Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 41–50 of 165

41

بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِن شَآءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ

بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو۔ وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انہیں بھول جاتے ہو

(آیت) ” نمبر 40 تا 41۔

اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کے خطاب کے لئے جو وسائل استعمال فرماتے ہیں یہ اس کا ایک نمونہ ہے ۔ یہ نمونے اس سے پہلے کی لہروں میں بھی بیان کئے جا چکے ہیں اور اس کے بعد جو فقرات آ رہے ہیں ان میں بھی اس کے نمونے آئیں گے ۔ اس پوری سورة میں انسانی فطرت کو مخاطب کیا گیا ہے ۔

اس سے قبل یہ بات کہی گئی تھی کہ زندہ مخلوقات کے جہان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدبرانہ قدرت نے ان کے اندر کس قدر تنظیم پیدا کر رکھی ہے ۔ پھر ذرا دیکھو کہ اللہ کا علم کس قدر وسیع اور شامل ہے ۔ اس زیر بحث مجموعہ آیات میں اللہ کے عذاب اور آفات ناگہانی کا ذکر ہے ۔ جب یہ ناگہانی آفات وبلیات انسانی فطرت پر آتی ہیں تو ان کے مقابلے میں کا ردعمل کیا ہوتا ہے ۔ خصوصا اس وقت جب یہ آفات ایک ہولناک صورت میں ہوتی ہیں جس سے انسان کا دل دہل جاتا ہے ۔ ایسے حالات میں انسان کے دل و دماغ سے شرک کے گرد و غبار کی تہیں چھٹ جاتی ہیں اور انسانی فطرت صاف ہو کر سامنے آجاتی ہے اور عقیدہ توحید جو انسانی فطرت کی گہرائیوں میں موجود رہتا ہے وہ سامنے آتا ہے اور انسانی فطرت صرف رب واحد کو پکارتی ہے ۔

(آیت) ” قُلْ أَرَأَیْْتُکُم إِنْ أَتَاکُمْ عَذَابُ اللّہِ أَوْ أَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ أَغَیْْرَ اللّہِ تَدْعُونَ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (40)

” ان سے کہو ‘ ذرا غور کرکے بتا ‘ اگر تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آجاتی یا آخری گھڑی آپہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو ؟ بولو اگر تم سچے ہو ۔

یہاں ایک خوفناک صورت حال کا تصور پیش کیا جاتا ہے اور دنیا میں تباہی و بربادی کے بعض مناظر نظروں کے سامنے لائے جاتے ہیں یا یہ تصور کہ اچانک قیامت برپا ہوجائے ۔ جب انسانی فطرت کے سامنے یہ مناظر آتے ہیں تو فطری احساس چٹکیاں لینے لگتا ہے ۔ ان مناظر کی ہولناکی کا تصور ذہن میں خوبی کے ساتھ آجاتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو خالق فطرت ہے کہ اس اسلوب کے ساتھ فطرت ان مناظر کا اچھی طرح ادراک کرلیتی ہے اور بسہولت حقیقت تک رسائی حاصل کرلیتی ہے ۔ اس کی تمام قوتیں ان مناظر کی وجہ سے حرکت میں آجاتی ہیں اس لئے کہ ان ہولناک مناظر میں جو حقیقت ہوتی ہے وہ فطرت انسانی کے اندر موجود ہوتی ہے ۔ خالق فطرت کو تو اچھی طرح علم ہے کہ یہ حقیقت فطرت کے اندر موجود ہوتی ہے اس لئے باری تعالیٰ اس اسلوب میں فطرت سے مخاطب ہوتے ہیں اور فطرت اس تصور کو قبول کرلیتی ہے ‘ کانپ اٹھتی ہے اور غفلت اور سرکشی پردوں اور غبار کی تہوں کے نیچے سے صاف صاف نمودار ہوجاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں یا جواب طلب فرماتے ہیں اور خود ان کی زبان سے جواب چاہتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ یہ جواب ان کی فطرت کا حقیقی اظہار ہے ۔ (آیت) ” اغیر اللہ تدعون “۔ کیا تم اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہو ‘ اگر تم سچے ہو تو جواب دو ۔ “

ان کی جانب سے جواب کا انتظار کئے بغیر سچا اور حقیقی جواب آجاتا ہے جو عملا ان کی فطرت کے مطابق ہے ۔ اگرچہ وہ جواب نہ دیں لیکن ایسے مواقع پر ان کا عمل کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔

(آیت) ” بَلْ إِیَّاہُ تَدْعُونَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَیْْہِ إِنْ شَاء وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِکُونَ (41)

” اس وقت تم اللہ ہی کو پکارتے ہو ۔ پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے ۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو۔

بلکہ تم صرف اللہ وحدہ ہی کو پکارو گے اور ایسے حالات میں تم اپنے شرکیہ تصورات کو یکسر بھول جاؤ گے ۔ یہ خوفناک صورت حال تمہاری اصل فطرت کو سطح تک لے آئے گی اور اب یہ فطرت صرف اللہ وحدہ کو پکارے گی ۔ اسے یہ بات یاد بھی نہ رہے گی کہ کوئی شخص شرک کرتے ہوئے غیر اللہ کو بھی پکارتا رہا ہے ۔ سرے سے حقیقت شرک بھی ان کے ذہن سے محو ہوجائے گی ۔ اس لئے کہ معرفت کردگار ہی وہ اصل حقیقت …

Al-An'aam 6:41Listen in Qur'an →
42

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٍۢ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَٰهُم بِٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ پھر (ان کی نافرمانیوں کے سبب) ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں

(آیت) ” نمبر 42 تا 45۔

یہ لہر عذاب الہی کی ایک جھلکی ہے اور انسان کی تاریخ کی واقعی صورت حال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں کسی واقعہ کے بجائے یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ عذاب الہی کی زد میں کس طرح آتے ہیں ۔ اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کس طرح انہیں مہلت کے بعد مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور کس طرح ان کی تنبیہ کے بعد تنبیہ کی جاتی رہتی ہے ۔ لیکن وہ بھلاتے ہی چلے جاتے ہیں اور بعض اوقات شدید سے شدید عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے نہیں جگا سکتا ۔ اور جب ان پر انعامات واکرامات کی بارش کردی جاتی ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتے یا زوال نعمت اور فتنوں سے نہیں ڈرتے ۔ ان کی فطرت اس قدر بگڑ جاتی ہے کہ اب وہ لاعلاج ہوجاتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں اس قدر عمل بگاڑ رونما ہوجاتا ہے کہ اب اصلاح احوال ممکن ہی نہیں رہتی ۔ ایسے لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ان پر اللہ کا ایسا عذاب آتا ہے کہ پھر ان میں کا کوئی متنفس زندہ نہیں رہتا ۔

