Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 1–10 of 165

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَٰتِ وَٱلنُّورَ ۖ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ

ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی پھر بھی کافر (اور چیزوں کو) خدا کے برابر ٹھیراتے ہیں

خلاصہ تفسیر - تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا، اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا پھر بھی کافر لوگ (عبادت میں دوسروں کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے تم (سب) کو (بواسطہ آدم (علیہ السلام) کے) مٹی سے بنایا پھر (تمہارے مرنے کا) ایک وقت معین کیا، اور دوسرا وقت معین (دو بارہ زندہ ہو کر اٹھنے کا) خاص اللہ ہی کے نزدیک (معلوم) ہے، پھر بھی تم (میں سے بعض) شک رکھتے ہو (کہ قیامت کو محال سمجھتے ہو حالانکہ جس نے اوّل حیات بخشی دوبارہ دینا اس کو کیا مشکل ہے) اور وہی ہے معبود برحق آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی (یعنی اور سب معبود باطل ہیں) وہ تمہارے پوشیدہ حالات کو بھی اور تمہارے ظاہر حالات کو بھی (یکساں) جانتے ہیں اور (بالخصوص تم جو کچھ ظاہرا یا باطناً ) عمل کرتے ہو (جس پر جزاء و سزاء کا مدار ہے) اس کو جانتے ہیں، اور ان (کفار) کے پاس کوئی نشانی بھی ان کے رب کی نشانیوں میں سے نہیں آئی، مگر وہ اس سے اعراض ہی کیا کرتے ہیں، سو (چونکہ یہ ان کی عادت بنی ہوئی ہے) انہوں نے اس سچی کتاب (قرآن) کو جھوٹا بتلایا جبکہ وہ ان کے پاس پہنچی سو (ان کی یہ تکذیب خالی نہ جائے گی بلکہ) جلد ہی ان کو خبر مل جاوے گی اس چیز کی جس کے ساتھ یہ لوگ استہزاء کیا کرتے تھے (مراد اس سے عذاب ہے جس کی خبر قرآن میں سن کر ہنستے تھے، اور اس کی خبر ملنے کا مطلب یہ ہے کہ جب عذاب نازل ہوگا تو اس خبر کی تصدیق آنکھوں سے دیکھ لیں گے)- معارف و مسائل - حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ سورة انعام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ پوری سورت بجز چند آیات کے بیک وقت مکہ میں اس طرح نازل ہوئی ہے کہ ستر ہزار فرشتے اس کے جلو میں تسبیح پڑھتے ہوئے آئے تھے، ائمہ تفسیر میں سے مجاہد رحمة اللہ علیہ، کلبی رحمة اللہ علیہ، قتادہ رحمة اللہ علیہ وغیرہ کا بھی تقریباً یہی قول ہے۔- ابو اسحاق اسفرائنی نے فرمایا کہ یہ سورت توحید کے تمام اصول و قواعد پر مشتمل ہے۔ اس سورة کو کلمہ الحمدللہ سے شروع کیا گیا، جس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، اور مراد اس خبر سے لوگوں کو حمد کی تعلیم دینا ہے، اور تعلیم کے اس طرز خاص میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ کسی کی حمدوتعریف کا محتاج نہیں، کوئی حمد کرے یا نہ کرے وہ اپنے ذاتی کمال کے اعتبار سے خود بخودمحمود ہے، اس جملہ کے بعد آسمان و زمین اور اندھیرے، اجالے کے پیدا کرنے کا ذکر فرما کر اس کے محمود ہونے کی دلیل بھی بتلادی کہ جو ذات اس عظیم قدرت و حکمت کی حامل ہے وہی حمدو تعریف کی مستحق ہو سکتی ہے۔- اس آیت میں سموات کو جمع اور ارض کو مفرد ذکر فرمایا ہے، اگرچہ دوسری آیت میں آسمان کی طرح زمین کے بھی سات ہونے کا ذکر موجود ہے، شاید اس میں اس طرف اشارہ ہو کہ سات آسمان اپنی ہیئت و صورت اور دوسری صفات کے اعتبار سے باہم بہت امتیاز رکھتے ہیں، اور ساتوں زمینیں ایک دوسرے کی ہم شکل اور مثل ہیں، اس لئے ان کو مثل ایک عدد کے قرار دیا گیا (مظہری) ۔- اسی طرح ظلمت کو جمع اور نور کو مفرد ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ نور تعبیر ہے صحیح راہ اور صراط مستقیم سے اور وہ ایک ہی ہے، اور ظلمٰت تعبیر ہے غلط راستہ کی، اور وہ ہزاروں ہیں (مظہری و بحر محیط)- یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آسمانوں اور زمین کے بنانے کو لفظ خلق سے تعبیر کیا گیا ہے اور اندھیرے اجالے کے بنانے کو لفظ جعل سے، اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اندھیرا اور اجالا، آسمان و زمین کی طرح مستقل قائم بالذات چیزیں نہیں، بلکہ عوارض اور صفات میں سے ہیں، اور ظلمٰت کو نور پر مقدم شاید اس لئے ذکر فرمایا گیا کہ اس جہان میں اصل ظلمٰت ہے، اور نور خاص خاص چیزوں سے وابستہ ہے، جب وہ سامنے ہوتی ہیں روشنی پیدا ہوتی ہے، جب نہیں ہوتیں تو اندھیرا رہتا ہے۔ - مقصود اس آیت کا توحید کی …

