ہم (ان نبی پر) ہرگز ایمان نہ لاویں گے، جب تک کہ ہم کو بھی ایسی ہی چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی جاتی ہے (یعنی وحی و خطاب یا صحیفہ و کتاب جس میں ہم کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا حکم ہو، اور اس قول کا جرم عظیم ہونا ظاہر ہے، کہ تکذیب اور عناد اور استکبار اور گستاخی سب اس کو جامع ہے، آگے اللہ تعالیٰ اس قول کو رد فرماتے ہیں کہ) اس موقع کو تو خدا ہی خوب چانتا ہے جہاں اپنا پیغام (وحی کے ذریعہ سے) بھیجتا ہے (کیا ہر کس و ناکس اس شرف کے قابل ہوگیا، ” تانجشد خدائے بخشدہ “ آگے اس جرم کی سزا کا بیان ہے کہ) عنقریب ان لوگوں کو جنہوں کے یہ جرم کیا ہے خدا کے پاس پہنچ کر (یعنی آخرت میں) ذلت پہنچے گی (جیسا انہوں نے اپنے کو نبی کا مقابلہ میں عزت و نبوت کا مستحق سمجھا تھا) اور سزائے سخت (ملے گی) ان کی شرارتوں کے مقابلہ میں سو (اوپر جو مومن و کافر کا حال مذکور ہے، اس سے یہ معلوم ہوا کہ) جس شخص کو اللہ تعالیٰ (نجات کے) راستہ پر ڈالنا چاہتے ہیں اس کے سینہ ( یعنی قلب) کو اسلام (کے قبول کرنے) کے لئے کشادہ کردیتے ہیں (کہ اس کے قبول کرنے میں پس و پیش نہیں کرتا اور وہ نور مذکور یہی ہے) اور جس کو (تکویناً و تقدیراً ) بےراہ رکھنا چاہتے ہیں اس کے سینہ (یعنی قلب) کو (اسلام کے قبول کرنے سے) تنگ (اور) بہت تنگ کردیتے ہیں (اور اس کو اسلام لانا ایسا مصیبت نظر آتا ہے) جیسے کوئی (فرض کرو) آسمان میں چڑھنا چاہتا ہو (اور چڑھا نہیں جاتا اور جی تنگ ہوتا ہے اور مصیبت کا سامنا ہوتا ہے، پس جیسا اس شخص سے چڑھا نہیں جاتا) اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر (چونکہ ان کے کفر اور شرارت کے سبب) پھٹکار ڈالتا ہے (اس لئے ان سے ایمان نہیں لایا جاتا) ۔- معارف و مسائل - پچھلی آیت کے آخر میں یہ ذکر تھا کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے، یہاں جس طرح اچھے اور نیک اعمال کے ساتھ کچھ محنت و مشقت لگی ہوئی ہے ان کی راہ میں یہاں رکاوٹیں پیش آتی ہیں اسی طرح برے اعمال کے ساتھ چند روزہ نفسانی لذات اور خواہشات کا ایک فریب ہوتا ہے جو حقیقت اور انجام سے غافل انسان کی نظر میں ان برے اعمال ہی کو مزین کردیتا ہے، اور دنیا کے بڑے بڑے ہوشیار اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔- آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں اس کا بیان ہے کہ اسی امتحان اور آزمائش کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ابتداء عالم سے یوں ہی ہوتا چلا آیا ہے کہ ہر بستی کے رئیس و مالدار اور بڑے لوگ ہی حقیقت اور انجام سے غافل چند روز کی فانی لذتوں میں مست ہو کر جرائم کے مرتکب ہوا کرتے ہیں، اور عوام کی عادت یہ ہوتی ہے کہ بڑے لوگوں کے پیچھے چلنے اور ان کی نقل اتارنے ہی کو اپنی سعادت اور کامیابی سمجھتے ہیں، اور انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے نائب علماء و مشائخ جو ان کو ان کے برے اعمال سے روکنا اور اس کے انجام کی طرف متوجہ کرتا چاہتے ہیں، یہ بڑے لوگ ان کے خلاف طرح طرح کی شرارتیں اور سازشیں اور ان کی دل …

Al-An'aam 6:123Listen in Qur'an →
124

وَإِذَا جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌۭ قَالُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَآ أُوتِىَ رُسُلُ ٱللَّهِ ۘ ٱللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُۥ ۗ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ صَغَارٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعَذَابٌۭ شَدِيدٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَمْكُرُونَ

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے

دوسری آیت میں انہی قریشی سرداروں کی ایک ایسی گفتگو کا ذکر ہے جو حق کے مقابلہ میں محض ہٹ دھرمی اور استہزاء و تمسخر کے انداز میں تھی، پھر اس کا جواب دیا گیا۔- امام بغوی رحمة اللہ علیہ نے بروایت قتادہ نقل کیا ہے کہ قریش کے سب سے بڑے سردار ابوجہل نے ایک مرتبہ کہا کہ بنو عبد مناف (یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خاندان) سے ہم نے ہر محاذ پر مقابلہ کیا، جس میں کبھی ہم ان سے پیچھے نہیں رہے، لیکن اب وہ یوں کہتے ہیں کہ تم شرافت و بزرگی میں ہمارا مقابلہ اس لئے نہیں کرسکتے کہ ہمارے خاندان میں ایک نبی آئے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے، پھر کہا کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ ہم کبھی ان کا اتباع نہ کریں گے، جب تک خود ہمارے پاس ایسی ہی وحی نہ آنے لگے، جیسی ان کے پاس آتی ہے، آیت مذکورہ میں (آیت) وَاِذَا جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤ ْمِنَ حَتّٰي نُؤ ْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ کا یہی مطلب ہے۔- نبوت و رسالت کسبی اور اختیاری نہیں، بلکہ ایک عہدہ ہے، جس کے عطا کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے - قرآن کریم نے یہ قول نقل کرنے کے بعد جواب دیا : (آیت) اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ، یعنی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت و نبوت کس کو عطا فرمائے، مطلب یہ ہے کہ اس بیوقوف نے اپنی جہالت سے یہ سمجھ رکھا ہے کہ نبوت اور پیغمبری خاندانی شرافت یا قوم کی سرداری اور مالداری کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے، حالانکہ نبوت اللہ تعالیٰ کی خلافت کا عہدہ ہے، جس کا حاصل کرنا کسی کے اختیار میں نہیں، کتنے ہی کمالات حاصل کرلینے کے بعد بھی کوئی اپنے اختیار سے یا کمال کے زور سے نبوت و رسالت حاصل نہیں کرسکتا وہ خالص عطائے حق جل شانہ ہے، وہ جس کو چاہتے ہیں عطا فرما دیتے ہیں۔- اس سے ثابت ہوا کہ رسالت و نبوت کوئی کسبی اور اختیاری چیز نہیں جس کو علمی، عملی کمالات یا مجاہدہ و ریاضت وغیرہ کے ذریعہ حاصل کیا جاسکے، کوئی شخص مقامات ولایت میں کتنی ہی اونچی پرواز کرکے بھی نبوت حاصل نہیں کرسکتا، بلکہ وہ محض فضل خداوندی ہے جو خداوندی علم و حکمت کے ماتحت خاص بندوں کو دیا جاتا ہے یاں یہ ضروری ہے کہ جس شخص کو حق تعالیٰ کے علم میں یہ مقام اور عہدہ دینا منظور ہوتا ہے اس کو شروع ہی سے اس کے قابل بنا کر پیدا کیا جاتا ہے اس کے اخلاق و اعمال کی خاص تربیت کی جاتی ہے۔- آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) ۭسَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ ، اس میں لفظ صغار، حاصل مصدر ہے جس کے معنی ہیں ذلت و رسوائی، معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ یہ حق کے مخالف جو آج اپنی قوم میں بڑے اور رئیس کہلاتے ہیں عنقریب ان کی بڑائی اور عزت خاک میں ملنے والی ہے، ان کو اللہ تعالیٰ کے پاس سخت ذلت و رسوائی پہنچنے والی ہے، اور سخت عذاب ہونے والا ہے۔- اللہ کے پاس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قیامت کے روز جب یہ اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو ذلیل و خوار ہو کر حاضر ہوں گے، اور پھر ان کو سخت عذاب دیا جائے گا، اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اگرچہ اس وقت ظاہر میں یہ بڑے عزت دار رئیس ہیں لیکن اللہ کی طرف سے ان کو سخت ذلت و رسوائی پہنچنے والی ہے، وہ دنیا میں بھی ہوسکتی ہے اور آخرت میں بھی، جیسا کہ انبیاء (علیہم السلام) کے مخالفین کے متعلق دنیا کی تاریخ میں اس کا مشاہدہ ہوتا رہا ہے، کہ انجام کار ان کے مخالفین دنیا میں بھی ذلیل ہوئے، ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بڑے بڑے مخالفین جو اپنی عزت کی ڈینگ مارا کرتے تھے، ایک ایک کرکے یا تو دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے، اور جو نہ ہوئے تو ذلیل و خوار ہو کر ہلاک ہوئے، ابوجہل، ابولہب وغیرہ قریشی سرداروں کا حال دنیا کے سامنے آ گیا، اور فتح مکہ نے ان سب کی کمریں توڑ …

Al-An'aam 6:124Listen in Qur'an →
125

فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهْدِيَهُۥ يَشْرَحْ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَٰمِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُۥ يَجْعَلْ صَدْرَهُۥ ضَيِّقًا حَرَجًۭا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى ٱلسَّمَآءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ ٱللَّهُ ٱلرِّجْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے

دین میں شرح صدر اور اس کی علامات - تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پانے والوں اور گمراہی پر جمے رہنے والوں کے کچھ حالات اور علامات بتلائی گئی ہیں، ارشاد فرمایا : فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ” یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتے ہیں اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتے ہیں “۔ - حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شرح صدر یعنی سینہ اسلام کے لئے کھول دینے کی تفسیر دریافت کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومن کے دل میں ایک روشنی ڈال دیتے ہیں، جس سے اس کا دل حق بات کو دیکھنے سمجھنے اور قبول کرنے کے لئے کھل جاتا ہے (حق بات کو آسانی سے قبول کرنے لگتا ہے اور خلاف حق سے نفرت اور وحشت ہونے لگتی ہے) صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے جس سے وہ شخص پہچانا جائے جس کو شرح صدر حاصل ہوگیا ہے ؟ فرمایا کہ ہاں علامت ہے کہ اس شخص کی ساری رغبت آخرت اور اس کی نعمتوں کی طرف ہوجاتی ہے، دنیا کی بےجا خواہشات اور فانی لذتوں سے گھبراتا ہے، اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری کرنے لگتا ہے، پھر فرمایا وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّهٗ يَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاۗءِ ۭ، یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ گمراہی میں رکھنا چاہتے ہیں اس کا دل تنگ اور سخت تنگ کردیتے ہیں، اس کو حق بات کا قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا ایسا دشوار ہوتا ہے جیسے کسی انسان کا آسمان میں چڑھنا۔- امام تفسیر کلبی نے فرمایا کہ ” اس کا دل تنگ ہونے کا مطلب ہے کہ اس میں حق اور بھلائی کے لئے کوئی راستہ نہیں رہتا “۔ یہ مضمون حضرت فاروق اعظم (رض) سے بھی منقول ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ جب وہ اللہ کا ذکر سنتا ہے تو اس کو وحشت ہونے لگتی ہے، اور جب کفر و شرک کی باتیں سنتا ہے تو ان میں دل لگتا ہے۔- صحابہ کرام کو دین میں شرح صدر حاصل تھا اس لئے شکوک و شبہات بہت کم پیش آئے - یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کو حق تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اور بلا واسطہ شاگردی کے لئے منتخب فرمایا تھا ان کو اسلامی احکام میں شبہات اور وساوس کم سے کم پیش آئے، ساری عمر میں صحابہ کرام نے جو سوالات رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کئے گئے وہ گنے چنے چند ہیں، وجہ یہ تھی کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیض صحبت سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت کا گہرا نقش ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا، جس کے سبب ان کو شرح صدر کا مقام حاصل تھا ان کے قلوب خود بخود حق و باطل کا معیاد بن گئے تھے، حق کو آسانی کے ساتھ فوراً قبول کرتے اور باطل ان کے دلوں میں راہ نہ پاتا تھا، پھر جوں جوں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک سے دوری ہوتی چلی گئی، شکوک و شبہات نے راہ پانی شروع کی، عقائد کے اختلافات پیدا ہونے شروع ہوئے۔- شکوک و شبہات کے دور کرنے کا اصلی طریقہ بحث و مباحثہ نہیں شرح صدر کی تحصیل ہے - اور آج پوری دنیا شکوک و شبہات کے گھیرے میں پھنسی ہوئی ہے، اور بحث و مباحثہ کی راہ سے اس کو حل کرنا چاہتی ہے جو اس کا صحیح راستہ نہیں - فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں ڈور کو سلجھا رہا ہے پر سرا ملتا نہیں - راستہ وہی ہے جو صحابہ کرام اور اسلاف امت نے اختیار فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور ان کے انعام کا استحضار کرکے اس کی عظمت و محبت دل میں پیدا کی جائے، تو شبہات خودبخود کافور ہوجاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خود قرآن کریم نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ دعا مانگنے کی …

Al-An'aam 6:125Listen in Qur'an →
126

وَهَٰذَا صِرَٰطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًۭا ۗ قَدْ فَصَّلْنَا ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَذَّكَّرُونَ

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں

خلاصہ تفسیر - اور (اوپر جو اسلام کا ذکر ہے تو) یہی (اسلام) تیرے رب کا (بتلایا ہوا) سیدھا راستہ ہے (جس پر چلنے سے نجات ہوتی ہے، جس کا ذکر (آیت) فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ ، میں ہے، اور اسی صراط مستقیم کی توضیح کے لئے) ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کے واسطے ان آیتوں کو صاف صاف بیان کردیا ہے، (جس سے وہ اس کے اعجاز سے اس کی تصدیق کریں اور پھر اس کے مضامین پر عمل کرکے نجات حاصل کریں، یہی تصدیق و عمل صراط مستقیم کامل ہے، بخلاف ان کے جن کو نصیحت حاصل کرنے کی فکر ہی نہیں ان کے واسطے نہ یہ کافی نہ دوسرے دلائل کافی، آگے ان ماننے والوں کی جزاء کا ذکر ہے، جیسا نہ ماننے والوں کی سزا اوپر کئی جملوں میں مذکور ہے پس ارشاد ہے کہ) ان لوگوں کے واسطے ان کے رب کے پاس (پہنچ کر) سلامتی (یعنی امن وبقاء) کا گھر (یعنی جنت) ہے اور اللہ ان سے محبت رکھتا ہے، ان کے اعمال (حسنہ) کی وجہ سے اور (وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے) جس روز اللہ تعالیٰ تمام خلائق کو جمع کریں گے (اور ان میں سے بالخصوص کفار کو حاضر کرکے ان میں جو شیاطین الجن ہیں ان سے تو بیخاً کہا جاوے گا کہ) اے جماعت جنات کی تم نے انسانوں (کے گمراہ کرنے) میں بڑا حصہ لیا (اور ان کو خوب بہکایا یا اسی طرح انسانوں سے پوچھا جاوے گا (آیت) الم اعھد الیکم یبنی ادم ان لا تعبدوا الشیطن الخ۔ غرض شیاطین الجن بھی اقرار کریں گے) اور جو انسان ان (شیاطین جن) کے ساتھ تعلق رکھنے والے تھے وہ (بھی اقراراً کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار آپ صحیح فرماتے ہیں واقعی) ہم میں ایک نے دوسرے سے (اس ضلال واضلال کے باب میں نفسانی) فائدہ حاصل کیا تھا (چنانچہ گمراہ انسانوں کو اپنے عقائد کفریہ و شرکیہ میں لذت آتی ہے اور گمراہ کنندہ شیاطین کو اس سے حظ ہوتا ہے کہ ہمارا کہنا چل گیا) اور (فی الحقیقت ہم ان کے بہکانے سے قیامت کے منکر تھے، لیکن وہ انکار غلط ثابت ہوا، چنانچہ) ہم اپنی اس معیّن میعاد تک آپہنچے جو آپ نے ہمارے لئے معیّن فرمائی، (یعنی قیامت آگئی) اللہ تعالیٰ (سب کفار جن وانس سے) فرماویں گے کہ تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہو گے، (کوئی نکلنے کی سبیل و تدبیر نہیں) ہاں، اگر خدا ہی کو (نکالنا) منظور ہو تو دوسری بات ہے (لیکن یہ یقینی ہے کہ خدا بھی نہیں چاہے گا اس لئے ہمیشہ رہا کرو) بیشک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رب بڑی حکمت والا اور بڑا علم والا ہے (علم سے سب کے جرائم معلوم کرتا ہے اور حکمت سے مناسب سزا دیتا ہے) ۔- معارف و مسائل - مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا (آیت) وَھٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِـيْمًا، ” یعنی یہ راستہ تیرے رب کا ہے سیدھا “۔ اس میں لفظ ھذٰا سے بقول ابن مسعود (رض) قرآن کی طرف اور بقول ابن عباس (رض) اسلام کی طرف اشارہ ہے (روح) معنی یہ ہیں کہ یہ قرآن یا شریعت اسلام جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی گئی ہے، یہ راستہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کا ہے، یعنی ایسا راستہ ہے جس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پروردگار نے اپنی حکمت بالغہ سے تجویز فرمایا اور اس کو پسند کیا ہے، اس میں راستہ کی اضافت و نسبت پروردگار کی طرف کرکے اس طرف اشارہ فرمایا کہ قرآن اور اسلام کا جو دستور العمل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا ہے اس پر عمل کرنا کچھ اللہ تعالیٰ کے فائدہ کے لئے نہیں بلکہ عمل کرنے والوں کے فائدہ کے لئے شان پروردگاری کے تقاضہ کی بنا پر ہے اس کے ذریعہ انسان کی ایسی تربیت کرنا مقصود ہے جو اس کی دائمی فلاح و بہبود کی ضامن ہو۔ - پھر اس میں لفظ رب کی نسبت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کرکے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک خاص لفط و عنایت کا اظہار فرمایا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پروردگار نے یہ راستہ …

Al-An'aam 6:126Listen in Qur'an →
127

۞ لَهُمْ دَارُ ٱلسَّلَٰمِ عِندَ رَبِّهِمْ ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوستدار ہے

