Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 131–140 of 165

131

ذَٰلِكَ أَن لَّمْ يَكُن رَّبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٍۢ وَأَهْلُهَا غَٰفِلُونَ

(اے محمدﷺ!) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے رہنے والوں کو (کچھ بھی) خبر نہ ہو

(آیت) ” نمبر 131۔

اللہ کی رحمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو شرک ‘ کفر اور نافرمانی پر اس وقت تک سزا نہ دے جب تک ان تک رسولوں کے ذریعے اپنا پیغام پہنچا نہ دے حالانکہ اللہ نے لوگوں کی فطرت کے اندر یہ صلاحیت ودیعت کردی تھی کہ وہ از خود اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں اور اس کی تلاش کریں ۔ یہ انتظام اس لئے کیا گیا کہ انسانی فطرت بعض اوقات صحیح راہ کو تم کردیتی ہے ۔ انسان کے فطری رجحانات کے علاوہ اللہ نے انسان کو عقلی قوت دے کر بھی ایک امتیاز بخشا لیکن اللہ نے اس عقلی قوت کے باوجود رسول بھیجے اس لئے کہ عقلی قوت بھی نفسانی خواہشات کے نتیجے میں بسا اوقات دب جاتی ہے نیز اس کائنات کے مشاہد ومناظر کے اندر بیشمار دلائل ایسے موجود تھے جو انسان کو دعوت فکر دیتے تھے لیکن انسان کی عقلی اور ادراکی قوتیں بسا اوقات معطل ہوجاتی ہیں ۔

ان وجوہات کی بنا پر اللہ نے انسانی فطرت ‘ انسانی عقل اور انسانی مشاہدے کو رسولوں کی دعوت کے ساتھ منسلک کردیا تاکہ انسان کی ان قوتوں کو فساد سے بچایا جاسکے ، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تب ہی لوگوں کو عذاب دیتا ہے جب رسولوں کی دعوت کسی تک پہنچ جائے اور ان پر حجت تمام ہوجائے ۔

اس حقیقت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ساتھ کس قدر رحیمانہ اور کریمانہ سلوک کرتا ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان صرف اپنی قوت ادراک اور عقلی قوتوں کے بل بوتے پر راہ ہدایت نہیں پاسکتا ۔ نہ وہ یقین حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی عقل اور ادراک کے ذریعے اپنی شہوانی قوتوں کو ضابطے کا پابند کرسکتا ہے ، یہ قوتیں تب ہی کام کرسکتی ہیں جب ان کی پشت پر دین اور عقیدے کی قوت موجود ہو۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ جزا و سزا کے بارے میں ایک دوسرے اہم اصول کا ذکر فرماتا ہے اور یہ اصول اہل ایمان اور جن و شیاطین سب کے لئے ہے ۔

Al-An'aam 6:131Listen in Qur'an →
132

وَلِكُلٍّۢ دَرَجَٰتٌۭ مِّمَّا عَمِلُوا۟ ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ

اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بے خبر نہیں

(آیت) ” نمبر 132۔

اہل ایمان کے بھی درجے ہیں ۔ ایک سے ایک بڑا ہے ۔ شیاطین کے بھی درجے ہیں ۔ ایک سے ایک بڑا ہے ۔ اور سب لوگوں کے اعمال ریکارڈ شدہ ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بیخبر نہیں ہے ۔

(آیت) ” وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ (132)

” اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے رسول بھیجے ‘ یہ محض اس کا کرم ہے کہ اس نے ایسا کیا ‘ اس لئے کہ وہ غنی بادشاہ ہے ‘ اسے ان کے ایمان کی کوئی ضرورت لاحق نہیں ہے ۔ نہ ان کی جانب سے عبادت اور بندگی کی کوئی احتیاج ہے ۔ اگر وہ نیک بنتے ہیں تو وہ دنیا اور آخرت میں اپنی بھلائی کے لئے نیک بنیں گے ۔ اسی طرح اللہ رحمت کا اظہار اس وقت بھی علی وجہ الاثم ہوتا ہے کہ اللہ اس دنیا میں نافرمانوں کو بھی مہلت دیتا ہے ورنہ وہ اس بات کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے کہ وہ سب کو ہلاک کردے اور ان کی جگہ کوئی دوسری قوم اور نسل لے آئے ۔

Al-An'aam 6:132Listen in Qur'an →
133

وَرَبُّكَ ٱلْغَنِىُّ ذُو ٱلرَّحْمَةِ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنۢ بَعْدِكُم مَّا يَشَآءُ كَمَآ أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ ءَاخَرِينَ

اور تمہارا پروردگار بےپروا (اور) صاحب رحمت ہے اگر چاہے (تو اے بندوں) تمہیں نابود کر دے اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے تمہارا جانشین بنا دے جیسا تم کو بھی دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے

(آیت) ” نمبر 133۔

لوگوں کو یہ بات بھولنا چاہیے کہ وہ اس دنیا میں محض اللہ کی مہربانی کی وجہ سے زندہ ہیں ۔ ان کا یہاں رہنا اللہ کی مشیت پر موقوف ہے ۔ ان کے پاس جو قوت اور حکمت ہے یہ انہیں اللہ کی عطا کی ہوئی ہے ۔ یہ اصل قوت نہیں ہے بلکہ عطائی ہے ۔ وہ خود مختار نہیں ہیں اس لئے کہ کوئی شخص اپنی پیدائش اپنے وجود اور اس جہان میں اپنی بقا میں کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔ انسان کو جو بھی قوت دی گئی ہے اس میں اس کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ ان کو یہاں سے ہٹانا اور ان کی جگہ دوسری اقوام کو لانا اللہ کے لئے بہت ہی آسان ہے ۔ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ خود اللہ نے دوسری اقوام کی جگہ انہیں یہاں وجود بخشا اور اپنی قدرت کے ذریعے ان دوسری اقوام کی جگہ یہاں انہیں اقتدار اور قوت دی ۔

یہ نہایت ہی شدید تنبیہات ہیں اور نہایت ہی سختی کے ساتھ انسانوں کے دل و دماغ کو جھنجوڑا جا رہا ہے ۔ خصوصا ان لوگوں کو جو ظالم اور مشرک ہیں اور وہ جنات جو مکرو فریب کا جال بچھاتے ہیں ‘ لوگوں پر دست درازیاں کرتے ہیں ‘ اقتدار کا تخت بچھاتے ہیں ۔ خود حلال و حرام قرار دیتے ہیں اور اللہ کی شریعت پر دست درازی کرتے اور خود قانون بناتے ہیں ۔ یہ سب لوگ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں جب تک وہ چاہے وہ رہیں گے اور جب چاہے ان کو اس دنیا سے رخصت کرکے ان کی جگہ دوسری اقوام کو لے آئے ان تنبیہات کے ذریعے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو تسلی بھی دیتا ہے کہ اگرچہ ان پر مظالم ہوتے ہیں ‘ ان کے خلاف سازشیں ہوتی ہیں اور انہیں اذیت دی جاتی ہے لیکن ان کے دشمن اللہ پر غالب نہیں ہیں ۔ یہ امتحان ہے اور اللہ کسی بھی وقت ان کو اور ان کی مکاریوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے اور یہ آخری ضرب ہے ۔

Al-An'aam 6:133Listen in Qur'an →
134

إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَءَاتٍۢ ۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ

کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کر سکتے

(آیت) ” نمبر 134۔

تم اللہ کے قبضہ قدرت میں ہو ‘ اور تم اس کی مشیت کے مر ہوں منت ہو۔ تم اللہ کی مشیت کے دائرے سے نہ باہر نکل سکتے ہو اور نہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی کرسکتے ہو ۔ اس سے قبل مناظر قیامت جن کی ایک جھلک تم دیکھ چکے ہو ‘ تمہارے انتظار میں ہیں ۔ یہ مناظر عملا تمہارے سامنے آنے والے ہیں ۔ تم ان سے بچ کر نہیں نکل سکو گے کیونکہ اللہ کا نظام نہایت ہی قوی اور متین ہے ۔

اب یہ تبصرے اور نتائج ایک نہایت ہی سخت تہدید پر ختم ہوتے ہیں جس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔

Al-An'aam 6:134Listen in Qur'an →
135

قُلْ يَٰقَوْمِ ٱعْمَلُوا۟ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّى عَامِلٌۭ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُۥ عَٰقِبَةُ ٱلدَّارِ ۗ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ

کہہ دو کہ لوگو تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے

(آیت) ” نمبر 135۔

یہ نہایت ہی پختہ تہدید ہے ‘ حق پر مشتمل ہے اور اس کی پشت پر سچائی کی قوت ہے ۔ یہ تہدید نبی کریم ﷺ کی زبانی ہے کہ وہ ان کے معاملات سے ہاتھ نکال رہے ہیں ‘ انہیں یقین ہے کہ وہ سچائی پر ہیں ‘ انہیں یقین ہے کہ ان کا طریق کار اور نظام سچائی پر مشتمل ہے اور انہیں پختہ یقین ہے کہ ان کے مخالفین گمراہی پر ہیں اور ان کا انجام برا ہونے والا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ :

(آیت) ” إِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُونَ (135) ” کہ ظالم فلاح نہیں پاسکتے “۔

اس لئے کہ یہ غیر متبدل اصول ہے ‘ کہ مشرکین جو اللہ کے سوا کسی اور کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں اور انہیں اپنا دوست بتاتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے اس لئے کہ اللہ کے سوا کوئی اور کسی کا مددگار نہیں ہوسکتا ‘ نہ اس کے سوا کوئی اور نصرت کرسکتا ہے ۔ جو لوگ اللہ کی ہدایات سے منہ موڑتے ہیں ‘ وہ نہایت اعلی درجے کی گمراہی میں بہت دور تک چلے گئے ہیں اور وہ گھاٹے ہی گھاٹے میں ہیں ۔

