Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 81–90 of 165

81

وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ عَلَيْكُمْ سُلْطَٰنًۭا ۚ فَأَىُّ ٱلْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِٱلْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکرڈروں جب کہ تم اس سے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)

(آیت) ” نمبر 80 تا 81۔

جب انسان کی فطرت راہ سلامتی سے ہٹ جاتی ہے تو وہ گمراہ ہو کر غلط راستوں پر پڑجاتی ہے ۔ وہ ان راستوں پر بہت دور نکل جاتی ہے ۔ اب زاویہ کشادہ ہوتا چلا جاتا ہے اور اس کے بازو ایک دوسرے سے دور ہوتے جاتے ہیں ۔ جس نقطے سے یہ فطرت راہ مستقیم سے ہٹ جاتی ہے وہ دور رہ جاتا ہے ۔ خود انسان اس راہ سے اتنا دور نکل جاتا ہے کہ اس کے لئے لوٹنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس قوم کو دیکھو ‘ یہ بتوں ‘ ستاروں اور سیاروں کی پرستش کررہے ہیں لیکن وہ اس تبدیلی اور تغیر کو محسوس کرنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں نمودار ہوئی ۔ اگر وہ معمولی غور وفکر بھی کرتے تو وہ اسے محسوس کرنے لگتے ۔ اس کے بجائے انہوں نے الٹا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے مجادلہ شروع کردیا اور احتجاج شروع کردیا ‘ حالانکہ وہ خود نہایت ہی بودے تصورات کے حامل تھے اور واضح طور پر گمراہ تھے ۔

لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پکے مومن تھے ‘ اپنے دل و دماغ میں اور پوری کائنات میں اللہ کو پا رہے ہیں اور وہ پورے قلبی اطمینان کے ساتھ ان کو جواب دیتے ہیں۔

(آیت) ” وَحَآجَّہُ قَوْمُہُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّیْ فِیْ اللّہِ وَقَدْ ہَدَانِ (6 : 80)

” تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو ‘ میں نے تو محسوس کیا ہے کہ وہ ہاتھ پکڑ کر مجھے راہ راست پر لا رہا ہے ‘ ‘ میری چشم بصیرت کھول رہا ہے ‘ وہ اپنی طرف مجھے بلا رہا ہے ۔ مجھے اپنی معرفت نصیب کر کے اپنا مقرب بنا رہا ہے ۔ جب اس نے میرے ہاتھ پکڑ کر مجھے ہدایت دی تو وہ موجود ہے ‘ یہ میرے لئے نفسیاتی اور وجدانی دلیل ہے ۔ میں اپنے ضمیر میں اسے پاتا ہوں ‘ میں اپنے فہم کے مطابق اس کے بارے میں سوچتا ہوں اور میں اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں اسے دیکھتا ہوں ۔ ایک بات جو میری نفسیات اور میری ضمیر و شعور میں موجود ہے کیا اس کے بارے میں تم مجھ سے الجھتے ہو ؟ میں نے کب تم سے دلیل طلب کی ہے ؟ اس نے خود مجھے اپنی طرف راہنمائی دی ہے اور یہی میری دلیل ہے ۔

(آیت) ” وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِکُونَ بِہِ “ (6 : 80)

” اور میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا۔ “

وہ شخص جس نے اللہ کو پالیا ہو ‘ ہو شریکوں سے کیسے ڈرسکتا ہے ۔ وہ کس سے ڈرے اور کیوں ڈرے ؟ اللہ کے سوا تمام قوتیں ہیچ ہیں اور اللہ کی بادشاہت کے سوا تمام بادشاہتیں اس قابل ہی نہیں کہ ان سے خوف کھایا جائے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے پختہ ایمان اور اللہ کے مطیع فرمان ہونے کے باوجود کسی بات کو ماسوائے مشیت الہی دو ٹوک انداز میں نہ کہتے تھے ۔ وہ ہر معاملے میں الا ماشاء اللہ کہتے تھے اور ہر بات کو اللہ کے علم کی طرف لوٹاتے تھے ۔

(آیت) ” إِلاَّ أَن یَشَاء َ رَبِّیْ شَیْْئاً وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً (6 : 80)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جانب سے حمایت ورعایت کو اللہ کی مشیت پر چھوڑتے ہیں اور اعلان فرماتے ہیں کہ وہ مشرکین کے الہوں سے ذرہ بھر خوف نہیں کھاتے کیونکہ ان کا تکیہ اللہ کی حفاظت وحمایت پر ہے ۔ انہیں پورا یقین ہے کہ انہیں اس وقت تک کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی جب تک اللہ نہ چاہے اور اللہ علیم ہے اور اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے ۔

(آیت) ” وَکَیْْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَکْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّکُمْ أَشْرَکْتُم بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ عَلَیْْکُمْ سُلْطَاناً فَأَیُّ الْفَرِیْقَیْْنِ أَحَقُّ بِالأَمْنِ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ (81)

