Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 81–90 of 165

81

وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ عَلَيْكُمْ سُلْطَٰنًۭا ۚ فَأَىُّ ٱلْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِٱلْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکرڈروں جب کہ تم اس سے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)

وَكَيْفَ اَخَافُ ۔۔ : یہ اوپر کی آیت میں دوسرے جواب کو مکمل کیا ہے، یعنی میں تمہارے ان معبودوں سے کیوں ڈروں، جب کہ مجھے یقین ہے کہ یہ مجھے نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے، ڈرنا تو تمہیں چاہیے جو بلا دلیل اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بنا کر ظلم عظیم کر رہے ہو۔ - فَاَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ اَحَقُّ بالْاَمْنِ ۚ۔۔ : ہم دونوں میں سے کون امن ( بےخوف ہونے) کا زیادہ حق دار ہے ؟ کیا تم مشرکین، جو ان بتوں کے متعلق محض وہم پرستی کی راہ سے یہ سمجھ رہے ہو کہ شاید یہ نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں، یا ہم خالص توحید پرست، جنھیں یہ یقین و اطمینان حاصل ہے کہ اللہ ہی ہر نفع و نقصان پر قادر ہے اور اس کے سوا دنیا کی کوئی مردہ یا زندہ ہستی ہمارا ذرہ بھر نقصان نہیں کرسکتی۔ اس امت کے کلمہ گو پیر پرست بھی اہل توحید سے کہتے ہیں کہ جو شخص بڑے پیر کی گیا رھویں چھوڑ دے اس کا بیٹا یا بھینس مرجاتی ہے، یا کوئی اور نقصان پہنچ سکتا ہے، تو ان کے لیے بھی یہی جواب ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ہے۔

Al-An'aam 6:81Listen in Qur'an →
82

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَمْ يَلْبِسُوٓا۟ إِيمَٰنَهُم بِظُلْمٍ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے امن (اور جمعیت خاطر) ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا۔۔ : یہ آیت اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی ہوسکتا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو مکمل کرنے والا حصہ بھی۔ - تنوین اکثر تنکیر کے لیے ہوتی ہے، اس سے لفظ عام ہوجاتا ہے اور اس کا ہر فرد اس میں شامل ہوجاتا ہے، جیسے اس آیت میں مذکور ” بِظُلْمٍ “ کی تنوین کو تنکیر کے لیے لیں تو معنی ہوگا : ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو کسی ظلم کے ساتھ نہیں ملایا “ اور بعض اوقات وہ دوسرے معانی کے لیے بھی ہوتی ہے، جن میں سے ایک معنی تعظیم بھی ہے، جس سے اس لفظ کا بڑا فرد مراد ہوتا ہے۔ جیسے اسی آیت میں ” بِظُلْمٍ “ کی تنوین کو تعظیم کے معنی میں لیا جائے تو مطلب ہوگا : ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو بہت بڑے ظلم کے ساتھ نہیں ملایا۔ “ عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری : (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ) [ الأنعام : ٨٢ ] تو صحابہ کرام (رض) پر اس آیت کا مضمون شاق گزرا۔ انھوں نے عرض کیا : ” ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے نفس پر ( کوئی) ظلم ( یعنی گناہ ) نہیں کیا ؟ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو تم سمجھ رہے ہو وہ بات نہیں، کیا تم نے لقمان کا قول نہیں سنا، جو وہ اپنے بیٹے سے کہہ رہے تھے : (ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) [ لقمان : ١٣ ] ” یقیناً شرک ظلم عظیم ہے۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب : ( اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ ) : ٤٦٢٩۔- مسلم : ١٢٤ ] آپ دیکھیں کہ صحابہ کرام (رض) اہل زبان ہونے کے باوجود ” بِظُلْم “ کی تنوین کو تنکیر کے لیے سمجھ کر پریشان ہوگئے کہ کون ہے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لقمان کا قول ذکر کر کے انھیں بتایا کہ یہ تنوین تعظیم کے لیے ہے، نہ کہ تنکیر کے لیے اور معنی یہ نہیں کہ کسی ظلم کے ساتھ نہیں ملایا، بلکہ معنی یہ ہے کہ بہت بڑے ظلم، یعنی شرک کے ساتھ نہیں ملایا۔ اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ قرآن سمجھنے کے لیے صرف عربی زبان جاننا کافی نہیں، کئی مقامات پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تفسیر بھی ضروری ہے، اس لیے قرآن کو حدیث کے بغیر سمجھنے کا دعویٰ کرنے والے واضح گمراہ ہیں۔ - اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ امن و سکون اور ہدایت ایسے خالص ایمان ہی سے حاصل ہوسکتے ہیں جس میں توحید کے ساتھ کسی قسم کے شرک کی آمیزش نہ کی گئی ہو، جو قوم خالص ایمان اور خالص توحید سے محروم اور کسی بھی قسم کے شرک میں مبتلا ہو اسے کسی صورت امن و چین اور ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ افسوس کہ مسلمانوں نے خالص توحید کو چھوڑا اور قبروں اور آستانوں کی پرستش شروع کردی (الا ما شاء اللہ) جس کے نتیجے میں پورا عالم اسلام ذلت و مسکنت کا نشانہ بن گیا۔ اب نہ کہیں امن ہے نہ ہدایت جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام کی حکمرانی کا نام ہے۔ اس کا علاج اس کے سوا کچھ نہیں کہ امت مسلمہ دوبارہ خالص توحید کی طرف پلٹے اور صرف اپنے رب کے آستانے پر جمی رہے۔

