Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 141–150 of 165

141

۞ وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَ جَنَّٰتٍۢ مَّعْرُوشَٰتٍۢ وَغَيْرَ مَعْرُوشَٰتٍۢ وَٱلنَّخْلَ وَٱلزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهًۭا وَغَيْرَ مُتَشَٰبِهٍۢ ۚ كُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثْمَرَ وَءَاتُوا۟ حَقَّهُۥ يَوْمَ حَصَادِهِۦ ۖ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ

اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

خدا نے انسان کے ليے طرح طرح کی غذائیں پیدا کی ہیں۔ کچھ چیزیں وہ ہیں جو زمین میں پھیلتی ہیں۔ مثلاً خربوزے، سبزیاں وغیرہ۔ کچھ چیزیں وہ ہیں جو ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔ مثلاً انگور وغیرہ۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اپنے تنا پر کھڑی رہتی ہیں۔ مثلاً کھجور، آم وغیرہ۔ اسی طرح آدمی کی ضرورت کے لیے مختلف قسم کے چھوٹے بڑے جانور پیدا كيے۔ مثلاً اونٹ گھوڑے اور بھیڑ بکریاں۔

آدمی ایک علیٰحدہ مخلوق ہے اور بقیہ چیزیں علیٰحدہ مخلوق۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ پیدا ہوئے ہیں۔ مگر انسان دیکھتا ہے کہ دونوں میں زبردست ہم آہنگی ہے۔ آدمی کے جسم کو اگر غذائیت درکار ہے تو اس کے باہر ہرے بھرے درختوں میں حیرت انگیز قسم کے غذائی پیکٹ لٹک رہے ہیں۔ اگر اس کی زبان میں مزه كا احساس پايا جاتا هے تو پھلوں كے اندر اس كي تسكين كا اعليٰ سامان موجود هے۔ اگر اس كي آنكھوں ميں حسنِ نظر کا ذوق ہے تو قدرت کا پورا کارخانہ حسن اور دل کشی کا مرقع بنا ہوا ہے۔ اگر اس کو سواری اور بار برداری کے ذرائع درکار ہیں تو یہاں ایسے جانور موجود ہیں جو اس کے ليے نقل وحمل کا ذریعہ بھی بنیں اور اسی کے ساتھ اس کے ليے قیمتی غذا بھی فراہم کریں۔ اس طرح کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ توحید کا اعلان بن گئی ہے۔ کیوں کہ کائنات کے مختلف مظاہر میں یہ وحدت اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کا خالق ومالک ایک ہو۔

آدمی جب دیکھتا ہے کہ اتنا عظیم کائناتی اہتمام اس کے کسی ذاتی استحقاق کے بغیر ہورہا ہے تو اس یک طرفہ انعام پر اس کا دل شکر کے جذبے سے بھر جاتا ہے۔ پھر اسی کے ساتھ یہ سارا معاملہ آدمی کے لیے تقویٰ کی غذا بن جاتاہے۔ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ ہر عنایت (privilege) کے ساتھ ذمہ داری (responsibility) ہو۔ یہ چیز آدمی کو جزا وسزا کی یاددلاتی ہے اور اس کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ دنیا میں اس احساس کے ساتھ رہے کہ ایک دن اس کو خدا کے سامنے حساب کے ليے کھڑا ہونا ہے۔ یہ احساسات اگر حقیقی طورپر آدمی کے اندر جاگ اٹھیں تو لازمی طورپر اس کے اندر دو باتیں پیدا ہوں گی۔ ایک یہ کہ اس کو جو کچھ ملے گا اس میں وہ اپنے مالک کا حق بھی سمجھے گا۔ دوسرے یہ کہ وہ صرف واقعی ضرورت کے بقدر خرچ کرے گا، نہ کہ فضول ا ور بے موقع خرچ کرنے لگے۔ مگر شیطان یہ کرتا ہے کہ اصل رخ سے آدمی کا ذہن موڑ کر اس کو دوسری غیر متعلق باتوں میں الجھا دیتاہے۔

Al-An'aam 6:141Listen in Qur'an →
142

وَمِنَ ٱلْأَنْعَٰمِ حَمُولَةًۭ وَفَرْشًۭا ۚ كُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی (پس) خدا کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا صریح دشمن ہے

خدا نے انسان کے ليے طرح طرح کی غذائیں پیدا کی ہیں۔ کچھ چیزیں وہ ہیں جو زمین میں پھیلتی ہیں۔ مثلاً خربوزے، سبزیاں وغیرہ۔ کچھ چیزیں وہ ہیں جو ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔ مثلاً انگور وغیرہ۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اپنے تنا پر کھڑی رہتی ہیں۔ مثلاً کھجور، آم وغیرہ۔ اسی طرح آدمی کی ضرورت کے لیے مختلف قسم کے چھوٹے بڑے جانور پیدا كيے۔ مثلاً اونٹ گھوڑے اور بھیڑ بکریاں۔

