Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 51–60 of 165

51

وَأَنذِرْ بِهِ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُوٓا۟ إِلَىٰ رَبِّهِمْ ۙ لَيْسَ لَهُم مِّن دُونِهِۦ وَلِىٌّۭ وَلَا شَفِيعٌۭ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

اور جو لوگ جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا، ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کر دو تاکہ پرہیزگار بنیں

(آیت) ” نمبر 51 تا 54۔

یہ اسلامی نظریہ حیات کی برتری اور عزت کی علامت ہے کہ اس میں اس دنیا کے عارضی کرو فر کو کوئی وقعت نہیں دی گئی ۔ اس میں پیش نظر اعلی اقدار ہوتی ہیں اور دنیا کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا ۔

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اس دعوت کو صاف اور ستھرے انداز میں بغیر کسی بناوٹ کے اصل شکل میں پیش فرما دیں اور اس دعوت کے عوض میں لوگوں کو کسی دنیاوی غرض کا لالچ نہ دیں ۔ یہ حکم بھی دیا گیا کہ آپ صرف ان لوگوں ہی کو پیش نظر رکھیں جو اس دعوت سے کوئی دنیاوی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے ہیں نہ آپ اس سے نفع لینا چاہتے ہیں ۔ اور اپنے اردگر دان لوگوں کو جمع کریں جو اس دعوت کو قبول کرتے ہیں اور مخلص ہیں ۔ جو لوگ دل وجان سے اللہ کی طرف متوجہ ہیں اور صرف رضائے الہی کے لئے کام کرنے والے ہیں ۔ آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ جاہلی معاشرے کے رسوم ورواجات اور جاہلی اقدار کو دعوت اسلامی کے نظام میں کوئی وزن نہ دیں اور دنیاوی اعتبارات اور علامات میں سے کسی علامت کو اہمیت دیں ۔

(آیت) ” وَأَنذِرْ بِہِ الَّذِیْنَ یَخَافُونَ أَن یُحْشَرُواْ إِلَی رَبِّہِمْ لَیْْسَ لَہُم مِّن دُونِہِ وَلِیٌّ وَلاَ شَفِیْعٌ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُونَ (51)

” اور اے نبی ﷺ تم اس (علم وحی) کے ذریعے سے ان لوگوں کو نصیحت کرو جو اس کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کئے جائیں گے کہ اس کے سوا وہاں کوئی (ایسا ذی اقتدار) نہ ہوگا جو ان کا حامی و مددگار ہو یا ان کی سفارش کرے ‘ شاید کہ (اس نصیحت سے متنبہ ہو کر) وہ خدا ترسی کی روش اختیار کرلیں۔

یعنی دعوت اسلامی ان لوگوں کے سامنے سب سے پہلے پیش کی جائے جو لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن انہیں اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ وہاں ان کی حالت یہ ہوگی کہ نہ کوئی ولی ہوگا جو مدد کرسکے اور نہ کوئی سفارشی ہوگا جو چھڑا سکے ۔ اس لئے کہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں ‘ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی سفارش نہیں کرسکتا ۔ اگر کسی کو سفارش کی اجازت بھی مل جائے تو بھی وہ ان لوگوں کے حق میں اللہ کی جناب میں سفارش نہ کرے گا ۔ کیونکہ سفارش کے منصف پر فائز ہونے والے لوگ تو خود اس دن خوف کا شدید شعور رکھتے ہوں گے کیونکہ اس دن کوئی اللہ کے سوا شفیع و مددگار نہ ہوگا ۔ اس لئے کہ ان خدا رسیدہ اور خدا سے ڈرنے والے لوگوں سے اس بات کی توقع زیادہ ہوگی ‘ وہ زیادہ خوف محسوس کریں گے اور زیادہ مطیع فرمان ہوں گے اور ہدایت الہی سے اور لوگوں کے مقابلے میں زیادہ نفع اندوز ہوں گے ۔ ایسے لوگوں سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی اس دنیاوی زندگی میں ایسے امور سے بچیں جن کی وجہ آخرت میں عذاب الہی میں مبتلا ہوں ۔ لہذا ڈراوا ایک ایسا بیان ہوتا ہے جو واضح ہوتا ہے اور اس کا بہت اثر ہوتا ہے ۔ یوں انذار کی وجہ سے ان پر وہ امور واضح ہوجائیں گے جن سے وہ پہلے ہی خائف ہیں ‘ لہذا ان امور کے بیان اور انذار کی وجہ سے وہ مزید متقی بنیں گے اور حدود باللہ پامال کرنے سے ڈریں گے اور ان امور میں مبتلا نہ ہوں گے جن سے منع کیا گیا ہے ۔ لیکن یہ اس کے بعد ہوگا جبکہ ان کے سامنے ممنوع باتوں کا بیان ہوجائے ۔

(آیت) ” وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہُ “ (6 : 52)

” اور جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو ۔

جن لوگوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کردیا ہے انہیں اپنے آپ سے دور نہ پھینکو۔ ایسے لوگ جو صبح وشام اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسے پکارتے ہیں اور یہ کام وہ محض رضائے الہی کے لئے کرتے ہیں ۔ یہ خلوص اور محبت کا مقام ہے اور ادب اور احترام کی فضا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہایت خضوع اور خشوع کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور عبادت میں مشغول …

Al-An'aam 6:51Listen in Qur'an →
52

وَلَا تَطْرُدِ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِٱلْغَدَوٰةِ وَٱلْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُۥ ۖ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍۢ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِم مِّن شَىْءٍۢ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے

(آیت) ” مَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْْہِم مِّن شَیْْء ٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (52)

” ان کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کی چیز کا بار ان پر نہیں ۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے ۔