Al-An'aam 6:82Listen in Qur'an →
83

وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيْنَٰهَآ إِبْرَٰهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِۦ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے

وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ۔۔ : اس حجت سے مراد توحید کے وہ دلائل ہیں جو قوم کے مقابلے میں ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش کیے، یہ دلائل اللہ تعالیٰ نے قوم کے مقابلے میں ابراہیم (علیہ السلام) کو عطا فرمائے تھے۔ اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ یہ باتیں ان کے بچپن کے زمانے کی نہیں کہ آپ شرک سے درجہ بہ درجہ توحید کی طرف بڑھے ہوں، کیونکہ اللہ کا نبی اللہ تعالیٰ کی توحید سمجھنے میں کبھی غلطی نہیں کرتا۔ - نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ : یعنی چونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی جان کی پروا نہیں کی اور اپنے آپ کو توحید کی دعوت دینے کے لیے وقف کردیا، اس لیے ہم نے بھی ان پر بڑے بڑے احسانات فرمائے۔ دنیا ہی میں انھیں یہ انعام دیا کہ بڑھاپے میں انھیں نیک اولاد سے نوازا، ان کے بعد ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب اتارنے کا سلسلہ جاری کردیا اور اسی سلسلے کے آخری نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔

Al-An'aam 6:83Listen in Qur'an →
84

وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے۔ (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں

كُلًّا هَدَيْنَا ۚ: یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کی راہ پر لگایا اور نبوت عطا کی۔ دیکھیے سورة مریم (٤٩) ۔- وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ “ ْ ذُرِّيَّتِهٖ میں موجود ضمیر سے مراد نوح (علیہ السلام) بھی ہوسکتے ہیں، اس لیے کہ مذکور نبیوں میں سب سے قریب نوح (علیہ السلام) ہی ہیں، امام ابن جریر (رض) نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ یہ ضمیر ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے اور کلام کے سیاق کے پیش نظر اس کو ترجیح دی جاسکتی ہے، مگر اس کے تحت مذکور انبیاء میں سے لوط (علیہ السلام) کے ذکر سے اشکال پیدا ہوتا ہے کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے نہیں تھے، بلکہ ان کے بھتیجے تھے، مگر ہوسکتا ہے کہ بھتیجے کو بھی اولاد میں شمار کرلیا ہو، جیسا کہ سورة بقرہ (١٣٣) میں اسماعیل (علیہ السلام) کو یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے آباء میں ذکر کیا ہے۔ (ابن کثیر) - عیسیٰ (علیہ السلام) کو نوح (علیہ السلام) اور دوسرے قول کے مطابق ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے شمار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بیٹیوں کی اولاد بھی آدمی کی اولاد میں سے شمار ہوتی ہے، کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت صرف ماں کی طرف سے ہے، ان کا باپ نہیں تھا۔ (ابن کثیر)

Al-An'aam 6:84Listen in Qur'an →
85

وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّۭ مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی۔ یہ سب نیکوکار تھے

Explained together with ayah 84

Al-An'aam 6:85Listen in Qur'an →
86

وَإِسْمَٰعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًۭا ۚ وَكُلًّۭا فَضَّلْنَا عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضلیت بخشی تھی