ٍ ” اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈرو جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے بتاؤ اگر تم علم رکھتے ہو۔ “

یہ اس شخص کا …

Al-An'aam 6:81Listen in Qur'an →
82

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَمْ يَلْبِسُوٓا۟ إِيمَٰنَهُم بِظُلْمٍ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے امن (اور جمعیت خاطر) ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں

وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کرلیا اور اس ایمان میں انہوں نے کسی قسم کے شرک کو نہ ملایا ۔ نہ غیر اللہ کی اطاعت کی اور نہ اسلام کے سوا کوئی اور رخ اختیار کیا تو ایسے ہی لوگ مطمئن اور مامون رہیں گے اور صرف ایسے ہی لوگ راہ ہدایت پا سکتے ہیں ۔

یہی وہ محبت تھی جس کے ذریعے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ توفیق دی گئی کہ انہوں نے اپنے ساتھ مجادلہ کرنے والوں کے تمام دلائل کو رد کردیا ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ ان کے تمام دلائل بودے ہیں ‘ الہوں کے بارے میں ان کے تمام تصورات غلط ہیں اور ان کا یہ وہم بھی فرضی ہے کہ انکے الہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وکئی گزند پہنچا سکتے ہیں ۔ یہ بات اپنی جگہ مسلم تھی کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکر نہ تھے اور نہ اس بات کے منکر تھے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات میں قوت اور حکومت اور اقتدار کا مالک ہے ۔ غلطی صرف یہ تھی کہ وہ لوگ اپنے ان الہوں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے ۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سامنے یہ بات رکھی کہ جو شخص صرف اللہ وحدہ پر یقین رکھتا ہے وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ۔ اللہ کے سوا اوروں سے تو اس شخص کو ڈرنا چاہئے جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتا ہے ۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سامنے یہ حقیقت رکھی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ڈال دی تھی تو ان کے تمام مقابلے میں برتر وسربلند ہوگئے ۔ یوں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مقام اور درجہ بلند کردیتا ہے اور یہ اللہ کے تصرفات ہیں اس کی حکمتوں کے تقاضوں کے مطابق ۔

Al-An'aam 6:82Listen in Qur'an →
83

وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيْنَٰهَآ إِبْرَٰهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِۦ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے

(آیت) ” نمبر 83۔

قبل اس کے کہ ہم آیات زیر بحث کو چھوڑ کر آگے بڑھیں ‘ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کی زندگی کے کچھ خوشگوار واقعات ناظرین کے سامنے رکھو ۔ ان پر قرآن کریم باران رحمت کی طرح اثر کر رہا تھا اور ان کے نفوس اس سے خوب سیراب ہو رہے تھے ۔ وہ اس قرآن کے ساتھ زندہ تھے اور قرآن کے لئے زندہ تھے ۔ وہ اپنی زندگی کو قرآن کریم کے اشاروں ‘ اس کے مفہومات ومدلولات کے ساتھ بدلتے اور ہم آہنگ کرتے چلے جاتے تھے ۔ اس کے تقاضوں کو پورے کرتے چلے جاتے تھے اور وہ نہایت ہی سنجیدگی ‘ نہایت ہی فہم و فراست اور نہایت ہی سختی کے ساتھ اسے لیتے تھے ۔ قرآن کریم کی خوبصورتی ‘ اثر آفرینی عملیت اور سنجیدگی کو دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ یہ امر حیران کن ہے کہ قرآن نے گروہ صحابہ کے اندر کس قدر خارق العادت تبدیلی پیدا کی کہ صرف 25 سال کے اندر اندر یہ معجزہ رونما ہوا جس کی کوئی مثال تاریخ میں نہیں ۔ یہ اس لئے ہوا کہ گروہ صحابہ ؓ اجمعین نہایت ہی محیرالعقول لوگ تھے ۔ ابن جریر نے ‘ اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ابن ادریس سے روایت کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری ۔

(آیت) ” الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَلَمْ یَلْبِسُواْ إِیْمَانَہُم بِظُلْم “۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہ ملایا ۔ “ تو یہ بات صحابہ کرام پر بہت ہی گراں گزری ۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے نفس پر ظلم نہ کیا ہو ۔ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اس طرح نہیں جس طرح تم لوگ گمان کرتے ہو ‘ یہ تو اس طرح ہے جس طرح حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا ۔

(آیت) ” لاتشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم “۔ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ بیشک شرک ظلم عظیم ہے ۔ “ انہوں نے اپنی سند کے ساتھ ابو الاشعری ‘ عبدی اور اس کے باپ سے نقل کیا ہے کہ زید ابن ہومان نے سلمان سے پوچھا : اے ابو عبداللہ اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت نے میرا برا حال بنا دیا ہے ۔

