Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 31–40 of 165

31

قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةًۭ قَالُوا۟ يَٰحَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ ۚ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ

جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے

(آیت) ” قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِلِقَاء اللّہِ حَتَّی إِذَا جَاء تْہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً قَالُواْ یَا حَسْرَتَنَا عَلَی مَا فَرَّطْنَا فِیْہَا (6 : 31)

” نقصان میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا ۔ جب اچانک وہ گھڑی آجائے گی تو یہی لوگ کہیں گے ” افسوس ! ہم سے اس معاملے میں کیسی تقصیر ہوئی “۔ یقینا یہ عظیم خسارہ ہوگا ‘ دنیا میں انہوں نے گھٹیا اور منچلے در کے کی زندگی گزاری اور آخرت میں تو حال وہ ہوگا جس کا تذکرہ ہوا ۔ اب اچانک وہ گھڑی آپہنچی جس کی توقع ان غفلت شعاروں کو نہ تھی اور جو اسے شمار ہی میں نہ لاتے تھے ۔ لیکن ” جب وہ گھڑی آجائے گی تو یہی لوگ کہیں گے ’ ؓ اجمعینافسوس کہ اس معاملے میں ہم سے کیسی تقصیر ہوئی ۔ “ ۔

اب ان لوگوں کا اگلا منظر ملاحظہ فرمائیں ۔ یہ لوگ یوں نظر آتے ہیں جس طرح بار برداری کے ایسے جانور جس پر بھاری بوجھ لدا ہو ۔

(آیت) ” وَہُمْ یَحْمِلُونَ أَوْزَارَہُمْ عَلَی ظُہُورِہِمَْ (31)

” اور ان کا حال یہ ہوگا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے ۔ “ بلکہ

بلکہ جانور تو ان کے مقابلے میں بہتر ہیں کیونکہ یہ بار برداری سے متعلق ہیں اور بوجھ اٹھاتے ہیں لیکن یہ لوگ جرائم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے ۔ جانور اپنے بوجھ کو منزل تک پہنچا کر آرام کرتے ہیں اور یہ لوگ گناہوں کو بوجھ اٹھائے ہوئے وارد جہنم ہوں گے اور ان کو تو مجرم قرار دے کا وہاں بھیجا جائے گا ۔

(آیت) ” أَلاَ سَاء مَا یَزِرُونَ (31) ” دیکھو کیسا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں ۔ “ اب اس پیراگراف کا آخری بند آتا ہے ‘ خسارے اور ہلاکت کے اس منظر میں اور خوف وہراس کے ان حالات میں بات ختم ہوتی ہے ۔ اللہ ترازو میں ایک طرف دنیا کا وزن ہے اور دوسری جانب آخرت کی قدر و قیمت رکھی جاتی ہے اور اقدار کو یوں تولا جاتا ہے :

Al-An'aam 6:31Listen in Qur'an →
32

وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا لَعِبٌۭ وَلَهْوٌۭ ۖ وَلَلدَّارُ ٱلْءَاخِرَةُ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغولہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں

(آیت) ” وَمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلاَّ لَعِبٌ وَلَہْوٌ وَلَلدَّارُ الآخِرَۃُ خَیْْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُونَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ (32)

” دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے ‘ حقیقت میں آخرت کا مقام ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں ۔ پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لوگے ؟ “

اللہ کے پیمانے کے مطابق حیات دنیا اور حیات اخروی کا یہ وزن ہے اور یہ حقیقی وزن ہے ۔ اس چھوٹے سے کرے پر جس کا نام زمین ہے ۔ ایک گھنٹے کی زندگی کی کیا حقیقت ہو سکتی ہے ۔ یہ لہو ولعب ہی ہو سکتا ہے ۔ خصوصا جب اس کا موازنہ عالم آخرت کی طویل اور ابدی زندگی سے کیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ عالم آخرت کے مقابلے میں اسے لہو ولعب ہی کہا جاسکتا ہے اس لئے کہ وہ ابدی اور دوامی زندگی ہے اور جنت بہت ہی کشادہ ہے ۔

یہ تو ہے اس دنیا کی حقیقی قدروقیمت بمقابلہ آخرت لیکن اسلامی تصور حیات نے اس مختصر دنیا کو بھی مہمل نہیں چھورا اور نہ ہی اس کے ساتھ منفی رویہ اختیار کیا ہے اور نہ ہی ترک دنیا کی تعلیم دی ہے ۔ تصوف اور زاہدانہ زندگی کے بعض مناظر میں جو ترک دنیا اور رہبانیت نظر آتی ہے اس کا سرچشمہ اسلامی تصور حیات نہیں ہے ۔ یہ چیزیں اسلامی تصور حیات میں کنیسہ اور رہبانیت کے راستے داخل ہوئی ہیں یا اہل فارس کے بعض اداروں سے در آئی ہیں یا بعض ہندوانہ اور یونانی تصورات کی وجہ سے آئی ہیں ۔ اس وقت جب دوسرے معاشروں کی ثقافتوں کو اسلامی معاشرے میں منتقل کیا گیا ۔

اسلامی تصور حیات کے مطابق عملی زندگی کا مکمل نمونہ صحابہ کرام تھے ۔ انہوں نے دنیا کے حوالے سے کوئی منفی رویہ اختیار نہیں کیا اور نہ ہی ترک دنیا کا راستہ اختیار کیا ۔ انہوں نے اپنے نفوس کے اندر پائے جانے والے شیطانی نفس پر قابو پایا ۔ انہوں نے کرہ ارض پر غالب نظام جاہلیت کو مغلوب کیا۔ ان نظاموں میں حق حاکمیت خدا کے بجائے دوسرے سرداروں اور بادشاہوں کو حاصل تھا ۔ صحابہ کرام ؓ اجمعین میزان الہی کے مطابق اس دنیاوی زندگی کی اصل قدر و قیمت بھی سمجھتے تھے ۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی میں آخرت کے لئے کام کیا اور اس دنیا کے حوالے سے بھی مثبت رویہ کا اختیار کیا ۔ انہوں نے معاملات حیات میں سرگرمی سے حصہ لیا اور جوش و خروش کے ساتھ معاملات دنیا طے کئے اور دنیاوی زندگی کے ہر پہلو پر انہوں نے کام کیا ۔ لیکن صحابہ کرام ؓ اجمعین کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے دنیا کی حقیقت کی تعلیم نے بہت ہی فائدہ دیا ۔ اس لئے وہ دنیا ہی کے بندے نہ بنے بلکہ انہوں نے آخرت کے لئے بھی کام کیا ۔ وہ دنیا پر سوار تھے ‘ دنیا ان کے اوپر سوار نہ تھی ۔ انہوں نے دنیا کو اپنا غلام بنا کر اسے ذلیل کیا اور خود دنیا کے غلام بن کر انہوں نے دنیا کی سلطنت کی ماتحتی اختیار نہ کی ۔ وہ اس دنیا پر اللہ کی جانب سے نائب اور خلیفہ رہے انہوں نے حق خلافت خوب ادا کیا اور اس دنیا کی خوب تعمیر کی ۔ اس کی خوب اصلاح کی لیکن انہوں نے یہ سب رضائے الہی کے لئے کیا اور اجر اخروی کی امید پر کیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دنیا کے میدان میں بھی اہل دنیا پر ستوں سے سے آگے بڑھ گئے اور آخرت کے میدان میں تو وہ تھے ہی ان سے آگے ۔

