Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 91–100 of 165

91

وَمَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦٓ إِذْ قَالُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٍۢ مِّن شَىْءٍۢ ۗ قُلْ مَنْ أَنزَلَ ٱلْكِتَٰبَ ٱلَّذِى جَآءَ بِهِۦ مُوسَىٰ نُورًۭا وَهُدًۭى لِّلنَّاسِ ۖ تَجْعَلُونَهُۥ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًۭا ۖ وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنتُمْ وَلَآ ءَابَآؤُكُمْ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِى خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ

اور ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہیئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے ان (کے کچھ حصے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب کو) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر ان کو چھوڑ دیا کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں

دوسری آیت ان لوگوں کے جواب میں آئی ہے جنہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی بشر پر کوئی کتاب نازل ہی نہیں فرمائی۔ یہ کتابوں اور رسولوں کا قضیہ سرے سے غلط ہے۔- اس کے کہنے والے اگر مکہ کے بت پرست ہیں جیسا کہ ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے فرمایا تو معاملہ ظاہر ہے کہ وہ کسی کتاب اور نبی کے قائل نہ تھے، اور اگر یہود ہیں جیسا کہ دوسرے مفسرین نے اختیار فرمایا اور آیت کا سلسلہ کلام بظاہر اس کی تائید میں ہے تو پھر ان کا ایسا کہنا محض غصہ اور جھنجھلاہٹ کا نتیجہ تھا، جو خود ان کے بھی مذہب کے خلاف تھا، امام بغوی رحمة اللہ علیہ کی ایک روایت میں ہے کہ اسی لئے یہود بھی اس شخص سے ناراض ہوگئے جس نے یہ بات کہی تھی، اور اسی غلطی کی وجہ سے اس کو مذہبی پیشوائی کے عہدہ سے ہٹا دیا تھا۔- اس آیت میں حق تعالیٰ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ جن لوگوں نے یہ بیہودہ کلمہ کہا انہوں نے حق تعالیٰ کو پہچاننے کی طرح نہیں پہچانا، ورنہ یہ گستاخانہ کلمہ ان کے منہ سے نہ نکلتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں سے جو مطلق آسمانی کتابوں کا انکار کرتے ہیں یہ کہہ دیجئے کہ اگر بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نہیں بھیجی، تو یہ بتلاؤ کہ یہ تورات جس کو تم بھی مانتے ہو اور اسی کی وجہ سے قوم کے چودھری بنے بیٹھے ہو یہ کس نے نازل کی ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ تم وہ ٹیڑھے چلنے والے ہو کہ جس کتاب تورات کو تم آسمانی کتاب کہتے اور مانتے ہو اس کے ساتھ بھی تمہارا یہ معاملہ ہے کہ تم نے اس کو بندھی ہوئی کتاب کے بجائے متفرق اوراق میں لکھ چھوڑا ہے، تاکہ جب تمہارا جی چاہیے کسی ورق کو درمیان سے نکال دو ، اور اس کے مضمرات سے انکار کردو، جیسے تورات کی وہ آیات جو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی علامات اور صفات کے متعلق تھیں ان کو تم نے نکال دیا ہے، آیت کے آخری جملہ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِيْسَ کا یہی مطلب ہے، قراطیس، قرطاس کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ورق، کاغذ۔- اس کے بعد انہی لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَاۗؤ ُ كُمْ یعنی قرآن کے ذریعہ تمہیں تورات و انجیل سے زائد بھی وہ علم دیا گیا ہے جس کی نہ تمہیں اس سے پہلے خبر تھی، نہ تمہارے باپ داداوں کو۔ - آخر آیت میں فرمایا : قُلِ اللّٰهُ ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِيْ خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ یعنی اس سوال کا جواب کہ جب اللہ نے کوئی کتاب ہی نہیں بھیجی تو تورات کس نے نازل کی وہ تو کیا دیں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی نازل فرمائی ہے، اور جب ان پر حجت تمام ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام ختم ہوگیا، اب وہ جس لہو ولعب میں کھوئے ہیں، ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے۔