(آیت) ” وَلَقَدْ أَرْسَلنَا إِلَی أُمَمٍ مِّن قَبْلِکَ فَأَخَذْنَاہُمْ بِالْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُونَ (42) فَلَوْلا إِذْ جَاء ہُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَـکِن قَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْْطَانُ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (43)

” تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب وآلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ جھک جائیں ۔ پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی ؟ مگر ان کے دل تو وہ سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو ۔

انسانی تاریخ میں ایسی اقوام بکثرت موجود ہیں اور ان میں سے بیشمار قرآن کریم نے انسانوں کو گنوا کر انکے حالات بتائے ہیں ۔ قرآن نے یہ حالات اس وقت بتائے جب انسانی تاریخ ابھی مدون ہی نہ ہوئی تھی ۔ تاریخ کی جن کتابوں کو انسانوں نے مرتب کیا ہے وہ تو بہت ہی قریبی ادوار سے متعلق ہیں وہ حدیث السن اور نومولود ہے ۔ ہماری تاریخ انسان کی طویل ترین تاریخ کو سمجھنے سمجھانے کی اہل نہیں ہے کیونکہ کرہ ارض پر انسان کے بسنے کی تاریخ بہت ہی طویل ہے اور انسان نے جو تاریخ مرتب کی ہے یہ تو جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ وہ ہے بھی بہت ہی مختصر اور اس کے اندر تاریخ کے اصل عوام اور اسباب کا احاطہ ہی نہیں کیا سکا ۔ ان تاریخی عوامل میں سے بعض تو نفس انسانی کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہیں اور بعض ایسے اسباب ہیں جو پردہ غیب میں مستور ہیں اور ان میں سے نہایت ہی قلیل حصہ انسان پر ظاہر ہوا ہے ۔ پھر جو بعض انسانوں پر ظاہر بھی ہوئے ہیں انسانوں نے ان کے جمع وتدوین میں غلطی کی ۔ ٹھیک طور پر واقعات جمع کر بھی لئے گئے تو ان کے سمجھنے میں غلطیاں کی گئیں اور ان میں سے سچے اور جھوٹے واقعات واسباب کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جاسکا ۔ صرف چند واقعات کا درست تجزیہ ہوسکا ۔ لہذا کسی انسان کی جانب سے یہ دعوی کرنا کہ اس نے پوری انسانی تاریخ کے واقعات واسباب کا احاطہ کرلیا ہے اور یہ کہ وہ ان واقعات کی سائنٹیفک تفسیر کرسکتا ہے اور یہ کہ وہ تاریخ کے مستقبل کے رخ کو بھی صحیح طرح متعین کرسکتا اور نتائج اخذ کرسکتا ہے تو یہ بہت ہی بڑا جھوٹ ہے جو کوئی بول سکتا ہے ۔ ایک نہایت ہی تعجب انگیز بات یہ ہے کہ بعض لوگ ایسے جھوٹ کا دعوی کرتے نہیں شرماتے ۔ اگر ایسے لوگ یہ کہتے کہ مستقبل میں یہ واقعات ظاہر ہونے کی توقع ہے تو ان کی بات معقول ہوتی لیکن اگر کسی جھوٹے شخص کو ایسے افراد مل رہے ہوں جو اس کے جھوٹ کی تصدیق کے لئے ہر وقت تیار ہوں تو اسے جھوٹ سے باز رہنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ بہرحال سچائی بیان کرتا ہے اور صادق القول ہے ۔ اللہ جانتا ہے کہ دنیا میں کیا واقعات ہو گزرے ہیں ۔ اور اپنی مہربانی اور فضل کی وجہ سے وہ بندوں کے سامنے ان …

Al-An'aam 6:42Listen in Qur'an →
43

فَلَوْلَآ إِذْ جَآءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا۟ وَلَٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو وہ کام کرتے تھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا

(آیت) ” نمبر 42 تا 45۔

یہ لہر عذاب الہی کی ایک جھلکی ہے اور انسان کی تاریخ کی واقعی صورت حال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں کسی واقعہ کے بجائے یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ عذاب الہی کی زد میں کس طرح آتے ہیں ۔ اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کس طرح انہیں مہلت کے بعد مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور کس طرح ان کی تنبیہ کے بعد تنبیہ کی جاتی رہتی ہے ۔ لیکن وہ بھلاتے ہی چلے جاتے ہیں اور بعض اوقات شدید سے شدید عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے نہیں جگا سکتا ۔ اور جب ان پر انعامات واکرامات کی بارش کردی جاتی ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتے یا زوال نعمت اور فتنوں سے نہیں ڈرتے ۔ ان کی فطرت اس قدر بگڑ جاتی ہے کہ اب وہ لاعلاج ہوجاتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں اس قدر عمل بگاڑ رونما ہوجاتا ہے کہ اب اصلاح احوال ممکن ہی نہیں رہتی ۔ ایسے لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ان پر اللہ کا ایسا عذاب آتا ہے کہ پھر ان میں کا کوئی متنفس زندہ نہیں رہتا ۔

(آیت) ” وَلَقَدْ أَرْسَلنَا إِلَی أُمَمٍ مِّن قَبْلِکَ فَأَخَذْنَاہُمْ بِالْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُونَ (42) فَلَوْلا إِذْ جَاء ہُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَـکِن قَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْْطَانُ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (43)

” تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب وآلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ جھک جائیں ۔ پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی ؟ مگر ان کے دل تو وہ سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو ۔

