Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 31–40 of 165

31

قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةًۭ قَالُوا۟ يَٰحَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ ۚ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ

جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے

وَهُمْ يَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰي ظُهُوْرِهِمْ ، روایات حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز نیک لوگوں کے اعمال ان کی سواری بن جائے گی، اور بدکاروں کے اعمال بدبھاری بوجھ کی شکل میں ان کے سروں پر لادے جائیں گے۔- یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ کفار و فجار میدان حشر میں اپنی جان بچانے کے لئے بوکھلاہٹ کیساتھ مختلف باتیں کریں گے، کہیں جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے کہیں یہ تمنا کریں گے کہ دوبارہ دنیا میں لوٹا دئیے جائیں۔ مگر یہ کوئی نہ کہے گا کہ ہم اب ایمان لے آئے اور اب نیک عمل کیا کریں گے۔ کیونکہ حقیقت ہدایت کے ساتھ ان کے سامنے آجائے گی کہ عالم آخرت دار العمل نہیں اور یہ کہ ایمان کی صحت اسی وقت تک ہے جب تک ایمان بالغیب ہو۔ مشاہدہ کے بعد کی تصدیق تو اپنے مشاہدہ پر عمل ہے۔ خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کے ثمرات یعنی دائمی عیش و راحت دنیا میں امن و اطمینان کی حیات طیبہ اور آخرت میں نعمائے جنت حاصل کرنا صرف دنیا کی زندگی کے ذریعہ ہوسکتا ہے نہ اس سے پہلے عالم ارواح میں اس کا حصول ممکن ہے اور نہ اس سے گزرنے کے بعد عالم آخرت میں اس کی تحصیل ممکن ہے۔- اس سے واضح ہوگیا کہ دنیا کی زندگی بہت بڑی نعمت اور سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے جس میں یہ عظیم الشان سودا خریدا جاسکتا ہے، اسی لئے اسلام میں خود کشی حرام اور موت کی دعا یا تمنا کرنا ممنوع ہے، اس میں خدا تعالیٰ کی ایک بھاری نعمت کی ناشکری ہے، بعض بزرگوں کے حالات میں ہے کہ وفات کے قریب مولانا جامی رحمة اللہ علیہ کا یہ شعر ان کی زبان پر تھا - با دوروز زندگی جامی نشد سیر غمت - وہ چہ خوش بودے کہ عمر جاودانی داشتیم - اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ مذکورہ آیات میں سے آخری آیت میں اور متعدد آیات قرآنیہ میں جو حیات دنیا کو لہو و لعب فرمایا ہے، یا احادیث کثیرہ میں دنیا کی جو مذمت آئی ہے اس سے مراد حیات دنیا کے وہ لمحات و ساعات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر وفکر سے غفلت میں گزریں، ورنہ جو وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت و ذکر میں گزرتا ہے اس کے برابر دنیا کی کوئی نعمت و دولت نہیں - دن وہی دن ہے شب وہی شب ہے - جو تری یاد میں گزر جائے - ایک حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس میں ارشاد ہے :- الدنیا ملعون و ملعون مافیھا الا ذکر اللہ او عالم او متعلم،- ” یعنی دنیا بھی ملعون ہے، اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے، مگر اللہ کی یاد اور عالم یا طالب علم “۔- اور اگر غور سے دیکھا جائے تو عالم اور طالب علم بھی ذکر اللہ ہی میں داخل ہوجاتے ہیں، کیونکہ علم سے وہی علم مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب بنے، تو ایسے علم کو سیکھنا اور سکھانا دونوں ہی ذکر اللہ میں داخل ہیں، بلکہ امام جزری رحمة اللہ علیہ کی تصریح کے مطابق دنیا کا ہر وہ کام جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت یعنی احکام شریعت کی مطابقت میں کیا جائے وہ سب ذکر اللہ ہی میں داخل ہے، اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کے سب ضروری کام، کسب معاش کے تمام جائز طریقے اور دوسری ضروریات جو حدود شریعت سے باہر نہ ہوں وہ سب ذکر اللہ میں داخل ہیں، اہل و عیال، اقرباء و احباب، پڑوسی اور مہمان وغیرہ کے حقوق کی ادائیگی کو احادیث صحیحہ میں صدقہ و عبادت سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔- حاصل یہ ہوا کہ اس دنیا میں حق تعالیٰ کی اطاعت اور ذکر اللہ کے سوا کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نہیں، استاذ محترم حضرت مولانا انور شاہ صاحب قدس سرہ، نے خوب فرمایا ہے - بگذر از یاد گل و گلبن کہ ہیچم یاد نیست - درزمین و آسماں جز ذکر حق آباد نیست - خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس دنیا میں ایسی چیز جو ہر انسان کو حاصل ہے اور سب سے زیادہ قیمتی اور محبوب ہے، وہ اس کی زندگی ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ ہر انسان کی زندگی کا ایک محدود وقت ہے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ اپنی زندگی کی صحیح …

