Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 51–60 of 165

51

وَأَنذِرْ بِهِ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُوٓا۟ إِلَىٰ رَبِّهِمْ ۙ لَيْسَ لَهُم مِّن دُونِهِۦ وَلِىٌّۭ وَلَا شَفِيعٌۭ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

اور جو لوگ جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا، ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کر دو تاکہ پرہیزگار بنیں

دوسری آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ان واضح بیانات کے بعد بھی اگر یہ لوگ اپنی ضد سے باز نہ آئیں تو ان سے بحث و مباحثہ کو موقوف کر دیجئے اور جو اصلی کام ہے رسالت کا یعنی تبلیغ اس میں مشغول ہوجائیے، اور تبلیغ و انذار کا رخ ان لوگوں کی طرف پھیر دیجئے، جو قیامت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی اور حساب کتاب کا عقیدہ رکھتے ہیں، جیسے مسلمان یا وہ جو کم از کم اس کے منکر نہیں، بطور احتمال کے ہی سہی، کم از کم ان کو خطرہ تو ہے کہ شاید ہمارے اعمال کا ہم سے حساب لیا جائے۔- خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے متعلق تین طرح کے آدمی ہیں، ایک وہ جو یقینی طور پر اس کے معتقد ہیں، دوسرے وہ جو متردد ہیں، تیسرے وہ جو بالکل منکر ہیں، اور تبلیغ و انذار کا حکم انبیاء (علیہم السلام) کو اگرچہ ان تینوں طبقوں کے لئے عام ہے، جیسا کہ بہت سے ارشادات قرآنی سے واضح ہے، لیکن پہلے دو طبقوں میں چونکہ اثر قبول کرنے کی توقع زیادہ ہے، اس لئے اس آیت میں خاص طور پر ان کی طرف توجہ کرنے کی ہدایت فرمائی گئی، وَاَنْذِرْ بِهِ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْ يُّحْشَرُوْٓا اِلٰى رَبِّهِمْ ۔

Al-An'aam 6:51Listen in Qur'an →
52

وَلَا تَطْرُدِ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِٱلْغَدَوٰةِ وَٱلْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُۥ ۖ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍۢ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِم مِّن شَىْءٍۢ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے

خلاصہ تفسیر - اور ان لوگوں کو (اپنی مجلس سے) نہ نکالئے جو صبح و شام (یعنی علی الدوام بدوام مناسب) اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں، جس سے صرف اللہ کی رضا ہی کا مقصد رکھتے ہیں (اور کوئی غرض جاہ ومال کی نہیں، یعنی ان کی عبادت میں مداومت بھی ہے اور اخلاص بھی، اور اخلاص اگرچہ امر باطنی ہے مگر آثار و علامات سے پہچانا بھی جاسکتا ہے، اور جب تک عدم اخلاص کی کوئی دلیل نہیں، اخلاص ہی کا گمان رکھنا چاہئے) اور ان (کے باطن) کا حساب (اور تفتیش) ذرا بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق نہیں اور (یہ ان کے باطن کی تفتیش کا آپ سے متعلق نہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو نکال دیں، (یعنی اگر ان کے باطنی اخلاص کی تفتیش آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ ہوتی تو اس کی گنجائش تھی کہ جن کے اخلاص کی تحقیق نہ ہوجائے ان کو الگ کردیں، مگر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ نہیں، اور دوسری کوئی وجہ ان کو نکالنے کے جواز کی موجود نہیں، اور چونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امت کے مربی ہیں، اور مربی کے لئے اپنے ماتحتوں کے احوال کی تفتیش کرنے کا احتمال ہوسکتا تھا، مگر اس کا عکس کہ وہ لوگ اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باطنی احوال کی تفتیش کریں، اس کا کوئی احتمال ہی نہیں اس لئے وہ قطعاً منفی ہے، اس جگہ محتمل کو متیقن کے ساتھ برابر قرار دے کر اس کی نفی کی گئی تاکہ اس کا منفی ہونا بھی یقینی ہوجاوے) ورنہ ( ان کے نکالنے سے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نامناسب کام کرنے والوں میں ہوجاویں گے اور (ہم نے جو مؤ منوں کو غریب، کافروں کو رئیس بنا رکھا ہے جو بظاہر مقتضائے قیاس سے بعید ہے) تو (اس کی وجہ یہ ہے کہ) اسی طور پر ہم نے (ان میں سے) ایک (یعنی کفار) کو دوسروں (یعنی مؤ منوں) کے ذریعہ آزمائش میں ڈال رکھا ہے (یعنی اس طرز عمل میں امتحان ہے کفار کا) تاکہ یہ لوگ (مؤ منوں کے متعلق) کہا کریں کیا یہی لوگ ہیں کہ ہم سب میں سے (انتخاب کر کے) ان پر اللہ تعالیٰ نے (اپنا) فضل کیا ہے (یعنی اپنے دین اسلام کے لئے منتخب کیا ہے) کیا یہ بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ حق شناسوں کو خوب جانتا ہے (ان غریب لوگوں نے اپنے منعم حقیقی کا حق پہچانا، طلب ِ حق میں لگ گئے، دین ِحق اور قبول عنداللہ سے مشرف کئے گئے، اور ان رؤ سا نے ناشکری اور کفر کیا وہ اس نعمت سے محروم رہے) اور جب وہ لوگ آپ کے پاس آویں جو کہ ہماری آیتوں پر ایمان بھی رکھتے ہیں تو آپ (ان کو بشارت سنانے کے لئے) یوں کہہ دیجئے کہ تم پر سلامتی ہے (یعنی کفار پر جو ہر طرح کی آفات آخرت میں پڑیں گے ان سے تم مامون ہو، اور دوسرے یہ بھی کہ) تمہارے رب نے (اپنے فضل وکرم سے) رحمت کرنا (اور تم کو نعمتیں دینا) اپنے ذمہ مقرر کرلیا ہے (یہاں تک) کہ جو شخص تم میں سے کوئی برا کام کر بیٹھے (جو کہ) جہالت سے (ہوجاتا) کیونکہ خلاف حکم کرنا عملی جہالت ہے مگر پھر وہ اس کے بعد توبہ کرلے (اور آئندہ کو اپنے اعمال کی) اصلاح رکھے (اس میں یہ بھی آگیا کہ اگر وہ توبہ ٹوٹ جائے تو پھر توبہ کرلے) تو اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ (اس کے لئے بھی) بڑی مغفرت کرنے والے ہیں (کہ گناہ کی سزا بھی معاف کردیں گے) اور بڑی رحمت کرنے والے ہیں (کہ طرح طرح کی نعمتیں بھی دیں گے) اور (جس طرح ہم نے اس مقام پر مؤمنین اور کفار کے حال ومآل کی تفصیل کردی) اسی طرح ہم آیات کی (جو کہ دونوں فریق کے حال ومآل پر مشتمل ہوں) تفصیل کرتے رہتے ہیں (تاکہ مؤمنین کا طریقہ بھی ظاہر ہوجاوے) اور تاکہ مجرمین کا طریقہ (بھی) ظاہر کردیا جائے (اور حق و باطل کے واضح ہونے سے طالب حق معرفت حق آسان ہوجائے) ۔- معارف ومسائل - نخوت و جاہلیت کا ازالہ اور عزت وذلت کا اسلامی معیار اسلام میں امیر و غریب کا کوئی امتیاز نہیں - جن لوگوں نے انسان ہونے کے باوجود انسانیت کو نہیں پہچانا بلکہ انسان کو دنیا کے مختلف …

Al-An'aam 6:52Listen in Qur'an →
53

وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍۢ لِّيَقُولُوٓا۟ أَهَٰٓؤُلَآءِ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنۢ بَيْنِنَآ ۗ أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَعْلَمَ بِٱلشَّٰكِرِينَ

اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولتمند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم میں سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنے والوں سے واقف نہیں؟

Explained together with ayah 52

Al-An'aam 6:53Listen in Qur'an →
54

وَإِذَا جَآءَكَ ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَٰتِنَا فَقُلْ سَلَٰمٌ عَلَيْكُمْ ۖ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْمَةَ ۖ أَنَّهُۥ مَنْ عَمِلَ مِنكُمْ سُوٓءًۢا بِجَهَٰلَةٍۢ ثُمَّ تَابَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُۥ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو (ان سے) سلام علیکم کہا کرو خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے

تفسیر کے دو قول ہیں اکثر حضرات نے ان آیات کو آیات سابقہ اور واقعہ سابقہ ہی سے متعلق قرار دیا ہے۔ اور اس کی تائید میں یہ روایت پیش کی ہے کہ جب روساء قریش نے بواسطہ ابو طالب یہ مطالبہ کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں غریب اور ادنیٰ درجہ کے لوگ رہتے ہیں، ان کی صف میں بیٹھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام ہم نہیں سن سکتے۔ اگر ہمارے آنے کے وقت ان لوگوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجلس سے ہٹا دیا کریں تو ہم آپ کا کلام سنیں اور غور کریں۔- اس پر حضرت فاروق اعظم (رض) نے یہ مشورہ دیا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں، مسلمان تو اپنے مخلص دوست ہیں، ان سے کہہ دیا جائے گا تو کچھ دیر کے لئے وہ مجلس سے ہٹ جایا کریں گے ممکن ہے کہ اس طرح یہ روساء قریش اللہ کا کلام سنیں اور مسلمان ہوجائیں۔- لیکن آیات سابقہ میں اس مشورہ کے خلاف یہ حکم نازل ہوا کہ ایسا ہرگز نہ کیا جائے ایسا کرنا ظلم اور بےانصافی ہے، اس حکم کے نازل ہونے پر حضرت فاروق اعظم (رض) کو اپنی رائے اور مشورہ کی غلطی واضح ہوئی اور ڈرے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف رائے دے کر گنہگار ہوگیا، اس کی معذرت پیش کرنے کے لئے حاضر ہوئے۔- اس پر آیات متذکرہ ان کی تسلی کے لئے نازل ہوئیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو گزشتہ غلطی پر مواخذہ نہ ہونے سے مطمئن فرما دیں، بلکہ صرف یہی نہیں کہ اس غلطی پر کوئی مؤ اخذہ نہیں ہوگا بلکہ ارحم الراحمین کی بیشمار نعمتوں کا وعدہ بھی سنا دیں، اور بارگاہ الرحم الراحمین کا یہ قانون ان کو بتلا دیں کہ جب بھی کوئی مسلمان جہالت سے کوئی برا کام کر بیٹھے، اور پھر اپنی غلطی پر متنبہ ہو کر اس سے توبہ کرلے اور آئندہ کے لیے اپنے عمل درست کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہوں کو معاف فرمادیں گے اور آئندہ اپنی دنیوی اور اخروی نعمتوں سے بھی اس کو محروم نہ فرماویں گے۔- اس تشریح کے مطابق یہ آیات اس خاص واقعہ میں نازل ہوئیں جس کا بیان پچھلی آیتوں میں ہوچکا ہے، اور بعض حضرات مفسرین نے ان آیات کے مضمون کو ایک مستقل ہدایت نامہ کی حیثیت سے بیان کیا ہے، جو ان لوگوں سے متعلق ہے، جن سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا، پھر ندامت ہوئی، اور توبہ کرکے اپنے عمل کو درست کرلیا۔- اور اگر غور کیا جائے تو ان دونوں اقوال میں کوئی تعارض نہیں، کیونکہ اس پر سب کا اتفاق ہے تو وہ صرف اسی واقعہ کے لئے مخصوص نہیں ہوتا، بلکہ ایک عام حکم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لئے اگر بالفرض آیات مذکورہ کا نزول اسی واقعہ مذکورہ میں ہوا ہو تب بھی یہ حکم ایک عام ضابطہ کی حیثیت رکھتا ہے جو ہر اس گنہگار کو شامل ہے جس کو گناہ کے بعد بھی اپنی غلطی پر تنبہ ہوا اور نادم ہو کر اس نے اپنے آئندہ عمل کو درست کرلیا۔- اب ان آیات کی پوری تشریح دیکھئے، پہلی آیت میں ارشاد ہے : وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ يُؤ ْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا یعنی جب وہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں، آیات سے مراد اس جگہ آیات قرآنی بھی ہوسکتی ہیں، اور اللہ جل شانہ، کی قدرت کاملہ کی عام نشانیاں بھی تو ایسے لوگوں کے متعلق رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت دی گئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو سلام علیکم سے خطاب فرمائیں، یہاں سلام علیکم کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کو اللہ جل شانہ کا سلام پہنچا دیجئے، جس میں ان لوگوں کا انتہائی اعزازو اکرام ہے۔ اس صورت میں ان غریب مسلمانوں کی دل شکنی کا بہترین تدارک ہوگیا، جن کے بارے میں رؤ ساء قریش نے مجلس سے ہٹا دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو سلامتی کی خوش خبری سنا دیجئے، کہ اگر ان لوگوں سے عمل میں کوتاہی یا غلطی بھی ہوئی ہے تو وہ معاف کردی جائے گی، اور یہ ہر قسم کی آفات …