Al-An'aam 6:91Listen in Qur'an →
92

وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ مُبَارَكٌۭ مُّصَدِّقُ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ ٱلْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا ۚ وَٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۖ وَهُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ

اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری خبر رکھتے ہیں

ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف نازل ہونے والی کتابوں کے بارے میں ان پر حجت تمام کرنے کے بعد تیسری آیت میں ارشاد فرمایا : وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ، یعنی جس طرح تورات کا خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونا انھیں بھی تسلیم ہے اسی طرح یہ قرآن بھی ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے حق و صدق ہونے کے واسطے ان کے لئے یہ شہادت کافی ہے کہ قرآن ان سب چیزوں کی تصدیق کرتا ہے جو تورات و انجیل میں نازل ہوئی ہیں، اور تورات و انجیل کے بعد اس کے نازل کرنے کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ یہ دونوں کتابیں تو بنی اسرائیل کے لئے بھیجی گئی تھیں، ان کے دوسری شاخ بنی اسماعیل جو عرب کہلاتے ہیں اور ام القریٰ یعنی مکہ اور اس کے اردگرد بستے ہیں، ان کی ہدایت کے لئے کوئی خاص پیغمبر اور کتاب اب تک نہ آئی تھی، اب یہ قرآن ان کے لئے خصوصاً اور پورے عالم کے لئے عموماً نازل کیا گیا ہے، مکہ معظمہ کو قرآن کریم نے ام القریٰ فرمایا، یعنی تمام شہروں اور بستیوں کی جڑ اور بنیاد، اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخی روایات کے مطابق ابتداء آفرینش میں پیدائش زمین کی ابتداء یہیں سے ہوئی ہے، نیز یہ کہ سارے عالم کا قبلہ اور عبادت میں مرکز توجہ یہی ہے (مظہری) ام القریٰ کے ساتھ وَمَنْ حَوْلَهَا فرمایا، یعنی مکہ کے تمام اطراف جس میں پورا عالم مشرق و مغرب اور جنوب و شمال داخل ہے۔- آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا : وَالَّذِيْنَ يُؤ ْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَة ” یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ قرآن پر بھی ایمان لاتے ہیں اور اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس میں یہود اور مشرکین کی ایک مشترک بیماری پر تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ بےفکری کہ جس کو چاہا مانا جس کو چاہا رد کردیا، اور اس کے خلاف محاذ بنا لیا، یہ اس مرض کا اثر ہے کہ وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، جس شخص کو آخرت اور یوم الحسنات پر ایمان ہوگا اس کو خوف خدا ضرور اس طرف متوجہ کرے گا، کہ دلائل میں غور کرے، اور حق بات کو قبول کرنے میں آبائی رسوم جاہلیت کی پروا نہ کرے۔- اور اگر غور کیا جائے تو آخرت سے بےفکری ہی اُمّ الامراض ہے، کفر و شرک بھی اسی کا نتیجہ ہوتا ہے اور سارے گناہ اور معاصی بھی، آخرت پر یقین رکھنے والے سے اگر کبھی کوئی غلطی اور گناہ سرزد بھی ہوجاتا ہے تو اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے، اور بالآخر توبہ کرکے آگے کے لئے گناہ سے بچنے کا عزم کرتا ہے، اور درحقیقت خوف خدا اور فکر آخرت ہی وہ چیز ہے جو انسان کو انسان بناتی اور جرائم سے باز رکھتی ہے، اسی لئے قرآن کریم کی کوئی سورت بلکہ کوئی رکوع بھی شاید اس سے خالی نہیں کہ جس میں فکر آخرت کی طرف متوجہ نہ کیا گیا ہو، اللہم اجعل جملة ھمو منا ھما واحداھم الآخرۃ۔

Al-An'aam 6:92Listen in Qur'an →
93

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِىَ إِلَىَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَىْءٌۭ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ ۗ وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٰلِمُونَ فِى غَمَرَٰتِ ٱلْمَوْتِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ بَاسِطُوٓا۟ أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوٓا۟ أَنفُسَكُمُ ۖ ٱلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ ٱلْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ غَيْرَ ٱلْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ ءَايَٰتِهِۦ تَسْتَكْبِرُونَ

