Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 101–110 of 165

101

بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُۥ وَلَدٌۭ وَلَمْ تَكُن لَّهُۥ صَٰحِبَةٌۭ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍۢ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (ہے) ۔ اس کے اولاد کہاں سے ہو جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے

(آیت) ” بَدِیْعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ أَنَّی یَکُونُ لَہُ وَلَدٌ وَلَمْ تَکُن لَّہُ صَاحِبَۃٌ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْْء ٍ وہُوَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(101)

” وہ تو آسمان اور زمین کا موجد ہے ‘ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ اس کی کوئی شریک زندگی ہی نہیں ہے ۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ “

اللہ تو وہ ہے جو اس پوری کائنات کو عدم مطلق سے وجود میں لایا لہذا اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ کسی کو اپنا خلف تجویز کرے ۔ خلف اور پسماندگان تو اس ذات کے لئے ہوتے ہیں جو فانی ہو ۔ اور یا جو کمزور ہو اور اسے امداد کی ضرورت ہو ‘ یا جنہیں دیکھ کر وہ خوش ہوسکے ۔

پھر ان لوگوں کو معلوم ہے کہ توالد وتکاثر کا ضابطہ کیا ہوتا ہے ۔ کسی شخص کے لئے اس ہی کی جنس سے ایک مادہ جوڑ ہوتا ہے ۔ جب اللہ کی بیوی ہی نہیں ہے تو بیٹا کیسے ہوگا اور وہ ان چیزوں سے پاک بھی ہے ۔ اس جیسی تو کوئی چیز ہی نہیں ہے لہذا کس طرح ممکن ہے کہ بغیر شادی کے نسل چلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو حقیقت ہے لیکن قرآن کریم اس حقیقت کو ان کے لئے قریب الفہم بنا دیتا ہے اور ان کے ساتھ خطاب میں ان کی فہم کو ملحوظ رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے مشاہدات کے رنگ میں بات کو سمجھ سکیں۔

یہاں قرآن کریم ان کی تردید میں صرف حقیقت تخلیق کو پیش کرتا ہے تاکہ شرک کا کوئی سایہ تک باقی نہ رہے ۔

یوں کہ کسی صورت میں بھی مخلوق خالق کے ساتھ شریک نہیں بن سکتی ۔ کیونکہ خالق اور مخلوق کی حقیقت ہی جدا ہوتی ہے اور دوسری دلیل اللہ یہ دیتے ہیں کہ اللہ ہی حقائق کا علم رکھتا ہے اور ان کے پاس کوئی علم نہیں ہے ۔

(آیت) ” وَخَلَقَ کُلَّ شَیْْء ٍ وہُوَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(101) یعنی خلق بھی اس کا ہے اور علم بھی وہی رکھتا ہے ۔

جس طرح اس سے قبل قرآن کریم نے مشرکین مکہ کی تردید کرتے ہوئے یہ کہا کہ ” اللہ نے ہر چیز کی تخلیق کی ہے ۔ “ اور اس سے ان کے ان تصورات کی تردید کردی گئی اور بتادیا گیا کہ اللہ کے بیٹے بیٹیاں کیسے ہوسکتی ہیں جبکہ اللہ کی کوئی شریک زندگی ہی نہیں ہے یا اللہ کا کوئی شریک خود اس کی مخلوق سے کیسے بن سکتا ہے ‘ تو یہاں دوبارہ اللہ کی صفت تخلیق کو لایا جاتا ہے تاکہ یہ بات ثابت کی جاسکے کہ چونکہ وہ خالق ہے اس لئے وہی معبود ہوگا اور ہمیں چاہئے کہ ہم صرف اسی کی بندگی کریں اور اپنی زندگی میں پورا دین صرف اس کا نافذ کریں اسی لئے کہ خالق وہی ہے ۔ اس کے سوا کوئی اللہ اور حاکم نہیں ہو سکتا اور نہ ان کا اس کے سوا کوئی رب ہو سکتا ہے ۔۔۔

Al-An'aam 6:101Listen in Qur'an →
102

ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمْ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ فَٱعْبُدُوهُ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ وَكِيلٌۭ

یہی (اوصاف رکھنے والا) خدا تمہارا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) ہر چیز کا پیداکرنے والا (ہے) تو اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا نگراں ہے

(آیت) ” نمبر 02 ا۔

جب یہ بات تسلیم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ ہی خالق ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہی بادشاہ اور مالک ہے ۔ اور جب اللہ ہی خالق اور مالک ہے تو لازما وہی رازق ہے اس لئے کہ جب وہ خالق ہے اور مالک ہے تو رزق اسی کی ذمہ داری ہے اور یہ رزق وہ اپنی مملکت سے دیتا ہے جس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ۔ اللہ کی مملکت میں جو کچھ بھی ہے یا جس چیز سے بھی انسان فائدہ اٹھاتے ہیں وہ تمام چیز میں اللہ کی مملوکہ ہیں اور جب تخلیق ‘ ملکیت اور رزق اللہ کا ہے تو یہ بات حتما ثابت ہوجاتی ہے کہ رب بھی وہی ہے ۔ لہذا یہ ہر انسان کا فرض ہوگا کہ وہ خصائص ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔ ربوبیت کی اہم خصوصیات یہ ہیں ‘ مختار ومنتظم ہونا ‘ ہدایت دینا ‘ بادشاہ ہونا اور ایسی پوزیشن میں ہونا کہ اس کی اطاعت کی جائے اور وہ ایک ایسا نظام اور دین دے جس پر لوگ اجتماعی طور پر عمل کریں ۔ (دیکھئے المصطلحات الاربعہ فی القرآن مولانا ومودودی امیر جماعت اسلامی پاکستان ‘ مباحث الوہیت ‘ ربوبیت اور عبادت) لہذا ہر قسم کی عبادت و بندگی اور اطاعت اس کی ہوگی جن میں سے اہم خضوع اور سرتسلیم خم کرنا ہے ۔

