Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 31–40 of 165

31

قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةًۭ قَالُوا۟ يَٰحَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ ۚ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ

جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے

عَلٰي مَا فَرَّطْنَا فِيْهَا ۙ: یہاں ” فِيْهَا ۙ“ کی ضمیر یا تو ” الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ “ کی طرف جا رہی ہے، یا ” السَّاعَةُ “ کی طرف، یعنی ہائے ہمارا افسوس اس کوتاہی پر جو ہم نے دنیا میں کی، یا اس کوتاہی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔

Al-An'aam 6:31Listen in Qur'an →
32

وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا لَعِبٌۭ وَلَهْوٌۭ ۖ وَلَلدَّارُ ٱلْءَاخِرَةُ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغولہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں

وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ۔ : دنیوی زندگی کے بہت جلد ختم ہونے کے اعتبار سے اس کو لہو و لعب فرمایا ہے۔ (رازی) یعنی آخرت کی حقیقی اور ہمیشہ رہنے والی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی اور اس کی لذتیں ایسی ہی ہیں جیسے بچوں کا کھیل تماشا جو تھوڑی دیر میں ختم ہوجاتا ہے۔ دیکھیے سورة حدید (٢٠) انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ کے راستے میں ایک شام یا ایک صبح دنیا وما فیہا سے بہتر ہے اور جنت میں تمہارے کسی شخص کی ایک کمان کی مقدار کے برابر یا اس کے کوڑے کے برابر جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، اور اگر اہل جنت میں سے کوئی عورت زمین والوں کی طرف جھانک لے تو آسمان و زمین کے درمیان کی جگہ کو روشن کر دے اور اسے خوشبو سے بھر دے اور اس کے سر کا دوپٹا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ “ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب الحورالعین و صفتھن : ٢٧٩٦ ]- وَلَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ۔۔ : یعنی آخرت کا گھر دنیا سے کہیں بہتر ہے، مگر ان کے لیے جو کفر و شرک، نفاق اور کبائر سے بچتے ہیں، ورنہ کافر کے لیے تو دنیا کی زندگی ہی بہتر ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَ جَنَّۃُ الْکَافِرِ ) [ مسلم، الزھد، باب الدنیا سجن۔۔ : ٢٩٥٦ ]” دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔ “

Al-An'aam 6:32Listen in Qur'an →
33

قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُۥ لَيَحْزُنُكَ ٱلَّذِى يَقُولُونَ ۖ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجْحَدُونَ

ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ ۔۔ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب تک نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا آپ کی قوم کے تمام لوگ آپ کو صادق اور امین کہتے تھے، لیکن جونہی آپ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا اور انھیں اللہ کی آیات سنانا شروع کیں تو ان میں سے اکثر آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے اور آپ کو ( نعوذ باللہ) جھوٹا قرار دینے لگے۔ ابو سفیان جو بدر، احد اور خندق کی جنگ کا باعث تھا، اس سے رومی بادشاہ ہرقل نے پوچھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی جھوٹ بولا ہے، تو اس نے کافر ہونے کے باوجود جواب دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ یہ لوگ جو آپ کو جھٹلا رہے ہیں، وہ حقیقت میں آپ کو نہیں بلکہ ہماری آیات کو جھٹلا رہے ہیں، کیونکہ شخصی لحاظ سے تو آپ کو جھٹلا ہی نہیں سکتے، آپ کے نبوت سے پہلے کے چالیس سال اس کا ثبوت ہیں۔ ان سے مراد دراصل وہ کفار ہیں جو بشر کے نبی اور رسول ہونے کو محال سمجھتے تھے۔ (ابن کثیر، رازی)

Al-An'aam 6:33Listen in Qur'an →
34

وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌۭ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُوا۟ عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا۟ وَأُوذُوا۟ حَتَّىٰٓ أَتَىٰهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِ ٱللَّهِ ۚ وَلَقَدْ جَآءَكَ مِن نَّبَإِى۟ ٱلْمُرْسَلِينَ

اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)

وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ۔۔ : اس آیت میں ایک دوسرے طریقے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ صرف آپ ہی کو نہیں، بلکہ آپ سے پہلے کئی انبیاء و رسل کو بھی جھٹلایا گیا، اس لیے آپ بھی اسی طرح صبر و استقامت سے کام لیں جس طرح انھوں نے لیا۔ - وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ : ” لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ“ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی نصرت اور آپ کو غالب اور کفار کو مغلوب کرنے کا وعدہ کیا ہے، جیسے : ( اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ ) [ المؤمن : ٥١ ] ” بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ “ اور فرمایا : (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ) [ المجادلۃ : ٢١ ] ” اللہ نے لکھ دیا کہ ضرور بالضرور میں غالب رہوں گا اور میرے رسول۔ “ اور فرمایا : (هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۭ ) [ الفتح : ٢٨ ] ” وہی ہے جس نے اپنا رسول بھیجا ہدایت اور دین حق کے ساتھ، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے۔ “ تو یہ وعدہ ہر حال میں پورا ہوگا، لہٰذا آپ اطمینان رکھیں کہ اللہ کی باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا، جس طرح انھوں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اسی طرح آپ بھی صبر و استقامت سے اپنی دعوت پیش کرتے رہیں اور کسی بےچینی کو اپنے اندر راہ نہ پانے دیں۔ یقیناً آپ کی بھی اسی طرح نصرت و تائید کی جائے گی۔

Al-An'aam 6:34Listen in Qur'an →
35

وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ ٱسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِىَ نَفَقًۭا فِى ٱلْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًۭا فِى ٱلسَّمَآءِ فَتَأْتِيَهُم بِـَٔايَةٍۢ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى ٱلْهُدَىٰ ۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْجَٰهِلِينَ

اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا

وَاِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ اِعْرَاضُهُمْ ۔۔ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار کے جھٹلانے سے جو تکلیف اور دل شکنی ہوتی تھی اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ان لوگوں کی بےرخی اگر بہت زیادہ ہی آپ پر شاق گزر رہی ہے تو زمین میں سرنگ نکال کر یا آسمان پر سیڑھی کے ذریعے سے چڑھ کر آپ کوئی معجزہ لا کر ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرسکتے ہیں، تو آپ ایسا بھی کر کے دیکھ لیجیے، لیکن یہ چونکہ آپ سے ہو نہیں سکتا تو رنجیدہ ہونے سے کیا فائدہ، بہتر ہے کہ انجام کار ہم پر چھوڑتے ہوئے پورے اطمینان اور پورے سکون کے ساتھ اپنی دعوت کے کام میں لگے رہیں۔ کفار کس طرح کے معجزات کا تقاضا کرتے تھے، اس کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٩٠ تا ٩٧) ۔- وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ ۔۔ : یعنی ایسا خیال مت کیجیے کہ کوئی نشانی ( معجزہ) لانے سے یہ راہ ہدایت پر ضرور ہی آجائیں گے، کیونکہ ہدایت سراسر اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے، آپ کے ذمے صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں اور ان لوگوں کے ایمان نہ لانے پر ہرگز کوئی غم یا افسوس نہ کریں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت ہوتی کہ سب لوگ ایمان لے آئیں تو اسے یہ کام کچھ مشکل نہ تھا، اس نے صرف ” کُنْ “ کہنا تھا کہ سب لوگ ایمان لے آتے اور ہدایت پر جمع ہوجاتے۔ دیکھیے یونس (٩٩) مگر ایسا کرنا اس کی مشیت اور حکمت کے خلاف ہے، جو بظاہر یہ ہے کہ اس سے اختیار دے کر آزمانے کا سلسلہ ختم ہوجاتا۔ بہر حال اپنے کاموں کی حقیقی حکمت و مصلحت وہی جانتا ہے، لہٰذا اس قسم کے نظریے کو اپنے دل میں جگہ نہ دیجیے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت و تقدیر اور اس کی مصلحتوں پر ایمان رکھ کر تسلی حاصل کریں۔

Al-An'aam 6:35Listen in Qur'an →
36

۞ إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ ٱلَّذِينَ يَسْمَعُونَ ۘ وَٱلْمَوْتَىٰ يَبْعَثُهُمُ ٱللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ

بات یہ ہے کہ (حق کو) قبول وہی کرتے ہیں جو سنتے بھی ہیں اور مردوں کو تو خدا (قیامت ہی کو) اٹھائے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے

اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کو مردوں کے مشابہ قرار دیا ہے جن کو جتنا بھی پکارا جائے وہ کوئی جواب نہیں دے سکتے، یعنی ان کفار کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں اور ان مردوں کو اگر عقل آئے گی تو اسی وقت جب اللہ تعالیٰ ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور ان کا محاسبہ کرے گا۔ سورة نمل کی آیات (٨٠، ٨١) اس کی ہم معنی ہیں۔

