Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 91–100 of 165

91

وَمَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦٓ إِذْ قَالُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٍۢ مِّن شَىْءٍۢ ۗ قُلْ مَنْ أَنزَلَ ٱلْكِتَٰبَ ٱلَّذِى جَآءَ بِهِۦ مُوسَىٰ نُورًۭا وَهُدًۭى لِّلنَّاسِ ۖ تَجْعَلُونَهُۥ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًۭا ۖ وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنتُمْ وَلَآ ءَابَآؤُكُمْ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِى خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ

اور ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہیئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے ان (کے کچھ حصے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب کو) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر ان کو چھوڑ دیا کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں

مشرکین اپنی کج بحثی اور عناد کی وجہ سے یہ کہتی تھے کہ اللہ نے تو انسانوں میں سے کسی فرد کو رسول بنا کر بھیجا ہی نہیں ہے ۔ نہ اللہ تعالیٰ نے کوئی کتاب بھیجی ہے جو اللہ کی وحی پر مبنی ہو حالانکہ مشرکین کے پڑوس ہی میں یہودی اہل کتاب رہتے تھے اور ان مشرکین کے کبھی اس امر کا انکار نہ کیا تھا کہ وہ اہل کتاب ہیں ۔ نہ انہوں نے اس بات کا انکار کیا تھا کہ تورات اللہ کی جانب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اتری ۔ یہ بات وہ عناد اور محض کٹ حجتی کی خاطر کرتے تھے ۔ مقصد صرف یہ تھا کہ اس بہانے وہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا انکار کرسکیں ۔ اسی لئے قرآن مجید یہاں ان پر تنقید کرتا ہے کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ اللہ نے کوئی کتاب کسی انسان پر نہیں اتاری تو پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ بات تم کیوں نہ کہتے تھے ۔

(آیت) ” وَمَا قَدَرُواْ اللّہَ حَقَّ قَدْرِہِ إِذْ قَالُواْ مَا أَنزَلَ اللّہُ عَلَی بَشَرٍ مِّن شَیْْء ٍ “ (6 : 91)

” ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ۔ “

یہ نظریہ مشرکین مکہ دور جاہلیت میں رکھتے تھے ۔ ہر دور میں اس قسم کے لوگ ہمیشہ رہے ہیں ۔ آج دور جدید میں بھی بعض لوگوں کا یہی نظریہ ہے ۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ تمام ادیان سماوی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور ان ادیان نے بھی درجہ بدرجہ ترقی کی جس طرح انسان نے بتدریج ترقی کی ۔ یہ لوگ اس معاملے میں ان ادیان کے درمیان جو خود لوگوں نے بنائے مثلا قدیم وجدیدیت پرستیاں اور ان ادیان کے درمیان فرق نہیں کرتے جو اللہ کے فرستادہ رسول لے کر آئے اور جواب تک اپنے حقیقی اصولوں پر قائم ہیں ۔ تمام رسول پے درپے انہی ادیان پر قائم رہے ۔ اگرچہ بعض لوگوں نے ان ادیان کو قبول کیا اور بعض نے انکار کیا ۔ بعد کے زمانوں میں ان کے اصول و فروع کے درمیان تحریف واقع ہوگئی اور لوگ اس تحریف کی وجہ سے دوبارہ جاہلیت کی طرف لوٹ گئے ۔ اس کے بعد اللہ نے ان قوموں کے اندر رسول بھیجنے کی ضرورت محسوس کی ۔ آخر کار دین اسلام آیا ۔ ان لوگوں کا نظریہ فقط یہ ہے کہ جس طرح انسان نے ترقی کی اسی طرح ادیان نے بھی ساتھ ساتھ ترقی کی ۔

یہ بات قدیم لوگوں نے کی یا جدید لوگوں نے ان لوگوں نے فی الحقیقت اللہ کی ذات کا صحیح اندازہ نہیں لگایا اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے فضل ‘ اس کی رحمت اور اس کے عدل کو صحیح طرح نہیں پہنچانا ۔ ان لوگوں کے نظریے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو رسول بنا کر نہیں بھیجتا ۔ اگر اللہ کوئی رسول بھیجنا چاہتا تو کسی فرشتے کو بھیج دیتا جس طرح بعض عرب یہ کہتے تھے ۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس عظیم کائنات کے عظیم خالق کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ اپنی مخلوقات میں سے ایک چھوٹے سے ذرے جس کا نام کرہ ارض ہے ‘ کے اوپر بسنے والی اس حقیر مخلوق کی اس قدر فکر کرے جس طرح اہل ادیان کہتے ہیں کہ اس نے رسول بھیجے ‘ رسولوں پر کتابیں بھیجیں تاکہ ان کے ذریعے ان حقیر اہل ارض کو صحیح راستے پر لایا جائے یا جس طرح بعض قدیم اور جدید فلاسفر یہ کہتے آئے ہیں کہ نہ کوئی الہ ہے ‘ نہ کوئی وحی ہے اور نہ رسول ہیں ۔ یہ لوگوں کے ادہام ہیں اور دین کے نام پر بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں جس طرح آج کے جدید ملحد اور مادہ پرست لوگ کہتے ہیں ۔

یہ تمام لوگ دراصل اللہ کی ذات کے بارے میں اندازہ لگانے میں غلطی کرتے ہیں ۔ ایک عظیم وکریم ذات ‘ ایک رحیم اور عادل پروردگار اور ایک علیم و حکیم خالق کس طرح انسان کو بلاہدایت اور بلاحکمت وبصیرت چھوڑ سکتا ہے حالانکہ اللہ نے اس انسان کو پیدا کیا ۔ وہ اس کی خفیہ اور ظاہر ہر جبلت سے واقف ہے ۔ اس کی قوتوں اور صلاحیتوں سے باخبر ہے ۔ وہ اس کی کمزوریوں اور کوتاہیوں سے بھی واقف ہے ‘ وہ اس کی ضروریات اور اقدار کے بارے میں بھی خوب جانتا ہے ۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ اللہ اس کے …

Al-An'aam 6:91Listen in Qur'an →
92

وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ مُبَارَكٌۭ مُّصَدِّقُ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ ٱلْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا ۚ وَٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۖ وَهُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ

اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری خبر رکھتے ہیں

(آیت) ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَہَا وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَہُمْ عَلَی صَلاَتِہِمْ یُحَافِظُونَ (92)

(اسی کتاب کی طرح) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ۔ بڑی خیر و برکت والی ہے ۔ اس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی ۔ اور اس لئے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اس مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو ۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ۔ “

