Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 61–70 of 165

61

وَهُوَ ٱلْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِۦ ۖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے

تیسری آیت میں اسی مضمون کی مزید تفصیل اس طرح بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں پر ایک قوت قاہرہ رکھتا ہے، جب تک اس کو ان کا زندہ رکھنا منظور ہوتا ہے تو حفاظت کرنے والے فرشتے ان کی حفاظت کے لئے بھیج دیتا ہے، کسی کی مجال نہیں جو اس کو نقصان پہنچائے اور جب کسی بندہ کا مقررہ وقت عمر کا پورا ہوجاتا ہے تو یہی حفاظت کرنے والے فرشتے اس کی موت کا ذریعہ بن جاتے ہیں، اور اب اس کی موت کے اسباب فراہم کرنے میں ذرا کمی نہیں کرتے، اور پھر مر کر ہی معاملہ ختم نہیں ہوجاتا۔ بلکہ ردوا الی اللّٰہ، یعنی دوبارہ زندہ ہو کر پھر اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر کئے جائیں گے، اس جگہ احکم الحاکمین کے سامنے پیشی اور عمر بھر کے حساب کا جب خیال کیا جائے تو کسی کی مجال ہے جو پورا اتر سکے، اور عذاب سے بچ نکلے، اس لئے اس کے ساتھ ہی ارشاد فرمایا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ یعنی اللہ تعالیٰ صرف حاکم اور احکم الحاکمین ہی نہیں وہ اپنے بندوں کے مولیٰ بھی ہیں جو ہر موقع پر ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔- اس کے بعد فرمایا اَلَا لَهُ الْحُكْمُ ، بیشک فیصلہ اور حکم صرف اسی کا ہے، یہاں یہ خیال ہوسکتا تھا کہ ایک ذات اور اربوں انسانوں کی پوری پوری عمروں کا حساب نمٹے گا کسی طرح ؟ اس لئے اس کے بعد فرمایا وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ یعنی اللہ تعالیٰ کے کاموں کو اپنے کاموں پر قیاس کرنا جہالت ہے، وہ بہت جلد سب حساب پورا فرما لیں گے۔

Al-An'aam 6:61Listen in Qur'an →
62

ثُمَّ رُدُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ مَوْلَىٰهُمُ ٱلْحَقِّ ۚ أَلَا لَهُ ٱلْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ ٱلْحَٰسِبِينَ

پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے۔ سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے

Explained together with ayah 61

Al-An'aam 6:62Listen in Qur'an →
63

قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَٰتِ ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ تَدْعُونَهُۥ تَضَرُّعًۭا وَخُفْيَةًۭ لَّئِنْ أَنجَىٰنَا مِنْ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ

کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اسے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس (تنگی) سے نجات بخشے تو ہم اس کے بہت شکر گزار ہوں