آدمی ایک علیٰحدہ مخلوق ہے اور بقیہ چیزیں علیٰحدہ مخلوق۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ پیدا ہوئے ہیں۔ مگر انسان دیکھتا ہے کہ دونوں میں زبردست ہم آہنگی ہے۔ آدمی کے جسم کو اگر غذائیت درکار ہے تو اس کے باہر ہرے بھرے درختوں میں حیرت انگیز قسم کے غذائی پیکٹ لٹک رہے ہیں۔ اگر اس کی زبان میں مزه كا احساس پايا جاتا هے تو پھلوں كے اندر اس كي تسكين كا اعليٰ سامان موجود هے۔ اگر اس كي آنكھوں ميں حسنِ نظر کا ذوق ہے تو قدرت کا پورا کارخانہ حسن اور دل کشی کا مرقع بنا ہوا ہے۔ اگر اس کو سواری اور بار برداری کے ذرائع درکار ہیں تو یہاں ایسے جانور موجود ہیں جو اس کے ليے نقل وحمل کا ذریعہ بھی بنیں اور اسی کے ساتھ اس کے ليے قیمتی غذا بھی فراہم کریں۔ اس طرح کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ توحید کا اعلان بن گئی ہے۔ کیوں کہ کائنات کے مختلف مظاہر میں یہ وحدت اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کا خالق ومالک ایک ہو۔

آدمی جب دیکھتا ہے کہ اتنا عظیم کائناتی اہتمام اس کے کسی ذاتی استحقاق کے بغیر ہورہا ہے تو اس یک طرفہ انعام پر اس کا دل شکر کے جذبے سے بھر جاتا ہے۔ پھر اسی کے ساتھ یہ سارا معاملہ آدمی کے لیے تقویٰ کی غذا بن جاتاہے۔ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ ہر عنایت (privilege) کے ساتھ ذمہ داری (responsibility) ہو۔ یہ چیز آدمی کو جزا وسزا کی یاددلاتی ہے اور اس کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ دنیا میں اس احساس کے ساتھ رہے کہ ایک دن اس کو خدا کے سامنے حساب کے ليے کھڑا ہونا ہے۔ یہ احساسات اگر حقیقی طورپر آدمی کے اندر جاگ اٹھیں تو لازمی طورپر اس کے اندر دو باتیں پیدا ہوں گی۔ ایک یہ کہ اس کو جو کچھ ملے گا اس میں وہ اپنے مالک کا حق بھی سمجھے گا۔ دوسرے یہ کہ وہ صرف واقعی ضرورت کے بقدر خرچ کرے گا، نہ کہ فضول ا ور بے موقع خرچ کرنے لگے۔ مگر شیطان یہ کرتا ہے کہ اصل رخ سے آدمی کا ذہن موڑ کر اس کو دوسری غیر متعلق باتوں میں الجھا دیتاہے۔

Al-An'aam 6:142Listen in Qur'an →
143

ثَمَٰنِيَةَ أَزْوَٰجٍۢ ۖ مِّنَ ٱلضَّأْنِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْمَعْزِ ٱثْنَيْنِ ۗ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۖ نَبِّـُٔونِى بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ

عربوں میں گوشت اور دودھ وغیرہ کے ليے جو جانور پائے جاتے تھے ان میں سے چار زیادہ معروف تھے۔ بھیڑ بکری اور اونٹ گائے۔ ان کے بارے میں انھوں نے طرح طرح کے تحریمی قاعدے بناليے تھے۔ مگر ان تحریمی قاعدوں کے پیچھے اپنے مشرکانہ رواجوں کے سوا کوئی دلیل ان کے پاس نہ تھی۔ بھیڑ اور بکری اور اونٹ اور گائے، خواہ نر ہوں یا مادہ، عقلی طورپر کوئی سبب حرمت ان کے اندر موجود نہیں ہے، ان کا تمام کا تمام گوشت انسان کی بہترین غذا ہے۔ ان میں کوئی ایسی ناپاک عادت بھی نہیں جو ان کے بارے میں انسانی طبیعت میں کراہت پیدا کرتی ہو۔ آسمان سے اترے ہوئے علم میں بھی ان کی حرمت کا ذکر نہیں۔