عرب لوگ اپنے دور جاہلیت میں اس بات کے منکر نہ تھے کہ اللہ اس کائنات کا خالق ہے ۔ وہ لوگوں کا خالق اور رازق ہے اور تمام لوگوں کو اللہ کی ملکیت سے تمام ضروریات زندگی فراہم ہو رہی ہے ۔ اس کی ملکیت میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے ۔ عربوں کے علاوہ تمام دوسری جاہلیتیں بھی ان حقائق کا انکار نہ کرتی تھیں (ماسوائے یونانی فلاسفہ کیا کی ایک قلیل تعداد کے) اور اس زمانے میں ہمارے دورجدید کے مادی مذاہب نہ تھے جن کی تشہیر وتشریح یونانی دور کے مقابلے میں زیادہ وسیع طور پر ہو رہی ہے ۔ لہذا سلام کے آغاز کے دور میں اللہ کے ساتھ جن الہوں کو شریک کیا جاتا تھا ان کی عبادت اس لئے کی جاتی تھی کہ یہ الہ الہ حقیقی کے قرب کا سبب اور ذریعہ ہیں ۔ یہ ایک انحراف تھا اور دوسرا انحراف یہ تھا کہ لوگوں کی زندگیوں پر اسلامی نظام حیات کی حکمرانی نہ تھی ۔ اور نہ اس دور میں تحریک اسلامی کو ایسے لوگوں سے سابقہ تھا جو ہمارے دور میں پائے جاتے ہیں جو سرے سے وجود باری کے منکر ہیں اور یہ انکار وہ بغیر علم بغیر ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے کر رہے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ آج بھی جو لوگ وجود باری کے منکر ہیں یا انکار خدا پر اصرار کرتے ہیں وہ بہت ہی تھوڑے ہیں اور ایسے لوگ ہمیشہ ایک حقیر اقلیت ہی میں رہیں گے ۔ حقیقی گمراہی یہ تھی جس طرح آج ہے کہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور سے نظام زندگی اخذ کرتے تھے اور یہی وہ روایاتی شرک تھا جس پر جاہلیت عربیہ قائم تھی اور تمام دوسری جاہلیتیں قائم رہی ہیں۔

اب جو حقیر اقلیت انکار خدا پر مصر ہے کیا اس کے پاس کوئی علمی دلیل ہے ؟ کیا اس کا انکار سائنس پر مبنی ہے ؟ اگرچہ اس کا دعوی تو ہے لیکن سائنس ان کے اس عقیدے کی تصدیق نہیں کرتی ہے ؟ نہ کوئی سائنسی دلیل ہے اور نہ اس کائنات کی طبیعیات میں اس بات پر کوئی دلیل ہے ۔ یہ دراصل وہ انحراف اور بغاوت ہے جو لوگوں نے اہل کلیسا اور ان کے خداؤں کے خلاف اختیار کی ۔ کلیسا کے خدا اس بات پر مصر تھے کہ لوگ کلیسا کے پاس غلام ہوں حالانکہ اصول دین میں سے کوئی اصل ایسا نہ تھا کہ لوگوں کو غلام رکھا جائے ۔ پھر ان مذہبی پیشواؤں کی شخصیت کی فطری نشوونما بھی غلط تھی ۔ وہ انسان کے انسانی وظائف کو معطل کر رہے تھے مثلا وہ لوگ جنہیں بتییسمہ دے دیا جاتا تھا ۔ (دیکھئے کتاب الخصائص التصور الاسلامی باب الوہیت اور بندگی)

یہ حقیقت ہے کہ قرآن مجید میں تخلیق کائنات اور تقدیر نظام کائنات کا ذکر اس لئے نہیں کیا جاتا کہ ان امور سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے وجود پر دلائل قائم کیے جائیں ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکرین کا موقف اس قدر بودا تھا کہ قرآن کریم جیسی …

Al-An'aam 6:102Listen in Qur'an →
103

لَّا تُدْرِكُهُ ٱلْأَبْصَٰرُ وَهُوَ يُدْرِكُ ٱلْأَبْصَٰرَ ۖ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلْخَبِيرُ

(وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے اور وہ بھید جاننے والا خبردار ہے

