Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 51–60 of 165

51

وَأَنذِرْ بِهِ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُوٓا۟ إِلَىٰ رَبِّهِمْ ۙ لَيْسَ لَهُم مِّن دُونِهِۦ وَلِىٌّۭ وَلَا شَفِيعٌۭ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

اور جو لوگ جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا، ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کر دو تاکہ پرہیزگار بنیں

اور ڈرائیں آپ اسکے ذریعے ان کو جو ڈرتے ہیں اس سے کہ وہ اکٹھے کیے جائیں گے اپنے رب کی طرف ، نہیں ہوگا ان کا اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں (51) اور مت دور کریں ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، چاہتے ہیں وہ چہرہ اس کا ، نہیں ہے آپ کے ذمے ان کے حساب میں سے کچھ اور نہیں ہے آپ کے حساب میں سے ان کے ذمے کچھ کہ دور کریں آپ ان کو! (ایسا کیا) تو ہوجائیں گے آپ ظالموں سے (52) اور اسی طرح فتنے میں ڈالا ہم نے ان کے ایک کو دوسرے کے ذریعے سے تاکہ کہیں وہ کیا یہی لوگ ہیں کہ احسان کیا اللہ نے ان پر ہمارے درمیان میں سے؟ کیا نہیں ہے اللہ خوب جانتا شکر کرنے والوں کو؟(53) اور جب آئیں آپ کے پاس وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ہماری آیات پر تو کہہ دیجیے سلام ہو تم پر لازم کر لیا ہے تمھارے رب نے اوپر اپنے نفس کے مہربانی کرنا، بے شک جو شخص عمل کرے تم میں سے برا ، جہالت سے ، پھر وہ توبہ کرے اس کے بعد او ر اصلاح کرلے تو یقینا وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے(54) اور اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیات کو اور تا کہ واضح ہو جائے راستہ مجرموں کا(55)

[51] یہ قرآن تمام مخلوق کے لیے انذار ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ اَنۡ يُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انھیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کیے جانا ہے۔‘‘ پس انھیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں نقصان دیتا ہے۔ ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے اس کے بغیر‘‘ یعنی اللہ کے بغیر ﴿ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيۡعٌ ﴾ ’’کوئی دوست اور نہ سفارشی‘‘ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہو گی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کر سکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہو جائے اور ان سے تکلیف دور ہو جائے، نہ ان کا کوئی سفارشی ہو گا کیونکہ تمام مخلوق کے پاس کوئی اختیار نہیں ﴿ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ پرہیز گار بنیں ۔‘‘ شاید وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کریں ۔ کیونکہ انذار، تقویٰ کا موجب اور اس کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔

[52]﴿ وَلَا تَطۡرُدِ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰؔوةِ وَالۡعَشِيِّ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَهٗ ﴾ ’’اور مت دور کیجیے ان لوگوں کو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ، چاہتے ہیں اسی کا چہرہ‘‘ یعنی دوسروں کی مجالست کی امید میں اہل اخلاص اور اہل عبادت کو اپنی مجلس سے دور نہ کیجیے جو ہمیشہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں ، ذکر اور نماز کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ، صبح و شام اس سے سوال کرتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔ اس مقصد جلیل کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ۔ بنابریں یہ لوگ اس چیز کے مستحق نہیں کہ انھیں اپنے سے دور کیا جائے یا ان سے روگردانی کی جائے بلکہ یہ لوگ تو آپﷺ کی موالات، محبت اور قربت کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ یہ مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہیں اگرچہ یہ فقرا اور نادار ہیں ۔ اور یہی درحقیقت اللہ کے ہاں باعزت لوگ ہیں اگرچہ یہ لوگوں کے نزدیک گھٹیا اور کم مرتبہ ہیں ۔ ﴿مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ وَّمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’نہیں ہے آپ پر ان کے حساب میں سے کچھ اور نہ آپ کے حساب میں سے ان پر ہے کچھ‘‘ یعنی ہرشخص کے ذمہ اس کا اپنا حساب ہے، اس کا نیک عمل اسی کے لیے ہے اور برے عمل کی شامت بھی اسی پر ہے ﴿ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر ان کو دور کرو گے تو ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پوری طرح پیروی کی، …

Al-An'aam 6:51Listen in Qur'an →
52

وَلَا تَطْرُدِ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِٱلْغَدَوٰةِ وَٱلْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُۥ ۖ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍۢ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِم مِّن شَىْءٍۢ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے

اور ڈرائیں آپ اسکے ذریعے ان کو جو ڈرتے ہیں اس سے کہ وہ اکٹھے کیے جائیں گے اپنے رب کی طرف ، نہیں ہوگا ان کا اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں (51) اور مت دور کریں ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، چاہتے ہیں وہ چہرہ اس کا ، نہیں ہے آپ کے ذمے ان کے حساب میں سے کچھ اور نہیں ہے آپ کے حساب میں سے ان کے ذمے کچھ کہ دور کریں آپ ان کو! (ایسا کیا) تو ہوجائیں گے آپ ظالموں سے (52) اور اسی طرح فتنے میں ڈالا ہم نے ان کے ایک کو دوسرے کے ذریعے سے تاکہ کہیں وہ کیا یہی لوگ ہیں کہ احسان کیا اللہ نے ان پر ہمارے درمیان میں سے؟ کیا نہیں ہے اللہ خوب جانتا شکر کرنے والوں کو؟(53) اور جب آئیں آپ کے پاس وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ہماری آیات پر تو کہہ دیجیے سلام ہو تم پر لازم کر لیا ہے تمھارے رب نے اوپر اپنے نفس کے مہربانی کرنا، بے شک جو شخص عمل کرے تم میں سے برا ، جہالت سے ، پھر وہ توبہ کرے اس کے بعد او ر اصلاح کرلے تو یقینا وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے(54) اور اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیات کو اور تا کہ واضح ہو جائے راستہ مجرموں کا(55)