وہ خود اپنا بوجھ اٹھائیں گے اور حساب دیں گے اور تم اپنا بوجھ اٹھاؤ گے اور حساب دو گے ۔ یہ کہ وہ غریب ہیں تو ان کی قسمت میں یہ اللہ نے لکھا ہے ۔ اس میں تمہارا کوئی دخل نہیں ہے ۔ اسی طرح اے پیغمبر خود تمہاری امارت یا فقر کے بارے میں ان سے بھی نہ پوچھا جائے گا ۔ ایمان اور کفر کے معاملے میں امارت اور غربت کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ اگر آپ کسی کو اپنی مجلس میں جگہ دیں یا طرح آپ ظالموں میں سے ہوں گے اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی رسول ظالموں میں سے ہوجائے ۔

وہ لوگ جو دل کے تونگر تھے اور جیب کے لحاظ سے غریب تھے ۔ وہ مجلس رسول کے مستقل ممبر رہے ۔ جو لوگ دنیاوی لحاظ سے کمزور تھے مگر ایمانی اور نظریاتی اعتبار سے طاقتور تھے وہ اسی مقام پر برقرار رہے جو ان کے ایمان نے ان کے لئے مقرر کردیا تھا ۔ اس مقام کے وہ اس لئے مستحق ہوگئے تھے کہ وہ صرف اللہ کو پکارتے تھے اور صرف اللہ کی رضا مندی کے طالب تھے ۔ یوں اسلامی اقدار نے اس طرح روایات کی شکل اختیار کی جس طرح اللہ تعالیٰ پسند فرماتے تھے ۔

اہل کبر و غرور تحریک اسلامی سے متنفر ہوگئے ، ان کا تاثر یہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے ایسے لوگ اللہ کے فضل وکرم کے مالک بن جائیں ۔ یہ ٹٹ پونجئے ! اگر محمد کی برپا کی ہوئی تحریک اور آپ جو پیغام لے کر آئے ہیں اس میں کوئی بھلائی ہوتی تو اس کے قبول کرنے میں یہ لوگ ہم سے آگے نہ ہوتے ۔ اللہ ہمیں ان سے پہلے اس کی جانب راہنمائی فرماتا ۔ یہ کوئی معقول بات نظر نہیں آتی کہ اہل عرب میں سے اللہ تعالیٰ ان ضعفاء اور ناداروں کو اپنے فضل وکرم کے لئے منتخب فرمائیں جبکہ ہم صاحب جاہ و مرتبہ ہیں۔

نسب اور مال پر غرور کرنے والے ان لوگوں کو اللہ نے دراصل فتنے میں ڈال دیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے دین اسلام کو سمجھا ہی نہ تھا نیز یہ دین انسانیت کو جس نئی دنیا میں لے جانا چاہتا تھا اسے بھی یہ لوگ نہ سمجھ سکے تھے جس کے آفاق نہایت ہی وسیع تھے ۔ یہ دین انسانوں کو اس جدید دنیا میں نہایت ہی بلندیوں تک لے جانا چاہتا تھا ۔ اس جدید اسلامی دنیا کا علم اس وقت نہ عربوں کو تھا اور نہ دوسرے لوگوں کو تھا ۔ آج جو لوگ جمہوریت اور دوسرے ناموں سے ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں وہ بھی اسلامی نظام کی دنیا سے بیخبر ہیں ۔

(آیت) ” وَکَذَلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لِّیَقُولواْ أَہَـؤُلاء مَنَّ اللّہُ عَلَیْْہِم مِّن بَیْْنِنَا (6 : 53)

” دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائش میں ڈالا ہے ۔ تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ” کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل وکرم ہوا ہے ؟ “

اس سوال کا جواب قرآن کریم یوں دیتا ہے یعنی طبقہ کبراء کے استفہام انکاری کو یوں رد کیا جاتا ہے ۔

Al-An'aam 6:52Listen in Qur'an →
53

وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍۢ لِّيَقُولُوٓا۟ أَهَٰٓؤُلَآءِ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنۢ بَيْنِنَآ ۗ أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَعْلَمَ بِٱلشَّٰكِرِينَ

اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولتمند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم میں سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنے والوں سے واقف نہیں؟

(آیت) ” أَلَیْْسَ اللّہُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاکِرِیْنَ (53)

” ہاں ! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا ہے ؟ “

اس تریدد میں بہت کچھ ہدایات اور اشارات دیئے گئے ، پہلی ہدایت یہ دی گئی کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل وکرم ان لوگوں پر کرتا ہے جن کے بارے میں اللہ کے علم میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ شکر نعمت بجا لائیں گے ، اگرچہ کوئی بندہ اللہ کے انعام کا حق ادا نہیں کرسکتا لیکن بندہ شکر نعمت کے میدان میں جو حقیر سی کوشش بھی کرے اللہ اسے قبول کرتا ہے اور اس حقیر سے شکر پر اسے وہ انعام دیتا ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ۔

اس آیت میں یہ بتایا گیا کہ نعمت ایمان کا تعلق ان حقیر اقدار سے نہیں ہے جو اس دنیا پر چھائے ہوئے جاہلی ظالموں میں اہمیت رکھتی ہیں ۔ ایمان کی دولت اللہ ان لوگوں کو نصیب کرتا ہے جن کے بارے میں اللہ کو علم ہے کہ وہ شکر بجا لائیں گے ‘ اگرچہ وہ غلام ‘ ضعیف اور نادار ہوں کیونکہ اللہ کے ترازو میں دنیا کی دولت اور مال کا کوئی وزن نہیں ہے ۔ انہیں صرف جاہلیت ہی اہمیت دیتی ہے حالانکہ اللہ کے نزدیک ان میں کوئی وزن نہیں ہوتا ہے ۔

اس جواب میں یہ فیصلہ بھی کردیا ہے کہ دراصل یہ اعتراض ہو لوگ کرتے ہیں جو چیزوں کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتے ۔ اللہ دولت ایمان کو جب تقسیم فرماتے ہیں تو وہ خوب جانتے ہیں کہ اس کا مستحق کون ہے ۔ اس سلسلے میں اگر کوئی اعتراض کرے گا تو ایک تو وہ جاہل ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ نہایت گستاخ بھی ہوگا ۔