Al-An'aam 6:54Listen in Qur'an →
55

وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ ٱلْمُجْرِمِينَ

اور اس طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گنہگاروں کا رستہ ظاہر ہوجائے

Explained together with ayah 54

Al-An'aam 6:55Listen in Qur'an →
56

قُلْ إِنِّى نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۚ قُل لَّآ أَتَّبِعُ أَهْوَآءَكُمْ ۙ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًۭا وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُهْتَدِينَ

(اے پیغمبر! کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کروں تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں نہ رہوں

خلاصہ تفسیر - آپ (ان معاندین سے) کہہ دیجئے کہ مجھ کو (حق تعالیٰ کی طرف سے) اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان (معبودوں) کی عبادت کروں جن کی تم لوگ اللہ (کی توحید) کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو (اور ان کے طریقہ کی گمراہی ظاہر کرنے کے لئے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ میں تمہارے (باطل) خیالات کا اتباع نہ کروں گا، کیونکہ (اگر نعوذ باللہ میں ایسا کروں تو) اس حالت میں بےراہ ہوجاؤں گا اور راہ (راست) پر چلنے والوں میں نہ رہوں گا، آپ (ان سے یہ بھی) کہہ دیجئے کہ میرے پاس تو (اس دین اسلام کے حق ہونے پر) ایک دلیل (کافی موجود) ہے جو میرے رب کی طرف سے (مجھ کو ملی ہے، یعنی قرآن مجید جو کہ میرا معجزہ ہے، جس سے میری تصدیق ہوتی ہے) اور تم (بلاوجہ) اس کی تکذیب کرتے ہو (اور تم جو یہ کہتے ہو کہ اگر دین اسلام حق ہے تو ہمارے انکار پر آسمان سے پتھر برسیں یا کوئی اور عذاب سخت آئے، جیسا کہ دوسری جگہ ان الفاظ سے مذکور ہے، (آیت) ان کان ھذا ھو الحق من عندک۔ الخ۔ ، تو اس کا جواب یہ ہے) جس چیز کا تم تقاضا کر رہے ہو (یعنی عذاب الیم) وہ میرے پاس (یعنی میری قدرت میں نہیں) حکم کسی کا نہیں (چلتا) بجز اللہ کے (اور اللہ کا حکم نزول عذاب کا ہوا نہیں تو میں کیسے عذاب دکھلا دوں) اللہ تعالیٰ حق بات کو (دلیل سے) بتلا دیتا ہے اور سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا وہی ہے (چنانچہ اس نے میری رسالت کی واضح اور قوی دلیل قرآن کریم بھیج دیا، اور دوسرے واضح معجزات ظاہر فرما دئیے، اور دلیل صحیح ایک بھی کافی ہوتی ہے تو تمہاری فرمائشی دلیلیں ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں، اس لئے اس وقت نزول عذاب کے ذریعہ فیصلہ نہیں فرمایا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اگر میرے پاس (یعنی میری قدرت میں) وہ چیز ہوتی جس کا تم تقاضا کر رہے ہو (یعنی عذاب) تو (اب تک) میرا اور تمہارا باہمی قضیہ (کبھی کا) فیصل ہوچکا ہوتا اور ظالموں کا اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے (کہ کس کے ساتھ کیا معاملہ کس وقت کیا جائے) - ربط آیات - آیات مذکورہ میں کفار کی طرف سے نزول عذاب کی عاجلانہ فرمائش اور اس کا جواب خیر الفاصلین میں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ تامہ کا ذکر اعلم بالظالمین میں مذکور تھا۔ آگے تمام معلومات و مقدرات پر اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کا احاطہ بیان کیا جاتا ہے۔