(آیت) ” نمبر 103۔

وہ لوگ جو اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ وہ اللہ کو دیکھ لیں ‘ وہ ایسے ہی ہیں جس طرح بعض دوسرے لوگ اپنی قبیح فطرت کی وجہ سے وجود باری پر مادی دلیل پیش کرتے ہیں ۔ یہ دونوں قسم کے لوگ درحقیقت سمجھتے ہی نہیں کہ وہ کہتے کیا ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ انسانی نظر ‘ انسان کے حواس ‘ اور انسان کا ذہنی ادراک یہ سب قوتیں اسے صرف اس لئے دی گئی ہیں کہ وہ اس کائنات کے ساتھ تعلق کی نسبت سے اپنے معاملات طے کرسکے اور اس کرہ ارض پر منصب خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرسکے اور اس مخلوق کائنات کے صفحات میں وجود باری پر دلالت کرنے والے آثار کی تلاش کرسکے ۔ رہی ذات باری کی حقیقت تو وہ اس طاقت ہی سے محروم ہیں جس کے ذریعے وہ اس کا ادراک کرسکیں ۔ اس لئے کہ ایک حادث اور فانی وجود کے اندر وہ قدرت ہی نہیں ہے کہ وہ ازلی اور ابدی ذات کا ادراک کرسکیں ۔ اس لئے کہ ایک حادث اور فانی وجود کے اندر وہ قدرت ہی نہیں ہے کہ وہ ازلی اور ابدی ذات کا ادراک کرسکے۔ پھر یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اس کرہ ارض پر انسان کی جو ذمہ داریاں ہیں ان کی ادائیگی کے لئے اس کے لئے رویت باری کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ جہاں تک یہاں انسانی فرائض کا تعلق ہے ان کی ادائیگی کے لئے انسان کو مناسب طاقت دی گئی ہے ۔

انسان کے لئے یہ تو ممکن ہے کہ وہ سابقہ لوگوں کی سادگی کو سمجھ لے مگر وہ آخری دور میں آنے والوں کی قبیح فطرت کو سمجھنے میں غلطی کا مرتکب ہو سکتا ہے ‘ یہ لوگ ایٹم اور برق کی بات کرتے ہیں ۔ پروٹون اور نیوٹرون کی بات کرتے ہیں لیکن ان میں سے کسی نے اپنی زندگی کے اندر ایٹم ‘ کوئی برق ‘ کوئی نیوٹرون اور کوئی پروٹون نہ دیکھا ‘ اس لئے کہ زندگی کی ماہیت کو دیکھنے کی دوربین ابھی تک وجود میں نہیں آسکی ۔ ان سائنس دانوں کے نزدیک یہ امور بہرحال مسلم ہیں اور وہ انکے وجود کو فرض کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انہوں نے ان چیزوں کے کچھ آثار متعین کر لئے ہیں ۔ جب وہ آثار پائے جاتے ہیں تو ان لوگوں کو یقین ہوجاتا ہے کہ وہ موجود ہیں اور کائنات بھی موجود ہے حالانکہ یہ صرف احتمال ہے کہ جس طرح انہوں نے فرض کیا ہے کائنات اسی طرح ہو ۔ تاہم جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ موجود ہے اس لئے کہ اس کے آثار موجود ہیں اور یہ آثار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اللہ موجود ہے تو پھر یہ لوگ وجود باری کے بارے میں جدل وجدال اور مناقشہ شروع کردیتے ہیں بغیر علم ‘ بغیر ہدایت ‘ بغیر ادراک اور بغیر کسی کتاب منیر کے ۔ اس کے برعکس اللہ کے وجود کے لئے وہ ایسی دلیل طلب کرتے ہیں کہ آنکھیں اللہ کو دیکھ سکیں ۔ اس کرہ ارض پر زندگی کے عجائب گویا ان کے لئے کافی نہیں ہیں حالانکہ وہ وجود باری پر کافی ثبوت ہیں۔

دلائل تکوینی جو اس کائنات کی کھلی کتاب کے صفحات میں بکھرے ہوئے ہیں اور انسانی نفوس کے اندر بھی موجود ہیں ان کے بیان کے بعد اور یہ کہنے کے بعد کہ ۔

(آیت) ” اَّ تُدْرِکُہُ الأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الأَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (103)

” نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے ۔ ‘

اب اس خوبصورت انداز میں صفات الہی کے بیان کے بعد بات یوں آگے بڑھتی ہے ۔

Al-An'aam 6:103Listen in Qur'an →
104

قَدْ جَآءَكُم بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَنْ عَمِىَ فَعَلَيْهَا ۚ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍۢ

(اے محمدﷺ! ان سے کہہ دو کہ) تمہارے (پاس) پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (ان کو آنکھ کھول کر) دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا اور جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے حق میں برا کیا۔ اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں

(آیت) ” نمبر 104۔

یہ جو کچھ اللہ کی طرف سے آ رہا ہے بصیرت کی روشنی ہے ۔ بصیرت انسان کو ہدایت دیتی ہے اور راہنمائی کرتی ہے ۔ یہ بذات خود عین روشنی ہے ۔ اس لئے جو شخص اسے دیکھے گا وہ روشن دیکھے گا اور اگر کوئی آنکھیں بند کرے گا تو وہ اندھا ہوگا ۔ ان بصیرتوں اور روشنیوں کے آجانے کے بعد صرف اندھا ہی محروم رہ سکتا ہے ۔ وہ جس کے حواس کام نہ کررہے ہوں اور جس کے شعور کا دراوزہ بند ہو جس کا ضمیر اندھا ہو۔

اس کے بعد نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اپنی برات کا اعلان یوں کردیں کہ میں تم پر نگہبان اور پاسبان مقرر نہیں کیا گیا ہوں۔ (آیت) ” ما انا علیم بحفیظ “۔ (6 : 104) ” میں تمہارے لئے پاسبان مقرر نہی ہوا ہوں “۔ یہاں عبار میں ایک عجیب تناسق ہے ۔ اللہ کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا گیا تھا ۔

