Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 41–50 of 165

41

بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِن شَآءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ

بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو۔ وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انہیں بھول جاتے ہو

Explained together with ayah 38

Al-An'aam 6:41Listen in Qur'an →
42

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٍۢ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَٰهُم بِٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ پھر (ان کی نافرمانیوں کے سبب) ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں

خلاصہ تفسیر - اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے تھے (مگر انہوں نے ان کو نہ مانا) تو ہم نے ان کو تنگدستی اور بیماری سے پکڑا تاکہ وہ ڈھیلے پڑجاویں (اور اپنے کفر و معصیت سے توبہ کرلیں) سو جب ان کو ہماری سزا پہنچی تھی وہ ڈھیلے کیوں نہ پڑے (کہ ان کا جرم معاف ہوجاتا) لیکن ان کے قلوب تو (ویسے ہی) سخت (کے سخت) رہے، اور شیطان ان کے اعمال بد کو ان کے خیال میں (بدستور) آراستہ (و مستحسن) کرکے دکھاتا رہا۔ پھر جب وہ لوگ (بدستور) ان چیزوں کو بھولے (اور چھوڑے) رہے، جن کی ان کو (پیغمبروں کی طرف سے) نصیحت کی جاتی تھی (یعنی ایمان و اطاعت) تو تم نے ان پر (عیش و عشرت کی) ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں وہ خوب اترا گئے (اور غفلت و سستی میں ان کا کفر اور بڑھ گیا، اس وقت) ہم نے ان کو دفعةً (بےگمان عذاب میں) پکڑ لیا (اور عذاب شدید نازل کیا جس کا ذکر قرآن میں جابجا آیا ہے) پھر (اس عذاب سے) ظالم لوگوں کی جڑ (تک) کٹ گئی اور اللہ کا شکر ہے جو تمام عالم کا پروردگار ہے (کہ ایسے ظالموں کا پاپ کٹا جن کی وجہ سے دنیا میں نحوست پھیلی تھی) ۔- معارف ومسائل - آیات مذکورہ میں شرک و کفر کا ابطال اور توحید کا اثبات ایک خاص انداز میں کیا گیا ہے کہ پہلے مشرکین مکہ سے سوال کیا گیا کہ اگر تم پر آج کوئی مصیبت آپڑے، مثلاً خدا تعالیٰ کا عذاب اسی دنیا میں تم پر آجائے، یا موت یا قیامت کا ہولناک ہنگامہ برپا ہوجائے، تو اپنے دلوں میں غور کرکے بتلاؤ کہ تم اس وقت اپنی مصیبت کو دور کرنے کے لئے کس کو پکارو گے اور کس سے امید رکھو گے کہ وہ تمہیں عذاب اور مصیبت سے نجات دلائے، کیا یہ پتھر کے خود تراشیدہ بت یا مخلوق میں سے دوسرے لوگ جن کو تم نے خدا تعالیٰ کی حیثیت دے رکھی ہے، اس وقت تمہارے کام آئیں گے ؟ اور تم ان سے فریاد کرو گے یا صرف ایک اللہ جل شانہ، کو ہی اس وقت پکارو گے۔- اس کا جواب کسی ذی ہوش انسان کی طرف سے بجز اس کے ہو ہی نہیں سکتا جو خود حق تعالیٰ نے ان کی طرف سے ذکر فرمایا کہ اس عام مصیبت کے وقت بڑے سے بڑا مشرک بھی سب بتوں اور خود تراشیدہ معبودوں کو بھول جائے گا، اور صرف خدا تعالیٰ کو پکارے گا، تو اب نتیجہ ظاہر ہے کہ یہ تمہارے بت اور وہ معبود جن کو تم نے خدا تعالیٰ کی حیثیت دے رکھی ہے اور ان کو ہی اپنا مشکل کشا اور حاجت روا جانتے اور کہتے ہو جب اس بڑی مصیبت کے وقت تمہارے کام نہ آئے اور تمہیں یہ جرأت و ہمت بھی نہ ہوسکی کہ ان کو اپنی امداد کے لئے بلاؤ، تو پھر ان کی عبادت اور ان کی مشکل کشائی کس دن کام آئے گی۔- یہ مضمون سابقہ آیات کا خلاصہ ہے، ان میں بطور فرض کے یہ بتلایا گیا کہ تمہارے کفر و شرک اور نافرمانی کی سزا میں تم پر اسی دنیا کی زندگی میں بھی عذاب آسکتا ہے، اور بالفرض زندگی میں عذاب نہ آیا تو قیامت کا آنا تو یقینی ہے، جہاں انسان کے سب اعمال و افعال کا جائزہ لیا جائے گا، اور جزاء و سزا کے احکام نافذ ہوں گے۔- یہاں قیامت سے مراد متعارف معنی قیامت کے بھی ہوسکتے ہیں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ ساعت سے اس جگہ قیامت صغریٰ مراد ہو جو ہر انسان کی موت پر قائم ہوجاتی ہے جیسا کہ معروف ہے کہ من مات فقل قامت قیامتہ، ” یعنی جو شخص مرگیا اس کی قیامت تو آج ہی قائم ہوگئی “۔ کیونکہ قیامت کے حساب و کتاب کا ابتدائی نمونہ بھی قبر و برزخ میں سامنے آجائے گا اور وہاں کی جزاء و سزاء کے نمونے بھی یہیں سے شروع ہوجائیں گے۔- حاصل یہ ہے کہ نافرمانی کرنے والوں کو ان آیات میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اپنی اس نافرمانی کے ساتھ بےفکر ہو کر مت بیٹھو، ہوسکتا ہے کہ اسی دنیا کی زندگی میں تم پر اللہ تعالیٰ کا کوئی عذاب آجائے، جیسا پچھلی امتوں پر آیا ہے، اور یہ بھی نہ ہو تو پھر موت یا قیامت کے بعد کا حساب تو یقینی ہے۔- لیکن اپنی زندگی …