Al-An'aam 6:56Listen in Qur'an →
57

قُلْ إِنِّى عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَكَذَّبْتُم بِهِۦ ۚ مَا عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِۦٓ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ يَقُصُّ ٱلْحَقَّ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْفَٰصِلِينَ

کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے (ایسا) حکم الله ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

Explained together with ayah 56

Al-An'aam 6:57Listen in Qur'an →
58

قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِۦ لَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِٱلظَّٰلِمِينَ

کہہ دو کہ جس چیز کے لئے تم جلدی کر رہے ہو اگر وہ میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

Explained together with ayah 56

Al-An'aam 6:58Listen in Qur'an →
59

۞ وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍۢ فِى ظُلُمَٰتِ ٱلْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍۢ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِى كِتَٰبٍۢ مُّبِينٍۢ

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے۔ اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

خلاصہ تفسیر - اور اللہ تعالیٰ کے پاس (یعنی اسی کی قدرت میں) ہیں خزانے تمام مخفی اشیاء (ممکنہ) کے (ان میں سے جس چیز کو جس وقت اور جس قدر چاہیں ظہور میں لاتے ہیں، ان اشیاء میں عذاب کی قسمیں بھی آگئیں، مطلب یہ کہ اور کسی کو ان چیزوں پر قدرت نہیں اور جس طرح قدرت کاملہ ان کی ساتھ خاص ہے، اسی طرح ان کا علم تام اور کامل بھی چنانچہ) ان خزائنِ مخفیہ کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ تعالیٰ کے، اور وہ ان تمام چیزوں کو بھی جانتا ہے جو خشکی میں ہیں اور جو دریا میں ہیں اور کوئی پتہ (تک درخت سے) نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ (تک) زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور خشک چیز (مثل پھل وغیرہ کے) گرتی ہے، مگر یہ سب کتاب مبین (یعنی لوح محفوظ) میں (مرقوم) ہیں، اور وہ (اللہ تعالیٰ ) ایسا ہے کہ (اکثر) رات میں (سونے کے وقت) تمہاری روح (نفسانی) کو (جس سے احساس و ادراک متعلق ہے) ایک گونہ قبض کرلیتا ہے (یعنی معطل کردیتا ہے) اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس کو (دواماً ) جانتا ہے پھر تم کو دن میں جگا اٹھاتا ہے تاکہ (اسی سونے جاگنے کے دوران سے) میعاد معین (دینوی زندگی کی) تمام کردی جاوے پھر اسی (اللہ) کی طرف (مڑکر) تم کو جانا ہے۔ پھر تم کو بتلا دے گا جو کچھ تم (دنیا میں) کیا کرتے تھے، (اور اس کے مناسب جزاء و سزاء جاری کرے گا) اور وہی (اللہ تعالیٰ قدرت سے) اپنے بندوں کے اوپر غالب ہیں برتر ہیں اور (اے بندو) تم پر (تمہارے اعمال اور جان کی) نگرانی کرنے والے (فرشتے) بھیجے ہیں (جو زندگی بھر تمہارے اعمال کو بھی دیکھتے ہیں اور تمہاری جان کی بھی حفاظت کرتے ہیں) یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آپہنچتی ہے تو (اس وقت) اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) قبض کرلیتے ہیں اور ذرا کوتاہی نہیں کرتے (بلکہ جس وقت حفاظت کا حکم تھا حفاظت کرتے رہے، جب موت کا حکم ہوگیا تو یہی محافظ روح قبض کرنے والے فرشتوں کے ساتھ مل جاتے ہیں) پھر سب اپنے مالک حقیقی کے پاس لائے جاویں گے، خوب سن لو (اس وقت) فیصلہ اللہ ہی کا ہوگا (اور کوئی دخل نہ دے سکے گا) اور وہ بہت جلد حساب لے لے گا۔- معارف و مسائل - گناہوں سے بچنے کا نسخہ اکسیر - تمام دنیا کے مذاہب میں اسلام کا طغرائے امتیاز اور اس کا رکن اعظم عقیدہ توحید ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ایک اور اکیلا جاننے کا نام توحید نہیں، بلکہ اس کو تمام صفات کمال میں یکتا و بےمثل ماننے اور اس کے سوا کسی مخلوق کو ان صفات کمال میں اس کا سہیم و شریک نہ سمجھنے کو توحید کہتے ہیں۔- اللہ تعالیٰ کی صفات کمال ؛ حیات، علم، قدرت، سمع، بصر، ارادہ، مشیت، خلق، رزق وغیرہ وہ ان سب صفات میں ایسا کامل ہے کہ اس کے سوا کوئی مخلوق کسی صفات میں اس کے برابر نہیں ہوسکتی۔ پھر ان صفات میں بھی دو صفتیں سب سے زیادہ ممتاز ہیں۔ ایک علم، دوسرے قدرت، اس کا علم بھی تمام موجود وغیر موجود، ظاہر اور مخفی، بڑے اور چھوٹے ہر ذرہ ذرہ پر حاوی اور محیط ہے، اور اس کی قدرت بھی ان سب پر پوری پوری محیط ہے، مذکورہ دو آیتوں میں انہی دو صفتوں پر مکمل یقین اور اس کے استحضار کی کیفیت پیدا کرے تو اس سے کوئی جرم و گناہ سرزد ہو ہی نہیں سکتا۔ ظاہر ہے کہ اگر ایک انسان کو اپنے پر قول و عمل اور نشست و برخاست میں ہر قدم پر یہ مستحضر رہے کہ ایک علیم وخبیر قادر مطلق مجھے ہر وقت دیکھ رہا ہے، اور میرے ظاہر و باطن اور دل کے ارادہ اور خیال تک سے واقف ہے تو یہ استحضار کبھی اس کا قدم اس قادر مطلق کی نافرمانی کی طرف نہ اٹھنے دے گا، اس لئے یہ دونوں آیتیں انسان کو انسان کامل بنانے اور اس کے اعمال و اخلاق کو درست کرنے اور درست رکھنے میں نسخہ اکسیر ہیں۔- پہلی آیت میں ارشاد فرمایا : وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ لفظ مفاتح جمع ہے، اس کا مفرد مفتح بفتح میم …

