۞ قُلْ تَعَالَوْا۟ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا ۖ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَٰدَكُم مِّنْ إِمْلَٰقٍۢ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
آیت ” نمبر 151 تا 153۔
اللہ تعالیٰ نے آیات کے اس حصے میں جو وصیتیں فرمائی ہیں اور جو قوانین بتلائیں ہیں مثلا مویشیوں اور پیداوار کے متعلق اور ادہام جاہلیت اور رسوم جاہلیت کی تردید وغیرہ تو ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوانین وہدایات اس دین کی اساسی باتوں پر مشتمل ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے ضمیر کو توحید کی روشنی اور زندگی ملتی ہے اور صدیوں پر مشتمل تاریخ میں انسانی خاندان کو تقویت ملتی ہے ۔ باہم تکافل اور باہم نصرت کی وجہ سے اجتماعی روابط مضبوط ہوتے ہیں اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں حقوق کی ضمانت ہوتی ہے اور فرائض ادا کئے جاتے ہیں ۔ یہ سب کام اللہ کی ہدایات کے مطابق چلتے ہیں مگر ان کا آغاز عقیدہ توحید سے ہوتا ہے ۔
اور جب یہ ہدایات ختم ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہی اللہ کا جاری کردہ صراط مستقیم ہے اور اس کے علاوہ جس قدر بھی راستے میں وہ ٹیڑھے راستے ہیں یعنی راہ توحید سے ہٹے ہوئے ۔
غرض ان تین آیات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ نہایت ہی اہم امور سے متعلق ہیں ۔ یہ امور اس مسئلے کے بعد ذکر ہوئے جو بظاہر جاہلیت کا جزوی مسئلہ معلوم ہوتا ہے لیکن یہ مسئلہ اس دین کا نہایت ہی اساسی مسئلہ ہے کیونکہ یہ ان اہم وصیتوں کے ساتھ مربوط ہے ۔
آیت ” قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْْکُمْ “ (6 : 151)
” اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم کیا کیا پابندیاں عائد کی ہیں ۔ ؟
آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ نے کیا حرام کیا ہے ؟ تم خود جن بعض چیزوں کو حرام قرار دیتے وہ دراصل حرام نہیں ہیں ۔ اس نے تم پر بعض چیزیں حرام قرار دی ہیں اس لئے کہ اسے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہی تمہارا رب ہے ۔ رب کا مفہوم ہے ‘ قیم ‘ مربی ‘ ہادی اور حاکم ۔ لہذا حلال و حرام مقرر کرنا اس کا کام ہے ۔ یہ اس کا مقام اور منصب ہے ۔ کہ وہ ایسا کرے ۔ اگر اللہ کے سوا کوئی اور حلال و حرام مقرر کرے گا تو وہی رب کہلائے گا ۔ فی الحقیقت رب ہوتا ہی وہ ہے جو حلال و حرام مقرر کرے ۔
آیت ” أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئا “۔ (6 : 151)
یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “
یہ بنیادی اصول ہے جس پر اسلامی تصورحیات کی پوری عمارت اٹھائی گئی ہے۔ تمام واجبات وفرائض اسی کی جانب لوٹتے ہیں اور اسی سے حقوق وواجبات متعین ہوتے ہیں ۔ یہ وہ اصول ہے کہ اس کے تسلیم کرنے کے بعد ہی کسی پر دوسرے احکام اور منہیات فرض ہوتے ہیں ۔ فرائض و تکالیف اور اسلامی نظام کی تفصیلات اور اسلامی دستور وقوانین کی پیروی تب عائد ہوتی ہے اور جب کوئی انسان یا معاشرہ عقیدہ توحید کو قبول کرکے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ وحدہ اس کا رب ہے اور وہی الہ اور حاکم ہے ۔ اس کی الوہیت ‘ اس کے اقتدار اعلی اور اس کی ربوبیت میں وہ کسی کو شریک نہیں سمجھتا ۔ وہ اعتراف کرلیتا ہے کہ اللہ ہی اس پوری کائنات کے تمام طبعی امور میں متصرف ہے ۔ عالم اسباب اور نظام تضاد وقدر اسی کی مرضی سے چلتا ہے وہ یہ عقیدہ بھی اپنا لیتے ہیں کہ آخرت میں انہوں نے اپنی پوری زندگی کارکردگی کا جواب دینا ہے ۔ وہ یہ بھی اعتراف کرلیتے ہیں کہ نظام حکومت میں بھی وہ اللہ کے احکام کے پابند ہیں ۔ غرض انسانی دل و دماغ کے لئے یہ عقیدہ ایک مکمل تطہیر ہے اور انسانی فکر اور عقلیت کو وہم و گمان کی بیماریوں سے مکمل طور پر صاف کردیا جاتا ہے ۔ اس کے ذریعہ ہی کسی معاشرے کو جاہلیت کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے اور انسان انسانوں کی غلامی اور بندگی سے رہا ہو سکتا ہے۔
شرک اپنی ہر شکل و صورت کے اعتبار سے حرام ہے اس لئے کہ اس کی وجہ سے انسان ہر حرام چیز میں پڑ سکتا ہے ۔ یہ پہلا منکر ہے جس کے خلاف جہاد کا آغاز ہوتا ہے اور اس کے ہر پہلو کا انکار ضروری ہے ۔ یہاں تک کہ لوگ اعتراف کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں ‘ …