[51] یہ قرآن تمام مخلوق کے لیے انذار ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ اَنۡ يُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انھیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کیے جانا ہے۔‘‘ پس انھیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں نقصان دیتا ہے۔ ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے اس کے بغیر‘‘ یعنی اللہ کے بغیر ﴿ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيۡعٌ ﴾ ’’کوئی دوست اور نہ سفارشی‘‘ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہو گی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کر سکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہو جائے اور ان سے تکلیف دور ہو جائے، نہ ان کا کوئی سفارشی ہو گا کیونکہ تمام مخلوق کے پاس کوئی اختیار نہیں ﴿ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ پرہیز گار بنیں ۔‘‘ شاید وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کریں ۔ کیونکہ انذار، تقویٰ کا موجب اور اس کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔

[52]﴿ وَلَا تَطۡرُدِ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰؔوةِ وَالۡعَشِيِّ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَهٗ ﴾ ’’اور مت دور کیجیے ان لوگوں کو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ، چاہتے ہیں اسی کا چہرہ‘‘ یعنی دوسروں کی مجالست کی امید میں اہل اخلاص اور اہل عبادت کو اپنی مجلس سے دور نہ کیجیے جو ہمیشہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں ، ذکر اور نماز کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ، صبح و شام اس سے سوال کرتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔ اس مقصد جلیل کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ۔ بنابریں یہ لوگ اس چیز کے مستحق نہیں کہ انھیں اپنے سے دور کیا جائے یا ان سے روگردانی کی جائے بلکہ یہ لوگ تو آپﷺ کی موالات، محبت اور قربت کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ یہ مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہیں اگرچہ یہ فقرا اور نادار ہیں ۔ اور یہی درحقیقت اللہ کے ہاں باعزت لوگ ہیں اگرچہ یہ لوگوں کے نزدیک گھٹیا اور کم مرتبہ ہیں ۔ ﴿مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ وَّمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’نہیں ہے آپ پر ان کے حساب میں سے کچھ اور نہ آپ کے حساب میں سے ان پر ہے کچھ‘‘ یعنی ہرشخص کے ذمہ اس کا اپنا حساب ہے، اس کا نیک عمل اسی کے لیے ہے اور برے عمل کی شامت بھی اسی پر ہے ﴿ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر ان کو دور کرو گے تو ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پوری طرح پیروی کی، …

Al-An'aam 6:52Listen in Qur'an →
53

وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍۢ لِّيَقُولُوٓا۟ أَهَٰٓؤُلَآءِ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنۢ بَيْنِنَآ ۗ أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَعْلَمَ بِٱلشَّٰكِرِينَ

اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولتمند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم میں سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنے والوں سے واقف نہیں؟

اور ڈرائیں آپ اسکے ذریعے ان کو جو ڈرتے ہیں اس سے کہ وہ اکٹھے کیے جائیں گے اپنے رب کی طرف ، نہیں ہوگا ان کا اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں (51) اور مت دور کریں ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، چاہتے ہیں وہ چہرہ اس کا ، نہیں ہے آپ کے ذمے ان کے حساب میں سے کچھ اور نہیں ہے آپ کے حساب میں سے ان کے ذمے کچھ کہ دور کریں آپ ان کو! (ایسا کیا) تو ہوجائیں گے آپ ظالموں سے (52) اور اسی طرح فتنے میں ڈالا ہم نے ان کے ایک کو دوسرے کے ذریعے سے تاکہ کہیں وہ کیا یہی لوگ ہیں کہ احسان کیا اللہ نے ان پر ہمارے درمیان میں سے؟ کیا نہیں ہے اللہ خوب جانتا شکر کرنے والوں کو؟(53) اور جب آئیں آپ کے پاس وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ہماری آیات پر تو کہہ دیجیے سلام ہو تم پر لازم کر لیا ہے تمھارے رب نے اوپر اپنے نفس کے مہربانی کرنا، بے شک جو شخص عمل کرے تم میں سے برا ، جہالت سے ، پھر وہ توبہ کرے اس کے بعد او ر اصلاح کرلے تو یقینا وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے(54) اور اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیات کو اور تا کہ واضح ہو جائے راستہ مجرموں کا(55)

[51] یہ قرآن تمام مخلوق کے لیے انذار ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ اَنۡ يُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انھیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کیے جانا ہے۔‘‘ پس انھیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں نقصان دیتا ہے۔ ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے اس کے بغیر‘‘ یعنی اللہ کے بغیر ﴿ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيۡعٌ ﴾ ’’کوئی دوست اور نہ سفارشی‘‘ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہو گی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کر سکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہو جائے اور ان سے تکلیف دور ہو جائے، نہ ان کا کوئی سفارشی ہو گا کیونکہ تمام مخلوق کے پاس کوئی اختیار نہیں ﴿ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ پرہیز گار بنیں ۔‘‘ شاید وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کریں ۔ کیونکہ انذار، تقویٰ کا موجب اور اس کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔

[52]﴿ وَلَا تَطۡرُدِ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰؔوةِ وَالۡعَشِيِّ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَهٗ ﴾ ’’اور مت دور کیجیے ان لوگوں کو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ، چاہتے ہیں اسی کا چہرہ‘‘ یعنی دوسروں کی مجالست کی امید میں اہل اخلاص اور اہل عبادت کو اپنی مجلس سے دور نہ کیجیے جو ہمیشہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں ، ذکر اور نماز کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ، صبح و شام اس سے سوال کرتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔ اس مقصد جلیل کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ۔ بنابریں یہ لوگ اس چیز کے مستحق نہیں کہ انھیں اپنے سے دور کیا جائے یا ان سے روگردانی کی جائے بلکہ یہ لوگ تو آپﷺ کی موالات، محبت اور قربت کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ یہ مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہیں اگرچہ یہ فقرا اور نادار ہیں ۔ اور یہی درحقیقت اللہ کے ہاں باعزت لوگ ہیں اگرچہ یہ لوگوں کے نزدیک گھٹیا اور کم مرتبہ ہیں ۔ ﴿مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ وَّمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’نہیں ہے آپ پر ان کے حساب میں سے کچھ اور نہ آپ کے حساب میں سے ان پر ہے کچھ‘‘ یعنی ہرشخص کے ذمہ اس کا اپنا حساب ہے، اس کا نیک عمل اسی کے لیے ہے اور برے عمل کی شامت بھی اسی پر ہے ﴿ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر ان کو دور کرو گے تو ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پوری طرح پیروی کی، …

Al-An'aam 6:53Listen in Qur'an →
54

وَإِذَا جَآءَكَ ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَٰتِنَا فَقُلْ سَلَٰمٌ عَلَيْكُمْ ۖ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْمَةَ ۖ أَنَّهُۥ مَنْ عَمِلَ مِنكُمْ سُوٓءًۢا بِجَهَٰلَةٍۢ ثُمَّ تَابَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُۥ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو (ان سے) سلام علیکم کہا کرو خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے

اور ڈرائیں آپ اسکے ذریعے ان کو جو ڈرتے ہیں اس سے کہ وہ اکٹھے کیے جائیں گے اپنے رب کی طرف ، نہیں ہوگا ان کا اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں (51) اور مت دور کریں ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، چاہتے ہیں وہ چہرہ اس کا ، نہیں ہے آپ کے ذمے ان کے حساب میں سے کچھ اور نہیں ہے آپ کے حساب میں سے ان کے ذمے کچھ کہ دور کریں آپ ان کو! (ایسا کیا) تو ہوجائیں گے آپ ظالموں سے (52) اور اسی طرح فتنے میں ڈالا ہم نے ان کے ایک کو دوسرے کے ذریعے سے تاکہ کہیں وہ کیا یہی لوگ ہیں کہ احسان کیا اللہ نے ان پر ہمارے درمیان میں سے؟ کیا نہیں ہے اللہ خوب جانتا شکر کرنے والوں کو؟(53) اور جب آئیں آپ کے پاس وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ہماری آیات پر تو کہہ دیجیے سلام ہو تم پر لازم کر لیا ہے تمھارے رب نے اوپر اپنے نفس کے مہربانی کرنا، بے شک جو شخص عمل کرے تم میں سے برا ، جہالت سے ، پھر وہ توبہ کرے اس کے بعد او ر اصلاح کرلے تو یقینا وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے(54) اور اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیات کو اور تا کہ واضح ہو جائے راستہ مجرموں کا(55)

[51] یہ قرآن تمام مخلوق کے لیے انذار ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ اَنۡ يُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انھیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کیے جانا ہے۔‘‘ پس انھیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں نقصان دیتا ہے۔ ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے اس کے بغیر‘‘ یعنی اللہ کے بغیر ﴿ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيۡعٌ ﴾ ’’کوئی دوست اور نہ سفارشی‘‘ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہو گی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کر سکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہو جائے اور ان سے تکلیف دور ہو جائے، نہ ان کا کوئی سفارشی ہو گا کیونکہ تمام مخلوق کے پاس کوئی اختیار نہیں ﴿ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ پرہیز گار بنیں ۔‘‘ شاید وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کریں ۔ کیونکہ انذار، تقویٰ کا موجب اور اس کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔

[52]﴿ وَلَا تَطۡرُدِ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰؔوةِ وَالۡعَشِيِّ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَهٗ ﴾ ’’اور مت دور کیجیے ان لوگوں کو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ، چاہتے ہیں اسی کا چہرہ‘‘ یعنی دوسروں کی مجالست کی امید میں اہل اخلاص اور اہل عبادت کو اپنی مجلس سے دور نہ کیجیے جو ہمیشہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں ، ذکر اور نماز کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ، صبح و شام اس سے سوال کرتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔ اس مقصد جلیل کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ۔ بنابریں یہ لوگ اس چیز کے مستحق نہیں کہ انھیں اپنے سے دور کیا جائے یا ان سے روگردانی کی جائے بلکہ یہ لوگ تو آپﷺ کی موالات، محبت اور قربت کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ یہ مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہیں اگرچہ یہ فقرا اور نادار ہیں ۔ اور یہی درحقیقت اللہ کے ہاں باعزت لوگ ہیں اگرچہ یہ لوگوں کے نزدیک گھٹیا اور کم مرتبہ ہیں ۔ ﴿مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ وَّمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’نہیں ہے آپ پر ان کے حساب میں سے کچھ اور نہ آپ کے حساب میں سے ان پر ہے کچھ‘‘ یعنی ہرشخص کے ذمہ اس کا اپنا حساب ہے، اس کا نیک عمل اسی کے لیے ہے اور برے عمل کی شامت بھی اسی پر ہے ﴿ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر ان کو دور کرو گے تو ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پوری طرح پیروی کی، …