چناچہ رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ آغاز دعوت ان لوگوں سے کریں جن پر اللہ نے فضل فرمایا ‘ سب سے پہلے انہیں نعمت ایمان سے نوازا ‘ ان کو سابقون الاولون کی فضیلت دی گئی اور جن سے یہ کبراء اور اشراف نفرت کرتے ہیں ۔ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ سب سے پہلے انہیں سلام کریں اور اس کے بعد انہیں خوشخبری دیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر ان کے لئے رحمت فرض کرلی ہے اور اگر ان میں سے کسی سے دور جاہلیت میں کوئی غلطی صادر ہوئی ہے تو وہ معاف ہے بشرطیکہ وہ توبہ کرے اور اصلاح کرلے ۔

Al-An'aam 6:53Listen in Qur'an →
54

وَإِذَا جَآءَكَ ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَٰتِنَا فَقُلْ سَلَٰمٌ عَلَيْكُمْ ۖ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْمَةَ ۖ أَنَّهُۥ مَنْ عَمِلَ مِنكُمْ سُوٓءًۢا بِجَهَٰلَةٍۢ ثُمَّ تَابَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُۥ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو (ان سے) سلام علیکم کہا کرو خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے

(آیت) ” وَإِذَا جَاء کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ أَنَّہُ مَن عَمِلَ مِنکُمْ سُوء اً بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِہِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(54)

” جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان کو کہو ” تم پر سلامتی ہے ۔ تمہارے رب نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ (یہ اس کا رحم وکرم ہی ہے کہ) اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اسے معاف کردیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے۔ “

نعمت ایمان کے بعد یہ ان کے لئے ایک بڑا اعزاز ہے ۔ اس سے حساب و کتاب میں بہت ہی نرمی ہوگی اور جزاء میں نہایت ہی فیاضی اور فراوانی ہوگی ۔ اس قدر عظیم رحمت اور یقینی رحمت کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر اس فعل کو فرض کرلیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ بعد سلام ایسے مومنین آیات الہی کو خوشخبری بھی دے دیں کہ ان کے ساتھ عفو و درگزر کا سلوک ہوگا بشرطیکہ وہ توبہ اختیار کریں اور صالحانہ روشن اپنائیں ۔ اسی لئے بعض مفسرین نے جہالت کی تعریف یہ کی ہے کہ کوئی ارتکاب ذنوب پر جما ہوا ہو ورنہ جو شخص بھی ارتکاب جرم کرتا ہے وہ جاہلت ہی کی وجہ سے کرتا ہے ۔ اس تفسیر کے مطابق اس نص میں ہر وہ گناہ شامل ہوگا جو کسی سے صادر ہو اور جب وہ توبہ کرے اور نیک ہوجائے تو گناہ معاف ہوجائے گا ۔ اس رائے کی تائید ان آیات ونصوص سے بھی ہوتی ہے جن میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ توبہ اور اس کے بعد اصلاح حال سے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ وہ رحمت الہی ہے جسے اللہ نے اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ۔

اس بحث کو ختم کرنے سے پہلے مناسب ہے کی بعض اہم احادیث کا یہاں تذکرہ کردیا جائے جو ان واقعات و حالات کے بارے میں ہیں جن میں یہ آیات نازل ہوئیں ۔ ان آثار و احادیث اور اس آیت کو اگر ملا کر پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دین اسلام اس وقت انسانیت کے اندر کس قدر عظیم انقلاب لا رہا تھا ۔ اس وقت معاشرتی اعتبار سے اسلام نے انسانیت کو جس مقام بلند تک پہنچا دیا تھا ‘ انسانیت آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکی ہے ۔

طبری نے صناد ‘ ابو زید ‘ اشعث کردوس اور حضرت ابن مسعود کے سلسلہ میں روایت سے نقل کیا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ قریش کے کچھ کبراء حضور ﷺ کے پاس سے گزرے ‘ اس وقت آپ ﷺ کے پاس صہیب ‘ عمار ‘ بلال ‘ خباب اور ان جیسے لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ہم تمام مسلمانوں میں زیردست لوگ تھے ۔ ان کبراء نے کہا : ” اے محمد ﷺ کای تم نے اپنی قوم سے ان لوگوں کو منتخب کیا ہے ؟ کیا ہم میں سے اللہ نے صرف ان لوگوں پر احسان کیا ہے ؟ کیا ہم ان لوگوں کے زیر اطاعت آجائیں ؟ آپ ان لوگوں کو اپنے پاس سے بھگا دیں ‘ اگر آپ نے ایسا کیا تو ممکن ہے کہ ہم تمہارے مطیع ہوجائیں اس واقعہ پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔

(آیت) ” وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہُ مَا عَلَیْْکَ مِنْ حِسَابِہِم مِّن شَیْْء ٍ وَمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْْہِم مِّن شَیْْء ٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (52) وَکَذَلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُم ۔۔۔۔۔۔۔ (53) (6 : 52۔ 53) تک۔

طبری نے حسین ابن عمرو ابن محمد عنقزی ‘ انہوں نے اپنے والد ‘ انہوں نے بعض دوسرے لوگوں اور انہوں نے سدی اور ابو سعید ازدی سے نقل کیا ہے ۔ یہ ازد قبیلہ کے قاری تھے ۔ انہوں نے خباب سے اس آیت ۔

(آیت) ” وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہُ مَا عَلَیْْکَ مِنْ حِسَابِہِم مِّن شَیْْء ٍ وَمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْْہِم مِّن شَیْْء ٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ …

Al-An'aam 6:54Listen in Qur'an →
55

وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ ٱلْمُجْرِمِينَ

اور اس طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گنہگاروں کا رستہ ظاہر ہوجائے

