قُلْ أَنَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰٓ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ كَٱلَّذِى ٱسْتَهْوَتْهُ ٱلشَّيَٰطِينُ فِى ٱلْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُۥٓ أَصْحَٰبٌۭ يَدْعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلْهُدَى ٱئْتِنَا ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلْهُدَىٰ ۖ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
کہو۔ کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا۔ اور جب ہم کو خدا نے سیدھا رستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہو رہا ہو) اور اس کے کچھ رفیق ہوں جو اس کو رستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ۔ کہہ دو کہ رستہ تو وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے۔ اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدائے رب العالمین کے فرمانبردار ہوں
(آیت) ” نمبر 71۔
اس سورة میں بار بار مضراب قل سے ضربات لگائی جارہی ہیں ۔ یہ نہایت ہی پرتاثیر طرز خطا ہے جس سے یہ تاثر دیا جانا مطلوب ہے کہ حلال و حرام کے حدود وقیود کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے اور رسول اللہ ﷺ تو محض مبلغ اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں ۔ اس انداز کلام سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ نہایت ہی اہم ‘ بڑا اور خوفناک ہے ۔ یہ تصورات جو رسول خدا ﷺ پیش فرما رہے ہیں یہ ان کی ڈیوٹی ہے اور انہیں خدا کی جانب سے امر ہے کہ وہ ایسا کریں ۔
(آیت) ” قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَنفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنا “۔ (6 : 71)
اے نبی ﷺ ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان ؟ ۔ “
لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پکارتے تھے اور ان سے امداد طلب کرتے تھے ۔ انکی اس حرکت کو برا سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ان سے صاف صاف کہہ دو کہ تم نے جو ان لوگوں کی اطاعت اختیار کر رکھی ہے وہ تمہارے نفع ونقصان کے مالک ہی نہیں ۔ تم ان لوگوں کو کیوں پکارتے ہو ؟ غیر اللہ سے مراد یہاں ‘ بت ‘ آستانے بھی ہیں ‘ درخت وپتھر بھی ہیں ‘ روحانی مخلوق اور فرشتے بھی ہیں اور انسان و شیاطین بھی ہیں ۔ یہ سب کے سب اس لحاظ سے برابر ہیں کہ ان کے قبضے میں کسی کا نفع ونقصان نہیں ہے ۔ وہ اس پوزیشن سے بہت دور ہیں کہ کسی کو نفع ونقصان پہنچا سکیں ۔ اس دنیا میں تمام حرکات و سکنات اور سب کا نفع ونقصان اللہ کی تقدیر کے مطابق ظاہر ہوتا ہے ۔ اللہ کا اذن نہ ہو تو کوئی واقعہ نہیں ہو سکتا اور جو کچھ واقعہ ہوجاتا ہے وہ اللہ کی تقدیر اور راضا کے مطابق ہوتا ہے ‘ اللہ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے ۔
غیر اللہ کو پکارنا ‘ غیر اللہ کی بندگی کرنا اور غیر اللہ سے استعانت طلب کرنا قابل نفرت کام ہے ۔ غیر اللہ کے سامنے عاجزی کرنا اور اللہ کے سوا دوسروں کے لئے تمام ایسے نظریات اور اعمال کھوٹے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تردید ونکیر ان باتوں کو دیکھ کر ہو جس پر مشرکین عمل پیرا تھے یا یہ تردید ان کی اس تجویز کی تردید کرتے ہوئے آئی ہو جس میں وہ لوگ تجویز کرتے تھے کہ ہم حضور ﷺ کے خدا کی عبادت شروع کردیں گے بشرطیکہ حضور ﷺ ہمارے الہوں کی عبادت میں شریک ہوں ۔ بہرحال یہ ازخود تردید ہو یا ان کی کسی تجویز کا رد ہو دونوں صورتوں میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مشرکین کے ساتھ مکمل نظریاتی قطع تعلق کرلیں ۔ مشرکین کے نظریات اور عمل دونوں عقل انسانی کی رو سے نہایت کمزور اور بودے ہیں بشرطیکہ روشن فکری کے ماحول میں عقل کو دعوت فکر دی جائے اور رسم و رواج اور موروثی روایات کی تہوں کے نیچے عقل دبی ہوئی نہ ہو جیسا کہ حضور ﷺ کے دور میں لوگوں کا شعور ماحول میں دبا ہو اتھا ۔
ان مشرکانہ معتقدات اور اعمال کو یہاں ان ہدایات کی روشنی میں پیش کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دیں تاکہ اسلامی ہدایات کے بالمقابل ان کا کھوٹ اور ان کا قابل نفرت ہونا اچھی طرح واضح ہوجائے ‘ کیونکہ اللہ نے یہ ہدایت دی ہے کہ صرف اللہ وحدہ کی عبادت کی جائے صرف اسے ہی الہ اور حاکم تسلیم کیا جائے اور بلا شرکت غیرے اس کے تجویز کردہ نظام زندگی کو قبول کیا جائے ۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ۔ ” اے نبی ﷺ ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ “ اگر ہم ایسا کریں تو یہ صحیح معنوں میں ارتداد ہوگا ‘ الٹے پاؤں پھرنا ہوگا ‘ رجعت پسندی ہوگی ۔ ترقی پسندی اور آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے لوٹنا ہوگا ‘ کیونکہ اسلام نام ہی ترقی پسندی کا ہے ۔
(آیت) ” وَنُرَدُّ عَلَی أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَانَا اللّہُ “ (6 : 71)
” اور جب اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم الٹے پاؤں پھرجائیں ؟ ۔
اس کے بعد ایک اور متحرک اور مشخص منظر اسکرین پر آتا ہے ۔ …