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) لَهُمْ دَار السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ یعنی جن لوگوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ وہ قرآنی ہدایتوں کو خالی الذہن ہو کر نصیحت حاصل کرنے کے لئے دیکھتے اور سنتے ہیں، اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ان ہدایتوں کو قبول کرتے ہیں، ان کے لئے ان کے رب کے پاس دار السلام کا انعام موجود اور محفوظ ہے، اس میں لفظ دار کے معنی گھر اور سلام کے معنی تمام آفتوں، مصیبتوں اور محنتوں سے سلامتی کے ہیں، اس لئے دار السلام اس گھر کو کہا جاسکتا ہے جس میں کسی تکلیف و مشقت اور رنج و غم اور آفت و مصیبت کا گزر نہ ہو، اور وہ ظاہر ہے کہ جنت ہی ہو سکتی ہے۔- اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ سلام اللہ جل شانہ کا نام ہے، اور دار السلام کے معنی ہیں اللہ کا گھر اور ظاہر ہے کہ اللہ کا گھر امن و سلامتی کی جگہ ہوتی ہے، اس لئے حاصل معنی پھر بھی یہی ہوگئے کہ وہ گھر جس میں ہر طرح کا امن و سکون اور سلامتی و اطمینان ہو، جنت کو دار السلام فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ جنت ہی صرف وہ جگہ ہے جہاں انسان کو ہر قسم کی تکلیف، پریشانی اور اذیت اور ہر خلاف طبع چیز سے مکمل اور دائمی سلامتی حاصل ہوتی ہے جو دنیا میں نہ کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو کبھی حاصل ہوئی اور نہ بڑے سے بڑے نبی و رسول کو، کیونکہ دنیائے فانی کا یہ عالم ایسی مکمل اور دائمی راحت کا مقام ہی نہیں۔- اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ان نیک بخت لوگوں کے لئے ان کے رب کے پاس دار السلام ہے، رب کے پاس ہونے کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ دار السلام یہاں نقد نہیں ملتا بلکہ جب وہ قیامت کے روز اپنے رب کے پاس جائیں گے اس وقت ملے گا، اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ دار السلام کا وعدہ غلط نہیں ہوسکتا، رب کریم اس کا ضامن ہے وہ اس کے پاس محفوظ ہے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس دار السلام کی نعمتوں اور راحتوں کو آج کوئی تصور میں بھی نہیں لاسکتا، رب ہی جانتا ہے، جس کے پاس یہ خزانہ محفوظ ہے۔- اور اس دوسرے معنی کی رو سے اس دار السلام کا ملنا قیامت اور آخرت پر موقوف نہیں معلوم ہوتا، بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رب کریم جس کو چاہیں اسی عالم میں دار السلام نصیب کرسکتے ہیں، کہ تمام آفات اور مصائب سے امن نصیب فرما دیں، خواہ اس طرح کہ دنیا میں کوئی آفت و مصیبت ہی ان کو نہ پہنچے جیسا کہ انبیائے سابقین اور اولیاء اللہ میں اس کی بھی نظائر موجود ہیں، اور یا اس طرح کہ نعمائے آخرت کو ان کے سامنے مستحضر کرکے ان کی نگاہ کو ایسا حقیقت شناس بنادیا گیا جس سے دنیا کی چند روزہ تکلیف و مصیبت ان کی نظروں میں حقیر ناقابل التفات چیز نظر آنے لگتی ہے، مصائب کے پہاڑ بھی ان کے سامنے پرکاہ سے کم رہ جاتے ہیں - رنج راحت شد چو مطلب شدبزرگ گرد گلہ تو تیائے چشم گرگ - دنیا کی تکالیف کے بالمقابل جو انعامات ملنے والے ہیں وہ ان کے سامنے ایسے مستحضر ہوجاتے ہیں کہ یہ تکالیف بھی ان کو لذیز معلوم ہونے لگتی ہیں، اور یہ کوئی مستعبد نہیں، دیکھو آخرت کی دائمی نعمتیں تو بڑی چیز ہیں، یہ دنیا کی فانی اور چند روزہ راحت کا تصور انسان کے لئے کیسی کیسی محنت و مشقت کو لذیز بنا دیتا ہے، کہ سفارشیں اور رشوتیں پیش کرکے آزادی کی راحت کو قربان کرتا ہے، اور نیند و آرام کو ختم کرنے والی ملازمت و مزدوری کی محنت کو شوق سے طلب کرتا ہے، اور اس محنت کے مل جانے پر مسرور و شکر گزار ہوتا ہے، کیونکہ اس کے سامنے اکتیس دن پورے ہوجانے کے بعد حاصل ہونے والی تنخواہ کی لذت ہوتی ہے، وہ لذت اس ملازمت و مزدوری کی سب تلخیوں کو لذیز بنا دیتی ہے، قرآن کریم کی (آیت) ولمن خاف مقام ربہ جنتٰن۔ کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ سے ڈرنے والوں کو دو جنتیں ملیں گی، ایک آخرت میں دوسری دنیا میں، دنیا کی جنت یہی ہوتی ہے کہ اول تو اس کے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہوتی ہے، ہر کام آسان ہوتا …

Al-An'aam 6:127Listen in Qur'an →
128

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ قَدِ ٱسْتَكْثَرْتُم مِّنَ ٱلْإِنسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ ٱلْإِنسِ رَبَّنَا ٱسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍۢ وَبَلَغْنَآ أَجَلَنَا ٱلَّذِىٓ أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ ٱلنَّارُ مَثْوَىٰكُمْ خَٰلِدِينَ فِيهَآ إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور جس دن وہ سب (جنّ وانس) کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جنّات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے تو جو انسانوں میں ان کے دوستدار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے

تیسری آیت میں میدان حشر کے اندر تمام جنات اور انسانوں کو جمع کرنے کے بعد دونوں گروہوں سے ایک سوال و جواب کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ شیاطین الجن کو خطاب کرکے ان کے جرم کا اظہار اس طرح فرمائیں گے کہ تم نے انسانوں کی گمراہی میں بڑا حصہ لیا ہے، اس کے جواب میں جنات کیا کہیں گے قرآن نے اس کا ذکر نہیں کیا، ظاہر یہی ہے کہ علیم وخبیر کے سامنے اقرار کرنے کے سوا چارہ کیا ہے، مگر ان کا اقرار ذکر نہ کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ اس سوال پر وہ ایسے مبہوت ہوجائیں گے کہ جواب کیلئے زبان نہ اٹھ سکے گی (روح) ۔- اس کے بعد شیاطین الانس یعنی وہ لوگ جو دنیا میں شیطانوں کے تابع رہے خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنتے رہے ان لوگوں کی طرف سے بارگاہ احکم الحاکمین میں ایک جواب ذکر کیا گیا ہے، اگرچہ سوال شیاطین الانس سے نہیں کیا گیا، مگر ضمنی طور پر گویا وہ بھی مخاطب تھے، کیوں کہ انہوں نے بھی گمراہی پھیلانے کا وہی کام کیا تھا، جو شیاطین الجن کا کام تھا، اس ضمنی خطاب کی وجہ سے ان لوگوں نے جواب دیا، مگر ظاہر یہ ہے کہ خود انسان نما شیطانوں سے بھی سوال ہوگا، جس کا ذکر صراحةً اگرچہ یہاں نہیں ہے، مگر سورة یٰسین کی اس آیت میں مذکور ہے :) (آیت) الم اعھد الیکم یٰبنی ادم ان لا تعبدوا الشیطٰن، ” یعنی اے بنی آدم کیا ہم نے تم سے رسولوں کے واسطے سے یہ نہ کہا تھا کہ شیطان کی پیروی نہ کرنا “۔ - جس سے معلوم ہوا کہ انسانی شیطانوں سے بھی اس موقع پر سوال ہوگا اور وہ جواب میں اقرار کریں گے کہ بیشک ہم سے یہ جرم سرزد ہوا کہ ہم نے شیطانوں کی بات مانی اور یہ کہیں گے کہ بیشک جنی شیاطین نے ہم سے اور ہم نے ان سے دوستانہ تعلقات رکھ کر ایک دوسرے سے نفع حاصل کیا، انسانی شیطانوں نے تو ان سے یہ فائدہ حاصل کیا کہ دنیا کی لذتیں حاصل کرنے کی راہیں سیکھیں، اور کہیں کہیں جنات شیاطین کی دہائی دے کر یا کسی دوسرے طریق سے ان سے امداد بھی حاصل کی، جیسے بت پرست ہندوؤں میں بلکہ بہت سے جاہل مسلمانوں میں بھی ایسے طریقے معروف ہیں جن کے ذریعہ شیاطین اور جنات سے بعض کاموں میں امداد لے سکتے ہیں، اور جنی شیطانوں نے انسانوں سے یہ فائدہ حاصل کیا کہ ان کی بات مانی گئی، اور یہ انسان کو اپنے تابع بنانے میں کامیاب ہوگئے، یہاں تک کہ وہ موت اور آخرت کو بھول بیٹھے، اور اس وقت ان لوگوں نے اقرار کیا کہ جس موت اور آخرت کو ہم شیطان کے بہکانے سے بھول بیٹھے تھے اب وہ سامنے آگئی، اس پر حق تعالیٰ کا ارشاد ہوگا : (آیت) النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ ” یعنی تم دونوں گروہوں کے جرم کی سزا اب یہ ہے کہ تمہارا ٹھکانا آگ ہے، جس میں ہمیشہ رہو گے، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی اس سے کسی کو نکالنا چاہے “ لیکن دوسری نصوص میں قرآن شاہد ہے کہ الہ بھی نہیں چاہے گا اس لیے ہمیشہ ہی رہنا پڑے گا۔

Al-An'aam 6:128Listen in Qur'an →
129

وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّى بَعْضَ ٱلظَّٰلِمِينَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں

خلاصہ تفسیر - اور (جس طرح دنیا میں گمراہی کے لحاظ سے سب میں تعلق و قرب تھا) اسی طرح (دوزخ میں) بعض کفار کو بعض کے قریب (اور مجتمع) رکھیں گے ان کے اعمال (کفریہ) کے سبب (یہ خطاب مذکور تو جن و انس کو باعتبار ان کے احوال متعلقہ باہم دگر کے تھا، آگے ہر ایک کو باعتبار احوال متعلقہ بذات خاص کے خطاب ہے کہ) اے جماعت جنات اور انسانوں کی (ہاں یہ تو بتلاؤ جو تم کفر و انکار کرتے رہے تو) کیا تمہارے پاس تم ہی میں کے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم سے میرے احکام (متعلق عقائد و اعمال کے) بیان کیا کرتے تھے اور تم کو اس آج کے دن (کے وقوع) کی خبر دیا کرتے تھے (پھر کیا وجہ کہ تم کفر و انکار سے باز نہ آئے) وہ سب عرض کریں گے کہ ہم سب اپنے اوپر (جرم کا) اقرار کرتے ہیں (ہمارے پاس کوئی وجہ عذر اور براءت کی نہیں، آگے اللہ تعالیٰ ان کو اس مصیبت کے پیش آنے کا سبب بتلاتے ہیں) اور ان کو (یہاں) دنیوی زندگانی نے بھول میں ڈال رکھا ہے (کہ دنیوی لذات کو مقصود اعظم سمجھ رکھا ہے آخرت کی فکر ہی نہیں) اور (اس کا ثمرہ یہ ہوا کہ وہاں) یہ لوگ مقر ہوں گے کہ وہ (یعنی ہم) کافر تھے (اور غلطی پر تھے، مگر وہاں کے اقرار سے کیا ہوتا ہے، اگر دنیا میں ذرا غفلت دور کردیں تو اس روز بد کا کیوں سامنا ہو، آگے رسولوں کے بھیجنے میں جس کا اوپر ذکر تھا اپنی رحمت کا اظہار فرماتے ہیں کہ) یہ (رسولوں کا بھیجنا) اسی وجہ سے ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رب کسی بستی والوں کو (ان کے) کفر کے سبب (دنیا میں بھی) ایسی حالت میں ہلاک نہیں کرتا کہ اس بستی کے رہنے والے (احکامِ الٓہیہ سے بوجہ رسولوں کے نہ آنے کے) بنجر ہوں (پس عذاب آخرت کہ اشد ہے بدرجہ اولیٰ نہ ہوتا، اس لئے رسولوں کو بھیجتے ہیں تاکہ ان کو جرائم کی اطلاع ہوجاوے پھر جس کو عذاب ہو استحقاق کی وجہ سے ہو، چناچہ آگے فرماتے ہیں) اور (جب رسول آگئے اور اطلاع ہوگئی پھر جیسا جیسا کوئی کرے گا) ہر ایک کیلئے (جن و انس صالح و طالح میں سے جزاء و سزاء کے ویسے ہی) درجے ملیں گے ان کے اعمال کے سبب اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رب ان کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے۔- معارف و مسائل - مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں لفظ نُوَلِّيْ کے عربی لغت کے اعتبار سے دو ترجمے ہو سکتے ہیں، ایک ملا دینے اور قریب کردینے کے اور دوسرے مسلط کردینے کے، ائمہ تفسیر صحابہ وتابعین سے بھی دونوں طرح کی روایات میں اس کی تفسیر منقول ہے۔- محشر میں لوگوں کی جماعتیں اعمال و اخلاق کی بنیاد پر ہوں گی، دنیوی تعلقات کی بنیاد پر نہیں - حضرت سعید بن جبیر رحمة اللہ علیہ اور قتادہ رحمة اللہ علیہ وغیرہ نے پہلا ترجمہ اختیار کرکے آیت کا یہ مطلب قرار دیا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے یہاں اجتماعی و حدتیں یعنی لوگوں کی جماعتیں اور پارٹیاں نسلی یا وطنی یا رنگ و زبان کی بناء پر نہیں بلکہ اعمال و اخلاق کے اعتبار سے ہوں گی، اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار مسلمان جہاں کہیں ہوگا وہ مسلمانوں کا ساتھی ہوگا، اور نافرمان کافر جہاں کہیں ہوگا وہ کافروں کا ساتھی ہوگا، خواہ ان کی نسل اور نسب میں، وطن اور زبان میں، رنگ اور معاشرت میں کتنا ہی بعد اور اختلاف ہو۔ - پھر مسلمانوں میں بھی نیک، دیندار، دینداروں کے ساتھ ہوگا، اور گناہگار، بدکردار، بدکرداروں کے ساتھ لگا دیا جائے گا۔ سورة کورت میں جو ارشاد ہے (آیت) واذا النفوس زوجت، یعنی لوگوں کے جوڑ اور جماعتیں بنادی جائیں گی، اس کا مطلب یہ ہے کہ اعمال و اخلاق کے اعتبار سے اہل محشر مختلف جماعتوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔- حضرت فاروق اعظم (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ” ایک قسم کے اعمال نیک یا بد کرنے والے ایک ساتھ کردیئے جائیں گے، نیک آدمی نیکوں کے ساتھ جنت میں، اور بد کردار کو دوسرے بدکرداروں کے ساتھ جہنم میں پہنچا دیا جائے گا “۔ اور اس مضمون کی توثیق کے لئے فاروق اعظم (رض) …

Al-An'aam 6:129Listen in Qur'an →
130

يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌۭ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِى وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا ۚ قَالُوا۟ شَهِدْنَا عَلَىٰٓ أَنفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰفِرِينَ

اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے

دوسری آیت میں ایک سوال و جواب کا ذکر ہے جو محشر میں جنات اور انسانوں کو مخاطب کرکے کیا جائے گا، کہ تم جو کفر اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا ہوئے اس کا کیا سبب ہے ؟ کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں پہنچے جو تمہاری قوم میں سے تھے، جو میری آیات تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور آج کے دن کی حاضری اور حساب سے ڈراتے تھے ؟ اس کے جواب میں ان سب کی طرف سے رسولوں کے آنے اور پیغام حق سنانے کا اور اس کے باوجود کفر و نافرمانی میں مبتلا ہونے کا اقرار ذکر کیا گیا ہے، اور ان کی طرف سے کوئی وجہ اور سبب اس غلط کاری کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ حق تعالیٰ نے ہی اس کی وجہ یہ بتلائی ہے کہ (آیت) وَغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا یعنی ان لوگوں کو دنیا کی زندگی اور لذتوں نے دھوکہ میں ڈال دیا، کہ وہ اسی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے جو درحقیقت کچھ نہ تھا، اور انجام و عاقیت سے غافل ہوگئے، بقول اکبر مرحوم - تھی فقط غفلت ہی غفلت، عیش کا دن کچھ نہ تھا - ہم اسے سب کچھ سمجھتے تھے وہ لیکن کچھ نہ تھا - اس آیت میں ایک بات تو یہ قابل غور ہے کہ بعض دوسری آیات میں تو یہ مذکور ہے کہ مشرکین سے جب محشر میں ان کے کفر و شرک کے متعلق سوال ہوگا تو وہ اپنے جرم سے مکر جائیں گے، اور رب الارباب کے دربار میں قسم کھا کر یہ جھوٹ بولیں گے کہ (آیت) واللّٰہ ربنا ما کنا مشرکین، ” یعنی قسم ہے ہمارے پروردگار اللہ تعالیٰ کی ہم مشرک ہرگز نہ تھے “۔ اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے کفر و شرک کا ندامت کے ساتھ اقرار کرلیں گے، ان دونوں میں بظاہر تعارض اور اختلاف معلوم ہوتا ہے، مگر دوسری آیات میں اس کی تشریح و توضیح اس طرح موجود ہے کہ ابتداء میں جب ان سے سوال ہوگا تو مکر جائیں گے، مگر اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے ان کی زبانیں بند کردیں گے، ہاتھوں، پیروں اور دوسرے اعضاء سے گواہی لیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے ان کو گویائی عطا ہوگی، اور وہ صاف صاف اس کے اعمال کا کچا چٹھا بیان کر دینگے اور اس وقت جن و انس کو یہ معلوم ہوگا کہ ہمارے ہاتھ پاؤں اور کان اور زبان سب قدرت کے کارخانہ کی خفیہ پولیس کے افراد تھے۔ جنہوں نے سارے معاملات اور حالات کی سچی اور صحیح شہادت دیدی، تو اب ان کو انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہ رہے گی، اس وقت یہ سب لوگ صاف صاف اعتراف جرم کرلیں گے۔- کیا جنّات میں بھی رسول ہوتے ہیں - دوسری بات اس جگہ قابل غور یہ ہے کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے جنّات اور انسانوں کی دونوں جماعتوں کو خطاب کرکے فرمایا ہے کہ کیا ہمارے رسول تمہارے پاس نہیں پہنچے جو تمہاری ہی قوم سے تھے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح انسانوں کے رسول انسان اور بشر بھیجے گئے ہیں اسی طرح جنّات کے رسول جنّات کی قوم سے بھیجے گئے ہیں۔- اس مسئلہ میں علماء تفسیر و حدیث کے اقوال مختلف ہیں بعض کا کہنا یہ ہے کہ رسول اور نبی صرف انسان ہی ہوئے اور ہوتے چلے آئے ہیں، جنّات کی قوم میں سے کوئی شخص رسول بلا واسطہ نہیں ہوا، بلکہ ایسا ہوا ہے کہ انسانی رسول اور پیغمبر کا کلام اپنی قوم کو پہنچانے کے لئے جنّات کی قوم میں کچھ لوگ ہوئے ہیں جو درحقیقت رسولوں کے قاصد اور پیغمبر ہوتے تھے، مجازی طور پر ان کو بھی رسول کہہ دیا جاتا ہے، ان حضرات کا استدلال قرآن مجید کی ان آیات سے ہے جن میں جنّات کے ایسے اقوال مذکور ہیں کہ انہوں نے نبی کا کلام یا قرآن سن کر اپنی قوم کو پہنچایا، (آیت) مثلاً ولوا الی قومھم منذرین، اور سورة جن کی (آیت) فقالوا انا سمعنا قرانا عجبا یھدی الی الرشد فامنا بہ، وغیرہ۔ لیکن ایک جماعت علماء اس آیت کے ظاہری معنی کے اعتبار سے اس کی بھی قائل ہیں کہ خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے ہر گروہ کے رسول اسی گروہ میں سے ہوتے تھے، انسانوں کے مختلف طبقات میں انسانی رسول آتے تھے، اور جنّات کے مختلف طبقات میں جنّات ہی میں سے رسول ہوتے …

Al-An'aam 6:130Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.