(آیت) ” اَّ تُدْرِکُہُ الأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الأَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (103)

” نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے ۔ ‘

(آیت) ” قَدْ جَاء کُم بَصَآئِرُ مِن رَّبِّکُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِہِ وَمَنْ عَمِیَ فَعَلَیْْہَا “۔ (6 : 104)

” دیکھو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آگئی ہیں ‘ اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا ۔ “

ایک جگہ ابصار اور مقابل میں بصائر ہے ۔ ایک جگہ بصیر ہے اور مقابلے میں عمی ہے ‘ یہ عربی اسلوب میں الفاظ کا بہترین انتخاب ہے۔

اس کے بعد روئے سخن حضرت نبی کریم ﷺ کی طرف مڑ جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم کے اندر جو اسلوب کلام اختیار کیا گیا ہے وہ ایسا نہیں ہے جو کسی امی شخص کی طرف سے بنایا جاسکتا ہو اور جس سے مالکان بصیرت خود بخود یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ یہ یقینا کلام الہی ہے ۔ لیکن مشرکین انکار اس لئے نہ کرتے تھے کہ ان کے سامنے تشفی بخش دلائل نہ تھے ۔ بلکہ وہ بہانہ سازی کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ یہ عظیم علمی کام اور فصیح وبلیغ کلام بعض اہل کتاب سے سیکھ کر بتا رہے ہیں حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اس وقت جو اہل کتاب تھے ان کے پاس نہ یہ پیغام تھا اور نہ یہ اعلی کلام ۔ چناچہ حضور ﷺ کو ہدایت کردی جاتی ہے کہ آپ مشرکین سے اعراض کریں اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتین چلے جائیں۔

Al-An'aam 6:104Listen in Qur'an →
105

وَكَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ وَلِيَقُولُوا۟ دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُۥ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم (یہ باتیں اہل کتاب سے) سیکھے ہوئے ہو اور تاکہ سمجھنے والے لوگوں کے لئے تشریح کردیں

(آیت) ” نمبر 105 تا 107۔

اللہ اپنی آیات اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ عربوں کے اندر نہ یہ اسلوب تھا اور نہ وہ اس پر قادر تھے کیونکہ یہ ان کے معاشرے سے ماخوذ نہ تھا ۔ یہ پیغام اور یہ کلام پوری انسانیت کے پاس بھی اس وقت نہ تھا ‘ اس لئے اس کلام کے دو نتائج برآمد ہوئے ۔

” جو لوگ ہدایت چاہتے ہی نہ تھے ‘ جن کو اس پیغام اور علم سے دلچسپی ہی نہ تھی وہ حقیقت تک پہنچنے کی سعی ہی نہ کرتے تھے ۔ حضرت محمد ﷺ جس بلند مقام سے ان سے ہمکلام ہوتے تھے اسے وہ اس انکار اور عدم دلچسپی کا جواز بنا کر پیش کرتے تھے اس لئے کہ حضرت محمد ﷺ کو وہ خوب جانتے تھے ‘ یہ بات ان کے بھی سامنے تھی کہ محمد جو اونچا کلام پیش کرتے تھے وہ ان کا ذاتی نہ تھا ۔ وہ جو کچھ کہہ رہے تھے اس کے بارے میں سمجھتے تھے کہ یہ بہانہ بناوٹی ہے کیونکہ وہ حضور ﷺ سے خوب واقف تھے ۔ رسالت سے قبل بھی اور بعد میں بھی ۔ اسی لئے انہوں نے یہ کہا کہ اے محمد تو نے یہ کلام اہل کتاب سے سیکھا ہے ۔ حالانکہ خود اہل کتاب کے ہاں نہ یہ پیغام تھا اور نہ ایسا اسلوب کلام تھا ۔ اہل کتب کی کتابیں تو وہ پڑھتے تھے اور ان کے پاس موجود تھیں اور اب بھی وہ کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں ۔ ان کتابوں کے پیغام اور کلام میں اور قرآن کے پیغام و کلام میں کوسوں اور میلوں فاصلے ہیں ۔ ان کے ہاں جو کلام ہے وہ تو تاریخ انبیاء کی بےترتیب تاریخی روایات ہیں۔ سابقہ بادشاہوں کی تاریخ اور قصے کہانیاں ہیں اور ان کو نامعلوم افراد نے تصنیف کیا ہے ۔ یہ تو عہد قدیم کی بات ہے ۔ رہیں عہد جدید کی کتب یعنی اناجیل تو ان میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے شاگردوں کی روایات کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ پھر یہ بھی آپ کے جانے کے کئی سال بعد جمع کی گئی کتابیں ہیں ۔ بعد میں عیسائیوں کی مختلف کانفرنسوں نے ان میں کئی تبدیلیاں کیں اور سالہا سال تک یہ تبدیلیاں ہوتی رہیں ۔ یہاں تک کہ اخلاق تعلیمات اور روحانی ہدایات بھی اس تحریف اور تعدیل سے نہ بچ سکیں ۔ یہ چیزیں تھیں اس وقات اہل کتاب کے پاس ۔ ان کا قرآن کریم کے ساتھ تقابلی مطالعہ بھی کیا گیا ہے لیکن جاہلیت کے دور میں مشرکین کے پاس اس کے سوا اور کوئی بہانہ تھا کہاں ؟ تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمارے دور کے متشرقین اور نام نہاد مسلمان بھی ایسی باتیں کرتے ہیں ۔ وہ اسے علمی تحقیقات کا نام دیتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ان کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں ۔

