Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 61–70 of 165

61

وَهُوَ ٱلْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِۦ ۖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے

(آیت) ” نمبر 61 تا 62۔

(آیت) ” وھو القاھر فوق عبادہ “۔ (6 : 61) ” اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے ۔ “ یعنی وہ صاحب قوت بادشاہ ہے اور تمام انسان اس کی ایسی رعایا ہیں جو اس کے مکمل کنٹرول میں ہیں ۔ اس بادشاہ کی حقیقی قوت اور لوگوں کی قوت کی درمیان کوئی نسبت نہیں ہے ۔ اس کے بالمقابل نہ صرف یہ کہ ان کی کوئی قوت نہیں ہے بلکہ ان کے لئے کوئی معاون و مددگار بھی نہیں ہے سب پوری طرح اس کے غلام ہیں اور پوری طرح اس کے تابع اور زیر قبضہ ہیں ۔

یہ ہے انسان کی جانب سے ایک قاہر اور مکمل طور پر حاوی خدا کی مکمل غلامی اور یہی وہ حقیقی تصور ہے جو لوگوں کی عملی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کرتا ہے چاہے اللہ لوگوں کو مکمل آزادی اور اختیارات عطا کر دے ‘ ان کو وافر مقدار میں علم ومعرفت دے دے اور ان کو وافر مقدار میں قوت دے دے تاکہ وہ اس کرہ ارض پر فریضہ خلافت ارضی کے تقاضے پورے کرسکیں ۔ لیکن ان باتوں کے باوجود انسانی زندگی کے تمام سانس اللہ کے ہاں مقرر ہیں اور انسان کی تمام حرکات و سکنات اللہ کے اس قانون قدرت کے مطابق ہیں جو اس نے خود انسانوں کے وجود میں جاری اور ساری کردیئے ہیں اور انسان خود اپنے وجود کے ان قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا ۔ اور یہ قوانین بھی نفس انسانی اور حرکات انسانی کے اندر متعین اور مقرر ہیں ۔

(آیت) ” ویرسل علیکم حفظۃ “۔ (6 : 61) ” اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کرکے بھیجتا ہے ۔ “ یہاں آیت میں ان نگرانوں کی نوعیت کو متعین نہیں کیا گیا ۔ دوسرے مقامات پر بتایا گیا ہے کہ یہ نگرانی کرنے والے فرشتے ہیں جو انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور وہ تمام اعمال ریکارڈ کر رہے ہیں جو انسانوں سے صادر ہوتے ہیں ۔ یہاں صرف اس امر پر روشنی ڈالنا مقصود ہے کہ ہر انسان براہ راست اللہ کی نگرانی میں ہے اور انسانی سوچ میں یہ شعور ڈالنا ہے کہ نفس انسانی کو ایک لحظہ کے لئے بھی آزاد نہیں چھوڑا جاتا اور نہ ہی وہ کسی وقت تنہا ہوتا ہے ۔ ہر وقت اس کے ساتھ ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو اس کی تمام حرکات و سکنات کو ریکارڈ کرتے رہتے ہیں اور اس قدر مکمل اور جامع ریکارڈ تیار کرتے ہیں کہ ان کی نظروں سے کوئی بات بچ کر نہیں رہتی ۔ یہ ایک ایسا تصور اور ایسی سوچ ہے جس کے نتیجے میں مکمل انسانی شخصیت بیدار ہوجاتی ہے اور وہ ہر بات کو محسوس کرتی ہے ۔

(آیت) ” حتی اذا جآء احدکم الموت توفتہ رسلنا وھم لا یفرطون “۔ (6 : 61) ” یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے ۔ “ یہ اسی ربانی نگرانی کا رنگ ہے ‘ لیکن مختلف شیڈز میں ‘ یعنی ہر انسان کے لئے اس دنیا میں سانس لینے کی تعداد مقرر ہے ۔ اس کے ان سانسوں کے رک جانے کا بھی ایک وقت مقرر ہے لیکن اس کو وہ جانتا نہیں ہے ۔ انسانی زاوے سے اجل مقرر ہے ۔ لیکن اس کو وہ جانتا نہیں ہے ۔ انسانی زوایے سے اجل مقرر ہے جو اس کے لئے غیب ہے اور اس کا علم اسے کسی ذریعے سے بھی نہیں ہو سکتا ۔ لیکن اللہ کے علم میں وہ پہلے سے تحریری طور پر ثبت ہے اور ایک سیکنڈ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی ۔ ہر شخص زندگی کے سانس پورے کر رہا ہے ۔ اس دنیا سے اس کے جانے کا وقت دور نہیں ہے بلکہ بالکل قریب ہے ‘ اس کے اندر کوئی تغیر ممکن نہیں ہے ۔ نہ اس میں بھول چوک ممکن ہے ۔ اللہ کے نمائندے تیار کھڑے ہوتے ہیں ‘ یہ فرشتے ہوتے ہیں اور ان کا نظام نہایت ہی محفوظ ہوتا ہے ۔ ہر شخص کی موت کا وقت تحریری طور ثبت ہے لیکن انسان سخت غفلت میں ہوتا ہے ۔ یہ نمائندے اپنا فرض نہایت ہی باریک بینی سے ادا کرتے ہیں ۔ وہ اپنا پیغام وقت پر پہنچاتے ہیں ۔ یہ سوچ اور یہ عقیدہ ہی ایک غافل انسان کو جھنجوڑنے کے لئے کافی اور شافی ہے ۔ اس عقیدے کا حامل انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ کے فیصلے اسے پوری طرح گھیرے ہوئے ہیں ۔ …

Al-An'aam 6:61Listen in Qur'an →
62

ثُمَّ رُدُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ مَوْلَىٰهُمُ ٱلْحَقِّ ۚ أَلَا لَهُ ٱلْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ ٱلْحَٰسِبِينَ

پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے۔ سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے

(آیت) ” نمبر 61 تا 62۔

(آیت) ” وھو القاھر فوق عبادہ “۔ (6 : 61) ” اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے ۔ “ یعنی وہ صاحب قوت بادشاہ ہے اور تمام انسان اس کی ایسی رعایا ہیں جو اس کے مکمل کنٹرول میں ہیں ۔ اس بادشاہ کی حقیقی قوت اور لوگوں کی قوت کی درمیان کوئی نسبت نہیں ہے ۔ اس کے بالمقابل نہ صرف یہ کہ ان کی کوئی قوت نہیں ہے بلکہ ان کے لئے کوئی معاون و مددگار بھی نہیں ہے سب پوری طرح اس کے غلام ہیں اور پوری طرح اس کے تابع اور زیر قبضہ ہیں ۔

یہ ہے انسان کی جانب سے ایک قاہر اور مکمل طور پر حاوی خدا کی مکمل غلامی اور یہی وہ حقیقی تصور ہے جو لوگوں کی عملی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کرتا ہے چاہے اللہ لوگوں کو مکمل آزادی اور اختیارات عطا کر دے ‘ ان کو وافر مقدار میں علم ومعرفت دے دے اور ان کو وافر مقدار میں قوت دے دے تاکہ وہ اس کرہ ارض پر فریضہ خلافت ارضی کے تقاضے پورے کرسکیں ۔ لیکن ان باتوں کے باوجود انسانی زندگی کے تمام سانس اللہ کے ہاں مقرر ہیں اور انسان کی تمام حرکات و سکنات اللہ کے اس قانون قدرت کے مطابق ہیں جو اس نے خود انسانوں کے وجود میں جاری اور ساری کردیئے ہیں اور انسان خود اپنے وجود کے ان قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا ۔ اور یہ قوانین بھی نفس انسانی اور حرکات انسانی کے اندر متعین اور مقرر ہیں ۔

(آیت) ” ویرسل علیکم حفظۃ “۔ (6 : 61) ” اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کرکے بھیجتا ہے ۔ “ یہاں آیت میں ان نگرانوں کی نوعیت کو متعین نہیں کیا گیا ۔ دوسرے مقامات پر بتایا گیا ہے کہ یہ نگرانی کرنے والے فرشتے ہیں جو انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور وہ تمام اعمال ریکارڈ کر رہے ہیں جو انسانوں سے صادر ہوتے ہیں ۔ یہاں صرف اس امر پر روشنی ڈالنا مقصود ہے کہ ہر انسان براہ راست اللہ کی نگرانی میں ہے اور انسانی سوچ میں یہ شعور ڈالنا ہے کہ نفس انسانی کو ایک لحظہ کے لئے بھی آزاد نہیں چھوڑا جاتا اور نہ ہی وہ کسی وقت تنہا ہوتا ہے ۔ ہر وقت اس کے ساتھ ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو اس کی تمام حرکات و سکنات کو ریکارڈ کرتے رہتے ہیں اور اس قدر مکمل اور جامع ریکارڈ تیار کرتے ہیں کہ ان کی نظروں سے کوئی بات بچ کر نہیں رہتی ۔ یہ ایک ایسا تصور اور ایسی سوچ ہے جس کے نتیجے میں مکمل انسانی شخصیت بیدار ہوجاتی ہے اور وہ ہر بات کو محسوس کرتی ہے ۔

(آیت) ” حتی اذا جآء احدکم الموت توفتہ رسلنا وھم لا یفرطون “۔ (6 : 61) ” یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے ۔ “ یہ اسی ربانی نگرانی کا رنگ ہے ‘ لیکن مختلف شیڈز میں ‘ یعنی ہر انسان کے لئے اس دنیا میں سانس لینے کی تعداد مقرر ہے ۔ اس کے ان سانسوں کے رک جانے کا بھی ایک وقت مقرر ہے لیکن اس کو وہ جانتا نہیں ہے ۔ انسانی زاوے سے اجل مقرر ہے ۔ لیکن اس کو وہ جانتا نہیں ہے ۔ انسانی زوایے سے اجل مقرر ہے جو اس کے لئے غیب ہے اور اس کا علم اسے کسی ذریعے سے بھی نہیں ہو سکتا ۔ لیکن اللہ کے علم میں وہ پہلے سے تحریری طور پر ثبت ہے اور ایک سیکنڈ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی ۔ ہر شخص زندگی کے سانس پورے کر رہا ہے ۔ اس دنیا سے اس کے جانے کا وقت دور نہیں ہے بلکہ بالکل قریب ہے ‘ اس کے اندر کوئی تغیر ممکن نہیں ہے ۔ نہ اس میں بھول چوک ممکن ہے ۔ اللہ کے نمائندے تیار کھڑے ہوتے ہیں ‘ یہ فرشتے ہوتے ہیں اور ان کا نظام نہایت ہی محفوظ ہوتا ہے ۔ ہر شخص کی موت کا وقت تحریری طور ثبت ہے لیکن انسان سخت غفلت میں ہوتا ہے ۔ یہ نمائندے اپنا فرض نہایت ہی باریک بینی سے ادا کرتے ہیں ۔ وہ اپنا پیغام وقت پر پہنچاتے ہیں ۔ یہ سوچ اور یہ عقیدہ ہی ایک غافل انسان کو جھنجوڑنے کے لئے کافی اور شافی ہے ۔ اس عقیدے کا حامل انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ کے فیصلے اسے پوری طرح گھیرے ہوئے ہیں ۔ …

Al-An'aam 6:62Listen in Qur'an →
63

قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَٰتِ ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ تَدْعُونَهُۥ تَضَرُّعًۭا وَخُفْيَةًۭ لَّئِنْ أَنجَىٰنَا مِنْ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ

کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اسے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس (تنگی) سے نجات بخشے تو ہم اس کے بہت شکر گزار ہوں

(آیت) ” نمبر 63 تا 64۔

خطرات کا تصور اور ہولناک لمحات کی یاد بعض اوقات خود انسانوں کو بھی راہ راست پر لے آتی ہے ۔ اس سے پتھر دل بھی موم ہوجاتے ہیں ۔ اس سے انسان کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ انسان بہت ہی ضعیف ہے اور اسے ہر وقت اللہ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ‘ جس کے نتیجے میں اس کی مشکلات دور ہوجاتی ہیں اور اسے نعمت الہیہ بشکل نجات دستیاب ہوتی ہے ۔

(آیت) ” قُلْ مَن یُنَجِّیْکُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَہُ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ ہَـذِہِ لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ (63)

(اے نبی ﷺ ان سے پوچھو ‘ صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے ‘ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو ؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ۔

یہ وہ نفسیاتی تجربہ ہے جو ہر اس شخص کو درپیش ہوا ہے جو کبھی مشکلات میں گھرا ہے یا جس نے مشکلات کے اندر گھرے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے ‘ کیونکہ خشکی اور سمندر دونوں میں انسان اس قسم کی مشکلات سے دو چار ہوتا رہتا ہے ۔ ضروری نہیں کہ اندھیروں کا تحقق رات ہی میں ہو ‘ اس لئے کہ لاچاری بھی ایک اندھیرا ہے ۔ خطرہ بھی اندھیرا ہے ۔ خشکی اور سمندر کے غیبی واقعات جن کے انتظار میں پوری دنیا کی نظریں لگی ہوتی ہیں یہ بھی ظلمات ہوتے ہیں ۔ جب بھی انسان خشکی اور سمندر کی ان ظلمتوں میں گھرتا ہے تو اس کائنات میں انہیں صرف اللہ ہی حقیقی متصرف نظر آتا ہے ۔ ایسے حالات میں انسان بڑی عاجزی ‘ یکسوئی اور نہایت ہی راز دارانہ طور پر صرف اللہ ہی کے سامنے دست بدعاء ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں فطرت انسانی اپنی اصل شکل میں تمام پردوں سے باہر آکر عیاں ہوتی ہے ۔ اس وقت فطرت کی گہرائیوں میں جو حقیقت پوشیدہ ہوتی ہے وہ سامنے آتی ہے اور وہ حقیقت ہوتی ہے اللہ وحدہ لاشریک کی حاکمیت ۔ انسان حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اب اس کے ساتھ کسی کو شریک بھی نہیں ٹھہراتا ۔ اس وقت انسان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ شرکیہ تصورات کس قدر بودے ہوتے ہیں ۔ اب شرک کا نام ونشان نہیں ہوتا اور جو لوگ اس کرب والم میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے : ” اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ؟ “ اللہ تعالیٰ اس موقع پر حضور ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو اصل حقیقت کی طرف متوجہ کریں :

(آیت) ” قُلِ اللّہُ یُنَجِّیْکُم مِّنْہَا وَمِن کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِکُونَ (64)

” کہو ‘ اللہ تمہیں اس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے ۔ پھر تم دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ اس کے اندر ہی انہیں یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ وہ پھر بھی شرک جیسے منکر کا ارتکاب کرتے ہیں اور تعجب خیز انداز میں الٹے پھرتے ہیں ۔

یہاں انسانوں کو یہ صورت حال یاد دلائی جاتی ہے کہ اس نجات کے بعد بھی دوبارہ وہ ایسے ہی مشکل حالات میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ یہ مشکلات صرف ایک بار ہی آنے والی تھیں ۔ یہ باری ان پر سے گزر گئی اور اب گویا وہ اللہ کے قبضہ قدرت سے نکل گئے ہیں ۔ اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تو یہ انکی بھول ہے ۔ اس سلسلے میں ذیل کی آیت ملاحظہ ہو :

Al-An'aam 6:63Listen in Qur'an →
64

قُلِ ٱللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍۢ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ

کہو کہ خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے۔ پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو

(آیت) ” نمبر 63 تا 64۔

خطرات کا تصور اور ہولناک لمحات کی یاد بعض اوقات خود انسانوں کو بھی راہ راست پر لے آتی ہے ۔ اس سے پتھر دل بھی موم ہوجاتے ہیں ۔ اس سے انسان کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ انسان بہت ہی ضعیف ہے اور اسے ہر وقت اللہ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ‘ جس کے نتیجے میں اس کی مشکلات دور ہوجاتی ہیں اور اسے نعمت الہیہ بشکل نجات دستیاب ہوتی ہے ۔

(آیت) ” قُلْ مَن یُنَجِّیْکُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَہُ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ ہَـذِہِ لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ (63)

(اے نبی ﷺ ان سے پوچھو ‘ صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے ‘ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو ؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ۔