2

هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن طِينٍۢ ثُمَّ قَضَىٰٓ أَجَلًۭا ۖ وَأَجَلٌۭ مُّسَمًّى عِندَهُۥ ۖ ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَ

وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک مدت اس کے ہاں اور مقرر ہے پھر بھی تم (اے کافرو خدا کے بارے میں) شک کرتے ہو

پہلی آیت میں عالم کبیر یعنی پوری دنیا کی عظیم ترین چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق و محتاج بتلا کر انسان کو صحیح عقیدہ توحید کا سبق دیا گیا ہے، اس کے بعد دوسری آیات میں انسان کو بتلایا ہے کہ تیرا وجود خود ایک عالم صغیر ہے، اگر اسی کی ابتداء و انتہاء اور بودوباش پر نظر کرے تو عقیدہ توحید ایک واضح حقیقت بن کر سامنے آجائے، اس میں ارشاد فرمایا :- هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا، یعنی اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، کہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی کے خمیر سے پیدا فرما کر ان میں جان ڈال دی اور عام انسانوں کی غذا مٹی سے نکلتی ہے، غذا سے نطفہ، اور نطفہ سے انسان کی تخلیق عمل میں آتی ہے۔ - حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) فرماتے ہیں، کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی کی ایک خاص مقدار سے پیدا فرمایا جس میں پوری زمین کے اجزاء شامل کئے گئے، یہی وجہ ہے کہ اولاد آدم، رنگ و روپ اور اخلاق و عادات میں مختلف ہیں، کوئی کالا کوئی گورا، کوئی سُرخ، کوئی سخت کوئی نرم، کوئی پاکیزہ خصلت، کوئی خبیث الطبع ہوتا ہے، (مظہری بروایت ابن عدی بسند حسن)- یہ تو انسان کی ابتداء آفرینش کا ذکر تھا اس کے بعد انتہا کی دو منزلوں کا ذکر ہے، ایک انسان کی شخصی انتہا جس کو موت کہا جاتا ہے، دوسری نوع انسانی اور اس کے کائناتی خوادم سب کے مجموعہ کی انتہاء جس کو قیامت کہا جاتا ہے، انسان کی شخصی انتہاء کے لئے فرمایا، ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا، یعنی انسان کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کی بقاء وحیات کے لئے ایک میعاد مقرر کردی، اس میعاد پر پہنچنے کا نام موت ہے جس کو اگرچہ انسان نہیں جانتا مگر اللہ کے فرشتے جانتے ہیں، بلکہ خود انسان بھی اس حیثیت سے اپنی موت کو جانتا ہے کہ ہر وقت ہر جگہ اپنے گردوپیش میں اولاد آدم کو مرتے دیکھتا ہے۔- اس کے بعد پورے عالم کی انتہاء یعنی قیامت کا ذکر اس طرح فرمایا وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ، یعنی ایک اور میعاد مقرر ہے، جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس کی میعاد کا پورا علم نہ کسی فرشتہ کو ہے نہ کسی انسان کو۔ - خلاصہ کلام یہ ہے کہ پہلی آیت میں عالم اکبر یعنی پوری دنیا کا حال یہ بتلایا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی اور بنائی ہوئی ہے، اور دوسری آیت میں اسی طرح عالم اصغر یعنی انسان کا مخلوق خداوندی ہونا بیان فرمایا، پھر انسان کو غفلت سے چونکانے کے لئے یہ بتلایا کہ ہر انسان کی ایک خاص عمر ہے جس کے بعد اس کی موت یقینی ہے، اور یہ ایسی چیز ہے کہ اس کا مشاہدہ ہر انسان کو اپنے گردوپیش میں ہر وقت ہوتا رہتا ہے، وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ انسان کی شخصی موت سے پورے عالم کی عمومی موت یعنی قیامت پر استدلال ایک فکری اور طبعی امر ہے، اس لئے قیامت کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں، اس لئے آخر آیت میں بطور استبعاد کے فرمایا، ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ ، یعنی ایسے واضح دلائل کے باوجود تم قیامت کے بارے میں شبہات و شکوک نکالتے ہو۔

