خلاصہ تفسیر - اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے تھے (مگر انہوں نے ان کو نہ مانا) تو ہم نے ان کو تنگدستی اور بیماری سے پکڑا تاکہ وہ ڈھیلے پڑجاویں (اور اپنے کفر و معصیت سے توبہ کرلیں) سو جب ان کو ہماری سزا پہنچی تھی وہ ڈھیلے کیوں نہ پڑے (کہ ان کا جرم معاف ہوجاتا) لیکن ان کے قلوب تو (ویسے ہی) سخت (کے سخت) رہے، اور شیطان ان کے اعمال بد کو ان کے خیال میں (بدستور) آراستہ (و مستحسن) کرکے دکھاتا رہا۔ پھر جب وہ لوگ (بدستور) ان چیزوں کو بھولے (اور چھوڑے) رہے، جن کی ان کو (پیغمبروں کی طرف سے) نصیحت کی جاتی تھی (یعنی ایمان و اطاعت) تو تم نے ان پر (عیش و عشرت کی) ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں وہ خوب اترا گئے (اور غفلت و سستی میں ان کا کفر اور بڑھ گیا، اس وقت) ہم نے ان کو دفعةً (بےگمان عذاب میں) پکڑ لیا (اور عذاب شدید نازل کیا جس کا ذکر قرآن میں جابجا آیا ہے) پھر (اس عذاب سے) ظالم لوگوں کی جڑ (تک) کٹ گئی اور اللہ کا شکر ہے جو تمام عالم کا پروردگار ہے (کہ ایسے ظالموں کا پاپ کٹا جن کی وجہ سے دنیا میں نحوست پھیلی تھی) ۔- معارف ومسائل - آیات مذکورہ میں شرک و کفر کا ابطال اور توحید کا اثبات ایک خاص انداز میں کیا گیا ہے کہ پہلے مشرکین مکہ سے سوال کیا گیا کہ اگر تم پر آج کوئی مصیبت آپڑے، مثلاً خدا تعالیٰ کا عذاب اسی دنیا میں تم پر آجائے، یا موت یا قیامت کا ہولناک ہنگامہ برپا ہوجائے، تو اپنے دلوں میں غور کرکے بتلاؤ کہ تم اس وقت اپنی مصیبت کو دور کرنے کے لئے کس کو پکارو گے اور کس سے امید رکھو گے کہ وہ تمہیں عذاب اور مصیبت سے نجات دلائے، کیا یہ پتھر کے خود تراشیدہ بت یا مخلوق میں سے دوسرے لوگ جن کو تم نے خدا تعالیٰ کی حیثیت دے رکھی ہے، اس وقت تمہارے کام آئیں گے ؟ اور تم ان سے فریاد کرو گے یا صرف ایک اللہ جل شانہ، کو ہی اس وقت پکارو گے۔- اس کا جواب کسی ذی ہوش انسان کی طرف سے بجز اس کے ہو ہی نہیں سکتا جو خود حق تعالیٰ نے ان کی طرف سے ذکر فرمایا کہ اس عام مصیبت کے وقت بڑے سے بڑا مشرک بھی سب بتوں اور خود تراشیدہ معبودوں کو بھول جائے گا، اور صرف خدا تعالیٰ کو پکارے گا، تو اب نتیجہ ظاہر ہے کہ یہ تمہارے بت اور وہ معبود جن کو تم نے خدا تعالیٰ کی حیثیت دے رکھی ہے اور ان کو ہی اپنا مشکل کشا اور حاجت روا جانتے اور کہتے ہو جب اس بڑی مصیبت کے وقت تمہارے کام نہ آئے اور تمہیں یہ جرأت و ہمت بھی نہ ہوسکی کہ ان کو اپنی امداد کے لئے بلاؤ، تو پھر ان کی عبادت اور ان کی مشکل کشائی کس دن کام آئے گی۔- یہ مضمون سابقہ آیات کا خلاصہ ہے، ان میں بطور فرض کے یہ بتلایا گیا کہ تمہارے کفر و شرک اور نافرمانی کی سزا میں تم پر اسی دنیا کی زندگی میں بھی عذاب آسکتا ہے، اور بالفرض زندگی میں عذاب نہ آیا تو قیامت کا آنا تو یقینی ہے، جہاں انسان کے سب اعمال و افعال کا جائزہ لیا جائے گا، اور جزاء و سزا کے احکام نافذ ہوں گے۔- یہاں قیامت سے مراد متعارف معنی قیامت کے بھی ہوسکتے ہیں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ ساعت سے اس جگہ قیامت صغریٰ مراد ہو جو ہر انسان کی موت پر قائم ہوجاتی ہے جیسا کہ معروف ہے کہ من مات فقل قامت قیامتہ، ” یعنی جو شخص مرگیا اس کی قیامت تو آج ہی قائم ہوگئی “۔ کیونکہ قیامت کے حساب و کتاب کا ابتدائی نمونہ بھی قبر و برزخ میں سامنے آجائے گا اور وہاں کی جزاء و سزاء کے نمونے بھی یہیں سے شروع ہوجائیں گے۔- حاصل یہ ہے کہ نافرمانی کرنے والوں کو ان آیات میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اپنی اس نافرمانی کے ساتھ بےفکر ہو کر مت بیٹھو، ہوسکتا ہے کہ اسی دنیا کی زندگی میں تم پر اللہ تعالیٰ کا کوئی عذاب آجائے، جیسا پچھلی امتوں پر آیا ہے، اور یہ بھی نہ ہو تو پھر موت یا قیامت کے بعد کا حساب تو یقینی ہے۔- لیکن اپنی زندگی …