یہ وہ نفسیاتی تجربہ ہے جو ہر اس شخص کو درپیش ہوا ہے جو کبھی مشکلات میں گھرا ہے یا جس نے مشکلات کے اندر گھرے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے ‘ کیونکہ خشکی اور سمندر دونوں میں انسان اس قسم کی مشکلات سے دو چار ہوتا رہتا ہے ۔ ضروری نہیں کہ اندھیروں کا تحقق رات ہی میں ہو ‘ اس لئے کہ لاچاری بھی ایک اندھیرا ہے ۔ خطرہ بھی اندھیرا ہے ۔ خشکی اور سمندر کے غیبی واقعات جن کے انتظار میں پوری دنیا کی نظریں لگی ہوتی ہیں یہ بھی ظلمات ہوتے ہیں ۔ جب بھی انسان خشکی اور سمندر کی ان ظلمتوں میں گھرتا ہے تو اس کائنات میں انہیں صرف اللہ ہی حقیقی متصرف نظر آتا ہے ۔ ایسے حالات میں انسان بڑی عاجزی ‘ یکسوئی اور نہایت ہی راز دارانہ طور پر صرف اللہ ہی کے سامنے دست بدعاء ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں فطرت انسانی اپنی اصل شکل میں تمام پردوں سے باہر آکر عیاں ہوتی ہے ۔ اس وقت فطرت کی گہرائیوں میں جو حقیقت پوشیدہ ہوتی ہے وہ سامنے آتی ہے اور وہ حقیقت ہوتی ہے اللہ وحدہ لاشریک کی حاکمیت ۔ انسان حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اب اس کے ساتھ کسی کو شریک بھی نہیں ٹھہراتا ۔ اس وقت انسان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ شرکیہ تصورات کس قدر بودے ہوتے ہیں ۔ اب شرک کا نام ونشان نہیں ہوتا اور جو لوگ اس کرب والم میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے : ” اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ؟ “ اللہ تعالیٰ اس موقع پر حضور ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو اصل حقیقت کی طرف متوجہ کریں :

(آیت) ” قُلِ اللّہُ یُنَجِّیْکُم مِّنْہَا وَمِن کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِکُونَ (64)

” کہو ‘ اللہ تمہیں اس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے ۔ پھر تم دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ اس کے اندر ہی انہیں یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ وہ پھر بھی شرک جیسے منکر کا ارتکاب کرتے ہیں اور تعجب خیز انداز میں الٹے پھرتے ہیں ۔

یہاں انسانوں کو یہ صورت حال یاد دلائی جاتی ہے کہ اس نجات کے بعد بھی دوبارہ وہ ایسے ہی مشکل حالات میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ یہ مشکلات صرف ایک بار ہی آنے والی تھیں ۔ یہ باری ان پر سے گزر گئی اور اب گویا وہ اللہ کے قبضہ قدرت سے نکل گئے ہیں ۔ اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تو یہ انکی بھول ہے ۔ اس سلسلے میں ذیل کی آیت ملاحظہ ہو :

Al-An'aam 6:64Listen in Qur'an →
65

قُلْ هُوَ ٱلْقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًۭا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًۭا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ

کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں

(آیت) ” نمبر 65۔

اگر کوئی مصیبت سر کے اوپر آکر پڑتی ہے یا پاؤں کے نیچے سے کوئی مصیبت پھوٹتی ہے تو اس کا تصور دائیں بائیں سے آنے والی مصیبتوں سے زیادہ خوفناک ہوتا ہے اس لئے کہ انسان کی قوت واہمہ یہ سمجھتی ہے کہ وہ دائیں بائیں سے آنے والی مصیبت کا مقابلہ کرسکتا ہے لیکن جو عذاب سرکے اوپر سے نازل ہو یا جو عذاب پاؤں کے نیچے سے ابل پڑے وہ انسان کو ڈھانپ لیتا ہے ‘ اسے متزلزل کردیتا ہے ‘ اور انسان کی محدود قوت پر غالب آجاتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں ٹھہرنا اور اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ انداز بیان ایسا ہے جو انسان کے شعور واحساس میں اس قوی فیکٹر کو اجاگر کرتا ہے اور انسان یہ یقین کرلیتا ہے کہ اللہ کا عذاب جب چاہے اور جس طرح چاہے انسان کو اپنے گھیرے میں لے سکتا ہے ۔ اللہ کسی بھی وقت بندوں کو پکڑنے کی قدرت رکھتا ہے ۔

اس آیت میں عذاب کی ان قسموں کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ‘ عذاب کی ان اقسام کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے جو نہایت ہی دھیمی رفتار سے اور طویل زمانے کے بعد انسان پر آتی ہیں ۔ ان اقسام کا عمل لمحہ بھر یا مختصر عرصے میں پورا نہیں ہوجاتا ۔ یہ اقسام انسان کی ساتھی بن جاتی ہیں ‘ انسان کی آبادی اور اس کی پوری زندگی میں رچ بس جاتی ہیں اور رات دن انسان کی رفیق سفر رہتی ہیں ۔

(آیت) ” اویلبسکم شیعا ویذیق بعضکم باس بعض “۔ (6 : 65) ” یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے ۔ “ اللہ کے دائمی اور طویل المدت عذاب کی یہ ایک اور شکل ہے ۔ یہ عذاب انسانوں پر خود اپنے ہاتھوں آتا ہے اور وہ خود اسے گھونٹ گھونٹ پیتے ہیں ‘ وہ یوں کہ اللہ انہیں گروہوں اور پارٹیوں میں تقیسم کردیتا ہے ‘ یہ گروہ اور احزاب ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوجاتے ہیں ‘ وہ ایک قسم کی پارٹیاں ہوتی ہیں ‘ عوام ان فرقوں کے اندر فرق و امتیاز بھی نہیں کرسکتے ۔ ان فرقوں کے درمیان جدل وجدال قائم رہتا ہے ۔ ایک طویل دشمنی قائم ہوجاتی ہے اور ان میں سے ایک فرقہ دوسرے کے لئے بلائے جان ہوتا ہے ۔