خلاصہ تفسیر - آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان لوگوں سے) کہئے کہ وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور دریا کی ظلمات (یعنی شدائد) سے اس حالت میں نجات دے دیتا ہے کہ تم اس کو (نجات دینے کے لئے) پکارتے ہو (کبھی) تذلل ظاہر کرکے اور (کبھی) چپکے چپکے (اور یوں کہتے ہو) کہ (اے اللہ) اگر آپ ہم کو ان (ظلمات) سے (اب کے) نجات دیدیں تو (پھر) ہم ضرور حق شناسی (پر قائم رہنے) والوں میں سے ہوجاویں (یعنی آپ کی توحید کے کہ بڑی حق شناسی ہے قائل رہیں، اور اس سوال کا جواب چونکہ متعین ہے اور وہ لوگ بھی کوئی دوسرا جواب نہ دیں گے اس لئے) آپ (ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تم کو ان سے نجات دیتا ہے (جب کبھی نجات ملتی ہے) اور (ان ظلمات مذکورہ کی کیا تخصیص ہے بلکہ) ہر غم سے (وہی نجات دیتا ہے مگر) تم (ایسے ہو کہ) پھر بھی (بعد نجات پانے کے بدستور) شرک کرنے لگتے ہو (جو کہ اعلیٰ درجہ کی ناحق شناسی ہے، اور وعدہ کیا تھا حق شناسی کا، غرض یہ کہ شدائد میں تمہارے اقرار سے توحید کا حق ہونا ثابت ہوجاتا ہے، پھر انکار کب قابل التفات ہے) ۔- معارف و مسائل - علم الٓہی اور قدرت مطلقہ کے کچھ مظاہر - پچھلی آیتوں میں اللہ جل شانہ کے علم وقدرت کا کمال اور ان کی بےمثال وسعت بیان کی گئی تھی، مذکورہ آیات میں اسی علم وقدرت کے کچھ آثار اور مظاہر کا بیان ہے۔- پہلی آیت میں لفظ ظلمات، ظلمة کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں اندھیری، ظلمات البر والبحر کے معنی خشکی اور دریا کی اندھیریاں ہے۔ چونکہ اندھیری کی مختلف قسمیں ہیں رات کی اندھیری، گھٹا بادل کی اندھیری، گردوغبار کی اندھیری، ان تمام قسموں کو شامل کرنے کے لئے لفظ ظلمات جمع استعمال فرمایا گیا ہے۔- اگرچہ انسان کے سونے اور آرام کرنے کے لئے اندھیرا بھی ایک نعمت ہے، لیکن عام حالات میں انسان کا کام روشنی ہی سے چلتا ہے، اور اندھیری سب کاموں سے معطل کرنے کے علاوہ بہت سے مصائب اور آفات کا سبب بن جاتی ہے، اس لئے عرب کے محاورہ مفسرین کے یہی معنی بیان فرمائے ہیں۔ - مطلب آیت کا یہ ہوا کہ اللہ جل شانہ نے مشرکین مکہ کو تنبیہ اور ان کی غلط کاری پر آگاہ کرنے کے لئے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ وہ ان لوگوں سے یہ سوال کریں کہ برّی اور بحری سفروں میں جب بھی وہ کسی مصیبت میں گھر جاتے ہیں، اور اس وقت تمام بتوں کو بھول کر صرف اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں، کبھی علانیہ طور پر اپنی ذلت و عاجزی کا اعتراف کرتے ہیں، اور کبھی دل دل میں اس کا اقرار کرتے ہیں کہ اس مصیبت سے تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں بچا سکتا، اور اس خیال کے ساتھ یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دیتو ہم شکر و حق شناسی کو اپنا شیوہ بنالیں گے، یعنی اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوں گے، اسی کو اپنا کارساز سمجھیں گے، اس کے سوا کسی کو اس کا شریک نہ سمجھیں گے کیونکہ جب ہماری مصیبت میں کوئی کام نہ آیا تو ہم ان کی پوجا پاٹ کیوں کریں، تو اب آپ ان سے پوچھئے کہ ان حالات میں کون ان کو مصائب اور ہلاکت سے نجات دیتا ہے ؟ چونکہ ان کا جواب متعین اور معلوم تھا کہ وہ اس ہدایت کا انکار نہیں کرسکتے کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی بت یا دیوتا اس حالت میں ان کے کام نہیں آیا، اس لئے دوسری آیت میں حق تعالیٰ نے خود ہی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کہہ دیجئے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی تمہیں اس مصیبت سے نجات دیں گے، بلکہ تمہاری ہر تکلیف و پریشانی اور بےچینی کو وہی دور فرمائیں گے، مگر ان سب کھلی ہوئی نشانیوں کے باوجود پھر جب تم کو نجات اور آرام مل جاتا ہے تو تم پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہو، اور بتوں کی پوجا پاٹ میں لگ جاتے ہو، یہ کیسی غداری اور مہلک قسم کی جہالت ہے۔- ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان بھی ہے کہ ہر انسان کو ہر مصیبت اور …

Al-An'aam 6:63Listen in Qur'an →
64

قُلِ ٱللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍۢ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ

کہو کہ خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے۔ پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو

Explained together with ayah 63

Al-An'aam 6:64Listen in Qur'an →
65

قُلْ هُوَ ٱلْقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًۭا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًۭا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ

کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں

خلاصہ تفسیر - آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (یہ بھی) کہئے کہ (جس طرح وہ نجات دینے پر قادر ہے اسی طرح) اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر (تمہارے کفر و شرک کی وجہ سے) کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے (جیسے پتھر یا ہوا یا بارش طوفانی) یا تمہارے پاوں تلے (جو زمین ہے اس) سے (ظاہر کر دے، جیسے زلزلہ یا غرق ہوجانا اور ان عذابوں کے اسباب قریبہ تو اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں، کبھی نہ کبھی ایسا ہوگا خواہ دنیا میں یا آخرت میں) یا کہ تم کو (اغراض کے اختلاف سے مختلف) گروہ گروہ کرکے سب کو (آپس میں) بھڑا دے (یعنی لڑوا دے) اور تمہارے ایک کو دوسری کی لڑائی (کے ذریعے مزہ) چکھا دے (اور اس کا سبب قریب فعل اختیاری ہے، اور یا سب آفتیں جمع کر دے، غرض نجات دینا اور عذاب میں مبتلا کرنا دونوں اسی کے قدرت میں ہیں، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ دیکھئے تو سہی ہم کس (کس) طرح دلائل (توحید) کو مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں شاید وہ (لوگ) سمجھ جاویں اور (اللہ تعالیٰ کے عذاب دینے پر قادر ہونے اور کفرو شرک کے سبب عذاب ہونے کو جاننے کے باوجود) آپ کی قوم کے لوگ (قریش اور عرب بھی) اس (عذاب) کی تکذیب کرتے ہیں، (اور اس کے واقع نہ ہونے کے معتقد ہیں) حالانکہ وہ یقینی (واقع ہونے والا) ہے، (اور اس کو سن کر وہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ کب ہوگا تو) آپ (یوں) کہہ دیجئے کہ میں تم پر (عذاب واقع کرنے کے لئے) تعینات نہیں کیا گیا ہوں (کہ مجھ کو مفصل اطلاع ہو یا میرے اختیار میں ہو البتہ) ہر خبر کے (مدلول) کے واقع کا ایک وقت (اللہ کے علم میں معین) ہے اور جلدی ہی تم کو معلوم ہوجائے گا (کہ یہ عذاب آیا) ۔- معارف و مسائل - پچھلی آیتوں میں اللہ جل شانہ کے وسیع علم اور بےمثال قدرت کا یہ اثر مذکور تھا کہ ہر انسان کی ہر مصیبت کو وہی دور کرسکتا ہے، اور مصیبت کے وقت جو اس کو پکارتا ہے اللہ تعالیٰ کی امداد اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتا ہے، کیونکہ اس کو تمام کائنات پر قدرت بھی کامل ہے اور تمام مخلوق پر رحمت بھی کامل، اس کے سوا نہ کسی کو قدرت کاملہ حاصل ہے اور نہ تمام مخلوق پر رحمت و شفقت۔- مذکورہ الصدر آیات میں قدرت کاملہ کے دوسرے رخ کا بیان ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ ہے کہ کوئی عذاب کوئی مصیبت اور کیسی ہی بڑی سے بڑی آفت ہو اس کو ٹال سکتا ہے اسی طرح اس کو اس پر بھی قدرت حاصل ہے کہ جب کسی فرد یا جماعت کو اس کی سرکشی کی سزا اور عذاب میں مبتلا کرنا چاہے تو ہر قسم کا عذاب اس کے لئے آسان ہے، کسی مجرم کو سزا دینے کے لئے دنیا کے حکام کی طرح اس کو نہ کسی پولیس اور فوج کی حاجت ہے اور نہ کسی مددگار کی ضرورت، اسی مضمون کو اس طرح بیان فرمایا : قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ یعنی اللہ تعالیٰ اس پر بھی قادر ہے کہ بھیج دے تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں تلے سے یا تھیں مختلف پارٹیوں میں بانٹ کر آپس میں بھڑا دے اور ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے عذاب میں ہلاک کر دے۔- عذاب الٓہی کی تین قسمیں - یہاں عذاب الٓہی کی تین قسموں کا ذکر ہے، ایک جو اوپر سے آئے، دوسرے جو نیچے سے آئے، تیسرے جو اپنے اندر سے پھوٹ پڑے، پھر لفظ عذابا کو اس جگہ تنوین کے ساتھ نکرہ لاکر عربی قواعد کے اعتبار سے اس پر بھی متنبہ کردیا کہ ان تینوں قسموں میں بھی مختلف قسمیں اور صورتیں ہوسکتی ہیں۔- حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اوپر سے عذاب آنے کی مثالیں پچھلی امتوں میں بہت سی گزر چکی ہیں، جیسے قوم نوح (علیہ السلام) پر بارش کا سخت سیلاب آیا اور قوم عاد پر ہوا کا طوفان مسلط ہوا، اور قوم لوط (علیہ السلام) پر اوپر سے پتھر برسائے گئے، آل فرعون پر خون اور مینڈک وغیرہ برسائے گئے، اصحاب فیل نے جب مکہ پر چڑھائی کی تو پرندوں کے ذریعہ ان پر ایسی کنکریں برسائی گئیں جس سے وہ سب کے سب کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح ہو کر رہ گئے۔- اسی …