پھر کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان حیوانات کے بارے میں لوگوں کے اندر طرح طرح کے تحریمی قاعدے بن جاتے ہیں۔ اس کی وجہ شیطانی ترغیبات ہیں۔ انسان کے اندر فطری طورپر خدا کا شعور اور حر ام وحلال کا احساس موجود ہے۔ آدمی اپنے اندرونی تقاضے کے تحت کسی ہستی کو اپنا خدا بنانا چاہتا ہے اور چیزوں میں جائز ناجائز کا فرق کرنا چاہتا ہے۔ شیطان اس حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ انسان کو اگر سادہ حالات میں عمل کرنے کا موقع ملا تو وہ فطرت کے صحیح راستہ کو پکڑ لے گا۔ اس ليے وہ فطرتِ انسانی کو کند کرنے کے لیے طرح طرح کے غلط رواج قائم کرتاہے۔ وہ خدا کے نام پر کچھ فرضی خدا گھڑتا ہے۔ وہ حرام وحلال کے نام پر کچھ بے بنیاد محرمات وضع کرتاہے۔ اس طرح شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی انھیں فرضي چیزوں میں الجھ کر رہ جائے اور اصلی سچائی تک نہ پہنچے۔ وہ سیدھے راستے سے بھٹک چکا ہو۔ مگر بظاہر اپنے کو چلتا ہوا دیکھ کر یہ سمجھے کہ میں ’’راستہ‘‘ پر ہوں۔ حالاں کہ وہ ایک ٹیڑھی لکیر ہو، نہ کہ سیدھا راستہ۔

جو لوگ اس طرح شیطانی بہکاوے کا شکار ہوں وہ خدا کی نظر میں ظالم ہیں۔ ان کو خدا نے سمجھ دی تھی جس سے وہ حق وباطل میں تمیز کرسکتے تھے۔ مگر ان کے تعصبات ان کے لیے پردہ بن گئے۔ سمجھنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود وه سمجھنے سے دور رہے۔

Al-An'aam 6:143Listen in Qur'an →
144

وَمِنَ ٱلْإِبِلِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْبَقَرِ ٱثْنَيْنِ ۗ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۖ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ وَصَّىٰكُمُ ٱللَّهُ بِهَٰذَا ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًۭا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور دو (دو) اونٹوں میں سے اور دو (دو) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے تاکہ اِز راہ بے دانشی لوگوں کو گمراہ کرے کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

عربوں میں گوشت اور دودھ وغیرہ کے ليے جو جانور پائے جاتے تھے ان میں سے چار زیادہ معروف تھے۔ بھیڑ بکری اور اونٹ گائے۔ ان کے بارے میں انھوں نے طرح طرح کے تحریمی قاعدے بناليے تھے۔ مگر ان تحریمی قاعدوں کے پیچھے اپنے مشرکانہ رواجوں کے سوا کوئی دلیل ان کے پاس نہ تھی۔ بھیڑ اور بکری اور اونٹ اور گائے، خواہ نر ہوں یا مادہ، عقلی طورپر کوئی سبب حرمت ان کے اندر موجود نہیں ہے، ان کا تمام کا تمام گوشت انسان کی بہترین غذا ہے۔ ان میں کوئی ایسی ناپاک عادت بھی نہیں جو ان کے بارے میں انسانی طبیعت میں کراہت پیدا کرتی ہو۔ آسمان سے اترے ہوئے علم میں بھی ان کی حرمت کا ذکر نہیں۔

پھر کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان حیوانات کے بارے میں لوگوں کے اندر طرح طرح کے تحریمی قاعدے بن جاتے ہیں۔ اس کی وجہ شیطانی ترغیبات ہیں۔ انسان کے اندر فطری طورپر خدا کا شعور اور حر ام وحلال کا احساس موجود ہے۔ آدمی اپنے اندرونی تقاضے کے تحت کسی ہستی کو اپنا خدا بنانا چاہتا ہے اور چیزوں میں جائز ناجائز کا فرق کرنا چاہتا ہے۔ شیطان اس حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ انسان کو اگر سادہ حالات میں عمل کرنے کا موقع ملا تو وہ فطرت کے صحیح راستہ کو پکڑ لے گا۔ اس ليے وہ فطرتِ انسانی کو کند کرنے کے لیے طرح طرح کے غلط رواج قائم کرتاہے۔ وہ خدا کے نام پر کچھ فرضی خدا گھڑتا ہے۔ وہ حرام وحلال کے نام پر کچھ بے بنیاد محرمات وضع کرتاہے۔ اس طرح شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی انھیں فرضي چیزوں میں الجھ کر رہ جائے اور اصلی سچائی تک نہ پہنچے۔ وہ سیدھے راستے سے بھٹک چکا ہو۔ مگر بظاہر اپنے کو چلتا ہوا دیکھ کر یہ سمجھے کہ میں ’’راستہ‘‘ پر ہوں۔ حالاں کہ وہ ایک ٹیڑھی لکیر ہو، نہ کہ سیدھا راستہ۔