3

وَهُوَ ٱللَّهُ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَفِى ٱلْأَرْضِ ۖ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ

اور آسمانوں اور زمین میں وہی (ایک) خدا ہے تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتیں جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب سے واقف ہے

تیسری آیت میں پہلی دو آیتوں کے مضمون کا نتیجہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو آسمانوں اور زمین میں لائقِ عبادت و اطاعت ہے، اور وہی تمہارے ظاہر و باطن کے ہر حال اور ہر قول و فعل سے پورا واقف ہے۔

4

وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ ءَايَةٍۢ مِّنْ ءَايَٰتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْهَا مُعْرِضِينَ

اور خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

چوتھی آیت میں غفلت شعار انسان کی ہٹ دھرمی اور خلاف حق ضد کی شکایت اس طرح فرمائی گئی ہے کہ : وَمَا تَاْتِيْهِمْ مِّنْ اٰيَةٍ مِّنْ اٰيٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کے واضح دلائل اور کھلی نشانیوں کے باوجود منکر انسانوں نے یہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی نشانی ان کو ہدایت کے لئے بھیجی جاتی ہے وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں، اس میں ذرا غور نہیں کرتے۔

5

فَقَدْ كَذَّبُوا۟ بِٱلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ ۖ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنۢبَٰٓؤُا۟ مَا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو بھی جھٹلا دیا سو ان کو ان چیزوں کا جن سے یہ استہزا کرتے ہیں عنقریب انجام معلوم ہو جائے گا