انسانی تاریخ میں ایسی اقوام بکثرت موجود ہیں اور ان میں سے بیشمار قرآن کریم نے انسانوں کو گنوا کر انکے حالات بتائے ہیں ۔ قرآن نے یہ حالات اس وقت بتائے جب انسانی تاریخ ابھی مدون ہی نہ ہوئی تھی ۔ تاریخ کی جن کتابوں کو انسانوں نے مرتب کیا ہے وہ تو بہت ہی قریبی ادوار سے متعلق ہیں وہ حدیث السن اور نومولود ہے ۔ ہماری تاریخ انسان کی طویل ترین تاریخ کو سمجھنے سمجھانے کی اہل نہیں ہے کیونکہ کرہ ارض پر انسان کے بسنے کی تاریخ بہت ہی طویل ہے اور انسان نے جو تاریخ مرتب کی ہے یہ تو جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ وہ ہے بھی بہت ہی مختصر اور اس کے اندر تاریخ کے اصل عوام اور اسباب کا احاطہ ہی نہیں کیا سکا ۔ ان تاریخی عوامل میں سے بعض تو نفس انسانی کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہیں اور بعض ایسے اسباب ہیں جو پردہ غیب میں مستور ہیں اور ان میں سے نہایت ہی قلیل حصہ انسان پر ظاہر ہوا ہے ۔ پھر جو بعض انسانوں پر ظاہر بھی ہوئے ہیں انسانوں نے ان کے جمع وتدوین میں غلطی کی ۔ ٹھیک طور پر واقعات جمع کر بھی لئے گئے تو ان کے سمجھنے میں غلطیاں کی گئیں اور ان میں سے سچے اور جھوٹے واقعات واسباب کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جاسکا ۔ صرف چند واقعات کا درست تجزیہ ہوسکا ۔ لہذا کسی انسان کی جانب سے یہ دعوی کرنا کہ اس نے پوری انسانی تاریخ کے واقعات واسباب کا احاطہ کرلیا ہے اور یہ کہ وہ ان واقعات کی سائنٹیفک تفسیر کرسکتا ہے اور یہ کہ وہ تاریخ کے مستقبل کے رخ کو بھی صحیح طرح متعین کرسکتا اور نتائج اخذ کرسکتا ہے تو یہ بہت ہی بڑا جھوٹ ہے جو کوئی بول سکتا ہے ۔ ایک نہایت ہی تعجب انگیز بات یہ ہے کہ بعض لوگ ایسے جھوٹ کا دعوی کرتے نہیں شرماتے ۔ اگر ایسے لوگ یہ کہتے کہ مستقبل میں یہ واقعات ظاہر ہونے کی توقع ہے تو ان کی بات معقول ہوتی لیکن اگر کسی جھوٹے شخص کو ایسے افراد مل رہے ہوں جو اس کے جھوٹ کی تصدیق کے لئے ہر وقت تیار ہوں تو اسے جھوٹ سے باز رہنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ بہرحال سچائی بیان کرتا ہے اور صادق القول ہے ۔ اللہ جانتا ہے کہ دنیا میں کیا واقعات ہو گزرے ہیں ۔ اور اپنی مہربانی اور فضل کی وجہ سے وہ بندوں کے سامنے ان …

Al-An'aam 6:43Listen in Qur'an →
44

فَلَمَّا نَسُوا۟ مَا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَٰبَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّىٰٓ إِذَا فَرِحُوا۟ بِمَآ أُوتُوٓا۟ أَخَذْنَٰهُم بَغْتَةًۭ فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو کے گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے

(آیت) ” نمبر 42 تا 45۔

یہ لہر عذاب الہی کی ایک جھلکی ہے اور انسان کی تاریخ کی واقعی صورت حال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں کسی واقعہ کے بجائے یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ عذاب الہی کی زد میں کس طرح آتے ہیں ۔ اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کس طرح انہیں مہلت کے بعد مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور کس طرح ان کی تنبیہ کے بعد تنبیہ کی جاتی رہتی ہے ۔ لیکن وہ بھلاتے ہی چلے جاتے ہیں اور بعض اوقات شدید سے شدید عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے نہیں جگا سکتا ۔ اور جب ان پر انعامات واکرامات کی بارش کردی جاتی ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتے یا زوال نعمت اور فتنوں سے نہیں ڈرتے ۔ ان کی فطرت اس قدر بگڑ جاتی ہے کہ اب وہ لاعلاج ہوجاتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں اس قدر عمل بگاڑ رونما ہوجاتا ہے کہ اب اصلاح احوال ممکن ہی نہیں رہتی ۔ ایسے لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ان پر اللہ کا ایسا عذاب آتا ہے کہ پھر ان میں کا کوئی متنفس زندہ نہیں رہتا ۔

(آیت) ” وَلَقَدْ أَرْسَلنَا إِلَی أُمَمٍ مِّن قَبْلِکَ فَأَخَذْنَاہُمْ بِالْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُونَ (42) فَلَوْلا إِذْ جَاء ہُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَـکِن قَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْْطَانُ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (43)

” تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب وآلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ جھک جائیں ۔ پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی ؟ مگر ان کے دل تو وہ سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو ۔