(آیت) ” وَلِنُبَیِّنَہُ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (105)

” اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم حقیقت کھول دیں “۔

اس کے بعد یہ حکم آتا ہے کہ وہ جو چشم بینا رکھتے ہیں اور جانتے ہیں اور وہ جو اندھے ہیں اور کورے ہیں ان کے درمیان مکمل جدائی ہونا چاہئے ۔

اللہ کی جانب سے حضرت نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اب جبکہ اللہ نے اپنی آیات کو ایک اعلی اسلوب میں کھول کر بیان کردیا ہے ۔ اور لوگ اس کے نتیجے میں دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں تو آپ کو حکم دیا تھا جاتا ہے کہ آپ آنے والی وحی کی پیروی کریں اور مشرکین کو ایک طرف چھوڑ دیں ۔ آپ اب ان سے ہم کلام ہی نہ ہوں اور وہ جو گھٹیا گفتگو کرتے ہیں اس کی طرف توجہ ہی نہ کریں ۔ وہ جو کج بحثی کرتے ہیں ‘ آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ بغض رکھتے ہیں ‘ اس کی کوئی پرواہ نہ کریں ۔ آپ کے لئے اب راہ صرف ایک ہے کہ آپ اللہ کے راستے پر چل پڑیں ۔ اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالیں ‘ اپنے ساتھیوں کی زندگیوں کو اس کے مطابق درست کریں۔ آپ مشرکین کے ذمہ دار نہیں ہیں اور جب آپ اپنے رب کی وحی کی اطاعت کریں گے تو بندوں کی ذمہ داری آپ پر نہ ہوگی ۔

Al-An'aam 6:105Listen in Qur'an →
106

ٱتَّبِعْ مَآ أُوحِىَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْمُشْرِكِينَ

اور جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آتا ہے اسی کی پیروی کرو۔ اس (پروردگار) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور مشرکوں سے کنارہ کرلو

(آیت) ” اتَّبِعْ مَا أُوحِیَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ (106)

” اے نبی ﷺ اس وحی کی پیروی کئے جاؤ ‘ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ۔ اور ان مشرکین کے نہ پڑو۔ “

اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی کہ ان پر ہدایت لازم کردے تو اللہ نے لازم کردی ہوتی ۔ اگر اللہ یہ چاہتا کہ ان کو آغاز ہی سے فرشتوں کی طرح ہدایت پر پیدا کرتا تو وہ ایسا کردیتا ‘ لیکن اللہ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا اور اس کے اندر ہدایت وضلالت دونون کی طاقت ودیعت کردی اور اسے آزاد چھوڑ دیا کہ وہ ہدایت اختیار کرتا ہے یا ضلالت ۔ پھر جو راستہ بھی وہ اختیار کرے اس کی سزا وجزا اسے دی جائے اور یہ تمام کام اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر ہو جس سے کوئی بات بھی باہر نہیں ہو سکتی ۔ البتہ اللہ کسی انسان کو ہدایت یا گمراہی پر مجبور نہیں کرتا اور یہ کام اللہ نے اپنی اس حکمت کی وجہ سے کیا ہے جس کا علم صرف اسے ہے تاکہ انسان اس کائنات میں اپنا مقررہ کردار ادا کرسکے ‘ اپنی صلاحیتوں اور تصرفات کے مطابق ۔

(آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکُواْ (6 : 107) ” اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے ۔ “ اس لئے رسول اللہ ﷺ ان کے اعمال کے بارے میں مسئول نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کے اعمال کا مختار اور پاسبان مقرر نہیں کیا ۔ یہ کام تو اللہ کا ہے ۔

یہ ہدایت حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کے خلفائے کرام اور ان کے بعد ان تمام لوگوں کے لئے حدود کار متعین کردیتی ہے جو آپ کے بعد آئیں گے ۔ ہر دور میں اور ہر قوم میں اور ہر معاشرے میں ۔

کسی داعی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی دعوت ‘ اپنے دل ‘ اور اپنی سرگرمیوں کو صرف منحرفین اور معاندین کے لئے وقف کر دے حالانکہ ان کے دل اور دماغ قبول دعوت اور دلائل قبول دعوت اور شواہد حقیقت کے لئے کھلے ہی نہیں ۔ داعی کو چاہئے کہ وہ دل کھلا رکھے اور اپنی امیدیں اور اپنی سرگرمیاں ان لوگوں تک محدود رکھے جو قبول دعوت کے لئے آمادہ ہوں ۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی سیرت کی تعمیر اصول دین کی روشنی میں کی جائے ۔ یعنی اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں ۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کے دلوں میں اس کائنات اور اس دنیاوی زندگی کے بارے میں اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں ایک گہرا تصور بٹھایا جائے۔ نیز ایسے ہی لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے اخلاق اور ان کے طرز عمل کو صحیح طرح استوار کیا جائے اور پھر ایسے افراد کی ایک ایسی سوسائٹی تشکیل دی جائے جس کی بنیاد اس عقیدے اور نظریہ حیات پر ہو ۔ یہ کام اس قدر بھاری ہے کہ اس کے لئے زبردست جدوجہد کی ضرورت ہے اور یہ کام مسلسل جدوجہد کا مستحق بھی ہے ۔ رہے وہ لوگ جو دعوت کی مخالفت میں صف آرا ہیں تو وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ دعوت دے کر انہیں ایک طرف چھوڑ دیا جائے ۔ جب سچائی قوت پکڑتی ہے اور غالب ہوجاتی ہے تو پھر اللہ کی سنت یہ ہے کہ سچائی برائی پر حملہ آور ہوتی ہے اور باطل مٹ جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سچائی موجود رہے ۔ جب سچائی مکمل شکل میں موجود ہوتی ہے تو اس کے مقابلے میں باطل نرم پڑجاتا ہے اور اس کے دن گنے جاتے ہیں ۔