(آیت) ” نمبر 55۔

یہ اس لہر کا خاتمہ ہے ۔ اس میں حقیقت رسالت اور مزاج رسول کی بڑی خوبی سے وضاحت کی گئی ہے اور اسلامی نظریہ حیات کو بھی کسی بغیر لاگ ولپیٹ کے بتایا گیا ہے ۔ ان اقدار حیات کو بھی واضح کیا گیا ہے ۔ جن کے غلبے کے لئے اسلام اس جہان میں آیا اور ان کو بھی جدا کردیا گیا جن کی بیخ کنی کے لئے اسلام اٹھا ۔

(آیت) ” وکذلک نفصل الایت “۔ (6 : 55) (اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں)

کیوں اس لئے کہ (آیت) ” لتستبین سبیل المجرمین “۔ (6 : 55) (تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے) یعنی اس انداز ‘ اس منہاج اور اس طرز کلام کے ساتھ ہم بیان مدعا کرتے ہیں ۔ بڑی تفصیلات کے ساتھ جن کے بعد سچائی کی پہچان میں کسی شک کی گنجائش نہی رہتی ۔ بات میں کوئی اجماع یا پیچیدگی نہیں رہتی اور اس فصاحت کے بعد سچائی کو تسلیم کرنے کے لئے کسی معجزے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ سچائی واضح ہوجاتی ہے ‘ بات کھل جاتی ہے اور قرآنی انداز کلام کے مطابق ۔ اس پوری سورة کے اندر بیان ہونے والے شواہد و دلائل کے مطابق حقائق وواقعات کی روشنی میں یہ امور تفصیل آیات کے مفہوم میں شامل ہیں۔

مقصد مجرموں کی راہوں کو جدا کرنا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات اور اس کی اساس پر تحریک برپا کرنے کے لئے قرآن کا منہاج کیا ہے ؟ (لتستبین) قرآن کا منہاج وانداز یہ نہیں ہے کہ وہ فقط مومنین وصالحین کی راہوں کی نشاندہی کر دے ‘ بلکہ قرآن کا منہاج تحریک یہ ہے کہ قرآن کریم گمراہوں اور مجرموں کے طور طریقوں کی وضاحت بھی کرتا ہے ۔ مجرموں کی راہوں کی وضاحت بذریعہ تنقید باطل بےحد ضروری ہے اور اس لئے ضروری ہے کہ اہل حق کے راستے کی وضاحت ہو ۔ یہ دعوت اسلامی کے واضح خطوط ہیں جن پر ہمیں چلنا ہے ۔ حق و باطل کا طریقہ کار یہاں سے جدا ہوجاتا ہے ۔

اسلام کا منہاج عمل اللہ نے متعین کیا ہے اور یہ اس لئے متعین کیا گیا ہے کہ اس منہاج کے مطابق نفوس انسانی کا علاج کیا جائے ۔ اللہ کو اس بات کا خوب علم تھا کہ سچائی وبھلائی پر پختہ یقین اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ جب بھلائی کے مقابلے میں شر اور سچائی کے مقابلے میں جھوٹ پر بھی نظر رکھی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ یہ باطل خالص جھوٹ اور شر محض ہے جس کے مقابلے میں حق خالص سچائی اور خیر محض ہے ۔ نیز حق وصداقت کی حمایت پر انسان اس وقت آمادہ ہوتا ہے جب وہ یہ یقین کرلے کہ اس سچائی کا مقابلہ جو قوت کر رہی ہے وہ باطل ہے ۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ قوت باطلہ مجرموں کی راہوں کی مسافر ہے اور مجرمین وہ قوت ہیں جن کے بارے میں ایک دوسری جگہ قرآن کریم یہ تصریح کرتا ہے کہ ہر نبی کا کوئی دشمن ہوتا ہے ۔ (آیت) ” وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین ) (اسی طرح ہم نے ہر نبی کیلئے مجرموں میں سے ایک دشمن پیدا کیا) یہ اس لئے تاکہ نبی اور مومنین کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جائے کہ ان کا دشمن مجرم ہے اور ان کا یہ عقیدہ پختہ یقین ‘ اعتماد اور شرح صدر پر مبنی ہو۔

کفر ‘ شر اور مجرمانہ حرکات کی وضاحت ‘ ایمان ‘ بھلائی اور اصلاح کے لئے نہایت ضروری ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ مجرمین کے راستوں کی وضاحت آیات الہیہ کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہے ‘ مجرمین کے موقف اور ان کے طرز عمل کے بارے میں کوئی بھی شعبہ یا معمولی التباس خود مومنین کے موقف ‘ ان کے طرز عمل اور ان کی راہ میں شبہات پیدا کردیتا ہے ‘ اس لئے کہ دونوں تصویر کے دو رخ ہیں ‘ کتاب کے صفحات متقابل ہیں اور دو جدا جدا راستے ہیں ۔ دونوں کے الگ الگ رنگ ہیں جن کے درمیان امتیاز ضروری ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ تحریک اسلامی کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اس کے کارکنوں کے فکر ونظر مومنین اور مجرمین کا راستہ ممتاز ہو۔ ہر تحریک کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اپنے راستے کو متعارف کرائے اور اس کے بالمقابل مجرمین کے جو راستے ہیں ان پر تنقید کرکے ان کی کمزوریاں واضح کرے …

Al-An'aam 6:55Listen in Qur'an →
56

قُلْ إِنِّى نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۚ قُل لَّآ أَتَّبِعُ أَهْوَآءَكُمْ ۙ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًۭا وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُهْتَدِينَ

(اے پیغمبر! کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کروں تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں نہ رہوں

(آیت) ” نمبر 56 تا 58۔

یہ لہر ہدایت اور اشارات سے بھری پڑی ہے ۔ اس میں قلب انسانی پر اثر انداز ہونے والے مختلف عوامل کے ذریعے حقیقت الوہیت کو نظروں کے سامنے لایا گیا ہے ۔ ان مؤثرات اور ضربات میں سے اہم اور گہرا موثر اس میں لفظ قل کا تکرار ہے ‘ کہہ دو ‘ کہہ دو ‘ کہہ دو ‘ اس میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو کیا گیا ہے کہ آپ اپنے رب کی طرف سے آنے والے ہر پیغام کو پہنچا دیں ۔ یہ وہ پیغام ہے جو کسی اور گروہ کے پاس نہیں ہے ‘ کوئی اور اس پیغام کا حامل نہیں ہے ۔ اور نہ یہ پیغام کسی اور پر القا ہوتا ہے ۔