اب اس سورة کے دوسرے حلقے میں کلام کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ اس سبق پر قدرے غور کیا جائے ۔ اس سبق سے پہلے ان ذبیحوں پر کلام تھا جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا تھا اور اس سبق کے بعد پھلوں ‘ مویشیوں اور اولاد کے بارے میں نذر ونیاز کی بحث ہے ۔ ان دوجزوی مسائل کے درمیان یہ سبق خالص نظریاتی اور عقائد کے مباحث پر مشتمل ہے اور ان میں ایمان وکفر کے مسائل اور مناظر بیان کئے گئے ۔ اس درمیانی سبق میں انسانوں اور جنوں انبیاء اور ان کے دشمنوں کے درمیان چلنے والی کشمکش کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ تمام بڑے بڑے نظریاتی مسائل چھیڑے گئے ہیں جو اس سورة میں بالعموم بیان ہوئے ہیں ۔

دیکھنا یہ ہے کہ قرآن کریم زندگی کے ان جزوی مسائل کو کس طرح شریعت کے مطابق اسلام کی نظریاتی اساس پر منطبق کرتا ہے اور اس بات کو اہمیت دیتا ہے کہ ہر مسئلے کا نظریاتی پس منظر نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے ۔ وہ نظریاتی اساس یہ ہے کہ اس کائنات کا رب اور حاکم صرف اللہ ہے اور وہی ہے جو حلال و حرام کی حدود کا تعین کرتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کریم جگہ جگہ اپنے نظریہ اساسی کو کیوں بار بار دہراتا ہے اس لئے کہ قرآن کریم اصولا اس بات کو اسلام کا اساسی نظریہ قرار دیتا ہے ۔ اسلام کا نظریہ اساسی کلمہ شہادت (لاالہ الا اللہ) پر قائم ہے ۔ اسی کلمہ کے ذریعے اسلام مسلمانوں کے دلوں سے تمام دوسری خدائیاں نکال کر ان کے دلوں میں صرف اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کا عقیدہ جاگزیں کرتا ہے ۔ چناچہ اسلام تمام لوگوں سے حق حاکمیت چھین کر صرف اللہ کی حاکمیت قائم کرتا ہے ۔ قانون سازی ایک ایسا معاملہ ہے کہ کوئی چھوٹا قانون ہو یا بڑا دونوں میں اللہ کا حق حاکمیت استعمال ہوتا ہے ۔ یہی وہ حق ہے جسے ایک مسلمان صرف اللہ کے لئے مخصوص کردیتا ہے اور تمام دوسرے لوگوں کے لیے اس حق کی نفی کردیتا ہے ۔ اسلام میں دین کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں ‘ چاہے وہ عقائد ونظریات سے متعلق ہوں مثلا الوہیت وحاکمیت یا عملی معاملات ہوں سب میں صرف اللہ کی اطاعت اور بندگی کی جائے اور قانون سازی کا حق صرف اللہ کو ہو۔ اس طرح قانون کا حق بھی صرف اللہ کے قانون کو حاصل ہو ۔ چناچہ ایک مسلمان کا دین یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام اطاعتوں اور قیادتوں کا انکار کرکے صرف اللہ کی اطاعت اور قیادت کو قبول کرلے ۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم ان اعتقادی امور کو بار بار دہراتا اور ان کو بہت ہی اہمیت دیتا ہے اور تمام امور کو ان نظریات پر مرتب کرتا ہے جس طرح اس مکمل سورة میں صاف نظر آتا ہے جیسا کہ آغاز سورة میں ہم نے کہا کہ یہ سورة پوری کی پوری مکی ہے اور مکی سورتوں میں امت مسلمہ کے سامنے قانون سازی کا کوئی مسئلہ درپیش نہ تھا ۔ اس کے باوجود اس سورة میں نظریاتی اور اعتقادی طور پر اس بات کی صاف صاف نشاندہی کردی گئی ہے کہ قانون سازی کا حق صرف اللہ کو ہے اور یہ اسلام اور …

Al-An'aam 6:135Listen in Qur'an →
136

وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ ٱلْحَرْثِ وَٱلْأَنْعَٰمِ نَصِيبًۭا فَقَالُوا۟ هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَٰذَا لِشُرَكَآئِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَآئِهِمْ ۗ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ

اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جا سکتا اور جو حصہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے

آیت ” نمبر 136۔

فصلوں اور مویشیوں کے بارے میں جاہلی سوسائٹی کے رسم و رواج کے بیان کے بعد یہاں بتایا جاتا ہے کہ ان فصلوں اور مویشیوں کی خالق اللہ کی ذات ہے اور وہی ہے جو زمین آسمان سے لوگوں کے لیے وسائل رزق فراہم کرتا ہے ۔ لیکن ان حقائق کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کے بعد ذرا سوچیں کہ تم لوگو اللہ کے عطا کردہ رزق کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو ‘ یہ کہ وہ اس کا ایک حصہ تو اللہ کے لئے قرار دیتے ہیں اور دوسرا حصہ اپنے بتوں کے نام منسوب کرتے ہیں ۔ (ظاہر ہے کہ بتوں کے مجاور ہی وہ لوگ ہیں جو بتوں کے حصے کو حاصل کرنے کے حقدار ہوتے ہیں) ۔ اب اللہ کے حصے کے ساتھ وہ یہ توہین آمیز سلوک کرتے ہیں جس کی تفصیلات آیت کے اندر دی گئی ہیں ۔

