Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 81–90 of 165

81

وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ عَلَيْكُمْ سُلْطَٰنًۭا ۚ فَأَىُّ ٱلْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِٱلْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکرڈروں جب کہ تم اس سے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)

اور جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے! کیا ٹھہراتے ہو تم بتوں کو معبود؟ بلاشبہ میں دیکھتا ہوں تم کو اور تمھاری قوم کو گمراہی ظاہر میں (74) اور اسی طرح دکھاتے تھے ہم ابراہیم کو بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور تاکہ ہو جائے وہ یقین کرنے والوں سے(75) پس جب چھا گئی اس پر رات تو دیکھا اس نے ایک تارا، ابراہیم نے کہا، یہ میرا رب ہے، پس جب غروب ہوگیا وہ تو کہا ، نہیں محبت کرتا میں غروب ہونے والوں سے (76) پس جب دیکھا اس نے چاند چمکتا ہوا تو کہا،یہی میرارب ہے، پھر جب غروب ہو گیاوہ تو کہا، اگر نہ ہدایت دی مجھے میرے رب نے تو ہو جاؤں گا میں گمراہ قوم سے(77) پھر جب (ابراہیم نے) دیکھا سورج جگمگاتاہوا تو کہا، یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ غروب ہو گیا تو کہا اس نے، اے میری قوم! یقینا میں بیزار ہوں ان سے، جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو(78)تحقیق میں نے متوجہ کیا اپنا چہرہ اس کے لیے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، اللہ ہی کاپرستار ہو کر اور نہیں ہوں میں مشرکین سے(79)اور جھگڑا کیااس سے اس کی قوم نے تو کہا ابراہیم نے، کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے اللہ کے بارے میں حالانکہ اسی نے ہدایت دی مجھے؟ اور نہیں ڈرتا میں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو اس کا مگر یہ کہ چاہے میرا رب کچھ، گھیر لیا ہے میرے رب نے ہر چیز کو( اپنے) علم سے، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟(80) اور کیونکر ڈروں میں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو جبکہ تم نہیں ڈرتے اس بات سے کہ تم شریک ٹھہراتے ہو اللہ کا ان کو، جن کی نہیں نازل کی اس نے تم پر کوئی دلیل؟ پس کونسا دونوں فریقوں میں سے زیادہ حق دار ہے امن کا (بتاؤ) اگر ہو تم جانتے؟(81)جولوگ ایمان لائےاور نہیں خلط ملط کیا انھوں نے اپنے ایمان کو ساتھ ظلم(شرک)کے، یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے ہی امن ہےاور وہی ہدایت یافتہ ہیں (82)اور یہ ہے ہماری دلیل کہ دی تھی ہم نے یہ ابراہیم کو، مقابلے میں اس کی قوم کے، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہتے ہیں ، یقینا آپ کا رب ہے حکمت والاجاننے والے (83)

[74] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیمu کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے ﴿وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ لِاَبِيۡهِ اٰزَرَ اَتَتَّؔخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِهَةً ﴾ ’’جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے؟‘‘ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں ﴿اِنِّيۡۤ اَرٰىكَ وَقَوۡمَكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں ‘‘ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خالق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔

[75]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ جب ہم نے ابراہیمu کو توحید اور اس کی طرف دعوت کی توفیق عطا کی ﴿ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم دکھانے لگے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات‘‘ تاکہ وہ چشم بصیرت سے ان قطعی دلائل اور روشن براہین کو ملاحظہ کرلے جن پر زمین اور آسمان کی بادشاہی مشتمل ہے ﴿ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ وہ صاحب ایقان ہو‘‘ کیونکہ تمام مطالب میں دلائل کے قیام کے مطابق ایقان اور علم کامل حاصل ہوتا ہے۔

[76]﴿ فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ الَّيۡلُ ﴾ ’’جب رات نے ان کو ڈھانپ لیا۔‘‘ یعنی جب رات تاریک ہو گئی ﴿ رَاٰ كَوۡؔكَبًا ﴾ ’’اس نے ایک ستارہ دیکھا‘‘ شاید یہ ستارہ زیادہ روشن ستارہ ہو گا کیونکہ اس کے تذکرے کی تخصیص دلالت کرتی ہے کہ اس کی روشنی دوسروں سے زیادہ تھی۔ بنابریں بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے مراد زہرہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ﴿قَالَ هٰؔذَا رَبِّيۡ ﴾ ’’کہنے لگے یہ میرا رب ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے دلیل کی خاطر مدمقابل کے مقام …

Al-An'aam 6:81Listen in Qur'an →
82

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَمْ يَلْبِسُوٓا۟ إِيمَٰنَهُم بِظُلْمٍ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے امن (اور جمعیت خاطر) ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں

اور جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے! کیا ٹھہراتے ہو تم بتوں کو معبود؟ بلاشبہ میں دیکھتا ہوں تم کو اور تمھاری قوم کو گمراہی ظاہر میں (74) اور اسی طرح دکھاتے تھے ہم ابراہیم کو بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور تاکہ ہو جائے وہ یقین کرنے والوں سے(75) پس جب چھا گئی اس پر رات تو دیکھا اس نے ایک تارا، ابراہیم نے کہا، یہ میرا رب ہے، پس جب غروب ہوگیا وہ تو کہا ، نہیں محبت کرتا میں غروب ہونے والوں سے (76) پس جب دیکھا اس نے چاند چمکتا ہوا تو کہا،یہی میرارب ہے، پھر جب غروب ہو گیاوہ تو کہا، اگر نہ ہدایت دی مجھے میرے رب نے تو ہو جاؤں گا میں گمراہ قوم سے(77) پھر جب (ابراہیم نے) دیکھا سورج جگمگاتاہوا تو کہا، یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ غروب ہو گیا تو کہا اس نے، اے میری قوم! یقینا میں بیزار ہوں ان سے، جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو(78)تحقیق میں نے متوجہ کیا اپنا چہرہ اس کے لیے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، اللہ ہی کاپرستار ہو کر اور نہیں ہوں میں مشرکین سے(79)اور جھگڑا کیااس سے اس کی قوم نے تو کہا ابراہیم نے، کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے اللہ کے بارے میں حالانکہ اسی نے ہدایت دی مجھے؟ اور نہیں ڈرتا میں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو اس کا مگر یہ کہ چاہے میرا رب کچھ، گھیر لیا ہے میرے رب نے ہر چیز کو( اپنے) علم سے، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟(80) اور کیونکر ڈروں میں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو جبکہ تم نہیں ڈرتے اس بات سے کہ تم شریک ٹھہراتے ہو اللہ کا ان کو، جن کی نہیں نازل کی اس نے تم پر کوئی دلیل؟ پس کونسا دونوں فریقوں میں سے زیادہ حق دار ہے امن کا (بتاؤ) اگر ہو تم جانتے؟(81)جولوگ ایمان لائےاور نہیں خلط ملط کیا انھوں نے اپنے ایمان کو ساتھ ظلم(شرک)کے، یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے ہی امن ہےاور وہی ہدایت یافتہ ہیں (82)اور یہ ہے ہماری دلیل کہ دی تھی ہم نے یہ ابراہیم کو، مقابلے میں اس کی قوم کے، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہتے ہیں ، یقینا آپ کا رب ہے حکمت والاجاننے والے (83)