آخرت بیشک پردہ غیب میں مستور ہے اس لئے جو شخص آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کی سوچ وسیع اور اس کا ادراک بلند ہوتا ہے اور جو لوگ عقل رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے ۔ ” حقیقت میں آخرت ہی کا مقام ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں ۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہ لوگے ؟ “

جو لوگ آج کے دور میں آخرت کے منکر ہیں اور اس لئے منکر ہیں کہ وہ پردہ غیب میں مستور ہے ‘ وہ دراصل پرلے درجے کے جاہل ہیں حالانکہ وہ دعوی علم کا کرتے ہیں اور یہ لوگ جس علم کا دعوی کرتے ہیں وہ انسانی علم ہے اور انسانی علم میں آج تک کوئی ایسی حقیقت سامنے نہیں آئی ہے کہ اسے آخری حقیقت کہا جاسکے ۔ اگر کوئی …

Al-An'aam 6:32Listen in Qur'an →
33

قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُۥ لَيَحْزُنُكَ ٱلَّذِى يَقُولُونَ ۖ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجْحَدُونَ

ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں

(آیت) ” نمبر 33۔

مشرکین عرب عموما اور قریش کا وہ طبقہ خصوصا جو دعوت اسلامی کے مقابلے میں ڈٹا ہوا تھا اور جاہلیت میں گرفتار تھا ‘ وہ حضرت محمد ﷺ کی صداقت میں شک نہ کرتا تھا ۔ یہ لوگ جانتے تھے کہ کہ آپ صادق اور امین ہیں ۔ ان کے علم میں کوئی ایک چھوٹا سا واقعہ بھی نہ تھا جس میں آپ نے جھوٹ بولا ہو کیونکہ آپ رسالت سے قبل ان میں ایک طویل زمانہ رہ چکے تھے ۔ اسی طرح جو طبقات آپ کی دعوت کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے تھے انہیں اس بات میں بھی شک نہ تھا کہ آپ بالکل سچے رسول ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے اور یہ کہ انسان اس قسم کا کلام پیش نہیں کرسکتا ۔ لیکن اس کے باوجود اپنے اس علم اور یقین کے اظہار سے انکار کر رہے تھے اور اس دین جدید میں داخل ہونے سے مسلسل انکار کرتے چلے جاتے تھے ۔ وہ یہ انکار اس لئے نہ کرتے تھے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی تکذیب کرتے تھے بلکہ وہ اس لئے یہ انکار کرتے تھے کہ اس طرح ان کے اپنے اثر ورسوخ اور ان کی معاشرتی پوزیشن پر زد پڑتی تھی ۔ یہ تھی وہ اصل بات جس کی وجہ سے انہوں نے انکار اور کفر کی راہ کو اپنا لیا تھا اور اپنے باطل شرکیہ انکار پر جمے ہوئے تھے ۔

اسلامی تاریخ اور ذخیرہ احادیث میں متعدد ایسی روایات موجود ہیں جن سے قریش اور دوسرے عربوں کی اس پالیسی کا اچھی طرح اظہار ہوتا ہے ۔ وہ لوگ قرآن کے بارے میں اپنی حقیقی رائے کو چھپاتے تھے ۔

ابن اسحاق نے ابن شہاب زہری سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ابو سفیان ابن حرب ‘ ابو جہل ابن ہشام اور بنی زہرہ کے حلیف اخنس ابن شریق ابن عمر ابن وہب ثقفی ایک رات خفیہ طور پر نکلے تاکہ حضور اکرم ﷺ سے قرآن سنیں ۔ آپ رات کو اپنے گھر میں نماز میں قرآن کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ ہر ایک کسی خفیہ جگہ بیٹھ گیا اور تلاوت سنتا رہا ۔ ان تین افراد میں سے کوئی شخص دوسرے کے بارے میں نہ جاننا تھا ۔ یہ لوگ ساری رات قرآن کریم سنتے رہے جب صبح ہوئی تو بکھر گئے ۔ راستے میں اتفاقا ایک دوسرے کو انہوں نے دیکھ لیا ۔ انہوں نے ایک دوسرے کو ملامت کی اور ایک دوسرے سے کہا کہ دوبارہ کوئی یہ حرکت نہ کرے کیونکہ اگر ہمیں عام نادان لوگوں نے دیکھ لیا تو ان کے دل میں تم اچھا تاثر نہ چھوڑو گے ۔ اس قرار داد کے بعد یہ لوگ چلے گئے ۔ جب دوسری رات آئی تو ان میں سے ہر ایک پھر آکر اپنی جگہ چھپ گیا ساری رات سنتے رہے ۔ جب صبح ہوئی تو یہ لوگ پھر بکھر گئے ۔ اتفاقا راستے میں پھر ان کی ملاقات ہوگئی ۔ انہوں نے پھر پہلی رات کی طرح ایک دوسرے کو سخت وسست کہا اور چلے گئے ۔ جب تیسری رات ہوئی تو یہ پھر اپنی اپنی جگہ آکر بیٹھ گئے اور ساری رات کلام الہی سنتے رہے ۔ جب صبح ہوئی تو پھرجانے لگے اور راستے میں انہوں نے پھر ایک دوسرے کو دیکھ لیا ۔ انہوں نے کہا ‘ ہم ایک دوسرے کو نہ چھوڑیں گے جب تک کہ ہم پختہ عہد نہ کرلیں کہ پھر اس طرف نہ آئیں گے ۔ چناچہ انہوں نے پھر نہ آنے کا باقاعدہ معاہدہ کرلیا اور چلے گئے دوسرے دن صبح ہوتے ہیں اخنس ابن شریق نے اپنا عصا لیا اور ابو سفیان ابن حرب سے ان کے گھر آ کر ملا ۔ اس نے ابو سفیان سے کہا : بتاؤ ابو حنظلہ رات کو تم نے محمد سے جو کلام سنا اس کے بارے میں تمہاری حقیقی رائے کیا ہے ؟ اس نے کہا : ” ابو ثعلبہ ! خدا کی قسم میں نے اس سے بعض ایسی باتیں سنیں جنہیں میں اچھی طرح جانتا ہوں اور ان کا مطلب بھی اچھی طرح سمجھتا ہوں اور بعض باتیں میں نے ایسی بھی سنی ہیں کہ جن کے معنی و مراد کو میں نہیں سمجھا ہوں ۔ “ اخنس نے کہا : ” اس خدا کی قسم جس کے نام پر میں نے حلف لیا ۔ میرا بھی یہی حال ہے ۔ اب اخنس ان کے ہاں سے نکلا اور ابوجہل کے پاس آیا ‘ اس کے گھر گیا ۔ اور اسے کہا ابو الحکم ! تم بتاؤ محمد سے تم نے جو کلام سنا اس کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے ؟ ابو جہل نے کہا : ” میں نے کہا سنا ؟ “ اور پھر کہا : ” ہمارا اور عبد مناف کا ہمیشہ …