انسانی تاریخ میں ایسی اقوام بکثرت موجود ہیں اور ان میں سے بیشمار قرآن کریم نے انسانوں کو گنوا کر انکے حالات بتائے ہیں ۔ قرآن نے یہ حالات اس وقت بتائے جب انسانی تاریخ ابھی مدون ہی نہ ہوئی تھی ۔ تاریخ کی جن کتابوں کو انسانوں نے مرتب کیا ہے وہ تو بہت ہی قریبی ادوار سے متعلق ہیں وہ حدیث السن اور نومولود ہے ۔ ہماری تاریخ انسان کی طویل ترین تاریخ کو سمجھنے سمجھانے کی اہل نہیں ہے کیونکہ کرہ ارض پر انسان کے بسنے کی تاریخ بہت ہی طویل ہے اور انسان نے جو تاریخ مرتب کی ہے یہ تو جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ وہ ہے بھی بہت ہی مختصر اور اس کے اندر تاریخ کے اصل عوام اور اسباب کا احاطہ ہی نہیں کیا سکا ۔ ان تاریخی عوامل میں سے بعض تو نفس انسانی کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہیں اور بعض ایسے اسباب ہیں جو پردہ غیب میں مستور ہیں اور ان میں سے نہایت ہی قلیل حصہ انسان پر ظاہر ہوا ہے ۔ پھر جو بعض انسانوں پر ظاہر بھی ہوئے ہیں انسانوں نے ان کے جمع وتدوین میں غلطی کی ۔ ٹھیک طور پر واقعات جمع کر بھی لئے گئے تو ان کے سمجھنے میں غلطیاں کی گئیں اور ان میں سے سچے اور جھوٹے واقعات واسباب کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جاسکا ۔ صرف چند واقعات کا درست تجزیہ ہوسکا ۔ لہذا کسی انسان کی جانب سے یہ دعوی کرنا کہ اس نے پوری انسانی تاریخ کے واقعات واسباب کا احاطہ کرلیا ہے اور یہ کہ وہ ان واقعات کی سائنٹیفک تفسیر کرسکتا ہے اور یہ کہ وہ تاریخ کے مستقبل کے رخ کو بھی صحیح طرح متعین کرسکتا اور نتائج اخذ کرسکتا ہے تو یہ بہت ہی بڑا جھوٹ ہے جو کوئی بول سکتا ہے ۔ ایک نہایت ہی تعجب انگیز بات یہ ہے کہ بعض لوگ ایسے جھوٹ کا دعوی کرتے نہیں شرماتے ۔ اگر ایسے لوگ یہ کہتے کہ مستقبل میں یہ واقعات ظاہر ہونے کی توقع ہے تو ان کی بات معقول ہوتی لیکن اگر کسی جھوٹے شخص کو ایسے افراد مل رہے ہوں جو اس کے جھوٹ کی تصدیق کے لئے ہر وقت تیار ہوں تو اسے جھوٹ سے باز رہنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ بہرحال سچائی بیان کرتا ہے اور صادق القول ہے ۔ اللہ جانتا ہے کہ دنیا میں کیا واقعات ہو گزرے ہیں ۔ اور اپنی مہربانی اور فضل کی وجہ سے وہ بندوں کے سامنے ان …

Al-An'aam 6:44Listen in Qur'an →
45

فَقُطِعَ دَابِرُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ۚ وَٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)

(آیت) ” نمبر 42 تا 45۔

یہ لہر عذاب الہی کی ایک جھلکی ہے اور انسان کی تاریخ کی واقعی صورت حال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں کسی واقعہ کے بجائے یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ عذاب الہی کی زد میں کس طرح آتے ہیں ۔ اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کس طرح انہیں مہلت کے بعد مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور کس طرح ان کی تنبیہ کے بعد تنبیہ کی جاتی رہتی ہے ۔ لیکن وہ بھلاتے ہی چلے جاتے ہیں اور بعض اوقات شدید سے شدید عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے نہیں جگا سکتا ۔ اور جب ان پر انعامات واکرامات کی بارش کردی جاتی ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتے یا زوال نعمت اور فتنوں سے نہیں ڈرتے ۔ ان کی فطرت اس قدر بگڑ جاتی ہے کہ اب وہ لاعلاج ہوجاتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں اس قدر عمل بگاڑ رونما ہوجاتا ہے کہ اب اصلاح احوال ممکن ہی نہیں رہتی ۔ ایسے لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ان پر اللہ کا ایسا عذاب آتا ہے کہ پھر ان میں کا کوئی متنفس زندہ نہیں رہتا ۔

(آیت) ” وَلَقَدْ أَرْسَلنَا إِلَی أُمَمٍ مِّن قَبْلِکَ فَأَخَذْنَاہُمْ بِالْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُونَ (42) فَلَوْلا إِذْ جَاء ہُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَـکِن قَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْْطَانُ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (43)

” تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب وآلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ جھک جائیں ۔ پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی ؟ مگر ان کے دل تو وہ سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو ۔

انسانی تاریخ میں ایسی اقوام بکثرت موجود ہیں اور ان میں سے بیشمار قرآن کریم نے انسانوں کو گنوا کر انکے حالات بتائے ہیں ۔ قرآن نے یہ حالات اس وقت بتائے جب انسانی تاریخ ابھی مدون ہی نہ ہوئی تھی ۔ تاریخ کی جن کتابوں کو انسانوں نے مرتب کیا ہے وہ تو بہت ہی قریبی ادوار سے متعلق ہیں وہ حدیث السن اور نومولود ہے ۔ ہماری تاریخ انسان کی طویل ترین تاریخ کو سمجھنے سمجھانے کی اہل نہیں ہے کیونکہ کرہ ارض پر انسان کے بسنے کی تاریخ بہت ہی طویل ہے اور انسان نے جو تاریخ مرتب کی ہے یہ تو جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ وہ ہے بھی بہت ہی مختصر اور اس کے اندر تاریخ کے اصل عوام اور اسباب کا احاطہ ہی نہیں کیا سکا ۔ ان تاریخی عوامل میں سے بعض تو نفس انسانی کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہیں اور بعض ایسے اسباب ہیں جو پردہ غیب میں مستور ہیں اور ان میں سے نہایت ہی قلیل حصہ انسان پر ظاہر ہوا ہے ۔ پھر جو بعض انسانوں پر ظاہر بھی ہوئے ہیں انسانوں نے ان کے جمع وتدوین میں غلطی کی ۔ ٹھیک طور پر واقعات جمع کر بھی لئے گئے تو ان کے سمجھنے میں غلطیاں کی گئیں اور ان میں سے سچے اور جھوٹے واقعات واسباب کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جاسکا ۔ صرف چند واقعات کا درست تجزیہ ہوسکا ۔ لہذا کسی انسان کی جانب سے یہ دعوی کرنا کہ اس نے پوری انسانی تاریخ کے واقعات واسباب کا احاطہ کرلیا ہے اور یہ کہ وہ ان واقعات کی سائنٹیفک تفسیر کرسکتا ہے اور یہ کہ وہ تاریخ کے مستقبل کے رخ کو بھی صحیح طرح متعین کرسکتا اور نتائج اخذ کرسکتا ہے تو یہ بہت ہی بڑا جھوٹ ہے جو کوئی بول سکتا ہے ۔ ایک نہایت ہی تعجب انگیز بات یہ ہے کہ بعض لوگ ایسے جھوٹ کا دعوی کرتے نہیں شرماتے ۔ اگر ایسے لوگ یہ کہتے کہ مستقبل میں یہ واقعات ظاہر ہونے کی توقع ہے تو ان کی بات معقول ہوتی لیکن اگر کسی جھوٹے شخص کو ایسے افراد مل رہے ہوں جو اس کے جھوٹ کی تصدیق کے لئے ہر وقت تیار ہوں تو اسے جھوٹ سے باز رہنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ بہرحال سچائی بیان کرتا ہے اور صادق القول ہے ۔ اللہ جانتا ہے کہ دنیا میں کیا واقعات ہو گزرے ہیں ۔ اور اپنی مہربانی اور فضل کی وجہ سے وہ بندوں کے سامنے ان …