پانچویں آیت میں اسی غفلت شعاری کی مزید تفصیل بعض واقعات کی طرف اشارہ کرکے بیان فرمائی ہے کہ فَقَدْ كَذَّبُوْا بالْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَهُمْ ۭ فَسَوْفَ يَاْتِيْهِمْ اَنْۢبٰۗـؤ ُ ا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ ، یعنی جب حق ان کے سامنے آیا تو انہوں نے حق کو جھٹلا دیا، حق سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس بھی۔- کیونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتداء عمر سے آخر تک انہی قبائل عرب کے درمیان رہے، بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپا انہی کی آنکھوں کے سامنے آیا، ان کو یہ بھی پوری طرح واضح تھا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی انسان سے مطلقاً کوئی تعلیم حاصل نہیں کی، یہاں تک کہ اپنا نام بھی خود نہ لکھتے تھے، پورے عرب میں آپ کا لقب امی مشہور تھا، چالیس سال کی عمر اسی حال میں ان کے درمیان گزری، کہ نہ کبھی شعر و شاعری سے دلچسپی ہوئی نہ کبھی کوئی علم وتعلیم سے مناسبت ہوئی، پھر چالیس سال پورے ہوتے ہی دفعةً آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے وہ حقائق و معارف اور علوم و فنون جاری ہوگئے کہ دنیا کے بڑے بڑے ماہر فلاسفر بھی ان کے سامنے عاجز نظر آئے، عرب کے تمام فصحاء و بلغاء کو اپنے لائے ہوئے کلام کا مقابلہ کرنے کے لئے چیلنچ دیا۔ یہ لوگ جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شکست دینے کے لئے اپنی جان ومال، عزت و آبرو، اولاد و خاندان سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہر وقت تلے رہتے تھے، ان میں سے کسی کی یہ جرأت نہ ہوئی کہ اس چیلنچ کو قبول کرکے قرآن کی ایک آیت کی مثال ہی پیش کردیتے۔- اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کا اپنا وجود خود حقانیت کی بہت بڑی نشانی تھی، اس کے علاوہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں ہزاروں معجزات اور کھلی کھلی نشانیاں ایسی ظاہر ہوئیں جس کا انکار کوئی صحیح الحواس انسان نہیں کرسکتا، مگر ان لوگوں نے ان ساری نشانیوں کو یکسر جھٹلا دیا، اسی لئے اس آیت میں ارشاد فرمایا : ففَقَدْ كَذَّبُوْا بالْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَهُمْ ۔- آخر آیت میں ان کے کفر و انکار اور تکذیب کے انجام بد کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ارشاد فرمایا : فَسَوْفَ يَاْتِيْهِمْ اَنْۢبٰۗـؤ ُ ا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ ، یعنی آج تو یہ انجام سے غافل لوگ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لائی ہوئی ہدایات اور قیامت و آخرت سب کا مذاق اڑاتے ہیں، لیکن بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب یہ سارے حقائق ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں گے، قیامت قائم ہوگی، ایمان و عمل کا حساب دینا ہوگا، اور ہر شخص اپنے کئے کی جزاء و سزاء پائے گا، مگر اس وقت کا یقین و اقرار ان کے کام نہ آئے گا۔ کیونکہ وہ روز عمل نہیں بلکہ روز جزا ہوگا۔ ابھی غور و فکر کی فرصت خدا تعالیٰ نے دے رکھی ہے، اس کو غنیمت سمجھ کر آیات الٓہیہ پر ایمان لانے ہی میں دنیا و آخرت کی فلاح ہے۔

6

أَلَمْ يَرَوْا۟ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍۢ مَّكَّنَّٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّن لَّكُمْ وَأَرْسَلْنَا ٱلسَّمَآءَ عَلَيْهِم مِّدْرَارًۭا وَجَعَلْنَا ٱلْأَنْهَٰرَ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَٰهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَنشَأْنَا مِنۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا ءَاخَرِينَ

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے پاؤں ملک میں ایسے جما دیئے تھے کہ تمہارے پاؤں بھی ایسے نہیں جمائے اور ان پر آسمان سے لگاتار مینہ برسایا اور نہریں بنا دیں جو ان کے (مکانوں کے) نیچے بہہ رہی تھیں پھر ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر دیا اور ان کے بعد اور امتیں پیدا کر دیں