Al-An'aam 6:54Listen in Qur'an →
55

وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ ٱلْمُجْرِمِينَ

اور اس طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گنہگاروں کا رستہ ظاہر ہوجائے

اور ڈرائیں آپ اسکے ذریعے ان کو جو ڈرتے ہیں اس سے کہ وہ اکٹھے کیے جائیں گے اپنے رب کی طرف ، نہیں ہوگا ان کا اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں (51) اور مت دور کریں ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، چاہتے ہیں وہ چہرہ اس کا ، نہیں ہے آپ کے ذمے ان کے حساب میں سے کچھ اور نہیں ہے آپ کے حساب میں سے ان کے ذمے کچھ کہ دور کریں آپ ان کو! (ایسا کیا) تو ہوجائیں گے آپ ظالموں سے (52) اور اسی طرح فتنے میں ڈالا ہم نے ان کے ایک کو دوسرے کے ذریعے سے تاکہ کہیں وہ کیا یہی لوگ ہیں کہ احسان کیا اللہ نے ان پر ہمارے درمیان میں سے؟ کیا نہیں ہے اللہ خوب جانتا شکر کرنے والوں کو؟(53) اور جب آئیں آپ کے پاس وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ہماری آیات پر تو کہہ دیجیے سلام ہو تم پر لازم کر لیا ہے تمھارے رب نے اوپر اپنے نفس کے مہربانی کرنا، بے شک جو شخص عمل کرے تم میں سے برا ، جہالت سے ، پھر وہ توبہ کرے اس کے بعد او ر اصلاح کرلے تو یقینا وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے(54) اور اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیات کو اور تا کہ واضح ہو جائے راستہ مجرموں کا(55)

[51] یہ قرآن تمام مخلوق کے لیے انذار ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ اَنۡ يُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انھیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کیے جانا ہے۔‘‘ پس انھیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں نقصان دیتا ہے۔ ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے اس کے بغیر‘‘ یعنی اللہ کے بغیر ﴿ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيۡعٌ ﴾ ’’کوئی دوست اور نہ سفارشی‘‘ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہو گی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کر سکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہو جائے اور ان سے تکلیف دور ہو جائے، نہ ان کا کوئی سفارشی ہو گا کیونکہ تمام مخلوق کے پاس کوئی اختیار نہیں ﴿ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ پرہیز گار بنیں ۔‘‘ شاید وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کریں ۔ کیونکہ انذار، تقویٰ کا موجب اور اس کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔

[52]﴿ وَلَا تَطۡرُدِ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰؔوةِ وَالۡعَشِيِّ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَهٗ ﴾ ’’اور مت دور کیجیے ان لوگوں کو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ، چاہتے ہیں اسی کا چہرہ‘‘ یعنی دوسروں کی مجالست کی امید میں اہل اخلاص اور اہل عبادت کو اپنی مجلس سے دور نہ کیجیے جو ہمیشہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں ، ذکر اور نماز کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ، صبح و شام اس سے سوال کرتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔ اس مقصد جلیل کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ۔ بنابریں یہ لوگ اس چیز کے مستحق نہیں کہ انھیں اپنے سے دور کیا جائے یا ان سے روگردانی کی جائے بلکہ یہ لوگ تو آپﷺ کی موالات، محبت اور قربت کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ یہ مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہیں اگرچہ یہ فقرا اور نادار ہیں ۔ اور یہی درحقیقت اللہ کے ہاں باعزت لوگ ہیں اگرچہ یہ لوگوں کے نزدیک گھٹیا اور کم مرتبہ ہیں ۔ ﴿مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ وَّمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’نہیں ہے آپ پر ان کے حساب میں سے کچھ اور نہ آپ کے حساب میں سے ان پر ہے کچھ‘‘ یعنی ہرشخص کے ذمہ اس کا اپنا حساب ہے، اس کا نیک عمل اسی کے لیے ہے اور برے عمل کی شامت بھی اسی پر ہے ﴿ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر ان کو دور کرو گے تو ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پوری طرح پیروی کی، …

Al-An'aam 6:55Listen in Qur'an →
56

قُلْ إِنِّى نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۚ قُل لَّآ أَتَّبِعُ أَهْوَآءَكُمْ ۙ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًۭا وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُهْتَدِينَ

(اے پیغمبر! کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کروں تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں نہ رہوں

کہہ دیجیے! یقینا میں روک دیا گیا ہوں اس سے کہ عبادت کروں ان کی جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے، کہہ دیجیے! نہیں پیچھے چلتا میں تمھاری خواہشات کے، تحقیق گمراہ ہو جاؤں گا میں اس وقت اور نہ ہوں گا میں ہدایت پانے والوں سے (56) کہہ دیجیے! یقیناً میں دلیل پر ہوں اپنے رب کی طرف سے اور جھٹلایا تم نے اسے، نہیں ہے میرے پاس وہ چیز کہ جلدی طلب کررہے ہو تم اس کو ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا بیان فرماتا ہے وہ حق بات اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے(57) کہہ دیجیے، اگر میرے پاس ہوتی وہ چیز کہ جلدی طلب کر رہے ہو تم اس کو تو فیصلہ کر دیا جاتا معاملے کا میرے درمیان اور تمھارے درمیان اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(58)

