قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةًۭ قَالُوا۟ يَٰحَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ ۚ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ
جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے
وَهُمْ يَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰي ظُهُوْرِهِمْ ، روایات حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز نیک لوگوں کے اعمال ان کی سواری بن جائے گی، اور بدکاروں کے اعمال بدبھاری بوجھ کی شکل میں ان کے سروں پر لادے جائیں گے۔- یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ کفار و فجار میدان حشر میں اپنی جان بچانے کے لئے بوکھلاہٹ کیساتھ مختلف باتیں کریں گے، کہیں جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے کہیں یہ تمنا کریں گے کہ دوبارہ دنیا میں لوٹا دئیے جائیں۔ مگر یہ کوئی نہ کہے گا کہ ہم اب ایمان لے آئے اور اب نیک عمل کیا کریں گے۔ کیونکہ حقیقت ہدایت کے ساتھ ان کے سامنے آجائے گی کہ عالم آخرت دار العمل نہیں اور یہ کہ ایمان کی صحت اسی وقت تک ہے جب تک ایمان بالغیب ہو۔ مشاہدہ کے بعد کی تصدیق تو اپنے مشاہدہ پر عمل ہے۔ خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کے ثمرات یعنی دائمی عیش و راحت دنیا میں امن و اطمینان کی حیات طیبہ اور آخرت میں نعمائے جنت حاصل کرنا صرف دنیا کی زندگی کے ذریعہ ہوسکتا ہے نہ اس سے پہلے عالم ارواح میں اس کا حصول ممکن ہے اور نہ اس سے گزرنے کے بعد عالم آخرت میں اس کی تحصیل ممکن ہے۔- اس سے واضح ہوگیا کہ دنیا کی زندگی بہت بڑی نعمت اور سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے جس میں یہ عظیم الشان سودا خریدا جاسکتا ہے، اسی لئے اسلام میں خود کشی حرام اور موت کی دعا یا تمنا کرنا ممنوع ہے، اس میں خدا تعالیٰ کی ایک بھاری نعمت کی ناشکری ہے، بعض بزرگوں کے حالات میں ہے کہ وفات کے قریب مولانا جامی رحمة اللہ علیہ کا یہ شعر ان کی زبان پر تھا - با دوروز زندگی جامی نشد سیر غمت - وہ چہ خوش بودے کہ عمر جاودانی داشتیم - اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ مذکورہ آیات میں سے آخری آیت میں اور متعدد آیات قرآنیہ میں جو حیات دنیا کو لہو و لعب فرمایا ہے، یا احادیث کثیرہ میں دنیا کی جو مذمت آئی ہے اس سے مراد حیات دنیا کے وہ لمحات و ساعات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر وفکر سے غفلت میں گزریں، ورنہ جو وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت و ذکر میں گزرتا ہے اس کے برابر دنیا کی کوئی نعمت و دولت نہیں - دن وہی دن ہے شب وہی شب ہے - جو تری یاد میں گزر جائے - ایک حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس میں ارشاد ہے :- الدنیا ملعون و ملعون مافیھا الا ذکر اللہ او عالم او متعلم،- ” یعنی دنیا بھی ملعون ہے، اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے، مگر اللہ کی یاد اور عالم یا طالب علم “۔- اور اگر غور سے دیکھا جائے تو عالم اور طالب علم بھی ذکر اللہ ہی میں داخل ہوجاتے ہیں، کیونکہ علم سے وہی علم مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب بنے، تو ایسے علم کو سیکھنا اور سکھانا دونوں ہی ذکر اللہ میں داخل ہیں، بلکہ امام جزری رحمة اللہ علیہ کی تصریح کے مطابق دنیا کا ہر وہ کام جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت یعنی احکام شریعت کی مطابقت میں کیا جائے وہ سب ذکر اللہ ہی میں داخل ہے، اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کے سب ضروری کام، کسب معاش کے تمام جائز طریقے اور دوسری ضروریات جو حدود شریعت سے باہر نہ ہوں وہ سب ذکر اللہ میں داخل ہیں، اہل و عیال، اقرباء و احباب، پڑوسی اور مہمان وغیرہ کے حقوق کی ادائیگی کو احادیث صحیحہ میں صدقہ و عبادت سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔- حاصل یہ ہوا کہ اس دنیا میں حق تعالیٰ کی اطاعت اور ذکر اللہ کے سوا کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نہیں، استاذ محترم حضرت مولانا انور شاہ صاحب قدس سرہ، نے خوب فرمایا ہے - بگذر از یاد گل و گلبن کہ ہیچم یاد نیست - درزمین و آسماں جز ذکر حق آباد نیست - خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس دنیا میں ایسی چیز جو ہر انسان کو حاصل ہے اور سب سے زیادہ قیمتی اور محبوب ہے، وہ اس کی زندگی ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ ہر انسان کی زندگی کا ایک محدود وقت ہے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ اپنی زندگی کی صحیح …