خلاصہ تفسیر - کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم ان سے پہلے کتنی جماعتوں کو (عذاب سے) ہلاک کرچکے ہیں جن کو ہم نے دنیا میں ایسی قوت (جسمانی اور مالی) دی تھی کہ تم کو وہ قوت نہیں دی اور ہم نے ان پر خوب بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے (کھیت اور باغوں کے) نیچے سے نہریں جاری کیں (جس سے زراعت اور پھلوں کی خوب ترقی ہوئی اور وہ خوش حالی کی زندگی بسر کرنے لگے) پھر (اس قوت وقدرت اور سامان و اسباب کے ہوتے ہوئے) ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب (انواع عذاب سے) ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد دوسری جماعتوں کو پیدا کردیا (تو اگر تم پر بھی عذاب نازل کردیں تو تعجب کیا ہے، اور ان لوگوں کے عناد کی یہ حالت ہے کہ) اگر ہم کاغذ پر لکھا ہوا کوئی نوشتہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرماتے، پھر اس کو یہ لوگ اپنے ہاتھ سے چھو بھی لیتے (جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا کہ لکھی ہوئی کتاب آسمان سے آجائے اور ہاتھوں سے چھو لینے کا ذکر کرکے نظر بندی کے شبہ کو بھی دور کردیا) تب بھی یہ کافر لوگ یہی کہتے کہ یہ کچھ بھی نہیں مگر صریح جادو ہے (کیونکہ جب بات ماننے کا ارادہ ہی نہیں تو ہر دلیل میں کوئی نہ کوئی نئی بات نکال لینا کیا مشکل ہے) اور یہ لوگ یوں بھی کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) کے پاس کوئی فرشتہ (جس کو ہم دیکھیں اور باتیں سنیں) کیوں نہیں بھیجا گیا (حق تعالیٰ فرماتے ہیں) اور اگر ہم کوئی فرشتہ (اسی طرح) بھیج دیتے تو سارا قصہ ہی ختم ہوجاتا پھر (نزول فرشتہ کے بعد) ان کو ذرا مہلت نہ دی جاتی (کیونکہ عادت الٓہیہ یہ ہے کہ جن لوگوں کا منہ مانگا معجزہ دکھلا دیا گیا اگر پھر بھی انہوں نے ایمان سے انکار کیا تو فوراً بلا مہلت کے عذاب سے ہلاک کردیا جاتا ہے اور جب تک ایسا مطلوبہ معجزہ نہ دیکھیں دنیا میں مہلت ملتی رہتی ہے) اور اگر ہم اس (پیغام پہنچانے والے) کو فرشتہ ہی قرار دیتے تو (اس کو بہ شکل فرشتہ بھیجیں تو اس کی ہیبت انسانوں سے برداشت نہ ہو، اس لئے) ہم اس (فرشتہ) کو آدمی ہی (کی شکل) بناتے تو اس پر بھی وہی شبہ کرتے جو اب کر رہے ہیں (یعنی اس فرشتہ کو بشر سمجھ کر پھر بھی اعتراض کرتے، غرض نزول فرشتہ جس کا یہ مطالبہ کرتے ہیں اگر اس کو پورا کردیا جائے تو ان کو اس سے کوئی فائدہ تو اس لئے نہیں ہوسکتا کہ فرشتہ بشکل فرشتہ دیکھنے پر ان کو قدرت نہیں، اور بشکل انسان بھیجنے سے ان کا شبہ رفع نہیں ہوگا، اور دوسری طرف ان کے بیہودہ مطالبات سے غم نہ کریں، کیونکہ) واقعی آپ سے پہلے جو پیغمبر ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی (مخالفین کی طرف سے) استہزاء کیا گیا ہے، پھر جن لوگوں نے ان سے تمسخر کیا تھا ان کو اس عذاب نے آگھیرا جس کا تمسخر اڑاتے تھے (جس سے معلوم ہوا کہ ان کے اس طرز عمل سے انبیاء کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ خود انہی کے لئے عذاب اور مصیبت ہے اور اگر یہ لوگ امم سابقہ کے عذاب کا انکار کرنے لگیں) تو آپ (ان سے) فرما دیجئے کہ ذرا زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو کہ تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔- معارف و مسائل - پچھلی آیتوں میں احکام الٓہیہ اور تعلیماتِ رسل سے اعراض کرنے یا مخالفت کرنے والوں پر وعید شدید کا ذکر تھا، ان آیات میں انہی منکرین کا رخ اپنے گردوپیش کے حالات اور اگلے زمانہ کے تاریخی واقعات کی طرف پھیر کر ان کو عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا موقع دیا گیا ہے بلاشبہ تاریخ عالم عبرتوں کی ایک کتاب ہے، جس کو اگر چشم بصیرت سے دیکھا جائے تو وہ ہزاروں وعظوں سے زیادہ مؤ ثر وعظ ہے۔ ایک حکیم کا یہ جملہ بہت ہی پسندیدہ ہے کہ : ” دنیا ایک بہترین کتاب ہے، اور زمانہ بہترین معلم “۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کا ایک بہت بڑا عنصر قصص اور تاریخ ہے، لیکن عام طور پر غفلت شعار انسان نے دنیا کی تاریخ کو بھی ایک تفریحی مشغلہ کی حیثیت سے زیادہ وقعت نہیں دی، بلکہ اس وعظ و حکمت کی بہترین کتاب کو بھی اپنی غفلت و معصیت کا ایک ذریعہ بنا لیا، …