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب وہ غلہ لے آتے تو اسے ڈھیر بنا لیتے ۔ اس میں سے ایک حصہ اللہ کے لئے نکالتے اور ایک بتوں کے لئے ۔ اب جب تیز ہوا چلتی اور غلے کے دانے بتوں کے حصے سے اڑ کر اللہ کے حصے میں شامل ہوجاتے تو یہ اس حصے سے ان کو جدا کرکے پھر بتوں کے حصے میں ملا دیتے ‘ اور اگر اللہ کے حصے کی جانب سے ہوا آئے اور اللہ کے حصے سے دانے بتوں کے حصے میں مل جاتے تو وہ انہیں اسی طرح چھوڑ دیتے ۔ اسی کے بارے میں یہ آیت آئی ہے ۔

آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136)

” یہ لوگ برے فیصلے کرتے ہیں “۔

مجاہد سے روایت ہے کہ وہ کھیت کے ایک حصے کو اللہ کے نام کردیتے اور ایک حصے کو اپنے بتوں کے لئے مخصوص کردیتے ۔ اب اللہ کے حصے سے ہوا اگر کسی چیز کو اڑا کر بتوں والے حصے میں ملا دے تو یہ اسے اسی طرح چھوڑ دیتے تھے اور اگر بتوں کے حصے سے کوئی چیز اللہ کے حصے میں مل جائے تو یہ اسے واپس کردیتے تھے ۔ اور کہتے ۔ (اللہ عن ھذا غنی) اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ “ اور مویشیوں میں سے انہوں نے سائبہ اور بحیرہ نام رکھے ہوئے تھے ۔ حضرت قتادہ سے روایت ہے ۔ اہل ضلالت نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنے مویشیوں اور فصلوں کے ایک حصے کو اللہ کا حق قرار دے دیا اور ایک حصے کو بتوں کا حق قرار دیا ۔ اب اگر اللہ کے حصے کی کوئی چیز بتوں کے حصے میں خلط ملط ہوجاتی تو یہ اسے چھوڑ دیتے اور اگر بتوں کے حصے سے کوئی چیز اللہ کے حصے میں جا پڑتی تو یہ اسے لوٹا دیتے ۔ اور اگر کبھی خشک سالی ہوتی تو وہ اللہ کے حصے کو موقوف کر کے خود استعمال کرتے لیکن بتوں کے حصے کو ہر حال میں قائم رکھتے ۔ اس کے بارے میں اللہ نے کہا۔

آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136)

” یہ برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں ‘۔

حضرت سدی کہتے ہیں کہ یہ اپنے مالوں کے حصے بناتے تھے اور فصلوں میں سے بھی اللہ کا حصہ مقرر کرتے تھے ۔ اسی طرح بتوں کے لئے بھی حصہ مقرر تھا ۔ بتوں کے حصے کو بتوں پر صرف کرتے اور اللہ کے حصے کو صدقہ کردیتے ۔ اب وہ مویشی جو بتوں کا حصہ ہوتے اگر اتفاقا مر جاتے اور اللہ کا حصہ زیادہ ہوجاتا تو وہ کہتے کہ ہمارے خداؤں کے لئے بھی تو اخراجات درکار ہیں تو وہ اللہ کے حصے میں سے لے کر اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شریکوں پر خرچ کرتے ۔ اور اگر اللہ کے حصے کی فصل خراب ہوجاتی اور بتوں والے حصے میں فصل زیادہ ہوجاتی تو کہتے کہ اگر اللہ چاہتا تو وہ اپنے حصے کو اچھا بناتا۔ یوں وہ بتوں کے حصے سے لے کر حصے کو پورا نہ کرتے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” اگر یہ سچے ہوتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کیونکہ یہ لوگ میرے حصے سے تو لیتے ہیں لیکن میرے حصے میں شامل نہیں کرتے اور یہی مطلب ہے ۔ آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136) کا ۔

ابن جریر آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136) کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان لوگوں کے بارے اطلاع ہے کہ وہ برے فیصلے کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے جو فیصلہ کیا وہ نہایت ہی غلط فیصلہ تھا کہ انہوں نے میرا حصہ ان لوگوں کو دے دیا جو انہوں نے بزعم خود میرے شریک ٹھہرائے ہوئے ہیں اور مزید یہ کہ ان …

Al-An'aam 6:136Listen in Qur'an →
137

وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍۢ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَٰدِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا۟ عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ ۖ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ

اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کر دیں اور اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ

آیت ” نمبر 137۔

جس طرح ان لوگوں کے لئے ان کے شرکاء اور ان کے شیاطین نے اپنے مالوں اور فصلوں میں یہ تصرفات خوبصورت بنادیئے ہیں ‘ اسی طرح انہوں نے ان کے لئے قتل اولاد کو بھی مزین بنا دیا ہے ۔ یوں کہ وہ لوگ اپنی بیٹیوں کو تنگدستی کے خوف سے زندہ درگور کردیتے تھے ‘ یا اس لئے کہ وہ جنگی قیدی بن جائیں گی اور ان کے لئے موجب طار ہوں گی ۔ بعض اوقات وہ اولاد کو بطور نذر بھی قتل کرتے تھے ۔ جس طرح حضرت عبدالمطلب سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے ان کو دس ایسے بیٹے بخشے جوان کے لئے دست وبازو ہوں تو وہ ان میں سے ایک کو قربان کریں گے ۔