(آیت) ” قُلْ إِنِّیْ نُہِیْتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّہِ قُل لاَّ أَتَّبِعُ أَہْوَاء کُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذاً وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ (56)

” اے نبی ﷺ ان سے کہو ” تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو ان کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے ۔ “ کہو : ” میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا ‘ اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہوگیا ‘ راہ راست پانے والوں میں سے نہ رہا ۔ “

حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اعلان فرما دیں کہ آپ کو ان لوگوں کی بندگی کرنے اور انکی پیروی کرنے سے خدا نے منع کردیا ہے جن کی بندگی اور پیروی تم مشرکین کرتے ہو ۔ میں تمہارے معبودوں کو کسی صورت میں اپنے رب کا ہمسر نہیں بنا سکتا ۔ اس لئے کہ مجھے اس بات سے روک دیا گیا کہ میں لوگوں کی خواہشات کی پیروی کروں اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی کرتے ہیں وہ محض اپنی خواہشات نفس کی وجہ سے ان لوگوں کی پیروی کرتے ہیں اور انہیں اللہ کا ہمسر بناتے ہیں ۔ وہ کسی علم یا دلیل کی وجہ سے ایسا نہیں کر رہے ۔ اور نہ اس وجہ سے کر رہے ہیں کہ انکے نزدیک یہ کوئی حق بات ہے ۔ نیز یہ کہ اگر میں ان لوگوں کی پیروی کروں تو میں گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت یافتہ نہ رہوں گا کیونکہ جن لوگوں پر ان کی خواہشات مسلط ہوتی ہیں وہ لازما گمراہی کا شکار ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ حضرت نبی کریم ﷺ کو یہ حکم دیتے ہیں کہ آپ مشرکین کے ساتھ اس انداز میں ہمکلام ہوں ۔ ان کے ساتھ اس انداز میں دو ٹوک بات کریں ۔ اس سورة میں اس سے پہلے بھی حضور ﷺ کو حکم دیا جا چکا ہے ۔

(آیت) ” أَئِنَّکُمْ لَتَشْہَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّہِ آلِہَۃً أُخْرَی قُل لاَّ أَشْہَدُ قُلْ إِنَّمَا ہُوَ إِلَـہٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (19) ۔

” کیا تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسراخدا بھی ہے ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ خدا تو وہی ایک ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔ “

مشرکین مکہ حضور ﷺ کو یہ پیشکش کرتے رہے تھے کہ آپ انکے دین کو مان لیں اور وہ آپ کے دین کو تسلیم کریں گے ۔ آپ ان کے خداؤں کے سامنے سجدہ ریز ہوں اور وہ آپ کے الہ واحد کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ شاید اس قسم کی مصالحت مسالت کا امکان ہے اور یہ کہ ایک ہی دل میں شرک اور توحید جمع ہو سکتے ہیں ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ غیر اللہ کی بندگی اور پیروی کے ساتھ ساتھ اللہ کی بندگی اور پیروی بھی ممکن ہے حالانکہ یہ اجتماع ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ اپنے ساتھ دوسرے شریکوں کو تسلیم کرے ۔ وہ تو یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس کے بندے صرف اور صرف اس کی بندگی کریں ۔ اللہ کو وہ بندگی سرے سے قبول ہی نہیں ہے جس میں شرک کا کوئی شائبہ تک موجود ہو ‘ چاہے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ۔

آیت کا مقصد تو یہ ہے کہ حضور ﷺ ان سے یوں مخاطب ہوں کہ آپ ﷺ کو ان کی بندگی سے منع کردیا گیا ہے جن کی یہ لوگ بندگی کرتے ہیں یا جنہیں وہ الہ کہتے ہیں ۔ لیکن یہاں انداز تعبیر یوں ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے ” الذین “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو قابل غور ہے اس لئے کہ الذین کا لفظ ذوالعقول کے لئے استعمال ہوتا …

Al-An'aam 6:56Listen in Qur'an →
57

قُلْ إِنِّى عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَكَذَّبْتُم بِهِۦ ۚ مَا عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِۦٓ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ يَقُصُّ ٱلْحَقَّ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْفَٰصِلِينَ

کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے (ایسا) حکم الله ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

(آیت) ” قُلْ إِنِّیْ عَلَی بَیِّنَۃٍ مِّن رَّبِّیْ وَکَذَّبْتُم بِہِ مَا عِندِیْ مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّہِ یَقُصُّ الْحَقَّ وَہُوَ خَیْْرُ الْفَاصِلِیْنَ (57) ۔

” کہو ” میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے ۔ اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو ‘ فیصلے کا سارا اختیار اللہ کو ہے ‘ وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے “۔

یہ ضرب اللہ کی جانب سے ہے ۔ اللہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ کفار اور جھٹلانے والوں کے سامنے واضح الفاظ میں اس بات کا اعلان کردیں کہ آپ کے دل میں اپنے پیغام کے بارے میں پختہ یقین ہے اور آپ کو اس سلسلے میں مکمل یکسوئی حاصل ہے ۔ آپ کے شعور میں اس پیغام کی سچائی پر بین دلائل موجود ہیں اور آپ کی ذات میں اس امر کا گہرا وجدانی احساس موجود ہے کہ آپ ﷺ جو پیغام دے رہے ہیں وہ حق ہے ۔ یہ ایک ایسا شعور ہے ‘ جو تمام نبیوں کے اندر پوری طرح پایا جاتا ہے اور تمام نبیوں نے اس احساس و شعور اور وجدانی راہنمائی کا اظہار ایسے ہی الفاظ میں کیا ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا :

(آیت) ” قال یقوم ارئیتم ان کنتم علی بینۃ من ربی واتنی رحمۃ من عندہ فعمیت علیکم انلزمکموھا وانتم لھا کرھون “۔ (11 : 28)

” نوح نے کہا اے بردران قوم ‘ ذرا سوچو تو سہی کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا ‘ اور پھر اس نے مجھ پر اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سر پر چپکا دیں ۔ “ اور حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا :

(آیت) ” (آیت) ” قال یقوم ارئیتم ان کنتم علی بینۃ من ربی واتنی رحمۃ فمن ینصرنی من اللہ ان عصیتہ فما تزیدوننی غیر تخسیر “۔ (11 : 63)

” صالح (علیہ السلام) نے کہا اے بردران قوم ‘ تم نے کچھ اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا ‘ اور پھر اس نے مجھ پر اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو ؟ سوائے اس کے کہ مجھے اور خسارہ میں ڈال دو ۔ “ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا :

(آیت) ” وَحَآجَّہُ قَوْمُہُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّیْ فِیْ اللّہِ وَقَدْ ہَدَانِ (6 : 80)

” اس قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا : ” کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے ۔ “ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا :

(آیت) ” فلما ان جآء البشیر القہ علی وجھہ فارتد بصیرا قال الم اقل لکم انی اعلم من اللہ مالا تعلمون “۔ (12 : 96)

” پھر جب خوشخبری لانے والا آیا تو اس نے یوسف کا قمیص یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور یکایک اس کی بینائی عود کر آئی ۔ تب اس نے کہا ” میں تم سے کہتا نہ تھا ؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ “

یہ ہے حقیقت خدائی ‘ جو اللہ والوں کے دل میں روشن چراغ کی طرح نمایاں ہوتی ہے ۔ لیکن صرف ان لوگوں کے دلوں میں یہ چراغ روشن ہوتا ہے جن کے دلوں میں اللہ روشن کرنا چاہے ۔ ایسے لوگ اللہ کو اپنے دل میں موجود پاتے ہیں اور ان کی شخصیت کی گہرائیوں میں یہ حقیقت بیٹھ جاتی ہے اور ان کے دلوں کو یقین سے بھر دیتی ہے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کے بارے میں اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کے سامنے اس کا اعلان ببانگ دہل کردیں ۔ مشرکین دراصل دعوت الی اللہ کی تکذیب کرنا چاہتے ہیں اور وہ حیلے بہانے بنا کر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ اس حقیقت کو تسلیم کرانے کے لئے معجزات پیش کریں حالانکہ یہ حقیقت تو قلب رسول میں روشن چراغ کی طرح موجود ہے ۔

(آیت) ” قل انی علی بینۃ من ربی …

Al-An'aam 6:57Listen in Qur'an →
58

قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِۦ لَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِٱلظَّٰلِمِينَ

کہہ دو کہ جس چیز کے لئے تم جلدی کر رہے ہو اگر وہ میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

(آیت) ” قُل لَّوْ أَنَّ عِندِیْ مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ لَقُضِیَ الأَمْرُ بَیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ وَاللّہُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِیْنَ (58)

” کہو : اگر کہیں وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ۔ مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہئے ؟ “۔

جہاں تک انسان کا تعلق ہے ‘ صبر ‘ حلم ‘ بردباری ‘ اور مہلت دینے میں اس کی صلاحیت محدود ہے ۔ جب انسان انسان کے خلاف بغاوت اور سرکشی اختیار کرتا ہے تو انسان کی قوت برداشت ختم ہوجاتی ہے کیونکہ انسان دوسرے زیردست انسان کی جانب سے سرکشی کو برداشت ہی نہیں کرتا لیکن اللہ حلیم ‘ بردبار اور قوی ہے ‘ وہ عظمت والا ہے ۔

ذراکلام الہی پر غور کرو ۔ بارہا ایسا ہوتا ہے انسان بعض دوسرے انسانوں سے ایسے امور دیکھتا ہے کہ اس کا پیمانہ صبر لبریز ہوجاتا ہے اور اس کی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں دیکھو کہ انسان اللہ کی نافرمانی کرتا چلا جاتا ہے لیکن وہ پھر بھی اللہ کی زمین پر رہتے ہیں ‘ وہ اللہ کھانا وپینا فراہم کرتا ہے ‘ ان پر بارش برساتا ہے ‘ انکے لئے ہر طرف سے فراوانی کے دروازے کھول دیتا ہے اور اس کے لئے اس کے سوا کوئی اور چارہ ہی نہیں رہتا کہ وہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بات کو دہرائے ۔ ایک بار وہ معرکہ جنگ میں تھے ۔ معرکہ اس قدر گرم تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہ دیتا تھا اور کفار نے فیصلہ کن حملہ کیا ہوا تھا ۔ ہر طرف سے بزن کا عالم تھا ۔ آپ نے فرمایا :” اے اللہ آپ کس قدم حلیم اور بردبار ہیں ! اے اللہ آپ کس قدر حلیم و بردبار ہیں ۔ غرض یہ اللہ کا حلم اور بردباری ہی ہے کہ نافرمانوں کو مہلت دئیے جا رہی ہے ۔

(آیت) ” وَاللّہُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِیْنَ (58)

” اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہئے ؟ “۔ وہ جانتے ہوئے مہلت دیتا ہے ۔ وہ حکمت کے ساتھ انہیں ڈھیل دیتا ہے اور علیم بھی ہے اور قدرت بھی رکھتا ہے کہ ان کے مطالبے کو بھی پورا کردے اور انہیں سخت عذاب سے بھی دوچار کر دے ۔ “

