قُلْ أَنَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰٓ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ كَٱلَّذِى ٱسْتَهْوَتْهُ ٱلشَّيَٰطِينُ فِى ٱلْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُۥٓ أَصْحَٰبٌۭ يَدْعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلْهُدَى ٱئْتِنَا ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلْهُدَىٰ ۖ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
کہو۔ کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا۔ اور جب ہم کو خدا نے سیدھا رستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہو رہا ہو) اور اس کے کچھ رفیق ہوں جو اس کو رستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ۔ کہہ دو کہ رستہ تو وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے۔ اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدائے رب العالمین کے فرمانبردار ہوں
کہہ دیجیے! کیا پکاریں ہم سوائے اللہ کے ان کو جو نہ نفع دے سکیں ہمیں اورنہ نقصان پہنچا سکیں ہمیں اور پھیر دیے جا ئیں ہم اپنی ایڑیوں پر(الٹے پاؤں ) بعد اس کے کہ ہدایت دی ہمیں اللہ نے، مانند اس شخص کے جسے بہکادیا شیطانوں نے زمین میں ، حیران (پھرتا) ہے ، اس کے کچھ ساتھی ہیں جو بلاتے ہیں اسے سیدھی راہ کی طرف کہ آجا ہمارے پاس، کہہ دیجیے! یقینا ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے اور حکم دیے گئے ہیں ہم کہ مطیع ہو جائیں ہم رب العالمین کے (71)اوریہ کہ قائم کرو نماز اور ڈرو اس (اللہ) سے،اور وہی ہے کہ اس کی طرف اکٹھے کیے جاؤگے تم (72) اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے اور جس دن وہ کہے گا ہو جا تو(حشر برپا) ہو جائے گا ۔ اسی کا قول حق ہےاور اسی کی بادشاہی ہوگی جس دن پھونکا جائے گا صور میں ، جاننے والا ہے غیب اور حاضر کااور وہی ہے خوب حکمت والا خبردار (73)
[71]﴿ قُلۡ ﴾ اے رسولﷺ !اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے کہہ دو جو تمھیں اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ دین جو ان کے معبودوں کے وصف کی تشریح کر کے واضح کرتا ہے۔ ایک عقل مند شخص کو ان معبودوں کو چھوڑنے کے لیے ان کے اوصاف کا ذکر ہی کافی ہے کیونکہ ہر عاقل شخص جب مشرکین کے مذہب میں غور و فکر کرتا ہے تو اس کے بطلان پر دلائل و براہین کے قائم ہونے سے پہلے ہی اس کے بطلان کا اسے قطعی یقین ہو جاتا ہے۔ اور وہ پکار اٹھتا ہے ﴿ اَنَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا ﴾ ’’کیا ہم اللہ کے سوا، ان ہستیوں کو پکاریں جو ہمیں نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان۔‘‘ اس وصف میں ہر وہ ہستی داخل ہے جس کی اللہ کے سوا بندگی کی جاتی ہے کیونکہ وہ نفع دے سکتی ہے نہ نقصان۔ اسے کسی معاملے کا کوئی اختیار نہیں ، تمام معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہء قدرت میں ہے۔ ﴿ وَنُرَدُّ عَلٰۤى اَعۡقَابِنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ ﴾ ’’اور کیا پھر جائیں ہم الٹے پاؤں ، اس کے بعد کہ اللہ سیدھی راہ دکھا چکا ہم کو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت سے نوازے جانے کے بعد کیا ضلالت کی طرف پلٹ جائیں ، رشد کو چھوڑ کر گمراہی کی طرف لوٹ جائیں ، نعمتوں بھری جنت کے راستے کو چھوڑ کر ان راستوں پر چل نکلیں جو اپنے سالک کو عذاب الیم کی منزل پر پہنچا دیتے ہیں ؟ رشد و ہدایت رکھنے والا شخص اس حال پر کبھی راضی نہیں رہ سکتا۔ ایسی حالت والے شخص کی مثال اس شخص کی سی ہے ﴿ كَالَّذِي اسۡتَهۡوَتۡهُ الشَّيٰطِيۡنُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ جسے شیاطین نے بیابان میں اس کے راستے سے بھٹکا دیا ہو جو اس کی منزل کو جاتا تھا ﴿ حَيۡرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصۡحٰؔبٌ يَّدۡعُوۡنَهٗۤ اِلَى الۡهُدَى ﴾ ’’وہ حیران ہے، اس کے ساتھی اسے راستے کی طرف بلاتے ہیں ‘‘ اور شیاطین اسے ہلاکت کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ وہ دونوں پکارنے والوں کے درمیان حیران و سرگرداں ہے۔ تمام لوگوں کا یہی حال ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ہے، اس لیے کہ لوگ اپنے اندر کشش رکھنے والے امور اور متعارض داعیے رکھتے ہیں ۔ رسالت، عقل صحیح اور فطرت سلیم کے دواعی ﴿ يَّدۡعُوۡنَهٗۤ اِلَى الۡهُدَى ﴾ ’’اس کو صحیح راستے کی طرف بلاتے ہیں ۔‘‘ اور اعلیٰ علیین کی بلندیوں کی طرف دعوت دیتے ہیں اور شیطان کے داعیے اور وہ لوگ جو اس کی راہ پر گامزن ہیں اور نفس امارہ اسے گمراہی اور اسفل سافلین کی پستیوں میں گر جانے کی دعوت دیتے ہیں ۔ لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اپنے تمام امور میں یا اکثر امور میں ہدایت کے دواعی کے ساتھ چلتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ ہیں جن کا رویہ اس کے برعکس ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن میں دونوں قسم کے داعیے مساوی ہوتے ہیں ، اس وقت دو جاذب امور باہم متعارض ہوتے ہیں ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اہل سعادت اور اہل شقاوت کی پہچان ہوتی ہے۔ ﴿ قُلۡ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ …