Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 61–70 of 165

61

وَهُوَ ٱلْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِۦ ۖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے

وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ : ” َهُوَ “ اس جملے میں مبتدا ہے، ” الْقَاهِرُ “ خبر پر الف لام آنے کی وجہ سے ترجمہ ” وہی “ کیا ہے۔ ” الْقَاهِرُ “ کے معنی غالب ہیں اور یہ ” اَلْقَادِرُ “ سے زائد صفت ہے، یعنی خود قادر ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے کو مراد حاصل کرنے سے روک دینے والا بھی ہے۔ (بغوی) اللہ تعالیٰ کی صفت قہاریت یہ ہے کہ وہ کائنات کو عدم سے وجود میں لایا، پھر وجود پر فنا اور خرابی طاری کرتا رہتا ہے، تو کائنات میں جس قدر بھی پیدا کرنے اور فنا کرنے کا کام ہو رہا ہے سب اللہ تعالیٰ کی قہاریت کا مظہر ہے۔ سورة آل عمران کی آیات (٢٦، ٢٧) اس صفت کی پوری تشریح کر رہی ہیں۔ - وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً ۭ: حفاظت کرنے والے کچھ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی آفات سے حفاظت کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ ) [ الرعد : ١١ ] ” اس کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے آنے والے کئی پہرے دار ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ “ اور کچھ وہ ہیں جو انسان کا عمل لکھتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِين، كِرَامًا كَاتِبِيْنَ ، يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ ) [ الانفطار : ١٠ تا ١٢ ] ” حالانکہ بلاشبہ تم پر یقیناً نگہبان ( مقرر) ہیں۔ جو بہت عزت والے لکھنے والے ہیں۔ وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔ “- حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ۔۔ : فوت کرنے والے فرشتے کا نام عزرائیل مشہور ہے، لیکن شیخ البانی (رض) نے ایسی تمام روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔ [ أحکام الجنائز، باب بدع الجنائز، حاشیہ بدعۃ، رقم : ٩٢ ] قرآن مجید میں اسے ملک الموت کہا گیا ہے، فرمایا : (قُلْ يَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ ) [ السجدۃ : ١١ ] ” کہہ دے تمہیں موت کا فرشتہ قبض کرلے گا۔ “- ” تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا “ سے معلوم ہوتا ہے کہ موت والے کئی فرشتے ہیں اور کئی آیات میں اللہ تعالیٰ کے روح قبض کرنے کا ذکر ہے، جیسے فرمایا : (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا ) [ الزمر : ٤٢ ] ” اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے۔ “ ان تمام آیات کو مد نظر رکھیں تو صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ روح قبض کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے، جس کے حکم سے سب کچھ ہوتا ہے، پھر ملک الموت ہے، جو اکثر علماء کے نزدیک ایک ہی ہے، البتہ اس کے معاون رحمت اور عذاب کے فرشتے کئی ہیں، جیسا کہ زیر تفسیر آیت اور براء بن عازب (رض) کی حدیث میں آیا ہے کہ ملک الموت کے ساتھ رحمت اور عذاب کے فرشتے بھی ہوتے ہیں۔ - وَهُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ : یعنی جس کی جان قبض کرتے ہیں اللہ کے حکم سے اس کے مقررہ وقت پر کرتے ہیں، نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد ۔

Al-An'aam 6:61Listen in Qur'an →
62

ثُمَّ رُدُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ مَوْلَىٰهُمُ ٱلْحَقِّ ۚ أَلَا لَهُ ٱلْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ ٱلْحَٰسِبِينَ

پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے۔ سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے

ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ ۭ پھر اللہ تعالیٰ جو ان کا سچا مالک ہے، جس نے اپنے حکم سے انھیں دنیا میں بھیجا تھا، اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

Al-An'aam 6:62Listen in Qur'an →
63

قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَٰتِ ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ تَدْعُونَهُۥ تَضَرُّعًۭا وَخُفْيَةًۭ لَّئِنْ أَنجَىٰنَا مِنْ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ

کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اسے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس (تنگی) سے نجات بخشے تو ہم اس کے بہت شکر گزار ہوں

قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ ۔۔ : یہ حالت ان مشرکوں کی تھی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تھے، ہمارے زمانے میں مسلمان کہلانے والے کئی ایسے لوگ ہیں جو مشکل میں پھنسے ہوئے بھی دوسروں کو پکارتے ہیں۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ]

Al-An'aam 6:63Listen in Qur'an →
64

قُلِ ٱللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍۢ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ

کہو کہ خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے۔ پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو

Explained together with ayah 63

Al-An'aam 6:64Listen in Qur'an →
65

قُلْ هُوَ ٱلْقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًۭا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًۭا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ

کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ ۔۔ : اوپر سے عذاب جیسے بارش کی کثرت، طوفان، بجلی، اولے اور آندھی وغیرہ، یا ظالم حکمران، یا عورت کے لیے اس پر ظلم کرنے والا خاوند اور نیچے سے عذاب، جیسے زلزلہ، قحط، زمین میں دھنس جانا، یا ایسے ماتحت جو خائن اور بددیانت ہوں، مرد کے لیے ناموافق بیوی۔ ” اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا “ یعنی مختلف گروہ بنا کر انھیں آپس میں گتھم گتھا کر دے، یہ لڑائی بھی خوفناک عذاب ہے۔ جابر (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے “ تو آپ نے دعا کی : ” میں تیرے چہرے کی پناہ چاہتا ہوں۔ “ پھر یہ نازل ہوا : ” یا تمہارے نیچے سے “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : ” میں تیرے چہرے کی پناہ چاہتا ہوں۔ “ پھر یہ نازل ہوا :” یا تمہیں گروہ بنا کر آپس میں گتھم گتھا کر دے “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ ان دونوں سے ہلکا عذاب ہے۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب : ( قل ھو القادر علٰی۔۔ ) : ٤٦٢٨ ]- سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں :1 میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری ساری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول فرمائی۔ 2 میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میری ساری امت کو قحط میں مبتلا نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ نے میری اس دعا کو بھی قبول فرما لیا۔ 3 میں نے دعا کی کہ میری امت کو آپس میں اختلاف اور انتشار سے بچائے تو اللہ تعالیٰ نے میری اس دعا کو قبول نہیں فرمایا۔ “ [ مسلم، الفتن، باب ہلاک ہذہ الأمۃ بعضھم ببعض : ٢٨٩٠ ]

Al-An'aam 6:65Listen in Qur'an →
66

وَكَذَّبَ بِهِۦ قَوْمُكَ وَهُوَ ٱلْحَقُّ ۚ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍۢ

اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے۔ کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں

وَكَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ : تیری قوم نے اسے جھٹلا دیا۔ اس ” بہ “ کی ضمیر سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور اوپر کی آیات میں مذکور عذاب بھی۔ (قُلْ لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ ) یعنی میرا یہ کام نہیں ہے کہ تمہارے جھٹلا دینے اور بد تمیزی کرنے پر خود عذاب نازل کر دوں، میرا کام تو صرف یہ ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور نہ ماننے والوں کو اس کی سزا بتادوں، اس کے بعد عذاب بھیجنا یا نہ بھیجنا اللہ کے اختیار میں ہے اور اس سے بچنے کی فکر کرنا تمہارا کام ہے۔

Al-An'aam 6:66Listen in Qur'an →
67

لِّكُلِّ نَبَإٍۢ مُّسْتَقَرٌّۭ ۚ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْـتَقَرٌّ ۡ۔۔ : اس آیت میں کفار کے لیے دھمکی ہے۔ (رازی) یعنی اللہ کی دی ہوئی خبر غلط نہیں ہوسکتی، لیکن اس کا ایک وقت متعین ہے۔ چناچہ جس عذاب کا تم مطالبہ کر رہے ہو، جب اس کا وقت آئے گا تو وہ بھی نازل ہوجائے گا۔ اس وقت تم جان لو گے کہ جس چیز سے میں تمہیں بار بار ڈرا رہا تھا وہ کہاں تک سچی تھی۔ اس عذاب سے مراد آخرت کا عذاب بھی ہے اور وہ عذاب بھی جو دنیا میں کفار پر لڑائی، خوف اور قحط کی صورت میں نازل ہوا۔

