خلاصہ تفسیر - جو لوگ (اللہ پر) ایمان رکھتے ہیں اور اپنے (اس) ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لئے (قیامت میں) امن ہے اور وہی (دنیا میں) راہ (راست) پر چل رہے ہیں (اور وہ صرف موحدین ہیں بخلاف مشرکین کے کہ گو بالمعنی اللغوی خدا پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ خدا کے قائل ہیں، لیکن شرک بھی کرتے ہیں جس سے ایمان شرعی منفی ہوجاتا ہے، جب موحدین قابل امن ہیں سو اس صورت میں خود تم ڈرو نہ کہ مجھ کو ڈراتے رہو، حالانکہ نہ تمہارے آلہہ ڈرنے کے قابل نہ میں نے کوئی کام ڈر کا کیا اور نہ دنیا کا خوف قابل اعتبار، اور تمہاری حالت تینوں اعتبار سے محل خوف ہے) اور یہ (حجت جو ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید پر قائم کی تھی) ہماری (دی ہوئی) حجت تھی وہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے مقابلہ میں دی تھی (جب ہماری دی ہوئی تھی تو یقینا اعلیٰ درجہ کی تھی اور ابراہیم (علیہ السلام) کی کیا تخصیص ہے) ہم (تو) جس کو چاہتے ہیں (علمی و عملی) مرتبوں میں بڑھا دیتے ہیں (چنانچہ سب انبیاء کو یہ رفعت درجات عطا فرمائی) بیشک آپ کا رب بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے (کہ ہر ایک کا حال اور استعداد جانتا ہے اور ہر ایک کے مناسب اس کو کمال عطا فرماتا ہے) اور (ہم نے جیسا ابراہیم (علیہ السلام) کو کمال ذاتی علم و عمل دیا، اسی طرح کمال اضافی بھی دیا کہ ان کے اصول اور فروع سے بہتوں کو کمال دیا چنانچہ) ہم نے ان کو ( ایک بیٹا) اسحاق دیا اور (ایک پوتا) یعقوب (دیا اور اس سے دوسری اولاد کی نفی نہیں ہوتی اور دونوں صاحبوں میں سے) ہر ایک کو (طریقِ حق کی) ہم نے ہدایت کی، اور (ابراہیم سے) پہلے زمانہ میں ہم نے نوح (علیہ السلام) کو (جن کا ابراہیم (علیہ السلام) کے اجداد میں ہونا مشہور ہے اور اصل کی فضیلت فرع میں بھی مؤ ثر ہوتی ہے طریق حق کی) ہدایت کی اور ان (ابراہیم علیہ السلام) کی اولاد (لغوی یا عرفی یا شرعی) میں سے (اخیر تک جتنے مذکور ہیں سب کو طریق حق کی ہدایت کی یعنی) داؤد (علیہ السلام) کو اور (ان کے صاحبزادہ) سلیمان (علیہ السلام) کو اور ایوب (علیہ السلام) کو اور یوسف (علیہ السلام) کو اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ہارون (علیہ السلام) کو (طریقِ حق کی ہدایت کی) اور (جب یہ ہدایت پر چلے تو ہم نے ان کو جزائے خیر بھی دی مثل ثواب و زیادہ قرب کے اور جس طرح نیک کاموں پر ان کو جزاء دی) اسی طرح (ہماری عادت ہے کہ) ہم نیک کام کرنے والوں کو (مناسب) جزاء دیا کرتے ہیں اور نیز (ہم نے طریق حق کی ہدایت کی) زکریا (علیہ السلام) کو اور (ان کے صاحبزادہ) یحییٰ (علیہ السلام) کو اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور الیاس (علیہ السلام) کو (اور یہ) سب (حضرات) پورے شائستہ لوگوں میں تھے اور نیز (ہم نے طریق حق کی ہدایت کی) اسماعیل (علیہ السلام) کو اور یسع (علیہ السلام) کو اور یونس (علیہ السلام) کو اور لوط (علیہ السلام) کو اور (ان میں سے) ہر ایک کو (ان زمانوں کے) تمام جہان والوں پر (نبوت سے) ہم نے فضیلت دی اور نیز ان (حضرات مذکورین) کے کچھ باپ داداوں کو اور کچھ اولاد کو اور کچھ بھائیوں کو، (طریقِ حق کی ہم نے ہدایت کی) اور ہم نے ان (سب) کو راہ راست (یعنی دین حق) کی ہدایت کی (اور وہ دین جس کی ان سب کو ہدایت ہوئی تھی) اللہ کی (جانب سے جو) ہدایت (ہوتی ہے) وہ یہی (دین) ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت (یعنی منزل پر پہنچانے کی صورت میں) کرتا ہے (چنانچہ اب جو لوگ موجود ہیں ان کو بھی اسی کی ہدایت اس معنی سے ہوئی کہ ان کو صحیح راستہ دکھا دیا، پھر منزل پر پہنچانا نہ پہنچنا ان کا کام ہے، مگر ان میں سے بعض نے اس کو چھوڑ کر شرک اختیار کرلیا) اور (شرک اس قدر ناپسند چیز ہے کہ غیر انبیاء تو کس شمار میں ہیں) اگر فرضاً یہ حضرات (انبیاء مذکورین) بھی (نعوذ باللہ) شرک کرتے تو جو کچھ یہ (نیک) اعمال کیا کرتے تھے ان میں سب اکارت ہوجاتے …