7

وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَٰبًۭا فِى قِرْطَاسٍۢ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ

اور اگر ہم تم پر کاغذوں پر لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے اور یہ اسے اپنے ہاتھوں سے بھی ٹٹول لیتے تو جو کافر ہیں وہ یہی کہہ دیتے کہ یہ تو (صاف اور) صریح جادو ہے

دوسری آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی، کہ عبداللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک معاندانہ مطالبہ پیش کیا اور کہا کہ میں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس وقت تک ایمان نہیں لاسکتا جب تک کہ میں یہ واقعہ نہ دیکھ لوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آسمان میں چڑھ جائیں، اور وہاں سے ہمارے سامنے ایک کتاب لے کر آئیں، جس میں میرا نام لے کر یہ ہو کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کروں، اور یہ سب کہہ کر یہ بھی کہہ دیا کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سب کچھ کر بھی دکھائیں میں تو جب بھی مسلمان ہوتا نظر نہیں آتا۔- اور عجیب اتفاق یہ ہے کہ پھر یہی صاحب مسلمان ہوئے اور ایسے ہوئے کہ اسلام کے غازی بن کر غزوہ طائف میں شہید ہوئے۔- قوم کے ایسے بیجا معاندانہ مطالبات اور استہزاء کے رنگ میں مکالمات نے ماں باپ سے زیادہ شفیق رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر کیا اثر کیا ہوگا، اس کا صحیح اندازہ ہم نہیں کرسکتے، صرف وہ شخص محسوس کرسکتا ہے جس کو قوم کی صلاح و فلاح کی فکر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح لگی ہو۔ - اسی لئے اس آیت میں آپ کو تسلی دینے کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے یہ مطالبات کسی غرض اور مقصد کے لئے نہیں، نہ ان کو عمل کرنا مقصود ہے، ان کا حال تو یہ ہے کہ جو کچھ یہ طلب کر رہے ہیں اگر اس سے بھی زیادہ واضح صورتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سچائی کی ان کے سامنے آجائیں، جب بھی قبول نہ کریں، مثلاً ہم ان کی فرمائش کے مطابق آسمان سے کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب اتاردیں اور صرف یہی نہیں کہ وہ آنکھوں سے دیکھ لیں جس میں نظر بندی یا جادو وغیرہ کا احتمال نہ رہے، بلکہ وہ اس کتاب کو اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیں کہ محض خیال نہیں، حقیقت ہے، مگر چونکہ ان کی ساری باتیں محض عناد کی وجہ سے ہیں تو پھر بھی یہی کہیں گے کہ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ ” یعنی یہ تو کھلا ہوا جادو ہے “۔

8

وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌۭ ۖ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكًۭا لَّقُضِىَ ٱلْأَمْرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ

اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا (جو ان کی تصدیق کرتا) اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہو جاتا پھر انھیں (مطلق) مہلت نہ دی جاتی