انسانیت نے اپنی تاریخ کے مختلف وقفوں میں اس قسم کے عذاب کو محسوس کیا ہے ۔ جب بھی انسان نے اپنی اجتماعی زندگی سے اسلامی نظام حیات کو بدر کیا ہے ‘ انسان اس عذاب میں مبتلا کردیا گیا ہے ۔ جب بھی اسلام کو ترک کر کے انسانوں نے اپنی خواہشات اور میلانات کی پیروی شروع کی ہے اور اپنی کوتاہیوں ‘ کمزوریوں اور جہالتوں کو اپنا اصول بنایا ہے وہ اس قسم کے عذاب سے دو چار ہوئے ہیں ۔ جب بھی لوگ راہ گم کردیتے ہیں اور اپنے لئے خود نظام زندگی بنانے لگتے ہیں ‘ اپنے لئے رسم و رواج اور اجتماعی قوانین خود بنانے لگتے ہیں اور حسن قبح کے پیمانے خود تجویز کرنے لگتے ہیں تو اس کے نتیجے میں انسانوں میں سے بعض لوگ بعض دوسرے انسانوں کے غلام بن جاتے ہیں ۔ بعض لوگ یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کے تجویز کردہ نظام زندگی کی اطاعت کریں ۔ اور یوں وہ دوسروں کے غلام بن جائیں اور اس کے مقابلے میں بعض دوسرے لوگ اس نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ یوں فریق اول ان مخالفین پر حتی المقدور مظالم ڈھانے لگتا ہے ۔ اب دو فریق میدان میں ہوتے ہیں ۔ ان دونوں کی خواہشات ‘ میلانات اور مقاصد ومفادات کے درمیان ٹکراؤ ہوجاتا ہے ۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں وہ ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھتے ہیں ۔ بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں ‘ ایک دوسرے پر غصہ ہوتے اور ان سب تضادات کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ یہ دونوں فریق کسی ایک پیمانے پر متفق نہیں ہوتے ۔ وہ پیمانہ معبود نے سب کے لئے تجویز کیا ہے جس کے مطابق تمام لوگ رب ذوالجلال کے بندے ہوتے ہیں ۔ اس رب کے سامنے کوئی بھی جھکنے سے نہیں کتراتا نہ وہ اس عبادت اور جھکنے میں اپنے لئے کوئی سبکی محسوس کرتا ہے ۔

اس کرہ ارض پر سب سے بڑا فتنہ یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ یہ مطالبہ لے کر اٹھیں کہ دوسرے …

Al-An'aam 6:65Listen in Qur'an →
66

وَكَذَّبَ بِهِۦ قَوْمُكَ وَهُوَ ٱلْحَقُّ ۚ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍۢ

اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے۔ کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں

(آیت) ” نمبر 66 تا 67۔

یہاں روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف ہے ۔ اس خطاب کے ذریعے نبی کریم ﷺ اور آپ کے بعد آنے والے اہل ایمان کے کاسہ دل کو ایمان ویقین سے بھر دیا جاتا ہے ۔ اگرچہ ایک داعی کی پوری قوم اور پورا معاشرہ حق کو جھٹلا دے تب بھی اسے یقین ہوتا ہے کہ حق غالب رہے گا اس لئے کہ سچائی کے بارے میں فیصلہ کرنا اہل جاہلیت کا کام نہیں ہے ‘ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ حق اور باطل کا فیصلہ کرے ۔ اللہ ہی ہے جو یہ اعلان کرسکتا ہے کہ فلاں چیز حق ہے اور فلاں چیز باطل ۔ لہذا جھٹلانے والوں کے کسی فیصلے کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے ۔

اس کے بعد حضرت نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی قوم سے دامن جھاڑ دیں اور اعلان کردیں کہ وہ ان سے بری الذمہ ہیں اور یہ کہ اب ان کی اور ان کی قوم کی راہیں جدا ہوگئی ہیں اور یہ بھی اعلان کردیں کہ وہ ان کے معاملے میں کسی چیز کے مختار وحوالہ دار نہیں ہیں اور نہ ان کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں ۔ ان کا فریضہ اس وقت ختم ہوجاتا ہے جب وہ پیغام پہنچا دیں اور سمجھا دیں کیونکہ ذمہ داری اور نگہبانی رسولوں کی ڈیوٹی میں شامل نہیں ہے ۔ جب کوئی رسول پیغام پہنچا دے اور سمجھا دے تو اس کا فریضہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد رسول اقوام کو چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے فطری انجام تک پہنچ جائیں ‘ کیونکہ ہر بات اپنے مقررہ وقت پر ظاہر ہوجاتی ہے اور جب بات سامنے آجاتی ہے تو سب اسے جان لیتے ہیں ۔

(آیت) ” لِّکُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (67)

” ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے ‘ عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہوجائے گا “۔

یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کیا بات ہے جو ظاہر ہونے والی ہے ۔ ایسے مقامات پر بات کو مجمل رکھنا زیادہ خوفناک ہوتا ہے ۔ مارے ڈر کے دل کانپ اٹھتے ہیں ۔

آیات میں حق پر ثابت قدمی کی تلقین ہے یقین دلایا گیا ہے کہ باطل کا ظاہری غلغلہ جس قدر بھی ہوں اس کا انجام بہرحال برا ہوگا اور ایک مقررہ وقت پر اللہ کی جانب سے اہل باطل کو پکڑا جاتا ہے اور یہ کہ ہر بات کے ظہور کا وقت مقرر ہے اور ہر حاضر صورت حال کا ایک انجام سامنے آنے والا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ داعیان حق کو اپنی قوم کی جانب سے جس تکذیب اور سرد مہری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ‘ ان پر اپنے خاندان کی جانب سے جو مظالم ہوتے ہیں ‘ جس طرح وہ اپنے اہل و عیال میں بیگانے بن جاتے ہیں ‘ انہیں جن اعصاب شکن حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ‘ ایسے حالات میں فی الواقعہ وہ ایسی ہی تسلی کے محتاج ہوتے ہیں ‘ انہیں جن اعصاب شکن حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ‘ ایسے حالات میں فی الواقعہ وہ ایسی ہی تسلی کے محتاج ہوتے ہیں ‘ اس طرح ان کا کاسہ دل اطمینان اور یقین سے بھر جاتا ہے اور یہ اطمینان اور سکینت قرآن ہی ان کے دلوں میں پیدا کرسکتا ہے ۔