Al-An'aam 6:67Listen in Qur'an →
68

وَإِذَا رَأَيْتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِىٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا۟ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِۦ ۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيْطَٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ ٱلذِّكْرَىٰ مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہوں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں۔ اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ ۔۔ : یعنی جب تم ایسے لوگوں کی مجلس دیکھو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کا مذاق اڑا رہے ہوں، یا عملاً ان کی بےقدری کر رہے ہوں، یا وہ اہل بدعت ہوں جو اپنی بےجا تاویلوں اور تحریفات سے آیات الٰہی کو توڑ مروڑ رہے ہوں، یا ان پر نکتہ چینی کر رہے ہوں اور الٹے سیدھے معنی پہنا کر ان کا مذاق اڑا رہے ہوں، تو اس مجلس سے اس وقت تک کنارہ کرو جب تک وہ دوسری باتوں میں مشغول نہ ہوجائیں اور اگر شیطان کے بھلانے سے اس مجلس میں بیٹھ ہی جاؤ تو یاد آنے کے بعد ان ظالموں کی مجلس میں بیٹھے نہ رہو۔ سورة نساء (١٤٠) میں یہ حکم پہلے بھی گزر چکا ہے، اس میں یہ بھی ہے : ( اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ ) ” بیشک اس وقت تم بھی ان جیسے ہو گے۔ “ اہل بدعت کی صحبت اس صحبت سے بھی کئی درجے بدتر ہے جس میں گناہوں کا علانیہ ارتکاب ہو رہا ہو، خصوصاً اس شخص کے لیے جو علمی اور ذہنی طور پر پختہ نہ ہو اور بدعتیوں کی غلط تاویلوں کی غلطی سمجھنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو۔ ہاں، اہل علم ان کی غلط باتوں پر تنقید کے لیے اور کلمۂ حق بلند کرنے کے لیے ایسی مجلسوں میں شریک ہوسکتے ہیں۔

Al-An'aam 6:68Listen in Qur'an →
69

وَمَا عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍۢ وَلَٰكِن ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں

وَمَا عَلَي الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ ۔۔ : شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں، یعنی اگر کوئی متقی شخص چاہے کہ ایسے جاہلوں کے پاس نصیحت کے لیے بھی نہ بیٹھے تو اس کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ نہ بیٹھے تو اس پر ان کے گمراہ رہنے کا کوئی گناہ نہیں، البتہ انھیں نصیحت کرے تو بہتر ہے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ ڈر جائیں تو اسے نصیحت کرنے کا ثواب مل جائے۔ (موضح) اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ پرہیزگار لوگ اگر ان کی مجلس میں نصیحت کے لیے بیٹھ جائیں تو کچھ حرج نہیں ہے، لیکن ہم نے جو کنارہ کرنے کا حکم دیا ہے تو اس نصیحت کے پیش نظر کہ شاید تمہارے کنارہ کرنے کی وجہ سے وہ اس قسم کی بےہودگی سے باز آجائیں۔ واللہ اعلم (ابن کثیر)

Al-An'aam 6:69Listen in Qur'an →
70

وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَعِبًۭا وَلَهْوًۭا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ بِهِۦٓ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِىٌّۭ وَلَا شَفِيعٌۭ وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍۢ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَآ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أُبْسِلُوا۟ بِمَا كَسَبُوا۟ ۖ لَهُمْ شَرَابٌۭ مِّنْ حَمِيمٍۢ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ

اور جن لوگوں نے اپنےدین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کےسوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے

وَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا۔۔ : اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ جو لوگ دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں اور دنیا کی زندگی نے انھیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے، آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور اس قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو نصیحت کرتے رہیں، ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنے برے اعمال کی وجہ سے جو اس نے کمائے، ہلاک کردیا جائے، پھر آخرت میں اس کے چھوٹنے کی کوئی صورت ہی نہ رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا اور وہ کوئی بھی فدیہ دیں ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی کمائی اور بد اعمال کی وجہ سے ہلاک کردیے گئے۔ ان کے پینے کے لیے سخت گرم پانی ہوگا اور ان کے کفر کی وجہ سے ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ دیکھیے سورة بقرہ (٤٨) ۔

Al-An'aam 6:70Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.