Al-An'aam 6:31Listen in Qur'an →
32

وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا لَعِبٌۭ وَلَهْوٌۭ ۖ وَلَلدَّارُ ٱلْءَاخِرَةُ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغولہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں

Explained together with ayah 31

Al-An'aam 6:32Listen in Qur'an →
33

قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُۥ لَيَحْزُنُكَ ٱلَّذِى يَقُولُونَ ۖ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجْحَدُونَ

ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں

خلاصہ تفسیر - کفار کے بیہودہ کلمات پر، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی - ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان ( کفار) کے اقوال مغموم کرتے ہیں سو (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غم میں نہ پڑئیے بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے کیونکہ) یہ لوگ (براہ راست) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھوٹا نہیں کہتے، لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا (قصداً ) اکار کرتے ہیں، (گو اس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب بھی لازم آتی ہے مگر ان کا اصل مقصود آیات اللہ کی تکذیب ہے، جیسا کہ ان میں بعض مثلاً ابو جہل اس کے اقراری بھی ہیں، اور جب ان کا اصل مقصد آیات اللہ کی تکذیب ہے تو ان کا یہ معاملہ خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوا، وہ خود ہی ان کو سمجھ لیں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیوں غم میں مبتلا ہوں) اور (کفار کی یہ تکذیب کوئی نئی نہیں، بلکہ) بہت سے پیغمبر جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے ہوئے ہیں ان کی بھی تکذیب کی جاچکی ہے، جس پر انہوں نے صبر ہی کیا کہ ان کی تکذیب کی گئی اور ان کو (طرح طرح) کی ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ ہماری امداد ان کو پہنچ گئی (جس سے مخالف مغلوب ہوگئے، اس وقت تک وہ صبر ہی کرتے رہے) اور (اسی طرح صبر کرنے کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی امداد الٓہی پہنچے گی، کیونکہ) اللہ تعالیٰ کی باتوں (یعنی وعدوں) کو کوئی بدلنے والا نہیں (اور امداد کا وعدہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہوچکا ہے، جیسا فرمایا لا غلبن انا ورسلی) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پیغمبروں کے بعض قصص (قرآن میں) پہنچ چکے ہیں (جن سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے، کہ ابتدائی چند روزہ صبر کے بعد وہ اپنے رسولوں کو امداد بھیج دیتے ہیں، جس سے دنیا میں بھی حق کا غلبہ ہوتا ہے اور باطل مغلوب ہوجاتا ہے، اور آخرت میں بھی ان کو عزت و فلاح ملتی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہونے والا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغموم نہ ہوں، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چونکہ تمام انسانوں کے ساتھ شفقت و محبت انتہا کہ تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باوجود اس تسلی کے یہ چاہتے تھے کہ یہ مشرکین اگر موجودہ معجزات اور نبوت کے دلائل پر مطمئن ہو کر ایمان نہیں لاتے تو جس قسم کے معجزات کا یہ مطالبہ کرتے ہیں وہی معجزات واقع ہوجائیں۔ شاید ایمان لے آویں، اور اس اعتبار سے ان کا کفر دیکھ کر صبر نہ آتا تھا، اس لئے اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ بمقتضائے حکمت الٓہیہ ان کے فرمائشی معجزات واقع نہ کئے جاویں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تاچندے صبر کریں، ان کے وقوع کی فکر میں نہ پڑیں، چناچہ فرمایا وَاِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ اِعْرَاضُهُمْ اور اگر آپ کو (منکرین) کا اعراض (و انکار) گراں گزرتا ہے (اور اس لئے جی چاہتا ہے کہ ان کے فرمائشی معجزات ظاہر ہوجاویں) تو اگر آپ کو یہ قدرت ہے کہ زمین میں (جانے کو) کوئی سرنگ یا آسمان میں (جانے کو) کوئی سیڑھی ڈھونڈھ لو (پھر اس کے ذریعہ زمین یا آسمان میں جاکر وہاں سے) معجزہ (فرمائشی معجزوں میں سے) لے آؤ تو (بہتر ہے آپ ایسا) کرلو (یعنی ہم تو ان کی یہ فرمائشیں بوجہ عدم ضرور اور بمقتضائے حکمت کے پوری نہیں کرتے، اگر آپ یہی چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ مسلمان ہی ہوجاویں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود اس کا انتظام کیجئے) اور اللہ کو (تکویناً ) منظور ہوتا تو ان سب کو راہ (راست) پر جمع کردیتا (لیکن چونکہ یہ خود ہی اپنا بھلا نہیں چاہتے اس لئے تکوینا اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہیں ہوا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے) سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (اس فکر کو چھوڑئیے اور) نادانوں میں سے نہ ہوجائیں (امر حق و ہدایت کو تو) وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو (حق بات …