رسول اکرم ﷺ کو یہ حکم دینے کے بعد کہ آپ مشرکین سے اعراض کریں ‘ حضور ﷺ کو اور اہل اسلام کو حکم دیا گیا کہ یہ اعراض اور صرف نظر نہایت ہی شائستہ انداز میں اور پروقار طریقے سے ہو مثلا یہ کہ وہ مشرکین کے الہوں کو برا بھلا نہ کہیں کیونکہ اس کے جواب میں وہ لوگ اللہ کی شان میں گستاخی کرسکتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ جل شانہ کی جلالت قدر کا کوئی علم نہیں ہے ۔ چناچہ مسلمان تو ان کے الہوں کو برا کہیں گے جو حقیر ہیں اور اس کے مقابلے میں وہ لوگ ان کے جلیل القدر الہ کو برا بھلا کہیں گے ۔

Al-An'aam 6:106Listen in Qur'an →
107

وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشْرَكُوا۟ ۗ وَمَا جَعَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍۢ

اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم کو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا۔ اور نہ تم ان کے داروغہ ہو

(آیت) ” اتَّبِعْ مَا أُوحِیَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ (106)

” اے نبی ﷺ اس وحی کی پیروی کئے جاؤ ‘ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ۔ اور ان مشرکین کے نہ پڑو۔ “

اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی کہ ان پر ہدایت لازم کردے تو اللہ نے لازم کردی ہوتی ۔ اگر اللہ یہ چاہتا کہ ان کو آغاز ہی سے فرشتوں کی طرح ہدایت پر پیدا کرتا تو وہ ایسا کردیتا ‘ لیکن اللہ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا اور اس کے اندر ہدایت وضلالت دونون کی طاقت ودیعت کردی اور اسے آزاد چھوڑ دیا کہ وہ ہدایت اختیار کرتا ہے یا ضلالت ۔ پھر جو راستہ بھی وہ اختیار کرے اس کی سزا وجزا اسے دی جائے اور یہ تمام کام اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر ہو جس سے کوئی بات بھی باہر نہیں ہو سکتی ۔ البتہ اللہ کسی انسان کو ہدایت یا گمراہی پر مجبور نہیں کرتا اور یہ کام اللہ نے اپنی اس حکمت کی وجہ سے کیا ہے جس کا علم صرف اسے ہے تاکہ انسان اس کائنات میں اپنا مقررہ کردار ادا کرسکے ‘ اپنی صلاحیتوں اور تصرفات کے مطابق ۔

(آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکُواْ (6 : 107) ” اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے ۔ “ اس لئے رسول اللہ ﷺ ان کے اعمال کے بارے میں مسئول نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کے اعمال کا مختار اور پاسبان مقرر نہیں کیا ۔ یہ کام تو اللہ کا ہے ۔

یہ ہدایت حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کے خلفائے کرام اور ان کے بعد ان تمام لوگوں کے لئے حدود کار متعین کردیتی ہے جو آپ کے بعد آئیں گے ۔ ہر دور میں اور ہر قوم میں اور ہر معاشرے میں ۔

کسی داعی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی دعوت ‘ اپنے دل ‘ اور اپنی سرگرمیوں کو صرف منحرفین اور معاندین کے لئے وقف کر دے حالانکہ ان کے دل اور دماغ قبول دعوت اور دلائل قبول دعوت اور شواہد حقیقت کے لئے کھلے ہی نہیں ۔ داعی کو چاہئے کہ وہ دل کھلا رکھے اور اپنی امیدیں اور اپنی سرگرمیاں ان لوگوں تک محدود رکھے جو قبول دعوت کے لئے آمادہ ہوں ۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی سیرت کی تعمیر اصول دین کی روشنی میں کی جائے ۔ یعنی اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں ۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کے دلوں میں اس کائنات اور اس دنیاوی زندگی کے بارے میں اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں ایک گہرا تصور بٹھایا جائے۔ نیز ایسے ہی لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے اخلاق اور ان کے طرز عمل کو صحیح طرح استوار کیا جائے اور پھر ایسے افراد کی ایک ایسی سوسائٹی تشکیل دی جائے جس کی بنیاد اس عقیدے اور نظریہ حیات پر ہو ۔ یہ کام اس قدر بھاری ہے کہ اس کے لئے زبردست جدوجہد کی ضرورت ہے اور یہ کام مسلسل جدوجہد کا مستحق بھی ہے ۔ رہے وہ لوگ جو دعوت کی مخالفت میں صف آرا ہیں تو وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ دعوت دے کر انہیں ایک طرف چھوڑ دیا جائے ۔ جب سچائی قوت پکڑتی ہے اور غالب ہوجاتی ہے تو پھر اللہ کی سنت یہ ہے کہ سچائی برائی پر حملہ آور ہوتی ہے اور باطل مٹ جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سچائی موجود رہے ۔ جب سچائی مکمل شکل میں موجود ہوتی ہے تو اس کے مقابلے میں باطل نرم پڑجاتا ہے اور اس کے دن گنے جاتے ہیں ۔