Al-An'aam 6:33Listen in Qur'an →
34

وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌۭ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُوا۟ عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا۟ وَأُوذُوا۟ حَتَّىٰٓ أَتَىٰهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِ ٱللَّهِ ۚ وَلَقَدْ جَآءَكَ مِن نَّبَإِى۟ ٱلْمُرْسَلِينَ

اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)

(آیت) ” نمبر 34۔

خدا پرستی کی دعوت ایک قدیم دعوت ہے ۔ تاریخ قدیم کی دور دراز وادیوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔ یہ راہ بالکل سیدھی ہے اور بالکل واضح ہے ۔ اس کے خطوط بالکل سیدھے ہیں ۔ اس پر چلنے والے پاؤں ہمیشہ ثابت قدم رہے ہیں ۔ مختلف قسم کے جرائم پیشہ لوگوں نے اس راہ کو روکنے کی کوشش کی ہے ۔ نیز گمراہوں اور ان کے شدید ترین پیروکاروں نے اس دعوت کی راہ ہمیشہ روکی ہے ۔ اس راہ میں کئی داعیوں کو سخت مشکلات سے دو چار ہونا پڑا ۔ خون دینا پڑا اور جان دینی پڑی لیکن قافلہ داعیان حق نے ہمیشہ اپنا سفر بالکل سیدھی سمت میں جاری رکھا ۔ یہ قافلہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس سیدھی راہ سے ادھر ادھر نہ ہوا ۔ نہ اس نے اس راہ کو چھوڑ کر روگردانی اختیار کی ۔ لیکن انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے اور آخر کار اللہ کی نصرت صرف اللہ کے اصولوں اور فیصلوں کے مطابق آتی ہے ۔

” تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں ‘ مگر اس تکذیب پر اور ان اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں ‘ انہوں نے صبر کیا ‘ یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی ۔ اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے اور پچھلے رسولوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمہیں پہنچ ہی چکی ہیں ۔ “

یہ وہ الفاظ ہیں جو اللہ کی جانب سے اپنے رسول کو کہے جارہے ہیں ۔ یہ ایک یاد دہانی ہے اور ایک گونہ تسلی ہے ۔ ہمدردی اور تسلی کا ہاتھ آپ کے سرپر پھیرا جارہا ہے ۔ اور ان الفاظ کے اندر حضور اکرم ﷺ کے بعد آنے والے داعیوں کے بھی نقوش راہ واضح ہیں ۔ ایک واضح راستہ دکھایا جاتا ہے ‘ ان کا کردار بھی ان کے لئے متعین کردیا جاتا ہے اور آگاہ کردیا جاتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کہنے سے مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ سکتے ہیں اور جو مشکلات پہلے لوگوں کو پیش آئیں وہ ہر داعی حق کی راہ میں آتی ہیں ۔

یہ الفاظ داعیان حق کو بتاتے ہیں کہ دعوت حق کے لئے سنت الہیہ ایک ہی ہے اور دعوت حق بھی ایک ہی ہے ۔ اس میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی دعوت ہے کہ اکثر لوگ اس کی تکذیب کرتے ہیں اور مکذبین کی روش ہمیشہ ایسی ہی رہی ہے ‘ اس دعوت کے حاملین کو ہمیشہ اذیت دی جاتی رہی ہے اور اس تکذیب اور ایذا رسانی پر داعیوں کو صبر کرنا پڑتا ہے اور پھر صبر کے مرحلے کے بعد آخر کار داعیوں کو فتح و کامرانی نصیب ہوتی ہے ۔ لیکن نصرت اللہ کے طے کردہ اصولوں کے مطابق اور اپنے وقت پر آتی ہے ۔ یہ نصرت محض اس لئے قبل از وقت نہیں آجاتی کہ کچھ پاک طینت اور بےگناہ داعیوں کو جھٹلایا جاتا ہے اور انہیں اذیت دی جاتی ہے ۔ یا یہ کہ گمراہ لوگ اور گمراہی کے لیڈر ان پاک طینت لوگوں کو اذیت دینے پر قادر ہیں ۔ نیز یہ امر بھی سنت الہیہ کی رفتار کو تیز نہیں کرسکتا کہ ایک مخلص ‘ ذاتی خواہشات سے پاک وصاف ‘ نہایت ہی پاک طینت کارکن اور داعی اپنے دل کے اندر شدید خواہش رکھتا ہے کہ اس کی قوم راہ راست پر آجائے اور وہ اس حقیقت پر بہت ہی فکر مند اور دل گرفتہ ہے کہ اس کی قوم ضلالت میں گری ہوئی ہے اور یہ کہ اس کی قوم دنیا کی تباہی اور آخرت کے عذاب کی راہ پر چل پڑی ہے ۔ یہ تمام امور سنت الہیہ کو قبل از وقت ظاہر نہیں کرسکتے ۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی جلد بازی کی وجہ سے اپنے کسی کام میں جلد بازی نہیں کرتا ۔ اور اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے ۔ چاہے ان کلمات کا تعلق عباد صالحین کی آخری فتح سے ہو یا ان کے متعلق کسی طے شدہ تقدیر سے ہو ۔