جب پیغمبر ﷺ نے ان تک یہ پیغام دیا اور ان کی جانب سے ناروا تکذیب و انکار کا جواب ان کے ساتھ قطع تعلق کے ذریعے دے دیا گیا تو اب حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کی ہمنشینی اختیار نہ کریں ‘ یہاں تک کہ تبلیغی مقاصد کے لئے بھی ان کے پاس نہ جائیں اگر حالات ایسے ہوں کہ وہ اسلام پر تنقید اور نکتہ چینیاں کر رہے ہو اور عزت واحترام اور سنجیدگی سے اسلامی موضوعات پر بحث نہ کر رہے ہوں ۔ اسلام جس سنجیدہ عزت ووقار اور رعب وداب کا تقاضا کرتا ہے وہ اس کا لحاظ نہ کررہے ہوں بلکہ الٹا دین کے ساتھ مذاق کر رہے ہوں اور ہنسی مزاح کے ساتھ ریمارکس پاس کر رہے ہوں چاہے اپنی زبان سے وہ ایسا کر رہے ہوں یا عمل کے ساتھ ۔ ایسے حالات میں حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ ہم نشینی اختیار نہ کی جائے کیونکہ اس طرح معنوی اعتبار سے ہم نشینی کرنے والا ان باتوں کا تائید کنندہ تصور ہوگا یا کم از کم یہ تصور ہوگا کہ ایسے شخص کے اندر کوئی دینی غیرت نہیں ہے ۔ اگر شیطان کسی مسلمان کو بہلاوے میں ڈال دے اور وہ ایسی …

Al-An'aam 6:66Listen in Qur'an →
67

لِّكُلِّ نَبَإٍۢ مُّسْتَقَرٌّۭ ۚ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا

(آیت) ” نمبر 66 تا 67۔

یہاں روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف ہے ۔ اس خطاب کے ذریعے نبی کریم ﷺ اور آپ کے بعد آنے والے اہل ایمان کے کاسہ دل کو ایمان ویقین سے بھر دیا جاتا ہے ۔ اگرچہ ایک داعی کی پوری قوم اور پورا معاشرہ حق کو جھٹلا دے تب بھی اسے یقین ہوتا ہے کہ حق غالب رہے گا اس لئے کہ سچائی کے بارے میں فیصلہ کرنا اہل جاہلیت کا کام نہیں ہے ‘ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ حق اور باطل کا فیصلہ کرے ۔ اللہ ہی ہے جو یہ اعلان کرسکتا ہے کہ فلاں چیز حق ہے اور فلاں چیز باطل ۔ لہذا جھٹلانے والوں کے کسی فیصلے کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے ۔

اس کے بعد حضرت نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی قوم سے دامن جھاڑ دیں اور اعلان کردیں کہ وہ ان سے بری الذمہ ہیں اور یہ کہ اب ان کی اور ان کی قوم کی راہیں جدا ہوگئی ہیں اور یہ بھی اعلان کردیں کہ وہ ان کے معاملے میں کسی چیز کے مختار وحوالہ دار نہیں ہیں اور نہ ان کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں ۔ ان کا فریضہ اس وقت ختم ہوجاتا ہے جب وہ پیغام پہنچا دیں اور سمجھا دیں کیونکہ ذمہ داری اور نگہبانی رسولوں کی ڈیوٹی میں شامل نہیں ہے ۔ جب کوئی رسول پیغام پہنچا دے اور سمجھا دے تو اس کا فریضہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد رسول اقوام کو چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے فطری انجام تک پہنچ جائیں ‘ کیونکہ ہر بات اپنے مقررہ وقت پر ظاہر ہوجاتی ہے اور جب بات سامنے آجاتی ہے تو سب اسے جان لیتے ہیں ۔

(آیت) ” لِّکُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (67)

” ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے ‘ عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہوجائے گا “۔

یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کیا بات ہے جو ظاہر ہونے والی ہے ۔ ایسے مقامات پر بات کو مجمل رکھنا زیادہ خوفناک ہوتا ہے ۔ مارے ڈر کے دل کانپ اٹھتے ہیں ۔

آیات میں حق پر ثابت قدمی کی تلقین ہے یقین دلایا گیا ہے کہ باطل کا ظاہری غلغلہ جس قدر بھی ہوں اس کا انجام بہرحال برا ہوگا اور ایک مقررہ وقت پر اللہ کی جانب سے اہل باطل کو پکڑا جاتا ہے اور یہ کہ ہر بات کے ظہور کا وقت مقرر ہے اور ہر حاضر صورت حال کا ایک انجام سامنے آنے والا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ داعیان حق کو اپنی قوم کی جانب سے جس تکذیب اور سرد مہری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ‘ ان پر اپنے خاندان کی جانب سے جو مظالم ہوتے ہیں ‘ جس طرح وہ اپنے اہل و عیال میں بیگانے بن جاتے ہیں ‘ انہیں جن اعصاب شکن حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ‘ ایسے حالات میں فی الواقعہ وہ ایسی ہی تسلی کے محتاج ہوتے ہیں ‘ انہیں جن اعصاب شکن حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ‘ ایسے حالات میں فی الواقعہ وہ ایسی ہی تسلی کے محتاج ہوتے ہیں ‘ اس طرح ان کا کاسہ دل اطمینان اور یقین سے بھر جاتا ہے اور یہ اطمینان اور سکینت قرآن ہی ان کے دلوں میں پیدا کرسکتا ہے ۔