[56] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ان مشرکین سے کہہ دیجیے جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو بھی پکارتے ہیں ﴿اِنِّيۡ نُهِيۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔‘‘ یعنی مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اللہ کی بجائے اللہ کے بناوٹی ہمسروں اور بتوں کی عبادت کروں جو کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات اور دوبارہ اٹھانے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں ۔ یہ سب باطل ہے۔ اس میں تمھارے لیے کوئی دلیل ہے نہ اس کے باطل ہونے میں کوئی شبہ ہے۔ سوائے خواہشات نفس کی پیروی کے جو سب سے بڑی گمراہی ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿قُلۡ لَّاۤ اَتَّبِـعُ اَهۡوَؔآءَؔكُمۡ١ۙ قَدۡ ضَلَلۡتُ اِذًا ﴾ ’’کہہ دیجیے میں تمھاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا، بیشک تب میں بہک جاؤں گا‘‘ یعنی اگر میں تمھاری خواہشات کی پیروی کروں تو گمراہ ہو جاؤں گا ﴿ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’اور کسی پہلو سے بھی راہ راست پر نہیں رہوں گا۔‘‘

[57] رہی وہ توحید اور اخلاص عمل جن پر میں عمل پیرا ہوں تو یہی حق ہے جس کی تائید واضح براہین اور قطعی دلائل کرتے ہیں ۔ ﴿ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’میں تو آپ رب کی دلیل روشن پر ہوں ۔‘‘ آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اس قرآن کی صحت اور اس کے ماسوا کے بطلان کا واضح یقین رکھتا ہوں ۔ یہ رسول کی طرف سے قطعی شہادت ہے جو ہر قسم کے تردد سے پاک ہے۔ رسول علی الاطلاق سب سے عادل گواہ ہوتا ہے۔ اہل ایمان نے رسول کی گواہی کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جس ایمان سے نوازا ہے اس ایمان کے مطابق ان کے ہاں اس شہادت کی صحت اور صداقت متحقق ہے۔ ﴿وَ﴾ مگر اے مشرکو! ﴿ؔكَذَّبۡتُمۡ بِهٖ ﴾ ’’تم نے اس کی تکذیب کی‘‘ اور یہ تمھاری طرف سے اس سلوک کا مستحق نہ تھا، تصدیق کے سوا کوئی اور سلوک اس کے شایان شان نہ تھا۔ جب تم تکذیب پر مصر ہو تو جان رکھو کہ لامحالہ عذاب تم پر واقع ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ عذاب مقرر ہے وہ جب چاہے گا اور جیسے چاہے گا تم پر نازل کرے گا۔ اگر تم جلدی مچاتے ہو تو معاملہ میرے اختیار میں نہیں ﴿ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ ﴾ ’’حکم صرف اللہ کا ہے‘‘ جس طرح اس نے اوامر و نواہی میں اپنا حکم شرعی نافذ کیا ہے اسی طرح وہ حکم جزائی نافذ کرے گا اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ثواب و عقاب دے گا۔ پس اس کے فیصلے پر اعتراض در خور اعتنا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے راہ حق کو واضح کر دیا ہے اور اپنے بندوں کے سامنے حق بیان کر کے ان کا عذر ختم کر دیا اور یوں ان کی حجت منقطع ہو گئی۔ تاکہ جو ہلاک ہو تو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الۡفٰصِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ وہ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، وہ ان کے درمیان ایسا فیصلہ کرتا ہے جس پر اس کی تعریف کی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ بھی تعریف کیے بغیر نہیں رہتا جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے اور وہ حق کو واضح اور متعین کر دیتا ہے۔

[58]﴿ قُلۡ ﴾ ان …

Al-An'aam 6:56Listen in Qur'an →
57

قُلْ إِنِّى عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَكَذَّبْتُم بِهِۦ ۚ مَا عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِۦٓ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ يَقُصُّ ٱلْحَقَّ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْفَٰصِلِينَ

کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے (ایسا) حکم الله ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

کہہ دیجیے! یقینا میں روک دیا گیا ہوں اس سے کہ عبادت کروں ان کی جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے، کہہ دیجیے! نہیں پیچھے چلتا میں تمھاری خواہشات کے، تحقیق گمراہ ہو جاؤں گا میں اس وقت اور نہ ہوں گا میں ہدایت پانے والوں سے (56) کہہ دیجیے! یقیناً میں دلیل پر ہوں اپنے رب کی طرف سے اور جھٹلایا تم نے اسے، نہیں ہے میرے پاس وہ چیز کہ جلدی طلب کررہے ہو تم اس کو ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا بیان فرماتا ہے وہ حق بات اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے(57) کہہ دیجیے، اگر میرے پاس ہوتی وہ چیز کہ جلدی طلب کر رہے ہو تم اس کو تو فیصلہ کر دیا جاتا معاملے کا میرے درمیان اور تمھارے درمیان اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(58)