یہ ایک فیصلہ کن دو ٹوک اور سنجیدہ فیصلہ ہے ۔ اس کا مقصد حضور ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلانا ہے اور مشکلات راہ پر آپ کے ساتھ ہمدردی اور یک جہتی کا اظہار ہے ۔

اب یہ سنجیدہ فیصلہ اپنے اثرات کو اپنی آخری ممکن حدوں تک پہنچاتا ہے ۔ ان خدشات کی راہ بھی روک دی جاتی ہے جو ممکن تھا کہ حضور ﷺ کے دل میں پیدا ہوجائیں ۔ اس لئے کہ فطری طور پر ایک انسان یہ چاہتا ہے کہ اس کی قوم سدھر جائے اور ایک رسول تو پوری …

Al-An'aam 6:34Listen in Qur'an →
35

وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ ٱسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِىَ نَفَقًۭا فِى ٱلْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًۭا فِى ٱلسَّمَآءِ فَتَأْتِيَهُم بِـَٔايَةٍۢ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى ٱلْهُدَىٰ ۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْجَٰهِلِينَ

اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا

(آیت) ” نمبر 35 تا 36۔

نہایت ہی شاہانہ انداز کے درمیان سے خوف کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ۔ کوئی ان الفاظ کی ہولناکی اور اس معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ اس حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ نہ رکھے کہ یہ الفاظ رب العالمین کی طرف سے ہیں اور ان کیساتھ اللہ رب العالمین نے اپنے نبی کو مخاطب کیا ہے جن کی صفات میں صابر ہونا اور اولوالعزم رسولوں میں سے ہونا اہم صفات ہیں ۔ جنہوں نے نہایت ہی صبر اور خلوص کے ساتھ اپنی قوم کی جانب سے پہنچنے والی ایذاؤں کو برداشت کیا ۔ آپ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح ان کو بددعا نہ دی حالانکہ ایک زمانہ ان کی تیش ذنیاں سہتے رہے ۔ اور نہایت ہی صبر اور حلم کا مظاہرہ فرماتے رہے ۔

اے محمد ! یہ تو ہماری سنت ہے ۔ اگر ان لوگوں کی بےرخی اور ان کی جانب سے مسلسل تکذیب آپ برداشت نہیں کرسکتے اور آپ بہرحال انہیں کوئی معجزہ ہی دکھانا چاہتے ہیں تو پھر اگر آپ کے اندر استطاعت ہے تو آپ زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈلیں یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی سیڑھی لگا لیں اور اس طرح ان لوگوں کے سامنے کوئی حیران کن معجزہ پیش کردیں ۔

ان کی ہدایت ‘ حقیقت یہ ہے کہ اس لئے موقوف نہیں ہے کہ تم ان کے سامنے کوئی معجزہ پیش کر دو ۔ صرف یہ کمی نہیں رہ گئی کہ بس کوئی معجزہ صادر ہوا اور وہ ہدایت کو قبول کرلیں ۔ جیسے وہ بالکل تیار بیٹھے ہوں ۔ اس طرح تو اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع کردیتا ۔ یا تو اللہ اس طرح کرتا کہ ابتداء ہی سے انہیں اس طرح پیدا کرتا کہ وہ ہدایت کے سوا کوئی اور راستہ قبول ہی نہ کرتے مثلا ملائکہ اور یا یوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اپنی قدرت کے ذریعے راہ ہدایت کی طرف موڑ دیتا اور وہ ہدایت کی قبولیت کے لئے آمادہ ہوجاتے اور یا اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ صادر کردے جس کی وجہ سے ان کی گردنیں جھک جائیں اور کسی وجہ سے یا بغیر کسی وسیلہ کے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے دے کیونکہ وہ قادر مطلق ہے ۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی اس حکمت کی وجہ سے جو اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے ‘ اس مخلوق مکرم حضرت انسان کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ۔ اس آسمانی منصوبے کے مطابق اس مقصد کی خاطر اس بات کی ضرورت تھی کہ اس مخلوق کو کچھ متعین صلاحتیں دی جاتیں اور یہ صلاحتیں ان صلاحیتوں سے جدا ہوں جو فرشتوں کو دی گئی تھیں ۔ ان خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ تھی کہ انسانوں کی صلاحیتوں کے درمیان تفاوت رکھی جائے ۔ یہ کہ لوگوں کے اندر ہدایت اور ایمان کی قبولیت کی استعداد بھی مختلف ہو اور لوگوں کے اندر قبولیت حق کے مادے کی مقدار بھی مختلف ہو ۔ یہ کام اللہ کے دائرہ قدرت کے مطابق اللہ کے قانون عدل کے مطابق اور اس کے قانون جزا وسزا کے عین مطابق ہو ۔

یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی جبر کے ذریعے لوگوں کو راہ ہدایت پر جمع نہیں فرمایا ۔ اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ہدایت کی راہ لیں اور ماننے نہ ماننے کا اختیار انہیں دے دیا اور آخرت میں اس پر عادلانہ جزاء وسزا کا اجراء فرمایا ۔ اس حقیقت کو جاننا چاہئے اور اس سے غافل نہ ہونا چاہئے ۔

(آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدَی فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْجَاہِلِیْنَ (35) ” اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا لہذا نادان مت بنو ۔ “

شوکت کلام دیکھنے کے قابل ہے اور فیصلہ ہدایت بھی قابیل دید ہے ‘ لیکن بات کا موقع ومحل ہی ایسا تھا جس کے اندر اس زور دار بات اور دو ٹوک ہدایت کی ضرورت تھی ۔

اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو کس مزاج اور کس فطرت پر پیدا کیا ہے اور یہ کہ وہ ہدایت کے مقابلے میں کیا موقف اختیار کرتے ہیں حالانکہ دعوت حق کے پاس ثبوت دلیل کی کوئی کمی نہیں ہوتی ۔

