وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ عَلَيْكُمْ سُلْطَٰنًۭا ۚ فَأَىُّ ٱلْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِٱلْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکرڈروں جب کہ تم اس سے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)
اور جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے! کیا ٹھہراتے ہو تم بتوں کو معبود؟ بلاشبہ میں دیکھتا ہوں تم کو اور تمھاری قوم کو گمراہی ظاہر میں (74) اور اسی طرح دکھاتے تھے ہم ابراہیم کو بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور تاکہ ہو جائے وہ یقین کرنے والوں سے(75) پس جب چھا گئی اس پر رات تو دیکھا اس نے ایک تارا، ابراہیم نے کہا، یہ میرا رب ہے، پس جب غروب ہوگیا وہ تو کہا ، نہیں محبت کرتا میں غروب ہونے والوں سے (76) پس جب دیکھا اس نے چاند چمکتا ہوا تو کہا،یہی میرارب ہے، پھر جب غروب ہو گیاوہ تو کہا، اگر نہ ہدایت دی مجھے میرے رب نے تو ہو جاؤں گا میں گمراہ قوم سے(77) پھر جب (ابراہیم نے) دیکھا سورج جگمگاتاہوا تو کہا، یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ غروب ہو گیا تو کہا اس نے، اے میری قوم! یقینا میں بیزار ہوں ان سے، جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو(78)تحقیق میں نے متوجہ کیا اپنا چہرہ اس کے لیے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، اللہ ہی کاپرستار ہو کر اور نہیں ہوں میں مشرکین سے(79)اور جھگڑا کیااس سے اس کی قوم نے تو کہا ابراہیم نے، کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے اللہ کے بارے میں حالانکہ اسی نے ہدایت دی مجھے؟ اور نہیں ڈرتا میں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو اس کا مگر یہ کہ چاہے میرا رب کچھ، گھیر لیا ہے میرے رب نے ہر چیز کو( اپنے) علم سے، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟(80) اور کیونکر ڈروں میں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو جبکہ تم نہیں ڈرتے اس بات سے کہ تم شریک ٹھہراتے ہو اللہ کا ان کو، جن کی نہیں نازل کی اس نے تم پر کوئی دلیل؟ پس کونسا دونوں فریقوں میں سے زیادہ حق دار ہے امن کا (بتاؤ) اگر ہو تم جانتے؟(81)جولوگ ایمان لائےاور نہیں خلط ملط کیا انھوں نے اپنے ایمان کو ساتھ ظلم(شرک)کے، یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے ہی امن ہےاور وہی ہدایت یافتہ ہیں (82)اور یہ ہے ہماری دلیل کہ دی تھی ہم نے یہ ابراہیم کو، مقابلے میں اس کی قوم کے، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہتے ہیں ، یقینا آپ کا رب ہے حکمت والاجاننے والے (83)
[74] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیمu کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے ﴿وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ لِاَبِيۡهِ اٰزَرَ اَتَتَّؔخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِهَةً ﴾ ’’جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے؟‘‘ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں ﴿اِنِّيۡۤ اَرٰىكَ وَقَوۡمَكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں ‘‘ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خالق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔
[75]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ جب ہم نے ابراہیمu کو توحید اور اس کی طرف دعوت کی توفیق عطا کی ﴿ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم دکھانے لگے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات‘‘ تاکہ وہ چشم بصیرت سے ان قطعی دلائل اور روشن براہین کو ملاحظہ کرلے جن پر زمین اور آسمان کی بادشاہی مشتمل ہے ﴿ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ وہ صاحب ایقان ہو‘‘ کیونکہ تمام مطالب میں دلائل کے قیام کے مطابق ایقان اور علم کامل حاصل ہوتا ہے۔
[76]﴿ فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ الَّيۡلُ ﴾ ’’جب رات نے ان کو ڈھانپ لیا۔‘‘ یعنی جب رات تاریک ہو گئی ﴿ رَاٰ كَوۡؔكَبًا ﴾ ’’اس نے ایک ستارہ دیکھا‘‘ شاید یہ ستارہ زیادہ روشن ستارہ ہو گا کیونکہ اس کے تذکرے کی تخصیص دلالت کرتی ہے کہ اس کی روشنی دوسروں سے زیادہ تھی۔ بنابریں بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے مراد زہرہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ﴿قَالَ هٰؔذَا رَبِّيۡ ﴾ ’’کہنے لگے یہ میرا رب ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے دلیل کی خاطر مدمقابل کے مقام …