Al-An'aam 6:45Listen in Qur'an →
46

قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ ٱللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَٰرَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَٰهٌ غَيْرُ ٱللَّهِ يَأْتِيكُم بِهِ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ

(ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھیں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے تو خداکے سوا کون سا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ ردگردانی کرتے ہیں

(آیت) ” نمبر 46۔

یہ ایک ایسے منظر کی تصویر کشی ہے جس میں وہ خود اپنے عقائد کے مطابق اللہ کے اس مجوزہ عذاب سے بچنے کی کوئی سبیل نہیں پاتے جبکہ ضمنا یہ بات بھی آجاتی ہے کہ یہ لوگ اللہ کے سوا جن دوسرے لوگوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ بھی نہایت ہی عاجز ہیں ۔ البتہ اس منظر میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اس مجوزہ عذاب کی تجویز نے ان لوگوں کو خوب جھنجھوڑا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کا خالق ہے ۔ اسے خوب علم ہے کہ اس فطرت کے اندر ادراک حقیقت کی حقیقی قوت بھی موجود ہے اور فطرت انسانی سچائی سے دور نہیں ہے ۔ فطرت انسانی کو اس بات کا ادراک ہے اور علی وجہ البصیرت ہے کہ یہ کام صرف اللہ کرسکتا ہے اور کوئی نہیں ۔ وہ قوت باصرہ ‘ قوت سامعہ اور قوت مدرکہ کو سلب بھی کرسکتا ہے اور لوٹا بھی سکتا ہے اور اس کے سوا کوئی اور یہ کام نہیں کرسکتا ۔

دل کو دہلا دینے اور اعضائے جسم پر کپکپی طاری کردینے والے اس منظر کے ذریعے اور عقیدہ شرک اور اللہ کے شرکاء کی زبوں حالی کا منظر پیش کرنے کے بعد اب سیاق کلام میں اس تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے کہ جن لوگوں کے سامنے یہ مناظر اور یہ دلائل رکھے جارہے ہیں وہ پھر بھی بیمار اونٹ کی طرف جھکتے ہیں اور سیدھی راہ پر بھی ٹیڑھے چلتے ہیں ۔

(آیت) ” انظُرْ کَیْْفَ نُصَرِّفُ الآیَاتِ ثُمَّ ہُمْ یَصْدِفُونَ (46) دیکھو کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ “ یہ تعجب ان کی جانب سے جادہ حق سے ایک طرف چلنے کے منظر پر کیا جارہا ہے ۔ (یصدفون (6 : 46) کا مفہوم عربوں میں مشہور ہے ۔ فعل صدف کا صدور بیمار اونٹ سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان لوگوں کے بارے میں ایک قسم کا بہیمانہ اور قابل نفرت تصور دیا جاتا ہے جو ان کے لئے ایک لطیف توہین ہے ۔

ابھی اس متوقع مجوزہ تصوراتی منظر کے اثرات زائل نہ ہوئے تھے کہ ان کے سامنے اب ایک دوسرا متوقع منظر پیش کردیا جاتا ہے ۔ وہ خود بھی یقین رکھتے ہیں کہ اس مجوزہ منظر کو عملی شکل دینا اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ اس منظر میں انہیں یہ دکھایا جاتا ہے کہ اگر اللہ کا عذاب اچانک آگیا تو تم سوچو کہ اس کی زد میں ظالموں کے سوا اور کون آئے گا ؟ مشرکین ہی تو سب سے پہلے تباہ ہوں گے ۔ ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے کہ جب اچانک عذاب آتا ہے تو ظالم اور مشرک نابود کردیئے جاتے ہیں ‘ چاہے یہ عذاب اچانک آئے یا اطلاع کے بعد کھلے بندوں آئے ۔

Al-An'aam 6:46Listen in Qur'an →
47

قُلْ أَرَءَيْتَكُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُ ٱللَّهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلظَّٰلِمُونَ

کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بےخبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا؟

(آیت) ” نمبر 47۔

ظالموں کو عذاب الہی ہر صورت میں پکڑتا ہے ۔ یہ اچانک بھی آتا ہے جبکہ وہ غفلت میں ہوتے ہیں اور انہیں کوئی توقع نہیں ہوتی اور کبھی ان پر یہ عذاب اعلانیہ آتا ہے اور وہ اس کے لئے پوری طرح تیار بھی ہوتے ہیں ‘ لیکن ظالم اقوام پر تباہی آکر رہتی ہے ۔ (یہ بات یاد رہے کہ قرآن کریم کی تعبیرات کے مطابق ظالمین سے مراد مشرکین ہیں) جب یہ عذاب آتا ہے چاہے اچانک آئے یا اعلانیہ تو پھر اس کے مقابلے میں وہ کوئی بچاؤ نہیں کرسکتے اس لئے کہ عذاب الہی کے مقابلے میں وہ اس قدر ضعیف ہیں کہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ نہ ان کے بنائے ہوئے شریک اس عذاب کو روک سکتے ہیں اس لئے کہ جن لوگوں کو یہ لوگ شریک بناتے ہیں وہ تو اللہ کے ضعیف بندے ہیں ۔