Al-An'aam 6:35Listen in Qur'an →
36

۞ إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ ٱلَّذِينَ يَسْمَعُونَ ۘ وَٱلْمَوْتَىٰ يَبْعَثُهُمُ ٱللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ

بات یہ ہے کہ (حق کو) قبول وہی کرتے ہیں جو سنتے بھی ہیں اور مردوں کو تو خدا (قیامت ہی کو) اٹھائے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے

(آیت) ” إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَی یَبْعَثُہُمُ اللّہُ ثُمَّ إِلَیْْہِ یُرْجَعُونَ (36) عوت حق پر لبیک وہی کہتے ہیں جو سننے والے ہیں ‘ رہے مردے تو انہیں تو بس اللہ قبروں سے اٹھائے گا اور پھر وہ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لئے) واپس لائے جائیں گے ۔ “

جب کوئی رسول دعوت حق لے کر لوگوں کے پاس آتا ہے تو اس دعوت کے مقابلے میں لوگ دو گروہ بن جاتے ہیں ۔ ایک فریق تو زندہ اور بیدار لوگوں کا ہوتا ہے ‘ جن کے اندر قبولیت حق کی استعداد ہوتی ہے ‘ یہ استعداد کام کر رہی ہوتی ہے اور ان لوگوں کے دل کے دریچے کھلے ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ ہدایت قبول کرلیتے ہیں اس لئے کہ ہدایت اور سچائی کے اندر ذاتی قوت ‘ نکھار اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی ہوتی ہے اور ایسے لوگ اسے پاتے ہی قبول کرلیتے ہیں ۔ (آیت) ” انما یستجیب الذین یسمعون “۔ (6 : 36) ” یعنی جن لوگوں کی قوت شنوائی کام کر رہی ہوتی ہے وہ حق کو قبول کرلیتے ہیں ۔ ایک دوسرافریق وہ ہوتا ہے جو دراصل مردہ ہوتا ہے ۔ اس کی فطرت معطل ہوجاتی ہے ۔ وہ نہ سنتا ہے اور نہ قبول کرتا ہے ۔ وہ نہ متاثر ہوتا ہے اور نہ ہی لبیک کہتا ہے ۔ یہ بات نہیں ہوتی کہ اس سچائی کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہوتی سچائی تو خود دلیل ہوتی ہے ‘ آفتاب آمد ولیل آفتاب ‘ اور جب بصیرت رکھنے والی فطرت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو وہ اس کے اندر سچائی دیکھ لیتی ہے ۔ فورا وہ آخری فیصلہ کرکے تسلیم کرلیتی ہے ۔ دوسری قسم کے لوگوں کے اندر جو کمی ہوتی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ان کی فطرت مر چکی ہوتی ہے اور ان کی استعداد قبولیت حق جاتی رہتی ہے لہذا ان کے اندر محض دعوت سنتے ہی قبولیت حق کی استعداد پیدا نہیں ہوتی ۔ ایسے لوگوں کا کوئی علاج خود رسول وقت کے پاس بھی نہیں ہوتا ۔ ان پر کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی ۔ ان کا معاملہ اللہ کی مشیت کے ساتھ وابستہ ہوجاتا ہے ۔ اگر اللہ چاہے تو ایسے لوگوں کو زندہ کردیتا ہے اور اگر نہ چاہے تو یہ لوگ زندہ ہوں یا مردہ قیامت تک مردہ رہیں گے ۔ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں اٹھائے گا ۔

(آیت) ” والموتی یبعثھم اللہ ثم الیہ یرجعون “ (6 : 36) ” مردوں کو تو اللہ قبروں ہی سے اٹھائے گا اور وہ اس کی عدالت میں پیش ہوں گے ۔ یہ ہے کہانی قبولیت حق اور محرومیت کی ۔ اس سے ہدایت وضلالت کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے ۔ رسول کے فرائض متعین ہوجاتے ہیں اور تمام امور کا آخری فیصلہ اللہ کے سپرد ہوتا ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے ۔

نبی کریم ﷺ پر اس حقیقت کو آشکارا کرنے کے بعد ‘ اب روئے سخن اہل کفار اور مشرکین کے اس غلط مطالبے کی طرف پھرجاتا ہے جس میں وہ خوارق ومعجزات کے مطابلے کرتے تھے ۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کا یہ مطالبہ جہالت پر مبنی ہے اور یہ لوگ اس معاملے میں سنت الہیہ سے بالکل بیخبر ہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی معجزہ صادر ہوتا ہے تو اس کے بعد نہ ماننے والوں بلکہ ماننے والوں کو بھی ایک عظیم بربادی سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ لہذا اللہ تعالیٰ جو ان لوگوں کے مطالبے کو تسلیم نہیں کرتا تو اس لئے نہیں کرتا کہ وہ ان پر رحم کرکے انہیں اس عظیم تباہی سے بچانا چاہتا ہے ۔ اس موقعہ پر تمام زندہ مخلوقات کے بارے میں اللہ کی حکیمانہ تدابیر کو بھی بیان کردیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ سنت تمام زندہ مخلوقات تک وسعت پزیر ہے ۔ یہاں وہ حکمت بتائی جاتی ہے جو ہدایت وضلالت کے فیصلوں کے پیچھے کام کرتی ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی بےقید مشیت کام کرتی ہے ۔

Al-An'aam 6:36Listen in Qur'an →
37

وَقَالُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۚ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يُنَزِّلَ ءَايَةًۭ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگارکے پاس کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

(آیت) ” نمبر 37 تا 39۔

حضرت محمد ﷺ سے یہ لوگ ایسے خوارق عادت معجزات کے طلبگار تھے ‘ جو آپ سے قبل آنے والے رسولوں کو دیئے گئے تھے ۔ یہ لوگ قرآن کریم جیسے زندہ معجزے پر اکتفا کرنے والے نہ تھے ‘ جو قیامت تک کے لئے باقی ہے ‘ انسانی فہم وادراک کو اپیل کرتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ اب انسان فکری اعتبار سے بلوغ تک پہنچ گیا ہے ۔ اس لئے انسان کو ایسے فلسفیانہ اور بلند کلام کے ذریعے مخاطب کیا جاتا ہے اور یہ کلام ایسا لازوال اور ابدی کلام ہے کہ کسی نسل کے ساتھ اس کا خاتمہ نہیں ہوجاتا بلکہ دائم و باقی ہے اور قیامت تک انسانی شعور اور ادراک سے مخا طب ہے ۔