[74] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیمu کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے ﴿وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ لِاَبِيۡهِ اٰزَرَ اَتَتَّؔخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِهَةً ﴾ ’’جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے؟‘‘ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں ﴿اِنِّيۡۤ اَرٰىكَ وَقَوۡمَكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں ‘‘ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خالق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔

[75]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ جب ہم نے ابراہیمu کو توحید اور اس کی طرف دعوت کی توفیق عطا کی ﴿ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم دکھانے لگے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات‘‘ تاکہ وہ چشم بصیرت سے ان قطعی دلائل اور روشن براہین کو ملاحظہ کرلے جن پر زمین اور آسمان کی بادشاہی مشتمل ہے ﴿ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ وہ صاحب ایقان ہو‘‘ کیونکہ تمام مطالب میں دلائل کے قیام کے مطابق ایقان اور علم کامل حاصل ہوتا ہے۔

[76]﴿ فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ الَّيۡلُ ﴾ ’’جب رات نے ان کو ڈھانپ لیا۔‘‘ یعنی جب رات تاریک ہو گئی ﴿ رَاٰ كَوۡؔكَبًا ﴾ ’’اس نے ایک ستارہ دیکھا‘‘ شاید یہ ستارہ زیادہ روشن ستارہ ہو گا کیونکہ اس کے تذکرے کی تخصیص دلالت کرتی ہے کہ اس کی روشنی دوسروں سے زیادہ تھی۔ بنابریں بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے مراد زہرہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ﴿قَالَ هٰؔذَا رَبِّيۡ ﴾ ’’کہنے لگے یہ میرا رب ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے دلیل کی خاطر مدمقابل کے مقام …

Al-An'aam 6:82Listen in Qur'an →
83

وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيْنَٰهَآ إِبْرَٰهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِۦ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے

اور جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے! کیا ٹھہراتے ہو تم بتوں کو معبود؟ بلاشبہ میں دیکھتا ہوں تم کو اور تمھاری قوم کو گمراہی ظاہر میں (74) اور اسی طرح دکھاتے تھے ہم ابراہیم کو بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور تاکہ ہو جائے وہ یقین کرنے والوں سے(75) پس جب چھا گئی اس پر رات تو دیکھا اس نے ایک تارا، ابراہیم نے کہا، یہ میرا رب ہے، پس جب غروب ہوگیا وہ تو کہا ، نہیں محبت کرتا میں غروب ہونے والوں سے (76) پس جب دیکھا اس نے چاند چمکتا ہوا تو کہا،یہی میرارب ہے، پھر جب غروب ہو گیاوہ تو کہا، اگر نہ ہدایت دی مجھے میرے رب نے تو ہو جاؤں گا میں گمراہ قوم سے(77) پھر جب (ابراہیم نے) دیکھا سورج جگمگاتاہوا تو کہا، یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ غروب ہو گیا تو کہا اس نے، اے میری قوم! یقینا میں بیزار ہوں ان سے، جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو(78)تحقیق میں نے متوجہ کیا اپنا چہرہ اس کے لیے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، اللہ ہی کاپرستار ہو کر اور نہیں ہوں میں مشرکین سے(79)اور جھگڑا کیااس سے اس کی قوم نے تو کہا ابراہیم نے، کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے اللہ کے بارے میں حالانکہ اسی نے ہدایت دی مجھے؟ اور نہیں ڈرتا میں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو اس کا مگر یہ کہ چاہے میرا رب کچھ، گھیر لیا ہے میرے رب نے ہر چیز کو( اپنے) علم سے، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟(80) اور کیونکر ڈروں میں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو جبکہ تم نہیں ڈرتے اس بات سے کہ تم شریک ٹھہراتے ہو اللہ کا ان کو، جن کی نہیں نازل کی اس نے تم پر کوئی دلیل؟ پس کونسا دونوں فریقوں میں سے زیادہ حق دار ہے امن کا (بتاؤ) اگر ہو تم جانتے؟(81)جولوگ ایمان لائےاور نہیں خلط ملط کیا انھوں نے اپنے ایمان کو ساتھ ظلم(شرک)کے، یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے ہی امن ہےاور وہی ہدایت یافتہ ہیں (82)اور یہ ہے ہماری دلیل کہ دی تھی ہم نے یہ ابراہیم کو، مقابلے میں اس کی قوم کے، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہتے ہیں ، یقینا آپ کا رب ہے حکمت والاجاننے والے (83)

[74] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیمu کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے ﴿وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ لِاَبِيۡهِ اٰزَرَ اَتَتَّؔخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِهَةً ﴾ ’’جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے؟‘‘ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں ﴿اِنِّيۡۤ اَرٰىكَ وَقَوۡمَكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں ‘‘ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خالق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔

[75]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ جب ہم نے ابراہیمu کو توحید اور اس کی طرف دعوت کی توفیق عطا کی ﴿ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم دکھانے لگے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات‘‘ تاکہ وہ چشم بصیرت سے ان قطعی دلائل اور روشن براہین کو ملاحظہ کرلے جن پر زمین اور آسمان کی بادشاہی مشتمل ہے ﴿ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ وہ صاحب ایقان ہو‘‘ کیونکہ تمام مطالب میں دلائل کے قیام کے مطابق ایقان اور علم کامل حاصل ہوتا ہے۔

[76]﴿ فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ الَّيۡلُ ﴾ ’’جب رات نے ان کو ڈھانپ لیا۔‘‘ یعنی جب رات تاریک ہو گئی ﴿ رَاٰ كَوۡؔكَبًا ﴾ ’’اس نے ایک ستارہ دیکھا‘‘ شاید یہ ستارہ زیادہ روشن ستارہ ہو گا کیونکہ اس کے تذکرے کی تخصیص دلالت کرتی ہے کہ اس کی روشنی دوسروں سے زیادہ تھی۔ بنابریں بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے مراد زہرہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ﴿قَالَ هٰؔذَا رَبِّيۡ ﴾ ’’کہنے لگے یہ میرا رب ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے دلیل کی خاطر مدمقابل کے مقام …

Al-An'aam 6:83Listen in Qur'an →
84

وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے۔ (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں

اور عطا کیے ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب، سب کو ہدایت دی ہم نےاور نوح کو ہدایت دی ہم نے پہلے اس سے،اور اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کواور اسی طرح جزاء دیتے ہیں ہم احسان کرنے والوں کو(84)اور (ہدایت دی) زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو، سب صالحین میں سے تھے (85)اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو (بھی)اور (ان) سب کو فضیلت دی ہم نے اوپر جہانوں کے(86)اور کچھ کو ان کے آباؤ اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے او ر چن لیا ہم نے انھیں اور ہدایت دی ہم نے انھیں طرف صراط مستقیم کی(87) یہ ہے ہدایت اللہ کی، ہدایت دیتا ہے اس کی جسے چاہتا ہے وہ اپنے بندوں میں سے،اور اگر شرک کرتے وہ لوگ توبرباد ہوجاتے ان سے جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(88) یہ وہ لوگ ہیں کہ دی ہم نے انھیں کتاب اور حکم اور نبوت، پس اگر کفر کریں ساتھ ان(باتوں ) کے یہ لوگ تو تحقیق مقرر کر دی ہم نے ان باتوں کے لیے ایسی قوم کہ نہیں ہے وہ ان کا انکار کرنے والی(89)یہ لوگ ہیں جنھیں ہدایت دی اللہ نے، سو ان کے طریقے کی اقتداء کریں آپ کہہ دیجیے! نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے یہ مگر نصیحت جہانوں کے لیے(90)

[84]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے اسحاق اور یعقوب‘‘ یعقوب یعنی اسحاقu کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔ ﴿ كُلًّا ﴾ ’’سب کو‘‘ یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک کو ﴿ هَدَيۡنَا ﴾ ’’ہم نے ہدایت دی۔‘‘ یعنی علم و عمل میں راہ راست دکھائی ﴿وَنُوۡحًا هَدَيۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اس سے قبل ہم نے نوح کو ہدایت سے نوازا‘‘ یہ ہدایت اعلیٰ ترین انواع میں سے تھی جو دنیا کے صرف معدودے چند افراد کو حاصل ہوئی ہے اور وہ اولو العزم رسول تھے۔ نوحu ان میں سے ایک تھے۔ ﴿ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهٖ﴾ ’’اور ان کی نسل میں سے‘‘ اس میں احتمال ہے کہ ضمیر نوح (u) کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ یہ قریب ترین مرجع ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساتھ ہی حضرت لوط کا ذکر کیا جو کہ نوح کی ذریت سے ہیں ، حضرت ابراہیم کی ذریت سے نہیں کیونکہ حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے بھتیجے تھے۔۔۔ نیز اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ضمیر حضرت ابراہیمu کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ سیاق کلام ابراہیمu کی مدح و ثنا میں ہے اور لوطu اگرچہ حضرت ابراہیمu کی ذریت میں سے نہیں ہیں تاہم یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جناب خلیلu کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے۔ حضرت لوط کا حضرت ابراہیم پر ایمان لانا مجرد ان کا بیٹا ہونے سے زیادہ ان کے لیے منقبت اور فضیلت کا حامل ہے۔ ﴿ دَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’داود اور سلیمان‘‘ یعنی سلیمان بن داؤدi ﴿ وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡسُفَ ﴾ ’’ایوب اور یوسف‘‘ یعنی ایوب اور یوسف بن یعقوب علیہ السلام ﴿وَمُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’موسیٰ اور ہارون‘‘ یعنی عمران کے بیٹے ﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ یعنی جس طرح ہم نے ابراہیم خلیل اللہu کی ذریت کو صالح بنایا کیونکہ ابراہیمu نے اپنے رب کی بندگی کو بہترین طریقے سے ادا کیا اور اللہ کی مخلوق کو بہترین طریقے سے فائدہ پہنچایا ﴿ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم بدلہ دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو‘‘ نیکوکار لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ہم انھیں ان کی نیکیوں کے مطابق سچی مدح و ثنا اور صالح اولاد سے نوازتے ہیں ۔

[85]﴿ وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيٰى ﴾ ’’زکریا اور یحییٰ‘‘ یعنی یحییٰ حضرت زکریا کے فرزند ﴿ وَعِيۡسٰؔى ﴾ یعنی عیسیٰ بن مریمi ﴿ وَاِلۡيَاسَ١ؕ كُلٌّ ﴾ ’’اور الیاس کو بھی یہ سب‘‘ یعنی یہ تمام لوگ ﴿ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیکوکار تھے۔‘‘ یعنی اپنے اخلاق، اعمال اور علوم میں صالح لوگ تھے بلکہ صلحا کے سردار، قائد اور ان کے امام تھے۔