Al-An'aam 6:59Listen in Qur'an →
60

وَهُوَ ٱلَّذِى يَتَوَفَّىٰكُم بِٱلَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِٱلنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰٓ أَجَلٌۭ مُّسَمًّۭى ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا

یہاں تک پہلی آیت کا بیان تھا، جس میں اللہ جل شانہ کی صفت علم کی خصوصیات کا بیان ہے کہ وہ ہر غیب و شہادت اور ہر ذرہ ذرہ کائنات پر حاوی ہے، دوسری آیت میں اسی طرح حق تعالیٰ کی صفت قدرت اور اس کے قادر مطلق ہونے کا بیان ہے جو اسی کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے، ارشاد ہے :- وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ” یعنی اللہ تعالیٰ ہر رات میں تمہاری روح کو ایک گونہ قبض کرلیتا ہے، اور پھر صبح کو جگا دیتا ہے تاکہ تمہاری مقررہ عمر پوری کر دے، اور پھر دن میں بھی تم جو کچھ کرتے رہتے ہو وہ سب اس کے علم میں ہے، یہ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کاملہ ہے کہ انسان کے جینے، مرنے اور مر کر دوبارہ زندہ ہونے کا ایک نمونہ ہر روز اس کے سامنے آتا رہتا ہے، حدیث میں نیند کو موت کا بھائی فرمایا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ نیند انسان کے تمام قوی کو ایسا ہی معطل کردیتی ہے جیسے موت۔- اس آیت میں حق تعالیٰ نے نیند اور پھر اس کے بعد بیداری کی مثال پیش فرما کر انسان کو اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ جس طرح ہر رات اور ہر صبح میں ہر شخص شخصی طور پر مر کر جینے کی ایک مثال کا مشاہدہ کرتا ہے، اسی طرح پورے عالم کی اجتماعی موت اور پھر اجتماعی زندگی کو سمجھ لو، جس کو قیامت کہا جاتا ہے، جو ذات اس پر قادر ہے اس کی قدرت کاملہ سے وہ بھی مستبعد نہیں، اسی لئے آخر آیت میں فرمایا، ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ، یعنی پھر تم کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تم کو جتلائے گا جو تم عمل کیا کرتے تھے “۔- مراد یہ ہے کہ اعمال کا حساب ہوگا، پھر اس پر جزاء و سزاء ہوگی۔

Al-An'aam 6:60Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.