Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 61–70 of 165

61

وَهُوَ ٱلْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِۦ ۖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے

اور وہی ہے جو فوت کرتا ہے تمھیں رات کواور جانتا ہے جو کچھ کرتے ہو تم دن میں ، پھر اٹھاتا ہے تمھیں اس (دن) میں تاکہ پورا کیا جائے وقت معین، پھر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تمھارا، پھر خبر دے گا وہ تمھیں اس کی جو تھے تم کرتے (60) اور وہ غالب ہے اوپر اپنے بندوں کے اور بھیجتا ہے تم پر محافظ (فرشتے ) حتی کہ جب آتی ہے کسی ایک کو تم میں سے موت تو فوت کرتے ہیں اسے ہمارے رسول(فرشتے) اور وہ نہیں کوتاہی کرتے (61) پھر لوٹائے جاتے ہیں وہ اللہ کی طرف جو مالک ہے ان کا سچا خبردار! اسی کے لیے ہے فیصلہ کرنااور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے (62)

[60] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اکیلا ہی ہے جو بندوں کی ان کے سوتے جاگتے میں تدبیر کرتا ہے، وہ رات کو انھیں وفات یعنی نیند کی وفات دیتا ہے، ان کی حرکات پر سکون طاری ہو جاتا ہے اور ان کے بدن آرام کرتے ہیں ، نیند سے بیداری کے بعد وہ ان کو دوبارہ زندہ کرتا ہے تاکہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں تصرف کریں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں اور وہ جن اعمال کا اکتساب کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان میں اسی طرح تصرف کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اپنی مقررہ مدت پوری کر لیتے ہیں ۔ وہ اپنی اس تدبیر کے ذریعے سے ان کی مدت مقررہ کا فیصلہ کرتا ہے یعنی مدت حیات اور اس کے بعد ایک اور مدت ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’پھر اس کی طرف ہی تمھارا لوٹنا ہے‘‘ اس کے سوا اور کسی کی طرف لوٹنا نہیں ہے ﴿ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’پھر وہ تم کو تمھارے عمل جو تم کرتے ہو، بتائے گا۔‘‘ نیک اور بد جو کام بھی تم کرتے رہے ہو، اللہ تعالیٰ تمھیں اس سے آگاہ فرمائے گا۔

[61]﴿ وَهُوَ ﴾ ’’اور وہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ﴿ الۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهٖ ﴾ ’’غالب ہے اپنے بندوں پر‘‘ وہ ان پر اپنا ارادہ اور اپنی مشیت عامہ نافذ کرتا ہے۔ بندے کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر حرکت و سکون کے بھی مالک نہیں ۔ بایں ہمہ اس نے اپنے بندوں پر فرشتوں کو محافظ مقرر کر رکھا ہے اور بندے جو عمل کرتے ہیں یہ فرشتے اس کو محفوظ کر لیتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحٰؔفِظِيۡنَۙ۰۰ كِرَامًا كَاتِبِيۡنَۙ۰۰يَعۡلَمُوۡنَ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الانفطار: 82؍10-12) ’’اور تم پر نگہبان مقرر ہیں باعزت اور تمھاری باتوں کو لکھنے والے ہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں ۔‘‘ ارشاد فرماتا ہے ﴿ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيۡدٌ۰۰ مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ﴾(ق: 50؍17،18) ’’اس کے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوتے ہیں وہ جب کوئی بات کہتا ہے تو ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔‘‘ یہ ان کی زندگی کے احوال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حفاظت ہے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَؔ اَحَدَؔكُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپہنچے تم میں سے کسی کو موت تو قبضے میں لے لیتے ہیں اس کو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے‘‘ یعنی وہ فرشتے جو روح قبض کرنے پر مقرر ہیں ﴿ وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کوتاہی نہیں کرتے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قضا و قدر سے جو مدت مقرر کر دی ہے وہ اس میں ایک گھڑی کا اضافہ کر سکتے ہیں نہ ایک گھڑی کی کمی، وہ صرف مکتوب الٰہی اور تقدیر ربانی کو نافذ کرتے ہیں ۔

[62]﴿ ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ موت اور حیات برزخ کے بعد اور جو کچھ اس میں خیر و شر ہے ﴿ رُدُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ مَوۡلٰىهُمُ الۡحَقِّ ﴾ ’’پہنچائے جائیں گے وہ اللہ کی طرف جو ان کا سچا مالک ہے‘‘ یعنی وہ مولائے حق اپنے حکم قدری کے مطابق ان کا والی ہے اور ان کے اندر اپنی مختلف انواع کی تدابیر کو نافذ کرتا ہے، پھر وہ امرونہی اور حکم …

Al-An'aam 6:61Listen in Qur'an →
62

ثُمَّ رُدُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ مَوْلَىٰهُمُ ٱلْحَقِّ ۚ أَلَا لَهُ ٱلْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ ٱلْحَٰسِبِينَ

پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے۔ سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے

اور وہی ہے جو فوت کرتا ہے تمھیں رات کواور جانتا ہے جو کچھ کرتے ہو تم دن میں ، پھر اٹھاتا ہے تمھیں اس (دن) میں تاکہ پورا کیا جائے وقت معین، پھر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تمھارا، پھر خبر دے گا وہ تمھیں اس کی جو تھے تم کرتے (60) اور وہ غالب ہے اوپر اپنے بندوں کے اور بھیجتا ہے تم پر محافظ (فرشتے ) حتی کہ جب آتی ہے کسی ایک کو تم میں سے موت تو فوت کرتے ہیں اسے ہمارے رسول(فرشتے) اور وہ نہیں کوتاہی کرتے (61) پھر لوٹائے جاتے ہیں وہ اللہ کی طرف جو مالک ہے ان کا سچا خبردار! اسی کے لیے ہے فیصلہ کرنااور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے (62)

[60] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اکیلا ہی ہے جو بندوں کی ان کے سوتے جاگتے میں تدبیر کرتا ہے، وہ رات کو انھیں وفات یعنی نیند کی وفات دیتا ہے، ان کی حرکات پر سکون طاری ہو جاتا ہے اور ان کے بدن آرام کرتے ہیں ، نیند سے بیداری کے بعد وہ ان کو دوبارہ زندہ کرتا ہے تاکہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں تصرف کریں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں اور وہ جن اعمال کا اکتساب کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان میں اسی طرح تصرف کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اپنی مقررہ مدت پوری کر لیتے ہیں ۔ وہ اپنی اس تدبیر کے ذریعے سے ان کی مدت مقررہ کا فیصلہ کرتا ہے یعنی مدت حیات اور اس کے بعد ایک اور مدت ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’پھر اس کی طرف ہی تمھارا لوٹنا ہے‘‘ اس کے سوا اور کسی کی طرف لوٹنا نہیں ہے ﴿ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’پھر وہ تم کو تمھارے عمل جو تم کرتے ہو، بتائے گا۔‘‘ نیک اور بد جو کام بھی تم کرتے رہے ہو، اللہ تعالیٰ تمھیں اس سے آگاہ فرمائے گا۔

[61]﴿ وَهُوَ ﴾ ’’اور وہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ﴿ الۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهٖ ﴾ ’’غالب ہے اپنے بندوں پر‘‘ وہ ان پر اپنا ارادہ اور اپنی مشیت عامہ نافذ کرتا ہے۔ بندے کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر حرکت و سکون کے بھی مالک نہیں ۔ بایں ہمہ اس نے اپنے بندوں پر فرشتوں کو محافظ مقرر کر رکھا ہے اور بندے جو عمل کرتے ہیں یہ فرشتے اس کو محفوظ کر لیتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحٰؔفِظِيۡنَۙ۰۰ كِرَامًا كَاتِبِيۡنَۙ۰۰يَعۡلَمُوۡنَ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الانفطار: 82؍10-12) ’’اور تم پر نگہبان مقرر ہیں باعزت اور تمھاری باتوں کو لکھنے والے ہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں ۔‘‘ ارشاد فرماتا ہے ﴿ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيۡدٌ۰۰ مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ﴾(ق: 50؍17،18) ’’اس کے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوتے ہیں وہ جب کوئی بات کہتا ہے تو ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔‘‘ یہ ان کی زندگی کے احوال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حفاظت ہے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَؔ اَحَدَؔكُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپہنچے تم میں سے کسی کو موت تو قبضے میں لے لیتے ہیں اس کو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے‘‘ یعنی وہ فرشتے جو روح قبض کرنے پر مقرر ہیں ﴿ وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کوتاہی نہیں کرتے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قضا و قدر سے جو مدت مقرر کر دی ہے وہ اس میں ایک گھڑی کا اضافہ کر سکتے ہیں نہ ایک گھڑی کی کمی، وہ صرف مکتوب الٰہی اور تقدیر ربانی کو نافذ کرتے ہیں ۔

[62]﴿ ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ موت اور حیات برزخ کے بعد اور جو کچھ اس میں خیر و شر ہے ﴿ رُدُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ مَوۡلٰىهُمُ الۡحَقِّ ﴾ ’’پہنچائے جائیں گے وہ اللہ کی طرف جو ان کا سچا مالک ہے‘‘ یعنی وہ مولائے حق اپنے حکم قدری کے مطابق ان کا والی ہے اور ان کے اندر اپنی مختلف انواع کی تدابیر کو نافذ کرتا ہے، پھر وہ امرونہی اور حکم …

Al-An'aam 6:62Listen in Qur'an →
63

قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَٰتِ ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ تَدْعُونَهُۥ تَضَرُّعًۭا وَخُفْيَةًۭ لَّئِنْ أَنجَىٰنَا مِنْ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ

کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اسے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس (تنگی) سے نجات بخشے تو ہم اس کے بہت شکر گزار ہوں

کہہ دیجیے! کون نجات دیتا ہے تمھیں خشکی اور تری کے اندھیروں سے ؟ پکارتے ہو تم اسے عاجزی سے اور چپکے چپکے، (کہتے ہو) اگر وہ نجات دے دے ہمیں اس سے تو ضرور ہو جائیں گے ہم شکر گزاروں سے (63)کہہ دیجیے! اللہ ہی نجات دیتا ہے تمھیں اس سے اور ہر غم سے ، پھر تم شریک ٹھہراتے ہو (64)