یہ لوگ خارق عادت معجزے کے تو طلبگار تھے لیکن ایسے معجزات کے صدور کے بعد سنت الہی کے مطابق جو عذاب آتا ہے اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے ۔ اس عذاب کی لپیٹ میں سب لوگ آجایا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو دنیا میں ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ نیز یہ لوگ اس حکمت کو بھی نہ پا رہے تھے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ایسے معجزے کا صدور نہ فرمایا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ اگر معجزہ صادر بھی ہوجائے تو بھی یہ لوگ ماننے والے نہ تھے ۔ حضور ﷺ سے قبل کوئی اقوام نے یہ حرکت کی تھی اور وہ ہلاکت کی مستحق ہوگئی تھیں ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ ان لوگوں کو مہلت دی جائے اور ان لوگوں میں سے کئی ایسے تھے جن کی قسمت میں ایمان لانا لکھا تھا ۔ اگر کوئی شخص ان میں سے ایمان نہ بھی لایا تو اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ اس کی پشت سے امت مومنہ پیدا ہونے والی ہے ۔ لیکن یہ لوگ اس مہلت پر خدا کا شکر ادا نہیں کرتے کہ اللہ نے خود ان کے مطالبے کے باوجود انہیں اس ابتلاء سے بچایا جبکہ وہ اس مطالبے کے عواقب سے بیخبر تھے ۔

قرآن کریم ان کے اس مطالبے کے تذکرے کے بعد یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ لوگ بےعلم ہیں اور یہ لوگ ان نتائج سے بیخبر ہیں جو ان کے مطابلے کے پورے ہوجانے کے بعد ظہور پذیر ہونے والے تھے ۔ حکم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت میں ہے ہر قسم کے معجزات کا صدور ‘ لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں کو مطالبے کے باوجود ان مشکلات اور ہلاکتوں سے دو چار نہ کیا جائے ۔ یہ ان کی رحمت کا بھی تقاضا ہے کہ اس نے اپنے اوپر رحمت کرنا فرض کرلیا ہے ۔

(آیت) ” وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْْہِ آیَۃٌ مِّن رَّبِّہِ قُلْ إِنَّ اللّہَ قَادِرٌ عَلَی أَن یُنَزِّلٍ آیَۃً وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (37)

” یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ کہو ‘ اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ‘ مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں ۔

اس انتباہ کے بعد اب سیاق کلام قرآن کریم کو ایک نہایت ہی لطیف راستے سے مخاطب کے دل میں اتارنے کی راہ تلاش کرتا ہے ۔ انسان کی قوت مشاہدہ اور قوت تدبر کو جگایا جاتا ہے کہ ذرا وہ اس کائنات پر غور وفکر کرے کہ اس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کرے ۔ اگر وہ غور وفکر کرے تو اسے بہت کچھ معلوم ہو سکتا ہے ۔

(آیت) ” وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْْہِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُکُم مَّا فَرَّطْنَا فِیْ الکِتَابِ مِن شَیْْء ٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُونَ (38)

” زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو ‘ یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں ‘ ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ‘ پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں ۔ “

اس کائنات میں صرف انسان ہی نہیں بستے تاکہ ہم یہ کہیں کہ بس اتفاقا وہ وجود میں آگئے اور اب ان کی زندگی بھی جس طرح وہ چاہیں بسر ہو اور لغو جائے ۔ بلکہ انسان کے ارد گرد دوسری جاندار مخلوقات بھی ہوتی ہیں اور ان تمام جانداروں کی زندگی ایک …

Al-An'aam 6:37Listen in Qur'an →
38

وَمَا مِن دَآبَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا طَٰٓئِرٍۢ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّآ أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ مَّا فَرَّطْنَا فِى ٱلْكِتَٰبِ مِن شَىْءٍۢ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ

اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے ان کی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے) میں کوتاہی نہیں کی پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے

(آیت) ” نمبر 37 تا 39۔

حضرت محمد ﷺ سے یہ لوگ ایسے خوارق عادت معجزات کے طلبگار تھے ‘ جو آپ سے قبل آنے والے رسولوں کو دیئے گئے تھے ۔ یہ لوگ قرآن کریم جیسے زندہ معجزے پر اکتفا کرنے والے نہ تھے ‘ جو قیامت تک کے لئے باقی ہے ‘ انسانی فہم وادراک کو اپیل کرتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ اب انسان فکری اعتبار سے بلوغ تک پہنچ گیا ہے ۔ اس لئے انسان کو ایسے فلسفیانہ اور بلند کلام کے ذریعے مخاطب کیا جاتا ہے اور یہ کلام ایسا لازوال اور ابدی کلام ہے کہ کسی نسل کے ساتھ اس کا خاتمہ نہیں ہوجاتا بلکہ دائم و باقی ہے اور قیامت تک انسانی شعور اور ادراک سے مخا طب ہے ۔

یہ لوگ خارق عادت معجزے کے تو طلبگار تھے لیکن ایسے معجزات کے صدور کے بعد سنت الہی کے مطابق جو عذاب آتا ہے اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے ۔ اس عذاب کی لپیٹ میں سب لوگ آجایا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو دنیا میں ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ نیز یہ لوگ اس حکمت کو بھی نہ پا رہے تھے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ایسے معجزے کا صدور نہ فرمایا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ اگر معجزہ صادر بھی ہوجائے تو بھی یہ لوگ ماننے والے نہ تھے ۔ حضور ﷺ سے قبل کوئی اقوام نے یہ حرکت کی تھی اور وہ ہلاکت کی مستحق ہوگئی تھیں ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ ان لوگوں کو مہلت دی جائے اور ان لوگوں میں سے کئی ایسے تھے جن کی قسمت میں ایمان لانا لکھا تھا ۔ اگر کوئی شخص ان میں سے ایمان نہ بھی لایا تو اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ اس کی پشت سے امت مومنہ پیدا ہونے والی ہے ۔ لیکن یہ لوگ اس مہلت پر خدا کا شکر ادا نہیں کرتے کہ اللہ نے خود ان کے مطالبے کے باوجود انہیں اس ابتلاء سے بچایا جبکہ وہ اس مطالبے کے عواقب سے بیخبر تھے ۔