جب پیغمبر ﷺ نے ان تک یہ پیغام دیا اور ان کی جانب سے ناروا تکذیب و انکار کا جواب ان کے ساتھ قطع تعلق کے ذریعے دے دیا گیا تو اب حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کی ہمنشینی اختیار نہ کریں ‘ یہاں تک کہ تبلیغی مقاصد کے لئے بھی ان کے پاس نہ جائیں اگر حالات ایسے ہوں کہ وہ اسلام پر تنقید اور نکتہ چینیاں کر رہے ہو اور عزت واحترام اور سنجیدگی سے اسلامی موضوعات پر بحث نہ کر رہے ہوں ۔ اسلام جس سنجیدہ عزت ووقار اور رعب وداب کا تقاضا کرتا ہے وہ اس کا لحاظ نہ کررہے ہوں بلکہ الٹا دین کے ساتھ مذاق کر رہے ہوں اور ہنسی مزاح کے ساتھ ریمارکس پاس کر رہے ہوں چاہے اپنی زبان سے وہ ایسا کر رہے ہوں یا عمل کے ساتھ ۔ ایسے حالات میں حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ ہم نشینی اختیار نہ کی جائے کیونکہ اس طرح معنوی اعتبار سے ہم نشینی کرنے والا ان باتوں کا تائید کنندہ تصور ہوگا یا کم از کم یہ تصور ہوگا کہ ایسے شخص کے اندر کوئی دینی غیرت نہیں ہے ۔ اگر شیطان کسی مسلمان کو بہلاوے میں ڈال دے اور وہ ایسی …

Al-An'aam 6:67Listen in Qur'an →
68

وَإِذَا رَأَيْتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِىٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا۟ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِۦ ۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيْطَٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ ٱلذِّكْرَىٰ مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہوں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں۔ اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

(آیت) ” نمبر 68۔

یہ حکم رسول اللہ ﷺ کے لئے تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے بعد آنے والے مسلمان بھی اس میں شامل ہوں ۔ یہ حکم کی دور کے لئے تھا ۔ اس وقت آپ کا کام صرف دعوت وتبلیغ تک محدود تھا اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ آپ جہاد و قتال سے باز رہیں ۔ آپ کو یہ ہدایت تھی کہ آپ مشرکین کے ساتھ تصادم سے باز رہیں ۔ چناچہ اس دور میں آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ جب دیکھیں کہ مشرکین کی کسی مجلس میں دین اسلام کے خلاف بدتمیزی ہورہی ہے تو آپ ایسی مجالس میں بیٹھنے سے اجتناب فرمائیں اور اگر کبھی ایسا ہو کہ شیطان آپ کو بہلاوے میں ڈال دے اور آپ کسی ایسی مجلس میں پہنچ جائیں اور وہاں اسلام کے بارے میں گستاخانہ باتیں ہو رہی ہوں تو آپ یاد آتے ہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوں ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اہل اسلام سب کو یہی حکم تھا ۔ یہاں ظالمون سے مراد مشرکون ہے جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ چکے ہیں ۔ قرآن کریم کا یہ عام انداز گفتگو ہے ۔

لیکن جب مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی تو اس وقت مشرکین کے مقابلے میں حضور ﷺ کی پوزیشن مختلف تھی ۔ اب پوزیشن یہ تھی کہ حضور ﷺ ان کے مقابلے میں اس وقت تک جہاد و قتال جاری رکھے ہوئے تھے جب تک تمام فتنوں کا استیصال نہیں کردیا جاتا اور کسی کو یہ جرات ہی نہی رہتی کہ وہ آیات الہیہ کے خلاف کوئی ہرزہ سرائی کرے ۔

اس کے بعد سیاق کلام مومنین اور مشرکین کے درمیان مکمل فرق و امتیاز کی بات کو پھر دہراتا ہے جس طرح اس سے قبل رسول اللہ ﷺ اللہ اور مشرکین کے درمیان جدائی کا فیصلہ ہوا تھا ۔ یہاں فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ دونوں کے انجام اور ذمہ داریوں میں بھی فرق ہے ۔

Al-An'aam 6:68Listen in Qur'an →
69

وَمَا عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍۢ وَلَٰكِن ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں

(آیت) ” نمبر 69۔

اسلامی نظام میں متعین اور مشرکین کے درمیان کوئی مشترکہ ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ متقین اور مشرکین دو علیحدہ علیحدہ امتیں ہیں ۔ اگرچہ رنگ ونسل اور قوم و حکومت میں وہ ایک ہوں ۔ کیونکہ اسلامی پیمانے کے مطابق رنگ ‘ نسل اور قوم کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اہل تقوی ایک امت ہیں اور ظالم اور مشرک بالکل ایک دوسری امت ہیں ۔ ظالموں کے حساب و کتاب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری اہل تقوی پر نہیں ہے ۔ ہاں ان کی ذمہ داری اس حد تک ضروری ہے کہ وہ ظالموں کی اصلاح کے لئے سعی کرتے رہیں تاکہ وہ بھی انکی طرح اہل تقوی بن جائیں اور ان کی امت کا حصہ بن جائیں ۔ اگر اہل تقوی اور اہل ظلم کے درمیان نظریاتی اتحاد نہیں ہوجاتا تو پھر ان کے درمیان کسی اور بات پر اشتراک نہیں ہوسکتا ۔

یہ ہے دین اسلام اور یہ ہے اللہ کا کلام ۔ اگر کوئی اس کے سوا کوئی اور بات کرتا ہے یا کوئی اور طرز عمل اختیار کرتا ہے تو یہ فعل اس کا اپنا ہوگا لیکن اسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اپنے اس طرز عمل کے سبب دین اسلام سے خارج بھی ہو سکتا ہے ۔ ذرا مزید مطالعہ کیجئے ‘ قرآن کریم کچھ مزید ہدایات دیتا ہے ‘ اہل حق واہل باطل کے درمیان مکمل جدائی کی کچھ مزید حدود وقیود بیان کی جاتی ہیں ۔