یہ ایک متوقع صورت حالات ہے جو قرآن کریم ان کے سامنے اس موثر انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ یہ لوگ اس صورت حال سے ڈر جائیں اور اپنا بچاؤ کرلیں اور اس صورت حالات کے وقوع کے اسباب فراہم کرنے سے باز رہیں ۔ یہ متوقع صورت حال اللہ نے ان لوگوں کے سامنے اس لئے پیش فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ خود انسانی فطرت کے اندر تقوی موجود ہے اور ایسی صورت حالات کے تصور ہی سے انسان کانپ اٹھتا ہے ۔

اب جب یہ لہر ساحل کے قریب پہنچ جاتی ہے اور اس کے اندر ایک دوسرے کے بعد اٹھنے والے مناظر دکھائے جاسکتے ہیں اور موثر ہدایات دی جا چکتی ہیں اور ان ہدایات کے تاثرات سامعین اور ناظرین کے قلوب کی تہہ تک اتر جاتے ہیں تو اب حضرت نبی اکرم ﷺ اور دوسرے رسولوں کے فرائض نبوت کا تعین کردیا جاتا ہے ۔ یہ تعین اس لئے کیا جاتا ہے کہ رسولوں سے انکی اقوام کے لوگ خارق عادت معجزات کا مطالبہ کرتے تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ رسول تو صرف مبلغ ہوتے ہیں ‘ خوشخبری دیتے ہیں اور انجام بد سے ڈراتے ہیں ۔ اس فریضہ کی ادائیگی کے بعد اب لوگ خود مختار ہوتے ہیں کہ وہ جو راہ چاہیں اختیار کریں ۔ ان کے اس اختیار تمیزی کے اوپر پھر سزا وجزاء مرتب ہوگی ۔

Al-An'aam 6:47Listen in Qur'an →
48

وَمَا نُرْسِلُ ٱلْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ ۖ فَمَنْ ءَامَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوشخبری سنانے اور ڈرانے کو پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہوجائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ اندوہناک ہوں گے

(آیت) ” نمبر 48۔ 49۔

دین اسلام کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو ذہنی اور عقلی بلوغ تک پہنچائے اور انہیں اس قابل بنائے کہ وہ اس عظیم قوت کو کام میں لا کر فائدہ اٹھائیں جو اللہ نے صرف انسان کو دی ہے اور اسے پوری طرح اس سچائی کے سمجھنے میں استعمال کریں جو اس کائنات کے صفحات میں موجود ہے ۔ خود زندگی کے طور طریقوں کے اندر موجود ہے اور انسان کی تخلیق کے رازوں میں پوشیدہ ہے ۔ یہ راز قرآن مجید نے سب سے پہلے انسانوں پر کھولے اور انسان کی قوت مدرکہ کو ان کی طرف متوجہ کیا ۔

یہ وجہ ہے کہ لوگوں کو حسی خارق عادت معجزات سے نکال کر عقلی میدان میں داخل کیا گیا ۔ حسی معجزات کے نتیجے میں انسان یقین کرنے پر مجبور تو ہوجاتا ہے لیکن اصل حقیقت اس کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ انسان کی گردن ظاہری خارق عادت واقعہ کے سامنے جھک جاتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں دین اسلام نے عقل انسانی کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی کاریگریوں کا مطالعہ کرے اور انہیں سمجھنے کی سعی کرے ۔ اس لئے کہ اس کائنات کی راز بذات خود معجزات ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ یہ معجزات ہر وقت ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں ۔ اور ان کے صدور پر یہ کائنات قائم ہے اور اس کے عناصر ترکیبی انہیں قدرتی بوقلمونیوں پر مشتمل ہیں ۔ اسلام نے انسان کو یہ قوت مدرکہ اور یہ ملکہ بذریعہ کتاب الہی عطا کیا ۔ اپنے انداز بیان اور طرز تعبیر کے اعتبار سے یہ کتاب معجز ہے ۔ اس کا اسلوب بھی معجزے اور اس کی اجتماعی ساخت اور متحرک انداز بیاں اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ اس کی ساخت بےمثال ہے اور قرآن کے نزول کے بعد آج تک اس کی کوئی مثال نہیں لائی جاسکی ۔

انسان کو عقلی بلوغ کے مقام تک پہنچانے کے لئے طویل تربیت اور مسلسل ہدایت کی ضرورت تھی تاکہ انسان کی قوت مدرکہ کہ اندر یہ مطلوب عظیم انقلاب رویہ عمل لایا جاسکے ‘ اور انسانیت ترقی کے مقام بلند تک پہنچ سکے اور انسان خود اپنی قوت مدرکہ کے ساتھ اس کائنات اور موجودات کے اس مسلسل سفر کو سمجھ سکے ۔ لیکن قرآنی ہدایات کی روشنی میں قرآنی ضابطوں کے اندر رہتے ہوئے اور نبی کریم ﷺ کی سنت کی روشنی میں انسان سفر کائنات کو مثبت واقعیت سے اور اچانک ایک مختصر عرصے میں سمجھ سکے اور اس کی یہ سمجھ اور اس کا یہ ادراک ان فلسفوں کے تصور اور ادراک سے بالکل مختلف ہو جو اس وقت رائج تھے ۔ مثلا یونانی اور مسیحی لاہوتی فلسفے یا محض حسی اور مادی تصور کائنات جو اس دور میں ہندی ‘ مصری ‘ مجوسی اور بودھ فلسفوں کی شکل میں رائج تھے اور انسانوں کو رنگ وبو کے اس محدود دائرے سے بھی نکال دے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں عام تھے ۔