(آیت) ” الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَلَمْ یَلْبِسُواْ إِیْمَانَہُم بِظُلْم “۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہ ملایا ۔ “ تو سلمان نے کہا کہ یہ تو اللہ کے ساتھ شرک ہے اور اس کا ذکر اللہ نے کیا ہے ۔ زید نے کہا کہ آپ سے یہ سن کر مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ کل رات میری جس قدر دولت تھی اگر اسی قدر مجھے اور بھی مل جائے تو اتنی خوشی نہ ہوتی ۔

ان تین روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحابہ کا معزز گروہ قرآن کریم کے بارے میں کس قدر حساس تھا اور ان کی زندگی پر قرآن کس قدر عملا اثر انداز ہوتا تھا اور کس طرح وہ قرآن کریم کو لیتے تھے ؟ “ اس طرح کہ یہ ایسے احکام ہیں جن کا فی الفور نافذ کرنا ضرروی ہے ۔ اور یہ ایسی ہدایات اور ایسے فیصلے ہیں جن کی اطاعت ضروری ہے ۔ کیونکہ یہ آخری احکام اور فیصلے ہیں اور جب وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ ان کی وسعت و طاقت اور مطلوبہ احکام کے درمیان فرق ہے اور ان کے لئے ان احکام کانفاذ ممکن نہ رہے گا تو وہ بےچین ہوجاتے تھے اور اللہ اور رسول ان احکام میں رعایت اور نرمی فرما دیتے تھے ۔ یہ وہ مناظر ہیں جو آنکھوں کو خیرہ کردیتے ہیں ۔ یہ ہیں ان لوگوں کے حالات جو اس دین کے حاملین تھے ۔ وہ ایسا پردہ تقدیر الہی تھے اور وہ دستہ تھے جو مشیت الہی کے نفاذ کے لئے منتخب کیا گیا تھا اور یہ مشیت سب سے پہلے انہوں نے اپنی زندگی میں نافذ کی تھی ۔

اب سیاق کلام میں اس عظیم قافلہ ایمان کا ذکر آتا ہے جس قائدین انبیاء ورسل تھے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے خاتم النبیین تک ان سب پر اللہ کی اللہ کی رحمتیں نازل ہوں ۔ یہ طویل قافلہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے ۔ خصوصا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ان حضرات کے تذکرے میں تاریخی تسلسل کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر نظر آتا ہے کیونکہ یہاں …

Al-An'aam 6:83Listen in Qur'an →
84

وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے۔ (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں

(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔

(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)

” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔

(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)

” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔

(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)

” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور

(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)

” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :

(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)

” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔

(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)

” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “

یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی …

Al-An'aam 6:84Listen in Qur'an →
85

وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّۭ مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی۔ یہ سب نیکوکار تھے

(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔

(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)

” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔

(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)

” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔

(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)

” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور

(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)

” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :

(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)

” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔

(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)

” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “

یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی …

Al-An'aam 6:85Listen in Qur'an →
86

وَإِسْمَٰعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًۭا ۚ وَكُلًّۭا فَضَّلْنَا عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضلیت بخشی تھی

(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔

(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)

” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔

(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)

” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔

(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)

” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور

(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)

” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :

(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)

” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔

(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)

” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “

یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی …

Al-An'aam 6:86Listen in Qur'an →
87

وَمِنْ ءَابَآئِهِمْ وَذُرِّيَّٰتِهِمْ وَإِخْوَٰنِهِمْ ۖ وَٱجْتَبَيْنَٰهُمْ وَهَدَيْنَٰهُمْ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور بعض بعض کو ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا اور سیدھا رستہ بھی دکھایا تھا

(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔

(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)

” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔

(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)

” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔

(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)

” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور

(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)

” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :

(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)

” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔

(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)

” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “

یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی …

Al-An'aam 6:87Listen in Qur'an →
88

ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهْدِى بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا۟ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے۔ اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے

(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔

(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)

” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔

(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)

” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔

(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)

” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور

(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)

” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :

(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)

” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔

(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)

” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “

یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی …

Al-An'aam 6:88Listen in Qur'an →
89

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ۚ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَٰٓؤُلَآءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًۭا لَّيْسُوا۟ بِهَا بِكَٰفِرِينَ

یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم (شریعت) اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کے لئے) ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں

(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔

(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)

” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔

(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)

” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔

(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)

” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور

(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)

” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :

(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)

” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔

(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)

” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “

یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی …

Al-An'aam 6:89Listen in Qur'an →
90

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ ۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقْتَدِهْ ۗ قُل لَّآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَٰلَمِينَ

یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لئےمحض نصیحت ہے

(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔

(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)

” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔

(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)

” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔

(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)

” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور

(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)

” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :

(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)

” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔

(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)

” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “

یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی …

Al-An'aam 6:90Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.