وَكُلًّا فَضَّلْنَا : یعنی اپنے اپنے زمانے کے تمام لوگوں پر فضیلت بخشی۔

Al-An'aam 6:86Listen in Qur'an →
87

وَمِنْ ءَابَآئِهِمْ وَذُرِّيَّٰتِهِمْ وَإِخْوَٰنِهِمْ ۖ وَٱجْتَبَيْنَٰهُمْ وَهَدَيْنَٰهُمْ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور بعض بعض کو ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا اور سیدھا رستہ بھی دکھایا تھا

وَمِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ ۔۔ : یعنی ان کے باپ دادا اور پڑدادا اوپر تک اور ان کے بیٹوں، پوتوں، پر پوتوں نیچے تک اور ان کے بھائیوں میں سے جو بھی ایمان دار تھے انھیں بھی ہم نے ہدایت پر لگایا اور بزرگی دی۔ ( ابن کثیر)

Al-An'aam 6:87Listen in Qur'an →
88

ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهْدِى بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا۟ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے۔ اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے

وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ ۔۔ : اٹھارہ پیغمبروں کا نام لے کر، ان کے ساتھ ان کے آباء، اولاد اور اخوان کا ذکر کر کے فرمایا کہ اگر بفرض محال نبی یا اس کے قرابت دار بھی شرک کر بیٹھتے تو ان کا کیا کرایا سب ضائع ہوجاتا۔ کیونکہ شرک کے ساتھ کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی قبول نہیں، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا : ( لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ ) [ الزمر : ٦٥ ] ” اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کا بھی تمام عمل ضائع ہوجائے گا۔ “ پیغمبر سے شرک ہونا تو ممکن نہیں، یہ سب کچھ امتیوں کو سنایا جا رہا ہے۔

Al-An'aam 6:88Listen in Qur'an →
89

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ۚ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَٰٓؤُلَآءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًۭا لَّيْسُوا۟ بِهَا بِكَٰفِرِينَ

یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم (شریعت) اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کے لئے) ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں

فَاِنْ يَّكْفُرْ بِهَا هٰٓؤُلَاۗءِ ۔۔ : یعنی اگر یہ لوگ اس کتاب، حکم اور نبوت کو نہ مانیں ( اس سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو نہ ماننے والے کفار اور مشرکین ہیں) تو ہم نے ان (کتاب اور نبوت) کے لیے ایسے لوگ مقرر کیے ہیں ( اس سے مراد مہاجرین انصار اور قیامت تک آنے والے ایمان دار ہیں) جو ان نعمتوں کا انکار نہیں کرتے۔

Al-An'aam 6:89Listen in Qur'an →
90

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ ۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقْتَدِهْ ۗ قُل لَّآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَٰلَمِينَ

یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لئےمحض نصیحت ہے

فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِه : یعنی توحید اور عقائد میں ان کی راہ پر قائم رہیے، کیونکہ تمام انبیاء ان باتوں میں متفق ہیں، باقی احکام میں سے بھی جو منسوخ نہیں ہوئے ان کی بھی پیروی کیجیے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان انبیاء کی طرح آپ بھی دشمنوں کی ایذا رسانی پر صبر کیجیے۔ اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جن کاموں میں کوئی نیا حکم نہیں آیا ان میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہلے انبیاء کے طریق پر رہنے کا حکم تھا۔ مجاہد (رض) بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ بن عباس (رض) سے پوچھا : ” کیا سورة ص میں سجدہ ہے ؟ “ تو انھوں نے (وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ ۭ ) سے لے کر (فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ ) تک تلاوت کر کے فرمایا : ” ہاں، وہ (داؤد (علیہ السلام ) بھی ان لوگوں میں سے تھے جن کی پیروی کا آپ کو اس آیت میں حکم دیا گیا ہے اور اس آیت میں داؤد (علیہ السلام) کے سجدے کا ذکر ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان انبیاء کی پیروی کا حکم ہے۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : - ( أولئک الذین ہدی اللہ ۔۔ : ٤٦٣٢ ] - ۭاِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰي لِلْعٰلَمِيْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جن و انس دونوں کی طرف بھیجے گئے اور آپ کی رسالت قیامت تک کے لیے ہے۔

Al-An'aam 6:90Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.