[63]﴿ قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے، ان کے توحید ربوبیت کے اثبات کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر الزامی دلیل اور حجت بناتے ہوئے کہیے ﴿ مَنۡ يُّؔنَؔجِّيۡكُمۡ مِّنۡ ظُلُمٰؔتِ الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ ﴾ ’’کون تمھیں نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے‘‘ یعنی جب بحر و بر کی سختیوں اور مشقتوں سے نجات کا کوئی بھی حیلہ تمھیں مشکل نظر آتا ہے تو تم اپنے رب کو گڑ گڑا کر دل کے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی دعا میں اپنی حاجت کے لیے پکارتے رہے ہو۔ اور اپنی اس مصیبت کی حالت میں کہتے ہو ﴿ لَىِٕنۡ اَنۡجٰؔىنَا مِنۡ هٰؔذِهٖ ﴾ ’’اگر اس نے ہمیں بچا لیا اس سے‘‘ یعنی اس مصیبت سے جس میں ہم گرفتار ہیں ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم ضرور (اللہ تعالیٰ) کے شکر گزار ہوں گے‘‘ یعنی اس کی نعمت کا اعتراف کریں گے اور اس نعمت کو اپنے رب کی اطاعت میں استعمال کریں گے اور اس نعمت کو اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے بچیں گے۔

[64]﴿قُلِ اللّٰهُ يُنَجِّيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا وَمِنۡ كُلِّ كَرۡبٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ ہی تمھیں اس (خاص مصیبت) اور دیگر تمام مصائب سے نجات دلاتا ہے‘‘ ﴿ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’پھر بھی تم شرک کرتے ہو‘‘ تم اللہ کے بارے میں جو کہتے ہو اسے پورا نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو فراموش کر دیتے ہو۔ پس شرک کے بطلان اور توحید کی صحت پر اس سے واضح اور کون سی دلیل ہو سکتی ہے؟

Al-An'aam 6:63Listen in Qur'an →
64

قُلِ ٱللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍۢ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ

کہو کہ خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے۔ پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو

کہہ دیجیے! کون نجات دیتا ہے تمھیں خشکی اور تری کے اندھیروں سے ؟ پکارتے ہو تم اسے عاجزی سے اور چپکے چپکے، (کہتے ہو) اگر وہ نجات دے دے ہمیں اس سے تو ضرور ہو جائیں گے ہم شکر گزاروں سے (63)کہہ دیجیے! اللہ ہی نجات دیتا ہے تمھیں اس سے اور ہر غم سے ، پھر تم شریک ٹھہراتے ہو (64)

[63]﴿ قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے، ان کے توحید ربوبیت کے اثبات کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر الزامی دلیل اور حجت بناتے ہوئے کہیے ﴿ مَنۡ يُّؔنَؔجِّيۡكُمۡ مِّنۡ ظُلُمٰؔتِ الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ ﴾ ’’کون تمھیں نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے‘‘ یعنی جب بحر و بر کی سختیوں اور مشقتوں سے نجات کا کوئی بھی حیلہ تمھیں مشکل نظر آتا ہے تو تم اپنے رب کو گڑ گڑا کر دل کے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی دعا میں اپنی حاجت کے لیے پکارتے رہے ہو۔ اور اپنی اس مصیبت کی حالت میں کہتے ہو ﴿ لَىِٕنۡ اَنۡجٰؔىنَا مِنۡ هٰؔذِهٖ ﴾ ’’اگر اس نے ہمیں بچا لیا اس سے‘‘ یعنی اس مصیبت سے جس میں ہم گرفتار ہیں ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم ضرور (اللہ تعالیٰ) کے شکر گزار ہوں گے‘‘ یعنی اس کی نعمت کا اعتراف کریں گے اور اس نعمت کو اپنے رب کی اطاعت میں استعمال کریں گے اور اس نعمت کو اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے بچیں گے۔

[64]﴿قُلِ اللّٰهُ يُنَجِّيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا وَمِنۡ كُلِّ كَرۡبٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ ہی تمھیں اس (خاص مصیبت) اور دیگر تمام مصائب سے نجات دلاتا ہے‘‘ ﴿ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’پھر بھی تم شرک کرتے ہو‘‘ تم اللہ کے بارے میں جو کہتے ہو اسے پورا نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو فراموش کر دیتے ہو۔ پس شرک کے بطلان اور توحید کی صحت پر اس سے واضح اور کون سی دلیل ہو سکتی ہے؟

Al-An'aam 6:64Listen in Qur'an →
65

قُلْ هُوَ ٱلْقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًۭا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًۭا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ

کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں

آپ کہہ دیجیے! وہی قادر ہے اوپر اس کے کہ وہ بھیجے تم پر تمھارے اوپر سے یا نیچے سے تمھارے پاؤں کے یا خلط ملط کردے تمھیں مختلف گروہوں میں اور چکھائے تم میں سے بعض کو( مزہ) لڑائی کا بعض سے ، دیکھیں کیسے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیات کو تاکہ وہ سمجھیں (65)اور جھٹلایا اس (قرآن) کو آپ کی قوم نے، حالانکہ وہ حق ہے، کہہ دیجیے! نہیں ہو ں میں تم پر نگہبان (66)ہر ایک خبر کا وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے (67)