یہ تمام باتیں ان کے دل و دماغ میں انکی جاہلی رسومات نے پختہ طور پر بٹھا دی تھیں ۔ یہ رسومات جاہلیت وہ تھیں جو لوگوں نے خود ہی اپنے لئے وضع کی تھیں ۔ اس آیت میں جن شرکاء کا ذکر ہے اس سے مراد شیاطین جن وانس ہیں انسانوں میں سے جو شیاطین تھے وہ کاہن ‘ مجاور اور سردار تھے ۔ جنوں میں سے وہ لوگ تھے جو بعض انسانوں کے دوست بن جاتے تھے اور وہ انسانوں کی مدد کرتے تھے ۔ اس آیت میں ان شیاطین کا جو واضح ہدف بتایا گیا ہے وہ یہ ہے ۔

آیت ” لِیُرْدُوہُمْ وَلِیَلْبِسُواْ عَلَیْْہِمْ دِیْنَہُمْ “۔ (6 : 137)

” تاکہ انکو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنادیں ۔ “ یعنی وہ ان کو ہلاک کردیں ‘ ان پر ان کے دین کو گنجلک اور مشتبہ بنادیں ۔ اس طرح کہ وہ اسے واضح طور پر سمجھ نہ سکیں ۔ ہلاک کرنے کا مصداق ایک تو یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں ۔ دوسرا مصداق یہ ہے کہ ان کی اجتماعی زندگی اسلام کے خلاف ہوجاتی ہے اور وہ اپنے معاشرے میں ان مویشیوں کی طرح بن جاتے ہیں جن کو وہ شیاطین جس طرح چاہیں ہانک کرلے جائیں ‘ یعنی اپنے مقاصد اور مفادات کے مطابق یہاں تک کہ وہ لوگ ان حیوانوں کے اموال ‘ اولاد اور خود ان کی جان کے بارے میں قتل کرنے اور ہلاک کرنے کے اختیارات کے بھی ملک ہوجاتے ہیں۔ ان حیوانوں کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ پوری اطاعت کریں ۔ اس لئے کہ دین اور عقیدے کے ساتھ جو زائد تصورات وابستہ کردیئے گئے اور جو درحقیقت دین سے نہیں ہیں ‘ وہ نہایت ہی گہرے ہوگئے اور اب دیندار لوگوں پر ان کا بھاری دباؤ ہے ۔ یہ تصورات چونکہ سوسائٹی کے اندر موجود رسم و رواج کی وجہ سے دین سے وابستہ ہوئے ہیں اس لئے یہ عرف بھی ان کی پشت پر ہوتا ہے اور ان رسومات کا دباؤ معاشرے پر اس قدر زیادہ ہوجاتا ہے کہ عوام کالانعام اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ الا یہ کہ یہ ان میں سے کوئی حقیقی دین کی بنیادون کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہو اور قرآن وسنت پر اس کی گرفت مضبوب ہو ۔

یہ دینی رنگ کے مبہم اور پیچیدہ تصورات جن کو لوگ دین سمجھتے ہیں ‘ یہ اجتماعی رسومات جن سے یہ تصورات پروان چڑھتے ہیں اور جو عوام الناس پر کمر توڑ بوجھ بنے ہوئے ہیں ‘ یہ ان صورتوں تک محدود نہیں ہیں جو قدیم زمانوں کی جاہلیتوں کے اندر پائی جاتی تھیں ‘ دور جدید کی تازہ ترین جاہلیت میں بھی یہ تصورات واضح طور پر موجود ہیں ۔ یہ رسم و رواج جو دور جدید میں بھی عوام الناس پر بارگراں بنے ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے ‘ لوگوں کے لئے لابدی بن گئے ہیں اور اب لوگوں کے لئے کوئی راہ نہیں رہی ہے کہ وہ ان کے چنگل سے نکل باگیں ۔ لوگوں نے اپنے اوپر مخصوص لباس فرض کرلئے ہیں اور بعض اوقات ان پر اس قدر روپیہ خرچ کرتے ہیں جو انکے پاس نہیں ہوتا ۔ یہ رسم و رواج لوگوں کی زندگی کو چاٹ جاتے ہیں ۔ ان کی تمام آرزوئیں خاک میں مل جاتی ہیں ‘ ان کے اخلاق ختم ہوجاتے ہیں لیکن ہو ہر حال میں ان کی پابندی کرتے ہیں۔ صبح کا لباس ‘ دوپہر کا لباس ‘ شام کا لباس ‘ منی اسکرٹ ‘ ٹیڈی لباس اور مضحکہ خیز لباس ‘ قسم قسم کا میک اپ اور بناؤ سنگھار ۔ بعض لوگ یہ کام کرتے ہیں بعض ان سے کراتے ہیں ۔ …

Al-An'aam 6:137Listen in Qur'an →
138

وَقَالُوا۟ هَٰذِهِۦٓ أَنْعَٰمٌۭ وَحَرْثٌ حِجْرٌۭ لَّا يَطْعَمُهَآ إِلَّا مَن نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَٰمٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَٰمٌۭ لَّا يَذْكُرُونَ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَيْهَا ٱفْتِرَآءً عَلَيْهِ ۚ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا

آیت ” نمبر 138۔

ابن جریر طبری کہتے ہیں ان جاہلوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ اطلاع دیتے ہیں کہ یہ لوگ از خود بعض چیزوں کو حلال قرار دیتے تھے اور بعض کو حرام قرار دیتے تھے ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو قانون سازی کے اختیارات نہیں دیئے تھے ۔

آیت میں لفظ حجر کے معنی حرام کے ہیں ۔ یہ لوگ جو اللہ کے حق قانون سازی اور حق حاکمیت پر دست درازی کرتے تھے ‘ یہ دعوی کرتے تھے ‘ کہ یہ اللہ کی شریعت ہے جو ایک جرم ہے ۔ انہوں نے اپنی فصلوں کے ایک حصے کو اور بعض قسم کے مویشیوں کو اپنے الہوں کے لئے مختص کر رکھا تھا جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ یہ پھل اور مویشی ان کے لئے حرام ہیں اور ان کو وہی شخص کھا سکتا ہے جس کو اللہ کی طرف سے اجازت ہو ۔ یہ سب اقوال ان کا زعم تھا اور ظاہر ہے کہ ان کے مذہب میں پھر اجازت صرف کاہنوں ‘ گدی نشینوں اور بعض رئیسوں کو تھی ۔ پھر انہوں نے مویشیوں میں سے بعض کو اسی طرح اپنے اوپر بھی حرام کردیا تھا جن کا ذکر سورة مائدہ میں ہوچکا ہے ۔ ” اللہ نے کسی جانور کو بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام قرار نہیں دیا “ ۔ یہ انہوں نے از خود قرار دیا کہ ان جانوروں پر سواری حرام ہے ۔ اسی طرح انہوں نے یہ قرار دیا کہ بعض جانوروں کے اوپر اللہ کا نام نہ لیاجائے گا یعنی سواری کے وقت ‘ دودھ نکالنے کے وقت اور نہ ان کے ذبح کے وقت بلکہ ان پر الہوں کا نام لیا جائے گا جن کے نام وہ مختص ہوچکے تھے ۔

ابن جریر افتراء علی اللہ کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں کہ ’ ان لوگوں نے بعض چیزوں کو حرام قرار دے کر اور پھر یہ کہہ کر کہ یہ اللہ کی نازل کردہ شریعت ہے ‘ اللہ پر افتراء باندھا ہے ‘ اللہ پر جھوٹ بولا ہے کیونکہ انہوں نے از خود بعض چیزوں کو حرام قرار دے کر اس کی نسبت اللہ کی طرف کردی تھی ۔ اس آیت میں اللہ نے اس بات کی تردید کردی کہ اس نے ایسا نہیں کیا ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے انہیں جھوٹا قرار دیا ۔ اور نبی کریم ﷺ اور مومنین کو یہ اطلاع کردی کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔

یہاں ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ جاہلیت کے وہ خدوخال کون سے ہیں ۔ جو اکثرجاہلیتوں میں یہ بات مشترک ہوتی ہے کہ بعض لوگ دیدہ دلیری سے کام لے کر اس دنیا کو محض مادہ قرار دیتے ہیں اور بعض اگرچہ بےحیائی میں اس حد تک آگے نہیں جاتے اور خدا کا سرے سے انکار نہیں کرتے مگر وہ کہتے ہیں کہ دین تو صرف عقیدے کا نام ہے ۔ یہ کوئی نظام زندگی یا اجتماعی ڈھانچہ ‘ یا سیاسی اور اقتصادی نظام نہیں ہے جو پوری زندگی کو اپنے دائرہ اختیار میں لے سکتا ہو۔

جاہلیت کی دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ہر جاہلیت ایک مخصوص دنیاوی نظام قائم کرتی ہے جس میں حاکمیت اور اقتدار اعلی اللہ کے سوا کسی اور کے لئے ہوتا ہے ۔ البتہ ہر جاہلیت یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ مذہب کا احترام کرتی ہے اور وہ اپنے خدوخال دین ہی سے لیتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی جاہلیت کا یہ انداز نہایت ہی خطرناک اور گہری عیاری اور چالاکی پر مبنی ہوتا ہے ۔ عالمی عیسائیت اور عالمی صہیونیت نے اس علاقے میں جو کبھی دارالاسلام تھا ‘ اور جہاں شریعت الہی قانون کی حیثیت رکھتی تھی ‘ یہی پالیسی اپنا رکھی ہے ۔ یہ پالیسی انہوں نے ترکی میں عظیم لیڈر کے تجربے کی ناکامی کے بعد اپنائی ہے ۔ یاد رہے کہ ترکی کا یہ عظیم لیڈر خود انہوں نے مصنوعی طور پر پیدا کیا تھا ‘ اس نے انہی کی ہدایت پر ترکی سے خلافت اسلامیہ کو ختم کیا ۔ اس لئے کہ ترکی کی خلافت اسلامیہ اس کرہ ارض پر عظمت اسلام کی آخری نشانی تھی ‘ لیکن ترکی میں ان کی اعلانیہ ملحدانہ پالیسی بری طرح ناکام رہی اور اس نے اس علاقے میں کوئی اہم کردار ادا نہ کیا ۔ اس ملحدانہ پالیسی نے اعلانیہ دین سے علیحدگی اختیار کرلی ۔ چناچہ یہ پالیسی وہاں کے اجتماعی نظام سے بالکل نامانوس رہی کیونکہ اہالیان ترکیہ کے دلوں میں ابھی تک محبت اسلام کی آگ سلگ رہی تھی ۔ چناچہ اس تجربہ کے …

