Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 61–70 of 165

61

وَهُوَ ٱلْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِۦ ۖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے

No commentary on this ayah in this edition.

Al-An'aam 6:61Listen in Qur'an →
62

ثُمَّ رُدُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ مَوْلَىٰهُمُ ٱلْحَقِّ ۚ أَلَا لَهُ ٱلْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ ٱلْحَٰسِبِينَ

پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے۔ سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے

No commentary on this ayah in this edition.

Al-An'aam 6:62Listen in Qur'an →
63

قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَٰتِ ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ تَدْعُونَهُۥ تَضَرُّعًۭا وَخُفْيَةًۭ لَّئِنْ أَنجَىٰنَا مِنْ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ

کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اسے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس (تنگی) سے نجات بخشے تو ہم اس کے بہت شکر گزار ہوں

No commentary on this ayah in this edition.

Al-An'aam 6:63Listen in Qur'an →
64

قُلِ ٱللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍۢ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ

کہو کہ خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے۔ پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو

No commentary on this ayah in this edition.

Al-An'aam 6:64Listen in Qur'an →
65

قُلْ هُوَ ٱلْقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًۭا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًۭا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ

کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں

No commentary on this ayah in this edition.

Al-An'aam 6:65Listen in Qur'an →
66

وَكَذَّبَ بِهِۦ قَوْمُكَ وَهُوَ ٱلْحَقُّ ۚ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍۢ

اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے۔ کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں

No commentary on this ayah in this edition.

Al-An'aam 6:66Listen in Qur'an →
67

لِّكُلِّ نَبَإٍۢ مُّسْتَقَرٌّۭ ۚ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا

No commentary on this ayah in this edition.

Al-An'aam 6:67Listen in Qur'an →
68

وَإِذَا رَأَيْتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِىٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا۟ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِۦ ۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيْطَٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ ٱلذِّكْرَىٰ مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہوں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں۔ اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

ظالموں کی ہم نشینی کی ممانعت - قول باری ہے ( واذا رایت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنھم اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تم دیکھوں کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جائو) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان لوگوں سے دور ہٹ جانے کا حکم دیا۔ جو اللہ کی آیات یعنی قرآن پر تکذیب اور حقارت کا اظہار کر کے نکتہ چینیاں کرتے ہیں، تا کہ اس کے ذریعے ان کے روپے پر اپنی نفرت کا اظہار ہوجائے نیز ان کی اس روش کی عملی طور پر تردید بھی ہوجائے جس کے نتیجے میں وہ اس سے باز آ جائیں اور گفتگو کا موضوع بدل کر کوئی اور بات شروع کردیں۔ - یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ جب ملحدین اور کفار کی طرف سے کفر اور شرک نیز خدا کے بارے میں گستاخی کا اظہار ہو اور ہمارے لیے اپنی جان کے خطرے کے پیش نظر ہاتھ اور زبان سے اس کی تردید ممکن نہ ہو اور ہم کسی طرح اس کا سدباب نہ کرسکیں تو ایسی صورت میں ان لوگوں کی ہم نشینی ترک کرنا فرض ہوگا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جن باتوں پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا ہے ان پر عمل پیرا ہونا ہم پر بھی فرض ہے الا یہ کہ کوئی ایسی دلالت قائم ہوجائے جو کسی حکم کی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کے ساتھ تخصیص ثابت کر دے، اس صورت میں اس حکم پر عمل کرنا ہم پر فرض نہیں ہوگا۔ قول باری ہے ( واما ینسینک الشیطان اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھلاوے میں ڈال دے) مراد یہ ہے کہ اگر شیطان کبھی تمہیں کسی اور مشغولیت کی بنا پر بھلاوے میں ڈال دے اور تم نسیان کی اس حالت میں ان کے پاس بیٹھے رہو اور وہ دردیہ دہنی کرتے رہیں لیکن تمہیں ان کی خالست کی ممانعت یا د نہ آئے تو اس صورت میں تم پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔ پھر ارشاد ہوا ( فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین ۔ جس وقت یاد آ جائے اس کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو) یعنی جب تمہیں اللہ کی نہی یاد آ جائے تو اس کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔- اس میں تمام ظالم لوگوں کے پاس بیٹھنے کی ممانعت کے حکم میں عموم ہے خواہ ان کا تعلق اہل شرک و کفر سے ہو یا کسی اور مذہب کے پیروکاروں سے ہو، اس لیے کہ ظالم کا اسم ان تمام قسم کے لوگوں پر واقع ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص میں اپنی جان خطرے میں پڑجانے کے خوف سے ظالموں کی اس دریدہ دہنی کو ہاتھ یا زبان سے روک دینے کی استطاعت نہ ہو اور دوسری طرف ان کی اس قبیح حرکت کے خلاف حجت قائم ہوچکی ہو تو اب کسی شخص کے لیے یہ بات جائز نہیں ہوگی کہ اس پر انہیں ٹوکے اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیے بغری ان کی مجالست اختیار کرے خواہ وہ اس وقت اپنے اس ظالمانہ اور گستاخانہ رویے کا اظہار کر رہے ہوں یا نہ کر رہے ہوں۔ اس لیے کہ ایسے لوگوں کی مجالست کے سلسلے میں وارد نہی کے اندر عموم ہے۔ اگر کوئی شخص نفرت یا ناپسندیدگی کا اظہار کیے بغیر ان کی مجالست اختیار کرلیتا ہے تو وہ گویا ان کی اس غلط کاری پر اپنی رضا مندی کی مہر ثبت کردیتا ہے۔- اس کی نظیر یہ قول باری ہے ( لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل) تا آخر آیت۔ اس آیت کی تفیسر میں مروی اقوال کا ہم نے پہلے ذکر کردیا ہے۔ نیز یہ قول باری ہے ( ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار۔ اور ظالموں کی طرف اپنے جھکائو کا اظہار نہ کرو کہ اس کی وجہ سے کہیں تمہیں آگے نہ چھو جائے۔ قول باری ہے ( وذرالذین اتخذوا دینھم لعباولھوا وغرتھم الحیوۃ الدنیا و ذکر بہ ان تمسل نفس بما کسبت، چھوڑو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کیے ہوئے ہے ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہوجائے) قتادر (رض) کا قول ہے کہ یہ آیت اس قول باری ( اقتلوا المشرکین) کی بناء پر …

