Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 71–80 of 165

71

قُلْ أَنَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰٓ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ كَٱلَّذِى ٱسْتَهْوَتْهُ ٱلشَّيَٰطِينُ فِى ٱلْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُۥٓ أَصْحَٰبٌۭ يَدْعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلْهُدَى ٱئْتِنَا ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلْهُدَىٰ ۖ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

کہو۔ کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا۔ اور جب ہم کو خدا نے سیدھا رستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہو رہا ہو) اور اس کے کچھ رفیق ہوں جو اس کو رستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ۔ کہہ دو کہ رستہ تو وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے۔ اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدائے رب العالمین کے فرمانبردار ہوں

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۔۔ : آپ ان سے کہہ دیں کہ کیا ہم توحید کی سیدھی سڑک چھوڑ کر پھر شرک میں مبتلا ہوجائیں، اگر ہم ایسا کریں تو ہماری مثال اس شخص کی طرح ہوگی جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ کسی صحرا سے گزر رہا ہو اور شیطانوں کے نرغے میں آجائے، جو اسے سیدھے راستے سے بھٹکا کر کسی اور طرف لے جائیں اور وہ حیران و پریشان نہ سمجھ سکے کہ کیا کرے اور اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ ہماری طرف آجاؤ، سیدھی راہ ادھر ہے، لیکن وہ شیطانوں کے چکر میں ایسا پھنس گیا ہے کہ نہ وہ ساتھیوں کی پکار کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کی طرف جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کفر و شرک اختیار کر کے جو گمراہ ہوگیا ہے، وہ بھٹکے ہوئے راہی کی طرح ہدایت کی طرف نہیں آسکتا۔ ہاں، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ہدایت مقدر کردی ہے تو یقیناً اللہ کی توفیق سے وہ راہ یاب ہوجائے گا، کیونکہ سیدھے راستے پر چلانا اسی کا کام ہے، ہمارے لیے یہ حکم ہے کہ ہم اللہ رب العالمین کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور نماز قائم کریں اور اللہ سے ڈرتے رہیں، اس یقین کے ساتھ کہ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے جمع ہونا ہے۔

Al-An'aam 6:71Listen in Qur'an →
72

وَأَنْ أَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّقُوهُ ۚ وَهُوَ ٱلَّذِىٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

اور یہ (بھی) کہ نماز پڑھتے رہو اور اس سے ڈرتے رہو۔ اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے

Explained together with ayah 71

Al-An'aam 6:72Listen in Qur'an →
73

وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۖ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ ۚ قَوْلُهُ ٱلْحَقُّ ۚ وَلَهُ ٱلْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ ۚ عَٰلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ۚ وَهُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْخَبِيرُ

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہو جا تو (حشر برپا) ہوجائے گا ۔ اس کا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے

وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، لیکن بےمقصد اور کھیل کے لیے نہیں بلکہ حق، یعنی خاص مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے، وہ مقصد کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا : ( لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَل) [ الملک : ١ ] ” تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔ “ اور انسان اور جن کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا : (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْن) [ الذاریات : ٥٦ ] ” اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا، مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔ “ دوسری آیت میں فرمایا : ( وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ ) [ الجاثیۃ : ١٣ ] ” اور اس نے تمہاری خاطر جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنی طرف سے مسخر کردیا۔ “ اور فرمایا : (ھُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۤ ) [ البقرۃ : ٢٩ ] ” وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ بھی ہے سب تمہارے لیے پیدا فرمایا۔ “ معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ انسان کے فائدے اور اس کی آزمائش کے لیے ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ - وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ : یعنی حشر کے دن جب وہ تمام مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ کے لفظ ” کن “ کہنے سے تمام مردے زندہ ہوجائیں گے۔ - وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ: یعنی دنیا میں مجازی طور پر جن کو بادشاہ کہا جاتا تھا ان کی مجازی بادشاہت بھی ختم ہوجائے گی، اللہ فرمائے گا : (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ) [ المؤمن : ١٦ ] ” آج کس کی بادشاہی ہے، صرف اللہ کی جو ایک ہے، زبردست ہے۔ “ نیز دیکھیے سورة فاتحہ میں ” مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ “ کی تفسیر۔ ” الصُّوْرِ “ کیا چیز ہے ؟ عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا، اس نے عرض کیا : ” اے اللہ کے رسول صور کیا ہے ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس سے مراد وہ سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔ “ [ أحمد : ٢؍١٦٢، ح : ٦٥١٤۔ ترمذی، صفات المؤمنین، باب صفۃ القیامۃ۔۔ : ٢٤٣٠ ] اس لیے عام طور پر اس کا ترجمہ نرسنگا کیا جاتا ہے۔ - دوسری حدیث میں ہے : ” صور پھونکنے والا فرشتہ اس وقت سے تیار عرش کی طرف دیکھ رہا ہے جب سے اسے صور دیا گیا ہے اور وہ آنکھ بھی نہیں جھپک رہا کہ کہیں اسی اثنا میں اسے حکم نہ دے دیا جائے۔ “ [ مستدرک حاکم : ٤؍٥٥٨، ح : ٨٦٧٦۔ الصحیحۃ : ٢؍٦٥، ح : ١٠٧٨ ] پس صحیح یہی ہے کہ صور ایک قرن ( نرسنگا) ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ” الصُّوْرِ “ ” صُوْرَۃٌ“ کی جمع ہے اور اس سے مراد مخلوق کی صورتیں ہیں تو یہ قول قرآن و سنت کی رو سے مردود ہے۔ مزید دیکھیے سورة نمل (٨٧) پہلے ایک صور پھونکا جائے گا، ساری خلقت گھبرا جائے گی، پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت فنا ہوجائے گی، پھر تیسری دفعہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت زندہ ہو کر ایک جگہ جمع ہوجائے گی۔ بعض نے لکھا ہے کہ نفخہ اصل میں دو بار ہوگا، پہلے کو نفخۂ فزع یا صعق کہا جاتا ہے، گویا پہلے گھبراہٹ پھر بےہوشی اور نتیجتاً فنا، یعنی دونوں ایک ہی ہیں اور دوسرے کو نفخۂ قیام۔ واللہ اعلم (ابن کثیر، قرطبی) - عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭ“ سے مراد بندوں کے اعتبار سے غیب (پوشیدہ) اور ” َالشَّهَادَةِ ۭ“ کا معنی حاضر ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں، سب حاضر ہی حاضر ہے۔ - وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ : یعنی جو رب یہ صفات رکھتا ہے وہی اس لائق ہے کہ تم اس کی فرماں برداری اختیار کرو، اس کے بندے بن کر رہو اور سمجھو کہ تمہیں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور …

Al-An'aam 6:73Listen in Qur'an →
74

۞ وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا ءَالِهَةً ۖ إِنِّىٓ أَرَىٰكَ وَقَوْمَكَ فِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍۢ

اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ لِاَبِيْهِ اٰزَرَ ۔۔ : اوپر کی آیات میں توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے کے دلائل بیان کرتے ہوئے مشرکین مکہ کے غلط عقائد پر تنقید کی گئی اور اب شرک کی تردید کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بطور تائید بیان فرمایا کہ وہ توحید کے سب سے بڑے داعی اور شرک سے بےزار تھے اور مسلمانوں کو سمجھایا کہ دیکھو انھوں نے کس طرح قوم سے علیحدگی اختیار کی۔ مشرکین مکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہونے کے دعوے دار تھے، جب ابراہیم (علیہ السلام) موحد تھے تو اب شرک کے جواز پر تمہارے پاس کیا دلیل رہ جاتی ہے۔ - اس آیت سے معلوم ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام آزر تھا۔ اب پہلی کتابوں میں اگر ان کا نام آرخ یا تارخ لکھا ہو تو قرآن کی بات ہی حق ہوگی۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ آرخ یا تارخ اس کا لقب ہوگا، مگر یہ کہنا کہ ان کے باپ کا نام آزر نہیں تھا بلکہ یہ نام چچا کا تھا، بالکل ہی بےدلیل ہے۔