Al-An'aam 6:69Listen in Qur'an →
70

وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَعِبًۭا وَلَهْوًۭا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ بِهِۦٓ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِىٌّۭ وَلَا شَفِيعٌۭ وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍۢ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَآ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أُبْسِلُوا۟ بِمَا كَسَبُوا۟ ۖ لَهُمْ شَرَابٌۭ مِّنْ حَمِيمٍۢ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ

اور جن لوگوں نے اپنےدین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کےسوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے

(آیت) ” نمبر 70۔

اس میں ہم درج ذیل حقائق کے سامنے کھڑے ہیں :

ایک یہ کہ حضور ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان لوگوں سے قطع تعلق کرلیں جو آپ کے دین اور اسلامی نظام کے ساتھ ٹھٹھا مذاق کرتے ہیں اور آپ کے بعد اہل ایمان کے لئے بھی یہی ہدایت آتی ہے اور یہ قطع تعلق اور جدائی بات چیت میں بھی ہوتی ہے اور عمل میں بھی ۔ جو لوگ دین اسلام کو اپنی زندگی کا ضابطہ بنا کر ‘ اپنے لئے ماخذ نظریات قرار دے کر ‘ اپنے لئے نظام عمل بنا کر ‘ اپنے لئے نظام اخلاق اور اپنے لئے نظام قانون قرار دے کر اس کا صحیح مقام نہیں دیتے اور اسے پروقار نہیں بناتے وہ بھی دراصل اس دین کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ جو لوگ اس دین کے موضوعات پر بحث کرتے ہیں ‘ اسلامی شریعت پر کلام کرتے ہیں اور اس دین کی طرف قابل تضحیک اوضاف کی نسبت کرتے ہیں وہ بھی دین کے ساتھ مذاق کرنے والوں میں شامل ہیں ۔ مثلا وہ لوگ جو غیب کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور عالم غیب کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں حالانکہ ایمان بالغیب اصول عقائد میں سے ہے اور جو لوگ زکوۃ کے ساتھ مزاح کرتے ہیں حالانکہ وہ دین کے بنیادوں میں سے ہے ۔ اور جو لوگ شرم وحیاء اور عفت و پاکیزگی کے ساتھ مزاح کرتے ہیں حالانکہ یہ اصول دین میں سے ہیں ۔ یہ لوگ اپنی تقریروں اور تحرروں میں انہیں قرون اولی کے زرعی اور جاگیردارنہ اخلاق میں سے قرار دیتے ہیں یا انہیں بورژوا اخلاق قرار دیتے ہیں اور جو لوگ حقوق الزوجین کے بارے میں تحقیر آمیز ریمارکس پاس کرتے ہیں اور جو لوگ عورت کے لئے مقرر اصول عفت و پاکیزگی کو عورت کی پسماندگی اور اس کا استحصال قرار دیتے ہیں اور سب سے آخر میں اور تمام باتوں سے پہلے وہ انسانوں کی پوری زندگی میں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتے اور انسان کی سیاسی ‘ اجتماعی ‘ اقتصادی اور قانونی زندگی میں اللہ کی حاکمیت کے قائل نہیں ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ ان شعبوں میں لوگ اللہ کی شریعت سے بغاوت کرتے ہوئے اپنے اختیارات استعمال کرسکتے ہیں ۔ یہ سب لوگ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہیں اور اللہ کے دین کے ساتھ ٹھٹھا مذاق کرنے والے سمجھے جائیں گے ۔ اس لئے ہر مسلمان کو حکم ہے کہ وہ ماسوائے تبلیغی مقاصد کے ان لوگوں سے دور رہے اس لئے کہ یہ لوگ ظالم اور مشرک ہیں اور ان کافروں میں سے ہیں جو اپنے کفریہ اعمال میں گرفتار ہونے والے ہیں اور قیامت میں ان کی تواضع کھولتے ہوئے پانی سے کی جائے گی اور وہ دردناک عذاب میں رہیں گے ‘ اس لئے کہ یہ لوگ مذکورہ کفریہ روش میں مبتلا تھے ۔

دوسری حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو ایک طرف چھوڑ دیں اور یہی حکم آپ کے بعد آنے والے اہل ایمان کے لئے بھی باقی ہے ۔ لیکن حضور کو اس مقاطعہ کے ساتھ ساتھ یہ ہدایت بھی دی گئی کہ وہ لوگ جنہوں نے اس دین کے ساتھ ہنسی مذاق کو اپنا شیوہ بنا رکھا ہے اور انہیں دنیا کی اس عارضی زندگی نے فریب میں ڈال دیا ہے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے بھی انہیں یاد دہانی کراتے جائیں ۔ انہیں ڈراتے رہیں کہ وہ جو کچھ برائیاں سمیٹ رہے ہیں ان کا وبال ان کی جان پر ہوگا اور ایک وقت آنے والا ہے جس میں وہ اللہ سے ملیں گے اور اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا جو کچھ بھی تعاون کرسکے ۔ نہ کوئی ان کا سفارشی ہوگا ‘ نہ ان سے کوئی مالی تاوان قابل قبول ہوگا جس کے ذریعے وہ اپنی جان کو ان باتوں سے چھڑا سکیں جن کا انہوں نے دنیا میں ارتکاب کیا ۔ یہ مفہوم قرآن کریم نے جن الفاظ میں ادا کیا ہے ‘ ان کی خوبصورتی اور معنوی گہرائی قابل غور ہے ۔ ذرا دوبارہ تلاوت کیجئے ۔

(آیت) ” وَذَکِّرْ بِہِ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا کَسَبَتْ لَیْْسَ لَہَا مِن دُونِ اللّہِ وَلِیٌّ وَلاَ شَفِیْعٌ وَإِن تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍ لاَّ یُؤْخَذْ مِنْہَا (6 : 70)

” ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور متنبہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص …

Al-An'aam 6:70Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.