Al-An'aam 6:65Listen in Qur'an →
66

وَكَذَّبَ بِهِۦ قَوْمُكَ وَهُوَ ٱلْحَقُّ ۚ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍۢ

اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے۔ کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں

دوسری آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برادری یعنی قریش مکہ کی مخالفت حق کا ذکر کرکے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ یہ لوگ جو آپ سے وقوع عذاب کا معیّن وقت پوچھتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے فرما دیں کہ میں اس کام کے لئے مسلط نہیں کیا گیا، بلکہ ہر بات کا ایک وقت اللہ کے علم میں مقرر ہے، وہ اپنے وقت پر ہو کر رہے گی، اور اس کا نتیجہ تمہارے سامنے آجائے گا۔

Al-An'aam 6:66Listen in Qur'an →
67

لِّكُلِّ نَبَإٍۢ مُّسْتَقَرٌّۭ ۚ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا

Explained together with ayah 66

Al-An'aam 6:67Listen in Qur'an →
68

وَإِذَا رَأَيْتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِىٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا۟ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِۦ ۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيْطَٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ ٱلذِّكْرَىٰ مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہوں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں۔ اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

خلاصہ تفسیر - اور (اے مخاطب) جب تک ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات (اور احکام) میں عیب جوئی کر رہے ہیں تو ان لوگوں (کے پاس بیٹھنے) سے کنارہ کش ہوجا، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جاویں اور اگر تجھ کو شیطان بھلا دے (یعنی ایسی مجلس میں بیٹھنے کی ممانعت یاد نہ رہے) تو (جب یاد آوے) یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالموں کے پاس مت بیٹھ (بلکہ فوراً اٹھ کھڑا ہو) اور (اگر کوئی واقعی دنیوی یا دینی ضرورت ایسی مجلس میں جانے کی ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ) جو لوگ (ممنوعات شرعیہ سے جن میں بلا ضرورت ایسی مجلس میں جانا بھی داخل ہے) احتیاط رکھتے ہیں، ان پر ان (طاعنین و مکذبین) کی باز پرس (اور گناہ طعن) کا کوئی اثر نہ پہنچے گا (یعنی بضرورت وہاں جانے والے گنہگار نہ ہوں گے) لیکن ان کے ذمہ (بشرط قدرت) نصیحت کردینا ہے شاید وہ (طعنے دینے والے) بھی (ان خرافات سے) احتیاط کرنے لگیں (خواہ قبول اسلام کرکے خواہ ان کے لحاظ سے) اور (کچھ مجلس تکذیب کی تخصیص نہیں، بلکہ) ایسے لوگوں سے بالکل کنارہ کش رہ جنہوں نے اپنے (اس) دین کو (جس کا ماننا ان کے ذمہ فرض تھا یعنی اسلام کو) لہو ولعب بنا رکھا ہے (کہ اس کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں) اور دنیوی زندگی نے ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے (کہ اس کی لذات میں مشغول ہیں، اور آخرت کے منکر ہیں، اس لئے اس تمسخر کا انجام نظر نہیں آتا) اور (کنارہ کشی و ترک تعلقات کے ساتھ ایسے لوگوں کو) اس قرآن کے ذریعہ سے (جس سے یہ تمسخر کر رہے ہیں) نصیحت بھی کرتا رہ تاکہ کوئی شخص اپنے کردار (بد) کے سبب (عذاب میں) اس طرح نہ پھنس جاوے کہ کوئی غیر اللہ نہ اس کا مددگار ہو اور نہ سفارشی ہو اور یہ کیفیت ہو کہ اگر (بالفرض) دنیا بھر کا معاوضہ بھی دے ڈالے (کہ اس کو خرچ کر کے عذاب سے بچ جاوے) تب بھی اس سے نہ لیا جاوے (تو نصیحت سے یہ فائدہ ہے کہ اعمال بد کے انجام پر متنبہ ہوجاتا ہے، آگے ماننا نہ ماننا دوسرا جانے، چنانچہ) یہ (تمسخر کرنے والے) ایسے ہی ہیں کہ (نصیحت نہ مانی اور) اپنے کردار (بد) کے سبب (عذاب میں) پھنس گئے (جس کا آخرت میں اس طرح ظہور ہوگا کہ) ان کے لئے نہایت تیز (کھولتا ہوا پانی) پینے کے لئے ہوگا اور (اس کے علاوہ اور اس طرح بھی) دردناک سزا ہوگی اپنے کفر کے سبب (کہ کردار بد یہی ہے، جس کا ایک شعبہ تمسخر تھا) آپ (سب مسلمانوں کی طرف سے ان مشرکین سے) کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا (تمہاری مرضی کے موافق) ایسی چیز (کی عبادت کریں کہ) نہ وہ (اس کی عبادت کرنے کی صورت میں) ہم کو نفع پہنچانے پر قادر ہو وے اور نہ وہ (اسکی عبادت نہ کرنے کی صورت میں) ہم کو نقصان پہنچانے پر قادر ہو وے (مراد اس سے آلہہ باطلہ ہیں کہ بعض کو تو اصلاً قدرت نہیں اور جن کو کچھ ہے بالذات نہیں اور معبود میں کم از کم اپنے موافق اور مخالف کو نفع و ضرر پہنچانے کی قدرت ہونی چاہئے تو کیا ہم ایسوں کی عبادت کریں) اور کیا (معاذ اللہ) ہم (اسلام سے) الٹے پھر جاویں، بعد اس کے کہ ہم کو خدا تعالیٰ نے (طریقِ حق کی) ہدایت کردی ہے (یعنی اول تو شرک خود ہی فبیح ہے، پھر خصوصاً بعد اختیار اسلام کے تو اور زیادہ شنیع ہے ورنہ ہماری تو وہ مثال ہوجاوے) جیسے کوئی شخص ہو کہ اس کو شیطانوں نے کہیں جنگل میں (بہکا کر راہ سے) بےراہ کردیا ہو اور وہ بھٹکتا پھرتا ہو (اور) اس کے کچھ ساتھی بھی تھے کہ وہ اس کو ٹھیک راستہ کی طرف (پکار پکار کر) بلاتے رہے ہیں کہ (ادھر) ہمارے پاس آ (مگر وہ غایت حیرت سے نہ سمجھتا ہے نہ آتا ہے، ایسی ہی ہماری حالت ہوجاوے کہ راہ اسلام پر ہو کر اپنے ہادی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جدا ہوں، اور مضلین کے پنجہ میں گرفتار ہو کر گمراہ ہوجاویں اور وہ ہادی پھر بھی خیر خواہی سے دعوت اسلام کرتے رہیں اور ہم گمراہی کو نہ چھوڑیں، یعنی کیا ہم تمہارے مرضی پر عمل کرکے اپنی ایسی مثال بنالیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے) کہہ …