سنن الہیہ میں سے یہ بھی ایک سنت ہے کہ اللہ رسول بھیجا کرتا ہے ۔ یہ جدید کتاب جس کے نزول کے بارے میں یہ لوگ شک کرتے ہیں یہ ایک کتاب مبارک ہے اور خدا کی قسم فی الواقعہ یہ ایک مبارک کتاب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہر معنی کے اعتبار سے مبارک ہے اور حقیقت کے اعتبار سے مبارک ہے ۔ اس میں اللہ کے اس وقت برکت ڈالی جب اسے نازل کیا ۔ اس اعتبار سے بھی مبارک ہے کہ جس محل اور رسول پر اسے اتارا گیا وہ بھی مبارک ہے ۔ یعنی قلب محمد ﷺ کریم اور عظیم ہیں ۔ یہ اپنے حجم اور مضامین کے اعتبار سے بھی مبارک ہے ۔ یہ انسانوں کی لکھی ہوئی طویل کتابوں کے مقابلے میں چندصفحات ہیں ۔ لیکن مفہوم ‘ ہدایات ‘ تعلیمات اور اثرات کے اعتبار سے وہ اس قدر عظیم ہے کہ انسانوں کی لکھی ہوئی دسیوں کتابیں ان کی تشریح نہیں کرسکتیں اگرچہ وہ حجم اور صفحات کے اعتبار سے قرآن کریم سے کئی گنا زیادہ کیوں نہ ہوں ۔ وہ لوگ جو اسالیب کلام ‘ خود اپنے کلام یا دوسروں کے کلام پر تبصرے اور غور وفکر کرتے ہیں اور الفاظ کے ذریعے معافی کی طرز ہائے تعبیر پر تنقیدی نگاہ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ متن قرآن اظہار معانی کے اعتبار سے نہایت ہی مبارک کلام ہے اور یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی انسان اس طرز پر بات کرسکے ۔ کوئی شخص طویل ترین عبارات کے اندر بھی وہ معانی ادا نہیں کرسکتا جو قرآن نے مختصر ترین جملوں میں ادا کئے ہیں ۔ ان میں معانی کا دریا ہے ‘ اشارات اور معانی کا سیلاب ہے ‘ اور پھر نہایت ہی اثر آفریں بھی ۔ ایک پوری آیت تو اس قدر معانی ادا کرتی ہے اور اس قدر حقائق اس کے اندر سمو دیئے گئے ہوتے ہیں کہ اسے تقریر وتحریر کے بہترین نمونے اور ایک منفرد ٹکڑے کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے ‘ جس کی نظیر بلیغ سے بلیغ انسانی کلام میں نہیں ملتی ۔ پھر یہ کتاب اپنے اثرات کے اعتبار سے بھی بہت ہی مبارک ہے ۔ یہ انسانی فطرت اور انسانی شخصیت کو جامعیت کے ساتھ خطا کرتی ہے اور یہ خطاب نہایت ہی لطیف پیرائے میں اور براہ راست ہوتا ہے ۔ یہ خطا نہایت ہی لطیف انداز میں فطرت کے اندر اتر جاتا ہے ۔ یوں یہ کلام فطرت انسانی کو اس کے ہر پہلو اور ہر راستے سے متاثر کرتا ہے اور اس پر یوں اثر انداز ہوتا ہے کہ کوئی اور کلام اس پر اس طرح اثر انداز نہیں ہوسکتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کلام میں اللہ کی جانب سے ایک قوت ودیعت کردی گئی ہے اور اس کے سوا دوسرے لوگوں کے کلام کے اندر اس قسم کی کوئی قوت نہیں ہوتی ۔

کتاب اللہ کی برکات کے بارے میں یہاں مزید کہنا ہمارے لئے ممکن نہیں اور اگر ہم اس موضوع پر کلام جاری بھی رکھیں تو اس کا حق ادا کرنا کسی انسان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے ۔ بس اللہ کی یہ بات کافی وشافی ہے کہ یہ کلام مبارک ہے اور فصل الخطاب پر مشتمل ہے ۔

(آیت) ” مصدق الذی بین یدیہ “۔ (6 : 92) یہ سابقہ کتب کی تصدیق کرنے والی ہے ۔ “ یعنی یہ ان تمام کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو کبھی بھی اللہ کی جانب سے اتری ہیں لیکن یہ کتاب ان کتابوں کی تصدیق ان کی اصلی شکل میں کرتی ہے ‘ اس شکل میں نہیں جن میں ان کتابوں کو ان کے ماننے والوں کی مختلف کانفرنسوں نے پیش کیا اور کہا کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ۔ یہ …

Al-An'aam 6:92Listen in Qur'an →
93

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِىَ إِلَىَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَىْءٌۭ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ ۗ وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٰلِمُونَ فِى غَمَرَٰتِ ٱلْمَوْتِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ بَاسِطُوٓا۟ أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوٓا۟ أَنفُسَكُمُ ۖ ٱلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ ٱلْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ غَيْرَ ٱلْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ ءَايَٰتِهِۦ تَسْتَكْبِرُونَ

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔ یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب خدا نے نازل کی ہے اس طرح کی میں بھی بنا لیتا ہوں۔ اور کاش تم ان ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (ان کی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں۔ آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے

(آیت) ” نمبر 93 تا 94۔

حضرت قتادہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سین یہ روایت ہے کہ یہ آیت مسیلمہ کذاب اور اس کی بیوی سجاح بنت حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اسود عنسی کے بارے میں بھی ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے حضور ﷺ کی زندگی میں نبوت کا دعوی کیا تھا ۔ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی ہے ۔ رہی یہ بات کہ (آیت) ” سانزل مثل ما انزل اللہ “۔ (6 : 93) یا جس نے کہا کہ ” میری طرف بھی وحی آئی ہے ۔ “ تو حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ اس سے مراد عبداللہ ابن سعد ابن ابی سرح ہیں ۔ یہ ایمان لائے تھے ۔ اور یہ رسول اللہ ﷺ کے کاتب وحی تھے ۔ جب سورة المومنون کی یہ آیت نازل ہوئی ۔

(آیت) ” لقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین “۔ (23 : 12) تو نبی کریم ﷺ نے اسے بلایا اور اسے لکھوانا شروع کیا اور جب یہ آیات یہاں تک پہنچیں ۔

(آیت) ” ثم انشانہ خلقا اخر “۔ (23 : 14) تو عبداللہ کی تخلیق کی ان تفصیلات پر تعجب ہوا ۔ تو اس نے کہا :

(آیت) ” فتبرک اللہ احسن الخلقین “۔ (23 : 14) تو رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ اسی طرح آیت نازل ہوئی ہے ۔ اس مقام پر عبداللہ نے شک کرلیا کہ اگر محمد سچا ہو تو پھر مجھ پر بھی ویسے ہی وحی نازل ہوگئی جس طرح ان پر نازل ہوئی اور اگر ہوں تو جس طرح انہوں نے کہا ویسا ہی میں نے بھی کہا ۔ اسی طرح وہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوگیا اور مشرکین سے دوبارہ مل گیا ۔ یہ ہے مصداق اس آیت کا ۔

(آیت) ” سانزل مثل ماانزل اللہ “۔ (6 : 93) (روایت کلبی عن عباس)