Al-An'aam 6:138Listen in Qur'an →
139

وَقَالُوا۟ مَا فِى بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلْأَنْعَٰمِ خَالِصَةٌۭ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزْوَٰجِنَا ۖ وَإِن يَكُن مَّيْتَةًۭ فَهُمْ فِيهِ شُرَكَآءُ ۚ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے

آیت ” نمبر 139۔

اس شرک اور بت پرستی سے جو ادہام پیدا ہوئے تھے ‘ انکے اندر یہ لوگ اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ انہوں نے حلال و حرام کے تعین کا کام بھی اللہ کے بجائے انسانوں کے سپرد کردیا تھا اور دعوی یہ کرتے تھے کہ یہ انسان جو قانون سازی کر رہے ہیں وہی اللہ کی شریعت ہے ۔ چناچہ خرافات کی دنیا میں وہ اس مقام تک آپہنچے کہ کہنے لگے کہ ان جانوروں کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ مردوں کے لئے ہے یا شاید یہ بات وہ مذکورہ بالا بحریہ ‘ سائبہ اور وصیلہ وغیرہ کے حق میں کہتے تھے کہ عورتوں کے لئے اس کا کھانا حرام ہے ۔ ہاں ایک صورت ہے کہ اگر یہ جانور مردہ حالت میں پیدا ہو تو عورتیں بھی ان سے کھاسکتی ہیں اور یہ کیوں ؟ اس کا کوئی منطقی جواز ان کے پاس نہ تھا ۔ ہاں جواز صرف یہ تھا کہ انہوں نے قانون سازی کا کام جن لوگوں کے سپرد کردیا تھا ان کی منشا یہ ہوگی یا ان کا مفاد اس میں ہوگا ۔ یہ خالص بےمعنی قانون سازی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ یہ نہایت ہی مکروہ قانون ہے ۔ جن لوگوں نے یہ بنایا ہے انہوں نے اللہ پر افتراء پردازی کی ہے ‘ خصوصا یہ بات جو وہ کہتے ہیں کہ یہ بھی من عند اللہ شریعت ہے ۔

آیت ” سَیَجْزِیْہِمْ وَصْفَہُمْ إِنَّہُ حِکِیْمٌ عَلِیْمٌ(139)

” ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا ۔ یقینا وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے ۔ “

وہ تمام امور میں بڑی حکمت کے ساتھ تصرفات کرتا ہے اور اس کے فیصلے اور قانون ایسے نہیں ہوتے جیسے ان جاہلوں کے ہوتے ہیں ۔

جب انسان کلام الہی کو پڑھتے ہوئے ان گمراہیوں پر نظر ڈالتا ہے اور ان گمراہیوں کے حاملین جن خساروں ‘ نقصانات اور مشکلات میں مبتلا ہوتے ہیں ان پر غور کرتا ہے تو وہ یہ دیکھ کر نہایت ہی تعجب میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ لوگ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام سے انحراف کرکے کس قدر نقصانات اٹھا رہے ہیں اور کن ناقابل برداشت ذمہ داریوں میں گھر گئے ہیں ۔ ان ذمہ داریوں کو لے کر وہ کس قدر فضول اور مجمل ناقابل فہم امور میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ ان کے عقائد غلط ہیں اور ان فرائض ایسے عائد کردئیے گئے ہیں کہ ناقابل فہم امور میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ ان کے عقائد غلط ہیں اور ان پر فرائض ایسے عائد کردیئے گئے ہیں ۔ کہ ناقابل برداشت ہیں ۔ ان کی زندگی پیچیدہ اور اضطراب انگیز ہے ۔ زندگی کا کوئی اصول نہیں ہے ۔ ہر طرف وہم و خرافات اور تقلید اور نقل ہے ۔ ان سب حالات کے مقابلے میں اسلام کا عقیدہ توحید ہے جو بالکل صاف ستھرا اور واضح ہے ۔ عقیدہ انسانی ذہن سے ادہام اور خرافات کو کھرچ کر رکھ دیتا ہے اور انسانی عقل کو اندھی تقلید کی پیروی اور جکڑی بندیوں سے آزاد کردیتا ہے ۔ یہ عقیدہ انسانیت کو جاہلیت اور اس کی رسومات سے رہائی دلاتا ہے ۔ پھر یہ عقیدہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے آزاد کرتا ہے ‘ چاہے یہ غلامی قانون سازی کے معاملے میں ہو ‘ یا رسومات اور طرز عمل میں ہو یا حسن وقبح کے پیمانوں کے میدان میں ہوں۔ اس جنگل سے نکال کر عقیدہ توحید انسان کو ایک واضح نظریہ دیتا ہے ۔ ایک واضح معنی دیتا ہے ۔ اس کے تصورات واضح اور آسان ہیں ۔ ان تصورات کی روشنی میں انسان کو ہمہ گیر آزادی نصیب ہوجاتی ہے اور انسان صرف اللہ کی بندگی اور غلامی کے اعلی ارفع مقام تک پہنچ جاتا ہے ۔ لوگ نبی کی اتباع سے وہاں پہنچ سکتے ہیں۔

آہ ! یہ ایک عظیم خسارہ ہے اور یہ خسارہ دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی ‘ بلکہ آخرت کا خسارہ تو بہت ہی زیادہ ہے اور یہ اس لئے ہے کہ انسانیت نے اللہ کی سیدھی راہ سے انحراف کرلیا ہے اور جاہلیت کی گندگی میں ڈوب گئی ہے ۔ اس نے انسانوں کی غلامی میں اپنے آپ کو دے دیا ہے ۔

Al-An'aam 6:139Listen in Qur'an →
140

قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ قَتَلُوٓا۟ أَوْلَٰدَهُمْ سَفَهًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍۢ وَحَرَّمُوا۟ مَا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ٱفْتِرَآءً عَلَى ٱللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا۟ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ

جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے بے سمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کر کے اس کی عطا فرمائی کی ہوئی روزی کو حرام ٹہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں

آیت ” نمبر 140۔

یہ ایک عام اور مطلق خسارہ ہے ۔ دنیا اور آخرت دونوں کا خسارہ ہے ۔ ان کا اپنا بھی خسارہ ہے اور آنے والی نسلوں کا بھی خسارہ ہے ۔ ان کا فکری خسارہ ہے اور روحانی خسارہ ہے اور انکی آزادی کا خسارہ ہے کہ اللہ نے تو انہیں انسانوں کی غلامی سے چھڑایا اور انہیں رب کی غلامی میں داخل کیا لیکن انہوں نے اپنے آپ کو اپنے جیسے بندوں کی غلامی میں دوبارہ داخل کردیا ۔ اور ان انسانوں کو اپنا حاکم بنا لیا ۔ ان تمام امور سے صرف نظر بھی کیا جائے تو انہوں نے ضلالت اختیار کرلی ہے اور ہدایت کی راہ کو ترک کردیا ہے ۔

آیت ” قَدْ ضَلُّواْ وَمَا کَانُواْ مُہْتَدِیْنَ (140)

” یقینا وہ بھٹک گئے اور ہر گز وہ راہ راست پانے والوں میں سے نہ تھے ۔ “

اس کے بعد قرآن کریم انہیں اس کائنات کی پہلی حقیقت کی طرف لاتا ہے جسے انہوں نے بھلادیا تھا اور آغاز کلام میں آیت ۔

آیت ” وَجَعَلُواْ لِلّہِ مِمِّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالأَنْعَامِ “۔ (6 : 136) میں اشارہ کردیا تھا ۔ انہیں اس حقیقت کی طرف لایا جاتا ہے کہ جن فصلوں اور مویشیوں کے متعلق وہ ایسے نامعقول قواعد واضع کرتے ہیں ‘ ان کی ماہیت کیا ہے اور ان کا اصل اور مصدر کیا ہے ۔ وہ ان کے بارے میں جنوں اور انسانوں کے شیاطین کی ہدایات لیتے ہیں جبکہ ان کو ان جنوں اور شیطانوں نے پیدا نہیں کیا ۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے ان فصلوں اور مویشیوں کو پیدا کیا ۔ ان چیزوں کو تمہارے سازوسامان کے طور پر پیدا کیا گیا اور تم انہیں استعمال کر رہے ہو ۔ تمہارا فرض تو یہ ہے کہ تم شکر خدا وندی بجا لاؤ اور صرف اللہ کی عبادت کرو ‘ حالانکہ اللہ کو تمہارے شکر اور تمہاری بندگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ تو غنی اور رحمتوں والا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ حقائق و عقائد تو خود انسانوں کی دنیا وآخرت کو سدھارنے کے لئے بتلائے جاتے ہیں جو ان میں سے کسی ایک چیز کے مالک و خالق نہیں ہیں ۔ یہ تو اللہ کے پیدا کردہ فصل اور مویشی ہیں لیکن انسان اللہ کی مخلوق کو تقسیم کر کے کچھ بتوں کو دے دیتے ہیں اور کچھ اللہ کے لئے مخصوص کرتے ہیں ۔ پھر اللہ کے حصے کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرتے ہیں اور یوں شیطانوں کو خوش کرتے ہیں ۔

حالانکہ اللہ ہی خالق ‘ مالک اور رازق ورب ہے ‘ اور ان مالوں میں کوئی تصرف اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا ۔ اس کا اذن اسلامی شریعت کی صورت میں موجود ہے ۔ اور یہ شریعت اللہ کی جانب سے رسول اللہ لائے ہیں ۔ اللہ کا اذن ان غاصبوں کے جاری کردہ قوانین کو حاصل نہیں ہے ۔ جنہوں نے اللہ کے حق حاکمیت کو غضب کرلیا ہے ۔

Al-An'aam 6:140Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.