[86]﴿ وَاِسۡمٰعِيۡلَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیمu کے بیٹے جو نسل انسانی کے …

Al-An'aam 6:84Listen in Qur'an →
85

وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّۭ مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی۔ یہ سب نیکوکار تھے

اور عطا کیے ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب، سب کو ہدایت دی ہم نےاور نوح کو ہدایت دی ہم نے پہلے اس سے،اور اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کواور اسی طرح جزاء دیتے ہیں ہم احسان کرنے والوں کو(84)اور (ہدایت دی) زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو، سب صالحین میں سے تھے (85)اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو (بھی)اور (ان) سب کو فضیلت دی ہم نے اوپر جہانوں کے(86)اور کچھ کو ان کے آباؤ اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے او ر چن لیا ہم نے انھیں اور ہدایت دی ہم نے انھیں طرف صراط مستقیم کی(87) یہ ہے ہدایت اللہ کی، ہدایت دیتا ہے اس کی جسے چاہتا ہے وہ اپنے بندوں میں سے،اور اگر شرک کرتے وہ لوگ توبرباد ہوجاتے ان سے جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(88) یہ وہ لوگ ہیں کہ دی ہم نے انھیں کتاب اور حکم اور نبوت، پس اگر کفر کریں ساتھ ان(باتوں ) کے یہ لوگ تو تحقیق مقرر کر دی ہم نے ان باتوں کے لیے ایسی قوم کہ نہیں ہے وہ ان کا انکار کرنے والی(89)یہ لوگ ہیں جنھیں ہدایت دی اللہ نے، سو ان کے طریقے کی اقتداء کریں آپ کہہ دیجیے! نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے یہ مگر نصیحت جہانوں کے لیے(90)

[84]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے اسحاق اور یعقوب‘‘ یعقوب یعنی اسحاقu کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔ ﴿ كُلًّا ﴾ ’’سب کو‘‘ یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک کو ﴿ هَدَيۡنَا ﴾ ’’ہم نے ہدایت دی۔‘‘ یعنی علم و عمل میں راہ راست دکھائی ﴿وَنُوۡحًا هَدَيۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اس سے قبل ہم نے نوح کو ہدایت سے نوازا‘‘ یہ ہدایت اعلیٰ ترین انواع میں سے تھی جو دنیا کے صرف معدودے چند افراد کو حاصل ہوئی ہے اور وہ اولو العزم رسول تھے۔ نوحu ان میں سے ایک تھے۔ ﴿ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهٖ﴾ ’’اور ان کی نسل میں سے‘‘ اس میں احتمال ہے کہ ضمیر نوح (u) کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ یہ قریب ترین مرجع ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساتھ ہی حضرت لوط کا ذکر کیا جو کہ نوح کی ذریت سے ہیں ، حضرت ابراہیم کی ذریت سے نہیں کیونکہ حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے بھتیجے تھے۔۔۔ نیز اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ضمیر حضرت ابراہیمu کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ سیاق کلام ابراہیمu کی مدح و ثنا میں ہے اور لوطu اگرچہ حضرت ابراہیمu کی ذریت میں سے نہیں ہیں تاہم یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جناب خلیلu کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے۔ حضرت لوط کا حضرت ابراہیم پر ایمان لانا مجرد ان کا بیٹا ہونے سے زیادہ ان کے لیے منقبت اور فضیلت کا حامل ہے۔ ﴿ دَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’داود اور سلیمان‘‘ یعنی سلیمان بن داؤدi ﴿ وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡسُفَ ﴾ ’’ایوب اور یوسف‘‘ یعنی ایوب اور یوسف بن یعقوب علیہ السلام ﴿وَمُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’موسیٰ اور ہارون‘‘ یعنی عمران کے بیٹے ﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ یعنی جس طرح ہم نے ابراہیم خلیل اللہu کی ذریت کو صالح بنایا کیونکہ ابراہیمu نے اپنے رب کی بندگی کو بہترین طریقے سے ادا کیا اور اللہ کی مخلوق کو بہترین طریقے سے فائدہ پہنچایا ﴿ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم بدلہ دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو‘‘ نیکوکار لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ہم انھیں ان کی نیکیوں کے مطابق سچی مدح و ثنا اور صالح اولاد سے نوازتے ہیں ۔

[85]﴿ وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيٰى ﴾ ’’زکریا اور یحییٰ‘‘ یعنی یحییٰ حضرت زکریا کے فرزند ﴿ وَعِيۡسٰؔى ﴾ یعنی عیسیٰ بن مریمi ﴿ وَاِلۡيَاسَ١ؕ كُلٌّ ﴾ ’’اور الیاس کو بھی یہ سب‘‘ یعنی یہ تمام لوگ ﴿ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیکوکار تھے۔‘‘ یعنی اپنے اخلاق، اعمال اور علوم میں صالح لوگ تھے بلکہ صلحا کے سردار، قائد اور ان کے امام تھے۔

[86]﴿ وَاِسۡمٰعِيۡلَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیمu کے بیٹے جو نسل انسانی کے …

Al-An'aam 6:85Listen in Qur'an →
86

وَإِسْمَٰعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًۭا ۚ وَكُلًّۭا فَضَّلْنَا عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضلیت بخشی تھی

اور عطا کیے ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب، سب کو ہدایت دی ہم نےاور نوح کو ہدایت دی ہم نے پہلے اس سے،اور اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کواور اسی طرح جزاء دیتے ہیں ہم احسان کرنے والوں کو(84)اور (ہدایت دی) زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو، سب صالحین میں سے تھے (85)اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو (بھی)اور (ان) سب کو فضیلت دی ہم نے اوپر جہانوں کے(86)اور کچھ کو ان کے آباؤ اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے او ر چن لیا ہم نے انھیں اور ہدایت دی ہم نے انھیں طرف صراط مستقیم کی(87) یہ ہے ہدایت اللہ کی، ہدایت دیتا ہے اس کی جسے چاہتا ہے وہ اپنے بندوں میں سے،اور اگر شرک کرتے وہ لوگ توبرباد ہوجاتے ان سے جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(88) یہ وہ لوگ ہیں کہ دی ہم نے انھیں کتاب اور حکم اور نبوت، پس اگر کفر کریں ساتھ ان(باتوں ) کے یہ لوگ تو تحقیق مقرر کر دی ہم نے ان باتوں کے لیے ایسی قوم کہ نہیں ہے وہ ان کا انکار کرنے والی(89)یہ لوگ ہیں جنھیں ہدایت دی اللہ نے، سو ان کے طریقے کی اقتداء کریں آپ کہہ دیجیے! نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے یہ مگر نصیحت جہانوں کے لیے(90)