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔ یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب خدا نے نازل کی ہے اس طرح کی میں بھی بنا لیتا ہوں۔ اور کاش تم ان ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (ان کی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں۔ آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے

Explained together with ayah 92

Al-An'aam 6:93Listen in Qur'an →
94

وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَٰدَىٰ كَمَا خَلَقْنَٰكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُورِكُمْ ۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَٰٓؤُا۟ ۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ

اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال ومتاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے

Explained together with ayah 92

Al-An'aam 6:94Listen in Qur'an →
95

۞ إِنَّ ٱللَّهَ فَالِقُ ٱلْحَبِّ وَٱلنَّوَىٰ ۖ يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ ٱلْمَيِّتِ مِنَ ٱلْحَىِّ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ

بے شک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر (ان سے درخت وغیرہ) اگاتا ہے وہی جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جاندار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو خدا ہے۔ پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو

خلاصہ تفسیر - بیشک اللہ تعالیٰ پھاڑنے والا ہے دانہ کو اور گٹھلیوں کو (یعنی زمین میں دبانے کے بعد جو دانہ یا گٹھلی پھوٹتی ہے یہ اللہ ہی کا کام ہے) وہ جاندار (چیز) کو بےجان (چیز) سے نکال لاتا ہے (جیسے نطفہ سے آدمی پیدا ہوتا ہے) اور وہ بےجان (چیز) کو جاندار (چیز) سے نکالنے والا ہے (جیسے آدمی کے بدن سے نطفہ ظاہر ہوتا ہے) اللہ یہ ہے (جس کی ایسی قدرت ہے) سو تم (اس کی عبادت چھوڑ کر) کہاں ( غیر اللہ کی عبادت کی طرف) الٹے چلے جا رہے ہو وہ (اللہ تعالیٰ ) صبح (صادق) کا (رات میں سے) نکالنے والا ہے (یعنی رات ختم ہوجاتی ہے اور صبح صادق ظاہر ہوتی ہے) اور اس نے رات کو راحت کی چیز بنائی ہے (کہ سب تھکے تھکائے سو کر آرام پاتے ہیں) اور سورج اور چاند (کی رفتار) کو حساب سے رکھا ہے، (یعنی ان کی رفتار منضبط ہے جس سے اوقات کے انضباط میں سہولت ہو) یہ (کہ حساب سے ان کی رفتار ہو) ٹھہرائی ہوئی بات ہے ایسی ذات کی جو کہ قادر (مطلق) ہے (کہ اس طرح حرکت پیدا کرنے پر اس کو قدرت ہے اور) بڑے علم والا ہے (کہ اس رفتار کی مصلحتیں اور حکمتیں جانتا تھا اس لئے اس خاص طرح پر ٹھہرا دیا) اور وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے تمہارے (فائدہ کے) لئے ستاروں کو