جو لوگ اس طرح شیطانی بہکاوے کا شکار ہوں وہ خدا کی نظر میں ظالم ہیں۔ ان کو خدا نے سمجھ دی تھی جس سے وہ حق وباطل میں تمیز کرسکتے تھے۔ مگر ان کے تعصبات ان کے لیے پردہ بن گئے۔ سمجھنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود وه سمجھنے سے دور رہے۔

Al-An'aam 6:144Listen in Qur'an →
145

قُل لَّآ أَجِدُ فِى مَآ أُوحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍۢ يَطْعَمُهُۥٓ إِلَّآ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًۭا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍۢ فَإِنَّهُۥ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ ۚ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

عربوں میں گوشت اور دودھ وغیرہ کے ليے جو جانور پائے جاتے تھے ان میں سے چار زیادہ معروف تھے۔ بھیڑ بکری اور اونٹ گائے۔ ان کے بارے میں انھوں نے طرح طرح کے تحریمی قاعدے بناليے تھے۔ مگر ان تحریمی قاعدوں کے پیچھے اپنے مشرکانہ رواجوں کے سوا کوئی دلیل ان کے پاس نہ تھی۔ بھیڑ اور بکری اور اونٹ اور گائے، خواہ نر ہوں یا مادہ، عقلی طورپر کوئی سبب حرمت ان کے اندر موجود نہیں ہے، ان کا تمام کا تمام گوشت انسان کی بہترین غذا ہے۔ ان میں کوئی ایسی ناپاک عادت بھی نہیں جو ان کے بارے میں انسانی طبیعت میں کراہت پیدا کرتی ہو۔ آسمان سے اترے ہوئے علم میں بھی ان کی حرمت کا ذکر نہیں۔

پھر کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان حیوانات کے بارے میں لوگوں کے اندر طرح طرح کے تحریمی قاعدے بن جاتے ہیں۔ اس کی وجہ شیطانی ترغیبات ہیں۔ انسان کے اندر فطری طورپر خدا کا شعور اور حر ام وحلال کا احساس موجود ہے۔ آدمی اپنے اندرونی تقاضے کے تحت کسی ہستی کو اپنا خدا بنانا چاہتا ہے اور چیزوں میں جائز ناجائز کا فرق کرنا چاہتا ہے۔ شیطان اس حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ انسان کو اگر سادہ حالات میں عمل کرنے کا موقع ملا تو وہ فطرت کے صحیح راستہ کو پکڑ لے گا۔ اس ليے وہ فطرتِ انسانی کو کند کرنے کے لیے طرح طرح کے غلط رواج قائم کرتاہے۔ وہ خدا کے نام پر کچھ فرضی خدا گھڑتا ہے۔ وہ حرام وحلال کے نام پر کچھ بے بنیاد محرمات وضع کرتاہے۔ اس طرح شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی انھیں فرضي چیزوں میں الجھ کر رہ جائے اور اصلی سچائی تک نہ پہنچے۔ وہ سیدھے راستے سے بھٹک چکا ہو۔ مگر بظاہر اپنے کو چلتا ہوا دیکھ کر یہ سمجھے کہ میں ’’راستہ‘‘ پر ہوں۔ حالاں کہ وہ ایک ٹیڑھی لکیر ہو، نہ کہ سیدھا راستہ۔

جو لوگ اس طرح شیطانی بہکاوے کا شکار ہوں وہ خدا کی نظر میں ظالم ہیں۔ ان کو خدا نے سمجھ دی تھی جس سے وہ حق وباطل میں تمیز کرسکتے تھے۔ مگر ان کے تعصبات ان کے لیے پردہ بن گئے۔ سمجھنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود وه سمجھنے سے دور رہے۔

Al-An'aam 6:145Listen in Qur'an →
146

وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا كُلَّ ذِى ظُفُرٍۢ ۖ وَمِنَ ٱلْبَقَرِ وَٱلْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَآ إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَآ أَوِ ٱلْحَوَايَآ أَوْ مَا ٱخْتَلَطَ بِعَظْمٍۢ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَٰهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ

اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کی چربی حرام کر دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی میں ہو یا ہڈی میں ملی ہو یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم تو سچ کہنے والے ہیں

شریعتِ خداوندی میں اصل محرمات ہمیشہ وہی رہے ہیں جو اوپر کی آیت میں بیان ہوئے۔ یعنی مردار، بہایا ہوا خون، سور کا گوشت اور وہ جانور جس کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ اس کے سوا اگر کچھ چیزیں حرام ہیں تو وہ انھیں کی تشریح وتفصیل ہیں۔