یہاں سیاق کلام میں ‘ ان مشرک ظالموں کے جس انجام کا ذکر ہوا ہے وہ نہایت خوفناک ‘ کربناک اور ہراساں کنندہ ہے ۔ نظر آتا ہے کہ یہ ظالم سکرات الموت کی حالت میں ہیں اور اس حالت کے لئے لفظ غمرات کا استعمال بتایا ہے کہ ان کی حالت نہایت دردناک ہوگی ۔ فرشتے ان کی جان لینے کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے اور فرشتوں کی یہ گرفت بھی سزا دہی کے طور پر ہوگی ۔ یہ فرشتے ان کی روح نکال لیں گے اور پھر عذاب الہی ان کے لئے حاضر ہوگا ۔

(آیت) ” وَلَوْ تَرَی إِذِ الظَّالِمُونَ فِیْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِکَۃُ بَاسِطُواْ أَیْْدِیْہِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَکُمُ الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُونِ بِمَا کُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَی اللّہِ غَیْْرَ الْحَقِّ وَکُنتُمْ عَنْ آیَاتِہِ تَسْتَکْبِرُونَ (93)

” کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ” لاؤ“ نکالو اپنی جان ‘ آج تمہیں ان باتوں کی پاداش مین ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے “ ۔

ان کے استکبار اور سرکشی کی وجہ سے انہیں عذاب عظیم میں مبتلا ہونا ہوگا ۔ یہ توہین آمیز سزا انہیں اس لئے دی جا رہی ہے کہ انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ۔ ان تمام امور کے تذکرے سے اس منظر پر ایک خوفناک فضا طاری ہوجاتی ہے اور اس کو دیکھ کر انسان مارے خوف فضا طاری ہوجاتی ہے اور اس کا دیکھ کر انسان مارے خوف کے دہشت زدہ ہوجاتا ہے اور اس کا کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔

آخر میں یہ توبیخ اور جھڑک اس وقت ہوتی ہے جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور اللہ تعالیٰ کا خطاب ان سے ایسے حالات میں یوں ہوتا ہے ۔

(آیت) ” وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ (6 : 94) (اور اللہ فرمائے گا) ” لو اب تم ویسے ہی تنا تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے ہو جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا “۔ اب تمہارے پاس فقط تمہاری ذات ہے ۔ تم بالکل اکیلے ہو ‘ تم اپنے رب کے سامنے گروہ کی شکل میں نہ ہوگے بلکہ فردا فردا جس طرح تم ماں کے پیٹ سے اکیلے اس جہان میں آئے تھے ‘ ننگا جسم اور …

Al-An'aam 6:93Listen in Qur'an →
94

وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَٰدَىٰ كَمَا خَلَقْنَٰكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُورِكُمْ ۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَٰٓؤُا۟ ۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ

اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال ومتاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے

(آیت) ” نمبر 93 تا 94۔

حضرت قتادہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سین یہ روایت ہے کہ یہ آیت مسیلمہ کذاب اور اس کی بیوی سجاح بنت حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اسود عنسی کے بارے میں بھی ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے حضور ﷺ کی زندگی میں نبوت کا دعوی کیا تھا ۔ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی ہے ۔ رہی یہ بات کہ (آیت) ” سانزل مثل ما انزل اللہ “۔ (6 : 93) یا جس نے کہا کہ ” میری طرف بھی وحی آئی ہے ۔ “ تو حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ اس سے مراد عبداللہ ابن سعد ابن ابی سرح ہیں ۔ یہ ایمان لائے تھے ۔ اور یہ رسول اللہ ﷺ کے کاتب وحی تھے ۔ جب سورة المومنون کی یہ آیت نازل ہوئی ۔

(آیت) ” لقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین “۔ (23 : 12) تو نبی کریم ﷺ نے اسے بلایا اور اسے لکھوانا شروع کیا اور جب یہ آیات یہاں تک پہنچیں ۔

(آیت) ” ثم انشانہ خلقا اخر “۔ (23 : 14) تو عبداللہ کی تخلیق کی ان تفصیلات پر تعجب ہوا ۔ تو اس نے کہا :

(آیت) ” فتبرک اللہ احسن الخلقین “۔ (23 : 14) تو رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ اسی طرح آیت نازل ہوئی ہے ۔ اس مقام پر عبداللہ نے شک کرلیا کہ اگر محمد سچا ہو تو پھر مجھ پر بھی ویسے ہی وحی نازل ہوگئی جس طرح ان پر نازل ہوئی اور اگر ہوں تو جس طرح انہوں نے کہا ویسا ہی میں نے بھی کہا ۔ اسی طرح وہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوگیا اور مشرکین سے دوبارہ مل گیا ۔ یہ ہے مصداق اس آیت کا ۔

(آیت) ” سانزل مثل ماانزل اللہ “۔ (6 : 93) (روایت کلبی عن عباس)

یہاں سیاق کلام میں ‘ ان مشرک ظالموں کے جس انجام کا ذکر ہوا ہے وہ نہایت خوفناک ‘ کربناک اور ہراساں کنندہ ہے ۔ نظر آتا ہے کہ یہ ظالم سکرات الموت کی حالت میں ہیں اور اس حالت کے لئے لفظ غمرات کا استعمال بتایا ہے کہ ان کی حالت نہایت دردناک ہوگی ۔ فرشتے ان کی جان لینے کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے اور فرشتوں کی یہ گرفت بھی سزا دہی کے طور پر ہوگی ۔ یہ فرشتے ان کی روح نکال لیں گے اور پھر عذاب الہی ان کے لئے حاضر ہوگا ۔

(آیت) ” وَلَوْ تَرَی إِذِ الظَّالِمُونَ فِیْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِکَۃُ بَاسِطُواْ أَیْْدِیْہِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَکُمُ الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُونِ بِمَا کُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَی اللّہِ غَیْْرَ الْحَقِّ وَکُنتُمْ عَنْ آیَاتِہِ تَسْتَکْبِرُونَ (93)

” کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ” لاؤ“ نکالو اپنی جان ‘ آج تمہیں ان باتوں کی پاداش مین ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے “ ۔

ان کے استکبار اور سرکشی کی وجہ سے انہیں عذاب عظیم میں مبتلا ہونا ہوگا ۔ یہ توہین آمیز سزا انہیں اس لئے دی جا رہی ہے کہ انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ۔ ان تمام امور کے تذکرے سے اس منظر پر ایک خوفناک فضا طاری ہوجاتی ہے اور اس کو دیکھ کر انسان مارے خوف فضا طاری ہوجاتی ہے اور اس کا دیکھ کر انسان مارے خوف کے دہشت زدہ ہوجاتا ہے اور اس کا کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔

آخر میں یہ توبیخ اور جھڑک اس وقت ہوتی ہے جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور اللہ تعالیٰ کا خطاب ان سے ایسے حالات میں یوں ہوتا ہے ۔

(آیت) ” وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ (6 : 94) (اور اللہ فرمائے گا) ” لو اب تم ویسے ہی تنا تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے ہو جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا “۔ اب تمہارے پاس فقط تمہاری ذات ہے ۔ تم بالکل اکیلے ہو ‘ تم اپنے رب کے سامنے گروہ کی شکل میں نہ ہوگے بلکہ فردا فردا جس طرح تم ماں کے پیٹ سے اکیلے اس جہان میں آئے تھے ‘ ننگا جسم اور …