[84]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے اسحاق اور یعقوب‘‘ یعقوب یعنی اسحاقu کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔ ﴿ كُلًّا ﴾ ’’سب کو‘‘ یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک کو ﴿ هَدَيۡنَا ﴾ ’’ہم نے ہدایت دی۔‘‘ یعنی علم و عمل میں راہ راست دکھائی ﴿وَنُوۡحًا هَدَيۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اس سے قبل ہم نے نوح کو ہدایت سے نوازا‘‘ یہ ہدایت اعلیٰ ترین انواع میں سے تھی جو دنیا کے صرف معدودے چند افراد کو حاصل ہوئی ہے اور وہ اولو العزم رسول تھے۔ نوحu ان میں سے ایک تھے۔ ﴿ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهٖ﴾ ’’اور ان کی نسل میں سے‘‘ اس میں احتمال ہے کہ ضمیر نوح (u) کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ یہ قریب ترین مرجع ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساتھ ہی حضرت لوط کا ذکر کیا جو کہ نوح کی ذریت سے ہیں ، حضرت ابراہیم کی ذریت سے نہیں کیونکہ حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے بھتیجے تھے۔۔۔ نیز اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ضمیر حضرت ابراہیمu کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ سیاق کلام ابراہیمu کی مدح و ثنا میں ہے اور لوطu اگرچہ حضرت ابراہیمu کی ذریت میں سے نہیں ہیں تاہم یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جناب خلیلu کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے۔ حضرت لوط کا حضرت ابراہیم پر ایمان لانا مجرد ان کا بیٹا ہونے سے زیادہ ان کے لیے منقبت اور فضیلت کا حامل ہے۔ ﴿ دَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’داود اور سلیمان‘‘ یعنی سلیمان بن داؤدi ﴿ وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡسُفَ ﴾ ’’ایوب اور یوسف‘‘ یعنی ایوب اور یوسف بن یعقوب علیہ السلام ﴿وَمُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’موسیٰ اور ہارون‘‘ یعنی عمران کے بیٹے ﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ یعنی جس طرح ہم نے ابراہیم خلیل اللہu کی ذریت کو صالح بنایا کیونکہ ابراہیمu نے اپنے رب کی بندگی کو بہترین طریقے سے ادا کیا اور اللہ کی مخلوق کو بہترین طریقے سے فائدہ پہنچایا ﴿ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم بدلہ دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو‘‘ نیکوکار لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ہم انھیں ان کی نیکیوں کے مطابق سچی مدح و ثنا اور صالح اولاد سے نوازتے ہیں ۔

[85]﴿ وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيٰى ﴾ ’’زکریا اور یحییٰ‘‘ یعنی یحییٰ حضرت زکریا کے فرزند ﴿ وَعِيۡسٰؔى ﴾ یعنی عیسیٰ بن مریمi ﴿ وَاِلۡيَاسَ١ؕ كُلٌّ ﴾ ’’اور الیاس کو بھی یہ سب‘‘ یعنی یہ تمام لوگ ﴿ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیکوکار تھے۔‘‘ یعنی اپنے اخلاق، اعمال اور علوم میں صالح لوگ تھے بلکہ صلحا کے سردار، قائد اور ان کے امام تھے۔

[86]﴿ وَاِسۡمٰعِيۡلَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیمu کے بیٹے جو نسل انسانی کے …

Al-An'aam 6:86Listen in Qur'an →
87

وَمِنْ ءَابَآئِهِمْ وَذُرِّيَّٰتِهِمْ وَإِخْوَٰنِهِمْ ۖ وَٱجْتَبَيْنَٰهُمْ وَهَدَيْنَٰهُمْ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور بعض بعض کو ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا اور سیدھا رستہ بھی دکھایا تھا

اور عطا کیے ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب، سب کو ہدایت دی ہم نےاور نوح کو ہدایت دی ہم نے پہلے اس سے،اور اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کواور اسی طرح جزاء دیتے ہیں ہم احسان کرنے والوں کو(84)اور (ہدایت دی) زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو، سب صالحین میں سے تھے (85)اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو (بھی)اور (ان) سب کو فضیلت دی ہم نے اوپر جہانوں کے(86)اور کچھ کو ان کے آباؤ اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے او ر چن لیا ہم نے انھیں اور ہدایت دی ہم نے انھیں طرف صراط مستقیم کی(87) یہ ہے ہدایت اللہ کی، ہدایت دیتا ہے اس کی جسے چاہتا ہے وہ اپنے بندوں میں سے،اور اگر شرک کرتے وہ لوگ توبرباد ہوجاتے ان سے جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(88) یہ وہ لوگ ہیں کہ دی ہم نے انھیں کتاب اور حکم اور نبوت، پس اگر کفر کریں ساتھ ان(باتوں ) کے یہ لوگ تو تحقیق مقرر کر دی ہم نے ان باتوں کے لیے ایسی قوم کہ نہیں ہے وہ ان کا انکار کرنے والی(89)یہ لوگ ہیں جنھیں ہدایت دی اللہ نے، سو ان کے طریقے کی اقتداء کریں آپ کہہ دیجیے! نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے یہ مگر نصیحت جہانوں کے لیے(90)