Al-An'aam 6:36Listen in Qur'an →
37

وَقَالُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۚ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يُنَزِّلَ ءَايَةًۭ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگارکے پاس کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ ۔۔ : منکرین نبوت یہ شبہ بھی پیش کرتے تھے کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہیں تو اپنے ساتھ نظر آنے والا ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جسے دیکھ کر ہر شخص کو معلوم ہوجائے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا رسول ہے۔ - اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اللہ ایسا کرنے پر قادر ہے، مگر اس کی حکمت اور مصلحت یہ ہے کہ اگر صاف کھلی نشانی آجائے، جیسے اونٹنی جو صالح (علیہ السلام) کے عہد میں بھیجی گئی تو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ان کی مدت مہلت ختم ہوجائے گی اور فوراً عذاب آجائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ ان کو ہلاک نہ کیا جائے، مگر ان کے اکثر اس بات کو نہیں جانتے۔ (رازی) دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٥٩) ۔

Al-An'aam 6:37Listen in Qur'an →
38

وَمَا مِن دَآبَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا طَٰٓئِرٍۢ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّآ أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ مَّا فَرَّطْنَا فِى ٱلْكِتَٰبِ مِن شَىْءٍۢ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ

اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے ان کی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے) میں کوتاہی نہیں کی پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے

وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ ۔۔ : یعنی زمین پر چلنے والا کوئی جانور ( دیکھیے سورة نور : ٤٥) اور کوئی دو پروں سے اڑنے والا پرندہ نہیں، مگر سب تمہاری طرح امتیں ہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ طائر کا معنی ہی پرندہ ( اڑنے والا) ہے، پھر ان الفاظ کی کیا ضرورت تھی کہ جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے ؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ بعض اوقات تیز دوڑنے والے کو بھی پرندہ کہہ دیا جاتا ہے، جیسے کہہ دیا جائے کہ گھوڑا اڑتا جا رہا تھا۔ ” دو پروں “ کے لفظ نے یہ احتمال ختم کردیا اور بتادیا کہ یہاں مراد حقیقی پرندہ ہے، جو پروں سے اڑتا ہے، صرف تیز رفتار مراد نہیں۔ - اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ : یعنی زمین پر چلنے والے اور اڑنے والے تمام جانور تمہاری طرح کی امتیں ہیں، تمہاری طرح پیدا ہوتی ہیں، جوانی کو پہنچتی ہیں، پھر مرجاتی ہیں، تمہاری طرح ان کا پیدا کرنا، ان کی روزی کا سامان اور ہر ضرورت پوری کرنا اور ان کی مصلحتوں کا اہتمام کرنا سب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ (دیکھیے سورة ہود : ٦) جس طرح اللہ تعالیٰ ان کی مصلحتوں کی رعایت کرتا ہے اسی طرح تمہاری تمام مصلحتوں کا بھی خیال رکھتا ہے، ان لوگوں کے مطالبے کے مطابق نشانیاں اور معجزے نازل کرنا خود ان کی مصلحت کے خلاف ہے۔ - مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ : ” الْكِتٰبِ “ سے مراد لوح محفوظ ہے، جو مخلوقات کے تمام احوال پر حاوی ہے، کوئی چیز ایسی نہیں جس کے بیان کی اس میں کمی رہ گئی ہو۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” قلم خشک ہوچکا ہے اس پر جو تم کرنے والے ہو۔ “ [ بخاری، القدر، باب جف القلم علی علم اللہ۔۔ قبل ح : ٦٥٩٦ ] ” الْكِتٰبِ “ سے مراد یہاں قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے۔ رازی نے فرمایا ( یہی معنی زیادہ ظاہر ہے) اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں دین کے متعلق تمام اصول (بنیادی امور) بیان کردیے اور جن جزئیات کا ذکر نہیں وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے قول و عمل سے بیان فرما دی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ) [ النحل : ٨٩ ] ” ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل کی، اس حال میں کہ وہ ہر چیز کا واضح بیان ہے۔ “ اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ پیغمبر جس چیز کا حکم دیں اسے بجا لاؤ اور جس چیز سے منع کردیں اس سے رک جاؤ، فرمایا : ( وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ ) [ الحشر : ٧ ] خلاصہ یہ کہ حدیث نبوی بھی کتاب الٰہی ہے اور دین کی کوئی ایسی بات نہیں جو ” الکتاب ‘ ( قرآن و حدیث) میں بیان نہ کردی گئی ہو۔ - ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ : کفار کو متنبہ کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ زمین کے کسی جانور یا پرندے کے حالات سے ناواقف نہیں ہے اور اس کا نامۂ اعمال محفوظ ہے اور اس کا بدلہ بھی اسے ملے گا تو تم اپنے بارے میں یہ کیوں سمجھ رہے ہو کہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ نہیں دیا جائے گا۔ (رازی)- اس آیت : (ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ ) اور ایک دوسری آیت : (وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَت) [ التکویر : ٥ ] ( اور جب جنگلی جانور اکٹھے کیے جائیں گے) سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کا بھی قیامت کے دن حشر ہوگا۔ ان سے کفر و شرک اور ایمان و اعمال کا محاسبہ تو نہیں ہوگا، مگر جو ظلم کسی جانور نے دوسرے پر کیا ہوگا اس کا بدلہ ضرور دلوایا جائے گا، جیسا کہ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ضرور بالضرور حق داروں کے حقوق ادا کروائے جائیں گے، حتیٰ کہ بےسینگ بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا۔ “ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم : ٢٥٨٢ ] بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ بات بطور تمثیل بیان کی گئی ہے، کیونکہ جانور تو مکلف ہی نہیں ہیں، مگر حدیث میں ” بدلے “ کے …