پیدا کیا (اور وہ فائدہ یہ ہے) تاکہ تم ان کے ذریعہ سے (رات کے) اندھیروں میں خشکی میں بھی اور دریا میں بھی راستہ معلوم کرسکو، بیشک ہم نے (یہ) دلائل (توحید و انعام کے) خوب کھول کھول کر بیان کر دئیے ہیں (اور گو پہنچیں گے سب کو مگر نافع) ان (ہی) لوگوں کیلئے (ہوں گے) جو (بھلے برے کی کچھ) خبر رکھتے ہیں (کیونکہ غور ایسے ہی لوگ کیا کرتے ہیں) اور وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے تم (سب) کو (اصل میں) ایک شخص سے (کہ آدم (علیہ السلام) ہیں) پیدا کیا پھر (آگے تو توالد و تناسل کا اس طرح سلسلہ جاری چلا آرہا ہے کہ تم میں سے ہر شخص کے لئے مرتبہ مادہ میں) ایک جگہ زیادہ رہنے کی ہے، (یعنی ماں کا رحم) اور ایک جگہ چندے رہنے کی (یعنی باپ کی پشت لقولہ تعالیٰ (آیت) (من بین الصلب) بیشک ہم نے (یہ) دلائل (بھی توحید و انعام کے) خوب کھول کھول کر بیان کردیئے ہیں (عام طور پر مگر ان کا نفع بھی مثل سابق) ان (ہی) لوگوں کے لئے (ہوگا) جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں (یہ تفصیل ہوگئی يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ الخ کی) ۔- معارف و مسائل - پچھلی آیات میں کفار و مشرکین کی ہٹ دھرمی اور حقائق و نتائج سے غفلت کا تذکرہ تھا، اور ان سب خرابیوں کی اصل بنیاد خدا تعالیٰ اور اس کے بےمثال علم وقدرت سے بیخبر ی ہے، اس لئے مذکورہ چار آیات میں حق تعالیٰ نے غافل انسان کے اس روگ کا علاج اس طرح فرمایا ہے کہ اپنے وسیع علم اور عظیم قدرت کے چند نمونے اور انسان پر اپنے انعامات و احسانات کا ایک سلسلہ ذکر فرمایا، جن میں ادنیٰ غور کرنے سے ہر سلیم الفطرت انسان خالق کائنات کی عظمت اور بےمثال قدرت کا اور اس بات کا قائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ عظیم الشان کارنامے ساری کائنات میں سوائے خدا تعالیٰ کے کسی کی قدرت میں نہیں۔- پہلی آیت میں ارشاد فرمایا : اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ یعنی اللہ تعالیٰ پھاڑنے والا ہے دانہ کو اور گٹھلیوں کو، اس میں قدرت کا ایک حیرت انگیز کرشمہ بتلایا گیا ہے کہ خشک دانہ اور خشک گٹھلی کو پھاڑ کر اس کے اندر سے ہرا بھرا درخت نکال دینا صرف اسی ذات پاک کا فعل ہے جو خالق کائنات ہے، انسان کے سعی و عمل کو اس میں کوئی دخل نہیں، کاشتکار کی ساری کوششوں کا حاصل اس سے زائد نہیں ہوتا کہ دانہ اور گٹھلی کے اندر سے جو نازک کونپل قدرت خداوندی نے نکالی ہے اس کی راہ سے موانع اور مضر چیزوں کو دور کردے، زمین کو ہل وغیرہ کے ذریعہ نرم کرنا پھر کھاد ڈالنا پانی دینا ان سب اعمال کا اثر زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ نکلنے والی نازک کونپل کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے، باقی اصل کام کہ دانہ اور گٹھلی پھٹ کر اس میں سے درخت …