[84]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے اسحاق اور یعقوب‘‘ یعقوب یعنی اسحاقu کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔ ﴿ كُلًّا ﴾ ’’سب کو‘‘ یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک کو ﴿ هَدَيۡنَا ﴾ ’’ہم نے ہدایت دی۔‘‘ یعنی علم و عمل میں راہ راست دکھائی ﴿وَنُوۡحًا هَدَيۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اس سے قبل ہم نے نوح کو ہدایت سے نوازا‘‘ یہ ہدایت اعلیٰ ترین انواع میں سے تھی جو دنیا کے صرف معدودے چند افراد کو حاصل ہوئی ہے اور وہ اولو العزم رسول تھے۔ نوحu ان میں سے ایک تھے۔ ﴿ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهٖ﴾ ’’اور ان کی نسل میں سے‘‘ اس میں احتمال ہے کہ ضمیر نوح (u) کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ یہ قریب ترین مرجع ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساتھ ہی حضرت لوط کا ذکر کیا جو کہ نوح کی ذریت سے ہیں ، حضرت ابراہیم کی ذریت سے نہیں کیونکہ حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے بھتیجے تھے۔۔۔ نیز اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ضمیر حضرت ابراہیمu کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ سیاق کلام ابراہیمu کی مدح و ثنا میں ہے اور لوطu اگرچہ حضرت ابراہیمu کی ذریت میں سے نہیں ہیں تاہم یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جناب خلیلu کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے۔ حضرت لوط کا حضرت ابراہیم پر ایمان لانا مجرد ان کا بیٹا ہونے سے زیادہ ان کے لیے منقبت اور فضیلت کا حامل ہے۔ ﴿ دَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’داود اور سلیمان‘‘ یعنی سلیمان بن داؤدi ﴿ وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡسُفَ ﴾ ’’ایوب اور یوسف‘‘ یعنی ایوب اور یوسف بن یعقوب علیہ السلام ﴿وَمُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’موسیٰ اور ہارون‘‘ یعنی عمران کے بیٹے ﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ یعنی جس طرح ہم نے ابراہیم خلیل اللہu کی ذریت کو صالح بنایا کیونکہ ابراہیمu نے اپنے رب کی بندگی کو بہترین طریقے سے ادا کیا اور اللہ کی مخلوق کو بہترین طریقے سے فائدہ پہنچایا ﴿ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم بدلہ دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو‘‘ نیکوکار لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ہم انھیں ان کی نیکیوں کے مطابق سچی مدح و ثنا اور صالح اولاد سے نوازتے ہیں ۔

[85]﴿ وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيٰى ﴾ ’’زکریا اور یحییٰ‘‘ یعنی یحییٰ حضرت زکریا کے فرزند ﴿ وَعِيۡسٰؔى ﴾ یعنی عیسیٰ بن مریمi ﴿ وَاِلۡيَاسَ١ؕ كُلٌّ ﴾ ’’اور الیاس کو بھی یہ سب‘‘ یعنی یہ تمام لوگ ﴿ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیکوکار تھے۔‘‘ یعنی اپنے اخلاق، اعمال اور علوم میں صالح لوگ تھے بلکہ صلحا کے سردار، قائد اور ان کے امام تھے۔

[86]﴿ وَاِسۡمٰعِيۡلَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیمu کے بیٹے جو نسل انسانی کے …

Al-An'aam 6:87Listen in Qur'an →
88

ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهْدِى بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا۟ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے۔ اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے

اور عطا کیے ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب، سب کو ہدایت دی ہم نےاور نوح کو ہدایت دی ہم نے پہلے اس سے،اور اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کواور اسی طرح جزاء دیتے ہیں ہم احسان کرنے والوں کو(84)اور (ہدایت دی) زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو، سب صالحین میں سے تھے (85)اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو (بھی)اور (ان) سب کو فضیلت دی ہم نے اوپر جہانوں کے(86)اور کچھ کو ان کے آباؤ اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے او ر چن لیا ہم نے انھیں اور ہدایت دی ہم نے انھیں طرف صراط مستقیم کی(87) یہ ہے ہدایت اللہ کی، ہدایت دیتا ہے اس کی جسے چاہتا ہے وہ اپنے بندوں میں سے،اور اگر شرک کرتے وہ لوگ توبرباد ہوجاتے ان سے جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(88) یہ وہ لوگ ہیں کہ دی ہم نے انھیں کتاب اور حکم اور نبوت، پس اگر کفر کریں ساتھ ان(باتوں ) کے یہ لوگ تو تحقیق مقرر کر دی ہم نے ان باتوں کے لیے ایسی قوم کہ نہیں ہے وہ ان کا انکار کرنے والی(89)یہ لوگ ہیں جنھیں ہدایت دی اللہ نے، سو ان کے طریقے کی اقتداء کریں آپ کہہ دیجیے! نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے یہ مگر نصیحت جہانوں کے لیے(90)

[84]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے اسحاق اور یعقوب‘‘ یعقوب یعنی اسحاقu کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔ ﴿ كُلًّا ﴾ ’’سب کو‘‘ یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک کو ﴿ هَدَيۡنَا ﴾ ’’ہم نے ہدایت دی۔‘‘ یعنی علم و عمل میں راہ راست دکھائی ﴿وَنُوۡحًا هَدَيۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اس سے قبل ہم نے نوح کو ہدایت سے نوازا‘‘ یہ ہدایت اعلیٰ ترین انواع میں سے تھی جو دنیا کے صرف معدودے چند افراد کو حاصل ہوئی ہے اور وہ اولو العزم رسول تھے۔ نوحu ان میں سے ایک تھے۔ ﴿ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهٖ﴾ ’’اور ان کی نسل میں سے‘‘ اس میں احتمال ہے کہ ضمیر نوح (u) کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ یہ قریب ترین مرجع ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساتھ ہی حضرت لوط کا ذکر کیا جو کہ نوح کی ذریت سے ہیں ، حضرت ابراہیم کی ذریت سے نہیں کیونکہ حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے بھتیجے تھے۔۔۔ نیز اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ضمیر حضرت ابراہیمu کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ سیاق کلام ابراہیمu کی مدح و ثنا میں ہے اور لوطu اگرچہ حضرت ابراہیمu کی ذریت میں سے نہیں ہیں تاہم یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جناب خلیلu کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے۔ حضرت لوط کا حضرت ابراہیم پر ایمان لانا مجرد ان کا بیٹا ہونے سے زیادہ ان کے لیے منقبت اور فضیلت کا حامل ہے۔ ﴿ دَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’داود اور سلیمان‘‘ یعنی سلیمان بن داؤدi ﴿ وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡسُفَ ﴾ ’’ایوب اور یوسف‘‘ یعنی ایوب اور یوسف بن یعقوب علیہ السلام ﴿وَمُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’موسیٰ اور ہارون‘‘ یعنی عمران کے بیٹے ﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ یعنی جس طرح ہم نے ابراہیم خلیل اللہu کی ذریت کو صالح بنایا کیونکہ ابراہیمu نے اپنے رب کی بندگی کو بہترین طریقے سے ادا کیا اور اللہ کی مخلوق کو بہترین طریقے سے فائدہ پہنچایا ﴿ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم بدلہ دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو‘‘ نیکوکار لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ہم انھیں ان کی نیکیوں کے مطابق سچی مدح و ثنا اور صالح اولاد سے نوازتے ہیں ۔