Al-An'aam 6:94Listen in Qur'an →
95

۞ إِنَّ ٱللَّهَ فَالِقُ ٱلْحَبِّ وَٱلنَّوَىٰ ۖ يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ ٱلْمَيِّتِ مِنَ ٱلْحَىِّ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ

بے شک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر (ان سے درخت وغیرہ) اگاتا ہے وہی جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جاندار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو خدا ہے۔ پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو

(آیت) ” نمبر 95۔

یہ وہ معجزہ ہے جس کے راز تک کوئی نہیں پہنچ سکا یہ تو بڑی بات ہوگی کہ کوئی یہ معجزہ کر دیکھائے ۔ کیا معجزہ ؟ یعنی زندگی کی تخلیق اور اس کی نشوونما اور اس کی حرکت ‘ ہر وقت ایک زندہ اور بڑھنے والے درخت سے مردہ بیج نکالتا ہے اور ایک بےجان گٹھلی ایک بڑھنے والے درخت سے نکلتی ہے ۔ پھر اس بیج اور اس گٹھلی کے اندر پوشیدہ زندگی ایک پودے اور ایک درخت کی شکل اختیار کرتی ہے ۔ یہ ایک خفیہ راز ہے جس کی حقیقت کا علم صرف اللہ کی ذات کریم کو ہے ۔ اس زندگی کا اصل مصدر اور منبع کیا ہے ‘ اس بات کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ انسان نے جو بھی عملی ترقی کی ہے ‘ جس قدر زندگی کے ظاہری امور کا مطالعہ کیا ہے اور جس قدر خصائص بھی متعین کئے ہیں اس کی انتہاء پر ایک راز ہے جو غائب ہے ۔ اس سلسلے میں جس طرح پہلے انسان کا علم محدود تھا اسی طرح اس آخری دور کے ترقی یافتہ انسان کا علم بھی محدود ہے ۔ انسان صرف مظاہر اور خواص حیات سے واقف ہے لیکن اسے زندگی کے اصل منبع اور اس کی اصل ماہیت کا علم نہیں ہے ۔ صورت حال یہ ہے کہ زندگی ہماری آنکھوں کے سامنے رواں دواں ہے اور یہ معجزہ ہر لحظہ واقعہ ہوتا رہتا ہے ۔

اللہ وہ ذات ہے جس نے روز اول سے ایک مردہ حالت سے انسان کو زندگی پخشی ۔ یہ کائنات تو تھی مگر انسان نہ تھا یہ زمین تھی مگر اس پر زندگی نہ تھی ۔ پھر یہ زندگی اذان الہی سے نمودار ہوئی ۔ یہ کیسے نمودار ہوئی ؟ اس کا ہمیں علم نہیں ہے اور اس وقت سے لے کر آج تک یہ زندگی مردے سے نمودار ہو رہی ہے اور مردہ ذرات زندگی کے ذریعے زندگی پاتے ہیں ۔ یہ بےجان مواد زندہ عضوی شکل اختیار کرتا ہے ‘ اور پھر یہ زندگی خلیہ انسان کے جسم میں اور تمام جانداروں کے جسم میں داخل ہوتا ہے ۔ یہ زندہ ذرات اب مزید تغیر پذیری کے ذریعے زندہ خلیے بن جاتے ہیں اور اس کے بعد یہ زندہ خلیے پھر مرجاتے ہیں ۔ کیونکہ زندہ خلیے ہر وقت مردہ خلیوں کی شکل اختیار کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ہو یہ زندہ شخص یا جانور ایک دن مردہ ذرات کی شکل میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ یہ ہے مفہوم اس جملے کا ۔

(آیت) ” یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیَِّ (95)

” وہ زندہ کو مردے سے خارج کرنے والا ہے اور مردے کو زندہ سے خارج کرنے والا ہے ۔ “

اللہ کے سوا کوئی بھی یہ کام نہیں کرسکتا اور یہ بھی ناممکن ہے کہ آغاز حیات کے وقت اللہ کے سوا کوئی اور حیات پیدا کرسکے اور نہ کوئی یہ قدرت رکھتا کہ وہ مردہ ذروں کو زندہ ذروں کی شکل دے دے ۔ یہ اللہ ہی ہے جو ان زندہ ذروں کو پھر مردہ ذروں کی شکل دیتا ہے اور یہ سرکل ایک ایسا سرکل ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ اس کا آغاز کب ہوا اور کب یہ سرکل ختم ہوگا ۔ سائنس دان جو قیافے لگاتے رہتے ہیں وہ محض احتمالات ہیں ۔

اس کرہ ارض پر ظہور حیات کے خصائص کے بارے میں آج تک سائنس دانوں نے جو نظریات بیان کیے ہیں ان میں سے کوئی نظریہ بھی تشفی بخش نہیں ہے ۔ صرف یہ نظریہ تشفی بخش ہے کہ اس دنیا پر تخلیق کائنات ذات باری کا کارنامہ ہے اور یورپ میں جب قرون وسطی میں عوام کنیسہ سے بھاگ کھڑے ہوئے جس طرح بدکے ہوئے گدھے ہوں یا جس طرح شیر کے ڈر سے جانور بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ۔ مذہب سے فرار اختیار کرنے والوں نے جب اس کرہ ارض پر تخلیق حیات کے راز کے عقدے کو حل کرنا چاہا ‘ پھر جب انہوں نے خود اس کائنات کی تخلیق کے رازوں سے پردہ اٹھانا چاہا ‘ اور یہ کام انہوں نے خدا کے نظریے کو اپناتے ہوئے کیا تو ان کی تمام مساعی ناکام رہیں اور بیسوی صدی میں اس موضوع پر جو کچھ بھی لکھا گیا وہ ایک مذاق کے سوا کچھ نہ تھا اور یہ تمام تحریریں عناد اور انکار مذہب پر مبنی تھیں اور کوئی مخلصانہ مساعی نہ تھیں ۔

ان سائنس دانوں میں سے بعض صحیح الفکر لوگوں نے اپنے عجز ناتوانی کا اعراف کیا ہے ۔ ایسے لوگوں کی باتوں سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس موضوع پر …

Al-An'aam 6:95Listen in Qur'an →
96

فَالِقُ ٱلْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ ٱلَّيْلَ سَكَنًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ حُسْبَانًۭا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْعَلِيمِ

وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھہرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب (اور) علم والا ہے

(آیت) ” نمبر 96۔

دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے ۔ پردہ شب کو چاک کرکے وہی صبح کو نکالتا ہے ۔ وہی ہے جس نے سکون کے لئے رات بنائی ہے ‘ اور وہی ہے جس نے چاند ستاروں کی گردش کے لئے صحیح اوقات مقرر کئے ہیں ۔ ان کی گردش کے لئے ایک مقرر نظام تجویز کیا ہے اور اس نظام کو اس قدر موثر اور کنٹرول میں رکھا ہے جس سے اس کے مکمل قبضے کا ثبوت ملتا ہے اور جس سے اس کے وسیع اور محیط علم کا ثبوت ملتا ہے ۔