[65] یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہر سمت سے تم پر عذاب بھیجنے پر قدرت رکھتا ہے فرمایا: ﴿ مِّنۡ فَوۡقِكُمۡ اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِكُمۡ ﴾ ’’تمھارے اوپر سے تمھارے پاؤں کے نیچے سے۔‘‘ ﴿ اَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَعًا ﴾ ’’یا تمھیں فرقہ فرقہ کردے۔‘‘ یعنی تمھیں مختلف فرقوں میں بانٹ دے ﴿ وَّيُذِيۡقَ بَعۡضَكُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ ﴾ ’’اور چکھا دے لڑائی ایک کو ایک کی‘‘ یعنی تمھیں فتنہ میں مبتلا کر دے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ پس اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں پر قادر ہے، اس لیے اس کی نافرمانی پر قائم رہنے سے بچو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھیں عذاب آ لے اور وہ تمھیں تلف کر کے تمھارا نام و نشان مٹا ڈالے۔ اس کے باوجود کہ اس نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے مگر یہ اس کی بے پایاں رحمت کا فیضان ہے کہ اس نے اس امت پر سے اوپر سے پتھر برسنے اور نیچے زمین میں دھنس جانے کے عذاب کو اٹھا لیا ہے۔ اس نے اس امت میں سے جس کسی کو بھی عذاب کا مزا چکھایا ہے تو وہ یہ ہے کہ اس نے ایک دوسرے کو ایک دوسرے کی طاقت کا مزا چکھایا ہے۔ اور ان کو ان سزاؤں کے ساتھ ایک دوسرے پر مسلط کر دیا یہ ایک ایسی فوری سزا ہے جسے عبرت پکڑنے والے دیکھ سکتے ہیں اور عمل کرنے والے اسے سمجھ سکتے ہیں ۔ ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو ہم آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ان آیات کو مختلف انواع میں لاتے ہیں اور انھیں بہت سے پہلوؤں سے ان کو بیان کرتے ہیں ۔ یہ تمام آیات حق پر دلالت کرتی ہیں ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ یہ لوگ سمجھیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس بات کو سمجھ جائیں کہ انھیں کس چیز کی خاطر پیدا کیا گیا ہے۔ نیز حقائق شرعیہ اور مطالب الہٰیہ ان کی سمجھ میں آ جائیں ۔

[66]﴿وَ كَذَّبَ بِهٖ﴾ ’’اور اس کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی قرآن کو جھٹلایا ﴿قَوۡمُكَ وَهُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’آپ کی قوم نے، حالانکہ وہ حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ قُلۡ لَّسۡتُ عَلَيۡكُمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تم پر داروغہ نہیں ہوں ‘‘ کہ تمھارے اعمال کی نگرانی کروں اور اس پر تمھیں بدلہ دوں میں تو صرف پہنچانے والا اور ڈرانے والا ہوں ۔

[67]﴿ لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسۡتَقَرٌّ ﴾ ’’ہر خبر کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔‘‘ یعنی ہر خبر کے استقرار کا ایک وقت اور ایک زمانہ ہے جس سے وہ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی ﴿ وَّسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی جس عذاب کی تمھیں وعید سنائی گئی ہے تم اسے عنقریب جان لو گے۔

Al-An'aam 6:65Listen in Qur'an →
66

وَكَذَّبَ بِهِۦ قَوْمُكَ وَهُوَ ٱلْحَقُّ ۚ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍۢ

اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے۔ کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں

آپ کہہ دیجیے! وہی قادر ہے اوپر اس کے کہ وہ بھیجے تم پر تمھارے اوپر سے یا نیچے سے تمھارے پاؤں کے یا خلط ملط کردے تمھیں مختلف گروہوں میں اور چکھائے تم میں سے بعض کو( مزہ) لڑائی کا بعض سے ، دیکھیں کیسے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیات کو تاکہ وہ سمجھیں (65)اور جھٹلایا اس (قرآن) کو آپ کی قوم نے، حالانکہ وہ حق ہے، کہہ دیجیے! نہیں ہو ں میں تم پر نگہبان (66)ہر ایک خبر کا وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے (67)

[65] یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہر سمت سے تم پر عذاب بھیجنے پر قدرت رکھتا ہے فرمایا: ﴿ مِّنۡ فَوۡقِكُمۡ اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِكُمۡ ﴾ ’’تمھارے اوپر سے تمھارے پاؤں کے نیچے سے۔‘‘ ﴿ اَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَعًا ﴾ ’’یا تمھیں فرقہ فرقہ کردے۔‘‘ یعنی تمھیں مختلف فرقوں میں بانٹ دے ﴿ وَّيُذِيۡقَ بَعۡضَكُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ ﴾ ’’اور چکھا دے لڑائی ایک کو ایک کی‘‘ یعنی تمھیں فتنہ میں مبتلا کر دے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ پس اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں پر قادر ہے، اس لیے اس کی نافرمانی پر قائم رہنے سے بچو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھیں عذاب آ لے اور وہ تمھیں تلف کر کے تمھارا نام و نشان مٹا ڈالے۔ اس کے باوجود کہ اس نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے مگر یہ اس کی بے پایاں رحمت کا فیضان ہے کہ اس نے اس امت پر سے اوپر سے پتھر برسنے اور نیچے زمین میں دھنس جانے کے عذاب کو اٹھا لیا ہے۔ اس نے اس امت میں سے جس کسی کو بھی عذاب کا مزا چکھایا ہے تو وہ یہ ہے کہ اس نے ایک دوسرے کو ایک دوسرے کی طاقت کا مزا چکھایا ہے۔ اور ان کو ان سزاؤں کے ساتھ ایک دوسرے پر مسلط کر دیا یہ ایک ایسی فوری سزا ہے جسے عبرت پکڑنے والے دیکھ سکتے ہیں اور عمل کرنے والے اسے سمجھ سکتے ہیں ۔ ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو ہم آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ان آیات کو مختلف انواع میں لاتے ہیں اور انھیں بہت سے پہلوؤں سے ان کو بیان کرتے ہیں ۔ یہ تمام آیات حق پر دلالت کرتی ہیں ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ یہ لوگ سمجھیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس بات کو سمجھ جائیں کہ انھیں کس چیز کی خاطر پیدا کیا گیا ہے۔ نیز حقائق شرعیہ اور مطالب الہٰیہ ان کی سمجھ میں آ جائیں ۔