[85]﴿ وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيٰى ﴾ ’’زکریا اور یحییٰ‘‘ یعنی یحییٰ حضرت زکریا کے فرزند ﴿ وَعِيۡسٰؔى ﴾ یعنی عیسیٰ بن مریمi ﴿ وَاِلۡيَاسَ١ؕ كُلٌّ ﴾ ’’اور الیاس کو بھی یہ سب‘‘ یعنی یہ تمام لوگ ﴿ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیکوکار تھے۔‘‘ یعنی اپنے اخلاق، اعمال اور علوم میں صالح لوگ تھے بلکہ صلحا کے سردار، قائد اور ان کے امام تھے۔

[86]﴿ وَاِسۡمٰعِيۡلَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیمu کے بیٹے جو نسل انسانی کے …

Al-An'aam 6:88Listen in Qur'an →
89

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ۚ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَٰٓؤُلَآءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًۭا لَّيْسُوا۟ بِهَا بِكَٰفِرِينَ

یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم (شریعت) اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کے لئے) ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں

اور عطا کیے ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب، سب کو ہدایت دی ہم نےاور نوح کو ہدایت دی ہم نے پہلے اس سے،اور اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کواور اسی طرح جزاء دیتے ہیں ہم احسان کرنے والوں کو(84)اور (ہدایت دی) زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو، سب صالحین میں سے تھے (85)اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو (بھی)اور (ان) سب کو فضیلت دی ہم نے اوپر جہانوں کے(86)اور کچھ کو ان کے آباؤ اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے او ر چن لیا ہم نے انھیں اور ہدایت دی ہم نے انھیں طرف صراط مستقیم کی(87) یہ ہے ہدایت اللہ کی، ہدایت دیتا ہے اس کی جسے چاہتا ہے وہ اپنے بندوں میں سے،اور اگر شرک کرتے وہ لوگ توبرباد ہوجاتے ان سے جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(88) یہ وہ لوگ ہیں کہ دی ہم نے انھیں کتاب اور حکم اور نبوت، پس اگر کفر کریں ساتھ ان(باتوں ) کے یہ لوگ تو تحقیق مقرر کر دی ہم نے ان باتوں کے لیے ایسی قوم کہ نہیں ہے وہ ان کا انکار کرنے والی(89)یہ لوگ ہیں جنھیں ہدایت دی اللہ نے، سو ان کے طریقے کی اقتداء کریں آپ کہہ دیجیے! نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے یہ مگر نصیحت جہانوں کے لیے(90)

[84]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے اسحاق اور یعقوب‘‘ یعقوب یعنی اسحاقu کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔ ﴿ كُلًّا ﴾ ’’سب کو‘‘ یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک کو ﴿ هَدَيۡنَا ﴾ ’’ہم نے ہدایت دی۔‘‘ یعنی علم و عمل میں راہ راست دکھائی ﴿وَنُوۡحًا هَدَيۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اس سے قبل ہم نے نوح کو ہدایت سے نوازا‘‘ یہ ہدایت اعلیٰ ترین انواع میں سے تھی جو دنیا کے صرف معدودے چند افراد کو حاصل ہوئی ہے اور وہ اولو العزم رسول تھے۔ نوحu ان میں سے ایک تھے۔ ﴿ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهٖ﴾ ’’اور ان کی نسل میں سے‘‘ اس میں احتمال ہے کہ ضمیر نوح (u) کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ یہ قریب ترین مرجع ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساتھ ہی حضرت لوط کا ذکر کیا جو کہ نوح کی ذریت سے ہیں ، حضرت ابراہیم کی ذریت سے نہیں کیونکہ حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے بھتیجے تھے۔۔۔ نیز اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ضمیر حضرت ابراہیمu کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ سیاق کلام ابراہیمu کی مدح و ثنا میں ہے اور لوطu اگرچہ حضرت ابراہیمu کی ذریت میں سے نہیں ہیں تاہم یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جناب خلیلu کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے۔ حضرت لوط کا حضرت ابراہیم پر ایمان لانا مجرد ان کا بیٹا ہونے سے زیادہ ان کے لیے منقبت اور فضیلت کا حامل ہے۔ ﴿ دَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’داود اور سلیمان‘‘ یعنی سلیمان بن داؤدi ﴿ وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡسُفَ ﴾ ’’ایوب اور یوسف‘‘ یعنی ایوب اور یوسف بن یعقوب علیہ السلام ﴿وَمُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’موسیٰ اور ہارون‘‘ یعنی عمران کے بیٹے ﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ یعنی جس طرح ہم نے ابراہیم خلیل اللہu کی ذریت کو صالح بنایا کیونکہ ابراہیمu نے اپنے رب کی بندگی کو بہترین طریقے سے ادا کیا اور اللہ کی مخلوق کو بہترین طریقے سے فائدہ پہنچایا ﴿ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم بدلہ دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو‘‘ نیکوکار لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ہم انھیں ان کی نیکیوں کے مطابق سچی مدح و ثنا اور صالح اولاد سے نوازتے ہیں ۔