یہ ہدایت وتربیت حضرت رسول اللہ ﷺ کے فرائض میں سے تھی اور جس طرح ان دو آیات کے اندر اس کی وضاحت کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ کا اصل کردار یہ تھا ۔ اس کی مزید تشریح اگلی لہر میں بھی آپ دیکھیں گے ۔ خلاصہ یہ کہ رسول انسان ہوتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ دنیاوالوں کی طرف اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ انہیں اچھے انجام کی خوشخبری دے اور برے انجام سے ڈرائے ، ان امور پر اس کا فریضہ رسالت ختم ہوجاتا ہے ۔ اب آگے لوگوں کا فریضہ شروع ہوجاتا ہے کہ وہ رسول کی دعوت کو قبول کریں ۔ لوگوں کی جانب سے قبولیت اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر ہوتی ہے اور اس دعوت کے مقابلے میں جو شخص جو رویہ بھی اختیار کرے گا اس پر جزا ملے گی یا سزا ہوگی ۔ لہذا جو ایمان لے آئے اور ایسے نیک کام کرے جن سے اس کے ایمان کا اظہار ہو تو اس کا انجام اطمینان بخش ہوگا اور وہ کسی خوف سے دوچار نہ ہوگا نہ اسے بےاطمینانی ہوگی ۔ جن لوگوں نے ان آیات کو جھٹلایا جو رسول لے کر آتا ہے اور جن کے اشارات کتاب کائنات کے اندر موجود ہوتے ہیں تو وہ لوگ عذاب سے دوچار ہوں گے ۔ اور یہ عذاب اور سزا ان کو ان کی اس تکذیب کیوجہ سے دی جائے گی اور اس کی تعبیریوں کی گئی بما کانوا یفسقون (اس وجہ سے کہ …

Al-An'aam 6:48Listen in Qur'an →
49

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يَمَسُّهُمُ ٱلْعَذَابُ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انہیں عذاب ہوگا

(آیت) ” نمبر 48۔ 49۔

دین اسلام کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو ذہنی اور عقلی بلوغ تک پہنچائے اور انہیں اس قابل بنائے کہ وہ اس عظیم قوت کو کام میں لا کر فائدہ اٹھائیں جو اللہ نے صرف انسان کو دی ہے اور اسے پوری طرح اس سچائی کے سمجھنے میں استعمال کریں جو اس کائنات کے صفحات میں موجود ہے ۔ خود زندگی کے طور طریقوں کے اندر موجود ہے اور انسان کی تخلیق کے رازوں میں پوشیدہ ہے ۔ یہ راز قرآن مجید نے سب سے پہلے انسانوں پر کھولے اور انسان کی قوت مدرکہ کو ان کی طرف متوجہ کیا ۔

یہ وجہ ہے کہ لوگوں کو حسی خارق عادت معجزات سے نکال کر عقلی میدان میں داخل کیا گیا ۔ حسی معجزات کے نتیجے میں انسان یقین کرنے پر مجبور تو ہوجاتا ہے لیکن اصل حقیقت اس کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ انسان کی گردن ظاہری خارق عادت واقعہ کے سامنے جھک جاتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں دین اسلام نے عقل انسانی کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی کاریگریوں کا مطالعہ کرے اور انہیں سمجھنے کی سعی کرے ۔ اس لئے کہ اس کائنات کی راز بذات خود معجزات ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ یہ معجزات ہر وقت ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں ۔ اور ان کے صدور پر یہ کائنات قائم ہے اور اس کے عناصر ترکیبی انہیں قدرتی بوقلمونیوں پر مشتمل ہیں ۔ اسلام نے انسان کو یہ قوت مدرکہ اور یہ ملکہ بذریعہ کتاب الہی عطا کیا ۔ اپنے انداز بیان اور طرز تعبیر کے اعتبار سے یہ کتاب معجز ہے ۔ اس کا اسلوب بھی معجزے اور اس کی اجتماعی ساخت اور متحرک انداز بیاں اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ اس کی ساخت بےمثال ہے اور قرآن کے نزول کے بعد آج تک اس کی کوئی مثال نہیں لائی جاسکی ۔

انسان کو عقلی بلوغ کے مقام تک پہنچانے کے لئے طویل تربیت اور مسلسل ہدایت کی ضرورت تھی تاکہ انسان کی قوت مدرکہ کہ اندر یہ مطلوب عظیم انقلاب رویہ عمل لایا جاسکے ‘ اور انسانیت ترقی کے مقام بلند تک پہنچ سکے اور انسان خود اپنی قوت مدرکہ کے ساتھ اس کائنات اور موجودات کے اس مسلسل سفر کو سمجھ سکے ۔ لیکن قرآنی ہدایات کی روشنی میں قرآنی ضابطوں کے اندر رہتے ہوئے اور نبی کریم ﷺ کی سنت کی روشنی میں انسان سفر کائنات کو مثبت واقعیت سے اور اچانک ایک مختصر عرصے میں سمجھ سکے اور اس کی یہ سمجھ اور اس کا یہ ادراک ان فلسفوں کے تصور اور ادراک سے بالکل مختلف ہو جو اس وقت رائج تھے ۔ مثلا یونانی اور مسیحی لاہوتی فلسفے یا محض حسی اور مادی تصور کائنات جو اس دور میں ہندی ‘ مصری ‘ مجوسی اور بودھ فلسفوں کی شکل میں رائج تھے اور انسانوں کو رنگ وبو کے اس محدود دائرے سے بھی نکال دے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں عام تھے ۔

یہ ہدایت وتربیت حضرت رسول اللہ ﷺ کے فرائض میں سے تھی اور جس طرح ان دو آیات کے اندر اس کی وضاحت کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ کا اصل کردار یہ تھا ۔ اس کی مزید تشریح اگلی لہر میں بھی آپ دیکھیں گے ۔ خلاصہ یہ کہ رسول انسان ہوتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ دنیاوالوں کی طرف اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ انہیں اچھے انجام کی خوشخبری دے اور برے انجام سے ڈرائے ، ان امور پر اس کا فریضہ رسالت ختم ہوجاتا ہے ۔ اب آگے لوگوں کا فریضہ شروع ہوجاتا ہے کہ وہ رسول کی دعوت کو قبول کریں ۔ لوگوں کی جانب سے قبولیت اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر ہوتی ہے اور اس دعوت کے مقابلے میں جو شخص جو رویہ بھی اختیار کرے گا اس پر جزا ملے گی یا سزا ہوگی ۔ لہذا جو ایمان لے آئے اور ایسے نیک کام کرے جن سے اس کے ایمان کا اظہار ہو تو اس کا انجام اطمینان بخش ہوگا اور وہ کسی خوف سے دوچار نہ ہوگا نہ اسے بےاطمینانی ہوگی ۔ جن لوگوں نے ان آیات کو جھٹلایا جو رسول لے کر آتا ہے اور جن کے اشارات کتاب کائنات کے اندر موجود ہوتے ہیں تو وہ لوگ عذاب سے دوچار ہوں گے ۔ اور یہ عذاب اور سزا ان کو ان کی اس تکذیب کیوجہ سے دی جائے گی اور اس کی تعبیریوں کی گئی بما کانوا یفسقون (اس وجہ سے کہ …