رات کی تاریکیوں سے سپیدہ صبح نکالنا ایک ایسا ہی عمل ہے جس طرح گٹھلی اور دانے کو پھاڑ کر اس سے پودا اور درخت نکالا جاتا ہے ۔ ایک حرکت میں صبح کی روشنی نمودار ہوتی ہے ۔ اور دوسری حرکت میں پودے کی سوئی برآمد ہوتی ہے ۔ ان دونوں مثالوں میں وجہ تشبیہ یہ ہے کہ دونوں میں حرکت ‘ زندگی خوبصورتی اور جمال ہے جبکہ دونوں حقیقتیں اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک جیسی بھی ہیں ۔

گٹھلی اور دانے کو پھاڑ کر اس سے پودوں کا اخراج جبکہ یہ جامد تھے اور رات کو تاریکیوں سے اور سکون سے صبح کی روشنی نکالنا یہ بھی وجہ مماثلت ہے ۔ گٹھلی اور رات دونوں کے اندر سکون موجود ہے ۔ اس کائنات میں صبح وشام اور وقت و سکون کاموجودہ نظام زندگی اور ہر چیز کے اگنے اور بڑھنے سے خاص تعلق رکھتا ہے ۔

زمین کا اپنے محور کے گرد گھومنا ‘ اور سورج کے سامنے ایک فاصلے اور متعین فاصلے پر رہنا ‘ چاند کا موجودہ حجم اور موجودہ فاصلہ اور موجودہ درجہ حرارت ‘ یہ وہ اندازے اور تقدیرات ہیں جن کی وجہ سے اس کرہ ارض پر زندگی ممکن ہوسکی ہے اور انہی اندازوں اور تدابیر تکوینی کی وجہ سے انسانی اور نباتاتی زندگی ممکن ہو سکتی ہے ۔ انہی کی وجہ سے گٹھلی اور دانے کو پھاڑ کر نباتات اگ سکے ہیں ۔

یہ ایک کائنات ہے جسے دقیق حسابی اور ریاضی اصولوں پر استوار کیا گیا ہے ۔ اس کے اندر ہر قسم کے ذی حیات کی زندگی کا بھی پہلے سے حساب موجود ہے ۔ اس زندگی کا مقام اور اس کی نوعیت ایک ایسی کائنات ہے جس کے اندر بخت واتفاق کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ نیز یہاں اس نظریے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ یہاں وجود بخت واتفاق سے ہے لیکن اس بخت واتفاق کے لئے حساب و کتاب اور ضابطہ مقرر ہے ۔

جو لوگ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ زندگی اس کائنات میں جاری ہے لیکن اس کائنات کو زندگی کے ساتھ کوئی ہم آہنگی نہیں ہے بلکہ کائنات زندگی کی مخالف اور دشمن ہے ۔ یہ چھوٹا ساسیارہ یعنی کرہ ارض جس کے اوپر یہ زندگی موجود ہے ‘ بتا رہا ہے کہ وہ اس زندگی کا مخالف ہے ۔ ایسے لوگوں میں بعض تو یہ کہتے ہیں کہ اگر اس کائنات کا کوئی الہ ہوتا تو وہ اس چھوٹے سے کرہ ارض اور اس پر موجود زندگی کے جھمیلوں میں نہ پڑتا اور اس قسم کے دوسرے خرافات یہ لوگ بکتے ہیں ۔ کبھی اسے علم اور سائنس کا نام دیتے ہیں کبھی اسے فلسفہ کہتے ہیں اور یہ خرافات ایسے ہیں کہ ان کی طرف کسی سنجیدہ نگاہ کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔

یہ لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں جو ان کے نفوس پر حاوی ہیں اور ان سائنسی نتائج کو بھی تسلیم نہیں کرتے جن کا استخراج خود انہیں نے کیا ہے ۔ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دین میں جو فیصلے کر لئے وہ ان کے خلاف کسی واضح ترین حقیقت کا سامنا کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں ۔ وہ اپنے فیصلوں کو سینے سے لگا کر بھاگ رہے ہیں ۔ وہ لوگ ذات باری سے بھاگ رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنی وحدانیت کے دلائل ان کے سامنے منکشف کرتے چلے جاتے ہیں اور اس کی قدرت کے نظارے ہر طرف عام ہیں اور دعوت نظارہ دے رہے ہیں ‘ وہ ذات باری سے فرار کرتے ہوئے جو راہ بھی لیتے ہیں اس کے آخری سرے پر ذات باری پھر کھڑی ہوتی ہے ۔ یوں وہ پریشان ہو کر دوسری گلی سے بھاگتے ہیں لیکن وہاں بھی انہیں ذات باری کی حقیقت کبری نظر آتی ہے۔

یہ علمی اور عقلی دونوں لحاظ سے یتیم ہیں ‘ علمی لحاظ سے تہی دامن ہیں اور نہایت ہی بدبخت ہیں ۔ یہ لوگ کینسہ اور اس کے …

Al-An'aam 6:96Listen in Qur'an →
97

وَهُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلنُّجُومَ لِتَهْتَدُوا۟ بِهَا فِى ظُلُمَٰتِ ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۗ قَدْ فَصَّلْنَا ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے رستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں

(آیت) ” نمبر 97۔

یہ نظام فلکی کے منظر کا تتمہ ہے جس کے اندر سورج چاند اور ستارے سرگرداں اور یہ پوری کائنات کے منظر کا حصہ ہے جو نہایت ہی وسیع ‘ نہایت ہی حیران کن ہے اور جس کی تمام حرکات و سکنات انسانی زندگی اور اس کے مفادات اور ضروریات کے ساتھ وابستہ ہیں ۔

(آیت) ” لِتَہْتَدُواْ بِہَا فِیْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ “۔ (6 : 97) ‘

” تاکہ تم ان کے ذریعے صحرا اور سمندروں کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرو۔ “

صحراؤں اور سمندروں کی دوریوں میں انسان ہمیشہ ستاروں کے زریعے راستہ معلوم کرتا آیا ہے اور آج بھی وہی نظام ہے ۔ اصول وہی ہیں اگرچہ دور جدید کے اکتشافات کی وجہ سے وسائل بدل گئے ہیں ۔ سمندری سفر کے لئے جدید آلات تیار ہوگئے ہیں لیکن اصل الاصول یہی ہے ان سفروں میں قطب شمالی اور ستاروں سے ہدایت لی جاتی ہے ۔ ظلمات البر والبحر میں حسی اور حقیقی اندھیرا بھی شامل ہے اور فکری اور تصوراتی اندھیرا بھی ۔ لہذا نص قرآن جس طرح آج سے صدیوں پہلے بامقصد تھی اسی طرح آج بھی بامقصد ار بامصداق ہے ۔ آج کی بحری زندگی میں بھی اسی اصول کے مطابق ہے۔ آج بھی قرآن انسانوں سے اسی طرح مخاطب ہے جس طرح آج سے پہلے تھا حالانکہ آج کے دور میں انسانی انفس اور آفاق میں اللہ نے انسان کو وسیع علم سے نوازا ہے لیکن آج بھی ہماری بحری سفری زندگی اسی آیت کی مصداق ہے ۔