قرآن کریم ان کے اس مطالبے کے تذکرے کے بعد یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ لوگ بےعلم ہیں اور یہ لوگ ان نتائج سے بیخبر ہیں جو ان کے مطابلے کے پورے ہوجانے کے بعد ظہور پذیر ہونے والے تھے ۔ حکم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت میں ہے ہر قسم کے معجزات کا صدور ‘ لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں کو مطالبے کے باوجود ان مشکلات اور ہلاکتوں سے دو چار نہ کیا جائے ۔ یہ ان کی رحمت کا بھی تقاضا ہے کہ اس نے اپنے اوپر رحمت کرنا فرض کرلیا ہے ۔

(آیت) ” وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْْہِ آیَۃٌ مِّن رَّبِّہِ قُلْ إِنَّ اللّہَ قَادِرٌ عَلَی أَن یُنَزِّلٍ آیَۃً وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (37)

” یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ کہو ‘ اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ‘ مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں ۔

اس انتباہ کے بعد اب سیاق کلام قرآن کریم کو ایک نہایت ہی لطیف راستے سے مخاطب کے دل میں اتارنے کی راہ تلاش کرتا ہے ۔ انسان کی قوت مشاہدہ اور قوت تدبر کو جگایا جاتا ہے کہ ذرا وہ اس کائنات پر غور وفکر کرے کہ اس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کرے ۔ اگر وہ غور وفکر کرے تو اسے بہت کچھ معلوم ہو سکتا ہے ۔

(آیت) ” وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْْہِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُکُم مَّا فَرَّطْنَا فِیْ الکِتَابِ مِن شَیْْء ٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُونَ (38)

” زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو ‘ یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں ‘ ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ‘ پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں ۔ “

اس کائنات میں صرف انسان ہی نہیں بستے تاکہ ہم یہ کہیں کہ بس اتفاقا وہ وجود میں آگئے اور اب ان کی زندگی بھی جس طرح وہ چاہیں بسر ہو اور لغو جائے ۔ بلکہ انسان کے ارد گرد دوسری جاندار مخلوقات بھی ہوتی ہیں اور ان تمام جانداروں کی زندگی ایک …

Al-An'aam 6:38Listen in Qur'an →
39

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا صُمٌّۭ وَبُكْمٌۭ فِى ٱلظُّلُمَٰتِ ۗ مَن يَشَإِ ٱللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اس کے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے رستے پر چلا دے

(آیت) ” نمبر 37 تا 39۔

حضرت محمد ﷺ سے یہ لوگ ایسے خوارق عادت معجزات کے طلبگار تھے ‘ جو آپ سے قبل آنے والے رسولوں کو دیئے گئے تھے ۔ یہ لوگ قرآن کریم جیسے زندہ معجزے پر اکتفا کرنے والے نہ تھے ‘ جو قیامت تک کے لئے باقی ہے ‘ انسانی فہم وادراک کو اپیل کرتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ اب انسان فکری اعتبار سے بلوغ تک پہنچ گیا ہے ۔ اس لئے انسان کو ایسے فلسفیانہ اور بلند کلام کے ذریعے مخاطب کیا جاتا ہے اور یہ کلام ایسا لازوال اور ابدی کلام ہے کہ کسی نسل کے ساتھ اس کا خاتمہ نہیں ہوجاتا بلکہ دائم و باقی ہے اور قیامت تک انسانی شعور اور ادراک سے مخا طب ہے ۔

یہ لوگ خارق عادت معجزے کے تو طلبگار تھے لیکن ایسے معجزات کے صدور کے بعد سنت الہی کے مطابق جو عذاب آتا ہے اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے ۔ اس عذاب کی لپیٹ میں سب لوگ آجایا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو دنیا میں ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ نیز یہ لوگ اس حکمت کو بھی نہ پا رہے تھے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ایسے معجزے کا صدور نہ فرمایا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ اگر معجزہ صادر بھی ہوجائے تو بھی یہ لوگ ماننے والے نہ تھے ۔ حضور ﷺ سے قبل کوئی اقوام نے یہ حرکت کی تھی اور وہ ہلاکت کی مستحق ہوگئی تھیں ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ ان لوگوں کو مہلت دی جائے اور ان لوگوں میں سے کئی ایسے تھے جن کی قسمت میں ایمان لانا لکھا تھا ۔ اگر کوئی شخص ان میں سے ایمان نہ بھی لایا تو اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ اس کی پشت سے امت مومنہ پیدا ہونے والی ہے ۔ لیکن یہ لوگ اس مہلت پر خدا کا شکر ادا نہیں کرتے کہ اللہ نے خود ان کے مطالبے کے باوجود انہیں اس ابتلاء سے بچایا جبکہ وہ اس مطالبے کے عواقب سے بیخبر تھے ۔

قرآن کریم ان کے اس مطالبے کے تذکرے کے بعد یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ لوگ بےعلم ہیں اور یہ لوگ ان نتائج سے بیخبر ہیں جو ان کے مطابلے کے پورے ہوجانے کے بعد ظہور پذیر ہونے والے تھے ۔ حکم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت میں ہے ہر قسم کے معجزات کا صدور ‘ لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں کو مطالبے کے باوجود ان مشکلات اور ہلاکتوں سے دو چار نہ کیا جائے ۔ یہ ان کی رحمت کا بھی تقاضا ہے کہ اس نے اپنے اوپر رحمت کرنا فرض کرلیا ہے ۔

(آیت) ” وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْْہِ آیَۃٌ مِّن رَّبِّہِ قُلْ إِنَّ اللّہَ قَادِرٌ عَلَی أَن یُنَزِّلٍ آیَۃً وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (37)

” یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ کہو ‘ اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ‘ مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں ۔

اس انتباہ کے بعد اب سیاق کلام قرآن کریم کو ایک نہایت ہی لطیف راستے سے مخاطب کے دل میں اتارنے کی راہ تلاش کرتا ہے ۔ انسان کی قوت مشاہدہ اور قوت تدبر کو جگایا جاتا ہے کہ ذرا وہ اس کائنات پر غور وفکر کرے کہ اس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کرے ۔ اگر وہ غور وفکر کرے تو اسے بہت کچھ معلوم ہو سکتا ہے ۔