بات یہ ہو رہی تھی کہ اللہ ظالموں کے بارے میں خوب جانتے ہیں ‘ اور یہ کہ حقیقت الوہیت اور شان کبریائی کیا ہے ‘ اس مناسبت سے یہاں شان کبریائی کے ایک وسیع تر میدان ان کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور یہ وسیع تر میدان عالم غیب ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا علم تمام خفیہ باتوں پر محیط ہے ۔ یہاں اللہ کے علم کی وسعت کی عجیب اور منفرد تصور کشی کی جاتی ہے اور اس میدان میں اللہ کے علم کی وسعتوں کی طرف دور تک را ہوار خیال کو گامزن کیا جاتا ہے ۔

Al-An'aam 6:58Listen in Qur'an →
59

۞ وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍۢ فِى ظُلُمَٰتِ ٱلْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍۢ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِى كِتَٰبٍۢ مُّبِينٍۢ

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے۔ اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

(آیت) ” نمبر 59۔

اللہ کے کامل اور محیط علم کی یہ نہایت خوبصورت تصویر ہے ۔ یہ علم اس قدر محیط ہے کہ زمان ومکان کا ایک ذرہ بھی اس سے باہر نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کے علم میں ہے ۔ بروبحر کے تمام موجودات اس کے علم کے دائرے کے اندر ہیں ۔ فضاؤں اور زمین کی گہرائیوں میں پائے جانے والے تمام ذرات بھی اس کے دائرہ علم کے اندر ہیں ۔ خشک وتر اور زندہ و مردہ ہر چیز اس کے علم میں ہے ۔

ہمارے اس بیان اور آیت زیر بحث کے اسلوب بیان میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ قرآن کا انداز نہایت ہی منفرد ‘ شامل وکامل ‘ گہرا وعمیق اور نہایت ہی موثر اور معنی آفریں ہے ۔

ہمارا را ہوار خیال اس مختصر آیت کے پیچھے سرپٹ بھاگتا ہے ۔ ہمارا خیال عالم معلومات اور عالم مجہولات میں گھوڑے دوڑاتا ہے ۔ انسان عالم غیب وعالم شہادت پر غور وفکر کرتا ہے تو اس کا وجدان اور مشاہدہ کانپ اٹھتا ہے کہ ہر وادی میں اور ہر طرف اسے مشاہدات ومظاہر کی نئی نئی شکلیں نظر آتی ہیں ۔ انسان کی جدوجہد بڑی تیزی سے اپنی تلاش نامعلوم کے لئے جاری ہے ۔ وہ غیب کے پردوں کو پھاڑ کر سب کچھ عیاں کرنا چاہتا ہے ۔ وہ ماضی اور مستقبل کے تمام پردے ہٹانا چاہتا ہے ۔ زمان ومکان کے آفاق اور گہرائیوں میں وہ دور تک جھانکنا چاہتا ہے لیکن وہ جس سمت سے آگے بڑھتا ہے اسے نظر آتا ہے کہ غیب کی چابیاں تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں ۔ ایک حد پر جاکر اس کو علم واکتشافات کے دروازے مقفل نظرآتے ہیں اور آگے کی چابیاں اللہ کے پاس ہیں ۔ غرض انسان کا وجدان کائنات کی تاریک وادیوں اور سمندر کی گہرائیوں میں دوڑتا ہے ۔ یہ سب جگہیں اللہ کے علم کے زاویے سے عیاں ہیں ۔ پھر ہمارا شعور دنیا کے ہر خزاں میں گرنے والے پتوں کی طرف جاتا ہے ‘ جن کی تعداد سے انسان بیخبر ہیں لیکن اللہ کی آنکھ ایک ایک کو دیکھ رہی ہے کہ کس طرح وہ امر ربی سے گرتا ہے اور اس پوری کائنات میں یہ علم ان پتوں تک وسیع ہے ۔ اس کائنات میں اگنے والے بیشمار پودوں سے نکلنے والے چھوٹے چھوٹے بیج اور ان کا ایک ایک دانہ جو ظلمات ارض میں کہیں پڑا ہے وہ بھی اللہ کی نظر میں ہے ۔ اس وسیع و عریض کائنات کا ہر خشک وتر اللہ کی نظروں میں ہے اور کوئی بھی چیز علم الہی سے باہر نہیں ہے ۔

غرض یہ تصور سر کو چکرا دیتا ہے اور اس سے عقل مبہوت ہوجاتی ہے ۔ یہ تصور اور شعور ہمیں تاریخ اور زمانوں کی طوالتوں میں لے جاتا ہے ۔ یہ آفاق کائنات کی دوریوں کا تصور دلاتا ہے ۔ عالم معلوم اور مشاہد اور عالم غیب اور مجہول کا تصور انسان کرتا ہے تو اس میں ہر طرف وسعت ہی وسعت نظر آتی ہے ۔ را ہوار خیال تھک کر چور چور ہوجا تا ہے لیکن قرآن کریم کے چند کلمات ان وسعتوں اور دوریوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔ یہ ہے قرآن کا اعجاز ‘ اعجاز عبارت اور اعجاز خیال جس پہلو سے بھی ہم اس مختصر آیت پر نگاہ ڈالیں یہ معجز ہے اور یہ اعجاز ہمیں واضح طور پر اس طرف لے جاتا ہے کہ اس عظیم کلام کا مصدر اور منبع کیا ہے ؟

قرآن کریم جو اسلامی تصور حیات کا مصدر اور سرچشمہ ہے اور جس سے اسلامی ذہنیت پیدا ہوتی ہے ‘ وہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اس کائنات کے دو جہان ہیں ‘ ایک عالم غیب ہے اور دوسرا عالم مشاہدہ یا عالم شہادت ۔ لہذا انسان جس جہان میں رہتا ہے اس کے تمام حقائق غیبی نہیں ہیں اور نہ اس کا واسطہ عالم مجہولاتا سے ہے بلکہ یہاں عالم شہادت بھی ہے ۔

اس کائنات کے اندر بعض ناقابل تغیر قوانین اور سنن ہیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ سنن کائنات میں سے ضروری کا علم حاصل کرسکتا ہے ۔ اپنی اس صلاحیت اور ضرورت کے مطابق اسے یہ صلاحیت اس لئے دی گئی ہے کہ وہ یہاں خلافت ارضی کے منصب سے وابستہ فرائض ادا کرسکے اور اپنی زندگی کو سنن کائنات کے ساتھ ہم آہنگ کرسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس قدر صلاحیت دی ہے جس قدر اسے منصب خلافت کے تقاضے پورے کرنے …