[56] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ان مشرکین سے کہہ دیجیے جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو بھی پکارتے ہیں ﴿اِنِّيۡ نُهِيۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔‘‘ یعنی مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اللہ کی بجائے اللہ کے بناوٹی ہمسروں اور بتوں کی عبادت کروں جو کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات اور دوبارہ اٹھانے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں ۔ یہ سب باطل ہے۔ اس میں تمھارے لیے کوئی دلیل ہے نہ اس کے باطل ہونے میں کوئی شبہ ہے۔ سوائے خواہشات نفس کی پیروی کے جو سب سے بڑی گمراہی ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿قُلۡ لَّاۤ اَتَّبِـعُ اَهۡوَؔآءَؔكُمۡ١ۙ قَدۡ ضَلَلۡتُ اِذًا ﴾ ’’کہہ دیجیے میں تمھاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا، بیشک تب میں بہک جاؤں گا‘‘ یعنی اگر میں تمھاری خواہشات کی پیروی کروں تو گمراہ ہو جاؤں گا ﴿ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’اور کسی پہلو سے بھی راہ راست پر نہیں رہوں گا۔‘‘

[57] رہی وہ توحید اور اخلاص عمل جن پر میں عمل پیرا ہوں تو یہی حق ہے جس کی تائید واضح براہین اور قطعی دلائل کرتے ہیں ۔ ﴿ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’میں تو آپ رب کی دلیل روشن پر ہوں ۔‘‘ آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اس قرآن کی صحت اور اس کے ماسوا کے بطلان کا واضح یقین رکھتا ہوں ۔ یہ رسول کی طرف سے قطعی شہادت ہے جو ہر قسم کے تردد سے پاک ہے۔ رسول علی الاطلاق سب سے عادل گواہ ہوتا ہے۔ اہل ایمان نے رسول کی گواہی کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جس ایمان سے نوازا ہے اس ایمان کے مطابق ان کے ہاں اس شہادت کی صحت اور صداقت متحقق ہے۔ ﴿وَ﴾ مگر اے مشرکو! ﴿ؔكَذَّبۡتُمۡ بِهٖ ﴾ ’’تم نے اس کی تکذیب کی‘‘ اور یہ تمھاری طرف سے اس سلوک کا مستحق نہ تھا، تصدیق کے سوا کوئی اور سلوک اس کے شایان شان نہ تھا۔ جب تم تکذیب پر مصر ہو تو جان رکھو کہ لامحالہ عذاب تم پر واقع ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ عذاب مقرر ہے وہ جب چاہے گا اور جیسے چاہے گا تم پر نازل کرے گا۔ اگر تم جلدی مچاتے ہو تو معاملہ میرے اختیار میں نہیں ﴿ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ ﴾ ’’حکم صرف اللہ کا ہے‘‘ جس طرح اس نے اوامر و نواہی میں اپنا حکم شرعی نافذ کیا ہے اسی طرح وہ حکم جزائی نافذ کرے گا اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ثواب و عقاب دے گا۔ پس اس کے فیصلے پر اعتراض در خور اعتنا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے راہ حق کو واضح کر دیا ہے اور اپنے بندوں کے سامنے حق بیان کر کے ان کا عذر ختم کر دیا اور یوں ان کی حجت منقطع ہو گئی۔ تاکہ جو ہلاک ہو تو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الۡفٰصِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ وہ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، وہ ان کے درمیان ایسا فیصلہ کرتا ہے جس پر اس کی تعریف کی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ بھی تعریف کیے بغیر نہیں رہتا جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے اور وہ حق کو واضح اور متعین کر دیتا ہے۔

[58]﴿ قُلۡ ﴾ ان …

Al-An'aam 6:57Listen in Qur'an →
58

قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِۦ لَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِٱلظَّٰلِمِينَ

کہہ دو کہ جس چیز کے لئے تم جلدی کر رہے ہو اگر وہ میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

کہہ دیجیے! یقینا میں روک دیا گیا ہوں اس سے کہ عبادت کروں ان کی جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے، کہہ دیجیے! نہیں پیچھے چلتا میں تمھاری خواہشات کے، تحقیق گمراہ ہو جاؤں گا میں اس وقت اور نہ ہوں گا میں ہدایت پانے والوں سے (56) کہہ دیجیے! یقیناً میں دلیل پر ہوں اپنے رب کی طرف سے اور جھٹلایا تم نے اسے، نہیں ہے میرے پاس وہ چیز کہ جلدی طلب کررہے ہو تم اس کو ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا بیان فرماتا ہے وہ حق بات اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے(57) کہہ دیجیے، اگر میرے پاس ہوتی وہ چیز کہ جلدی طلب کر رہے ہو تم اس کو تو فیصلہ کر دیا جاتا معاملے کا میرے درمیان اور تمھارے درمیان اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(58)

[56] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ان مشرکین سے کہہ دیجیے جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو بھی پکارتے ہیں ﴿اِنِّيۡ نُهِيۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔‘‘ یعنی مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اللہ کی بجائے اللہ کے بناوٹی ہمسروں اور بتوں کی عبادت کروں جو کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات اور دوبارہ اٹھانے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں ۔ یہ سب باطل ہے۔ اس میں تمھارے لیے کوئی دلیل ہے نہ اس کے باطل ہونے میں کوئی شبہ ہے۔ سوائے خواہشات نفس کی پیروی کے جو سب سے بڑی گمراہی ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿قُلۡ لَّاۤ اَتَّبِـعُ اَهۡوَؔآءَؔكُمۡ١ۙ قَدۡ ضَلَلۡتُ اِذًا ﴾ ’’کہہ دیجیے میں تمھاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا، بیشک تب میں بہک جاؤں گا‘‘ یعنی اگر میں تمھاری خواہشات کی پیروی کروں تو گمراہ ہو جاؤں گا ﴿ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’اور کسی پہلو سے بھی راہ راست پر نہیں رہوں گا۔‘‘