قرآن آج بھی فطری انداز میں انسانوں کو خطاب کرتا ہے اور تکوینی حقائق انکے سامنے رکھتا ہے ۔ محض نظریاتی بنیادوں پر خطاب نہیں کرتا بلکہ ” واقعی “ صورت انسان کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو آج تک قائم ہے اس صورت میں خطاب کے نتیجے میں صانع کائنات کی کارفرمائی واضح طور پر نظر آتی ہے ۔ اللہ کی تقدیر اس کی تدبیر اور اس کی شان رحیمی عقل ونظر سے بالکل روشن نظر آتی ہے ۔ انسان بصیرت حاصل کرتا ہے ‘ اس کے ادراک کو جلا ملتی ہے اور وہ کائنات پر تدبر بھی کرتا ہے ۔ اس سے نصیحت بھی حاصل کرتا ہے اور اپنے علم ‘ اپنی معرفت اور ترقی کو اس کائنات میں کار فرما حقیقت کبری کے ادراک کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حقیقت انسان کے سامنے رکھنے کے بعد کہ اللہ بحر وبر کے اندھیروں میں ان کی راہنمائی کا انتظام کرتا ہے یہ تعقیب آتی ہے ۔

(آیت) ” قَدْ فَصَّلْنَا الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (97)

” دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ‘ ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں “۔

اس لئے کہ صحرا کی پہنائیوں اور سمندر کی تاریکیوں میں ستاروں سے ہدایت تب ہی لی جاسکتی ہے جب انسان کو ستاروں کے مداروں ‘ ان کے دوروں اور مختلف اوقات میں ان کے مواقع کے بارے میں علم حاصل ہو اور معنوی اندھیروں میں ہدایت وہ لوگ لے سکتے ہیں جنہیں علم ہو کہ یہ کائنات صانع حکیم کی بنائی ہوئی ہے جیسا کہ ہم نے کہا یہاں ہدایت سے مراد دونوں قسم کی ہدایات ہیں ‘ حسی اور بحری سفر کی ہدایات بھی اور معنوی اور گمراہی قلب ونظر کی ہدایات بھی ۔ وہ لوگ جو ستاروں کو حسی رہبری کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس رہبری سے اپنے خالق تک پہنچنے کی ہدایت وبصیرت اخذ نہیں کرتے وہ گویا علم سے محروم ہیں کیونکہ انہوں نے ان چیزوں سے جھوٹی اور حقیر ہدایت تولی لیکن ہدایت کبری اخذ نہ کی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس کائنات کا تعلق رب کائنات سے کاٹنا چاہتے ہیں اور اس کائنات کے ان دلائل سے وہ ہدایت اخذ نہیں کرتے جو مبدع عظیم پر دال ہیں ۔ صدق اللہ العظیم ۔

Al-An'aam 6:97Listen in Qur'an →
98

وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ فَمُسْتَقَرٌّۭ وَمُسْتَوْدَعٌۭ ۗ قَدْ فَصَّلْنَا ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَفْقَهُونَ

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں

(آیت) ” نمبر 98۔

اب یہ چٹکی براہ راست ہے ‘ اور یہ ٹچ نفس انسانی اور ذات انسانی کو دیا جاتا ہے ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے انسان ایک ہی نفس سے پیدا کئے گئے ہیں کیونکہ مرد اور عورت اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی ہیں ۔ لہذا پوری بشریت ایک حقیقت واحدہ ہے مرد و عورت کے درمیان زندگی کا آغاز تناسل کے خلیہ سے شروع ہوتا ہے ۔ مثلا خلیہ جب صلب پدر میں ہوتا ہے تو وہ جائے قرار میں ہوتا ہے ۔ جب وہی خلیہ رحم مادر میں جاتا ہے تو وہ اس کے لئے سپردگی کی جگہ ہے اس کے بعد زندگی بڑھتی ہے اور پھیل جاتی ہے اور مختلف نسلوں اور رنگوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ۔ مختلف گروہوں اور زبانوں میں بٹ جاتی ہے مختلف اقوام وقبائل میں تقسیم ہوجاتی ہے اور اس زندگی کے اس قدر نمونے بن جاتے ہیں جن کا گننا مشکل ہوجاتا ہے پھر زندگی کے اس قدر کلچر وجود میں آجاتے ہیں کہ زندگی موجود رہے گی آتے رہیں گے ۔

(نفس واحدہ سے مراد میں نے نفس انسانیت لیا ہے اس لئے کہ مجھے اس بارے میں قابل اعتماد حدیث نہیں ملی کہ حوا آدم سے پیدا

کیا گیا)

(آیت) ” قَدْ فَصَّلْنَا الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (97)

” دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ‘ ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں “۔

یہاں فقیہ وہ شخص ہوگا ‘ جو اس نفس انسانی کی تخلیق کے بارے میں اللہ کی کاریگری کا ادراک رکھتا ہو اور پھر اس بات میں مہارت رکھتا ہو کہ ایک انسان آگے جا کر کن کن کلچروں اور نمونوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور یوں انسان ایک نفس کو بذریعہ نسل آگے بڑھاتا چلا جاتا ہے ۔ اس عمل سے بیشمار مرد اور عورتیں پیدا ہوتے رہتے ہیں اور انسانی آبادی بڑھتی رہتی ہے ۔ یہ تمام کام اللہ کی اس حکمت کے نتیجے میں پورا ہوتا ہے جسے اس نے نظام زوجیت کے ذریعے فرض قرار دیا ۔ جس کے ذریعے آبادی بڑھتی ہے ‘ بچوں کی نشوونما دائرہ انسانیت کے اندر ہوتی ہے اور وہ آئندہ زندگی میں وظیفہ انسانیت ادا کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ۔

ہم یہاں ظلال القرآن میں اس موضوع کی پوری تفصیلات نہیں دے سکتے جس سے انسانیت کے دونوں اصناف کے درمیان تمام تعلقات کو زیر بحث لا سکیں ۔ اس کے لئے تو علیحدہ ایک کتاب کی ضرورت ہے ۔

(دیکھئے کتاب خصائص التصور الاسلامی میں بحث حقیقۃ الحیاۃ)

لیکن یہاں اس قدر تذکرے کی بہرحال ضرورت ہے کہ نطفے سے مرد اور عورت کس طرح پیدا ہوجاتے ہیں اور کس طرح ایک غیبانی قوت اور قدرت الہی مرد اور عورتوں کی تعداد کو برابر رکھتی ہے تاکہ آئندہ نسل کشی کے لئے اور سلسلہ توالد وتکاثر کو جاری رکھنے کے لئے مناسب انتظام ہو ۔ اس سے قبل ہم نے آیت ۔