تیسری آیت کے نزول کا بھی ایک واقعہ ہے کہ یہی عبداللہ بن ابی امیہ اور نضر بن حارث اور نوفل بن خالد ایک مرتبہ جمع ہو کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ مطالبہ پیش کیا کہ ہم تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب ایمان لائیں گے جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آسمان سے ایک کتاب لے کر آئیں، اور اس کے ساتھ چار فرشتے آئیں جو اس کی گواہی دیں کہ یہ کتاب اللہ ہی کی طرف سے آئی ہے اور یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔- اس کا جواب حق تعالیٰ نے اہک تو یہ دیا کہ یہ غفلت شعار ایسے مطالبات کرکے اپنی موت و ہلاکت کو دعوت دے رہے ہیں، کیونکہ قانون الٓہی یہ ہے کہ جب کوئی قوم کسی پیغمبر سے کسی خاص معجزہ کا مطالبہ کرے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا مانگا ہوا معجزہ دکھلا دیا جائے، تو اگر وہ پھر بھی مانیں اور اسلام لانے میں ذرا تاخیر کریں تو پھر ان کو عذاب عام کے ذریعہ ہلاک کردیا جاتا ہے، یہ قوم اہل مکہ بھی یہ مطالبہ کسی نیک نیتی سے تو کر نہ رہی تھی، جس سے مان لینے کی توقع کی جاتی، اس لئے فرمایا : وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا يُنْظَرُوْنَ یعنی اگر ہم ان کا مانگا ہوا معجزہ دکھلا دیں کہ فرشتہ بھیج دیں اور یہ قوم ماننے والی تو ہے نہیں، تو معجزہ کے دیکھنے کے بعد بھی جب خلاف ورزی کرے گی تو اللہ کا حکم ان کے ہلاک کرنے کے لئے جاری ہوجائے گا، اور اس کے بعد ان کو ذرا بھی مہلت نہ دی جائے گی، اس لئے ان کو سمجھنا چاہئے کہ ان کی مانگی ہوئی کوئی نشانی اگر ظاہر نہیں کی گئی تو اس میں ان کی خیر ہے۔- اسی بات کا ایک دوسرا جواب چوتھی آیت میں دوسرے انداز سے دیا گیا کہ یہ سوال کرنے والے عجیب بیوقوف ہیں کہ فرشتوں کے نازل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ فرشتوں کے نازل ہونے کی دو صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ فرشتہ اپنی اصلی ہیئت و صورت میں سامنے آجائے تو اس کی ہیت کو تو کوئی انسان برداشت نہیں کرسکتا، بلکہ ہول کھا کر فوراً مرجانے کا خطرہ ہے۔- دوسری صورت یہ ہے کہ فرشتہ بشکل انسانی آئے، جیسے جبریل امین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بہت مرتبہ بشکل انسانی آئے ہیں، تو اس صورت میں اس سوال کرنے والے کو جو اعتراض آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہے وہی اس فرشتہ پر بھی ہوگا، کہ یہ اس کو ایک انسان ہی سمجھے گا۔- ان تمام معاندانہ سوالات کے جواب دینے کے بعد پانچویں آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے لئے ارشاد فرمایا کہ یہ استہزاء و تمسخر اور ایذاء رسانی کا معاملہ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوم آپ کے ساتھ کر رہی ہے کچھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کے ساتھ مخصوص نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے بھی سب رسولوں کو ایسے دلدوز اور ہمت شکن واقعات سے سابقہ پڑا ہے، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری، اور انجام یہ ہوا کہ استہزاء و تمسخر کرنے والی قوم کو اس عذاب نے آپکڑا جس کا تمسخر کیا کرتے تھے۔- خلاصہ یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام تبلیغ احکام ہے، وہ کرکے آپ اپنے قلب کو فارغ فرما لیں اس کا اثر کسی نے کچھ لیا یا نہیں، اس کی نگہداشت آپ کے ذمہ نہیں، اس لئے اس میں مشغول ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قلب کو مغموم نہ کریں۔

9

وَلَوْ جَعَلْنَٰهُ مَلَكًۭا لَّجَعَلْنَٰهُ رَجُلًۭا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ

نیز اگر ہم کسی فرشتہ کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں بھیجتے اور جو شبہ (اب) کرتے ہیں اسی شبے میں پھر انہیں ڈال دیتے

Explained together with ayah 8

10

وَلَقَدِ ٱسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍۢ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِٱلَّذِينَ سَخِرُوا۟ مِنْهُم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں سو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو تمسخر کی سزا نے آگھیرا

Explained together with ayah 8

Al-An'aam 6:10Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.