Al-An'aam 6:68Listen in Qur'an →
69

وَمَا عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍۢ وَلَٰكِن ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں

Explained together with ayah 68

Al-An'aam 6:69Listen in Qur'an →
70

وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَعِبًۭا وَلَهْوًۭا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ بِهِۦٓ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِىٌّۭ وَلَا شَفِيعٌۭ وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍۢ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَآ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أُبْسِلُوا۟ بِمَا كَسَبُوا۟ ۖ لَهُمْ شَرَابٌۭ مِّنْ حَمِيمٍۢ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ

اور جن لوگوں نے اپنےدین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کےسوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے

تشریح تبسل - قول باری ( تُبسل) کے معنی فراء کے قول کے مطابق ” ترتھن “ ( گروی لے لی جائے) ہے حسن مجاہد اور سدی کے قول کے مطابق ” تسلم “ حوالے ہوجائے، اور قتادہ کے قول کے مطابق ” تجس “ پھنس جائے) جبکہ حضرت ابن عباس (رض) کے قول کے مطاق ” تفضح “ ( ذلیل ہوجائے) ہے۔ ایک قول ہے کہ اس کے اصل معنی ارتہان یعنی گروی لینے کے ہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ اصل معنی تحریم کے ہیں۔ محاورہ میں ” اسد باسل “ ( بہادر شیر) اس لیے کہا جاتا ہے کہ شیر کا کیا ہوا شکار اس کے پاس گروی ہوجاتا ہے اور اس کے ہاتھ سے نکل نہیں سکتا۔ ایک اور محاورہ ہے ” ھذا بسل علیک یعنی یہ چیز تم پر حرام ہے۔ اس لیے کہ اس چیز کو اسی طرح کے ساتھ مقید کردیا گیا ہے۔ ایک محاورہ یہ بھی ہے ” اعطی الراقی سلتہ “ یعنی اس نے جھاڑ پھونک کرنے والے کو اس کی اجرت دے دی۔ اس لیے کہ اس کا یہ عمل اجرت کی شرط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے ۔ مستبسل کے معنی مستسلم کے ہیں۔ یعنی فرمانبردر اس لیے کہ اس کی حیثیت اس شخص جیسی ہوتی ہے جو فرمانبرداری کے اظہار کے ذریعے اپنے آپ کو مقید اور پابند بنا لیتا ہے۔

Al-An'aam 6:70Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.