Al-An'aam 6:74Listen in Qur'an →
75

وَكَذَٰلِكَ نُرِىٓ إِبْرَٰهِيمَ مَلَكُوتَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ ٱلْمُوقِنِينَ

اور ہم اس طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں

مَلَكُوْتَ : ” مُلْکٌ“ کے آخر میں واؤ اور تاء کا اضافہ کر کے ” مَلَكُوْتَ “ فرمایا، مقصد حروف بڑھانے کا معنی میں زیادتی ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ” عظیم سلطنت “ کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے ہم نے پچھلی آیات میں شرک کی تردید کی ہے اسی طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمان و زمین کی عظیم سلطنت کا مشاہدہ کروایا، جس کے کئی مقاصد کے ساتھ ایک یہ بھی تھا کہ انھیں توحید کا آنکھوں دیکھا یقین حاصل ہوجائے۔ ایسے ہی انھیں یہ مشاہدہ بھی کروایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔

Al-An'aam 6:75Listen in Qur'an →
76

فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ ٱلَّيْلُ رَءَا كَوْكَبًۭا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّى ۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَآ أُحِبُّ ٱلْءَافِلِينَ

(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہٴ تاریکی سے) ڈھانپ لیا (تو آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانے والے پسند نہیں

فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ ۔۔ : ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کئی معبودوں کی پرستش کرتی تھی، جن میں بت، سورج، چاند اور ستارے بھی تھے بلکہ بادشاہ بھی ان کا رب تھا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سب چیزوں کے معبود نہ ہونے کے ایسے زبردست دلائل پیش کیے، جن کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا۔ بتوں کے معبود نہ ہونے کو انھوں نے بت توڑ کر ثابت کیا۔ بادشاہ سے ایسی مدلل بات کی کہ آخر وہ ” فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ ۭ“ بالکل لاجواب ہوگیا۔ یہاں زیر تفسیر آیات میں ان کا اپنی قوم کے ساتھ سورج، چاند اور ستاروں کے معبود نہ ہونے پر مناظرے کا ذکر ہے۔ چناچہ ایک رات ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک بہت چمکتا ہوا ستارہ دیکھ کر کہا : ” یہ میرا رب ہے۔ “ یقیناً وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان سے یہ بات سن کر بہت خوش ہوئے ہوں گے، مگر یہ تو توحید کے منکروں کو گھیر کر مارنے کی عظیم تدبیر تھی۔ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک محال چیز کو مفروضہ کے طور پر تسلیم کیا، تاکہ دل نشین طریقے سے انھیں قائل کیا جائے۔ چناچہ جب وہ غروب ہوا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : ” میں غروب ہونے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ “ پھر چاند کو اپنا رب کہا، جب وہ بھی غروب ہوگیا تو فرمایا : ” میرے رب نے اگر مجھے ہدایت نہ دی تو یقیناً میں بھی گمراہوں سے ہوجاؤں گا۔ “ اس میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ میں جس ہدایت پر ہوں وہ میری ذاتی سوچ اور فکر نہیں ہے اور نہ یہ میری ذاتی اور شخصی دعوت ہے، یہ میرے رب کی عنایت اور اسی کا احسان ہے، اس لیے میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ پھر سورج کو چمکتے ہوئے دیکھا اور کہا : ” یہ سب سے بڑا ہے، اس لیے یہی میرا رب ہے۔ “ قوم کو امید پیدا ہوئی ہوگی کہ چلو ہمارے کسی معبود کو ماننے پر تو تیار ہوگیا ہے، مگر سورج کے غروب ہونے پر ان کے تمام معبودوں سے بےزاری کا اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے ایک ہی معبود برحق کا اعلان کیا تو قوم جھگڑے پر اتر آئی، جھگڑے کے ساتھ اپنے خداؤں کے غضب سے ڈرانے لگی۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : ” میں تمہارے شریکوں سے نہیں ڈرتا، ہاں، اللہ تعالیٰ کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو وہ پہنچا سکتا ہے۔ “ - بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت اور پرورش ایک غار کے اندر ہوئی تھی، تاکہ بادشاہ اپنے ایک خواب کی وجہ سے انھیں قتل نہ کر دے۔ جب باہر آئے تو اپنا رب ڈھونڈنے کے لیے غور و فکر کے یہ مراحل طے کیے اور آخر کار اللہ تعالیٰ تک پہنچ گئے، حالانکہ ان آیات میں صاف ذکر ہے کہ قوم کی مجلس میں یہ سب باتیں ہوئی ہیں جن کے ساتھ ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کو لاجواب کیا ہے۔ پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود یہاں فرمایا : ( وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ اٰتَيْنٰهَآ اِبْرٰهِيْمَ عَلٰي قَوْمِهٖ ۭ ) [ الأنعام : ٨٣ ] ” یہ تمام باتیں ہم نے دلیل کے طور پر ابراہیم کو قوم کے مقابلے میں عطا فرمائی تھیں۔ “ اور جب انھوں نے اللہ کے حکم کے مطابق قوم کو اس دلیل کے ذریعے سے سورج، چاند اور ستارے کے رب نہ ہوسکنے کی بات سمجھائی تو وہ جھگڑے پر اتر آئے، جو ان کے لاجواب ہونے کی دلیل تھی۔