مگر اسی کے ساتھ اللہ کی ایک سنتِ تحریم اور ہے۔ وہ یہ کہ جب کوئی حامل کتاب قوم اطاعت کے بجائے سرکشی کا طریقہ اختیار کرتی ہے تو اس کی سرکشی کی سزا کے طورپر اس کو نئی نئی مشکلات میں ڈال دیا جاتاہے۔ اس پر ایسی چیزیں حرام کردی جاتی ہیں جو اصلاً شریعت خداوندی میں حرام نہ تھیں۔

اس حرمت کی شکل کیا ہوتی ہے۔ اس کی ایک شکل یہ ہوتی ہے کہ اس قوم کے اندر ایسے پیشوا اٹھتے ہیں جو دین کی حقیقت سے بالکل خالی ہوتے ہیں۔ وہ صرف ظاہری دین داری سے واقف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتاہے کہ جو اہتمام دین کی معنوی حقیقتوں میں کرنا چاہیے وہی اہتمام وہ ظاہری آداب وقواعد میں کرنے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ظواہرِ دین میں غیر ضروری موشگافیاں وجود میں آتی ہیں۔ ایسے لوگ دین کے خود ساختہ ظاہری معیار وضع کرتے ہیں۔ وہ غلو اور تشدد کرکے سادہ حکم کو پیچیدہ اور جائز چیز کو ناجائز بنا دیتے ہیں۔

مثلاً یہود کے اندر جب سرکشی آئی تو ان کے درمیان ایسے علماء اٹھے جنھوں نے اپنی موشگافیوں سے یہ قاعدہ بنایا کہ کسی چوپایہ کے حلال ہونے کے ليے دوشرطیں بیک وقت ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے پاؤں چرے ہوئے ہوں، دوسري یہ کہ وہ جگالی کرتاہو۔ ان میں سے کوئی ایک شرط بھی اگر نہ پائی جائے تو وہ جانور حرام سمجھا جائے گا۔ اس خود ساختہ شرط کی وجہ سے اونٹ، سافان (cony)اور خرگوش جیسی چیزیں بھی خواہ مخواہ حرام قرار پا گئیں۔ اسی طرح ’’ناخن‘‘ کی تشریح میں غلو کرکے انھوںنے غیر ضروری طورپر شتر مرغ، قاز اور بط وغیرہ کو اپنے ليے حرام کرلیا۔ اس قسم کی غیر فطری بندشوں نے ان کے ليے وہاں تنگی پیدا کردی جہاں خدا نے ان کے ليے فراخی رکھی تھی۔

حق کو نہ ماننے کے بعد آدمی فوراً خدا کی پکڑ میں نہیں آتا۔ وہ بدستور اپنے کو آزاد اور بھر پورپاتا ہے۔ اس بنا پر اکثر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ وہ بھول جاتاہے کہ وہ خدا كے منصوبهٔ تخليق كي حكمت كي وجه سے بچا ہوا ہے۔ خدا آدمی کی سرکشی کے باوجود اس کو آخری حد تک موقع دیتا ہے۔ بالآخر جب وہ اپنی روش کو نہیں بدلتا تو اچانک خدا کا عذاب اس کو اپنی پکڑ میں لے لیتا ہے۔ کبھی دنیا میں اور کبھی دنیا اور آخرت دونوں میں۔

Al-An'aam 6:146Listen in Qur'an →
147

فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍۢ وَٰسِعَةٍۢ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُهُۥ عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِينَ

اور اگر یوں لوگ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار صاحب رحمت وسیع ہے مگر اس کا عذاب گنہ گاروں لوگوں سے نہیں ٹلے گا

شریعتِ خداوندی میں اصل محرمات ہمیشہ وہی رہے ہیں جو اوپر کی آیت میں بیان ہوئے۔ یعنی مردار، بہایا ہوا خون، سور کا گوشت اور وہ جانور جس کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ اس کے سوا اگر کچھ چیزیں حرام ہیں تو وہ انھیں کی تشریح وتفصیل ہیں۔

مگر اسی کے ساتھ اللہ کی ایک سنتِ تحریم اور ہے۔ وہ یہ کہ جب کوئی حامل کتاب قوم اطاعت کے بجائے سرکشی کا طریقہ اختیار کرتی ہے تو اس کی سرکشی کی سزا کے طورپر اس کو نئی نئی مشکلات میں ڈال دیا جاتاہے۔ اس پر ایسی چیزیں حرام کردی جاتی ہیں جو اصلاً شریعت خداوندی میں حرام نہ تھیں۔

اس حرمت کی شکل کیا ہوتی ہے۔ اس کی ایک شکل یہ ہوتی ہے کہ اس قوم کے اندر ایسے پیشوا اٹھتے ہیں جو دین کی حقیقت سے بالکل خالی ہوتے ہیں۔ وہ صرف ظاہری دین داری سے واقف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتاہے کہ جو اہتمام دین کی معنوی حقیقتوں میں کرنا چاہیے وہی اہتمام وہ ظاہری آداب وقواعد میں کرنے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ظواہرِ دین میں غیر ضروری موشگافیاں وجود میں آتی ہیں۔ ایسے لوگ دین کے خود ساختہ ظاہری معیار وضع کرتے ہیں۔ وہ غلو اور تشدد کرکے سادہ حکم کو پیچیدہ اور جائز چیز کو ناجائز بنا دیتے ہیں۔

مثلاً یہود کے اندر جب سرکشی آئی تو ان کے درمیان ایسے علماء اٹھے جنھوں نے اپنی موشگافیوں سے یہ قاعدہ بنایا کہ کسی چوپایہ کے حلال ہونے کے ليے دوشرطیں بیک وقت ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے پاؤں چرے ہوئے ہوں، دوسري یہ کہ وہ جگالی کرتاہو۔ ان میں سے کوئی ایک شرط بھی اگر نہ پائی جائے تو وہ جانور حرام سمجھا جائے گا۔ اس خود ساختہ شرط کی وجہ سے اونٹ، سافان (cony)اور خرگوش جیسی چیزیں بھی خواہ مخواہ حرام قرار پا گئیں۔ اسی طرح ’’ناخن‘‘ کی تشریح میں غلو کرکے انھوںنے غیر ضروری طورپر شتر مرغ، قاز اور بط وغیرہ کو اپنے ليے حرام کرلیا۔ اس قسم کی غیر فطری بندشوں نے ان کے ليے وہاں تنگی پیدا کردی جہاں خدا نے ان کے ليے فراخی رکھی تھی۔

حق کو نہ ماننے کے بعد آدمی فوراً خدا کی پکڑ میں نہیں آتا۔ وہ بدستور اپنے کو آزاد اور بھر پورپاتا ہے۔ اس بنا پر اکثر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ وہ بھول جاتاہے کہ وہ خدا كے منصوبهٔ تخليق كي حكمت كي وجه سے بچا ہوا ہے۔ خدا آدمی کی سرکشی کے باوجود اس کو آخری حد تک موقع دیتا ہے۔ بالآخر جب وہ اپنی روش کو نہیں بدلتا تو اچانک خدا کا عذاب اس کو اپنی پکڑ میں لے لیتا ہے۔ کبھی دنیا میں اور کبھی دنیا اور آخرت دونوں میں۔

Al-An'aam 6:147Listen in Qur'an →
148

سَيَقُولُ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشْرَكْنَا وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن شَىْءٍۢ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ حَتَّىٰ ذَاقُوا۟ بَأْسَنَا ۗ قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍۢ فَتُخْرِجُوهُ لَنَآ ۖ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ

جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے نکالو تم محض خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کی تیر چلاتے ہو

حق کی بے آمیز دعوت ہمیشہ اپنے ماحول میں اجنبی دعوت ہوتی ہے۔ ایک طرف مروجہ دین ہوتاہے جس کو تمام اجتماعی اداروں میں غلبہ کا مقام حاصل ہوتا ہے۔ صدیوں کی روایات اس کو باوزن بنانے کے لیے اس کی پشت پر موجود ہوتی ہیں۔ دوسری طرف حق کی دعوت ہوتی جو ان تمام اضافی خصوصیات سے خالی ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں لوگوں کے لیے سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ جس دین کو اتنا درجہ اور اتنی مقبولیت حاصل ہو وہ دین خدا کی پسند کے مطابق نہ ہوگا۔ لوگ فرض کرلیتے ہیں کہ مروجہ دین کا اتنا پھیلاؤ اسی ليے ممکن ہوسکا کہ خدا کی مرضی اس کے شامل حال تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کو یہ پھیلاؤ کبھی حاصل نہ ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ جس دین کو خدا کی دنیا میں ہر طرف بلند مقام حاصل ہووہ خدا کا پسندیدہ دین ہوگا یا وہ دین جس کو خدا کی دنیا میں کہیں کوئی مقام حاصل نہیں۔

