Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 71–80 of 165

71

قُلْ أَنَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰٓ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ كَٱلَّذِى ٱسْتَهْوَتْهُ ٱلشَّيَٰطِينُ فِى ٱلْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُۥٓ أَصْحَٰبٌۭ يَدْعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلْهُدَى ٱئْتِنَا ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلْهُدَىٰ ۖ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

کہو۔ کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا۔ اور جب ہم کو خدا نے سیدھا رستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہو رہا ہو) اور اس کے کچھ رفیق ہوں جو اس کو رستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ۔ کہہ دو کہ رستہ تو وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے۔ اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدائے رب العالمین کے فرمانبردار ہوں

Explained together with ayah 70

Al-An'aam 6:71Listen in Qur'an →
72

وَأَنْ أَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّقُوهُ ۚ وَهُوَ ٱلَّذِىٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

اور یہ (بھی) کہ نماز پڑھتے رہو اور اس سے ڈرتے رہو۔ اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے

Explained together with ayah 70

Al-An'aam 6:72Listen in Qur'an →
73

وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۖ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ ۚ قَوْلُهُ ٱلْحَقُّ ۚ وَلَهُ ٱلْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ ۚ عَٰلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ۚ وَهُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْخَبِيرُ

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہو جا تو (حشر برپا) ہوجائے گا ۔ اس کا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے

Explained together with ayah 70

Al-An'aam 6:73Listen in Qur'an →
74

۞ وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا ءَالِهَةً ۖ إِنِّىٓ أَرَىٰكَ وَقَوْمَكَ فِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍۢ

اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو

Explained together with ayah 70

Al-An'aam 6:74Listen in Qur'an →
75

وَكَذَٰلِكَ نُرِىٓ إِبْرَٰهِيمَ مَلَكُوتَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ ٱلْمُوقِنِينَ

اور ہم اس طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں

Explained together with ayah 70

Al-An'aam 6:75Listen in Qur'an →
76

فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ ٱلَّيْلُ رَءَا كَوْكَبًۭا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّى ۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَآ أُحِبُّ ٱلْءَافِلِينَ

(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہٴ تاریکی سے) ڈھانپ لیا (تو آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانے والے پسند نہیں

ابراہیم (علیہ السلام) کی جستجوئے حق - قول باری ہے ( فلما جن علیہ اللیل دای کوکبا قال ھذا ربی چناچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے) اس کی تفسیر میں تین اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلی دفعہ تارے پر نظر پڑنے کی حالت میں یہ بات کہی تھی، اور جو بات پہلے سے ان کے وہم میں تھی نیز ان کے گمان میں چھائی ہوئی تھی اس پر استدلال کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا اس لیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ستاروں کے نام پر بت بنا کر اس کی پرستش کرتی تھی ۔ وہ کہتے ” یہ زحل کا بت ہے، یہ سورج کا، یہ مشتری کا “ وغیرہ وغیرہ ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات بالغ ہونے سے پہلے فرمائی تھی یعنی اس وقت جب اللہ تعالیٰ نے ابھی آپ کی عقل اور سمجھ بوجھ میں وہ پختگی نہیں پیدا کی تھی جس کی بنا پر ایک شخص مکلف قرار پاتا ہے ۔ - جب آپ نے اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلالت کرنے والے واقعات و احوال کا مشاہدہ کیا اور آپ کے قلب و ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہوئے۔ نیز دل و دماغ میں ابھرنے والے خیالات و احساسات نے آپ کے اندر غورو فکر کا زبردست داعیہ پیدا کردیا تو اس وقت آپ نے یہ فقرہ کہا تھا۔ روایت میں ہے کہ آپ نے والدہ نے نمرود کے خوف سے ایک غار کے اندر آپ کو جنم دیا تھا، نمرود اس زمانے میں پیدا ہونے والے بچوں کو قتل کروا دیا کرتا تھا ۔ جب آپ کی والدہ آپ کو غار سے باہر لے کر آئیں اور آپ نے اپنی آنکھوں سے آسمان پر بکھرے ہوئے تارے دیکھے تو اس وقت یہ فقرہ ادا کیا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ یہ بات اپنی قوم کی بت پرستی کی تردید کرتے ہوئے نیز اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے فرمائی تھی۔ فقرے سے ہمزہ استفہام حذف کردیا گیا ہے اور اصل فقرہ یہ ہے۔ (کیا یہ میرا رب ہے ؟ ) شاعر کا قول ہے - کذبتک و عینک ام رایت بواسط غلس الظلام من الرباب خیالا - کیا تیری آنکھوں نے تجھ سے جھوٹ کہا یا تو نے واسط شہر میں تاریکی کے پردے میں رباب ( محبوبہ کا نام ) کی کوئی پرچھائیں دیکھی۔ - کذبتک کے معنی ہیں ” اکذ بتک “ ایک اور شاعر کا شعر ہے۔- رفونی و قالوا یا خویلد لاترع فقلت وانکرت الوجوہ ھم ھم - انہوں نے میرے دل سے ڈر دورکر دیا اور کہنے لگا خویلد خوفزدہ نہ ہو، میں نے نا آشنا چہرے دیکھ کر کہا، آیا یہ لوگ وہی ہیں۔ ” ھم ھم “ کے معنی ہیں ” اھم ھم “ ( کیا یہ لوگ وہی ہیں) قول باری ہے ( لا احب الآفلین، ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں) آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ تارا رب نہیں ہے۔ اگر یہ رب ہوتا تو میں اس کا گرویدہ ہوجاتا اور اس کی تعظیم کرتا جس طرح رب کی تعظیم کی جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے استدلال کا جو طریقہ اپنا یا تھا وہ درست ترین اور واضح ترین طریقہ تھا۔ وہ اس طرح کہ جب آپ نے تارے کی بلندی اور اس کی روشنی دیکھی تو آپ کا ذہن اس مقام پر پہنچ گیا جہاں اس کے متعلق آپ کی سوچ کا دھارا دو حصوں میں بٹ گیا یعنیی آپ یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ اس پر کیا حکم لگایا جائے۔ - آیا اسے خالق اور رب مان لیا جائے یا اسے مخلوق اور مربوب کا درجہ دیا جائے۔ لیکن جب آپ نے اسے طلوع ہو کر غروب ہوتا ہوا دیکھا نیز حرکت کرتا ہوا اور ایک مقام پر پہنچ کر مٹتا ہوا پایا تو فوراً یہ فیصلہ دے دیا کہ یہ حادث ہے اس لے کہ حددث پر دلالت کرنے والی کیفیات اس کے اندر موجود نہیں، یہ رب نہیں ہوسکتا تھا، آپ کو اس بات کا علم تھا کہ جو خود حادث ہو وہ دوسرے اجسام کو وجود میں لانے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اس کے لیے ایسا کرنا محال ہوتا ہے۔ جس طرح اس تارے کے لیے حادث ہونے کی بنا پر ایسا کرنا محال تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی سوچ کے نتیجے میں اس تارے پر یہ حکم لگا دیا کہ حادث ہونے نیز رب اور خالق نہ ہونے کے لحاظ سے وہ ان کی طرح تھا۔ پھر جب چاند طلوع ہوا اور حضرت …

Al-An'aam 6:76Listen in Qur'an →
77

فَلَمَّا رَءَا ٱلْقَمَرَ بَازِغًۭا قَالَ هَٰذَا رَبِّى ۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِى رَبِّى لَأَكُونَنَّ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلضَّآلِّينَ

پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں

Explained together with ayah 76

Al-An'aam 6:77Listen in Qur'an →
78

فَلَمَّا رَءَا ٱلشَّمْسَ بَازِغَةًۭ قَالَ هَٰذَا رَبِّى هَٰذَآ أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّآ أَفَلَتْ قَالَ يَٰقَوْمِ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ

پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

Explained together with ayah 76

Al-An'aam 6:78Listen in Qur'an →
79

إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ حَنِيفًۭا ۖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں

Explained together with ayah 76

Al-An'aam 6:79Listen in Qur'an →
80

وَحَآجَّهُۥ قَوْمُهُۥ ۚ قَالَ أَتُحَٰٓجُّوٓنِّى فِى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنِ ۚ وَلَآ أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَشَآءَ رَبِّى شَيْـًۭٔا ۗ وَسِعَ رَبِّى كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا ۗ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ

اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارےمیں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے۔ اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار چاہے۔ میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے۔

Explained together with ayah 76

Al-An'aam 6:80Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.