[85]﴿ وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيٰى ﴾ ’’زکریا اور یحییٰ‘‘ یعنی یحییٰ حضرت زکریا کے فرزند ﴿ وَعِيۡسٰؔى ﴾ یعنی عیسیٰ بن مریمi ﴿ وَاِلۡيَاسَ١ؕ كُلٌّ ﴾ ’’اور الیاس کو بھی یہ سب‘‘ یعنی یہ تمام لوگ ﴿ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیکوکار تھے۔‘‘ یعنی اپنے اخلاق، اعمال اور علوم میں صالح لوگ تھے بلکہ صلحا کے سردار، قائد اور ان کے امام تھے۔

[86]﴿ وَاِسۡمٰعِيۡلَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیمu کے بیٹے جو نسل انسانی کے …

Al-An'aam 6:89Listen in Qur'an →
90

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ ۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقْتَدِهْ ۗ قُل لَّآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَٰلَمِينَ

یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لئےمحض نصیحت ہے

اور عطا کیے ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب، سب کو ہدایت دی ہم نےاور نوح کو ہدایت دی ہم نے پہلے اس سے،اور اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کواور اسی طرح جزاء دیتے ہیں ہم احسان کرنے والوں کو(84)اور (ہدایت دی) زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو، سب صالحین میں سے تھے (85)اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو (بھی)اور (ان) سب کو فضیلت دی ہم نے اوپر جہانوں کے(86)اور کچھ کو ان کے آباؤ اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے او ر چن لیا ہم نے انھیں اور ہدایت دی ہم نے انھیں طرف صراط مستقیم کی(87) یہ ہے ہدایت اللہ کی، ہدایت دیتا ہے اس کی جسے چاہتا ہے وہ اپنے بندوں میں سے،اور اگر شرک کرتے وہ لوگ توبرباد ہوجاتے ان سے جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(88) یہ وہ لوگ ہیں کہ دی ہم نے انھیں کتاب اور حکم اور نبوت، پس اگر کفر کریں ساتھ ان(باتوں ) کے یہ لوگ تو تحقیق مقرر کر دی ہم نے ان باتوں کے لیے ایسی قوم کہ نہیں ہے وہ ان کا انکار کرنے والی(89)یہ لوگ ہیں جنھیں ہدایت دی اللہ نے، سو ان کے طریقے کی اقتداء کریں آپ کہہ دیجیے! نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے یہ مگر نصیحت جہانوں کے لیے(90)

[84]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے اسحاق اور یعقوب‘‘ یعقوب یعنی اسحاقu کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔ ﴿ كُلًّا ﴾ ’’سب کو‘‘ یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک کو ﴿ هَدَيۡنَا ﴾ ’’ہم نے ہدایت دی۔‘‘ یعنی علم و عمل میں راہ راست دکھائی ﴿وَنُوۡحًا هَدَيۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اس سے قبل ہم نے نوح کو ہدایت سے نوازا‘‘ یہ ہدایت اعلیٰ ترین انواع میں سے تھی جو دنیا کے صرف معدودے چند افراد کو حاصل ہوئی ہے اور وہ اولو العزم رسول تھے۔ نوحu ان میں سے ایک تھے۔ ﴿ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهٖ﴾ ’’اور ان کی نسل میں سے‘‘ اس میں احتمال ہے کہ ضمیر نوح (u) کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ یہ قریب ترین مرجع ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساتھ ہی حضرت لوط کا ذکر کیا جو کہ نوح کی ذریت سے ہیں ، حضرت ابراہیم کی ذریت سے نہیں کیونکہ حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے بھتیجے تھے۔۔۔ نیز اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ضمیر حضرت ابراہیمu کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ سیاق کلام ابراہیمu کی مدح و ثنا میں ہے اور لوطu اگرچہ حضرت ابراہیمu کی ذریت میں سے نہیں ہیں تاہم یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جناب خلیلu کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے۔ حضرت لوط کا حضرت ابراہیم پر ایمان لانا مجرد ان کا بیٹا ہونے سے زیادہ ان کے لیے منقبت اور فضیلت کا حامل ہے۔ ﴿ دَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’داود اور سلیمان‘‘ یعنی سلیمان بن داؤدi ﴿ وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡسُفَ ﴾ ’’ایوب اور یوسف‘‘ یعنی ایوب اور یوسف بن یعقوب علیہ السلام ﴿وَمُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’موسیٰ اور ہارون‘‘ یعنی عمران کے بیٹے ﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ یعنی جس طرح ہم نے ابراہیم خلیل اللہu کی ذریت کو صالح بنایا کیونکہ ابراہیمu نے اپنے رب کی بندگی کو بہترین طریقے سے ادا کیا اور اللہ کی مخلوق کو بہترین طریقے سے فائدہ پہنچایا ﴿ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم بدلہ دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو‘‘ نیکوکار لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ہم انھیں ان کی نیکیوں کے مطابق سچی مدح و ثنا اور صالح اولاد سے نوازتے ہیں ۔

[85]﴿ وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيٰى ﴾ ’’زکریا اور یحییٰ‘‘ یعنی یحییٰ حضرت زکریا کے فرزند ﴿ وَعِيۡسٰؔى ﴾ یعنی عیسیٰ بن مریمi ﴿ وَاِلۡيَاسَ١ؕ كُلٌّ ﴾ ’’اور الیاس کو بھی یہ سب‘‘ یعنی یہ تمام لوگ ﴿ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیکوکار تھے۔‘‘ یعنی اپنے اخلاق، اعمال اور علوم میں صالح لوگ تھے بلکہ صلحا کے سردار، قائد اور ان کے امام تھے۔

[86]﴿ وَاِسۡمٰعِيۡلَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیمu کے بیٹے جو نسل انسانی کے …

Al-An'aam 6:90Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.