Al-An'aam 6:49Listen in Qur'an →
50

قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمْ إِنِّى مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ

کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والے برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے

(آیت) ” نمبر 50۔

اہل مکہ میں سے معاندین اور مخالفین رسول اللہ ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ ﷺ ان کے سامنے کوئی خارق عادت معجزہ پیش کردیں تو وہ آپ کی دعوت کو قبول کرلیں گے ۔ لیکن جیسا کہ اس سے قبل بتایا جا چکا ہے کہ اہل مکہ کو آپ کی صداقت میں ذرہ برابر شک نہ تھا ۔ یہ محض بہانہ سازی تھی ۔ کبھی وہ اس مطالبے کا مخصوص طور پر ذکر کرتے تھے اور وہ یہ کہ آپ صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کو سونے میں تبدیل کردیں ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے تھے کہ ان پہاڑیوں کو مکہ سے غائب کردیا جائے ‘ ان کی جگہ سرسبز و شاداب زمین بن جائے اور اس میں فصل اور پھل اگ آئے ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ انہیں کچھ غیبی امور کی اطلاع کردیں ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے کہ ان کے سامنے فرشتہ آجائے ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے کہ قرآن کریم کتابی صورت میں لکھا ہوا ان کے سامنے آپ پر نازل ہوجائے ‘ وہ اسے پڑھ لیں اور نازل ہوتے ہوئے دیکھ بھی لیں ۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے مطالبات دراصل وہ اس لئے کرتے تھے کہ ان کے نیچے وہ اپنے بغض وعناد کو چھپالیں جس کی وجہ سے وہ مان کر نہ دیتے تھے ۔

یہ مطالبات ان کے ذہن میں ان تصورات کی وجہ سے پیدا ہوتے تھے ‘ جو عربوں کے اردگرد پھیلی ہوئی جاہلیتوں نے ‘ حقیقت رسالت اور شخصیت رسول کے ساتھ غلط طور پر وابستہ کر رکھے تھے ۔ ان تمام وہمی تصورات کو اہل کتاب نے اپنے ہاں تصور نبوت میں جگہ دے رکھی تھی ‘ اور انہوں نے ان ہدایات کو ترک کردیا تھا جو اہل کتاب کے پاس ان کے رسول لے کر آتے رہے تھے ۔

دنیا میں رائج مختلف جاہلیتوں میں بہت سے لوگوں نے اپنے آپ کو خود نبی بنا کر پیش کیا تھا اور بعض سادہ لوح اقوام نے ان کو نبی تسلیم بھی کرلیا تھا ۔ ان لوگوں پر جادوگروں ‘ کاہنوں ‘ اہل نجوم اور جنات والوں کے دعوے شامل تھے جنہوں نے نبوت کا دعوی کیا۔ اس قسم کے تمام نبیوں نے ہمیشہ عالم الغیب ہونے کا دعوی کیا ‘ مزید یہ کہ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ روحیں ان کے قبضے میں ہیں اور جنات کے ساتھ ان کے رابطے ہیں اور یہ کہ وہ تعویذوں اور گنڈوں کے ذریعے نظام قدرت کو تبدیل کرسکتے ہیں یا یہ کہ وہ عبادات اور دعاؤں کے ذریعہ کار سازی کرسکتے ہیں یا دوسرے خفیہ ذرائع سے مقصد برآری کرسکتے ہیں ۔ یہ تمام مذاہب جس امر پر متفق ہیں وہ یہ ہے کہ یہ لوگ متبعین کو وہم میں مبتلا کرتے ہیں اور راہ حق سے انہیں گمراہ کرتے ہیں ۔ ہاں اس وہم پرستی اور ضلالت کی شکلیں مختلف ہوسکتی ہیں ۔

جادوگروں کی نبوت کا تعلق ہمیشہ ارواح خبیثہ کے ساتھ ہوا کرتا تھا ۔ یہ جادوگر ان خبیث روحوں کے ساتھ تعلقات استوار کرتے تاکہ نامعلوم امور کو معلوم کرسکیں یا یہ کہ وہ واقعات و حالات پر اثر انداز ہو سکیں ۔ کاہنوں کی نبوت کی شکل یہ ہوتی کہ اس کا تعلق بعض خداؤں سے ہوتا ۔ یہ خدا کاہن کے ماتحت نہیں ہوتے نہ اس کے قبضے میں ہوتے ہیں لیکن وہ اس کی درخواست اور عبادت کو قبول کرتے ہیں اور کاہن کو جو مسائل درپیش ہوتے ہیں انہیں وہ سوتے ہیں یا حالت بیداری میں حل کردیتے ہیں اور اسے بعض اشارات یا خوابوں کے ذریعہ ہدایات دیتے ہیں ۔ لیکن کاہن کی تمام درخواستیں اور دعائیں قبول نہیں ہوتیں ۔ یہ دونوں قسم کی نبوتیں جذب وجنون کی نبوت سے بالکل مختلف ہوتی ہیں ۔ اس لئے کہ ساحر اور کاہن دونوں جو طلب کرتے ہیں وہ اسے خود سمجھتے ہیں ۔ وہ بالا ارادہ دعا کرتے ہیں جو بھی کرتے ہیں یا وہ جو عزم و ارادہ کرتے ہیں سوچ سمجھ کر کرتے ہیں لیکن جذب وجنون کا نبی جذب وجنون کے ہاتھوں بےبس ہوتا ہے ۔ اس کی زبان سے مبہم قسم کی باتیں نکلتی ہیں ۔ وہ بالارادہ یہ باتیں نہیں کرتا ۔ بعض اوقات شاید وہ سمجھتا بھی نہیں کہ وہ کیا کہتا ہے ۔ اکثر اقوام میں یوں ہوتا ہے کہ جذب وجنون میں سرشار نبی کے ساتھ ایک مفسر ہوتا ہے جو اس مجذوب کے کلام کو سمجھنے کا دعوی کرتا ہے ۔ یونانی زبان میں ایسے نبی کو مانتی (Manti) اور …

Al-An'aam 6:50Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.