Al-An'aam 6:33Listen in Qur'an →
34

وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌۭ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُوا۟ عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا۟ وَأُوذُوا۟ حَتَّىٰٓ أَتَىٰهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِ ٱللَّهِ ۚ وَلَقَدْ جَآءَكَ مِن نَّبَإِى۟ ٱلْمُرْسَلِينَ

اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)

Explained together with ayah 33

Al-An'aam 6:34Listen in Qur'an →
35

وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ ٱسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِىَ نَفَقًۭا فِى ٱلْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًۭا فِى ٱلسَّمَآءِ فَتَأْتِيَهُم بِـَٔايَةٍۢ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى ٱلْهُدَىٰ ۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْجَٰهِلِينَ

اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا

Explained together with ayah 33

Al-An'aam 6:35Listen in Qur'an →
36

۞ إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ ٱلَّذِينَ يَسْمَعُونَ ۘ وَٱلْمَوْتَىٰ يَبْعَثُهُمُ ٱللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ

بات یہ ہے کہ (حق کو) قبول وہی کرتے ہیں جو سنتے بھی ہیں اور مردوں کو تو خدا (قیامت ہی کو) اٹھائے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے

Explained together with ayah 33

Al-An'aam 6:36Listen in Qur'an →
37

وَقَالُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۚ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يُنَزِّلَ ءَايَةًۭ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگارکے پاس کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

Explained together with ayah 33

Al-An'aam 6:37Listen in Qur'an →
38

وَمَا مِن دَآبَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا طَٰٓئِرٍۢ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّآ أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ مَّا فَرَّطْنَا فِى ٱلْكِتَٰبِ مِن شَىْءٍۢ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ

اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے ان کی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے) میں کوتاہی نہیں کی پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے

اور چھٹی آیت وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز انسانوں کے ساتھ تمام جانور بھی زندہ کئے جاویں گے، اور ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت سے نقل کیا ہے کہ قیامت کے روز تمام جانور، بہائم اور پرندے بھی دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اور اللہ تعالیٰ کا انصاف اس حد تک ہے کہ اگر کسی سینگ والے جانور نے بےسینگ کے جانور کو دنیا میں مارا تھا تو آج اس کا انتقام اس سے لیا جائے گا، ( اسی طرح دوسرے جانوروں کے باہمی مظالم کا انتقام لیا جائے گا) اور جب ان کے آپس کے حقوق و مظالم کے بدلے اور انتقام ہو چکیں گے تو ان کو حکم ہوگا کہ سب مٹی ہوجاؤ، اور تمام جانور اسی وقت پھر مٹی کا ڈھیر ہو کر رہ جائیں گے، یہی وہ وقت ہوگا جب کہ کافر کہے گا : یلیتنی کنت ترابا، یعنی کاش میرا بھی یہی معاملہ ہوجاتا کہ مجھے مٹی بنادیا جاتا، اور عذاب جہنم سے بچ جاتا۔- اور امام بغوی رحمة اللہ علیہ نے ایک دوسری روایت میں حضرت ابوہریرہ (رض) ہی سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے روز سب اہل حقوق کے حق ادا کئے جائیں گے یہاں تک کہ بےسینگ کی بکری کا انتقام سینگ والی بکری سے بھی لیا جاوے گا۔- حقوق خلق کی انتہائی اہمیت - یہ سب کو معلوم ہے کہ جانور کسی شریعت اور احکام کے مکلف نہیں، ان کے مکلف صرف انسان اور جن ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ مکلف سے جزاء و سزاء کا معاملہ نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے علماء نے فرمایا ہے کہ محشر میں جانوروں کا انتقام ان کے مکلف ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ رب العالمین کے غایت عدل و انصاف کی وجہ سے ہے کہ ایک جاندار کسی جاندار پر کوئی ظلم کرے تو اس کا بدلہ دلوایا جائے گا باقی ان کے کسی اور عمل پر جزاء و سزاء نہ ہوگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خلق اللہ کے باہمی حقوق و مظالم کا معاملہ اتنا سنگین ہے کہ غیر مکلف جانوروں کو بھی اس سے آزاد نہیں کیا گیا، مگر افسوس ہے کہ بہت سے دیندار اور عبادت گزار آدمی بھی اس میں غفلت برتتے ہیں۔

Al-An'aam 6:38Listen in Qur'an →
39

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا صُمٌّۭ وَبُكْمٌۭ فِى ٱلظُّلُمَٰتِ ۗ مَن يَشَإِ ٱللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اس کے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے رستے پر چلا دے

Explained together with ayah 38

Al-An'aam 6:39Listen in Qur'an →
40

قُلْ أَرَءَيْتَكُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُ ٱللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ ٱلسَّاعَةُ أَغَيْرَ ٱللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

کہو (کافرو) بھلا دیکھو تو اگر تم پر خدا کا عذاب آجائےیا قیامت آموجود ہو تو کیا تم (ایسی حالت میں) خدا کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ)

Explained together with ayah 38

Al-An'aam 6:40Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.