[66]﴿وَ كَذَّبَ بِهٖ﴾ ’’اور اس کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی قرآن کو جھٹلایا ﴿قَوۡمُكَ وَهُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’آپ کی قوم نے، حالانکہ وہ حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ قُلۡ لَّسۡتُ عَلَيۡكُمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تم پر داروغہ نہیں ہوں ‘‘ کہ تمھارے اعمال کی نگرانی کروں اور اس پر تمھیں بدلہ دوں میں تو صرف پہنچانے والا اور ڈرانے والا ہوں ۔

[67]﴿ لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسۡتَقَرٌّ ﴾ ’’ہر خبر کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔‘‘ یعنی ہر خبر کے استقرار کا ایک وقت اور ایک زمانہ ہے جس سے وہ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی ﴿ وَّسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی جس عذاب کی تمھیں وعید سنائی گئی ہے تم اسے عنقریب جان لو گے۔

Al-An'aam 6:66Listen in Qur'an →
67

لِّكُلِّ نَبَإٍۢ مُّسْتَقَرٌّۭ ۚ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا

آپ کہہ دیجیے! وہی قادر ہے اوپر اس کے کہ وہ بھیجے تم پر تمھارے اوپر سے یا نیچے سے تمھارے پاؤں کے یا خلط ملط کردے تمھیں مختلف گروہوں میں اور چکھائے تم میں سے بعض کو( مزہ) لڑائی کا بعض سے ، دیکھیں کیسے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیات کو تاکہ وہ سمجھیں (65)اور جھٹلایا اس (قرآن) کو آپ کی قوم نے، حالانکہ وہ حق ہے، کہہ دیجیے! نہیں ہو ں میں تم پر نگہبان (66)ہر ایک خبر کا وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے (67)

[65] یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہر سمت سے تم پر عذاب بھیجنے پر قدرت رکھتا ہے فرمایا: ﴿ مِّنۡ فَوۡقِكُمۡ اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِكُمۡ ﴾ ’’تمھارے اوپر سے تمھارے پاؤں کے نیچے سے۔‘‘ ﴿ اَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَعًا ﴾ ’’یا تمھیں فرقہ فرقہ کردے۔‘‘ یعنی تمھیں مختلف فرقوں میں بانٹ دے ﴿ وَّيُذِيۡقَ بَعۡضَكُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ ﴾ ’’اور چکھا دے لڑائی ایک کو ایک کی‘‘ یعنی تمھیں فتنہ میں مبتلا کر دے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ پس اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں پر قادر ہے، اس لیے اس کی نافرمانی پر قائم رہنے سے بچو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھیں عذاب آ لے اور وہ تمھیں تلف کر کے تمھارا نام و نشان مٹا ڈالے۔ اس کے باوجود کہ اس نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے مگر یہ اس کی بے پایاں رحمت کا فیضان ہے کہ اس نے اس امت پر سے اوپر سے پتھر برسنے اور نیچے زمین میں دھنس جانے کے عذاب کو اٹھا لیا ہے۔ اس نے اس امت میں سے جس کسی کو بھی عذاب کا مزا چکھایا ہے تو وہ یہ ہے کہ اس نے ایک دوسرے کو ایک دوسرے کی طاقت کا مزا چکھایا ہے۔ اور ان کو ان سزاؤں کے ساتھ ایک دوسرے پر مسلط کر دیا یہ ایک ایسی فوری سزا ہے جسے عبرت پکڑنے والے دیکھ سکتے ہیں اور عمل کرنے والے اسے سمجھ سکتے ہیں ۔ ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو ہم آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ان آیات کو مختلف انواع میں لاتے ہیں اور انھیں بہت سے پہلوؤں سے ان کو بیان کرتے ہیں ۔ یہ تمام آیات حق پر دلالت کرتی ہیں ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ یہ لوگ سمجھیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس بات کو سمجھ جائیں کہ انھیں کس چیز کی خاطر پیدا کیا گیا ہے۔ نیز حقائق شرعیہ اور مطالب الہٰیہ ان کی سمجھ میں آ جائیں ۔