Al-An'aam 6:95Listen in Qur'an →
96

فَالِقُ ٱلْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ ٱلَّيْلَ سَكَنًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ حُسْبَانًۭا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْعَلِيمِ

وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھہرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب (اور) علم والا ہے

دوسری آیت میں ارشاد ہے فالِقُ الْاِصْبَاح فالق کے معنی پھاڑنے والا اور اصباح کے معنی یہاں وقت صبح کے ہیں، فٰلِقُ الاِصبَاحِ کے معنی ہیں پھاڑنے والا صبح کا، یعنی گہری اندھیری کی چادر کو پھاڑ کر صبح کا نکالنے والا، یہ بھی ان افعال و اعمال میں سے ہے جس میں جن و بشر اور ساری کائنات کی قوتیں ہیچ ہیں، اور ہر آنکھوں والا دیکھ کر یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ رات کے اندھیرے کے بعد صبح کا اجالا پیدا کرنے والا نہ کوئی انسان ہوسکتا ہے نہ فرشتہ، نہ کوئی دوسری مخلوق، بلکہ یہ صرف اس مافوق الادراک ہستی کا کام ہے جو سارے جہان کی پیدا کرنے والی ہے۔- مخلوقات کے آرام کے لئے رات کی قدرتی اور جبری تعیین ایک عظیم نعمت ہے - اس کے بعد ارشاد فرمایا : وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا لفظ سکنَ ، سکون سے مشتق ہے، ہر ایسی چیز کو سَکَن کہا جاتا ہے جس پر پہنچ کر انسان کو سکون و اطمینان اور راحت حاصل ہو (اسی لئے انسان کے رہنے کے گھر کو قرآن میں سَکَن فرمایا ہے، (آیت) جعل لکم من بیوتکم سکنا۔ کیوں کہ انسان کا گھر خواہ ایک جھونپڑی ہی ہو وہاں پہنچ کر انسان کو عادةً سکون و راحت حاصل ہوتی ہے اس لئے معنی اس جملہ کے یہ ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ نے رات کو ہر جان دار کے لئے سکون و راحت کی چیز بنائی ہے، فَالِقُ الْاِصْبَاح میں ان نعمتوں کا ذکر تھا جو انسان دن کے اجالے سے حاصل کرتا ہے، رات کی تاریکی میں نہیں ہوسکتی، اس کے بعد جَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا فرما کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ جس طرح دن کا اجالا ایک عظیم نعمت ہے، کہ اس کے ذریعہ انسان اپنے سب کاروبار کرتا ہے، اسی طرح رات کی تاریکی کو بھی برا نہ جانو وہ بھی ایک بڑی نعمت ہے، کہ اس میں دن بھر کا تھکا ماندا انسان آرام کرکے اس قابل ہوجاتا ہے کہ آئندہ کل میں پھر نشاط اور چستی کے ساتھ کام کرسکے، ورنہ انسانی فطرت مسلسل محنت کو برداشت نہیں کرسکتی۔ - رات کی تاریکی کو راحت کے لئے متعین کردینا ایک مستقل نعمت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کا ایک خاص مظہر ہے مگر یہ نعمت روزانہ بےمانگے مل جاتی ہے، اس لئے انسان کا دھیان بھی کبھی نہیں جاتا کہ یہ کتنا بڑا احسان و انعام ہے، غور کیجئے کہ اگر ہر شخص اپنے اختیار و ارادہ سے اپنے آرام کا وقت معین کرتا تو کوئی صبح کو آٹھ بجے سونے کا ارادہ کرتا، کوئی بارہ بجے، کوئی چار بجے اور کوئی رات کے مختلف حصوں میں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ رات دن کے چوبیس گھنٹوں میں کوئی بھی ایسا گھنٹہ نہ آتا جس میں انسانی کاروبار، محنت مزدری، کارخانے اور فیکٹریاں نہ چل رہی ہوتیں، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ سونے والوں کے آرام میں بھی خلل آتا اور کام کرنے والوں کے کام میں بھی، سونے والوں کے آرام میں کام کرنے والوں کے شور شغیب اور کھڑکے اور دھماکے مخل ہوتے اور کام کرنے والوں کے آرام میں کام میں ان لوگوں کی غیر خاضری مخل ہوتی جو اس وقت سو رہے ہیں، اس کے علاوہ سونے والوں کے بہت سے وہ کام رہ جاتے جو ان کے سونے کے وقت میں ہی ہو سکتے ہیں، اللہ جل شانہ کی قدرت قاہرہ نے نہ صرف انسان پر بلکہ ہر جان دار پر رات کے وقت نیند کا غلبہ ایسا مسلط کردیا کہ وہ کام چھوڑ کر سو جانے کے لئے مجبور ہوا ہے، شام ہوتے ہی ہر پرندہ، درندہ، اور چوپائے اپنے اپنے مستقر اور گھر کا رخ کرتے ہیں، ہر انسان جبری طور پر کام چھوڑ کر آرام کرنے کی فکر میں لگتا ہے، پوری دنیا میں ایک سناٹا چھا جاتا ہے، رات کی تاریکی نیند اور آرام میں معین و مددگار ثابت ہوتی ہے، کیونکہ عادةً زیادہ روشنی میں نیند نہیں آتی۔- غور کیجئے کہ اگر ساری دنیا کی حکومتیں اور عوام مل کر بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعہ سونے کا کوئی ایک وقت مقرر کرنا چاہتے تو اولاً اس میں دشواریاں کتنی ہوتیں، ثانیاً اگر سارے انسان کسی معاہدہ کے پابند ہو کر ایک معین وقت سویا کرتے تو جانوروں کو اس معاہدہ کا پابند کون بناتا اور وہ کھلے پھرتے …