Al-An'aam 6:76Listen in Qur'an →
77

فَلَمَّا رَءَا ٱلْقَمَرَ بَازِغًۭا قَالَ هَٰذَا رَبِّى ۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِى رَبِّى لَأَكُونَنَّ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلضَّآلِّينَ

پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں

Explained together with ayah 76

Al-An'aam 6:77Listen in Qur'an →
78

فَلَمَّا رَءَا ٱلشَّمْسَ بَازِغَةًۭ قَالَ هَٰذَا رَبِّى هَٰذَآ أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّآ أَفَلَتْ قَالَ يَٰقَوْمِ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ

پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

Explained together with ayah 76

Al-An'aam 6:78Listen in Qur'an →
79

إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ حَنِيفًۭا ۖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں

Explained together with ayah 76

Al-An'aam 6:79Listen in Qur'an →
80

وَحَآجَّهُۥ قَوْمُهُۥ ۚ قَالَ أَتُحَٰٓجُّوٓنِّى فِى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنِ ۚ وَلَآ أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَشَآءَ رَبِّى شَيْـًۭٔا ۗ وَسِعَ رَبِّى كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا ۗ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ

اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارےمیں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے۔ اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار چاہے۔ میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے۔

وَحَاۗجَّهٗ قَوْمُهٗ ۔۔ : قوم کے ساتھ یہ مناظرہ ہوا تو ان کی قوم نے اپنے عقیدے کے صحیح ہونے کے بہت سے دلائل پیش کیے، مثلاً انھوں نے ایک دلیل یہ پیش کی : ( اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ ) [ الزخرف : ٢٢ ] ” بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا ہے۔ “ نیز ابراہیم (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ یہ بت تمہیں آفات اور مصیبتوں میں مبتلا کردیں گے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ فرما کر ” ّٰوَقَدْ هَدٰىنِ ۭ“ (اللہ نے مجھے سیدھا راستہ بتادیا ہے) ان کی پہلی دلیل کا جواب دیا کہ یقینی دلیل کے مقابلے میں تمہارے باپ دادا کا دین بےمعنی ہے اور ان کی دھمکی کے جواب میں فرمایا کہ پروردگار کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچنی ہو تو پہنچ سکتی ہے مگر یہ تمہارے بت اور جھوٹے پروردگار میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (رازی) - وَسِعَ رَبِّيْ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۭ: ہر چیز کی حقیقت و اصلیت کا علم میرے رب کو ہے، اس لیے وہی بتاسکتا ہے کہ ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیا ہے، جب اس نے مجھے ہدایت کا علم عطا فرما دیا ہے تو پھر ہدایت کوئی اور چیز کیسے ہوسکتی ہے، تو کیا تم اتنا بھی نہیں سوچتے ؟

Al-An'aam 6:80Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.