مگر حق وباطل کا فیصلہ حقیقی دلائل پر ہوتا ہے، نہ کہ اس قسم کے قیاسات پر۔ خدا نے اس دنیا کو امتحان گاہ بنایا ہے۔یہاں آدمی کو یہ موقع ہے کہ وہ جس چیز کو چاہے اختیار کرے اور جس چیز کو چاہے اختیار نہ کرے۔ یہ معاملہ تمام تر آدمی کے اپنے اوپر منحصر ہے۔ ایسی حالت میں کسی چیز کا رواج عام اس کے برحق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ کوئی چیز برحق ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ دلائل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ رواجی عمل کی بنیاد پر۔

دنیا کو اللہ نے امتحان گاہ بنایا۔ انسان پر اپنی مرضی جبراً مسلط کرنے کے بجائے یہ طریقہ اختیار کیا کہ انسان کو صحیح اور غلط کا علم دیا اور یہ معاملہ انسان کے اوپر چھوڑدیا کہ وہ صحیح کو لیتاہے یا غلط کو۔ اس کامطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں دلیل(حجت) خدا کی نمائندہ ہے۔ آدمی جب ایک سچی دلیل کے آگے جھکتاہے تو وہ خدا کے آگے جھکتاہے۔اور جب وہ ایک سچی دلیل کو ماننے سے انکار کرتاہے ہو تو وہ خدا کو ماننے سے انکار کرتاہے۔

جب آدمی دلیل کے آگے نہیں جھکتا تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہش سے اوپر اٹھ نہیں پاتا۔ وہ باطل کو حق کہنے کے ليے کھڑا ہوجاتاہے تاکہ اپنے عمل کو جائز ثابت کرسکے۔ اس کی ڈھٹائی اس کو یہاںتک لے جاتی ہے کہ وہ خدا کی نشانیوں کو نظر انداز کردے۔ وہ اس بات سے بے پروا ہوجاتاہے کہ خدا اس کو بالآخر پکڑنے والا ہے۔ وہ دوسری دوسری چیزوں کو وہ اہمیت دیتاہے جو اہمیت صرف خدا کو دینا چاہيے۔

Al-An'aam 6:148Listen in Qur'an →
149

قُلْ فَلِلَّهِ ٱلْحُجَّةُ ٱلْبَٰلِغَةُ ۖ فَلَوْ شَآءَ لَهَدَىٰكُمْ أَجْمَعِينَ

کہہ دو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا

حق کی بے آمیز دعوت ہمیشہ اپنے ماحول میں اجنبی دعوت ہوتی ہے۔ ایک طرف مروجہ دین ہوتاہے جس کو تمام اجتماعی اداروں میں غلبہ کا مقام حاصل ہوتا ہے۔ صدیوں کی روایات اس کو باوزن بنانے کے لیے اس کی پشت پر موجود ہوتی ہیں۔ دوسری طرف حق کی دعوت ہوتی جو ان تمام اضافی خصوصیات سے خالی ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں لوگوں کے لیے سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ جس دین کو اتنا درجہ اور اتنی مقبولیت حاصل ہو وہ دین خدا کی پسند کے مطابق نہ ہوگا۔ لوگ فرض کرلیتے ہیں کہ مروجہ دین کا اتنا پھیلاؤ اسی ليے ممکن ہوسکا کہ خدا کی مرضی اس کے شامل حال تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کو یہ پھیلاؤ کبھی حاصل نہ ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ جس دین کو خدا کی دنیا میں ہر طرف بلند مقام حاصل ہووہ خدا کا پسندیدہ دین ہوگا یا وہ دین جس کو خدا کی دنیا میں کہیں کوئی مقام حاصل نہیں۔

مگر حق وباطل کا فیصلہ حقیقی دلائل پر ہوتا ہے، نہ کہ اس قسم کے قیاسات پر۔ خدا نے اس دنیا کو امتحان گاہ بنایا ہے۔یہاں آدمی کو یہ موقع ہے کہ وہ جس چیز کو چاہے اختیار کرے اور جس چیز کو چاہے اختیار نہ کرے۔ یہ معاملہ تمام تر آدمی کے اپنے اوپر منحصر ہے۔ ایسی حالت میں کسی چیز کا رواج عام اس کے برحق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ کوئی چیز برحق ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ دلائل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ رواجی عمل کی بنیاد پر۔

دنیا کو اللہ نے امتحان گاہ بنایا۔ انسان پر اپنی مرضی جبراً مسلط کرنے کے بجائے یہ طریقہ اختیار کیا کہ انسان کو صحیح اور غلط کا علم دیا اور یہ معاملہ انسان کے اوپر چھوڑدیا کہ وہ صحیح کو لیتاہے یا غلط کو۔ اس کامطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں دلیل(حجت) خدا کی نمائندہ ہے۔ آدمی جب ایک سچی دلیل کے آگے جھکتاہے تو وہ خدا کے آگے جھکتاہے۔اور جب وہ ایک سچی دلیل کو ماننے سے انکار کرتاہے ہو تو وہ خدا کو ماننے سے انکار کرتاہے۔