(آیت) ” وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الا ھو “۔ (6 : 59) کی تفسیر میں کہا تھا کہ مرد کے مادہ منویہ کے اندر جو کروموسوم ہوتے ہیں اور جب ان کا التفاء عورت کے انڈے کے ساتھ ہوتا ہے تو اس وقت صرف تقدیر الہی ہوتی ہے جو مذکر کروموسوم کو مؤنث کروموسوم پر ترجیح دیتی ہے یا اس کے برعکس فیصلہ کرتی ہے اور یہ ترجیح از جانب تقدیر الہی غیب الہی ہے ۔ اس معاملے میں کسی انسان کو کوئی اختیار نہیں ہے ۔

یہ تقدیر فیصلہ کرتی ہے اور کسی کو لڑکا عطا ہوتا ہے اور کسی کو لڑکی ۔ یہ تقدیر تمام روئے زمین پر مردوں اور عورتوں کی تعداد کے اندر مطلوب توازن کو برقرار رکھتی کہ کس قدر مرد درکار ہیں اور کس قدر عورتیں ۔ چناچہ آج تک پوری انسانیت کی سطح پر اس توازن کے اندر کوئی فرق نہیں پڑا اور اس توازن کے ذریعے سلسلہ توالد وتکاثر آج تک جاری وساری ہے ۔ یہ درست ہے کہ اگر مرد کم ہوں تو بھی توالد وتکاثر کا سلسلہ جاری رہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اسکیم کا مطلب فقط یہ تھا کہ انسانوں کے درمیان نہ صرف نسل کشی کا انتظام کر دیاجائے بلکہ ساتھ یہ بھی مطلوب تھا کہ حیوانی سطح سے اوپر جا کر انسان کی ازدواجی زندگی میں توازن اور استحکام پیدا ہو ‘ کیونکہ اس استحکام کے بغیر مقاصد انسانیت کی …

Al-An'aam 6:98Listen in Qur'an →
99

وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَخْرَجْنَا بِهِۦ نَبَاتَ كُلِّ شَىْءٍۢ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًۭا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّۭا مُّتَرَاكِبًۭا وَمِنَ ٱلنَّخْلِ مِن طَلْعِهَا قِنْوَانٌۭ دَانِيَةٌۭ وَجَنَّٰتٍۢ مِّنْ أَعْنَابٍۢ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُشْتَبِهًۭا وَغَيْرَ مُتَشَٰبِهٍ ۗ ٱنظُرُوٓا۟ إِلَىٰ ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثْمَرَ وَيَنْعِهِۦٓ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكُمْ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینھ برساتا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینھ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں۔ پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں۔ اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں۔ اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزیں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) ان کے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں

(آیت) ” نمبر 99 ۔

قرآن کریم میں جب بھی حیاتیات اور نباتات کا ذکر ہوتا ہے اس دوران پانی کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے ۔

(آیت) ” وَہُوَ الَّذِیَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاء ِ مَاء ً فَأَخْرَجْنَا بِہِ نَبَاتَ کُلِّ شَیْْءٍ “۔ (6 : 99)

” اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا ‘ پھر اس کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات اگائیں ۔ “

ہر چیز کی پیدائش میں پانی کا جو کردار ہے وہ بالکل ظاہر ہے اور اس کے بارے میں ایک پسماندہ اور ترقی یافتہ انسان دونوں یکساں طور پر جانتے ہیں ۔ عالم اور جاہل دونوں جانتے ہیں لیکن قرآن کریم نے ظاہری طور پر عوام کے لئے جو کچھ کہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کی تخلیق میں پانی کا کردار کہیں زیادہ ہے ۔ مثلا سطح زمین پر مٹی کی فراہمی پانیوں کی مرہون منت ہے ۔ یہ بات میں ان نظریات کی اساس پر کہہ رہا ہوں جو اس وقت سطح زمین کے بارے میں معروف ہیں ۔ (اگر وہ درست ہوں) مثلا یہ کہ ابتداء میں سطح زمین آگ کا گولہ تھی ‘ اس کے بعد وہ سخت ہوگئی اس قدر سخت کہ سطح زمین پر نباتات اگنے کے لئے کوئی مٹی نہ تھی ‘ اس کے بعد فضائی عوامل اور پانی کی وجہ سے سطح زمین پر مٹی جمع ہونا شروع ہوئی اور اس کے بعد اس زمین کو تروتازہ اور سرسبز رکھنے کے لئے پانی اہم کردار ادا کرتا رہا ۔ اس کے بعد آسمانوں میں بجلیوں کی چمک کی وجہ سے برف اور بارشوں کے ساتھ ایسی نائٹروجن گرتی رہی جو پانیوں میں تحلیل ہو سکتی تھی اور اس طرح زمین کے اندر روئیدگی شروع ہوگئی ۔ یہ وہ کھاد ہے ‘ جسے آج انسان انہیں قوانین قدرت کے اصول کو اپنا کر بنا رہے ہیں اور یہ وہ مادہ ہے کہ اگر روئے زمین اس سے خالی ہوجائے تو زمین کے اوپر کوئی تروتازگی نہ رہے گی ۔

(آیت) ” فَأَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِراً نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبّاً مُّتَرَاکِباً وَمِنَ النَّخْلِ مِن طَلْعِہَا قِنْوَانٌ دَانِیَۃٌ وَجَنَّاتٍ مِّنْ أَعْنَابٍ وَالزَّیْْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِہاً وَغَیْْرَ مُتَشَابِہٍ “۔ (6 : 99)

” پھر اس سے ہرے بھرے کھیت اور درخت پیدا کئے پھر ان سے تہہ بہ تہہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھولوں کے گچھے پیدا کئے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں اور انگور ‘ زیتوں اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصوصیت جدا جدا بھی ہے ۔ “

ہر ہرا پودا تہ بہ تہ چڑھے ہوئے دانے دیتا ہے ۔ مثلا خوشے وغیرہ ۔ اور کھجور کے درخت کے اوپر چھوٹی چھوٹی شاخیں نکلتی ہیں ۔ (قنو۔ جمع قنوان) یعنی ہو شاخ جس پر کھجوریں لگتی ہیں ۔ پھر (قنوان دانیۃ (6 : 99) شاخیں جھکی ہوئی بھی ایک نہایت ہی دل پسند اور لطیف ترکیب ہے ۔ یہ پورا منظر یوں نظر آتا ہے کہ گویا ہرے بھرے کھیتوں اور باغ کی گھنی چھاؤں کے درمیان انسان سیر کر رہا ہو جس میں انگوروں کے باغ اور زیتون کے باغات ہیں ۔ یہ نباتات اپنی مختلف اقسام اور خاندانوں کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ساتھ ملتے جلتے بھی ہیں اور علیحدہ خصوصیات کے بھی مالک ہے ۔

(آیت) ” انظُرُواْ إِلِی ثَمَرِہِ إِذَا أَثْمَرَ وَیَنْعِہِ “۔ (6 : 99)

” یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو ‘ ‘۔

تیز احساس اور بیدار دل کے ساتھ ان کی طرف دیکھو ‘ یہ کس قدر تروتازہ ہیں اور جس وقت یہ پکتے ہیں تو کس قدر خوبصورت نظر آتے ہیں ۔ دیکھو اور ان خوبصورت مناظر کو دیکھ کر لطف حاصل کرو۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ تم ان کے پھلوں کو کھاؤ جب وہ پھل دے دیں بلکہ یہ کہا کہ تم غور کی نظر سے دیکھو کہ کس طرح پھل لگتا ہے اور کس خوبصورتی کے ساتھ پکتا ہے اس لئے کہ یہاں خوبصورتی کے اظہار کا اور دعوت نظارہ کا مقام ہے ۔ پھر ان مناظر کا گہری نظر سے مطالعہ کرکے اللہ کی نشانیوں پر غور کرنے کا مقام ہے ۔ نیز اللہ کی کاریگری اور اس کی صنعت کاریوں پر فکر و تدبر کا مقام ہے ۔ …

Al-An'aam 6:99Listen in Qur'an →
100

وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ ٱلْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ ۖ وَخَرَقُوا۟ لَهُۥ بَنِينَ وَبَنَٰتٍۭ بِغَيْرِ عِلْمٍۢ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ

اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا۔ حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے اور (اس کی شان ان سے) بلند ہے

(آیت) ” نمبر 100 تا 101۔

عرب کے بعض مشرکین جنوں کی عبادت کرتے تھے ‘ لیکن ان کو علم نہیں تھا کہ جن ہیں کیا ۔ البتہ یہ انہیں ایک وہمی سی مخلوق سمجھتے تھے اور یہ بتوں کے پیچھے کوئی مخلوق تھی ۔ انسان جب ایک بالشت کے برابر بھی عقیدہ توحید سے ہٹ جائے تو وہ اس قدر ہٹتا چلا جاتا ہے کہ راہ حق سے کوسوں دور ہوجاتا ہے لیکن آخر کار انسان دیکھتا ہے کہ نقطہ آغاز کا انحراف اگرچہ تھوڑا سا اور ناقابل لحاظ تھا لیکن آگے جا کر دونوں راہوں کے درمیان بہت بڑی خلیج واقع ہوجاتی ہے ۔ یہ مشرکین مکہ آغاز میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے دین پر تھے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا دین وہی دین توحید تھا جسے اس علاقے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش کیا تھا۔ لیکن یہ لوگ اس عقیدہ توحید سے انکار کر بیٹھے ۔ اگرچہ یہ انحراف آغاز کار میں بہت ہی معمولی ہوگا لیکن وہ بت پرستی کے فعل شنیع پر منتج ہوا اور وہ یہاں تک آپہنچے کہ جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرانے لگے حالانکہ جن اللہ کی مخلوق ہیں ۔

(آیت) ” وَجَعَلُواْ لِلّہِ شُرَکَاء الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ (6 : 100)

” اس پر بھی لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا دیا حالانکہ وہ ان کا خالق ہے “۔

دنیا میں جس قدر بت پرست مذاہب گزرے ہیں اور جن کی نوعیت مختلف جاہلیتوں میں مختلف رہی ہے ان سب میں ایک شریر مخلوق کا تصور رہا ہے اور اس شریر مخلوق کا تصور ایسا ہی رہا ہے جس طرح شیطان کا تصور ہے ۔ تمام بت پرست ہمیشہ اس شریر مخلوق سے ڈرتے رہے ہیں ۔ چاہے یہ شریر مخلوق ارواح شریرہ ہوں یا اشخاص شریرہ ۔ ان بت پرست مذاہب میں یہ رواج رہا ہے کہ وہ اس شریر مخلوق کے شر سے بچنے کے لئے کچھ قربانیاں دیں ۔ ہوتے ہوتے یہ شرکیہ مذاہب ان کی پوجا کرنے لگے ۔

عرب بت پرستی میں بھی ایسے ہی تصورات پائے جاتے تھے مثلا وہ جنوں کی پوجا کرتے تھے ۔ ان کو اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے حالانکہ اللہ کی ذات ان چیزوں سے پاک ہے ۔ قرآن کریم یہاں ان کے ان عقائد کی کمزوری ان کو بتاتا ہے اور بالکل ایک لفظ میں بات کو ختم کردیتا ہے۔ (خلقھم) اللہ نے تو ان کو خود پیدا کیا۔ یہ ہے تو صرف ایک لفظ لیکن ان کے عقائد کو مذاق بنا دینے کے لئے یہ ایک لفظ ہی کافی ہے ۔ جب پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور اس نے ان کی تخلیق کی ہے تو اللہ کی مخلوق اس کے ساتھ شریک کیسے ہوجائے گی اور اس مخلوق کو الوہیت اور ربوبیت کے حقوق کیسے حاصل ہوجائیں گے ۔

ان لوگوں نے صرف اس دعوے پر ہی اکتفا نہ کیا ‘ کیونکہ بت پرستانہ ادہام جب شروع ہوتے ہیں تو پھر کسی حد پر جا کر نہیں رکتے اور یہ انحراف آگے ہی بڑھتا جاتا ہے ۔ چناچہ وہ اس سے بھی آگے بڑھے اور یہ عقیدہ اختیار کرلیا کہ اللہ کے بیٹے اور بیٹیاں بھی ہیں۔

(آیت) ” ْ وَخَرَقُواْ لَہُ بَنِیْنَ وَبَنَاتٍ بِغَیْْرِ عِلْمٍ “ (6 : 100)

” اور بےجانے بوجھے اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تصنیف کردیں ‘ ‘۔

خرقوا کا مفہوم ہے کہ انہوں نے جعلی طور پر یہ عقیدہ تصنیف کرلیا ۔ خرقوا کے معنے ہوتے ہیں اپنی جانب سے جھوٹ گھڑنا ۔ خرق کے اصل معنی پھاڑنے کے ہیں مثلا کوئی جھوٹی خبر لے کر آتا ہے ۔ یہودیوں کے نزدیک حضرت عزیر ابن اللہ تھے ۔ نصاری حضرت مسیح کو ابن اللہ کہتے تھے ۔ مشرکین مکہ کے نزدیک ملائکہ اللہ کی بیٹیاں تھیں ۔ وہ فرشتوں کو مادہ تصور کرتے تھے لیکن وہ کوئی معقول بات نہ کرتے تھے کہ وہ کیوں مؤنث ہیں ۔ کیونکہ جھوٹے دعوے ہمیشہ بغیر علم کے ہوا کرتے ہیں لہذا ان لوگوں کے دعوے بھی بغیر علم کے ہیں۔

(آیت) ” ٍ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یَصِفُونَ (100)

” حالانکہ وہ پاک اور بالاتر ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں ۔ “

اس کے بعد اب اللہ تعالیٰ ان کے ان افتراؤں کے جواب میں اصل حقیقت سامنے لاتے ہیں ۔ ان کے غلط تصورات کی تردید فرماتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ ان میں کیا کیا جھول ہے ۔

Al-An'aam 6:100Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.