[66]﴿وَ كَذَّبَ بِهٖ﴾ ’’اور اس کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی قرآن کو جھٹلایا ﴿قَوۡمُكَ وَهُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’آپ کی قوم نے، حالانکہ وہ حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ قُلۡ لَّسۡتُ عَلَيۡكُمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تم پر داروغہ نہیں ہوں ‘‘ کہ تمھارے اعمال کی نگرانی کروں اور اس پر تمھیں بدلہ دوں میں تو صرف پہنچانے والا اور ڈرانے والا ہوں ۔

[67]﴿ لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسۡتَقَرٌّ ﴾ ’’ہر خبر کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔‘‘ یعنی ہر خبر کے استقرار کا ایک وقت اور ایک زمانہ ہے جس سے وہ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی ﴿ وَّسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی جس عذاب کی تمھیں وعید سنائی گئی ہے تم اسے عنقریب جان لو گے۔

Al-An'aam 6:67Listen in Qur'an →
68

وَإِذَا رَأَيْتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِىٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا۟ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِۦ ۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيْطَٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ ٱلذِّكْرَىٰ مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہوں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں۔ اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

اور جب دیکھیں آپ ان کو جو مشغول ہو تے ہیں ہماری آیات میں تو اعراض کریں ان سے ، حتی کہ مشغول ہو جائیں وہ کسی اور بات میں اس کے علاوہ اور اگر بھلاد ے آپ کو شیطان (یہ بات) تو مت بیٹھیں بعد یاد آنے کے، ساتھ ظالم قوم کے (68) اور نہیں ہے ان لوگوں کے ذمے، جو ڈرتے ہیں ، ان کے حساب میں سے کچھ لیکن صرف نصیحت کرناتاکہ وہ ڈریں (69)

[68] اللہ تبارک و تعالیٰ کی آیات میں جھگڑنے اور مشغول ہونے سے مراد ہے ان کے بارے میں ناحق باتیں کرنا، اقوال باطلہ کی تحسین کرنا، ان کی طرف دعوت دینا، اقوال باطلہ کے قائلین کی مدح کرنا، حق سے روگردانی کرنا اور حق اور اہل حق کی عیب چینی کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اصولی طور پر اپنے رسولﷺ کو اور تبعاًتمام اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کی آیات کی مذکورہ عیب چینی میں مشغول دیکھیں تو اس سے اعراض کریں ۔ باطل میں مشغول لوگوں کی مجالس میں نہ جائیں جب تک کہ وہ کسی اور بحث میں مشغول نہ ہو جائیں ۔ اگر وہ آیات الٰہی کی بجائے کسی اور بحث میں مشغول ہوں تو ان میں بیٹھنا اس ممانعت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ اگر ان میں بیٹھنے میں کوئی راجح مصلحت ہو تو وہ ان میں بیٹھنے پر مامور ہے، اگر ایسا نہ ہو تو یہ بیٹھنا مفید ہے نہ وہ اس پر مامور ہے۔ باطل میں مشغولیت کی مذمت درحقیقت حق میں غور و فکر اور بحث و تحقیق کی ترغیب ہے۔ ﴿ وَاِمَّا يُنۡسِيَنَّكَ الشَّيۡطٰنُ ﴾ ’’اگر شیطان آپ کو بھلا دے۔‘‘ یعنی اگر آپ کو شیطان بھلا دے اور آپ غفلت و نسیان کی وجہ سے ان کی مجلس میں بیٹھ جائیں ﴿ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو باطل میں مشغول ہوتے ہیں جو ایسی باتیں کہتے یا کرتے ہیں جن کو حرام ٹھہرایا گیا ہے تو ان لوگوں میں بیٹھنا حرام ہے۔ منکرات کی موجودگی میں جبکہ وہ ان کے ازالے کی قدرت نہ رکھتا ہو، اس مجلس میں حاضر ہونا بھی ممنوع ہے۔ یہ نہی اور ممانعت اس شخص کے لیے ہے جو ایسے لوگوں کی مجلس میں شریک ہوتا ہے اور تقویٰ کا دامن چھوڑ کر ان کے قول اور عمل محرم میں خود بھی شریک ہو جاتا ہے یا ان کے غیر شرعی افعال و اقوال پر خاموشی اختیار کرتا ہے اور ان پر نکیر نہیں کرتا۔ لیکن اگر وہ تقویٰ کا التزام کرتے ہوئے مجلس میں شریک ہو، شرکائے مجلس کو نیکی کا حکم دے، اس برائی اور بری گفتگو سے روکے جو اس مجلس میں صادر ہو، جس سے یہ برائی زائل ہو جائے یا اس میں تخفیف ہو جائے تو ایسی مجلس میں شریک ہونے میں کوئی حرج ہے نہ کوئی گناہ۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:

[69]﴿ وَمَا عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ وَّلٰكِنۡ ذِكۡرٰى لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور پرہیز گاروں پر نہیں ہے جھگڑنے والوں کے حساب میں سے کوئی چیز لیکن ان کے ذمے نصیحت کرنی ہے تاکہ وہ ڈریں ‘‘ یعنی صرف اس لیے وہ ان کو وعظ و نصیحت کرے کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ سے ڈر جائیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ وعظ و نصیحت کرنے والا ایسا اسلوب کلام استعمال کرے جو مقصود تقویٰ کے حصول میں زیادہ ممد اور کارگر ہو اور اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر وعظ و نصیحت سے برائی میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہو تو وعظ و نصیحت ترک کرنا واجب ہے کیونکہ جو وعظ و نصیحت مطلوب و مقصود کے مخالف ہو تو اس کو ترک کرنا بھی مقصود ہے۔