جب آدمی دلیل کے آگے نہیں جھکتا تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہش سے اوپر اٹھ نہیں پاتا۔ وہ باطل کو حق کہنے کے ليے کھڑا ہوجاتاہے تاکہ اپنے عمل کو جائز ثابت کرسکے۔ اس کی ڈھٹائی اس کو یہاںتک لے جاتی ہے کہ وہ خدا کی نشانیوں کو نظر انداز کردے۔ وہ اس بات سے بے پروا ہوجاتاہے کہ خدا اس کو بالآخر پکڑنے والا ہے۔ وہ دوسری دوسری چیزوں کو وہ اہمیت دیتاہے جو اہمیت صرف خدا کو دینا چاہيے۔

Al-An'aam 6:149Listen in Qur'an →
150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَ هَٰذَا ۖ فَإِن شَهِدُوا۟ فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ

کہو کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو بتائیں کہ خدا نے یہ چیزیں حرام کی ہیں پھر اگر وہ (آ کر) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور (بتوں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں

حق کی بے آمیز دعوت ہمیشہ اپنے ماحول میں اجنبی دعوت ہوتی ہے۔ ایک طرف مروجہ دین ہوتاہے جس کو تمام اجتماعی اداروں میں غلبہ کا مقام حاصل ہوتا ہے۔ صدیوں کی روایات اس کو باوزن بنانے کے لیے اس کی پشت پر موجود ہوتی ہیں۔ دوسری طرف حق کی دعوت ہوتی جو ان تمام اضافی خصوصیات سے خالی ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں لوگوں کے لیے سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ جس دین کو اتنا درجہ اور اتنی مقبولیت حاصل ہو وہ دین خدا کی پسند کے مطابق نہ ہوگا۔ لوگ فرض کرلیتے ہیں کہ مروجہ دین کا اتنا پھیلاؤ اسی ليے ممکن ہوسکا کہ خدا کی مرضی اس کے شامل حال تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کو یہ پھیلاؤ کبھی حاصل نہ ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ جس دین کو خدا کی دنیا میں ہر طرف بلند مقام حاصل ہووہ خدا کا پسندیدہ دین ہوگا یا وہ دین جس کو خدا کی دنیا میں کہیں کوئی مقام حاصل نہیں۔

مگر حق وباطل کا فیصلہ حقیقی دلائل پر ہوتا ہے، نہ کہ اس قسم کے قیاسات پر۔ خدا نے اس دنیا کو امتحان گاہ بنایا ہے۔یہاں آدمی کو یہ موقع ہے کہ وہ جس چیز کو چاہے اختیار کرے اور جس چیز کو چاہے اختیار نہ کرے۔ یہ معاملہ تمام تر آدمی کے اپنے اوپر منحصر ہے۔ ایسی حالت میں کسی چیز کا رواج عام اس کے برحق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ کوئی چیز برحق ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ دلائل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ رواجی عمل کی بنیاد پر۔

دنیا کو اللہ نے امتحان گاہ بنایا۔ انسان پر اپنی مرضی جبراً مسلط کرنے کے بجائے یہ طریقہ اختیار کیا کہ انسان کو صحیح اور غلط کا علم دیا اور یہ معاملہ انسان کے اوپر چھوڑدیا کہ وہ صحیح کو لیتاہے یا غلط کو۔ اس کامطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں دلیل(حجت) خدا کی نمائندہ ہے۔ آدمی جب ایک سچی دلیل کے آگے جھکتاہے تو وہ خدا کے آگے جھکتاہے۔اور جب وہ ایک سچی دلیل کو ماننے سے انکار کرتاہے ہو تو وہ خدا کو ماننے سے انکار کرتاہے۔

جب آدمی دلیل کے آگے نہیں جھکتا تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہش سے اوپر اٹھ نہیں پاتا۔ وہ باطل کو حق کہنے کے ليے کھڑا ہوجاتاہے تاکہ اپنے عمل کو جائز ثابت کرسکے۔ اس کی ڈھٹائی اس کو یہاںتک لے جاتی ہے کہ وہ خدا کی نشانیوں کو نظر انداز کردے۔ وہ اس بات سے بے پروا ہوجاتاہے کہ خدا اس کو بالآخر پکڑنے والا ہے۔ وہ دوسری دوسری چیزوں کو وہ اہمیت دیتاہے جو اہمیت صرف خدا کو دینا چاہيے۔

Al-An'aam 6:150Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.