رسول اکرم ﷺ کو یہ حکم دینے کے بعد کہ آپ مشرکین سے اعراض کریں ‘ حضور ﷺ کو اور اہل اسلام کو حکم دیا گیا کہ یہ اعراض اور صرف نظر نہایت ہی شائستہ انداز میں اور پروقار طریقے سے ہو مثلا یہ کہ وہ مشرکین کے الہوں کو برا بھلا نہ کہیں کیونکہ اس کے جواب میں وہ لوگ اللہ کی شان میں گستاخی کرسکتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ جل شانہ کی جلالت قدر کا کوئی علم نہیں ہے ۔ چناچہ مسلمان تو ان کے الہوں کو برا کہیں گے جو حقیر ہیں اور اس کے مقابلے میں وہ لوگ ان کے جلیل القدر الہ کو برا بھلا کہیں گے ۔

Al-An'aam 6:107Listen in Qur'an →
108

وَلَا تَسُبُّوا۟ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَسُبُّوا۟ ٱللَّهَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍۢ ۗ كَذَٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار ک طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے

(آیت) ” نمبر 108۔

اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ ان میں سے جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اسے اچھا سمجھ کر کرتا ہے اور وہ اپنے طرز عمل کی مدافعت کرتا ہے ۔ اگر وہ اچھے اعمال پر عمل پیرا ہے تو بھی وہ انہیں اچھا سمجھتا ہے ۔ اگر وہ برے اعمال پر عمل پیرا ہے تو بھی وہ انہیں اچھا سمجھتا ہے اور ان کی مدافعت کرتا ہے ۔ اگر وہ صحیح راہ پر ہو تو بھی اسے اچھی سمجھتا ہے اور اگر وہ ضلالت کی راہ پر گامزن ہو تو بھی وہ اسے اچھا سمجھتا ہے ۔ یہ ہے انسان کی فطرت اور اس کا مزاج ۔ مشرکین مکہ اللہ کے ساتھ کچھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے حالانکہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ صرف اللہ ہی خالق اور رازق ہے ۔ اگر ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو مسلمانوں نے برا بھلا کہا تو وہ اپنے بتوں کے دفاع میں نکل آئیں گے اور اللہ رب العزت کو برا بھلا کہیں گے ۔ لہذا مسلمانوں کو ہدایت ہوئی کہ وہ انہیں ان کے حال ہی پر چھوڑ دیں ۔

(آیت) ” ثُمَّ إِلَی رَبِّہِم مَّرْجِعُہُمْ فَیُنَبِّئُہُم بِمَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (108)

” پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے ‘ اس وقت وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں “۔

ایک مومن جس کو اسلامی دین پر اطمینان قلب حاصل ہو اور اسے یہ یقین ہو کہ وہ جس دین پر ہے وہ برحق ہے ۔ اس کا قلب مطمئن ہے اور وہ ایسے امور کے پیچھے نہیں پڑتا جس میں کوئی فائدہ نہ ہو ‘ کیونکہ بتوں کو گلیاں دینے سے ان کے ایمان ویقین میں کوئی اضافہ ہو نہیں سکتا ۔ صرف یہ ہو سکتا ہے کہ مخالفین کے دلوں میں عناد بڑھ جائے ۔ اس لیے اہل ایمان کو اس بےفائدہ مشغلے سے کیا تعلق ہو سکتا ہے ۔ ہاں یہ خطرہ ہو سکتا ہے کہ جواب میں اہل ایمان مخالفین کی جانب سے ایسی باتیں سنیں جن کو وہ پسند نہیں کرتے یعنی رب ذوالجلال کی شان میں گستاخی ۔

اب اس سبق کا خاتمہ ہو رہا ہے ‘ اس پورے سبق میں اللہ تعالیٰ نے ایسے دلائل و شواہد پیش کئے ہیں جو رات ودن کے ہر لمحے میں چشم بینا کے لئے وافر مقدار میں موجود ہیں سبق کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ یہ مخالفین اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ہمارے سامنے بھی رسولان سابقہ کی طرح کوئی خارق العادۃ مادی معجزہ آجائے تو وہ ضرور ایمان لائیں گے اور ان کے اس حلفیہ بیان کر سن کر بعض مخلصین اہل ایمان نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے تجویز پیش کی کہ آپ ﷺ اللہ سے کسی ایسے معجزے کے صدور کے لئے دست بدعا ہوں ۔ اس تجویز کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ دو ٹوک جواب یوں دیتے ہیں کہ دیکھو تمہیں ان مکذبین اور ان کی تکذیب کی حقیقت ہی کا علم نہیں ہے ۔

Al-An'aam 6:108Listen in Qur'an →
109

وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَٰنِهِمْ لَئِن جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌۭ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا ٱلْءَايَٰتُ عِندَ ٱللَّهِ ۖ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَآ إِذَا جَآءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ

اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضروری ایمان لے آئیں۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور (مومنو!) تمہیں کیا معلوم ہے (یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس) نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں

(آیت) ” نمبر 109 تا 110۔

” وہ دل جو اس کائنات میں بکھرے ہوئے شواہد و دلائل کو تسلیم نہیں کرتا ‘ خصوصا اس تبلیغ وبیان کے بعد جو اس کتاب نے بےمثال پیرائے میں پیش کیا اور اس کائنات اور خود انسان کے نفس کے اندر موجود آیات الہیہ اسے اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتیں اور وہ اپنے رب کی طرف دوڑ کر نہیں آتا تو ایسا دل یقینا لاعلاج دل ہے ۔ ان لوگوں نے ابتداء ہی سے ایمان کا انکار کردیا ہے تو جو مسلمان حضرت نبی کریم ﷺ سے درخواستیں کرتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ایسے معجزات کے صدور کی دعا کریں تو ان کے پاس کی گارنٹی ہے کہ وہ صدور معجزہ کے بعد دوبارہ انکار نہ کریں گے ۔ اللہ ہی ان کے دلوں کا حال جانتا ہے اور خوب جانتا ہے ۔ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ یہ لوگ یونہی اپنی سرکش میں غرق رہیں کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ ان کی تکذیب کا صلہ یہی ہے اور اللہ کو یہ بھی علم ہے کہ صدور معجزہ کے بعد بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔ اگر فرشتے بھی اتر آئیں تب بھی وہ مان کردینے والے نہیں ہیں ۔ اگر مردے اٹھ کر قبروں سے بات چیت شروع کردیں تب بھی نہیں مانیں گے ۔ اگر تمام مخلوق کو اٹھا کر ان کے سامنے حشر برپا کر دیاجائے اور یہ تمام مخلوق ان کو دعوت ایمان دے تب بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں ۔ یہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ کی مشیت انہیں مجبور ایمان نہ کر دے ۔ اور اللہ کی مشیت کسی کو مجبور نہیں کرتی کیونکہ لوگ اس طرف آنا ہی نہیں چاہتے ۔ یہ وہ نفسیاتی حقیقت ہے جسے اکثر داعی بھول جاتے ہیں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ اہل ضلال کے سامنے دلائل وبراہین کی کوئی کمی ہے ‘ بلکہ وہ دل کے بیمار ہیں ۔ ان کی فطرت معطل ہوچکی ہے اور ان کا ضمیر فاسد ہوچکا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے حصول کے لئے سعی کریں ۔ بٹگرام 12 دسمبر 1990۔ 49 : 12 بجے دن ۔

Al-An'aam 6:109Listen in Qur'an →
110

وَنُقَلِّبُ أَفْـِٔدَتَهُمْ وَأَبْصَٰرَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا۟ بِهِۦٓ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ وَنَذَرُهُمْ فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ

اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے) اور ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں

(آیت) ” نمبر 109 تا 110۔

” وہ دل جو اس کائنات میں بکھرے ہوئے شواہد و دلائل کو تسلیم نہیں کرتا ‘ خصوصا اس تبلیغ وبیان کے بعد جو اس کتاب نے بےمثال پیرائے میں پیش کیا اور اس کائنات اور خود انسان کے نفس کے اندر موجود آیات الہیہ اسے اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتیں اور وہ اپنے رب کی طرف دوڑ کر نہیں آتا تو ایسا دل یقینا لاعلاج دل ہے ۔ ان لوگوں نے ابتداء ہی سے ایمان کا انکار کردیا ہے تو جو مسلمان حضرت نبی کریم ﷺ سے درخواستیں کرتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ایسے معجزات کے صدور کی دعا کریں تو ان کے پاس کی گارنٹی ہے کہ وہ صدور معجزہ کے بعد دوبارہ انکار نہ کریں گے ۔ اللہ ہی ان کے دلوں کا حال جانتا ہے اور خوب جانتا ہے ۔ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ یہ لوگ یونہی اپنی سرکش میں غرق رہیں کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ ان کی تکذیب کا صلہ یہی ہے اور اللہ کو یہ بھی علم ہے کہ صدور معجزہ کے بعد بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔ اگر فرشتے بھی اتر آئیں تب بھی وہ مان کردینے والے نہیں ہیں ۔ اگر مردے اٹھ کر قبروں سے بات چیت شروع کردیں تب بھی نہیں مانیں گے ۔ اگر تمام مخلوق کو اٹھا کر ان کے سامنے حشر برپا کر دیاجائے اور یہ تمام مخلوق ان کو دعوت ایمان دے تب بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں ۔ یہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ کی مشیت انہیں مجبور ایمان نہ کر دے ۔ اور اللہ کی مشیت کسی کو مجبور نہیں کرتی کیونکہ لوگ اس طرف آنا ہی نہیں چاہتے ۔ یہ وہ نفسیاتی حقیقت ہے جسے اکثر داعی بھول جاتے ہیں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ اہل ضلال کے سامنے دلائل وبراہین کی کوئی کمی ہے ‘ بلکہ وہ دل کے بیمار ہیں ۔ ان کی فطرت معطل ہوچکی ہے اور ان کا ضمیر فاسد ہوچکا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے حصول کے لئے سعی کریں ۔ بٹگرام 12 دسمبر 1990۔ 49 : 12 بجے دن ۔

Al-An'aam 6:110Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.