Al-An'aam 6:68Listen in Qur'an →
69

وَمَا عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍۢ وَلَٰكِن ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں

اور جب دیکھیں آپ ان کو جو مشغول ہو تے ہیں ہماری آیات میں تو اعراض کریں ان سے ، حتی کہ مشغول ہو جائیں وہ کسی اور بات میں اس کے علاوہ اور اگر بھلاد ے آپ کو شیطان (یہ بات) تو مت بیٹھیں بعد یاد آنے کے، ساتھ ظالم قوم کے (68) اور نہیں ہے ان لوگوں کے ذمے، جو ڈرتے ہیں ، ان کے حساب میں سے کچھ لیکن صرف نصیحت کرناتاکہ وہ ڈریں (69)

[68] اللہ تبارک و تعالیٰ کی آیات میں جھگڑنے اور مشغول ہونے سے مراد ہے ان کے بارے میں ناحق باتیں کرنا، اقوال باطلہ کی تحسین کرنا، ان کی طرف دعوت دینا، اقوال باطلہ کے قائلین کی مدح کرنا، حق سے روگردانی کرنا اور حق اور اہل حق کی عیب چینی کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اصولی طور پر اپنے رسولﷺ کو اور تبعاًتمام اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کی آیات کی مذکورہ عیب چینی میں مشغول دیکھیں تو اس سے اعراض کریں ۔ باطل میں مشغول لوگوں کی مجالس میں نہ جائیں جب تک کہ وہ کسی اور بحث میں مشغول نہ ہو جائیں ۔ اگر وہ آیات الٰہی کی بجائے کسی اور بحث میں مشغول ہوں تو ان میں بیٹھنا اس ممانعت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ اگر ان میں بیٹھنے میں کوئی راجح مصلحت ہو تو وہ ان میں بیٹھنے پر مامور ہے، اگر ایسا نہ ہو تو یہ بیٹھنا مفید ہے نہ وہ اس پر مامور ہے۔ باطل میں مشغولیت کی مذمت درحقیقت حق میں غور و فکر اور بحث و تحقیق کی ترغیب ہے۔ ﴿ وَاِمَّا يُنۡسِيَنَّكَ الشَّيۡطٰنُ ﴾ ’’اگر شیطان آپ کو بھلا دے۔‘‘ یعنی اگر آپ کو شیطان بھلا دے اور آپ غفلت و نسیان کی وجہ سے ان کی مجلس میں بیٹھ جائیں ﴿ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو باطل میں مشغول ہوتے ہیں جو ایسی باتیں کہتے یا کرتے ہیں جن کو حرام ٹھہرایا گیا ہے تو ان لوگوں میں بیٹھنا حرام ہے۔ منکرات کی موجودگی میں جبکہ وہ ان کے ازالے کی قدرت نہ رکھتا ہو، اس مجلس میں حاضر ہونا بھی ممنوع ہے۔ یہ نہی اور ممانعت اس شخص کے لیے ہے جو ایسے لوگوں کی مجلس میں شریک ہوتا ہے اور تقویٰ کا دامن چھوڑ کر ان کے قول اور عمل محرم میں خود بھی شریک ہو جاتا ہے یا ان کے غیر شرعی افعال و اقوال پر خاموشی اختیار کرتا ہے اور ان پر نکیر نہیں کرتا۔ لیکن اگر وہ تقویٰ کا التزام کرتے ہوئے مجلس میں شریک ہو، شرکائے مجلس کو نیکی کا حکم دے، اس برائی اور بری گفتگو سے روکے جو اس مجلس میں صادر ہو، جس سے یہ برائی زائل ہو جائے یا اس میں تخفیف ہو جائے تو ایسی مجلس میں شریک ہونے میں کوئی حرج ہے نہ کوئی گناہ۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:

[69]﴿ وَمَا عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ وَّلٰكِنۡ ذِكۡرٰى لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور پرہیز گاروں پر نہیں ہے جھگڑنے والوں کے حساب میں سے کوئی چیز لیکن ان کے ذمے نصیحت کرنی ہے تاکہ وہ ڈریں ‘‘ یعنی صرف اس لیے وہ ان کو وعظ و نصیحت کرے کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ سے ڈر جائیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ وعظ و نصیحت کرنے والا ایسا اسلوب کلام استعمال کرے جو مقصود تقویٰ کے حصول میں زیادہ ممد اور کارگر ہو اور اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر وعظ و نصیحت سے برائی میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہو تو وعظ و نصیحت ترک کرنا واجب ہے کیونکہ جو وعظ و نصیحت مطلوب و مقصود کے مخالف ہو تو اس کو ترک کرنا بھی مقصود ہے۔

Al-An'aam 6:69Listen in Qur'an →
70

وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَعِبًۭا وَلَهْوًۭا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ بِهِۦٓ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِىٌّۭ وَلَا شَفِيعٌۭ وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍۢ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَآ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أُبْسِلُوا۟ بِمَا كَسَبُوا۟ ۖ لَهُمْ شَرَابٌۭ مِّنْ حَمِيمٍۢ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ

اور جن لوگوں نے اپنےدین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کےسوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے

اور چھوڑ دیجیے ان لوگوں کو جنھوں نے بنا لیا اپنے دین کوکھیل اور تماشہ اور دھوکے میں ڈالا ان کو حیات دنیا نےاور نصیحت کیجیے آپ ساتھ اس قرآن کے تاکہ (نہ) ہلاک کی جائے کوئی جان بدلے اس کے جو کمایا اس نے، نہیں ہو گا اس کے لیے سوائے اللہ کے کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی اور اگر بدلے میں دے ہر طرح کا فدیہ تو بھی نہ لیا جائے گا اس سے، یہی ہیں وہ لوگ جو ہلاک کیے گئے بوجہ اس کے جو کمایا انھوں نے، ان کے لیے پینا ہو گا گرم پانی اور عذاب ہوگا درد ناک بوجہ اس کے جو تھے وہ کفر کرتے (70)

[70] بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کریں ، یعنی اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں ، اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے محبوب امور کے حصول میں مقدور بھر کوشش صرف کریں اور یہ چیز اس بات کو متضمن ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر اور اس کی طرف متوجہ رہے، بندے کی کوشش انتہائی سنجیدہ اور نفع مند ہو نہ کہ غیر سنجیدہ اور یہ کوشش اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اس میں ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ نہ ہو۔ یہی وہ حقیقی دین ہے جس کو دین کہا ہے۔ رہا وہ شخص جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ صاحب دین اور صاحب تقویٰ ہے اور حالت یہ ہے کہ اس نے دین کو لہو و لعب بنا رکھا ہے اور اس کا قلب اللہ تعالیٰ کی محبت اور معرفت سے خالی ہو کر لہو و لعب میں مستغرق ہو گیا اور ہر اس چیز میں مصروف ہو گیا جو اس کے لیے ضرر رساں ہے وہ اپنے بدن کے ساتھ لہو اور باطل میں مشغول ہے کیونکہ عمل اور بھاگ دوڑ اگر غیر اللہ کے لیے ہو تو وہ لہو و لعب ہے.... تو اس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے، اس سے بچا جائے، اس سے دھوکہ نہ کھایا جائے اور اس کے احوال پر غور کیا جائے، اس کی کارستانیوں سے ہشیار رہے اور وہ تقرب الٰہی والے اعمال سے روکے تو اس کے دھوکے میں نہ آئے۔ ﴿ وَذَكِّرۡ بِهٖۤ﴾ ’’اور اس کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیں ۔‘‘ یعنی قرآن کے ذریعے سے ان کو نصیحت کیجیے جو بندوں کے لیے نفع مند ہے قرآن کے احکامات سنا کر، اس کی تفصیلات بیان کر کے، قرآن میں جو اچھے اوصاف مذکور ہیں ان کی تحسین کر کے اور وہ اوصاف جو بندوں کے لیے ضرر رساں ہیں ان سے ان کو منع کر کے، اس کی انواع کی تفصیل بیان کیجیے اور جو قبیح اوصاف بیان ہوئے ہیں جن کا ترک کرنا ضروری ہے (ان سب کے ساتھ) ان کو نصیحت کیجیے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ کہیں نفس اپنے کسب کی وجہ سے ہلاکت میں نہ ڈال دیا جائے، یعنی بندے کا گناہوں میں گھس جانے، اللہ علام الغیوب کے سامنے جرأت کرنے اور گناہوں پر قائم رہنے سے پہلے اسے نصیحت کیجیے تاکہ وہ باز آجائے اور اپنے فعل سے رک جائے۔ ﴿ لَيۡسَ لَهَا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيۡعٌ ﴾ ’’نہیں ہو گا واسطے اس کے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی‘‘ یعنی نفس کو اس کے گناہوں کا احاطہ کر لینے سے پہلے نصیحت کرو کیونکہ اس کے بعد مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے کام نہ آئے گا۔ نہ کوئی قریبی رشتہ دار اور نہ کوئی دوست، اللہ کے سوا اس کا کوئی ولی اور مددگار نہ ہو گا اور نہ اس کی کوئی سفارش کرنے والا ہو گا ﴿ وَاِنۡ تَعۡدِلۡ كُلَّ عَدۡلٍ ﴾ ’’اگرچہ وہ ہر چیز معاوضے میں دینا چاہے۔‘‘ یعنی اگر یہ نفس ہر قسم کا فدیہ دے خواہ وہ زمین بھر سونا کیوں نہ ہو ﴿ لَّا يُؤۡخَذۡ مِنۡهَا ﴾ ’’وہ اس سے قبول نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ یہ فدیہ کوئی فائدہ دے گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو مذکورہ اوصاف سے موصوف ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ اُبۡسِلُوۡا ﴾ ’’جنھیں ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی ان کو ہلاک کر دیا گیا اور وہ ہر قسم کی بھلائی سے مایوس ہو گئے اور یہ ان کے اعمال کے سبب سے ہے ﴿لَهُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’ان کا مشروب ابلتا ہوا گرم پانی ہو گا‘‘ جو ان کے چہروں کو …

Al-An'aam 6:70Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.