Al-An'aam 6:38Listen in Qur'an →
39

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا صُمٌّۭ وَبُكْمٌۭ فِى ٱلظُّلُمَٰتِ ۗ مَن يَشَإِ ٱللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اس کے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے رستے پر چلا دے

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۔۔ : یعنی ہماری آیات کو جھٹلانے والے چونکہ حق بات نہ سنتے ہیں، نہ ان کی زبانوں سے حق بات نکلتی ہے، اس لیے وہ بہرے اور گونگے ہیں اور کفر و شرک اور نفس کی بےجا خواہشوں کے اندھیروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہی بات سورة بقرہ (١٧، ١٨) اور سورة نور (٤٦) میں بیان ہوئی ہے۔ - ۭمَنْ يَّشَاِ اللّٰهُ يُضْلِلْهُ ۭ۔۔ : مگر وہ گمراہ انھی کو کرتا ہے جو اپنی صلاحیتوں کو صحیح استعمال نہیں کرتے۔ دیکھیے سورة بقرہ (٢٦، ٢٧) اور سورة اعراف (١٧٦) اور ہدایت انھی کو دیتا ہے جو اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے ہوئے، اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ دیکھیے سورة شوریٰ (١١) ۔

Al-An'aam 6:39Listen in Qur'an →
40

قُلْ أَرَءَيْتَكُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُ ٱللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ ٱلسَّاعَةُ أَغَيْرَ ٱللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

کہو (کافرو) بھلا دیکھو تو اگر تم پر خدا کا عذاب آجائےیا قیامت آموجود ہو تو کیا تم (ایسی حالت میں) خدا کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ)

قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَاب اللّٰهِ ۔۔ : اس مضمون کو بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ بیان کیا ہے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٦٧) ، سورة زمر (٣٨) ، سورة مومنون (٨٤ تا ٨٩) ، سورة لقمان (٣٢) اور سورة یونس (٢٢) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے مشرکین کا طرز عمل بیان فرمایا، مطلب یہ ہے کہ توحید انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے، وہ ماحول کے اثر سے یا آباء و اجداد کی تقلید سے شرک میں گرفتار ہوتا ہے اور غیر اللہ کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتا رہتا ہے، نذر و نیاز بھی ان کے نام کی نکالتا ہے، لیکن جب آزمائش سے دو چار ہوتا ہے تو پھر سب کو بھول جاتا ہے اور فطرت ان سب پر غالب آجاتی ہے، پھر بےبس انسان سب کچھ بھول جاتا ہے اور صرف اسی ایک ذات کو پکارتا ہے جسے پکارنا چاہیے۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے اسی طرز عمل کو بطور ثبوت توحید کی دلیل کے طور پر بیان کیا، یعنی اگر اپنے اس دعویٰ میں کہ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ تم پر آئی ہوئی بلا ٹال سکتے ہیں تو یہ بتاؤ کہ اللہ کا عذاب آنے کی صورت میں، یا قیامت آنے پر بھی کیا تم غیر اللہ کو پکارو گے ؟ نہیں بلکہ تم صرف اسی کو پکارو گے، باقی مشکل کشا تمہیں بھول جائیں گے۔ یہ تو ان کفار و مشرکین کا حال تھا لیکن آج خود مسلمانوں کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کی فطرت اس قدر مسخ ہوچکی ہے کہ وہ سخت سے سخت مصیبت میں بھی فریاد کرتے ہیں تو اپنے کسی خود ساختہ داتا سے یا علی ( ) سے، یا شیخ عبد القادر جیلانی سے، انھیں غوث اعظم، یعنی سب سے بڑا مدد گار کہہ کر، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے، یا فاطمہ، حسین اور حسن (رض) سے۔ نعرے بھی ان سے مدد مانگنے کے الفاظ کے ساتھ لگاتے ہیں، جیسا کہ یا رسول اللہ، یا علی، یا غوث اعظم وغیرہ، گویا ان کی حالت عملی طور پر ان پہلے کفار و مشرکین سے بھی بدتر ہے۔

Al-An'aam 6:40Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.