Al-An'aam 6:96Listen in Qur'an →
97

وَهُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلنُّجُومَ لِتَهْتَدُوا۟ بِهَا فِى ظُلُمَٰتِ ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۗ قَدْ فَصَّلْنَا ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے رستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں

تیسری آیت میں ارشاد ہے : وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ ، یعنی آفتاب و ماہتاب کے علاوہ دوسرے ستارے بھی اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ کے خاص مظاہر ہیں، اور ان کے پیدا کرنے میں ہزاروں حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے کہ انسان اپنے بحری اور بری سفروں میں جہاں رات کی تاریکی کے وقت سمتوں کا پتہ لگانا بھی آسان نہیں رہتا، ان ستاروں کے ذریعہ اپنے راستے متعین کرسکتا ہے، تجربہ شاہد ہے کہ آج اس مشینری کے زمانہ میں بھی انسان ستاروں کی ہدایت سے بےنیاز نہیں ہے۔- اس آیت میں بھی انسان کی اس غفلت اور کوتاہ نظری پر تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ ستارے بھی کسی بنانے والے اور چلانے والے کے تابع فرمان چل رہے ہیں، نہ اپنے وجود میں مستقل ہیں نہ اپنی بقاء و عمل میں، جو لوگ صرف انہی پر اپنی نظریں جما کر بیٹھ رہے، اور ان کے بنانے والے کی طرف نظر نہ کی وہ سخت کوتاہ نظر اور فریب خوردہ ہیں - آناں کہ بجز روے تو جائے نگرانند - کوتہ نظر انندچہ کو تہ نظر انند - اس کے بعد ارشاد فرمایا : قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ یعنی ہم نے دلائل قدرت خوب کھول کھول کر بیان کردیئے، ان لوگوں کے لئے جو خبر رکھتے ہیں، اس میں اشارہ فرما دیا کہ جو لوگ ان کھلی کھلی نشانیوں سے بھی اللہ تعالیٰ کو نہیں پہچانتے وہ بیخبر اور بےہوش ہیں۔

Al-An'aam 6:97Listen in Qur'an →
98

وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ فَمُسْتَقَرٌّۭ وَمُسْتَوْدَعٌۭ ۗ قَدْ فَصَّلْنَا ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَفْقَهُونَ

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں

چوتھی آیت میں ارشاد ہے وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّمُسْـتَوْدَعٌ مستقر قرار سے بنا ہے اس جگہ کو مستقر کہتے ہیں جو کسی چیز کے لئے جائے قرار ہو، اور مستودع، ودیعت سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں کسی چیز کو کسی کے پاس عارضی طور سے چند روز رکھ دینے کے، تو مستودع اس جگہ کو کہا جائے گا جہاں کوئی چیز عارضی طور پر چند روز رکھی جائے۔- یعنی اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات پاک ہے جس نے انسان کو ایک جان یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا، پھر اس کے لئے ایک مستقر یعنی مدت تک رہنے کی جگہ بنادی، اور ایک مستودع یعنی چند روزہ رہنے کی جگہ۔- قرآن کریم کے الفاظ تو یہی ہیں، ان کی تعبیر و تفسیر میں بہت سے احتمال ہیں، اسی لئے علماء تفسیر کے اقوال اس میں مختلف ہیں، کسی نے فرمایا مستودع ماں کا پیٹ، اور مستقر یہ دنیا ہے، کسی نے فرمایا کہ مستودع قبر ہے اور مستقر دار آخرت، اور بھی متعدد اقوال ہیں، اور الفاظ قرآنی میں سب کی گنجائش ہے، حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمة اللہ علیہ نے تفسیر مظہری میں اس کو ترجیح دی کہ مستقر دا رالآخرت کا مقام جنت یا دوزخ ہے، اور انسان کی ابتداء آفرینش سے آخرت تک جتنے مراحل اور درجات ہیں وہ سب مستودع یعنی چند روزہ قیام کی جگہ ہیں، خواہ شکم مادر ہو یا زمین پر رہنے سہنے کی جگہ یا قبر و برزخ، قرآن کریم کی ایک آیت سے بھی اس کی ترجیح معلوم ہوتی ہے، جس میں فرمایا : (آیت) لترکبن طبقا عن طبق، یعنی تم ایک درجہ سے دوسرے درجہ کی طرف ہمیشہ چڑھتے رہو گے، جس کا حاصل یہ ہے کہ دار آخرت سے پہلے پہلے انسان اپنی پوری زندگی میں ایک مسافر کی حیثیت رکھتا ہے، جو ظاہری سکون وقرار کے وقت بھی درحقیقت سفر عمر کے منازل طے کر رہا ہے - مسافر ہوں کہاں جانا ہے، ناواقف ہوں منزل سے - اول سے پھرتے پھرتے گورنگ پہنچا ہوں مشکل سے - اس آخری آیت میں ظاہری ٹیپ ٹاپ اور مخلوقات کی نیر نگیوں میں مشغول ہو کر اپنے اصلی مستقر اور خدا وآخرت سے غافل ہوجانے والے کی آنکھیں کھول دی گئی ہیں، تاکہ وہ حقیقت کو پہچانے اور دنیا کے دھوکہ و فریب سے نجات پائے، مولانا جامی رحمة اللہ علیہ نے خوب فرمایا کہ - ہمہ اندر زمین ترازین است - کہ تو طفلی و خانہ رنگین است