Al-An'aam 6:59Listen in Qur'an →
60

وَهُوَ ٱلَّذِى يَتَوَفَّىٰكُم بِٱلَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِٱلنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰٓ أَجَلٌۭ مُّسَمًّۭى ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا

(آیت) ” نمبر 60۔

یہ چند مزید الفاظ ہیں ‘ اس سے پہلے چند کلمات میں عالم غیب کے طویل و عریض آفاق کے خطوط کھینچ دیئے گئے تھے اور سابق آیت کے محدود کلمات نے یہ واضح کردیا تھا کہ باری تعالیٰ کا علم کس قدر کامل اور شامل ہے ۔ اب ان زیر بحث چند کلمات اور محدود فقروں سے یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ انسان کی پوری زندگی مکمل طور پر اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ تمام امور اللہ کے علم ‘ اللہ کی تقدیر اور اللہ کی تدبیر کے مطابق طے پا رہے ہیں ۔ انسان کا جاگنا اور سونا ‘ اس کا مرنا اور پیدا ہونا ‘ اس کا دوبارہ اٹھنا اور حساب و کتاب سب کے سب امر الہی کے مطابق طے ہو رہے ہیں اور آئندہ بھی اس کے مطابق ہی طے ہوں گے ۔ یہ حقیقت قرآن کے مخصوص طرز ادا اور نہایت ہی ایجداز اور نہایت ہی موثر پیرائے میں بیان کی جاتی ہے ۔ طرز ادا نہایت ہی محسوس ‘ متحرک اور ایسے انداز میں ہے کہ پورا منظر اسکرین پر چلتا پھرتا نظر آتا ہے اور انسانی شعور اور جذبات کو ساتھ لئے ہوئے ہے ‘ نہایت ہی تعجب خیز طرز تعبیر میں ۔

(آیت) ” وھو الذی یتوفکم بالیل “۔ (6 : 60) وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے ۔ جب انسان نیند کی آغوش میں ڈوب جاتا ہے تو گویا وہ مر جاتا ہے ۔ حالت نوم بھی دراصل موت کی ایک قسم ہے ۔ جس طرح حالت موت میں انسان کے حواس معطل ہوجاتے ہیں اسی طرح خواب میں بھی حواس معطل ہوجاتے ہیں اور انسان غافل ہوتا ہے ۔ حواس مردہ ہوجاتے ہیں ‘ عقل رک جاتی ہے اور انسان کا فہم وادراک بھی ختم جاتا ہے ۔ یہ ایک راز ہے جو ابھی تک انسانی فہم سے باہر ہے کہ انسانی قوتیں حالت خواب میں کس طرح رک جاتی ہیں ۔ اگرچہ ہم حالت خواب کے آثار کو جانتے ہیں لیکن اس کی حقیقت تک انسان نہیں پہنچ سکا کہ یہ حالت کس طاری ہوجاتی ہے ۔ یہ بھی ایک حالت غیبی ہے جس طرح دوسری غیبی حالات انسان کے اردگرد پھیلے ہوئے ہیں ۔ لیکن جب انسان اس حالت میں پہنچتا ہے تو اس کی تمام قوتیں اس سے سلب ہوجاتی ہیں ۔ یہاں تک کہ فہم وادراک کی قوت سے بھی انسان محروم ہوجاتا ہے ۔ ایک مخصوص وقت تک کے لئے انسان آثار حیات سے محروم ہوجاتا ہے اور اللہ کے قبضہ قدرت میں جا پہنچتا ہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ جب انسان خواب میں چلا جائے تو صرف اور صرف ارادہ الہی اسے حالت بیداری میں لاتا ہے ۔ ذرا غور کیجئے ! کہ انسان جب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہو تو وہ کس قدر کمزور وناتواں ہے ۔

(آیت) ” ویعلم ما جرحتم بالنھار “۔ (6 : 60) ” اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اسے جانتا ہے ۔ “ انسانوں کے اعضاء حالت بیداری میں پورا دن جو حرکات کرتے ہیں جو پکڑتے ہیں اور جو چھوڑتے ہیں ‘ جو اچھے کام کرتے ہیں اور جو برے کام کرتے ہیں ‘ سب کے سب اللہ کے علم میں ہیں ۔ تمام کے تمام انسانوں کی حرکات و سکنات اللہ کی نگرانی میں ہوتی ہیں اور ان کی حرکات و سکنات میں سے کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں جاتی ۔

(آیت) ” ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمی “۔ (6 : 60) ” پھر دوسرے روز وہ تمہیں اسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو۔ “ یعنی جب تم رات سوتے میں گزارتے ہو تو وہ اس ٹھہراؤ اور انقطاع کی حالت سے تمہیں جگاتا ہے تاکہ تم حقیقی موت تک اپنی مقررہ مدت حیات پوری کرسکو۔ تو گویا یہ سب انسان ان تمام حالات میں اللہ کی قدرت اور تقدیر میں داخل ہوتے ہیں ۔ وہ تقدیر الہی سے باہر نکل نہیں سکتے ۔ نہ یہ تقدیر کہیں جا کر رکتی ہے ۔

(آیت) ” ثم الیہ مرجعکم “۔ (6 : 60) ” پھر دوسرے روز وہ تمہیں اسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو۔ “ یعنی جب تم رات سوتے میں گزارتے ہو تو وہ اس ٹھہراؤ اور انقطاع کی حالت سے تمہیں جگاتا ہے تاکہ تم حقیقی موت تک اپنی مقررہ مدت حیات پوری کرسکو۔ تو گویا یہ سب انسان ان تمام حالات میں اللہ کی قدرت اور تقدیر میں داخل ہوتے ہیں ۔ وہ تقدیر الہی …

Al-An'aam 6:60Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.