(آیت) ” وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْْہِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُکُم مَّا فَرَّطْنَا فِیْ الکِتَابِ مِن شَیْْء ٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُونَ (38)

” زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو ‘ یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں ‘ ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ‘ پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں ۔ “

اس کائنات میں صرف انسان ہی نہیں بستے تاکہ ہم یہ کہیں کہ بس اتفاقا وہ وجود میں آگئے اور اب ان کی زندگی بھی جس طرح وہ چاہیں بسر ہو اور لغو جائے ۔ بلکہ انسان کے ارد گرد دوسری جاندار مخلوقات بھی ہوتی ہیں اور ان تمام جانداروں کی زندگی ایک …

Al-An'aam 6:39Listen in Qur'an →
40

قُلْ أَرَءَيْتَكُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُ ٱللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ ٱلسَّاعَةُ أَغَيْرَ ٱللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

کہو (کافرو) بھلا دیکھو تو اگر تم پر خدا کا عذاب آجائےیا قیامت آموجود ہو تو کیا تم (ایسی حالت میں) خدا کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ)

(آیت) ” نمبر 40 تا 41۔

اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کے خطاب کے لئے جو وسائل استعمال فرماتے ہیں یہ اس کا ایک نمونہ ہے ۔ یہ نمونے اس سے پہلے کی لہروں میں بھی بیان کئے جا چکے ہیں اور اس کے بعد جو فقرات آ رہے ہیں ان میں بھی اس کے نمونے آئیں گے ۔ اس پوری سورة میں انسانی فطرت کو مخاطب کیا گیا ہے ۔

اس سے قبل یہ بات کہی گئی تھی کہ زندہ مخلوقات کے جہان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدبرانہ قدرت نے ان کے اندر کس قدر تنظیم پیدا کر رکھی ہے ۔ پھر ذرا دیکھو کہ اللہ کا علم کس قدر وسیع اور شامل ہے ۔ اس زیر بحث مجموعہ آیات میں اللہ کے عذاب اور آفات ناگہانی کا ذکر ہے ۔ جب یہ ناگہانی آفات وبلیات انسانی فطرت پر آتی ہیں تو ان کے مقابلے میں کا ردعمل کیا ہوتا ہے ۔ خصوصا اس وقت جب یہ آفات ایک ہولناک صورت میں ہوتی ہیں جس سے انسان کا دل دہل جاتا ہے ۔ ایسے حالات میں انسان کے دل و دماغ سے شرک کے گرد و غبار کی تہیں چھٹ جاتی ہیں اور انسانی فطرت صاف ہو کر سامنے آجاتی ہے اور عقیدہ توحید جو انسانی فطرت کی گہرائیوں میں موجود رہتا ہے وہ سامنے آتا ہے اور انسانی فطرت صرف رب واحد کو پکارتی ہے ۔

(آیت) ” قُلْ أَرَأَیْْتُکُم إِنْ أَتَاکُمْ عَذَابُ اللّہِ أَوْ أَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ أَغَیْْرَ اللّہِ تَدْعُونَ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (40)

” ان سے کہو ‘ ذرا غور کرکے بتا ‘ اگر تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آجاتی یا آخری گھڑی آپہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو ؟ بولو اگر تم سچے ہو ۔

یہاں ایک خوفناک صورت حال کا تصور پیش کیا جاتا ہے اور دنیا میں تباہی و بربادی کے بعض مناظر نظروں کے سامنے لائے جاتے ہیں یا یہ تصور کہ اچانک قیامت برپا ہوجائے ۔ جب انسانی فطرت کے سامنے یہ مناظر آتے ہیں تو فطری احساس چٹکیاں لینے لگتا ہے ۔ ان مناظر کی ہولناکی کا تصور ذہن میں خوبی کے ساتھ آجاتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو خالق فطرت ہے کہ اس اسلوب کے ساتھ فطرت ان مناظر کا اچھی طرح ادراک کرلیتی ہے اور بسہولت حقیقت تک رسائی حاصل کرلیتی ہے ۔ اس کی تمام قوتیں ان مناظر کی وجہ سے حرکت میں آجاتی ہیں اس لئے کہ ان ہولناک مناظر میں جو حقیقت ہوتی ہے وہ فطرت انسانی کے اندر موجود ہوتی ہے ۔ خالق فطرت کو تو اچھی طرح علم ہے کہ یہ حقیقت فطرت کے اندر موجود ہوتی ہے اس لئے باری تعالیٰ اس اسلوب میں فطرت سے مخاطب ہوتے ہیں اور فطرت اس تصور کو قبول کرلیتی ہے ‘ کانپ اٹھتی ہے اور غفلت اور سرکشی پردوں اور غبار کی تہوں کے نیچے سے صاف صاف نمودار ہوجاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں یا جواب طلب فرماتے ہیں اور خود ان کی زبان سے جواب چاہتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ یہ جواب ان کی فطرت کا حقیقی اظہار ہے ۔ (آیت) ” اغیر اللہ تدعون “۔ کیا تم اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہو ‘ اگر تم سچے ہو تو جواب دو ۔ “

ان کی جانب سے جواب کا انتظار کئے بغیر سچا اور حقیقی جواب آجاتا ہے جو عملا ان کی فطرت کے مطابق ہے ۔ اگرچہ وہ جواب نہ دیں لیکن ایسے مواقع پر ان کا عمل کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔

(آیت) ” بَلْ إِیَّاہُ تَدْعُونَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَیْْہِ إِنْ شَاء وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِکُونَ (41)

” اس وقت تم اللہ ہی کو پکارتے ہو ۔ پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے ۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو۔

بلکہ تم صرف اللہ وحدہ ہی کو پکارو گے اور ایسے حالات میں تم اپنے شرکیہ تصورات کو یکسر بھول جاؤ گے ۔ یہ خوفناک صورت حال تمہاری اصل فطرت کو سطح تک لے آئے گی اور اب یہ فطرت صرف اللہ وحدہ کو پکارے گی ۔ اسے یہ بات یاد بھی نہ رہے گی کہ کوئی شخص شرک کرتے ہوئے غیر اللہ کو بھی پکارتا رہا ہے ۔ سرے سے حقیقت شرک بھی ان کے ذہن سے محو ہوجائے گی ۔ اس لئے کہ معرفت کردگار ہی وہ اصل حقیقت …

Al-An'aam 6:40Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.