[57] رہی وہ توحید اور اخلاص عمل جن پر میں عمل پیرا ہوں تو یہی حق ہے جس کی تائید واضح براہین اور قطعی دلائل کرتے ہیں ۔ ﴿ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’میں تو آپ رب کی دلیل روشن پر ہوں ۔‘‘ آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اس قرآن کی صحت اور اس کے ماسوا کے بطلان کا واضح یقین رکھتا ہوں ۔ یہ رسول کی طرف سے قطعی شہادت ہے جو ہر قسم کے تردد سے پاک ہے۔ رسول علی الاطلاق سب سے عادل گواہ ہوتا ہے۔ اہل ایمان نے رسول کی گواہی کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جس ایمان سے نوازا ہے اس ایمان کے مطابق ان کے ہاں اس شہادت کی صحت اور صداقت متحقق ہے۔ ﴿وَ﴾ مگر اے مشرکو! ﴿ؔكَذَّبۡتُمۡ بِهٖ ﴾ ’’تم نے اس کی تکذیب کی‘‘ اور یہ تمھاری طرف سے اس سلوک کا مستحق نہ تھا، تصدیق کے سوا کوئی اور سلوک اس کے شایان شان نہ تھا۔ جب تم تکذیب پر مصر ہو تو جان رکھو کہ لامحالہ عذاب تم پر واقع ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ عذاب مقرر ہے وہ جب چاہے گا اور جیسے چاہے گا تم پر نازل کرے گا۔ اگر تم جلدی مچاتے ہو تو معاملہ میرے اختیار میں نہیں ﴿ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ ﴾ ’’حکم صرف اللہ کا ہے‘‘ جس طرح اس نے اوامر و نواہی میں اپنا حکم شرعی نافذ کیا ہے اسی طرح وہ حکم جزائی نافذ کرے گا اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ثواب و عقاب دے گا۔ پس اس کے فیصلے پر اعتراض در خور اعتنا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے راہ حق کو واضح کر دیا ہے اور اپنے بندوں کے سامنے حق بیان کر کے ان کا عذر ختم کر دیا اور یوں ان کی حجت منقطع ہو گئی۔ تاکہ جو ہلاک ہو تو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الۡفٰصِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ وہ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، وہ ان کے درمیان ایسا فیصلہ کرتا ہے جس پر اس کی تعریف کی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ بھی تعریف کیے بغیر نہیں رہتا جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے اور وہ حق کو واضح اور متعین کر دیتا ہے۔

[58]﴿ قُلۡ ﴾ ان …

Al-An'aam 6:58Listen in Qur'an →
59

۞ وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍۢ فِى ظُلُمَٰتِ ٱلْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍۢ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِى كِتَٰبٍۢ مُّبِينٍۢ

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے۔ اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

اور اسی کے پاس ہیں چابیاں غیب کی، نہیں جانتا انھیں کوئی بھی مگر وہی اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہےاور نہیں گرتا کوئی پتا بھی مگر وہ جانتا ہے اس کواور نہیں کوئی دانہ اندھیروں میں زمین کے اور نہ کوئی تر چیز اور نہ خشک چیز مگر (سب) کتاب واضح میں ہے(59)

[59] یہ آیت کریمہ قرآن مجید کی عظیم ترین آیات میں شمار ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم محیط کی تفصیل بیان کرتی ہے جو تمام غیوب کو شامل ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اسے ان غیوب میں سے کسی پر مطلع کر دیتا ہے۔ اس نے اپنا بہت سا علم، عام جہان والے تو کجا ملائکہ مقربین اور انبیا و مرسلین سے بھی پوشیدہ رکھا ہے۔ صحراؤں اور بیابانوں میں حیوانات، درخت، ریت کے ذرات کنکر اور مٹی سب اس کے علم میں ہیں ۔ سمندروں کے جانوروں ، ان کی معدنیات، ان کے شکار وغیرہ اور ان تمام اشیا کو وہ جانتا ہے جو ان کے کناروں کے اندر اور ان کے پانیوں میں شامل ہے۔ ﴿ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ ﴾ ’’اور نہیں گرتا کوئی پتا۔‘‘بحروبر، آبادیوں اور بیابانوں اور دنیا و آخرت کے درختوں پر سے اگر کوئی پتہ گرتا ہے تو اسے بھی وہ جانتا ہے ﴿ وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور نہیں گرتا کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں ‘‘ یعنی پھل اور کھیتیوں کے دانے، وہ بیج جو لوگ زمین میں بوتے ہیں اور جنگلی نباتات کے بیج جن سے مختلف اصناف کی نباتات پیدا ہوتی ہے ﴿ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی ہری چیز اور نہ کوئی سوکھی چیز‘‘ یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے ﴿ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’مگر وہ سب کتاب مبین میں ہے‘‘ یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور لوح محفوظ ان تمام امور کو شامل ہے۔ ان میں سے بعض امور تو بڑے بڑے عقل مندوں کو حیران اور مبہوت کر دیتے ہیں اور یہ چیز رب عظیم کی عظمت اور اس کے تمام اوصاف میں اس کی وسعت پر دلالت کرتی ہے۔ اگر تمام مخلوق کے اولین و آخرین جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا احاطہ کرنا چاہیں تو وہ اس پر قادر نہیں اور نہ ان میں اس کی طاقت ہی ہے۔ نہایت بابرکت ہے رب عظیم کی ذات جو وسیع اور علم رکھنے والی، قابل تعریف بزرگی والی، دیکھنے والی اور ہر چیز کا احاطہ کرنے والی ہے۔ وہ الہ جلیل ہے کوئی اس کی حمدو ثنا کا شمار نہیں کر سکتا بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے اس کی جو حمد و ثنا اس کے بندے بیان کرتے ہیں وہ اس سے بہت بڑھ کر ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس کا علم تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کی کتاب تمام حوادث پر محیط ہے۔