Al-An'aam 6:98Listen in Qur'an →
99

وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَخْرَجْنَا بِهِۦ نَبَاتَ كُلِّ شَىْءٍۢ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًۭا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّۭا مُّتَرَاكِبًۭا وَمِنَ ٱلنَّخْلِ مِن طَلْعِهَا قِنْوَانٌۭ دَانِيَةٌۭ وَجَنَّٰتٍۢ مِّنْ أَعْنَابٍۢ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُشْتَبِهًۭا وَغَيْرَ مُتَشَٰبِهٍ ۗ ٱنظُرُوٓا۟ إِلَىٰ ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثْمَرَ وَيَنْعِهِۦٓ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكُمْ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینھ برساتا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینھ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں۔ پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں۔ اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں۔ اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزیں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) ان کے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں

خلاصہ تفسیر - اور وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے آسمان (کی طرف) سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس (ایک ہی پانی) کے ذریعہ سے ہر قسم کے (رنگ برنگ) نباتات کو (زمین سے) نکالا (ایک ہی پانی ایک ہی مٹی سے اتنی مختلف قسم کی نباتات جن کے رنگ و بو، ذائقہ، فوائد بےحد مختلف ہیں، کس قدر عجیب کرشمہ قدرت ہے) پھر ہم نے اس (کونپل) سے (جو اول زمین سے نکلتی ہے، جس کو بعض مقامات میں سوئی یا کھونٹی کہتے ہیں اور رنگ میں زرد ہوتی ہے) سبز شاخ نکالی کہ اس (شاخ) سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں (یہ تو غلوں کی کیفیت ہے، جس کا ذکر اجمالاً فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى میں آچکا اور کھجور کے درختوں سے) یعنی ان کے گچھّے میں سے خوشے (نکلتے) ہیں جو (مارے بوجھ کے) نیچے کو لٹکے جاتے ہیں اور (اسی پانی سے ہم نے) انگوروں کے باغ (پیدا کئے) اور زیتون و انار (کے درخت پیدا کئے) جو کہ (بعض انار اور بعض زیتون پھل کی صورت شکل و مقدار و رنگ وغیرہ کے اعتبار سے) ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں اور (بعض) ایک دوسرے سے ملتے جلتے نہیں ہوتے (ذرا) ہر ایک کے پھل کو تو دیکھو جب وہ پھلتا ہے (کہ اس وقت بالکل کچا بدمزہ ناقابل انتقاع ہوتا ہے) اور (پھر) اس کے پکنے کو دیکھو (کہ اس وقت سب اوصاف میں کیسا کامل ہوگیا، یہ بھی خدا کی قدرت کا ظہور ہے) ان (امور) میں (بھی) دلائل (توحید کے موجود) ہیں (جو ایمان) لانے کی فکر (رکھتے ہیں یہ میووں اور پھلوں کا بیان ہوا جن کا ذکر اجمالاً وَالنَّویٰ میں آچکا ہے) ۔