Al-An'aam 6:68Listen in Qur'an →
69

وَمَا عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍۢ وَلَٰكِن ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں

جب آیت مذکورہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر ان کی مجلس میں جانے کی مطلقاً ممانعت رہی تو ہم مسجد حرام میں نماز اور طواف سے بھی محروم ہوجائیں گے، کیونکہ وہ لوگ تو ہمیشہ وہاں بیٹھے رہتے ہیں، (یہ واقعہ ہجرت اور فتح مکہ سے پہلے کا ہے) اور ان کا مشغلہ ہی عیب جوئی اور بدگوئی ہے، اس پر دوسری آیت اس کے بعد والی نازلی ہوئی : وَمَا عَلَي الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ ، یعنی جو لوگ احتیاط رکھنے والے ہیں وہ اگر اپنے کام سے مسجد حرام میں جائیں تو ان شریر لوگوں کے اعمال بد کی ان پر کوئی ذمہ داری نہیں، ہاں اتنی بات ان کے ذمہ ہے کہ حق بات ان کو پہنچا دیں کہ شاید وہ اس سے نصیحت حاصل کر کے صحیح راستہ پر آجائیں۔

Al-An'aam 6:69Listen in Qur'an →
70

وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَعِبًۭا وَلَهْوًۭا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ بِهِۦٓ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِىٌّۭ وَلَا شَفِيعٌۭ وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍۢ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَآ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أُبْسِلُوا۟ بِمَا كَسَبُوا۟ ۖ لَهُمْ شَرَابٌۭ مِّنْ حَمِيمٍۢ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ

اور جن لوگوں نے اپنےدین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کےسوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے

تیسری آیت میں بھی تقریباً اسی مضمون کی مزید تاکید اس طرح ارشاد فرمائی گئی ہے : وَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ ، اس میں لفظ ذَر وَذرَ سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں کسی چیز سے ناراض ہو کر اس کو چھوڑ دینا، معنی آیت کے یہ ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو چھوڑ دیجئے جنہوں نے اپنے دین کو لہو ولعب یعنی مشغلہ اور کھیل بنا رکھا ہے، اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ جو دین حق یعنی اسلام ان کے لئے بھیجا گیا ہے، اس کو لہو ولعب بنا رکھا ہے، اس کا استہزاء و تمسخر کرتے ہیں، دوسرے یہ کہ انہوں نے اصلی دین کو چھوڑ کر اپنا دین و مذہب ہی لہو و لعب کو بنا لیا ہے، دونوں معنی کا حاصل تقریباً ایک ہی ہے۔- اس کے بعد ارشاد فرمایا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا یعنی ان کو دنیا کی چند روزہ زندگی نے غرور اور دھوکہ میں ڈالا ہوا ہے، یہ ان کے مرض کا اصلی سبب بیان فرما دیا کہ ان کی اس ساری سرکشی اور نافرمانی کا اصلی سبب یہ ہے کہ دنیا ہی کی چند روزہ زندگی پر مفتون ہیں، اور آخرت کو بھلائے بیٹھے ہیں، اگر آخرت اور قیامت کا اعتقاد ہوتا تو ہرگز وہ یہ حرکتیں نہ کرتے۔- اس آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عام مسلمانوں کو دو حکم دیئے گئے ہیں، اول یہ کہ ایسے لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کریں جس کا بیان مذکورہ جملہ میں آچکا ہے، دوسرے یہ کہ صرف ان لوگوں سے کنارہ کشی اور اعراض بھی کافی نہیں، بلکہ ایجابی طور پر یہ بھی ضروری ہے کہ قرآن کے ذریعہ ان کو نصیحت بھی کرتے رہیں اور خدا تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے بھی رہیں۔- آخر آیت میں اس عذاب کی تفصیل اس طرح بیان فرمائی، کہ اگر ان کی یہی حالت رہی تو یہ اپنے کردارِ بد کے جال میں خود پھنس جائیں گے، آیت میں اس جگہ اَنْ تُبْسَلَ کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جس کے معنی قید ہوجانے اور پھنس جانے کے ہیں۔- چونکہ دنیا میں انسان اس کا خوگر ہے کہ اگر کبھی کوئی غلطی یا ظلم کسی پر کر بیٹھا ہے اور اس کی سزا اس کے سامنے آگئی تو سزا سے بچنے کے لئے تین قسم کے ذرائع اختیار کرتا ہے، کبھی اپنی جماعت اور جتھے کا زور اس کے خلاف استعمال کرکے اپنے ظلم کی پاداش سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اور اگر اس سے عاجز ہوگیا تو بڑے لوگوں کی سفارش سے کام لیتا ہے، اور یہ بھی نہ چلی تو پھر یہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لئے کچھ مال خرچ کرے۔- اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتلا دیا کہ خدا کے مجرم کے لئے سزا سے بچانے والا نہ کوئی دوست عزیز ہوسکتا ہے، نہ کسی کی سفارش بغیر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے چل سکتی ہے، اور نہ کوئی مال قبول کیا جاسکتا ہے، بلکہ اگر سارے جہان کا مال بھی اس کے قبضہ میں ہو اور وہ اس سب مال کو سزا سے بچنے کا فدیہ بنانا چاہئے تب بھی یہ فدیہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا۔- آخر آیت میں فرمایا :ۭاُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اُبْسِلُوْا یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اعمال بد کی سزا میں پکڑے گئے ہیں، ان کو پینے کے لئے جہنم کا کھولتا ہوا پانی ملے گا، جس کے متعلق دوسری آیت میں ہے کہ وہ ان کی انتڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے اڑا دے گا، اور اس پانی کے علاوہ دوسرے بھی دردناک قسم کے عذاب ہوں گے ان کے کفر و انکار کے بدلے میں۔- اس آخری آیت میں یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ آخرت سے غافل صرف دنیا کی زندگی پر مگن ہیں، ان کی صحبت و مجالست بھی انسان کے لئے مہلک ہے، اس کا انجام یہ ہے کہ ان کی صحبت میں رہنے والا بھی اس عذاب کا شکار ہوگا، جس میں وہ مبتلا ہیں۔- ان تینوں آیتوں کا حاصل مسلمان کو برے ماحول اور بری صحبت سے بچانا ہے جو انسان کے لئے ستم قاتل ہے، قرآن و حدیث کی بیشمار نصوص کے علاوہ مشاہدہ اور تجربہ اس کا گواہ ہے کہ انسان کو تمام برائیوں اور جرائم میں مبتلا کرنے والی چیز اس کی بری سوسائٹی اور برا ماحول ہے جس میں پھنسنے کے بعد انسان اول تو خلاف ضمیر اور خلاف …

Al-An'aam 6:70Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.