Al-An'aam 6:42Listen in Qur'an →
43

فَلَوْلَآ إِذْ جَآءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا۟ وَلَٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو وہ کام کرتے تھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا

Explained together with ayah 42

Al-An'aam 6:43Listen in Qur'an →
44

فَلَمَّا نَسُوا۟ مَا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَٰبَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّىٰٓ إِذَا فَرِحُوا۟ بِمَآ أُوتُوٓا۟ أَخَذْنَٰهُم بَغْتَةًۭ فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو کے گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے

اس کے بعد تیسری آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا گیا فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ، کہ جب ان کی نافرمانی حد سے گزرنے لگی تو اب ایک خطرناک آزمائش میں ان کو مبتلا کیا گیا کہ ان پر دنیا کی نعمتوں راحتوں اور کامیابیوں کے دروازے کھول دئیے گئے۔- اس میں اس بات پر عام انسانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ دنیا میں کسی شخص یا جماعت پر عیش و عشرت کی فروانی دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں، کہ یہی لوگ صحیح راستہ پر ہیں اور یہی کامیاب زندگی کے مالک ہیں، بلکہ بسا اوقات یہ حالت ان مبتلاء عذاب نافرمانوں کی بھی ہوتی ہے، جن کو سخت سزا میں دفعةً پکڑنا طے کرلیا جاتا ہے۔- اسی لئے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تم یہ دیکھو کہ کسی شخص پر نعمت و دولت برس رہی ہے، حالانکہ وہ اپنے گناہوں اور نافرمانیوں پر جما ہوا ہے، تو سمجھ لو کہ اس کے ساتھ استدراج ہو رہا ہے، یعنی اس کی عیش و عشرت اس کو سخت عذاب میں پکڑے جانے کی ایک علامت ہے (رواہ احمد عن قربة ابن عامر کذا فی تفسیر ابن کثیر)- اور امام تفسیر ابن جریر رحمة اللہ علیہ نے بروایت عبادہ ابن صامت (رض) نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ :- ” جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو باقی رکھنا اور بڑھانا چاہتے ہیں تو وہ وصف ان میں پیدا کردیتے ہیں، ایک ہر کام میں اعتدال اور میانہ روی، دوسرے عفت اور عصمت، یعنی خلاف حق چیزوں کے استعمال سے پرہیز، اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک و برباد کرنا چاہتے ہیں تو ان پر خیانت کے دروازے کھول دیتے ہیں، یعنی وہ اپنی خیانتوں اور بداعمالیوں کے باوجود دنیا میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

Al-An'aam 6:44Listen in Qur'an →
45

فَقُطِعَ دَابِرُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ۚ وَٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)

آخری آیت میں فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب عام آیا تو ظالموں کی نسل تک قطع کردی گئی، اور اس کے آخر میں فرمایا : والحمد للّٰہ رب العالمین، جس میں اشارہ کیا گیا کہ مجرموں اور ظالموں پر جب کوئی عذاب و مصیبت آئے تو پورے عالم کے لئے ایک نعمت ہے جس پر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔

Al-An'aam 6:45Listen in Qur'an →
46

قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ ٱللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَٰرَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَٰهٌ غَيْرُ ٱللَّهِ يَأْتِيكُم بِهِ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ

(ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھیں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے تو خداکے سوا کون سا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ ردگردانی کرتے ہیں

خلاصہ تفسیر - آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے یہ بھی) کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری شنوائی اور بینائی بالکل لے لے (کہ نہ تم کو کچھ سنائی دے نہ دکھائی دے) اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے (کہ تم دل سے کسی چیز کو سمجھ نہ سکو) تو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود ہے کہ یہ (چیزیں) تم کو پھر دے دے (جب تمہارے اقرار سے بھی کوئی ایسا نہیں پھر کیسے کسی کو مستحق عبادت سمجھتے ہو) آپ دیکھئے تو کہ ہم کس (کس) طرح دلائل کو مختلف پہلوؤں سے ظاہر کر رہے ہیں (پھر بھی ان دلائل میں غور اور ان کے نتیجہ کو تسلیم کرنے سے) یہ اعراض (بےرخی) کرتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے یہ بھی) کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب آپڑے خواہ بیخبر ی میں یا ہوشیاری میں تو کیا بجز ظالم لوگوں کے (اس عذاب سے) اور بھی کوئی ہلاک کیا جاوے گا (مطلب یہ ہے کہ اگر عذاب آیا وہ تمہارے ظلم کی وجہ سے تم پر ہی پڑے گا، مومن بچے رہیں گے، اس لئے تم کو ہوش کرنا چاہئے، اور مرگ انبوہ جشنے دارد کا سہارا بھی بھول جانا چاہئے کہ اگر عذاب آہی گیا تو اس میں ہمارے ساتھ مسلمان بھی تو مبتلا ہوں گے) اور ہم پیغمبروں کو (جن کی پیغمبری دلائل قاطعہ سے ثابت کرچکے ہیں) صرف اس واسطے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ (ایمان اور اطاعت کرنے والوں کو رضائے الٓہی اور نعمائے جنت کی) بشارت دیں اور (کفر و معصیت کرنے والوں کو اللہ کی ناراضی سے) ڈراویں (اس لئے نہیں بھیجتے کہ حجت تمام ہوجانے کے بعد بھی مخالفین از راہ عناد ان سے جو واہی تباہی فرمائشیں کیا کریں وہ سب کو پورا کرکے دکھایا کریں) پھر ( ان پیغمبروں کی بشارت اور ڈرانے کے بعد) جو شخص ایمان لے آوے اور (اپنی حالت کی اعتقاداً اور عملاً ) اصلاح کرلے تو ان لوگوں پر (آخرت میں) کوئی اندیشہ نہیں اور نہ وہ وہاں مغموم ہوں گے، اور جو لوگ (اس تبشیر و انداز کے بعد بھی) ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلاویں ان کو (بعض اوقات تو دنیا میں بھی ورنہ آخرت میں تو ضرور) عذاب لگتا ہے بوجہ اس کے کہ وہ دائرہ ایمان سے نکل جاتے ہیں۔

Al-An'aam 6:46Listen in Qur'an →
47

قُلْ أَرَءَيْتَكُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُ ٱللَّهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلظَّٰلِمُونَ

کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بےخبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا؟

Explained together with ayah 46

Al-An'aam 6:47Listen in Qur'an →
48

وَمَا نُرْسِلُ ٱلْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ ۖ فَمَنْ ءَامَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوشخبری سنانے اور ڈرانے کو پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہوجائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ اندوہناک ہوں گے

Explained together with ayah 46

Al-An'aam 6:48Listen in Qur'an →
49

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يَمَسُّهُمُ ٱلْعَذَابُ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انہیں عذاب ہوگا

Explained together with ayah 46

Al-An'aam 6:49Listen in Qur'an →
50

قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمْ إِنِّى مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ

کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والے برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے

خلاصہ تفسیر - آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان معاند لوگوں سے) کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے تمام خزانے ہیں (کہ جو کچھ مجھ سے مانگا جائے وہ اپنی قدرت سے دیدوں) اور نہ میں تمام غیب کی چیزوں کو جانتا ہوں (جو اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے) اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس وحی کا اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس آتی ہے (جس میں مقتضائے وحی پر خود عمل کرنا بھی داخل ہے اور دوسروں کو دعوت دینا بھی، جیسا کہ پچھلے تمام انبیاء (علیہم السلام) کا بھی یہی حال تھا، پھر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہئے کہ اندھا اور بینا کہیں برابر ہوسکتا ہے (اور جب یہ بات سب کو مسلم ہے) تو کیا تم (آنکھوں والا بننا نہیں چاہتے اور اس تقریر مذکور میں) غور (کامل بقصد طلب حق) نہیں کرتے (کہ حق واضح ہوجائے اور تم بیناؤں میں داخل ہوجاؤ) اور اگر (اس پر بھی وہ عناد سے باز نہ آئیں تو ان سے بحث مباحثہ بند کر دیجئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جو اصلی کام ہے تبلیغ رسالت کا اس میں مشغول ہوجائیے اور) ایسے لوگوں کو (کفر و معصیت پر عذاب الہی سے خاص طور سے) ڈرائیے (جو اعتقاداً یا کم از کم احتمالاً ) اس بات سے اندیشہ رکھتے ہیں (کہ قیامت میں) اپنے رب کے پاس ایسی حالت میں جمع کئے جاویں گے کہ اللہ کے سوا (جس جس کو مددگار یا سفارش کرنے والا کفار نے سمجھا تھا اس وقت ان میں سے) نہ کوئی ان کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی (مستقل) اشاعت کرنے والا، شاید یہ لوگ (عذاب سے) ڈر جاویں (اور کفر و معصیت سے باز آجائیں) ۔- معارف و مسائل - کفار عرب کی طرف سے فرمائشی معجزات کا معاندانہ مطالبہ - کفار مکہ کے سامنے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیشمار معجزات اور اللہ تعالیٰ کی آیات بینات کا ظہور ہوچکا تھا، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بحالت یتیمی دنیا میں تشریف لانا لکھنے پڑھنے سے بالکل الگ ایک امی محض ہو کر رہنا، ایسی زمین میں پیدا ہونا جس کے آس پاس بھی نہ کوئی عالم تھا نہ علمی مرکز، عمر شریف کے چالیس سال اسی امّیت محضہ کے عالم میں سارے اہل مکہ کے سامنے رہنا، پھر چالیس سال کے بعد دفعةً آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے ایسا محیرّ العقول حکیمانہ کلام جاری ہونا جس کی فصاحت و بلاغت نے تمام بلغار عرب کو چیلنج دے کر ہمیشہ کے لئے ان کے مونہوں پر مہر لگادی اور جس کے حکمت پرور معانی اور قیامت تک کی ضروریات انسانی کی رعایت کے ساتھ انسان کامل کی زندگی کا ایسا نظام عمل جس کو انسانی عقل و دماغ ہرگز مرتب نہیں کرسکتا، نہ صرف نظری اور فکری حیثیت سے جمع کرکے پیش کیا، بلکہ عملی طور پر بھی دنیا میں نہایت کامیابی کے ساتھ رائج کرکے دکھلا دیا، اور وہ انسان جو اپنی انسانیت کو بھلا کر بیل، بکری، گھوڑے، گدھے کی طرح اپنی زندگی کا مقصد صرف کھانے، پینے، سونے، جاگنے کو قرار دے چکا تھا، اس کو صحیح انسانیت کا سبق دیا، اس کا رخ اس بلند مقصد کی طرف پھیر دیا جس کے لئے اس کی تخلیق عمل میں آئی تھی، اس طرح رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کا ہر دور اور اس میں پیش آنے والے عظیم القدر وقائع میں سے ہر ایک ایک مستقل معجزہ اور آیت الٓہیہ تھی، جس کے بعد کسی انصاف پسند عقلمند کے لئے مزید کسی آیت و معجزہ کے طلب کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی۔- لیکن کفار قریش نے اس کے باوجود دوسری قسم کے معجزات اپنی خواہش کے مطابق طلب کئے، ان کے مطلوبہ معجزات میں سے بھی بعض کو حق تعالیٰ نے واضح طور پر عمل میں لاکر دکھلا دیا، چاند کے دو ٹکڑے کرنے کا مطالبہ کیا تھا، شق قمر کا معجزہ نہ صرف قریش نے بلکہ اس وقت کی دنیا میں رہنے والوں کی بڑی تعداد نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔- لیکن ان کے مطالبہ کے موافق ایسا عظیم الشان معجزہ ظاہر ہونے کے باوجود وہ اپنے اسی کفر و ضلالت اور …

Al-An'aam 6:50Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.