- اور (مشرک) لوگوں نے (اپنے اعتقاد میں) شیاطین کو (ایسے) اللہ کا (جس کے صفات و افعال اوپر مذکور ہوئے) شریک قرار دے رکھا ہے (کہ ان کے بہکانے سے شرک کرتے ہیں اور خدا کے مقابلہ میں ان کے کہنے پر چلتے ہیں) حالانکہ ان لوگوں کو (خود ان کے اقرار کے موافق بھی) خدا (ہی) نے پیدا کیا ہے (جب خالق کوئی اور نہیں تو معبود بھی کوئی اور نہ ہونا چاہئے) اور ان (مشرکین میں سے بعض) لوگوں نے اللہ کے حق میں بیٹے اور بیٹیاں (اپنے اعتقاد میں) محض بلا دلیل تراش رکھی ہیں (جیسے نصاریٰ حضرت مسیح کو اور بعض یہود حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا اور مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے) وہ پاک اور برتر ہے ان باتوں سے جن کو یہ لوگ (خدا تعالیٰ کی شان میں) بیان کرتے ہیں (یعنی یہ کہ اس کا کوئی شریک ہو یا اس کے کوئی اولاد ہو) وہ آسمانوں اور زمینوں کا موجد (یعنی نیست سے ہست کرنے والا) ہے (اور دوسرا کوئی موجد نہیں، پس معبود بھی کوئی اور نہ ہوگا، اس سے تو شریک کی نفی ہوئی اور اولاد کی نفی کی دلیل یہ ہے کہ اولاد کی حقیقت یہ ہے کہ میاں بیوی ہوں اور ان دونوں کی مقارنت سے تیسری جان دار چیز پیدا ہو تو) اللہ کے اولاد کہاں ہو سکتی ہے، حالانکہ اس کی کوئی بی بی تو ہے نہیں، اور اللہ تعالیٰ نے (جیسا ان لوگوں کو پیدا کیا وَخَلَقَہُم اور زمین و آسمان کو پیدا کیا، بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الخ اسی طرح اس نے) ہر چیز کو پیدا کیا، اور (جس طرح وہ خالقیت میں یکتا ہے، اسی طرح اس صفت میں بھی یکتا ہے کہ) وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے (ازلاً بھی ابداً بھی اور اس وصف میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں اور تخلیق بدون علم کے ہو نہیں سکتی، اس سے بھی ثابت ہوا کہ اور کوئی خالق نہیں) یہ (ذات جس کے صفات کمال بیان کئے گئے یہ) ہے اللہ تمہارا رب، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر چیز کا پیدا کرنے والا (جیسا اوپر بیان ہوا جب یہ صفات اللہ ہی میں ہیں) تو تم لوگ اس (ہی) کی عبادت کرو اور (پھر یہ کہ) وہ (ہی) ہر چیز کا کارساز (حقیقی) ہے (دوسرا کوئی کارساز بھی نہیں پس اس کی عبادت کروگے تو وہ تم کو نفع حقیقی پہنچائے گا اور دوسرا کیا دیدے گا، غرض خالق بھی وہی علیم بھی وہی وکیل بھی وہی اور یہ سب امور مقتضی ہیں کہ معبود بھی وہی ہو) ۔- معارف و مسائل - ان مضامین میں ایک عجیب ترتیب کی رعایت ہے، …

Al-An'aam 6:99Listen in Qur'an →
100

وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ ٱلْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ ۖ وَخَرَقُوا۟ لَهُۥ بَنِينَ وَبَنَٰتٍۭ بِغَيْرِ عِلْمٍۢ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ

اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا۔ حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے اور (اس کی شان ان سے) بلند ہے

Explained together with ayah 99

Al-An'aam 6:100Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.