یہ آیت کریمہ تمام تر توحید الوہیت کے تحقق، مشرکین کے خلاف دلائل اور اس بیان پر مشتمل ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی محبت، تعظیم، اجلال اور اکرام کا مستحق ہے۔

Al-An'aam 6:59Listen in Qur'an →
60

وَهُوَ ٱلَّذِى يَتَوَفَّىٰكُم بِٱلَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِٱلنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰٓ أَجَلٌۭ مُّسَمًّۭى ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا

اور وہی ہے جو فوت کرتا ہے تمھیں رات کواور جانتا ہے جو کچھ کرتے ہو تم دن میں ، پھر اٹھاتا ہے تمھیں اس (دن) میں تاکہ پورا کیا جائے وقت معین، پھر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تمھارا، پھر خبر دے گا وہ تمھیں اس کی جو تھے تم کرتے (60) اور وہ غالب ہے اوپر اپنے بندوں کے اور بھیجتا ہے تم پر محافظ (فرشتے ) حتی کہ جب آتی ہے کسی ایک کو تم میں سے موت تو فوت کرتے ہیں اسے ہمارے رسول(فرشتے) اور وہ نہیں کوتاہی کرتے (61) پھر لوٹائے جاتے ہیں وہ اللہ کی طرف جو مالک ہے ان کا سچا خبردار! اسی کے لیے ہے فیصلہ کرنااور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے (62)

[60] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اکیلا ہی ہے جو بندوں کی ان کے سوتے جاگتے میں تدبیر کرتا ہے، وہ رات کو انھیں وفات یعنی نیند کی وفات دیتا ہے، ان کی حرکات پر سکون طاری ہو جاتا ہے اور ان کے بدن آرام کرتے ہیں ، نیند سے بیداری کے بعد وہ ان کو دوبارہ زندہ کرتا ہے تاکہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں تصرف کریں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں اور وہ جن اعمال کا اکتساب کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان میں اسی طرح تصرف کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اپنی مقررہ مدت پوری کر لیتے ہیں ۔ وہ اپنی اس تدبیر کے ذریعے سے ان کی مدت مقررہ کا فیصلہ کرتا ہے یعنی مدت حیات اور اس کے بعد ایک اور مدت ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’پھر اس کی طرف ہی تمھارا لوٹنا ہے‘‘ اس کے سوا اور کسی کی طرف لوٹنا نہیں ہے ﴿ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’پھر وہ تم کو تمھارے عمل جو تم کرتے ہو، بتائے گا۔‘‘ نیک اور بد جو کام بھی تم کرتے رہے ہو، اللہ تعالیٰ تمھیں اس سے آگاہ فرمائے گا۔

[61]﴿ وَهُوَ ﴾ ’’اور وہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ﴿ الۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهٖ ﴾ ’’غالب ہے اپنے بندوں پر‘‘ وہ ان پر اپنا ارادہ اور اپنی مشیت عامہ نافذ کرتا ہے۔ بندے کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر حرکت و سکون کے بھی مالک نہیں ۔ بایں ہمہ اس نے اپنے بندوں پر فرشتوں کو محافظ مقرر کر رکھا ہے اور بندے جو عمل کرتے ہیں یہ فرشتے اس کو محفوظ کر لیتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحٰؔفِظِيۡنَۙ۰۰ كِرَامًا كَاتِبِيۡنَۙ۰۰يَعۡلَمُوۡنَ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الانفطار: 82؍10-12) ’’اور تم پر نگہبان مقرر ہیں باعزت اور تمھاری باتوں کو لکھنے والے ہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں ۔‘‘ ارشاد فرماتا ہے ﴿ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيۡدٌ۰۰ مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ﴾(ق: 50؍17،18) ’’اس کے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوتے ہیں وہ جب کوئی بات کہتا ہے تو ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔‘‘ یہ ان کی زندگی کے احوال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حفاظت ہے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَؔ اَحَدَؔكُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپہنچے تم میں سے کسی کو موت تو قبضے میں لے لیتے ہیں اس کو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے‘‘ یعنی وہ فرشتے جو روح قبض کرنے پر مقرر ہیں ﴿ وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کوتاہی نہیں کرتے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قضا و قدر سے جو مدت مقرر کر دی ہے وہ اس میں ایک گھڑی کا اضافہ کر سکتے ہیں نہ ایک گھڑی کی کمی، وہ صرف مکتوب الٰہی اور تقدیر ربانی کو نافذ کرتے ہیں ۔

[62]﴿ ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ موت اور حیات برزخ کے بعد اور جو کچھ اس میں خیر و شر ہے ﴿ رُدُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ مَوۡلٰىهُمُ الۡحَقِّ ﴾ ’’پہنچائے جائیں گے وہ اللہ کی طرف جو ان کا سچا مالک ہے‘‘ یعنی وہ مولائے حق اپنے حکم قدری کے مطابق ان کا والی ہے اور ان کے اندر اپنی مختلف انواع کی تدابیر کو نافذ کرتا ہے، پھر وہ امرونہی اور حکم …

Al-An'aam 6:60Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.